Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ڈاکٹر عافیہ اور انکی 86 سالہ سزا . تحریر:سید عمیر شیرازی

    ڈاکٹر عافیہ اور انکی 86 سالہ سزا . تحریر:سید عمیر شیرازی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی جن پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے وہ افغانستان میں افغان طالبان اور القاعدہ کی سہولت کار تھیں اور اس بےبنیاد الزام کی بنا پر انکو چھیاسی سال کی طویل سزا سنا دی امریکی عدالت نے جب کہ یہ جھوٹ پر مبنی صرف ایک الزام تھا اس واقعے کی تحقیقات بھی نہیں کی گئی تھی
    لیکن امریکا نے دہشت گرد قرار دے دیا تھا پاکستانی حکومت کی کیا مجال تھی کہ اپنے آقا کے خلاف کچھ بول سکے
    ڈاکٹر عافیہ جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر تھی جو مختلف ممالک میں جا کر اپنی خدمات سر انجام دیتی رہتی تھیں
    افغانستان کا دورہ بھی اسی طرح کا ایک دورہ تھا کیوں کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان شدید قسم کی جنگ جاری تھی اور عوام بھی اس جنگ میں متاثر ہو رہی تھی ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر پاکستانی حکومت نے امریکا کے اس گھٹیا حرکت پر کوئی احتجاج تک نہ کیا اور وہ با آسانی ڈاکٹر عافیہ کو امریکا لے گے۔۔۔

    پاکستانی حکمران دیکھتے رہ گئے اور امریکی یہودی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو ان کی آنکھوں کے سامنے سے لے گئے اور ہم بے غیرتوں کی طرح
    دیکھتے رہے۔۔۔۔

    اب اللّه پاک ہی کسی معجزے کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ کو ظالم یہودیوں سے آزاد کر سکتے ہیں کیوں کہ ان حکمرانوں میں تو جرات نہیں ہے .یا میرے مولا قوم کی بیٹی اور فخر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جلد از جلد یہودیوں سے آزادی دلوا دیں اور جب تک وہاں ہیں انکی حفاظت فرما۔ آمین

  • بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کا مختصر تعارف . تحریر :عمر خان

    بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کا مختصر تعارف . تحریر :عمر خان

    عبدالستار ایدھی 29 فروری 1928 کو بھارت کی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے ، 1947 میں بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان کے شہر کراچی میں آباد ہوئے ، عبد الستار ایدھی نے 1966 میں اپنے نرسنگ ہوم کی ایک نرس بلقیس ایدھی سے شادی کی۔
    ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز

    عبد الستار ایدھی نے 1951 میں کراچی کے علاقے میٹھا در میں قلیل سرمایے سے میمن ویلنٹئر کور نام سے ایک چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی، بعد ازاں اس کا نام تبدیل کرکے مدینہ ویلنٹئر رکھا گیا۔

    عبدالستار ایدھی نے خدمت خلق کا آغاز اسی ڈسپنسری سے کیا وہ سارا دن مجبور غریب لوگوں کی دیکھ بھال کرتے تھے اور رات کو اسی ڈسپنسری کے باہر ایک بنچ پر سو جاتے ۔

    فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے عبدالستار ایدھی نے کئی ممالک کے دورے کئے جن میں ایران، ترکی ،فرانس ،یونان، بلغاریہ، یوگوسلاویہ،شامل ہیں۔

    پاکستان واپس آ کر انہوں نے 1952 میں ایک زچگی سینٹر اور 1954 میں نرسوں کی تربیت کے لئے ایک انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا۔

    عبدالستار ایدھی نے 1957 میں ایشین فلو کے وقت کراچی میں مختلف مقامات پر امدادی خیمے لگائے اور بیماروں میں مفت ادویات بھی تقسیم کیں۔

    عبدالستار ایدھی کی ان گرانقدر خدمات اور خدمت خلق کی لگن کو دیکھتے ہوئے مخیر حضرات نے دل کھول کر مدد کرنا شروع کردی ۔

    ان فنڈز کی رقم سے عبدالستار ایدھی نے ایک وین خریدی اور اسے ایمبولینس میں تبدیل کیا ، یہ وین 24 گھنٹے مریضوں کو لانے لے جانے کیلئے مفت دستیاب رہتی، اسی دوران عبدالستار ایدھی نے مدینہ ویلنٹئر ڈسپنسری کا نام تبدیل کر کے ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ رکھ لیا۔

    سیاست

    1970 میں خدمت خلق کے جذبے سے سر شار عبدالستار ایدھی نے باقاعدہ ملکی سیاست میں آ کر عوامی خدمت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کیلئے آذاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا ، تاہم کامیاب نہ ہوسکے، 1975 میں ایک مرتبہ پھر عبدالستار ایدھی نے انتخابات میں حصہ لیا مگر دوسری بار بھی ناکام ہوئے، اس کے بعد عبدالستار ایدھی نے ہمیشہ کیلئے سیاست سے کنارہ کرلیا۔

    ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات پر ایک نظر

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فری ایمبولینس سروس ہے، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس اس وقت اٹھارہ سو سے زائد ایمبولینسز موجود ہیں جو ملک بھر میں آج بھی مفت سروس مہیا کرتی ہیں، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس دو ائیر کرافٹ ، ایک ہیلی کاپٹر ایمبولینس، 28 لائف بوٹ (بحری ایمبولینس) بھی موجود ہیں، اس کے علاؤہ موبائل میت سرد خانہ اور مختلف مقامات پر 180 سرد خانے بھی بنائے گئے ہیں ، ایک سرد خانہ میں تیس میتوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، سرد خانوں میں رکھی میت کو اگر تین دن تک کوئی شناخت نہ کرے تو اسے مواچھ گوٹھ کراچی میں بنے ایدھی قبرستان میں دفن کردیا جاتا ہے، اس قبرستان میں لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد میتوں کو دفن کیا جاچکا ہے، ایدھی فاؤنڈیشن نے ملک بھر میں تقریباً 180 میت خانے ، میرج بیورو سینٹرز ، پاگل خانے، اینیمل شلٹرز ، اسکولز ، پناہ گاہیں ، زچگی سینٹرز ، معذور افراد کیلئے سینٹرز ، ایدھی لنگر خانے اور بےشمار مہاجرین کیمپ بنائے ہیں۔۔

    بین الاقوامی خدمات

    دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ایدھی سینٹرز اپنی خدمات دے رہے ہیں جن میں افغانستان، ایران ، سوڈان ، ایتھوپیا شامل ہیں۔

    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ، امریکہ ، انگلینڈ ، آسٹریلیا میں بھی ایدھی سینٹرز بنائے گئے ہیں ۔

    عبدالستار ایدھی کو ان کے خدمات بدولت بےشمار قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نواز گیا ہے۔

    وفات

    عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016 کو 88 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔

  • روڈ ایکسیڈینٹ  کس کی غفلت ہوتی ہے .تحریر: احمد لیاقت

    روڈ ایکسیڈینٹ کس کی غفلت ہوتی ہے .تحریر: احمد لیاقت

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں روڈ حادثے کے شکار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوجاتے ہیں یا معزور ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹ کی شرح دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے یا پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن کو روڈ سیفٹی کے حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے
    پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر روڈ حادثات انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں، جس میں ڈرائیورز کی غفلت سب سے نمایاں ہے۔ ڈرائیورز کی غفلت اور جلد بازی کے ساتھ غیر تربیت یافتہ ڈرائیونگ ہے

    مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر آۓ روز ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں

    👈 گاڑی چلانے کی مہارت سکھانے والے اداروں کا فقدان
    👈 ناتجربہ کار ڈرائیور
    👈 جعلی لائسنس کی روک تھام نہ ہونا
    👈مسلسل کئی گھنٹوں تک گاڑی چلانا
    👈 ملک بھرمیں یکساں لائسنس کا اجراء نہ ہونا
    👈 ٹریفک قوانین کی عدم پاسداری
    👈 موبائل فون کا استعمال
    👈 سڑکوں پر سفید اور زرد لائنوں کا نہ ہونا
    👈 مسافر بسوں میں سیٹ بیلٹ کا نہ ہونا
    👈 گاڑی کا فٹنس ٹیسٹ سرٹیفکیٹ نہ ہونا
    👈مسافر بسوں میں ہنگامی دروازہ نہ ہونا
    👈 گاڑی میں حد سے زیادہ مسافر سوار کرنا
    👈 نشہ آور چیزوں کا استعمال
    👈 پرانی گاڑیوں کا بےدریغ استعمال

    چند ایک وجوہات کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
    ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں تیزی رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی خستہ حالی ، گاڑی میں خرابی ، اوورلوڈنگ ، ون وے کی خلاف وزری، اورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال ، نو عمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ، بریک کا فیل ہوجانا اور زائد مدت ٹائر وں کا استعمال شامل ہے۔لیکن ان میں سب سے اہم وجہ سڑک استعمال کرنے والے کا جلدباز روّیہ ہے۔ 80 سے 90 فیصد ٹریفک حادثات غیر محتاط رویے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں ، مگر ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کے لئے قطعاً تیارنہیں، اوریہ ہی ٹریفک کے مسائل اور حادثات کی بنیادی وجہ ہے۔جب تک ہم اپنے رویوں کو درست نہیں کریں گے اس وقت ٹریفک حادثات میں کمی ممکن نہیں۔
    جبکہ ٹریفک حادثات اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا کہ گاڑیوں کے لیے تو موٹر وہیکلز کے قوانین موجود ہیں مگر آہستہ چلنے والی گاڑیاں مثلاً گدھا و بیل گاڑی کے لئے کوئی قانون سازی نہیں ہے، اس وجہ سے روڈ استعمال کرنے والے یہ لوگ قانون سے نہ صرف بالا تر ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات بھی ہیں۔ ان افراد کو تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے ، تاکہ ان کو روڈ استعمال کرنے سے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہوسکے

    دنیا بھرمیں سرکاری سطح پر ڈرائیونگ اسکول بنے ہوئے ہیں اور گاڑی چلانے کا خواہشمند ہر شخص کئی دنوں تک اسکول جاتا ہے اور انہیں باقاعدہ طور پر ٹریفک قوانین کے ساتھ ساتھ گاڑی چلانے کی مہارت بھی سکھائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اس قسم کا نظام ہونے کے برابر ہے، اکثر لوگ اپنے رشتداروں یا دوستوں سے گاڑی چلانا سکیھ لیتے ہیں اور ایسا کرنا جرم بھی نہیں سمجھتے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں مخصوص ادارے ہی ڈرائیونگ سکھانے کے مجاز ہوتے ہیں۔
    حکومت کو چاہئے کہ ملک بھر میں اس قسم کا نظام متعارف کرائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے سخت سے سخت سزا مقرر کرے۔ ڈرائیونگ اسکول بنانے سے ملک میں سیکڑوں افراد کو روزگار مہیا ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تربیت یافتہ ڈرائیور میسر ہونگے

    پاکستان کے ہرصوبے میں الگ الگ قسم کے لائسنس کارڈ جاری کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جعلی کارڈ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لائسنس کارڈ قومی شناختی کارڈ کی طرح مرکز اسلام آباد سے ہی جاری کیا جائے تاکہ جعلی کارڈ کی روک تھام میں بھی مدد مل سکے۔

    اسی وجہ سے پاکستان میں روڈ ایکسیڈینٹ کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ہے جس کے برعکس پاکستان کی گورنمنٹ کا کام سست روی کا شکار ہوتا ہے باہر کے ممالک میں قانون سازی کرکے اس پہ عمل پیرا کروانا گورمنٹ کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ہم سب کی یہی کوشش ہوگی ہے موجودہ گورنمنٹ اس پر توجہ دے تاکہ بہتری کیلئے بہتر اقدام کرکے لوگوں کو ہلاکتوں سے بچاۓ
    @JingoAlpha

  • افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر :تحریر: محمد جاوید 

    افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر :تحریر: محمد جاوید 

    گزشتہ کچھ دہائیوں سے افغانستان کے حالات میں نشیب و فراز دیکھنے کو ملا ہے۔ خاص کر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملے کے بعد افغانستان میں امریکی جارحیت  نے خطے میں جیوگرافیائی ، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی اثرات مرتب کئے ہیں۔

    افغانستان روس کی طرح امریکہ کے لیے  قبرستان ثابت ہوا اور  شکست خوردہ ھو کر یہاں سے راتوں رات تاجکستان کے راستے سے رہ فرار اختیار کررہا ہے۔

    امریکی آمد کی طرح اسکی یہاں سے روانگی بھی خطے کے حالات کو نیا روخ دے گی۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ اس کے ہمسایہ ممالک بھی اس تبدیلی کو محسوس کرینگے ۔خاص کر پاکستان ایران اور انڈیا کے اندر اس تبدیلی کے جھٹکے محسوس کئے جائیں گے۔
    انڈیا اس وقت بہت "شش و پنج”  میں مبتلا ہے ایک طرف افغانستان میں انڈین انویسٹمنٹ ڈوب رہی ہے اور "ڈوبتے ہوۓ کو تنکے کا سہرا” کے مصداق انڈیا افغان حکومت کو بچانے کی "تگ و دو "میں لگا ہوا ہے اور دوسری طرف افغان طالبان سے ملنے کے لئے بھی کوشاں ہے۔ مگر اب تک منہ کی کھانی پڑی ہے مستقبل میں بھی ایسا لگ رہا کہ انڈیا کا رول امریکہ کے ساتھ افغانستان سے ختم ہورہا ہے اور اب انڈیا کو افغانستان میں پاکستان مخالف سازشیں کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

    رہی بات پاکستان کی تو وہ بھی اس تبدیلی کو ماضی کی طرح پھر سے محسوس کرے گا۔ افغانستان سے امریکی روانگی سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی ایک نیا موڑ آئے گا۔پاکستان کو امریکہ کے جانے کے بعد ایک بڑا چیلنج کا سامنا ہے کہ کسی طرح افغانستان میں امن قائم ہو اور خانہ جنگی نہ ہو ۔
    اگر خدا نہ خواستہ افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی ہوتی ہے تو اس کے برے اثرات یقینی طور پر ماضی کی طرح پاکستان پہ مرتب ہونگے اسلیے پاکستان مستحکم  اور پرامن افغانستان کے لئے ہر ممکن کوشیش کرے گا۔

    پروفیسر عمیر انس کہتے ہیں کہ "ایران کے پاس ایک نیا صدر ہے اور انڈیا اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کی نئی حکومت کے ساتھ تیل کی قیمتوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی آمد کے بعد ایران پر کچھ پابندیاں ہٹائے جانے کی امید ہے اور ممکن ہے کہ انڈیا اس سے فائدہ اٹھانا چاہے گا۔”
    افغانستان کے حالات نازک دور سے گزر رہے  ہیں خطے کا ہر ملک آنے والے حالات سے اضطراب کی کفیت میں دیکھائی دے رہا ہیں۔
    اب خطے کے دیگر ممالک کو چاہئے کہ ایک بلاک بنا کر چین روس کے ساتھ ملکر افغانستان کے امن کے لئے کوشش کریں نہیں تو یہ خانہ جنگی کے منفی اثرات پورے خطے کے ممالک پر ہونگے۔ اس لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر ہے۔

  • کووڈ کی علامات و حقائق اور اس سے بچاؤ :تحریر: سجاد علی

    کووڈ کی علامات و حقائق اور اس سے بچاؤ :تحریر: سجاد علی

    کووڈ – 19 مختلف انسانوں پر مختلف طرح سے اثر انداز ہوتا ہے. بہت سے متاثرہ افراد میں بہت ہی معمولی نوعیت کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ بغیر ہسپتال داخل ہوئے بھی تندرست ہو جاتے ہیں.

    عام ابتدائی علامات :

    1- بخار
    2- خشک کھانسی
    3- تھکاوٹ

    غیر عام علامات :

    1- جسم درد
    2- گلہ کی سوزش
    3- اسہال
    4- آشوبِ چشم
    5- سر درد
    6- زائقہ اور سونگھنے کی حس کا غائب ہونا
    7- جلد کی سوزش
    8- جلد کی رنگت تبدیل ہونا

    سنگین علامات :
    1- سانس لینے میں دشواری
    2- سینے کا درد یا دباؤ
    3- بول چال یا حرکت کا ماؤف ہو جانا

    اگر آپ سنگین علامات کا شکار ہیں تو فورا معالج سے رجوع کریں.

    عام اور ہلکی علامات والے افراد جو کسی اور مرض میں مبتلا نہیں، گھر میں ہی معالج کی ہدایات کے مطابق عمل کر کے علامات پر قابو پا سکتے ہیں.

    کووڈ کی علامات پانچ سے چھ دن میں ظاہر ہوتی ہیں. اور بعض اوقات چودہ سے بیس دن میں نمایاں ہوتی ہیں.
    کم و بیش یہی دورانیہ مکمل صحتیابی کا بھی ہے، چودہ سے بیس دن میں مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں. بعض اوقات زیادہ سیریس علامات کی صورت میں دورانیہ تیس سے چالیس دن کا ہو سکتا ہے.

    احتیاطی تدابیر :

    کووڈ – 19 سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں. تجویز کردہ احتیاطی تدابیر اپنا کر اپنی اور دوسروں کی صحت کا خیال رکھا جا سکتا ہے اور اسے مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے.

    1- باہر جاتے وقت اچھے اور معیاری فیس ماسک کا استعمال کریں.
    2- بلا ضرورت ہجوم میں جانے سے گریز کریں.
    3- دو میٹر کا سماجی فاصلہ برقرار رکھیں. متاثرہ فرد سے قریب ہونے کی صورت میں کورونا سمیت دیگر وائرس منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے.
    4- جب ضرورت ہو تو پانی اور صابن سے اپنے ہاتھ دھوئیں. ایسا کرنے سے ہاتھوں پر موجود وائرس ختم ہو سکتے ہیں.
    5- ہاتھ مختلف چیزوں کو چھونے کی وجہ سے وائرس منتقل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہو سکتے ہیں اس لیے آنکھ، ناک اور منہ چھونے سے اجتناب کریں.
    6- اپنے نظام تنفس/سانس کی صحت کا خیال رکھیں.
    7- طبیعت بہتر محسوس نہ ہو تو گھر پر رہیں. اس طرح اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے.
    8- بخار، کھانسی یا سانس لینے میں مشکل ہو تو فوراً معالج سے رجوع کریں.
    9- تمام سبزیوں اور پھلوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کریں.
    10- پکے ہوئے اور خام کھانوں، گوشت وغیرہ کے لیے الگ کٹنگ بورڈز اور چھریاں استعمال کریں.
    11- ایک دوسرے کے استعمال شدہ برتن استعمال کرنے سے اجتناب کریں.
    12- برتن اچھی طرح دھو کر خشک کر کے ڈھک کر رکھیں.
    13- بیمار جانوروں کا، یا باسی گوشت مت استعمال کریں.
    14- مارکیٹوں میں آوارہ جانوروں، کچرے اور فضلے سے دور رہیں.
    15- جانوروں یا ان سے متعلق مصنوعات کو استعمال کرتے وقت ہاتھوں پر دستانے پہنیں.
    16- جانوروں یا ان کی مصنوعات کو چھونے کے بعد صابن سے ہاتھ دھوئیں.
    17- یونیفارم صاف ستھرا رکھیں، روزانہ دھوئیں.
    18- باہر سے واپس آنے پر نہا کر لباس تبدیل کر لیں اور لباس دھو دیں.
    19- اہلخانہ کو کام کی جگہ پر پہنے جانے والے لباس/یونیفارم سے دور رکھیں.
    20- مکمل گھر، خاص کر کچن، باتھ روم اور زیادہ استعمال ہونے والے حصے، کام کی جگہ، زیرِ استعمال چیزیں، سواری وغیرہ کو کم ازکم دن میں ایک بار جراثیم کش دوائی سے ضرور صاف کریں.
    21- بیمار جانوروں یا غیرصحت مند نظر آنے والے جانوروں سے دور رہیں. اور ان کا علاج کروائیں.
    22- صابن اور پانی میسر نہ ہونے کی صورت میں ہینڈ سینیٹائزر وائیپس یا لیکویڈ ہمیشہ اپنے پاس رکھیں.
    23- کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ رہیں.
    24- اپنے معالج، طبی اداروں اور حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں.

    اللہ ہم سب کو اس ناگہانی آفت سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین

  • لاقانونیت  . تحریر:فرمان اللہ

    لاقانونیت . تحریر:فرمان اللہ

    کسی بھی معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی سب سے بڑی وجہ لاقانونیت ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف ریاست قانون نافذ کرنے میں ناکام رہتی ہے تو دوسری طرف عوام قانون کو توڑنے میں پیش پیش ہوتی ہے۔ قانون کا رکھوالا اگر ایک طرف رشوت لیتا ہے تو دوسری طرف جن کے لیے قانون بنتا ہے وہ رشوت کی پیش کش کرتے ہیں۔

    میں بیرون ملک مقیم ہوں لیکن جس طرح یہاں قانون کی پاسداری کرتا ہوں ویسے ہی پاکستان جا کر بھی کرتا ہوں۔ جس طرح تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اسی طرح قانون کا نفاذ بھی ریاست اور عوام دونوں ملکر کرتے ہیں اور جس معاشرے میں لاقانونیت ہو اُس معاشرے میں طاقتور قانون کو اپنے گھر کی لونڈی بنا لیتا ہے اور ایسے معاشرے میں ظلم کی انتہا بھی ہوتی ہے اور ظلم کا حساب بھی نہیں ہوتا۔

    ریاست کے ساتھ ساتھ اگر عوام بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے قانون کو فالو کرے تو یقیناً قانون کے رکھوالے بھی اپنے فرائض سرانجام دیں گے

    @ForIkPakistan

  • کس سے منصفی چاہیں :تحریر: عرفان محمود گوندل

    کس سے منصفی چاہیں :تحریر: عرفان محمود گوندل

    سینئر ایڈوکیٹ بشیر قاضی صاحب نے ایک بار کہا تھا کہ بندہ دو وجوہات سے دھوکہ کھاتا ہے ۔ پہلی وجہ لالچ اور دوسری وجہ اعتماد
    یعنی آپ جس سے دھوکہ کھاتے آپ اس کی باتوں میں آجاتے ہیں اور زیادہ کے لالچ میں دھوکہ کھا جاتے ہیں
    دوسری وجہ جب کسی پر آپ کو اعتماد ہو ۔ لیکن دوسرے کی نیت میں فتور ہو تو وہ آپ کو دھوکہ دیتا ہے ۔
    یہ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے جب قاضی بشیر ایڈوکیٹ صاحب کے ساتھ کسی محفل میں بیٹھا تھا تو ان کی زبانی سنا تھا ۔
    لیکن آج کا معاشرہ ان دو باتوں کے علاؤہ بھی دھوکے دیتا ہے ۔ بلکہ اب تو دھوکہ دینے کے لیے منظم گروہ بن چکے ہیں ۔
    باقاعدہ ایک ادارہ تشکیل پاتا ہے اور وہ عوام کو چونا لگا کے غائب ہو جاتا ہے ۔
    پھر غائب بھی ایسے ہوتا ہے کہ اس کے آثار بھی گم ہو جاتے ہیں ۔
    اسی طرح مجرمین کو چھپانے غائب کرنے یا عدالتوں سے بری کروانے کے بھی ہزار طریقے ایجاد ہو چکے ہیں ۔
    دو نمبر دستاویزات تیار کرنے ، بیک ڈور چینل سے ڈگریاں لائسنس اور دوسری دستاویزات تیار کروانا ۔۔ جیسے یہ سب کچھ قانونی ہوتا جارہا ہے اور لوگ اسے قبول کررہے ہیں ۔
    قوانین معاشرے تشکیل دیتے ہیں
    آج سے سو سال پہلے کے حالات میں جو قوانین نو آبادیاتی نظام کی صورت میں ہم پر لاگو ہوئے تھے ان کو اس وقت کے معاشرے نے قبول کیا ۔
    آج سے چالیس پچاس سال پہلے تک اسی علاقے کے لوگ ان قوانین کا احترام کرتے تھے

    افسران رشوت نہیں لیتے تھے
    عوام رشوت دینا جرم سمجھتے تھے
    قوانین کا احترام تھا
    اساتذہ ایک ہی طرح کا نصاب پڑھاتے تھے نہ ٹیوشن سینٹر نہ اردو انگریزی الگ نظام تعلیم۔
    ٹریفک قوانین پہ عمل ہوتا تھا،
    عدالتیں سزائیں دیتی تھیں تو وہ قبول کی جاتی تھیں ۔
    مجرم جیل میں ہوتا تھا تو وہ جیل میں ہی رہتا تھا ۔ یہ نہیں ہوتا تھا کہ جعلی مریض بن کے ہسپتال منتقل ہو جاتا تھا ۔ یا رات کو گھر اور دن میں دکھانے کےلیے جیل میں۔
    اشتہاری مجرم واقعی اشتہاری ہوتے تھے نہ کہ پولیس کی حفاظت میں۔
    ملاوٹ کرنا جرم تھا
    ناپ تول پورا تھا
    وغیرہ وغیرہ
    لیکن اب ترتیب الٹ ہے ۔
    موجودہ معاشرے کے لوگوں نے ان قوانین کا جو نوآبادیاتی دور میں نافذ ہوئے تھے مذاق بنا دیا ہے۔
    اب قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لیکر قانون پر عمل کرنے والی عوام تک بلکہ خواص تک ان تمام قوانین سے بغاوت کر چکے ہیں۔
    کوئی بھی موجودہ دور کا انسان ان قوانین کو نہ مانتا ہے نہ عمل کرتا ہے نہ عمل کرواتا ہے
    بلکہ جہاں معاشرتی قوانین یا حکومتی نافذ کردہ قوانین آ جائیں یا کوئی ان کے چنگل میں پھنس جائے وہاں شارٹ کٹ کا سہارا لیا جاتا ہے اور قانون پر عمل نہ کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے

    موجودہ قوانین سرکاری ملازمین کی ” اضافی روزی” کا ذریعہ بن چکے ہیں
    عدالتیں
    تھانہ کچہری
    پٹواری
    انکم ٹیکس
    کسٹم
    تعلیم
    حتیٰ کہ ہر ادارہ کے ملازمین کسی بھی پھنس جانے والے شکار کو ضرور قانون کے گندے جالے میں پھنسا کے پیسے نکلواتے ہیں۔
    اور عوام کو بھی معلوم ہے کہ جب تک شارٹ کٹ استعمال نہیں کرنا اس ایک ادارے کے ساتھ ساتھ دوسرے ادارے والوں کو بھی کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا اس لیے قانون سے جان چھڑاؤ اور کچھ دے دلا کے یہیں بات کو ختم کرو ۔
    کیوں نہ ایسے کیا جائے کہ اس روش کو قانونی حیثیت دے دی جائے ؟ یعنی جس طرح معاشرتی تقسیم ہے اسی طرح قوانین بھی تقسیم کر دیے جائیں اور عوام کو آزادی دے دی جائے کہ وہ کون سا طریقہ استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اپنے کام کا کیا ریٹ دینا پسند کریں گے
    یعنی کام کروانے کے سرکاری ریٹ مقرر کر دیے جائیں
    جو جتنے پیسے پھینکے گا اس کو اتنا ہی جلدی رزلٹ ملے گا
    مثلاً عدالت کے باہر ریٹ آویزاں ہوں
    تھانے کے باہر ہر طرح کے کیس کے ریٹ آویزاں ہوں
    ہسپتال کے باہر
    کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کی دکانوں پہ
    جیسے
    مردہ چکن کے تکے 40روپے فی
    حلال چکن کے تکے 100 روپے فی
    باسی کھانا 200 روپے فی
    رازی کھانا 400 روپے فی
    ہم رشوت تو ویسے بھی چھپ کے دیتے ہیں
    ہم ملاوٹ زدہ کھانے تو ویسے بھی چھپ کے بیچتے ہیں
    ہم ہر ناجائز کام تو ویسے بھی کرتے ہیں
    جب یہ سب چھپ چھپا کے معاشرے میں جائز ہے تو اس کو ویسے ہی قانونی حیثیت دے دی جائے تو کم از کم حکومتی رٹ تو بحال ہو۔ کم از کم یہ معاشرہ انسانوں کا معاشرہ لگے نہ کہ جنگل کا۔

  • ‏نفرت کیوں ؟ تحریر  : خالد اقبال عطاری.

    ‏نفرت کیوں ؟ تحریر : خالد اقبال عطاری.

    اگست 2019 میں پنجاب میں ایک دل خراش واقعہ پیش آیا جس میں گھریلو جھگڑے میں گریجویشن کے ایک طالب-علم نے فائرنگ کرکے اپنے ہی گھر کے 6 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا. قتل ہونے والوں میں اسکے بھائی بھابھیاں اور بھتیجے شامل تھے. قتل کرنے کے بعد نوجوان نے بھی خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی. ملزم کی خودکشی کرنے سے پہلے کی وڈیو بھی منظر عام پر آئی جس میں اس نے بتایا کہ مجھ سے نفرت کی جاتی تھی کسی کو اتنی نفرت نہ دو کہ وہ دوسروں سے نفرت کرنے لگے.
    خودکشی یا کسی کو ناحق قتل کرنا دونوں ہی ناجائز و حرام ہیں. یہ افسوسناک واقعہ دل میں پیدا ہونے والی نفرت کا نتیجہ ہے. دل کا عربی میں قلب کہتے ہیں اور قلب کا معنی ہے بدلنے والا. احادیث کریمہ میں دل کی مثال اس پر کی طرح دی گئی ہے جسے ہوائیں جنگل میں پلٹا دے رہی ہوں.
    بچہ ہو بڑا بوڑھا ہو یا جوان زندگی کے شب و روز میں دل مختلف جزباتی کیفیت سے گزرتا ہے کبھی کسی کو افسردہ یا دکھی دیکھ کر ہمدردی کا جزبہ پیدا ہوتا ہے کبھی کسی بات پر خوش بھی ہوجاتا ہے. انسان کبھی کبھار تو ایسا سخی یا رحم دل ثابت ہوتا ہے کہ چڑیوں، کبوتروں اور دیگر پرندوں کو روزانہ دانہ پانی دیتا ہے. اور کبھی ایسا سخت دل کہ کسی بے زبان جانور پر بھی ظلم کرنے سے باز نہیں آتا.
    میرے بھائیوں اور بہنوں بہت سے دوسرے جزبات کی طرح محبت( Love) اور نفرت ( Hate) بھی اسی دل کا حصہ ہے. جس سے انسان کو محبت ہوتی ہے اس سے تعلقات بھی اچھے رہتے ہیں. اور معاشرتی زندگی میں امن و سکون قائم رہتا ہے. جبکہ نفرت آپس کے تعلقات کو خراب کردیتی ھے اور رشتے توڑ دیتی ہے. بھائی بہنوں کو آپس میں شوہر کو بیوی سے دوست کو دوست سے دور کروادیتی ہے. نفرت کے سبب. خاندان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور نام و نشان تک مٹ جاتے ہیں. نفرت کی وجہ سے بھائی کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچا کر خوش ہوتا ہے. نفرت کی سبب انسان بد اخلاق ہوجاتا ہے. یہی نفرت لڑائی جھگڑے کرواتی قتل و غارت اور آپس میں دشمنیاں کروادیتی ہے. جسکا خمیازہ کئی کئی نسلوں تک بھگتنا پڑتا ہے. آجکل حالات ایسے ہیں کہ پیار و محبت کی خوشبو کم پھیلتی ہے. جبکہ نفرت کی آگ ہماری سوسائٹی کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے.
    آخر نفرت کیوں ؟ ؟ ؟

    نفرت کیوں ہوتی ہے؟
    ہر مرض کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے کسی کی نفرت میں مبتلا ہونے کے کم از کم 9 ممکنہ اسباب( Possible Reasons ) ہو سکتے ہیں
    1: جب ہمارا کوئی رشتہ دار یا دوست ہماری امیدوں کے برعکس ہماری توقعات پر پورا نہیں اترتا یا ایمرجینسی کر صورت میں مدد نہیں کرتا تو ہمارے دل میں اس کے لیے نفرت کا بیج اگ سکتا ہے.
    2: جب ہمارا ماتحت ہمارے مزاج کے خلاف کام کرتا ہے تو ایک دن آتا ہے کہ وہ ہمارے دل سے اتر جاتا ہے.
    3:کسی نے لوگوں کے سامنے ہمیں نیچا دکھایا یا ڈانٹ دیا تو وہ شخص ہمیں برا لگنے لگ جاتا ہے.
    4: اصلاح کا غلط انداز بھی نفرت پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے.
    5: کامیابی اور ناکامی زندگی کا حصہ ہیں. لیکن کچھ لوگ ناکام ہونے والوں کی حوصلہ شکنی کو اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں اور یوں وہ شخص ان سے نفرت کرنے لگتا ہے.
    6: بولنا ایک فن ہے تو سننا اس سے بڑا فن ہے. اکثر لوگ دوسروں کی بات کاٹنے میں جھجھک محسوس نہیں کرتے. ان کا یہ انداز بھی نفرتیں کمانے والا ہے.
    7: بات بات پر غصہ کرنا چیخنا چلانا مشتعل ہوجانا یا بد اخلاقی سے بھی نفرتیں جنم لیتی ہیں.
    8: کسی کے سودے پر سودے کرنا یا رشتے پر رشتہ بھیجنا بھی نفرتیں پھیلاتا ہے.
    9:؛ کسی کے بارے میں شک و بد گمانی یا حسد بھی محبتوں کو ختم کرنا اور نفرتوں کو جنم دینا ہے.
    اللہ پاک ہمیں محبتیں پھیلانے اور نفرت کو عام کرنے والوں کاموں اور طریقے سے محفوظ فرمائے.

  • دشمن کو منہ کی کھانی پڑے گی .تحریر:ملک حسن

    دشمن کو منہ کی کھانی پڑے گی .تحریر:ملک حسن

    پچھلے 12 سالوں میں کیا کچھ نہیں ہوا اس ملک میں۔۔
    یہاں تک کہ پاکستان کے نئے نقشے بھی تیار ہو چکے تھے۔ دشمن گلی کوچوں میں پہنچ چکا تھا، بہت خطرناک دن گزرے اس ملک پر۔۔۔۔ ہر لحاظ سے ملک کو خطرہ لاحق تھا پچھلی حکومتوں کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ ہونے کے قریب تھا، خطے میں تنہا ہونے کے قریب تھا۔۔۔
    معاشی لحاظ سے دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔۔۔
    لیکن پھر بھی آج اس ملک کے سامنے دنیا کی سپر پاورز بھی سر جھکائے کھڑی ہیں۔۔ الحمدللہ۔
    (روس بھی کہتا ہے ہم آپ سے تعاون کو تیار ہیں ہمیں سی پیک میں شامل کرو اور امریکہ بھی کہتا ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر ہم افغانستان سے نہی نکل پائیں گے)

    اتنے دکھ سہنے کے باوجود یہ قوم اور یہ ملک اب بھی دنیا کے سامنے اپنا سکہ جمائے ہوئے ہے۔ یہ قوم اتنے دکھ سہنے کے باوجود آج بھی خوش رہنے والوں کی فہرست میں ہے۔

    یہ ملک خدا داد آج بھی دنیا کے نقشہ پر پورے آب و تاب سے موجود ہے۔ اور الحمدللہ دن بدن نا قابل تسخیر ہوتا جا رہا ہے۔

    یہ آج ملک میں جو کچھ چوری ظلم زیادتیاں مہنگائی اور دیگر جو مسائل ہیں انکی صرف 2 ہی وجہ ہیں
    1 :- کرپشن ! مال سارا سیاستدانوں کی جیب میں جاتا رہتا ہے اور غریب دیکھتا ہی رہ جاتا ہے اور عام عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ مہنگائی ہوتی۔۔۔
    2:- دوسری اور سب سے بڑی وجہ ناقص قانون ، اور پھر اس ناقص قانون کا بھی برابر اطلاق نا ہونا امیر کے الگ اور غریب کے لیے الگ ، ناقص عدالتی نظام ، بکاو جج وغیرہ وغیرہ

    لیکن آپ پریشان نا ہوں مایوس نا ہوں، مایوسی کفر ہے۔
    وہ دن دور نہیں جب یہ سب مسائل بھی حل ہو جائینگے۔ ان شاءاللہ
    لکھ کر لے لو ایک دن آئے گا اقوام عالم کے فیصلے پاکستان کی ہاں اور نا میں ہونگے
    یہ میں نہیں کہہ رہا یہ اللہ کے بہت خاص لوگ اس ملک کے بارے میں کہہ گزرے ہیں ۔
    اور یہ ہو کر رہے گا انشاءاللہ۔
    لیکن فلحال آزمائش کا وقت ہے وطن سے وفا کا وقت ہے۔
    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج آئی ایس آئی زندہ باد

  • پاک بحریہ کثیرالجہتی محاذوں پر مصروفِ عمل .تحریر:افتخار احمد خانزادہ

    پاک بحریہ کثیرالجہتی محاذوں پر مصروفِ عمل .تحریر:افتخار احمد خانزادہ

    پاک بحریہ ایک کثیر الجہتی مقاصد کا حامل ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان کی بحری حدود کی حفاظت کے علاوہ خطے میں پُر امن جہاز رانی کا فروغ اور آبی گزرگاہوں کو محفوظ بناتے ہوئے پاکستان کی بحری تجارت کو بحفاطت پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے، اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے پاک بحریہ ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں وطنِ عزیز کی ساکھ،سربلندی اوردائمی استحکام کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے۔پاک بحریہ نے کبھی دہشت گردی کے خلاف کھلے سمندروں میں عالمی بحری قوتوں کے ہمراہ عالمی امن کے لیے اپنی خدمات پیش کیں، کبھی انسدادِبحری قزاقی کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کیاتو کبھی زلزلے،سیلاب اور قدرتی آفات میں گھرے متاثرین کو سامانِ خوردو نوش اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کو ممکن بنایا۔
    قدرتی آفات اور حادثات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی اور متزلزل صورتِ حال میں پاک بحریہ نے قوم کو کبھی بھی مایوس ہونے نہیں دیا۔ کووڈ کی صورتِ حال کے دوران پاک بحریہ نے پاکستان کے دور دراز علاقوں میں ضرورت مند خاندانوں تک غذائی اشیاء کی فراہمی کو ممکن بنا کر قوم کا اعتماد جیت لیا۔

    پاک بحریہ نہ صرف عسکری محاذوں پر برسرپیکار اپنی جرات،اولولعزمی، فرض شناسی اور دانشمندانہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ قومی سطح پر رفاہ عامہ کے کاموں میں بھرپور حصہ لے کر انسانی خدمت کا فریضہ بھی بخوبی نبھا رہی ہے۔پاک بحریہ نے نہ صرف1000 کلو میٹر کی ساحلی پٹی پر آباد سر کریک سے جیوانی تک کی آبادیوں کو ہمیشہ مفت طبی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنایاہے بلکہ اندرونِ سندھ، وسطی پنجاب اور شمالی علاقہ جات میں بھی ان سہولیات کو باہم پہنچانے کا بھر پوراہتمام کیا ہے، جس کا مظاہرہ پاک بحریہ اپنے میڈیکل کیمپس کے انعقاد کے ذریعے کرتی رہتی ہے۔ 8 اکتوبر کے زلزلے میں متاثرین کو طبی امداد اور ضروری سامان کی فراہمی کے ساتھ متاثرین کی اسپتالوں تک رسائی جیسے اقدامات میں پاک بحریہ نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا،شمالی علاقہ جات میں دہشت گردی کے خلاف کیے گئے آپریشنز میں بھی پاک بحریہ نےدیگر مسلح افواج کے شانہ بہ شانہ اپنا کردار اداکیا،جس نے پاک بحریہ اور عوام کے درمیان پُر جوش اور متاثرکن جذبات کو جنم دیا۔ اس طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پاک بحریہ اپنا کردار ادا کر کے عسکری اداروں پر عوام کا مزیداعتماد بحال کرتے ہوئے قوم پراپنا منفرد تشخص آشکار کر رہی ہے۔

    آزادکشمیر مظفرآباد میں پاک بحریہ کے 30 جون سے 2 جولائی 21 تک منعقد ہ 3روزہ فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں پاک بحریہ کی جانب سے پہلی بار اس فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آزادکشمیر مظفر آباد ڈویژن کے ضلع ہٹیاں کے علاقے چکار،نواحی علاقے چلہ پانڈی اور نیلم وادی کے علاقے کنڈل شاہی میں لگائے گئے3 روزہ فری میڈیکل کیمپ میں پاک بحریہ کے خصوصی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے علاقائی لوگوں کو گھر کی دہلیز پر مناسب تشخیص کے بعدفری ادویات کی فراہمی کو ممکن بناکرمقامی افراد میں زندگی کی روح پھونک دی اور اس طرح کشمیر کے دورافتادہ علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات سے محروم ضرورت مند اور مستحق افراد کے دل جیت لیے۔اس فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام نیول ہیڈ کواٹر کی خصوصی ہدایت کے تحت عمل میں لایا گیا تا کہ کشمیر کے دیہی علاقوں میں رہائش پزیرافراد میں انسانی صحت سے متعلق شعور اُجاگر کرتے ہوئے انہیں مناسب طبی سہولیات اورادویات فراہم کی جا سکیں۔ہزاروں افراد کا مفت طبی معائنہ کیا گیااور تشخیص کے مطابق مختلف امراض میں مبتلا کثیر تعداد میں مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئیں۔پاک بحریہ کے طبی ماہرین کے متاثرکن اور خوش اخلاق رویے نے علاقائی افراد کے چہروں پر خوشیاں بکھیر دیں۔ پاک بحریہ کی یہ ٹیم کوالیفائیڈ ڈاکٹرزاور فزیشنز پر مشتمل تھی جس میں شامل میڈیکل،سرجیکل،امراضِ چشم،زچہ و بچہ اور جلدی امراض کے خصوصی ماہرین نے مختلف امراض میں مبتلا مستحق افراد کو بھرپور توجہ کے ساتھ معائنے کے بعد طبی سہولیات فراہم کیں۔عوام الناس کو صحت عامہ سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی بالخصوص خواتین کو ماں اور بچے کی صحت سے متعلق ضروری معلومات سے آگاہ کیا گیا کہ ایک صحت مند ماں ہی صحت مند بچے کو جنم دے سکتی ہے اور صحت مند بچے ہی صحت مند معاشروں کا آئینہ دار ہوا کرتے ہیں۔

    آزاد کشمیر کے ان دور افتادہ دیہاتی علاقوں میں جہاں مناسب بنیادی طبی سہولیات کا فقدان موجود ہے، اچھے اسپتالوں تک رسائی اور مہنگی ادویات کا حصول عوام الناس کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔ ان مقامات پر اس طرح کے فری میڈیکل کیمپس ضرورت مندافراد، بچوں، بوڑھوں، خواتین اور مستحق خاندانوں میں خوشیاں بانٹتے ہوئے ان کے چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ جس کی بدولت مقامی لوگوں میں پاک بحریہ سے متعلق محبت سے بھرپور جذبات جنم لے رہے ہیں مقامی افراد پاک بحریہ سے متعلق دلوں میں نرم گوشے رکھتے ہوئے تشکر آمیز مسکراہٹوں کے ساتھ بحریہ کے اس اقدام پر دعا گو نظر آتے ہیں۔یقینا قوموں کی زندگی میں ایسے ہی لمحات باہمی ہم آہنگی اور یک جہتی کے فروغ کا باعث بنتے ہیں جس کی بنا پر مستقل بنیادوں پر قومیں معاشروں میں اپنے وجود کا احساس دلایا کرتی ہیں جن کے نتائج قومی حمیت اور ناقابلِ تسخیر دفاع کی صورت میں اقوامِ ِعالم پرآشکارہوتے ہیں اور تاریخ ان عوامل کو اپنے دامن میں جگہ دے کر قوموں کی زندگی کو امر کر دیا کرتی ہے۔ پاک بحریہ انہی عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے مختلف فلاحی کاموں میں بھرپور حصہ لیتی ہے اور ارضِ وطن کے دفاع اور دائمی استحکام کے لیے کثیر الجہتی محاذوں پر ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔