Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • کوئی حد نہیں خدمت کی :تحریر:فیاض احمد عباسی

    کوئی حد نہیں خدمت کی :تحریر:فیاض احمد عباسی

    سفید مصفا وردی میں ملبوس پاک بحریہ کے آفیسرز اور جوان سمندر کی بے کراں وسعتوں کے حکمران ہیں۔ اُ ن کی فرض شناسی، مستعدی اور حب الوطنی کی بدولت پاکستان کی سمندری سرحدیں محفوظ اور ناقابل تسخیر ہیں۔ یہ سر فروش نہ صرف ملکی بحری سرحدوں کے دفاع کے قومی فرائض بخوبی نبھا رہے ہیں بلکہ ملک میں جب بھی کوئی ناگہانی آفت رونما ہوئی تو قوم کے یہ بیٹے مدد کے لیے ہمیشہ تیار نظر آئے۔ پاکستان نیوی کی قومی خدمات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ملک کی ساحلی آ بادی میں نظر آتا ہے۔ تعلیم کا شعبہ ہو یا صحت کی سہو لیات کا معاملہ، روزگار کی فراہمی ہو یا معیشت کا استحکام پاکستان نیوی ہر جگہ پیش پیش رہتی ہے۔ تعلیم کے لیے بحریہ کا لجز، بحریہ اسکولز،کیڈٹ کالجز اپنی خدمات پیش کیے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سر کاری اسکولوں کی سرپرستی اور ان کے ساتھ تعلیمی تعاون ایک الگ کاوش ہے۔

    صحت کی بات کی جائے تو ساحلی علاقوں میں تسلسل کے ساتھ فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد نمایاں ہے۔ کووِڈ 19- کے دوران پاک بحریہ کی میڈیکل ٹیموں نے صحت کی سہولیات اور ساحلی آبادی کے علاج معالج میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی۔میڈیکل کیمپس قائم کیے، حفاظتی سامان کی تقسیم کی، لوگوں کو بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا۔ شدید امراض میں مبتلا مریضوں کا اور ماڑہ میں واقع پاکستان نیوی کے ہسپتا ل پی این ایس درماں جاہ میں جدید آلات سے علاج کیا گیا۔ کووِڈ19-کے دوران پاکستان نیوی نے ملک کے ساحلی علاقوں اور دیگر شہروں میں 70ہزار ٹن راشن بانٹا، 50ہزار کے قریب حفاظتی سامان اور طبی آلات تقسیم کیے۔

    روزگار اور معیشت کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان نیوی ساحلی پٹی کے مستحق نو جوانوں کو خصوصی رعایت کے ساتھ ملازمت دیتی ہے۔ اُ ن کے لیے کو ٹہ بھی مخصوص ہے۔پاکستان کی تقدیر بدلنے والے سی پیک منصوبے کی سمندری گزر گاہوں کو محفوط بنا کر پاکستان نیوی پاکستانی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بحری اقتصادی پوٹینشل کے سلسلے میں آگہی کے فروغ اور اس سے استفادہ حاصل کرنے کے ضمن میں پاکستان نیوی کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ یہ تو ساحلی علاقوں میں پاک بحریہ کی خدمات کا انتہائی مختصر ذکر تھا۔

    ساحلی علاقوں کے علاوہ ملک میں کبھی بھی جہاں بھی ضرورت پیش آئی پاکستان نیوی پیش پیش رہی۔ اپنی قومی خدمات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان نیوی نے آزاد جموں و کشمیر میں تین دن پر محیط فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا۔ اس فری میڈیکل کے انعقاد کا مقصد آزاد جمو ں و کشمیرکے علاقوں چہلہ بانڈی، چکار اور نیلم میں آباد مستحق خاندانوں کو علاج کی سہولیات کی دستیابی اور ادویات کی بلا معاوضہ فراہمی تھا۔ پاکستان نیوی فری میڈیکل کیمپ کے ماہر ڈاکٹر ز نے کیمپ میں آنے والے مریضوں کا انتہائی باریک بینی سے معائنہ کیا اور مرض کی تشخیص کے بعد انہیں بلا معاوضہ ادویات فراہم کی۔ میڈیکل کیمپ میں آنے والے ہزاروں مریضوں میں خواتین بچے اور معمر افراد شامل تھے۔ مقامی آبادی اور علاقے کی معزز شخصیات نے مشکل کی اس گھڑی میں گھروں کی دہلیز تک علاج معالج کی سہولیات اور ادویات پہنچانے پر پاک بحریہ کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا۔ میڈیکل کیمپ میں آنے والے معمر افراد نے کہا کہ ہم پاکستان نیوی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے میڈیکل کیمپ لگایا۔ ہم عمر رسیدہ لوگ دور دراز کا سفر نہیں کر سکتے اور صحت بھی اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ہمیں گھر میں علاج کی سہولیات میسر آئی ہے۔ نیوی کے ڈاکٹر بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔ عملہ اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے۔ علاج بہت اچھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ معززینِ علاقہ نے کہا کہ مہم پر جب بھی مشکل آن پڑی پاک بحریہ نے ہمیشہ ہماری مدد کی۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا2019 کا زلزلہ پاکستان نیوی کی امداد ی کاروائیوں، بحالی کے کاموں اور علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ زلزے کے بعد پاکستان نیوی نے ہمارے بچوں کے لیے اسکولوں کی تعمیر نو کی۔ گھروں کی کو دوبارہ بنانے میں مدد کی۔ ہمارے زخمیوں کا علاج معالجہ کیا۔ ہماری ہمت افزائی کی، حوصلہ دیا، تسلی دی، الغرض زندگی میں اُمید کی کرن پیدا کی۔

    یہ پہلا موقع نہ تھا جب پاکستان نیوی نے آزاد جمو ں و کشمیر میں میڈیکل کیمپ لگا یا بلکہ اس سے قبل بھی پاکستان نیوی اس خطے میں امدادی آپریشنز انجام دے کر مشکل کا شکار لوگوں کی اعانت کر چکی ہے۔ 8 اکتوبر 2005 کو آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں آنے زلزلے نے بڑے پیمانے پر بتا ہی پھیلائی۔ پاکستان کی تاریخ میں آنے والے اس ہولناک زلزلے سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ لاکھوں کی تعدا د میں خاندان بے گھر ہو گئے۔بے گھر خاندا ن بے سرو سامان کسی غیبی مدد کے منتظر تھے، کسی مسیحا کا انتظار کر رہے تھے۔ اس سانحہ کے فوراً بعد پاکستان کی مسلح افواج امدادی کاروائیاں کرنے اور قیمتی انسانوں جانوں کو بچانے کے لیے حرکت میں آئیں۔ ریسکو آپریشنز میں 50 ہزار سے زائد مسلح افواج کے جوان اور آفیسرز نے حصہ لیا۔ پاک بحریہ بھی ان امدادی آپریشنز میں پیش پیش رہی۔ متاثرین کی امداد کے لیے پاکستان نیوی نے مختلف شہروں میں امدادی کیمپس قائم کیے تاکہ امدادی سامان جمع کیا جاسکتے۔ان امدادی کیمپس کے ذریعے جمع ہونے والے سامان کو ریل گاڑی، ٹرکوں اور پاکستان نیوی کے طیاروں کے ذریعے کراچی اور ساحلی شہروں سے اسلام آباد لا یا گیا اور پھر انہیں آزاد کشمیر کے متاثر ین تک پہنچایا گیا۔ اس سانحے میں زخمی ہونے والوں کے لیے ریلیف کیمپس لگائے گئے۔ جہاں ان زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان ریلیف کیمپس کو فیلڈ ہسپتا ل میں بدل دیا گیا جہاں شدید زخمیوں کا علاج کیا گیا۔ پاکستان نیوی کے ڈاکٹر ز، پیرا میڈیکل اسٹاف، آفیسرز اور جوانوں نے یہاں دن رات خدمات انجام دیں اوراپنے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہوئے۔ ادویات کی اشد ضرورت کے پیش نظر پاک بحریہ کے فو کر طیارے کے ذریعے ادویات کو کراچی سے پی اے ایف چکلالہ پہنچایا گیا جہاں سے یہ ادویات پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے متاثرہ علاقوں میں پہنچائی گئیں۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ کے سی کنگ اور ایلویٹ ہیلی کاپڑز زخمیوں کو ہسپتال تک پہنچانے کا کام انجام دیتے رہے۔ اسلام آباد میں واقع پاک بحریہ کے ہسپتا ل پی این ایس حفیظ کو زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے مخصوص کیا گیا۔ پاک میرینز اور نیوی کے اسپیشل سروس گروپ کے جوانوں نے امدادی سر گرمیوں میں حصہ لے کر زخمیوں کو فیلڈ ہسپتال پہنچا یا اور متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا۔

    26ستمبر2019کو آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے کے بعد پاک بحریہ متاثرین ِ زلزلہ کی امداد کے لیے متحرک ہو گئی۔ پاک بحریہ کی امدادی ٹیموں نے میر پور آزاد کشمیر کے گاؤں جرار اور ڈھوک گجر کے متاثرینِ زلزلہ میں امدادی سامان تقسیم کیا۔۔ زلزلے سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے تھے۔ 2005 کے زلزلے کی تلخ یادوں نے وہاں کے لوگوں کو ایک خوف میں مبتلا کر رکھا تھا۔ سب بے یقینی کی کیفیت کا شکار تھے۔ زندگی بھر کی جمع پونچی کے ضیاع نے انہیں بے حد افسردہ کر رکھا تھا۔ امدادی ٹیموں میں شامل پاک بحریہ کے آفیسرز و جوانوں نے زلزلے سے متاثرہ بھائیوں کی ڈھارس بندھائی، اُن کی ہمت افزائی کی اور کسی بھی مصیبت کی صورت میں اُن کو ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ امدادی سامان جس میں خیمے اور کئی ٹن راشن شامل تھا زلزلہ متاثرین میں تقسیم کیا گیا۔

    پاکستان نیوی قومی خدمات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی امدادی کاروائیوں کو انجام دے چکی ہے۔ اس کی عالمی خدمات میں یمن کے شورش زدہ علاقوں سے سینکڑوں افراد کو بحفاظت نکالنا،بحری قزاقوں کے ہاتھو ں یرغمال ہونے والے بحر ی تجارتی جہاز ایم وی سویئزکے عملے کی بازیابی، سمندری طوفان ”سونامی“ کے دوران سری لنکا، مالدیپ اور انڈونیشیاء میں امدادی آپریشن اورکھلے سمندروں میں مصیبت میں گرفتا ر افراد کی مدد قابل ذکر کارنامے ہیں۔

    پاکستان نیوی اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ کسی بھی ناگہانی آفت کی صور ت میں ملک و قوم کی خدمت کے لیے پر عزم ہے اور اس کے آفیسرز و جوان کسی بھی مشکل میں اپنے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہونے جذبے سے سرشار ہیں۔

  • کرونا وائرس کی چوتھی لہر میں بھارتی ڈیلٹا وئرینٹ کی تصدیق :تحریر: محمد جاوید

    کرونا وائرس کی چوتھی لہر میں بھارتی ڈیلٹا وئرینٹ کی تصدیق :تحریر: محمد جاوید

    اگرچہ پاکستان کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لحاظ سے علمی درجہ بندہ پہ تیسرے نمبر پہ رکھا گیا ہے۔
    بین الااقوامی سطح پر پاکستانی حکومت کی اقدام کی کافی پذیرائی بھی ہورہی ہے تاہم تمام تر احتیاط کے باوجود کرونا وائرس کی نئی قسم جو سب سے پہلے انڈیا میں تشخیص ہوئی تھی وہ پاکستان پہنچ چکی ہے یہ خبر یقیننا تشویش ناک ہے کہ وطن عزیز میں بھارتی کرونا وائرس کے مریض آنا شروع ہوگئے ہیں۔
    اس خطرناک وائرس کے پھیلنے کی خدشے کی وجہ سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سنٹر نے حکمت عملی ترتیب دی ہے اور اس پالیسي کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو ویکسین لازمی قرار دیا ہے ۔ حکومت کی پوری کوشش اس بات پہ منحصر ہے کہ کسی طرح اس خطرناک لہر پہ قابو پایا جاسکے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں اس لہر کی وجہ سے بھارت میں لاکھوں لوگوں کی اموات ہو چکی ہے ۔
    اور پاکستان میں اب دن بدن کیسز بڑھ رہے ہیں جو کہ تشویشناک صورتحال ہے ۔
    کچھ دن پہلے اسد عمر نے اپنی ٹویٹ میں واضح طور پر یہ کہاں تھا اگر کیسز کی شرح اسی طرح بڑھتی گئی تو ہمیں شادی هالز اور ہوٹلز پہ پابندی لگانی ہوگی۔ اس وقت پاکستان میں تعلمی ادارے پہلے سے بند کیے گئے ہیں۔

    اس ضمن میں عوام کو بھی چائے حکومت کے اقدام کا بھر پور طریقے سے ساتھ دیں کیونکہ اسی میں ملک وہ قوم کی بقا ہے ۔ اس وقت حکومت کی پوری کوشش ہے کہ جلد از جلد پاکستان کے تمام افراد کو ویکسین لگائی جائے جو کہ درست اقدام ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے حال ہی میں بتایا تھا کہ ’ڈیلٹا ویریئنٹ اب تک کرونا وائرس کی شناخت ہونے والی اقسام میں ’سب سے زیادہ منتقل‘ ہونے والی قسم ہے، جو  ویکسین نہ لگانے والی آبادی میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔
    پاکستان میں کم عقلی اور لاشعوری ویکسین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کی جارہی ہے اور حکومت کو چاہئے لوگوں کو اس بارے میں شعور و آگاہی دیں اور ایسی پالیسیز بنا لیں کہ جو عمل نہیں کرینگے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ اس چوتھی لہر سے ملک وہ قوم کو بچایا جا سکے۔
    ڈیلٹا وائرس اتنا خطرناک ہے کیونکہ یہ جلدی سے منتقل ہونے والا وائرس ہے ، پھیپھڑوں کے ری سیپٹرز کو مضبوطی سے جکڑنے اور اینٹی باڈیز کے رد عمل کو سست کرنے کی’ صلاحیت موجود ہے۔
    پاکستان کا کردار کو اب تک سراہا جا رہا ہے لگ بگ بائیس کروڑ سے زیادہ آبادی والا ملک اب تک بڑھے لیول کی تباہی سے بچا ہوا ہے اور اب بھی چائے کہ تمام قوم جلد از جلد اپنا ویکسین لگاوا لیں اور اس وائرس کی تباہی سے ملک وہ قوم کو بچائے اور ملک وہ قوم کی بقا میں اپنا مثبت کردار کو ادا کریں۔

    @I_MJawed

  • فری لانسنگ کی دنیا .تحریر عادل ندیم

    فری لانسنگ کی دنیا .تحریر عادل ندیم

    آج سے دھائی پہلے جب طلباء گاؤں سے شہر کا رخ کرتے تھے تو پڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کو فکر معاش بھی رھتی تھی جس کے لیے وہ ٹیوشن پڑھاتے ، ھوٹلز پر کام کرتے یا اس جیسے دوسرے مشقت والے کام کرتے۔
    جس سے ان کی پڑھائی پر بھی اثر پڑتا تھا ۔

    آج کا زمانہ بدل چکا ھے
    آج طلباء پڑھائی کے ساتھ ، فری لانسنگ سے کمائی کر رھے ھیں

    آج ھم آپ کو متعارف کروانے جا رھے ھیں فری لانسنگ سے۔
    سب سے پہلا سوال جو آپ سب کے اذھان میں آے گا کہ فری لانسنگ ھے کیا ؟

    فری لانسنگ سے مراد اپنی خدمات کو آن لائن بیچنا ھے ۔
    آپ کو کلائنٹ آرڈر دیتے ھیں کہ ھمارے کاروبار کے لیے ویب سائٹ بنا دیں ، ھمیں گرافکس بنا دیں ، کاروبار کی مارکیٹنگ کر دیں یا ھمارے ورچوئل اسسٹنٹ بن جائیں۔
    اس کے علاؤہ بے شمار ایسے کام ھیں جو آپ فری لانسر کے طور پر سر انجام دے سکتے ھیں .
    آپ اپنے گھر سے یہ کام سر انجام دیتے ھیں آپ کو آفس جانے کی ضرورت نہیں ھوتی۔
    کلائنٹس آپ کو عموماً گھنٹوں کے حساب سے ادائیگی کرتے ھیں

    Upwork, Fiverr, guru.com , Freelancer.com ,toptal & people per hour
    یہ بڑے فری لانسنگ کے پلیٹ فارمز ھیں جن پر ھزاروں کی تعداد میں پاکستانی بھی موجود ھیں اور ماہانہ اچھی خاصی آمدن کما رھے ھیں اور پاکستان میں روپے لا رھے ھیں

    فری لانسنگ کے لیے ضروری ھے کہ آپ کے پاس کوئی سکل ھو جو آپ آن لائن بیچ سکیں۔

    گرافک ڈیزائننگ، سرچ انجن آپٹیمائزیشن، ورڈ پریس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ، ایمازون ورچوئل اسسٹنٹ،ای کامرس، سوشل میڈیا مینیجر اور بے شمار سکلز ھیں جو آپ سیکھ سکتے ھیں
    اب آپ یہ سوچ رھے ھوں گے کہ یہ سکلز سیکھیں ؟
    تو پریشان نہ ھوں مختلف ادارے موجود ہیں جو یہ سکلز سکھا رھے ھیں

    E-Rozgaar , Digi Skills & Tevta
    یہ حکومتی ادارے ھیں جو مختلف سکلز فری میں سکھا رھے ھیں

    اس کے علاؤہ Extreme E-commerce & enablers
    یہ نجی ادارے ھیں جو فری اور پیڈ کورسز کروا رھے ھیں

    آپ انٹرنیشنل لرننگ پلیٹ فارمز جیسا کہ Udemy & Coursera اور دیگر پلیٹ فارمز سے بھی سکلز سیکھ سکتے ھیں۔

    فری لانسنگ کے لیے ضروری ھے کہ آپ کہ پاس ایک عدد لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر اور ایک اچھا انٹرنیٹ کنیکشن ھو۔

    آج ھی ان اداروں کی ویبسائٹس کو وزٹ کریں، اپنی پسند کی سکل سیکھیں اور اپنے فری لانسنگ کیرئیر کا آغاز کریں۔

    فری لانسنگ کی دنیا آپ کی منتظر ھے

  • خطے کی اچانک بدلتی سکیورٹی صورتحال  اور پاکستان، تحریر  : ملک علی رضا

    خطے کی اچانک بدلتی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان، تحریر : ملک علی رضا

    افغانستان سے امریکی اتحادی فوجوں کے اچانک انخلا کے بعد خطے کی موجودہ سکیورٹی حالات خاصے غیر متزلزل دیکھائی دے رہیں ۔ ایک طرف امریکہ کے بھاگ نے سے افغانستان میںطالبان کی پیش قدمیاں غیر معمولی بڑھ گئی ہیں اور متعدد علاقوں پر قبضہ بھی جما لیا گیا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے موجوہ پیش قدمیاں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں جو اب بج چُکی ہیں ۔ جن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان شامل ہے ۔
    حالیہ واقعات کے بعد ، پاکستان میں بھی خاصی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اب کی بار کیا کرنے جا رہا ہے؟ ایک طرف پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو بتا دیا کہ کسی قسم کی جنگ کے لیے پاکستان کسی بھی دوسرے ملک کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، دوسری طرف افغان طالبان نے بھی اس چیز کی یقین دہانی کروائی ہے کہ طالبان بھی افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ مہاجرین کا ہے اگر افغان طالبان اسی طرح اپنی کاروائیاں کرتے رہے تو پاکستان میں اچھی خاصی تعداد میں افغان مہاجرین آ سکتے ہیں ا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ افغان مہاجرین کی شکل میں پاکستان کے دشمن اپنے دہشت گرد بھی پاکستان میں بھیجوا سکتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی بھارت نے ایسے کام سر انجام دیے ہیں۔
    بھارت کو اس قدر خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ اس کے سارے بنے بنائے منصوبے اب مودی سرکار اور انکی ایجنسی ” را ” کو ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ کندھار کی جانب طالبان کی پیش قدمی نے بھارتی حکام کو خود اپنی ناکامی کے قریب تر ہوتے دیکھائی دے رہا ہے بھارت نے بھی بظاہر اپنے سفارتخانے کی حفاظت کے لیہے بھاری تعداد میں اپنے فوجی کابل بلوا لیے ہیں جو کہ بھاری مقدار میں فوجی ساز و سامان کے ساتھ لیس ہیں، پڑوسی ممالک اس چیز پر بھی سوالات کر رہے ہیں کہ امریکہ اور اسکے اتحادی جب امریکہ سے بھاگ رہے ہیں تو بھارت وہا ں اپنی فوجی طاقت کیوں جمع کر رہا ہے ؟
    اس تمام صورتحال میں ایک چیز جو مجھے لگ رہی ہے کہ امریکہ نے اپنے بھاگنے کے بعد بھارت کو اپنے نائب کے طور وہاں جانے کا کہا تا کہ جو کام بھارت ، پاکستان کیخلاف پہلے چپ کر ، کر رہا تھا اب وہ کام مزید تیزی کے ساتھ ہونگے تا کہ کسی طرح سے پاکستان بیک فٹ پر لایا جائے۔امریکہ بہت پہلے ہی سے بھارتی اثرو رسوخ کو افغانستان میں بڑھا چکا ہے وہ بھِی اس لالچ پر کہ بھارت افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ اور دہشت گرد کاروائیاں با آسانی کر سکے۔ امریکہ کے پیٹ میں خاصہ درد اس وجہ سے بھی ہے کہ اب کی بار پاکستان نے اسے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور وی یہی چاہے گا کہ کسی طرح سے پاکستان سے بدلہ لیا جائے، ایک فیٹف کی صورت میں پہلے ہی پاکستان پر تلوار لٹک رہی ہے وہ بھی کچھ ایسی چیز کا شاخسانہ لگتاہے کہ پاکستان اب اپنی خودمختاری کے فیصلے خود کر رہا ہے اور یورپی ممالک کی پاکستان کو کوئی ضرورت نہیں ۔
    اہم بات یہ ہے کہ یہاں افغان حکومت کا کردار بہت ہی عجیب و غریب ہے ، اشرف غنی کابینہ کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ اس معاملے پر وہ کیا کریں اور کس طرح اس معاملے کو ہینڈل کریں۔یہی وجہ سے کہ افغان حکومت کی ناقص پالیسیوں کیوجہ سے افغانستان عوام بھی خاصی پریشان ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان اوروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی افغانستان کے مسلے پر مکمل حکمت عملی کیساتھ عملی میدان میں اُترنے کی ہدایات کی ہوئی ہیں اور دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بھی نجی ٹی وی چینلز کو اپنے الگ الگ انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان کے مسلے پر پاکستان کے سکیورٹی ادارے مکمل اور کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھِی خطرے کے پیش نظر مکمل اعتماد کیساتھ ملکمی خودمختاری کی حفاظت کے انتظامات کو یقینی بنایا جائےگا، پاک فوج اور ملکی سکیورٹی کے ادارے ہمہ وقت تیار ہیں ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ نے افغانستان نے نکلنے میں بہت جلد بازی سے کام لیا جس سے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں لیکن پاکستان اس تمام صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے طور پر تمام اقدامات جاری رکھے ہوئےہے۔

    اس وقت ملک کے اند ر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا، حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قطر کا دورہ کیا اور وہاں افغان طالبان سمیت افغان حکومت اور افغانستان کے سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں قطر کے کردار بھی بات چیت ہوئی ۔ قطر نے پاکستان کی کاوشوں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔
    پاکستان کے دوسرے ممالک سے رابطے جارے ہیں اور ر قسم کے اقدامات جو ضروری ہیں وہ کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے افغان مسلے کے حل کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیتا رہا اور اس معاملے کے مکمل حل تک پاکستان کا یہی موقف رہے گا۔
    یہاں ایک بات اس یقین کیساتھ کہتا چلوں کہ جہاں امریکہ اور اسکی اتحادی فوجیں 20 سالوں میں اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی اور طاقت رکھنے کے بعد بھی اپنا اسر و رسوخ قائم نہ کر سکا اور بھاگ گیا وہاں پاکستان ان خطرات سے نمٹنے کے ہمہ وقت تیار ہے اور انشا اللہ پاکستان ہر قسم کے تمام خطرات سے باحسن طریقہ کار سے نمٹنے کا حوصلہ اور طاقت رکھتا ہے۔

  • پاکستان میں کرپشن پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے .از قلم! صاحبزادہ ملک حسنین

    پاکستان میں کرپشن پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے .از قلم! صاحبزادہ ملک حسنین

    بدعنوانی کو بین الاقوامی طور پر انگریزی زبان کا لفظ کرپشن نہیں بولا جاتا ہے کرپشن ذاتی مفاد کے لئے اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا نام ہے دنیا کے ہر دور میں بیشتر ممالک میں اس کا وجود رہا ہے سیاسی اداروں کے علاوہ حکومتوں کے سربراہوں سے لے کر معمولی درجہ کے ملازم بھی اس میں ملوث پائے جاتے ہیں پرائیویٹ اداروں اور سرکاری مالیاتی اداروں میں بھی کرپشن پائی جاتی ہے
    سیاسی اداروں میں انتخابات کے موقع پر ووٹ خریدے جاتے ہیں اور اچھے عہدے دینے کے وعدے اور خصوصی مراعات کی پیشکش انتخابات کی آزادی میں مداخلت کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں

    قانونی فیصلے کرنے والے اداروں میں بھی کرپشن عروج پر ہے وہ گفٹ کی صورت میں یا پیسے کی ادائیگی رشتہ داروں کی حمایت سماجی اثر و رسوخ آدمی عام آدمی کے حق کو ختم کر دیتے ہیں جس کو ہم سادہ زبان میں رشوت کہتے ہیں غریب کے بس کی تو بات نہیں ہے کہ وہ رشوت دے سکے لیکن پاکستان میں یہ چیز برعکس ہے امیر سے لے کر غریب تک رشوت کے دلدل میں پھنس چکے ہیں کسی بھی محکمے میں چلے جائیں رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتا سرکاری واجبات کی ادائیگی نہ کرنا بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے بینکوں سے قرضے لے کر معاف کروا لینا ٹیلی فون بجلی سوئی گیس اور پانی کے بلوں کی ادائیگی نہ کرنا ملک کی معیشت کو کمزور کرنا سیاسی کرپشن میں آتا ہے کرپشن نہ قابل علاج بیماری کی طرح انسانیت سے چمٹ گئی ہے اور اس کو روکنے کے لیے کئی دانشوروں اپنی توانائیاں صرف کر دی ہیں

    کرپشن روکنے کیلئے صرف اس کا ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کہ جو شخص کرپشن میں ملوث پایا جائے اس کو فورا برطرف کر دیا جائے اور تاحیات اس پر پابندی لگا دی جائے کہ وہ کسی بھی سرکاری یا نجی محکمہ میں کوئی نوکری یا کاروبار نہیں کر سکتا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے اگر کسی کے بچے چند روپے کما کر آتے ہیں تو ان کے والدین یا ان کی بہن یا اگر وہ شادی شدہ ہے تو یہ سوال نہیں کرتے کہ یہ پیسے کہاں سے آئے ہیں اگر پاکستان میں ہر شخص اس عمل پر عمل پیرا ہو تو لوگوں میں خوف پیدا ہوگا کہ ہم نے گھر جا کر جواب دینا ہے کہ ہم کہاں سے پیسے کما کر لائے ہیں کس طریقے سے کما کر لائے ہیں تو اس میں یہ خوف پیدا ہو گا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کرنا کیونکہ اگر میں کرتا ہوں تو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا وہ حلال رزق کمائے گا محنت کرے گا کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ میں نے گھر جا کر جواب دینا ہے اب آتے ہیں گھریلو کرپشن کی طرف وہ یہ کہ اگر ہم بچے کو سو روپے دیتے ہیں اور اس میں سے 80 روپے کا سامان آتا ہے تو وہ بقیہ 20 روپے بچہ اپنی جیب میں رکھ لیتا ہے اور وہ گھر والوں کو واپس نہیں دیتا جب وہ سامان لے کر واپس گھر آتا ہے تو بتاتا ہے کہ سامان سو روپے کا آیا ہے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ والدین اس سے سوال نہیں کرتے کہ کونسی چیز کتنے کی آئی ہے کون سی چیز کتنے کی ہے حساب نہیں کرتے یہاں سے اس کی سوچ کرپشن کی طرف جاتی ہے اور کرپشن ایک ایسی دلدل ہے جو انسان کو تمام عمر نہیں چھوڑتی کرپشن صرف بچوں کی حد تک محدود نہیں ہے کرپشن ایک عالمی مسئلہ ہے میں پاکستان کی کرپشن پر بات اس لئے کر رہا ہوں کہ دنیا میں سب سے زیادہ اگر کرپٹ لوگ ہیں یا کرپٹ سیاست دان ہیں تو وہ پاکستان میں ہیں آپ کسی بھی محکمے میں نوکری کے لیے جاتے ہیں تو بغیر رشوت کے آپ کو وہ نوکری نہیں ملتی اور اس عمل سے کتنے غریب لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں پاکستان میں کئی دہائیوں سے اس ناسوت بیماری نے اپنی جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں جس کو اگر بیان کیا جائے تو لکھتے لکھتے ورک ختم ہو جائیں ایک طالب علم پڑھائی کرتا ہے اور جتنی محنت کرنے کا حق بنتا ہے اگر وہ پڑھائی میں اتنی محنت نہیں کرتا تو یہ بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے بدقسمتی اور بدبختی اس ملک میں یہ ہے کہ آج کے اس پرفتن دور میں اگر کوئی شخص سرکاری یا نجی ہسپتال میں جاتا ہے کسی بھی ہنگامی صورت میں تو اس کو جلدی آپریشن کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے کتنی شرم کی بات ہے کہ وہ ملک جس میں آئین و قوانین رشوت لینے یا دینے کی صورت میں سزا کا حکم دیتا ہے اور دین اسلام بھی یہی حکم دیتا ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ اسی ملک میں سب سے زیادہ کرپشن ہوتی ہے پاکستان میں اگر سیاسی کرپشن ختم کر دی جائے تو تب بھی یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ اس ملک میں ہر ایک محکمہ میں کرپشن نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں پر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں چند روپوں کے عوض تعلیمی ڈگری مل جاتی ہے اور آپ یہ بھی اندازہ کر لیں کہ جس ملک میں تعلیم پیسوں میں بکتی ہو وہ ملک تباہی کے کس قدر دہانے پر پہنچ چکا ہے اگر کرپشن حقیقت میں اس ملک سے ختم کرنی ہے اس کا صرف ایک ہی واحد طریقہ ہے جو چوری کرے اس کے ہاتھ کاٹ دیا جائے ہمارا دین اسلام بھی یہی حکم دیتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے جو ادارے ہیں جو کرپشن کے خلاف کاروائی کرتے ہیں سب سے زیادہ کرپشن انہی اداروں میں پائی جاتی ہے اللہ اللہ کر کے اگر کسی کو گرفتار بھی کیا جاتا ہے تو برائے نام میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں بیان کر سکوں کے اس ملک میں کس کس ادارے میں اور کس کس جگہ کرپشن پائی جاتی ہے آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ اگر ہم اپنی ذات کا محاسبہ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو درست سمت کی طرف گامزن کرتے ہیں تو اس سے کرپشن پر قابو پایا جاسکتا ہے "کیونکہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

  • ‏ہیلتھ کارڈ خطرے میں ہے . تحریر: زمان لالہ

    ‏ہیلتھ کارڈ خطرے میں ہے . تحریر: زمان لالہ

    ہسپتال لوگ شوق سے نہیں مجبوری میں جاتے ہیں۔
    اپنے پیاروں کے علاج کے لیے جاتے ہیں اور وہاں ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔

    اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور یہ اس وقت کی سب سے بڑی حقیقت ہے آج 70 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہمارے ملک کا ایک عام آدمی تعلیم روٹی کپڑا مکان صحت اور انصاف کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے۔
    خاص کر جب ایک عام آدمی شدید بیماری اور سخت ایمرجسی میں ہسپتال پنہچتا ہے کہ اس کی جان بچا لو کہ میرے پیارے کی سانسیں چلتی رہیں اور اس کو وہاں وہ علاج نہیں ملتا اور ایک عام آدمی کے لیے یہ ایک انتہائی دردناک صورتحال ہوتی ہے اور اس درد و بے بسی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

    عمران خان جب آپ وزیر اعظم نہیں بنے تھے تب آپ بار بار تعلیم صحت اور انصاف کی بات کیا کرتے تھے۔

    آج آپ کے پاس اقتدار ہے طاقت ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ساتھ ہی بہت سے مافیاز چیلنجز  اور کرپٹ سسٹم (جو کہ کام نہیں کرے دیتا) جیسے مسائل بھی ہیں
    لیکن اس سب کے باوجود وزیراعظم عمران خان صاحب یہ آپ ہی کی ذمہداری ہے کہ قوم کو ان مسائل میں سے نکالیں۔

    وزیر اعظم صاحب ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ آپ اپنے وعدوں کو بھولے نہیں اور جیسا کہ آپ نے حال ہی میں بتایا کہ آپ چاہتے ہیں کہ جب آپ کی حکومت کے پانچ سال پورے ہوں تو آپ عوام کو تعلیم اور صحت کے مسائل سے نکال چکے ہوں۔

    ہیلتھ کارڈ کا اجرء ایک قابل تحسین اقدام ہے کہ ایک غریب ادمی کو 10 لاکھ روپے سالانہ فی خاندان ملتا ہے کہ وہ جس ہسپتال میں چاہے اچھے سے اچھا علاج کروائے اور یہ غریب آدمی کے اس خواب کی تعبیر ہے جو وہ ہمیشہ سے دیکھتا آیا۔۔۔

    لیکن۔۔۔جب وہ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو ان 10 لاکھ روپوں کی قدر اس تیزی سے گرتی ہے کہ کسی سخت بیماری کی صورت میں شائید یہ 10 لاکھ روپے بمشکل 10 دن کا خرچہ ثابت ہوتے ہیں اور اگر 10دن سے زیادہ ہسپتال میں گزرے تو پھر غریب کہاں جائے گا اور کیا ہو گا اسکے علاج کا۔

    اب کچھ ذکر سرکاری نظام صحت کا۔۔۔

    پاکستان کا موجودہ نظام صحت پاکستان کی کُل آبادی میں سے صرف 30 فیصد عوام کو سہولت مہیا کرتا ہے بقایا 70 فیصد آبادی پرائیویٹ ہسپتالوں، چھوٹے بڑے کلینک سے لے کر جعلی ڈاکٹروں اور عطائیوں کے رحم و کرم پر ہے۔
    انٹرنیشنل آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق نظام صحت میں پاکستان 195 ملکوں میں 154 پر ہے۔

    یہ ہے سرکاری نظام صحت کا حال تو یقینا پھر عوام نے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ تو کرنا ہی ہے

    پرائیویٹ ہسپتال مافیا جس میں چھوٹے بڑے ہسپتالوں سے لے کر پرائیویٹ لیبارٹیاں اور فارمیسی شامل ہیں۔
    یہ وہی پرائیویٹ مافیا ہے جس کی عوام سے لوٹ مار، بےرحمی اور شدید ظلم و زیادتی کے باعث اُس وقت کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے سو موٹو نوٹس لیا۔
    ہیومن رائٹس پٹیشن کیس نمبر 10633/2018 
    اور اس مافیا کو لگام ڈالی اور تمام تر عدالتی کاروائی اور
    پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹس کے بعد سپریم کورٹ کا تفصیلی حکم نامہ جاری ہوا جس میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کے ریٹس طے کردیئے گئے۔

    لیکن سب سے مزے مزے کی بات کہ کوئی بھی ہرائیویٹ ہسپتال سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق طے کیئے گئے ریٹس پر کام کرنے پر تیار نہیں۔

    جی ہاں۔۔۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ مانا ہی نہیں گیا اور
    نہ ہی پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن یا پبلک سروس ہیلتھ کمیشن نے اُس حکم نامے پر عملدرآمد کروانے کے لیے یا عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی کی۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی دھجیاں اُڑا دی گئیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی تعمیل نہ کر کے تمام متعلقہ ادارے اور تمام پرائیویٹ ہسپتال شدید ترین عدالتی توہین کے نہ صرف مرتکب ہوئے بلکہ دھڑلے سے توہین عدالت اس وقت بھی جاری ہے۔

    تو اب جبکہ عمران خان نے ہر ایک خاندان کو 10لاکھ روپے سالانہ علاج کی سہولت دے دی ہے تو کیا یہ رقم بےرحم پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کے لیے کافی ہے؟

    جب ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ کی طرف سے طے کئیے گئے ریٹس لاگو نہیں ہوں گے تو یہ ہیلتھ کارڈ بیچارہ کیا کرے گا؟

    ہیلتھ کارڈ کی کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف اس صورت میں ہی ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اُس عدالتی حکم نامے پر عملدرامد ہو جو پرائیویٹ ہسپتال مافیا کی لوٹ مار سے عوام کو بچانے کے لیے جاری کیا گیا۔

    نہیں تو اس دس لاکھ روپے کے ہیلتھ کارڈ کی بھی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ پرائیویٹ ہسپتال مافیا ایک بھوکے اور خونخوار مگرمچھ کی طرح منہ کھولے صرف اور صرف ہیلتھ کارڈ ہولڈر کےانتظار میں گھات لگائے بیٹھا ہے۔

    ‎@Zaman_Lalaa

  • ‏پاکستان کی نا دیدہ قوتیں. تحریر:محمد عثمان

    ‏پاکستان کی نا دیدہ قوتیں. تحریر:محمد عثمان

    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ترقی کی راہ پر دہائیوں سے گامزن ہے اور شاید آنے والی مزید ایک صدی تک ترقی پذیر ہی رہے ترقی یافتہ نہ بن پائے

    اس ملک کی ترقی و سالمیت اور بقاء اس ملک کی عوام اور اس کے اداروں سے مشروط ہے عوام کا کردار صرف الیکشن میں اپنا نمائندہ منتخب کرنا ہوتا ہے جب کہ اداروں نے اپنی حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوتی ہے

    اب الیکشن میں عوام ووٹ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں مگر پچھلی کم از کم 4 دہائیوں سے الیکٹورل پراسیس پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں

    الیکٹورل پراسیس پر انگلیاں کیوں اٹھ رہی ہیں؟ اس کے لیے کون ذمہ دار ہیں؟ کیا یہ صرف دفاعی ادارے کرتے ہیں؟ کیا افواج اس کی ذمہ دار ہے؟

    ان سب کا محرک پاکستان کا وہ ایلیٹ طبقہ ہے جو خود کو پاکستان کا مائی باپ سمجھتا ہے اور یہی وہ نا دیدہ قوتیں ہیں جو پاکستان کی حکومتی مشینری کو کنٹرول کرتی ہیں

    حکومت جب تک مفادات پر پورا اترے کھلی چھٹی اور جب نہ میں منڈھی ہلتی ہے تو پھر حکومتوں کو باور کرانا پڑتا ہے کہ تم یہاں ہمارے تابع ہو ہم جو کہیں گے وہی کرنا ہو گا

    حالیہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا معاملہ اور حکومت کا انکار دیکھ لیں

    پریشر گروپس انہیں نادیدہ قوتوں کی زیرنگرانی بنتے اور پنپتے ہیں ضرورت کے تحت استعمال کیا جاتا ہے اور جب ضرورت ختم ہو جاتی ہے تب ان پریشر گروپس کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے اور بلآخر ختم کر دیئے جاتے ہیں

    یہی نادیدہ قوتیں اپنے مفادات مقدم رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہیں کہ کون سا بندہ ہمارے لیے موزوں ترین ہے اور کون ہماری ہاں میں ہاں ملائے گا

    نواز شریف کا 50 روپے کے اسٹام پیپر پر ملک سے باہر جانا، جسٹس قاضی فائز عیسی کو کلین چٹ ملنا ، مریم نواز کا بلاجواز ضمانت پر رہا رہنا ، رانا ثناءاللہ سمیت کئی لیگی رہنماؤں کا بیوروکریٹس کو دھمکیاں دینا مگر کوئی کاروائی نہ ہونا
    یہ ہیں وہ تمام Compromise Games جو نا دیدہ قوتوں کی بدولت ہو رہی ہیں

    جب جب نظریہ ضرورت کا جنم ہوتا ہے تب تب اس ملک میں Compromise Games کا تانتا باندھا جاتا ہے ، اب تک والیم 10 کیوں پبلک نہیں ہوا؟ کیوں کہ بہت سے شرفاء کے نام پوشیدہ ہیں ، اگر نام پبلک ہوں تو بہت سے شرفاء کے کپڑے سر بازار اتر جائیں
    پاکستانی عوام بہت بھولی بھالی اور انتہا درجے کی جذباتی ہے

    عوام کو ہر دور حکومت میں انہیں نادیدہ قوتوں نے جذبات میں بہا کر اس کے پیچھے لگایا اور خود ایک طرف بیٹھ کر تماشہ دیکھا
    حکومت کی بے بسی دیکھ کر ہر ذی شعور یہ ضرور سمجھ سکتا ہے کہ حکومت کسی اور کے کنٹرول میں میں ہے

    جب تک ہم عوام یہ کنٹرول ان نادیدہ قوتوں سے چھین کر اصل حق داروں تک نہیں پہنچاتے تب تک پاکستان کی ترقی ناممکن ہے

    اللہ رحیم و کریم اس ملک کو رہتی دنیا تک آباد رکھے آمین ثمہ آمین
    ‎@one_pak_

  • (PayPal) پےپال پاکستان کیوں نہیں آرہا ہے؟

    (PayPal) پےپال پاکستان کیوں نہیں آرہا ہے؟

    ایک پارلیمانی پینل نے سکریٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کریں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ پےپال (PayPal) پاکستان میں کیوں کام نہیں کررہا ہے۔

    PayPal پے پال

    پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی ممبران نے نشاندہی کی کہ لوگ ایمیزون سے بھر پور فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں کیونکہ پے پال (PayPal) پاکستان میں کام نہیں کرتا ہے۔

    درخواست گزار نے کہا ، "ہم پاکستان میں پے پال (PayPal) چاہتے ہیں کیونکہ بہت سارے لوگ فری لانسسر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں اور ہمیں پے پال فری (PayPal) لانسنگ ویب سائٹوں سے رقم کی منتقلی کے لیِے جاہیے۔”

    کمیٹی اجلاس کے دوران اسٹیٹ بینک کے نمائندے کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پے پال (PayPal) پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ کمیٹی کو پیش کی گئی فنانس ڈویژن کی دستاویز کے مطابق ، پے پال (PayPal) ایک نجی کمپنی ہے جس کی موجودگی مختلف ممالک میں ہے۔

    تاہم ، پے پال (PayPal) نے اس کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ کسی خاص مارکیٹ میں داخل ہونا ایک کاروباری فیصلہ ہے اور اسٹیٹ بینک کا ماننا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی بین الاقوامی ادائیگی کے گیٹ وے کے داخلے / عمل پر کوئی پابندی نہیں ہے جو متعلقہ زرمبادلہ کے ضوابط کی تعمیل کرسکتی ہے۔

    News Source: Startup Pakistan

  • پاکستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ .تحریر:شعیب اسلم

    پاکستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ .تحریر:شعیب اسلم

    عالمی طاقتوں کی بھرپور سازشوں اور مخالف اقدامات کے باوجود قیامِ پاکستان ایک معجزہ ہی تھا .
    قیام کے ساتھ ہی مذہبی و سیکولر طبقات کوئی رستہ نہ پاکر اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اور انکے فروغ کے لئے متحرک ہوگئے, جس کی وجہ سے پاکستان میں دو نظریاتی انتہاؤں نے جنم لیا
    مذہبی انتہا پسندی
    لبرل اور سیکولر انتہا پسندی
    ہر دو مکاتیبِ فکر کی نظر میں اختلاف رائے رکھنے والا ملعون و مطعون ٹھہرا
    مذہب پر چونکہ ہر کوئی دسترس نہیں رکھتا, اسکے لئے وہ مخصوص طبقے کے محتاج ہیں اس لئے بہت تھوڑے تناسب کے علاوہ اس طبقے کی اکثریت
    کو اپنی تھیوکریسی انداز کی مطلق العنانیت قائم کرنے اور اپنے مفادات کے لئے مخصوص نظریات کی ترویج اور عام آدمی کو اپنے نظریات کے تابع کرنے کا بھرپور موقع مل گیا
    اس کام کو طاقت کے بغیر سرانجام نہیں دیا جاسکتا تھا تو سیاست میں نفوذ کیا گیا
    دوسری طرف سیکولر طبقہ عالمی قوتوں کا مُہرہ بنا
    پرویز ہود بھائی, شرمین عبید چنائے نے سول ایٹمی ری ایکٹرز کی مخالفت میں سندھ ہائی کورٹ سے یہ منصوبہ رکوادیا
    میڈیا کے ذریعے معاشرتی اقدار پر حملہ کیا گیا
    خاندانی نظام میں نقب زنی کی گئی
    ویڈ لاک کے بجائے آزاد تعلقات کے فروغ کیلئے ڈرامے کا رخ ہی بدل دیا
    بہنوئی کا سالی کے ساتھ ,
    سسر کا بہو کے ساتھ تعلق دکھا کر وژوئل امپیکٹ کے ذریعے سلو پوائزن نئی نسل میں انجیکٹ کیا جارہا ہے

    انتہا پسند مذہبی طبقے نے مدرسوں کے ذریعے اپنے اپنے نظریات کے پیروکاروں کی بہت بڑی کھیپ پیدا کی
    تو دوسری جانب لبرل انتہا پسند کالجز اور یونیورسٹیز کے ذریعے قوم کے مستقبل پر حملہ آور ہوئے
    آج پاکستان میں جتنی بھی معاشی, سیاسی, انتظامی اور سب سے بڑھ کر اخلاقی تباہی ہوئی ہے اسکے پیچھے یہی دو قوتیں ہیں

    اعتدال پسند , امت کو جوڑنے والے علماء اور لسانی,صوبائی اور نسلی تعصبات کی حوصلہ شکنی کرنے والے دانشور اور سیاسی رہنما ان دو انتہا پسند طبقات کے تیروں کے رخ پر ہیں.
    جب تک پاکستانی خود کو مسلکی, لسانی صوبائی حدود میں مقید رکھیں گے
    جب تک خود دین نہیں پڑھیں گے, سیکھیں گے
    جب تک نام نہاد کھوکھلی روشن خیالی, سریلے اور جوشیلے نعروں کے سحر میں جکڑے رہیں گے تب تک پاکستان کی ترقی و خوشحالی ایک دیوانے کا خواب ہی رہے گی

    ایک قدم میانہ روی کی طرف ,
    ایک قدم خود سیکھنے کی طرف ,
    ایک قدم سب سے پہلے پاکستان کی طرف ,
    ایک قدم غیر جانبدار اور کریٹیکل تھنکنگ کی طرف
    تو
    قائد کا پاکستان
    اسلام کا قلعہ بننے سے کوئی طاقت روک نہیں سکے گی

  • ماں باپ کی انا.تحریر: یاسر خان بلوچ

    ماں باپ کی انا.تحریر: یاسر خان بلوچ

    ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر ماں باپ اپنی بیٹی کیلئے جاہل،گنوار،نکما اور فضول شخص سلیکٹ کر لیتے ہیں مگر ایک اچھا ویل ایجوکیٹڈ پرسن رشتہ لے آئے اورکہے کے میں آپکی بیٹی سے محبت کرتا ہوں تو وہ اسے ریجیکٹ کر دیتے ہیں بنا کسی جواز کے اور اپنی بیٹی سے پوچھنا تک گواراہ نہیں کرتے۔
    جبکہ ان کی اپنی بیٹی بھی اسے لائیک کرتی ہو وہ اپنی ہی اولاد کی پسند کو اپنی انا کا مسلۂ بنا لیتے ہیں کہ اس نے ہماری اجازت کے بنا باہر کیوں محبت کی؟
    جبکہ دوسری طرف اسلام نے اس بات کی مخالفت کی ہے آپؑ نے فرمایا کہ اگر آپ کے گھر کوئی رشتہ آتا ہے تو اپنی بیٹی یا بیٹے سے فیصلہ کرنے سے پہلے ضرور مشورہ کرو اور اسے فل اختیار دیں کہ وہ آزادانہ طور پر اس کے بارے میں فیصلہ کرے۔اگر اسے پسند ہو تو آپ بھی پسند کریں اور اگر اسے پسند نہ ہو تو اسے مجبور نہ کریں۔
    جبکہ ہمارے ہاں یہ بات دور دور تک عمل میں نہیں ہے۔پہلے تو کوئی اپنی بیٹی سے پوچھتا نہیں اور اگر کوئی دوسرا اسے اپنی اولاد سے مشورہ کرنے کا کہے تو اسے جواب دیتے ہیں ہمارا خون ہے ہمیں پتا ہے کہ ان کیلئے کیا برا ہے اور کیا اچھا، بھلا کوئی ماں باپ بھی اپنی اولاد کا برا چاہتا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری بیٹی کو بھی ہماری پسند پر اعتراض نہیں ہوگا۔
    دوسری طرف اگر کوئی والدین اپنی بیٹی سے پوچھ لیں اور جواب میں اگر وہ اعتراض کر دے تو اسے اپنی انا بنا لیتے ہیں۔اور اس پر بدچلن کا ٹائیٹل لگا دیتے ہیں۔اس سے پورا گھر بلکہ پورا معاشرہ تک منہ موڑ لیتے ہیں۔اس بیچاری پر دباوٗ ڈالا جاتا ہے ہر کوئی اسے قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے دوست،رشتہ دار اور گھر والے سب۔
    اگر والدین اپنی بیٹی سے پوچھیں اور بیٹی انکار کر دے اور والدین بیٹی کی مان لیں تو لوگ اس لڑکی پر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اس پر گندے گندے الزام لگائے جاتے ہیں۔انجام یہ کہ اس کے والدین لوگوں کی باتوں میں آکر اپنی بیٹی کی نہیں سنتے اور بس یہ کہ دیتے بیٹا ہم مجبور تھے۔

    اپنی بیٹی کی زرا سی تکلیف پر تڑپ اُٹھنے والے بھی ایسے موقع پر ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور اپنی عزت لے کے بیٹھ جاتے۔
    المیہ یہ کہ وہ اپنی بیٹی کی پسند کو قتل کر دیتے اور وہ بھی بے دردی سے، اور اگر ان کا یہ فیصلہ غلط ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ بس نصیب!! اس کے نصیب میں ایسے تھا۔
    ہم اپنے رسم و رواج کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی زندگیاں برباد کرتے ہیں۔اسی رسم و رواج کی وجہ سے بعض لڑکیاں گھر کی دہلیز پار کر جاتی ہیں وہ اپنے والدین کو نہیں بتا سکتی کہ انہیں فلاں شخص سے محبت ہے کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے والدین اس کی پسند کو قبول نہیں کریں گے۔بعض اوقات لڑکیوں کا گھر سے قدم اُٹھانے کی وجہ ان کے گھر کا ماحول ہوتا ہے کہ اس کی اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے دل کی بات اپنے گھر والوں کو کھل کر کہ سکے۔کیونکہ ان کو ڈر ہوتا کہ کہیں ان کی جان نہ لیں لے۔

    بیٹی کا گھر کی دہلیز پار کرنے سے بہتر ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کو کھل کر سب بتا دے کہ اسے فلاں شخص سے محبت ہے۔اسے کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے کسی بھی قیمت پر اسے بتا دینا چاہیے۔ اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کی بات سنیں اور اس شخص کے بارے میں تصدیق کریں اگر اچھا لگے تو ٹھیک نہیں تو بیٹی کو آگاہ کریں نا کہ اسے اپنی انا کا مسلۂ بنا ئیں۔
    اور خدارا اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا تعلق رکھیں کہ وہ اپنے بارے کوئی بھی فیصلہ لینے لگے تو آپ کو بتائے اور اسے یقین ہو آپ اس کی بات سنیں گے اور اسے اپنی انا کا مسلۂ نہیں بنائے گے۔