Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • منشیات کا  رجحان . تحریر: محمد جاوید

    منشیات کا رجحان . تحریر: محمد جاوید

    ہمارے معاشرے میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان اور نفسیاتی مسائل کسی سنگین خطرے سے خالی نہیں.ہر روز ہم اخبارت اور شوشل میڈیا پر اس طرح کی کئی خبریں دیکھتے اور سنتے ہیں۔ منشیات کا نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو سکون کے دھوکے سے شروع ہوتی ہے اور زندگی کی بربادی پر ختم ہوجاتی ہے۔ منشیات کی لعنت صرف ہائیر تعلیمی اداروں اور ہائیر سوسائٹی میں ہی نہیں بلکہ جگہ جگہ ایک فیشن کے طور پر سامنے آرہی ہے۔گاؤں کھیڑے کے بچے بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ جس کے انتہائی مضر اثرات نمایاں نظر آرہے ہیں ۔ راہ چلتے چھوٹے بچے بھی سگریٹ کا دھواں اڑاتے دیکھائی دیتے ہیں۔
    اکثر بچے اور نوجوان والدین کی غفلت اور ان کے رویہ کی وجہ سے نشے کی عادت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ والدین اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ وقت اپنے بچوں کو بھی دیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔۔۔کہاں جاتے کس سے ملتے ہیں۔ بعض مرتبہ تو غلط صحبت ملنے سے نشے کے عادی ہوجاتے ہیں۔کئی اپنے مسائل سے ڈر کر اور کئی حقیقت سے فرار حاصل کرنے کے لئے بھی نشہ کا سہارا لیتے ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نوجوان نسل فیشن کے طور پر سگریٹ یا دیگر نشہ آور چیزوں کا استعمال شروع کرتی ہے پھر یہ فیشن یہ شوق وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت بن جاتا ہے اور اس طرح وہ شخص مکمل طور پر نشے کاعادی بن جاتا ہے۔ اورپھر اس کے دل و دماغ کو مکمل تباہ و برباد کردیتا ہے ۔ پھروہ شخص ہر وقت نشے میں مدمست رہتا ہے۔ اور اس کو پورا کرنے کے لئے ہر وہ غلط کام کرنے لگتا ہے جہاں سے پیسے حاصل کرسکے۔ اور اس طرح اچھا بھلا تندرست صحت مند انسان اپنی زندگی کو تباہی کی دہلیز پر لا کر کھڑا کرتا ہے ۔
    پوری دنیا منشیات کے خوفناک زہر کے حصار میں ہے۔ نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے لا پرواہ ہوکر تیزی کے ساتھ اس زہر کو مٹھائی سمجھ رہی ہے۔ اور کھائے جارہی ہے۔سگریٹ اور شراب پیتے ہوئے لوگوں کو دوستوں کو دیکھ کر دل مچل جاتا ہے۔جو نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے ان کی زندگی کو اندھیرے میں ڈال کر ان کی جوانی کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر رہا ہے۔
    منشیات کی عادت ایک خطرناک مرض ہے۔ یہ خود انسان کو اور اس کے گھربار کو معاشرے اور پورے ملک و قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔ اگر ایک بار کوئی نشہ کرنے کا عادی ہوجائے تو وہ پھنستا ہی جاتا ہے۔اور پھنسے کے بعد اس کے مضر اثرات کا انہیں ادراک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اس کے خلاف آواز اٹھائی جاری ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آخر کیوں؟؟؟

    منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا ہے۔منشیات کا نشہ پہلے پہل ایک شوق ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتا ہے۔ نشےکا عادی شخص درد ناک کرب میں لمحہ لمحہ مرتا ہے۔ اس کی موت صرف اس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی خوشیوں کی خواہشات کی تمناؤں کی بھی موت ہوتی ہے۔کوئی اگر نشہ کرنا شروع کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ، کوئی واقعہ، مایوسی، محرومی اور ناکامی کا کوئی پہلو ہوتا ہوگا۔پر انسان یہ کیوں نہیں سوچتا کہ مایوسی اور ناکامی کا علاج صرف نشہ کرنا نہیں۔ بلکہ نشہ انسان کی صحت کے لیے زہر ہے۔ آج کل نئے نئے فلیور میں نشہ آور چیزیں دستیاب ہوتی ہیں۔لیکن یہ نشہ انسان کی صحت خراب کرنے کے ساتھ ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔نشہ بیچنے والے دلال، لوگوں سے، قوم سے، نئی نسل سے پیسے بٹور کر ان کو تباہی کی طرف ڈھکیل دیتے ہیں۔ نسلیں تباہ ہو رہی ہے ہو جائے اُن کی بلا سے انہیں تو صرف نوٹ بٹورنے ہیں۔
    کسی بھی قوم کے لیے اصل قوت اِن کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نئی نسل کا جذبہ ہی کسی بھی قوم کو بھرپور ترقی سے ہم کنار کرتا ہے۔ کسی بھی ملک میں نئی نسل کو ملک کی بہتر خدمت کے لیے بھرپور انداز سے تیار کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔صرف معاشی ترقی کے لئے ہی ضروری نہیں ہوا کرتی بلکہ ملک کے دفاع میں بھی اس کا بھرپور کردار ہوتا ہے۔ یہ نوجوان ہی ہیں جو سرحدوں پر رات دن جاگ کر ملک کو دشمنوں سے بچاتے ہیں۔ ملک کی آزادی اور خود مختاری کا حقیقی تحفظ نئی نسل ہی کی بدولت ممکن ہو پاتا ہے۔ اگر نئی نسل متحد اور چوکس ہو تو دشمن اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ کسی بھی طور نہیں پہنا سکتا.

    لیکن آج نشے کے تاجروں کے ذریعے نئی نسل کو مختلف نشوں کی عادت میں مبتلا کرنا اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔کسی ملک کی نئی نسل منشیات کی عادی ہوجائے نتائج انتہائی خطرناک ہوجاتے ہیں۔
    ایک طرف تو دنیا بھر میں منشیات کے خلاف بھرپور مہم چلائی جارہی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا کو ہر طرح کی منشیات سے بالکل پاک کرکے نوجوانوں کو مکمل تباہی سے بچایا جائے اور دوسری طرف منشیات کا مافیا نئی نسل کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور یہ منشیات کی غیر قانونی تجارت سے کروڑوں کماتے ہیں۔ نوجوانوں کو ہیروئن، کوکین، چرس، گانجا، افیم اور نہ جانے کتنے طرح کے نشے میں مبتلا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔اور نئی نسل کا منشیات کی لَت میں مبتلا ہونا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں آگے چل کر ملک کو افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔اور سوال صرف معاشی نقصان کا نہیں ہے بلکہ نئی نسل کو منشیات کی لت میں مبتلا کرکے کسی کام کا نہ رہنے دیا جائے۔ جب نئی نسل منشیات کی عادی ہوگی تو معاشرتی خرابیاں بھی پیدا ہوں گی اور اس کے نتیجے میں پورے معاشرے میں بگاڑ پھیلے گا۔معاشرے کی بنیاد ہلانے میں اور نئی نسل کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔

  • چوراہے میں پڑا نشئی. تحریر:بشارت محمود رانا

    چوراہے میں پڑا نشئی. تحریر:بشارت محمود رانا

    انسانی معاشرتی بگاڑ میں جہاں اور بہت سی بُرائیوں کو مؤردِ اِلزام ٹھرایا جاتا ہے اُن میں سے ایک بہت بڑی بُرائی اور لعنت مختلف اقسام کی منشیات بھی ہیں جو انسانی معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں یا پھر پھیلائی گئی ہے۔

    آج میں اپنے پیارے ملک پاکستان کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اِس برائی کے خلاف آواز اُٹھانے کی اپنے تائیں بھرپور کوشش کروں گا۔

    اِس سے پہلے اسی ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کرتے ہوئے میں یہاں ایک بات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا کہ 20 جون 2021 کو میں نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پہ تھریڈ کی صورت میں “ نشہ ایک لعنت ہے” کے عنوان سے ایک ٹویٹ بھی کی تھی، جس میں میں نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب، اینٹی نارکوٹکس کنٹرول کی وفاقی منسٹری اور اینٹی ناکوٹکس فورس پاکستان کے آفیشل ہینڈلز کو بھی مینشن کرتے ہوئے اِس برائی کے خلاف کاروائی کرنے اور جو کوئی بھی منشیات کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں اُن کے خلاف سخت سزاوں کے قوانین بھی بنائے جانے کی درخواست کی تھی۔

    اور اس کے ساتھ ساتھ ٹویٹر پہ موجود بڑی ٹرینڈنگ ٹیمز کے ہیڈز کو بھی ہینڈل کے ساتھ مینشن کر کے ٹرینڈ کی صورت میں اس کے خلاف آواز اٹھانے کی درخواست بھی کی تھی تا کہ اربابِ اختیار تک آواز پہنچ سکے، جس کے بعد اِن میں سے کچھ مینشنڈ ٹیمز کی جانب سے 26 جون 2021 کو منشیات کے عالمی دن کے موقع پر ” #نشہایکلعنت ” کے نام سے ٹرینڈ بھی لانچ کیا گیا تھا، جو تقریباً دو دن تک پینل پہ موجود رہا۔ جس میں، میں نے بھی بھرپور حصہ لیا تھا۔ اُن ٹیمز اور اُس ٹرینڈ میں شامل ہونے والے سبھی عزیزان کا شکریہ

    تو اب معاشرے کے اِس ناسور کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے بات کو آگے بڑھاتے ہیں کہ

    بلاشبہ! نشہ خواہ وہ کسی بھی قسم کا ہو، جس سے انسان مدہوشی یا مستی سی کے عالم میں چلا جائے، وہ بہت سے نقصانات کا باعث ہو سکتا ہے۔ کیونکہ انسان جب نشے کی حالت میں ہو تب وہ خود پہ اپنا کنٹرول کھو بیٹھتا ہے اور پھر اِس عالمِ مدہوشی کی وجہ سے اِس کا بہت ساری دوسری معاشرتی برائیوں اور گناہوں میں پڑ جانا معمولی سی بات ہو سکتی ہے۔

    اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو تقریباً پاکستان کے ہر شہر میں آپ کو فٹ پاتھوں، چوکوں، چوراہوں، پارکوں اور بہت سی جگہوں پہ ایسے نشئی نشے میں دُھت لوگ گرے، پڑے، بیٹھے اور نشہ کرتے ہوئے نظر آئیں گے اور اکثر اوقات تو عام شہری بھی اِن کی وجہ سے پریشان ہوتے نظر آتے ہیں لیکن! اِن نشئیوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ نہ تو پولیس ہی انہیں کچھ کہتی ہے، نہ ہی کوئی اور ادارہ۔

    اور ایسے گِرے پڑے ہوئے یہ نشئی دِکھنے میں بھی کے لئے بھی عجب منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ لہذا اس کا سدباب بھی بہت ضروری ہے۔
    اور اِس میں ذرّا برابر بھی کوئی شک نہیں کہ اِس منشیات کو بیچنے کے کاروبار میں بھی بھاری منافع کمایا جاتا ہے۔ جِس میں بلاشبہ بیک ڈور پہ بڑے بڑے سیاسی کردار اور سرکاری محکموں میں موجود بہت ساری کالی بھیڑیں بھی ملوث ہوتی ہیں۔ جو اِس جان لیوا اور حرام دھندے میں صرف پیسوں کی خاطر لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ اور یہی نہیں بلکہ اگر کوئی ان کے بارے شکایت کرے تو نہ صرف اُنہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں بلکہ جہاں ضرورت پڑے ہر قسم کی طاقت کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

    جو کہ معذرت کے ساتھ ہمارے معاشرے کی چند تلخ حقیقتوں میں سے ایک ہے اور یہ بدعنوان لوگ نا صرف ہمارے پیارے ملک پاکستان کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں بلکہ اِس ملک کے عوام کے ساتھ بھی بہت بڑا ظلم اور ذیادتی کرتے ہیں۔

    اور یہ منشیات کا کاروبار اور نشہ ایک ایسی حرام لعنت ہے جس کے حرام ہونے کا ذکر خود اللہ تعالی نے بھی قرآنِ مجید میں کیا ہے جن میں سے چند آیات پیشِ خدمت ہیں کہ

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ: سورة المائدہ آیت نمبر90
    ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔

    يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ: سورة البقرہ آیت نمبر219
    ترجمہ: (اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو۔

    تو اس طرح ہمیں بطور مسلمان بھی اِن قرآنی احکامات کو دیکھتے ہوئے منشیات کے استعمال اور اِن کے کاروبار کو بھی حرام جانتے ہوئے اِس سے جتنا ہو سکے بچنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو سکے اس کے خلاف کھڑے بھی ہونا چاہیے۔

    اب میں اِن منشیات کے استعمال سے ہمارے معاشرے پہ پڑنے والے بُرے اثرات کا ذکر کروں گا وہ یہ کہ

    اگر ہم اپنے معاشرے میں اپنے اِرد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت ساری ایسی مثالیں دیکھنے کو مِلتی ہیں جن میں زیادہ تر افراد جو کسی بھی قسم کے نشے میں مبتلا ہو جائیں، وہ سب سے پہلے اپنے گھر والوں کیلئے ہی وبالِ جان بنتے ہیں پھر اپنے گلی محلے والوں کے لئے اور پھر اپنے گاؤں، قصبے یا پھر ٹاؤن کے لئے اور پھر ان میں سے کچھ تو شہر کی سطح تک لوگوں کیلئے مصیبت کا باعث بنتے ہیں۔

    جیسے کہ پہلے پہل یہ نشے کے عادی لوگ اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے کسی نہ کسی بہانے سے اپنے گھر والوں سے پیسوں کا انتظام کرتے ہیں۔ پھر جب کام ایسے نکلنا بند ہو جائے تو گھر والوں سے پیسوں کے لئے لڑائی کرنا بھی اِن کا معمول بن جاتا ہے۔

    اور پھر انہیں اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے آہستہ آہستہ اپنے ہی گھر سے پیسے چُرانے کی عادت پڑنا شروع ہو جاتی ہے، پھر اپنے گھر سے چیزیں چوری کر کے بیچنا اور اپنا نشہ پورا کرنا اور کبھی گھر والوں سے لڑائیاں، کبھی کسی سے مار پیٹ کرنا، اِن کا معمول بن جاتا ہے۔ اور یہ وقت ہوتا ہے جب ان کے گھر والے ان سے تنگ آ کر انہیں گھر سے نکال دینا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

    لیکن! تب تک اِن نشئیوں کو اس قدر نشے کی لَت لگ چکی ہوتی ہے کہ مر جانا بہتر سمجھتے ہیں مگر! اپنا نشہ کرنا نہیں چھوڑ سکتے اور پھر یہ اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے گلی محلوں میں چوریاں کرنا اور آہستہ آہستہ بڑے بڑے ڈاکے مارنے میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔ پھر اِن چوریوں اور ڈکیتیوں کے بعد یہ نشے میں عقل سے عاری لوگ بچوں اور بچیوں کو اغوا، زنا باالجبر جیسے واقعات میں بھی ملوث پائے جانے لگ جاتے ہیں۔

    الغرض! معاشرے میں پائی جانے والی ہر برائی میں ایسے لوگوں کی شمولیت عام ہو جاتی ہے۔

    اور اب آخر میں! میں گورنمنٹ آف پاکستان، صدرِ مملکت، وزیراعظم پاکستان اور باقی تمام اربابِ اختیار سے مؤدبانہ گزارش کروں گا کہ اس گمبھیر مسئلے کا لازم کوئی مستقل سدِباب کیا جائے اور منشیات کے عادی لوگوں کا اس نشے سے نجات کے لئے ان کے علاج کا کوئی مستقل انتظام اور ان منشیات کی خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت سزائیں اور قوانین بنائے جائیں تا کہ ہمارے معاشرے میں برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور ہم بطور پاکستانی ایک عزت دار قوم کے طور پر دنیا میں اپنا اعلی مقام حاصل کر سکیں۔

    واخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • "طالبان کا پس منظر اور افغانستان” .تحریر:محمد محسن

    "طالبان کا پس منظر اور افغانستان” .تحریر:محمد محسن

    عالمی جنگوں سے پہلے دنیا ملٹی پولر تھی یعنی کہ دنیا میں کوئی اک واحد سپر پاور نہ تھی۔ جیسے ہی دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو یہ ملٹی پولر دنیا بائی پولر بن گئی جس کے نتیجے میں سوویت یونین اور امریکہ دو بڑی طاقتیں نمودار ہوئیں۔ ان دونوں ممالک میں اک دوسرے پر فتح حاصل کرنے کی جنگ شروع ہو گئی۔ اس جنگ کو عرف عام میں سرد جنگ کہا جاتا ہے جو کہ تقریباً 1945 میں شروع ہوئی اور 1991 میں آ کر ختم ہوئی۔ اس سرد جنگ کے دوران ان دونوں ممالک کی سیدھی آپسی تو کوئی جنگ نہ ہوئی لیکن انہوں نے اپنے اپنے حامیوں کو اک دوسرے کے مقابلے میں خوب سپورٹ کیا۔ اس سرد جنگ کے دوران دو بڑی جنگیں ہوئیں جن میں سے ایک میں امریکہ جبکہ دوسری میں سوویت یونین کو شکست ہوئی۔ پہلی اہم جنگ تو ویتنام کی جنگ تھی جس میں سامراجیت اور اشتراکیت کی بنیاد پر دونوں نے اپنے اپنے حامیوں کی مدد کی۔ شمالی ویتنام کے چین کے ساتھ رابطے کی وجہ سے یہ خطہ اشتراکیت کی طرف مائل تھا جبکہ جنوبی ویتنام کو امریکہ سپورٹ کر رہا تھا تا کہ ان کو بھی اشتراکی نظریات میں نہ ڈھال لیا جائے۔ خیر ویتنام میں اک لمبی جنگ ہوئی جس میں امریکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب امریکہ سوویت یونین سے اپنی اس شکست کا بدلہ لینا چاہتا تھا اور موقعہ کی تلاش میں تھا کہ سوویت یونین نے اپنے اشتراکیت کے نظام کو بڑھانے کے لیے افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں جس سے امریکہ کی جان کو لالے پڑ گئے اور اس نے سوویت یونین کے نظریات کو یہاں سے اکھاڑنے کے لیے مختلف مسلمان ممالک کی مدد حاصل کی جن میں پاکستان، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات سرفہرست تھے۔ خیر ان ممالک نے دل کھول کر امریکہ کی مدد کی جس کے بدلے میں پاکستان کی طرف امداد کے منہ کھول دئیے گئے۔ عرب ممالک خود تو لڑ نہیں سکتے تھے لہذا اس سارے منظر نامے کی زمہ داری پاکستان کو دی گئی۔ پاکستان، افغانستان، سعودی عرب وغیرہ سے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا اور ان کو یہاں فوجی ٹریننگ دی گئی۔ اوپر سے پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی جس نے پاکستان میں اسلامائزیشن کی اک ایسی جزباتی تحریک چلائی جس میں مسلمان آسانی سے پھنس گئے۔ اسلام کے لیے پاکستان میں بہت کام ہوئے۔ نت نئے قوانین متعارف کراۓ گۓ اور حدود آرڈیننس وغیرہ بھی تبھی پاس ہوئے۔ پاکستان اور افغانستان کے ملحقہ بارڈر پر دینی مدارس قائم کیے گئے جن کے لیے فنڈنگ دوسرے ممالک سے آتی تھی۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ ان لڑاکا گروہ کو مجاہدین کا نام دیا گیا جن کی گوریلا کارروائیوں کی بدولت سوویت یونین کو یہاں قدم نہ جمانے دئیے گئے۔ وہ سوویت یونین جو 1979 میں افغانستان میں داخل ہوا تھا اسے 1989 میں شکست کے ساتھ واپس لوٹنا پڑا۔ اس عرصہ کے دوران جب سوویت یونین کی فوجیں یہاں افغانستان میں موجود تھیں ان کی حمایت یافتہ حکومت افغانستان میں قائم رہی۔ اب جب سوویت یونین کی افواج واپس جاچکی تھیں تو اس حکومت کا کوئی حامی نہیں تھا اس لیے لوکل افغان اس حکومت کے درپے ہو گئے۔ اگرچہ سوویت یونین واپس جا کا تھا لیکن پھر بھی اس نے افغانستان میں موجود اپنی حامی حکومت کی مدد جاری رکھی جو کہ غالباً 1989 کے بعد ڈیڑھ دو سال تک ہی قائم رہ سکی اور بعد میں اس کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس حکومت کے خاتمے کے بعد بھی افغانستان کے حالات سازگار نہیں ہو رہے تھے کیونکہ افغانستان مختلف قبائل پر مشتمل اک ملک ہے جنکی آپسی دشمنی کسی نہ کسی صورت میں جاری رہتی ہے۔ اسی کشمکش میں ان مدارس کے طلباء جو کہ سوویت یونین کی جنگ کے دوران قائم کیے گئے تھے ملاں عمر کی قیادت میں اکٹھے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان کے دور دراز کے دیہاتوں میں قابض ہو گئے۔ 1994 میں طالبان اک منظم روپ میں سامنے آئے اور ٹھیک دو سال بعد 1996 میں افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ طالبان بنیادی طور پر پشتون قبائل کے لوگوں پر مشتمل اک جماعت ہے جس میں دوسرے قبائل کے لوگ بھی شامل ہیں۔

    اس وقت افغانستان میں چار بڑے قبائل ہیں جن میں پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ شامل ہیں۔ وہ طالبان جنہوں نے 1996 میں افغانستان میں حکومت بنائی تھی آہستہ آہستہ انکی حکومت تقریباً 90 فیصد افغانستان پر پھیل گئی سوائے شمال کے علاقے کے۔ طالبان کی اس حکومت کو بین الاقوامی سطح پر کوئی پزیرائی حاصل نہیں ہوئی اور نہ اس کو کسی نے تسلیم کیا سوائے پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے۔ وہی امریکہ جن کی خاطر یہ افغان لوگ لڑے تھے اسی نے افغانستان پر پانبدیاں عائد کر دیں لیکن طالبان بھی اپنی حکومت پر بضد رہے یہاں تک کہ 9/11 کا واقعہ رونما ہو گیا۔ اس واقعہ کی زمہ داری سعودی عرب کے اسامہ بن لادن پر عائد کی گئی جو کہ ان کے مطابق اس وقت افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ پہلے طالبان نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کو دینے کی حامی بھری لیکن پھر انکار کر دیا جس کے نتیجے میں امریکہ نے افغانستان میں وار آن ٹیرر کا اعلان کر دیا۔ لہذا 2001 سے امریکہ نے افغانستان کی زمین پر قدم رکھے جو کہ بیس سال تک بڑھتے چلے گئے۔ اس عرصہ کے دوران امریکہ نے سوویت یونین کی طرح اپنی حمایت یافتہ اک کٹھ پتلی حکومت قائم کیے رکھی جس میں پہلے حامد کرزئی اور اب اشرف غنی نے بطور صدر اپنی زمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اسی سوویت حکومت کی طرح یہ حکومت بھی عوامی پزیرائی حاصل نہ کر سکی اور بڑے بڑے شہروں تک ہی محدود رہی۔ بیس سال ہزاروں فوجی مروانے اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی جب کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا تو 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کا اعلان کیا۔ فروری 2020 میں طالبان کو پیس ٹالکس کے لیے راضی کرنے کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے اپنا اپنا کردار ادا کیا اور اک معاہدہ کیا گیا کہ اب یہاں سے امریکہ اپنی افواج کو نکال لے گا تاکہ آپ لوگ افغان حکومت کے ساتھ ملکر اک حکومت بنا لو۔ صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد اس امریکی انخلاء میں اچانک تیزی آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بگرام ایئر بیس کو بھی خالی کر دیا گیا جبکہ باقی تھوڑے امریکی فوجی افغانستان میں واپس بچے ہیں۔ افغانستان میں اک بار پھر وہی خلا پیدا کر دیا گیا ہے جو کہ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد پیدا ہوا تھا۔ تب سوویت یونین کی حمایت کے باوجود افغانستان کی حکومت بمشکل تھوڑا عرصہ نکال پائی تھی لیکن اب کی بار تو معاملہ ہی الٹ ہے۔ اب تو امریکہ کو بھی افغانستان سے کوئی خاص سروکار نہیں اگر ہوتا تو ایسے اچانک تو یہاں سے نہ نکلتا۔ اب افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے اڈے مانگ رہا۔۔ اگر اتنی ہی ضرورت تھی تو پھر افغانستان سے نکل کر گیا ہی کیوں؟۔ اب دوسرے ممالک سے یہ کہہ رہا کہ ہمیں جگہ دو تا کہ ہم ان طالبان پر نظر رکھ سکیں اور عام لوگوں کی حفاظت کر سکیں۔

    اب آجائیں امریکی انخلاء کے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان پر مضمرات کی طرف۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب افغانستان میں سول وار شروع ہوئی تھی تو افغانستان سے لاکھوں مہاجرین پاکستان میں داخل ہوئے۔ تب کے پاکستانی حکمرانوں کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان پر کتنا بڑا بوجھ ڈال کر جارہے ہیں۔ تب امداد کی مد میں خزانوں کے منہ پاکستان کے لیے کھول دئیے گئے تھے جس میں کسی نے ان مجاہدین کے پاکستان میں مستقبل کے بارے میں کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا۔ اور وہ مجاہدین جن کو پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے نام پر اپنے اندر سمویا کہ ابھی ان کے ملکی حالات ٹھیک نہیں لہذا یہ کچھ عرصہ یہاں گزار کر جب ملکی حالات ٹھیک ہوں گے واپس چلے جائیں گے لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس وہ مجاہدین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ پاکستان نے انہیں مسلم برادر سمجھ کر عارضی رہائش گاہ دی لیکن وہ یہاں پکے ہو گئے بلکہ پیچھے سے اوروں کو بھی بلاتے رہے۔ اس کے علاؤہ انکی آپسی لڑائی نے پاکستان کی اکانومی کو جو نقصانات پہنچائے اس کی وجہ سے آج پاکستان کی اکانومی کا یہ حال ہے۔ اوپر سے ان کی پر تشدد کارروائیاں پاکستان میں بھی جاری ہو گئیں جن کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور ہزاروں ہی معزور اور اپاہج ہوئے۔ اب جب امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے تو پاکستان کو بھی اک ڈپلومیٹک طریقہ اختیار کرنا چاہیے نا کہ ماضی کی طرح جزباتی۔ آپ اندازہ لگا لیں کہ دنیا کا سپر پاور ملک ان جنگی اخراجات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے یہاں سے نکل رہا ہے تو ہم اک اور جنگ کا خطرہ کیسے مول لے سکتے ہیں۔ افغانستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کی آپس میں نہیں بننی اور آخر کار حالات اسی طرف جاتے نظر آرہے ہیں جو کہ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد بنے تھے کیونکہ نہ تو طالبان نے موجودہ افغان حکومت کو تسلیم کرنا اور نہ ہی سب قبائل نے طالبان کو۔ ایک بار پھر طالبان دیہی علاقوں میں ایسے ہی اپنے جھنڈے گاڑ رہے ہیں جیسے 1994 کے بعد گاڑے تھے۔ اس سارے پس منظر میں پاکستان کو افغان بارڈر پر باڑ مکمل کرنی چاہیے اور طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ نارمل سیاسی تعلقات استوار کرنے چاہیے نا کہ جزباتی کیونکہ اب پاکستان مزید مہاجرین کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

  • یاجوج ماجوج. ‏تحریر : ماریہ بلوچ

    یاجوج ماجوج. ‏تحریر : ماریہ بلوچ

    یاجوج ماجوج کوئی الگ نسل نہیں ہے بلکہ یہ قوم حضرت نوح ع کی اولاد میں سے ہے۔حضرت نوح ع کے تین بیٹے تھے۔ان میں اک یافث تھا۔یافث کے بارہ بیٹے تھے۔ان بارہ بیٹوں میں سے دو کا نام یاجوج ماجوج تھا۔ انہی دو بیٹوں کے طفیل سے اک وحشی قوم کی نسل چلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں یاجوج ماجوج کا تذکرہ آتا ہے وہاں ذوالقرنین بادشاہ بھی ذکر لازمی آتا ہے کیونکہ یاجوج ماجوج کو پہاڑوں میں ہمیشہ کے لیے بند کرنے والہ یہی بادشاہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کہا جاتا ہے کہ ذوالقرنین بادشاہ ہمیشہ حالت سفر میں ہوتے تھے ۔اک دفعہ یہ بادشاہ ایک سلطنت میں پہنچے جہاں ترک آباد تھے۔یہ سلطنت آرمینا اور آذربائیجان کے قریب واقع ہے۔وہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک قوم آباد تھی جو ترک قوم کا قتل اور بربریت کے پہاڑ توڑتی تھی۔اور اپنی شر پسندی اور فتنہ انگیزی میں بہت مشہور تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ترک قوم اس وحشی قوم سے محفوظ ہونے کے لیے ۔اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنی ساری تکلیف سے ذوالقرنین بادشاہ کو آگاہ کیا۔ بادشاہ نے تب ترک قوم اور اپنے حواریوں سے مل کر ان دو پہاڑوں کے درمیانی راستے کو بند کرنے کا قدم اٹھایا۔ذوالقرنین نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے اس راستے پر رکھ دیے پھر ان کو نظر آتش کر کے ان کے اوپر پگھلا ہوا تانبا ڈالہ پھر اک ناقابل تسخیر دیوار سامنے آئ جو اب تک اپنی طاقت و توانائ سے قائم دائم ہے۔۔

    اس دیوار کی بلندی یاجوج ماجوج کی پہنچ سے بہت دور ہے اور اسے توڑنا اور اس میں سوراخ کرنا بھی اک ناممکن کام ہے۔اب یہ قوم ہماری دنیا سے ہمیشہ کے لیے کٹ گئ ہے۔کسی کو نہیں معلوم کہ اب ان کا طرز زندگی کیا ہے۔لیکن یہ بات کنفرم ہے کہ وہ دیوار توڑنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔وہ روزانہ دیوار سے سوراخ کرتے ہیں اور جب سوراخ ہونے کو ہوتا ہے ہے تو ان کا سردار انہیں واپسی کا حکم دیتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ باقی کام کل کریں گے۔۔۔۔

    یہ بھی زبان ذد عام ہے کہ جب اس قوم کے خروج کا وقت آئے گا تو ان کی زبان سے لفظ۔۔انشاءاللہ ۔جاری ہو گا جو کہ تا حال اللہ کریم نے ان سے انشاءاللہ کی توفیق چھین رکھی ہے۔جب یہ قوم انشاءاللہ کہ کر دیوار توڑنا شروع کرے گی تو دیوار ٹوٹ جائے گی۔۔

    یاجوج ماجوج قہر بن کر نکلیں گے۔ہر طرف تباہی پھیلا دیں گے۔کسی کی جرآت نہیں ہوگی کے اس قوم کا سامنا کر سکے۔اس قوم کا جو پہلا گروہ نکلے گا اس کے سامنے پانی کی جھیل آئے گی وہ جھیل کا سارا پانی پی جائے گا ۔دوسرا گرو آ کر کہے گا کہ کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا۔یہ قوم ہر طرف خون ریزی کر دے گی ہر سمت عذاب ہی عذاب ہو گا۔ہر طرف ف کرب وبلا کا منظر ہو گا۔اک وقت آئے گا جب ساری زمین پر یاجوج ماجوج کا قبضہ ہوگا۔پھر یہ قوم یروشلم کے پہاڑ پر پہنچے گی اور کہے گی۔اب ساری زمین پر ہمارا قبضہ ہے۔پھر آسمان کی طرف تیر برسا ئے گی تیر خون آلود ہو کر واپس آئیں۔گی اس وقت حضرت عیس ع کا نزول بھی ہو چکا ہو گا۔ اور دجال قتل ہو چکا ہو گا۔

    ۔عیسی ع کو خبر دی جائے گی ۔کہ یاجوج ماجوج نکل چکے ہیں۔جس کے مقابلہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔اس طرح عیسی ع اس وحشی قوم کی یلغار میں آئیں گے۔اور ان کو شکست دینے میں ناکام ہونگے۔ہزار میں سے نو سو آدمی اس قوم کے ساتھ جڑتے جائیں گے۔ آخر کار عیسی ع ساتھیوں سمیت کوہ طور پر چلے جائیں اور یاجوج ماجوج سے چھٹکارے اور ان کے شر سے پناہ کی اللہ کریم سے دعا کریں گے۔ عیسی ع کی دعا قبول ہو گی۔

    اللہ کریم یاجوج ماجوج کی گردن پر مخصوص قسم کا کیڑا پیدا کریں۔وہ کیڑا یاجوج ماجوج کی ہلاکت کا سبب بنے گا ۔ہر طرف اس وحشی قوم کی لاشیں ہی لاشیں ہوں گی۔جو بدبو پھیلا رہی ہوں گی ۔پھر خاص قسم کے پرندے آئیں جو ان لاشوں کو وہان لے جائیں گے جہاں حکم خدا وندی ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔ . ۔۔۔۔۔۔۔۔

    یاجوج ماجوج کا قصہ تمام ہونے کے بعد۔پھر تیز بارش ہو گی۔زمین صاف شفاف ہوگی۔برکتوں کا زمانہ لوٹے گا۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوگی۔پھل اس قدر ہوں گے کہ اک انار بہت سے لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔مویشیوں کا دودھ پوری بستی کے لیے کافی ہو گا۔اس کے سات سال تک سکون رہے گا۔پھر وہ دن آن پہنچے گا۔جس کا ہمارے رب نے وعدہ کر رکھا ہے۔پھر توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا

    نوٹ : اگر تحریر میں کوئی غلطی ہوئی تو اس کے لئے پیشگی معزرت

  • مڈل کلاس پاکستانی کی زندگی، تحریر: عنقودہ

    مڈل کلاس پاکستانی کی زندگی، تحریر: عنقودہ

    ‏آپ گاڑی کسی مکینک کی ورکشاپ پر کھڑی کرجاتے ہیں لیکن باقی وقت اسی غم میں گذرجاتا ہے کہ پتہ نہیں وہ انجن کی اوورہالنگ کے 40000 میں سے کتنے پیسے لگائے گا اور کتنے اپنی جیب میں ڈالے گا، کمپوننٹ اوریجنل ڈالے گا یا نقلی کوالٹی کے ڈالے گا، سامان پرانا ڈال دے گا، یا ڈالے گا ہی نہیں۔۔
    آپ گاڑی کسی رشتہ دار کے گھر کے ساتھ گلی میں کھڑی کرجاتے ہیں لیکن ساری رات اسی ٹینشن میں گذرجاتی ہے کہ پتہ نہیں کوئ اڑا ہی نہ لے جائے، کوئ ٹائر ہی نہ کھول لے جائے۔۔
    کسی الیکٹرانک شاپ سے کوئ چیز خریدتے وقت اچھی اور بری کوالٹی کا سیاپا ہی رہتا ہے…
    شوز کی کسی شاپ سے بھی اچھے اور برے مال پر تول مول چلتا رہتا ہے…
    کپڑے لیتے وقت دکان دار سے صرف اس غرض سے دوستی بڑھائ جاتی ہے کہ کہیں وہ خراب کوالٹی کا کپڑا اچھی کوالٹی کا بول کے نہ دے دے۔۔ اس سے خوامخواہ میں ڈاک خانہ ملایا جاتا ہے، یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ہم پہلے بھی آپکی شاپ سے اتنا کپڑے لے کر گئے ہیں ، اگلی بار اور گاہک بھی لائیں گے لیکن پلیز ہمیں کپڑ ا اچھی کوالٹی کا دینا اور پیسے بھی کم لگانا۔۔۔۔
    رشتہ لیتے وقت بھی یہی ٹینشن رہتی ہے کہ پتہ نہی دوسرا فریق کتنی غلط بیانیاں کررہا ہوگا۔ لڑکی کیسی ہوگا، لڑکا کیسا ہوگا، نشہ تو نہیں کرتا۔۔ کاروبار کیا ہے؟ پہلے سے شادی شدہ تو نہیں؟ وغیرہ وغیرہ

    کہیں پلاٹ لے لیا تو اسکی ہزار دفعہ چھان بین کریں گے۔۔ سب یہی مشورہ دیں گے کہ جلدی سے پلاٹ کی نشانیاں لگا لو, چاردیواری پھیر لو ایسا نہ ہو کہ کوئ قبضہ ہی کرلے.
    مکان کرائے پر دیتے وقت کرائے دار سے بھی یہی مطالبہ ریتا ہے کہ بھائ وقت پر خالی کردینا اور قبضہ نہ کرلینا..
    مکان بنواتے وقت ہر وقت ٹھیکے دار کے سر پر کھڑا رہنا پڑتا ہے ورنہ یہی پریشانی رہتی ہے کہ پتہ نہیں وہ میٹریل کس کوالٹی کا استعمال کرتا ہوگا. شارٹ کٹ تو نہیں لے رہا..
    کوئ قریبی جاننے والا پیسے مانگ لے تو آپ پیسے ہوتے ہوئے بھی اس سے جان چھڑالیتے ہیں کیونکہ آپ کو یہی خدشہ ہوتا ہے کہ یہ میرا پچاس ہزار اگلے پانچ سالوں میں بھی نہیں لوٹائے گا، اسکے پیچھے ذلیل ہونا پڑے گا۔۔ 50 ہزار کے وہ پچاس ٹکڑے کرکے واپس کرے گا، چونیاں اٹھنیاں آپکے کام کے کسی کام نہ آئیں گی ۔۔
    ریڑھی والے کے سر پر بھی کھڑے ہوجاؤ کہ ٹماٹر اچھے ڈالنا لیکن وہ پھر بھی ڈنڈی مارجائے گا..
    قصائ سے گوشت لیتے وقت بار بار زبان ہونٹوں پر پھیری جاتی ہے کہ پتہ نہیں یہ گوشت بکرے کا ہے یا گدھے گا….
    بازار میں جاؤ تو ایک ہاتھ جیب پرہی رہتا ہے کہ کہیں کوئ پاکٹ نہ مارلے۔۔۔

    ٹرین میں سفر کررہے ہیں تو سامان پر نظر رکھنے کے لیے ایک بندے کو جاگ کر رہنا پڑتا ہے. ۔۔
    تھانے، کچہری کا چکر خدا کسی کو نہ لگوائے اور کوئ تھانے کچہری کے چکر میں پڑہی گیا تو بے گناہ ، مظلوم اور مدعی ہونے کے باوجود عزت بھی جاتی ہے، پیسہ بھی جاتا ہے اور وقت بھی۔۔
    آپ جس جس شعبہ زندگی پر نظر ڈالتے جائیں یہی کہانیاں ملیں گی.. میں یہ نہیں کہتی کہ سب لوگ ایک جسے ہیں لیکن یہ تناسب 80 اور 20 کا رہتا ہی ہے
    ایک مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس پاکستانی اس چکی میں ہمشہ پستا ہی رہتا ہے
    ہمارا مجموعی معاشرہ بھی اسی منافقت. مفاد پرستی. لالچ ,جھوٹ اور بے حسی پر مشتمل ہے جبکہ ہر دوسرا آدمی ان باتوں کا گلہ بھی کرتا ہے اور خود ہی ا ن خرابیوں میں حصہ دار بھی ہوتا ہے۔“

  • حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ.تحریر: مزمل مسعود دیو

    حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ.تحریر: مزمل مسعود دیو

    بلال تجھ پر نثار جاؤں کہ خود نبی نے تجھے خریدا
    نصیب ھو تونصیب ایسا غلام ھو تو غلا م ایسا

    آپ کا پیدائشی نام بلال، کنیت ابوعبداللہ تھی۔ والد کا نام رباح اوروالدہ کانام حمامہ تھا، آپ حبشی نژاد غلام تھے اور آپ کی پیدائش مکہ ہی میں پیدا ہوئے، بنی جمح کے غلام تھے۔ آپ کا قد نہایت طویل، جسم چست، رنگ نہایت گندم گوں بلکہ سیاہی مائل، سر کے بال نہایت گھنے خمدار اور اکثر سفید تھے۔

    حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب صرف سات آدمیوں کو اس کے اعلان کی توفیق ہوئی تھی جس کی وجہ سے طرح طرح کے مظالم سے ان کے استقلال واستقامت کی آزمائش ہوئی، کبھی تپتی ہوئی ریت پر ننگے بدن لٹایا گیا تو کبھی جلتے ہوئے سنگریزوں اوردہکتے ہوئے انگاروں پر لٹائے گئے۔ ابوجہل ان کو منہ کے بل سنگریزوں پر لٹا کر اوپر سے پتھر کی چکی رکھ دیتا اورجب آفتاب کی تمازت بیقرار کردیتی تو کہتا، بلال اب بھی محمد ﷺ کے خدا سے بازآجا لیکن اس وقت بھی دہن مبارک سے یہی کلمہ احد احد نکلتا۔

    ایک دن بلال کو ایسی ہی اذیتیں دی جا رہی تھیں کہ ادھر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گذر ہوااور حضرت بلال کی قسمت کا ستارہ چمک گیا۔ آپ سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ پر یہ ظلم برداشت نہ کرسکے۔ لہذا سیدنا ابوبکر سے کہا کہ وہ بلال کو اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر نے امیہ بن خلف کو بلال کی منہ مانگی قیمت ادا کرکے خریدا، پھر آزاد کر دیا۔ ایک روایت کے مطابق یہ قیمت ایک کلو سے زائد چاندی تھی۔اس آزادی کے بعد پھر حضرت بلال نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در کی غلامی کرلی اور اتنا اعلی مقام پایا کہ اللہ کے حبیب نے کہا کہ جب میں معراج پر گیا تو میں نے بلال کے قدموں کی آہٹ جنت میں سنی۔جب ہجرت ہوئی تو مکہ سے نبی پاک کے ساتھ مدینہ چلے گئے۔

    حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ تمام مشہور غزوات میں شریک تھے، غزوۂ بدر میں انہوں نے امیہ کو تہِہ تیغ کیا جو اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اورخود ان کی ایذارسانی میں بھی اس کا ہاتھ سب سے پیش پیش تھا۔

    اسلام کے پہلے مُؤذن کا اعزاز بھی حضرت بلال کے پاس ہے۔حضرت بلال سب سے پہلے شخص ہیں جو اذان دینے پر مامور ہوئے۔سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھانے پینے کا انتظام بلال کے سپرد ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ایک بار حضرت عمر کے اصرار پر جب بیت المقدس فتح کیا تو اذان کہی۔ اس روز اذان میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام آیا تو غش کھا کر گر پڑے۔ حضرت بلال کی آواز نہایت بلند وبالا ودلکش تھی، ان کی ایک صدا توحید کے متوالوں تک پہنچتی، مرد اپنا کاروبار، اوربچے کھیل کود چھوڑ کرمسجد میں جمع ہوجاتے تو نہایت ادب کے ساتھ آستانہ نبوت پر کھڑے ہوکر کہتے یارسول اللہ نماز تیار ہے، غرض آپ تشریف لاتے اوربلال اقامت کہتے اہل ایمان سربسجود ہونے کے لیے صف بصف کھڑے ہو جاتے۔
    فتح مکہ کے دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال سے کہا کہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہوکر اذان پڑھو۔ حضرت بلال نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منہ کس طرف کروں تو
    نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جدھر جدھر میں جاؤں تم بھی اسی طرف گھوم جانا اس طرح اذان مکمل کی۔

    نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پردہ پوشی کے بعد شام کے شہر حلب چلے گئے، کہتے تھے اب مدینہ میں دل نہیں لگتا۔ ایک رات خواب میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ نے فرمایا بلال ایسی بھی کیا بے رخی ہمیں ملنے کیوں نہیں آتے۔ صبح ہوتے ہی شہر نبی کی جانب روانہ ہو گئے جونہی حضرت بلال کی اونٹنی مدینہ شریف داخل ہوئی شہر بھر میں شور مچ گیا مؤذن رسول آگئے۔ آپ سیدھے قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گئے لپٹ کر زارو قطار روئے اور کہنے لگے یارسول اللہ میں آگیا۔
    نماز کاوقت ہوا تو صحابہ نے اصرار کیا کہ اذان دیں تو آپ نے منع کردیا آخرکار حسنین کریمین کے اصرار پر راضی ہوئے اور اذان شروع کی۔ حضرت بلال نے اللہ اکبر کہا تو مدینہ شریف میں کہرام مچ گیا لوگ گلیوں میں روتے ہوئے مسجد نبوی کی جانب چلنے لگے۔ جب اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو منبر رسول کی جانب نگاہ کی ۔ منبر رسول خالی دیکھا تو غش کھا کر گر گئے۔ یہ حضرت بلال کی زندگی کی آخری اذان تھی۔

    کہتے ہیں کہ جب آپکے وصال کا وقت قریب آیا تو نئے کپڑے سلوائے اور سرمہ لگایا۔ لوگوں نے پوچھا آج کیا بات ہے تو کہنے لگے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کا وقت جو آگیا ہے۔ 20 محرم سن 20 ہجری کو یہ ماہتاب عشق نبوی غروب ہوگیا۔دمشق کے محلہ باب الصغیر میں آپ ؓ نے وفات پائی، اس وقت عمر تقریبا تریسٹھ برس تھی۔ آپ کا مزار دمشق میں ہے۔

  • ‏عالمی مفادات اور پاکستان .تحریر:محمد عثمان

    ‏عالمی مفادات اور پاکستان .تحریر:محمد عثمان

    295 سی پاکستان کے آئین کا حصہ ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کو اس کے آئین میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی
    یہ مکمل طور پر پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اس پر کسی دوسرے کو قرار داد لانے کی ضرورت نہیں ہے
    کیا کبھی پاکستان نے بھی دوسرے ممالک کے قوانین میں دخل اندازی کی ہے؟
    یہ حق صرف دوسرے ممالک کو ہے کہ صرف اور صرف پاکستان کو نشانے پر رکھنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے
    پاکستان ایک خود مختار اور آزاد ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ نیوکلیئر پاور اسلامی ملک ہے جہاں کا نظام حکومت پارلیمانی جمہوری نظام ہے
    جہاں اقلیتی نمائندگی اور اقلیتی آزادی اپنے پورے جوبن سے چکا چوند ہے، اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی اور تحفظ ہے کسی قسم کا کسی بھی اقلیت پر کوئی دباو نہیں
    ان سب عوامل کے باوجود پاکستان سے ایسا برتاو کیوں

    چند وجوہات:
    موجودہ حالات میں پاکستانی معیشت کے اعشاریے مثبت
    ٹیکس نیٹ ورک سے اکانومی بہتری کی طرف گامزن ہے
    پاکستان کی برآمدات میں بڑھتی ہوئی مانگ
    پاکستانی قیادت کا سالہا سال کی بیرونی غلامی سے نجات کا عزم
    اسلامو فوبیا پر پاکستان کا سٹینڈ
    فیٹف FATF کی شرائط و ضوابط کے مطابق پاکستان کی سمت درستی کی جانب مخصوص انداز
    مسلم ممالک کے اتحاد و اتفاق کی علمبرداری
    مغرب سمیت تمام اندرونی اور بیرونی دشمنان کو یہ سب ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا ایسے میں چند شر پسندوں کو تخریب کاری کا موقع ملا اور مغرب کو پاکستان پر چڑھ دوڑنے کا موقع ہاتھ لگ گیا
    مغرب سمیت تمام اقوام عالم صرف پاکستان کے پیچھے ہی کیوں پڑی ہیں
    اگر پاکستان مضبوط اور مستحکم ریاست بن گیا تو نیوکلیئر پاور کا حامل اسلامی ملک پوری دنیا میں اسلام کی سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا اور ہماری اجارہ داری ختم ہو جائے گی
    امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور فرانس جیسے ممالک پاکستان کو مقروض رکھ کر اپنے زیرنگیں رکھنا چاہتے ہیں
    تاکہ مفادات کی جنگ میں جب چاہیں پاکستان کو استعمال کرتے رہیں
    بحثیت پاکستانی ہمیں پاکستان کے وسیع تر مفادات کی خاطر اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات اور سیاسی و مذہبی وابستگیوں کو ترک کر کے وطن کی سلامتی کے لیے سوچنا ہو گا
    وطن ہو گا تو ہم سیاست کر سکیں گے، وطن ہو گا تو ہم خود کو منوا سکیں گے
    اللہ کریم اس ملک کی حفاظت فرمائے آمین ثمہ آمین
    از
    محمد عثمان

  • تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ؟تحریر: محمد اکرم

    تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ؟تحریر: محمد اکرم

    وہ شخصیات تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ہوتی ہیں جن کے بارے میں کوئی غلط بات منسوب کر کے اس کی اتنی تشہیر کی جائے کہ وہ قبولِ عام کا درجہ حاصل کر لے۔
    اگرچہ مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی عمومی وجہ شہرت یہی ہے کہ وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمشیرہ محترمہ ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران قائداعظمؒ کا دل و جان سے بھرپور ساتھ دیا مگر انہوں تاریخ برصغیر اور پھر پاکستان میں اپنے عظیم بھائی کے شانہ بشانہ خود بھی ایک بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی بھابھی محترمہ رتی بائی (مریم جناح) کی ناگہانی وفات کی وجہ سے اپنے عظیم بھائی کو پہنچنے والے شدید صدمے کے دوران انہیں سنبھالا دیا جس کے بغیر شاید وہ تاریخ کا دھارا نہ موڑ سکتے۔ دنیا کے نقشے پر وہ اسلامی مملکت منصہ شہود پر نہ ابھرتی جس کا 14 اگست 1947ء سے پہلے وجود بھی نہ تھا۔

    انگریز سامراج، کانگرس اور نیشلسٹ مسلمانوں کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان کے قیام کا معجزہ رونما ہوا۔ بدقسمتی سے قائداعظمؒ جلد ہی جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ شہید ملت خان لیاقت علی خان کو ایک افغان نے لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کر دیا۔

    ایک نوزائیدہ مملکت کے لیے یہ جھٹکے قابل برداشت نہ تھے۔ قوم پے در پے دو عظیم صدمات سے دوچار ہوئی۔ سیاسی استحکام کی جگہ نظام سیاست میں جوڑ توڑ اور محلاتی سازشیں پروان چڑھنے لگیں۔ قصہ مختصر ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا۔ بنیادی جمہوریتوں کا نظام نافذ ہوا۔ صدارتی انتخابات ہوئے تو حزب اختلاف میں شامل قیام پاکستان کے بدترین مخالفین خان عبدالغفار خان و دیگر نے کمال ہوشیاری سے مادر ملت فاطمہ جناحؒ کو جنرل ایوب خان کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کی الیکشن مہم کے انچارج بنائے گئے جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران مادر ملت کی شخصیت پر انتہائی نازیبا ریمارکس دیے جن کا تذکرہ بھی مادر ملتؒ کی توہین ہے۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں غلام دستگیر خان نے مادرملتؒ کے خلاف جو توہین آمیز حرکت کی، اس کا تصور کر کے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ دھاندلی کے الزامات لگے، صدارتی انتخابات متنازع قرار پائے مگر جنرل ایوب خان صدر منتخب ہو گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ بےمثال اقتصادی ترقی ہوئی۔ بڑے ڈیم تعمیر ہوئے۔ جشن ترقی بھی منایا گیا مگر مشرقی پاکستان میں سیاسی محرومیوں کا لاوہ سلگتا رہا جس میں مادر ملتؒ کی شکست کے صدمے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ پھر حزبِ اختلاف متحرک ہوئی۔ عوام کے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جس کے پیش نظر صدر ایوب خان مستعفی ہو گئے۔ زمامِ اقتدار جنرل یحیٰ خان نے سنبھال لی۔ ون یونٹ سسٹم ختم ہوا۔ عام انتخابات ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے کلین سویپ کیا۔ مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی سرخرو ہوئی۔ جمہوری اصولوں کے مطابق اقتدار اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کا حق بنتا تھا جسے تسلیم نہ کیا گیا۔ اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگایا گیا۔ ملک دو لخت ہو گیا۔ قوم خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو گئی۔

    پھر ایک اور سانحہ رونما ہوا۔ کہا گیا کہ جنرل ایوب خان نے مادر ملت فاطمہ جناحؒ کو غدار قرار دیا تھا۔ سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے عوام میں فوج کے خلاف غم و غصہ عروج پر تھا۔ کسی نے بھی تحقیق کی کوشش نہ کی کہ اس الزام کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ کن اخبارات میں یہ بات رپورٹ ہوئی۔ تاریخ نویسی کے اصولوں پر پوری اترنی والی تاریخی شہادتیں کیا ہیں؟ اس کسوٹی پر کسی نے بھی الزام کو پرکھنے کی کوشش ہی نہ کی۔ بس بات منہ سے نکلی پرائی ہوئی کا قصہ ہوا۔ بات کو غلط العام کا درجہ حاصل ہو گیا۔ فوج سے نفرت کرنے والے عناصر نے اس الزام کو دہرانا ایک فیشن بنا لیا۔

    راقم الحروف نے جب تحقیق شروع کی تو دنگ رہ گیا کہ ناقدین کے پاس اس الزام کا کوئی تاریخی حوالہ اور ثبوت موجود نہیں جس میں جنرل ایوب خان نے مادرملت کو غدار قرار دیا ہو۔ صرف ٹائم میگزین میں یہ بات ملی کہ ایوب خان نے مادرملت کو پرو امریکن اور پرو انڈین قرار دیا مگر اس میں بھی یہ بات نہ ملی کہ ایوب خان نے مادرملت فاطمہ جناحؒ کو غدار (ٹریٹر) قرار دیا ہو۔ میں نے ایک معروف صحافی اور اس الزام کی تکرار کرنے والے دیگر مصنفین کو بار بار چیلنج کیا کہ کوئی تاریخی حوالہ پیش کریں بصورت دیگر قوم کی ماں پر بلاثبوت تہمت مت لگائیں کہ کوئی اولاد اپنی ہی ماں پر کبھی تہمت نہیں لگاتی۔ ایوب خان میں سینکڑوں خامیاں ہوں گی۔ ان سے اظہار نفرت کے لیے ان خامیوں پر تنقید کے ہزاروں زہریلے تیروں کی بارش کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں میدان کھلا ہے مگر جنرل ایوب خان کے بغض میں مادرملت فاطمہ جناحؒ پر تہمت طرازی کسی کو زیب نہیں دیتی۔ یہ تاریخ کے ساتھ بددیانتی ہے۔ یہ امر تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ اگر یہ بات تاریخ نویسی کے اصولوں کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی کہ جنرل ایوب خان نے مادر ملتؒ کو غدار قرار دیا تھا تو اگر اس بات کا دہرانا مادر ملتؒ پر تہمت قرار پائے گا تو یہ جنرل ایوب پر بھی بہتان ہو گا۔ یہ تاریخ پر کیسا ظلم ہے کہ ایوب خان پر بہتان لگا کر مادر ملت پر تہمت لگاؤ۔ ایک ہی تیر سے دو شخصیات کو گھائل کرو۔ کیسا کمال ہنر ہے کہ اس بات کی اتنی تکرار کرو کہ اگر ردعمل میں عوام کسی کے اقوال و افعال کو غداری کے زمرے میں شمار کریں تو وہ فخر سے کہے کہ ایوب خان نے مادر ملت کو بھی غدار قرار دیا تھا، لہذا اگر اسے بھی غدار قرار دیا جا رہا ہے تو یہ اس کے لیے فخر کی بات ہے۔ پس اب زمانے کا چلن یہ ہو گیا ہے کہ اس غیرمصدقہ الزام کی آڑ میں اب جو دل میں آئے کسی ثبوت کے بغیر بولیں۔ کسی تاریخی حوالے کے بغیر لکھیں۔ اگر ناقدین تاریخی حوالہ جات نہ دینے پر غدار کہیں تو خود کو مادرملت فاطمہ جناحؒ کا پیروکار قرار دے دیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اس توہین آمیز صورتحال میں مادر ملتؒ اور قائداعظمؒ کی ارواح جس کرب سے انگاروں پر لوٹتی ہوں گی، اس کا تصور بھی محال ہے۔

  • مملکت خداد پاکستان . تحریر:فیصل خان

    مملکت خداد پاکستان . تحریر:فیصل خان

    دنیا میں اس وقت دو سو سے زائد ممالک ہیں۔ جن میں سے کچھ ترقی پذیر اور کچھ ترقی یافتہ ہیں۔ ان میں سے ایک ملک ایسا بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے روس سے کم از کم دس گنا چھوٹا ہے، آبادی کے لحاظ سے چائنہ، انڈیا سے چھ گنا چھوٹا لیکن جس کا نہری نظام روس کے نہری نظام سے تین گنا بڑا ہے۔
    یہ ملک دنیا میں مٹر کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے، خوبانی، کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سےچوتھے،
    پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے،
    دنیا کی سب سے مہنگا ترین خشک میوہ چلغوزے کی پیداوار میں دوسرے نمبر پر،
    (چترال اور وزیرستان)
    آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں،
    چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں،
    گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں
    اور مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ہے۔
    یہ ملک مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں نمبر پر ہے۔ اسکی صرف گندم کی پیداوار پورے براعظم افریقہ کی پیداوار سے زائد اور برِ اعظم جنوبی امریکہ کی پیداوار کے برابر ہے۔ یہ ملک دنیا میں صنعتی پیداوار کے لحاظ سے پچپنویں نمبر پر ہے۔ کوئلے کے زخائر کے اعتبار سے چوتھے اور تانبے کے زخائر کے اعتبار سے ساتویں نمبر پر ہے۔ سی این جی کے استعمال میں اول نمبر پر ہے۔ اسکے گیس کے زخائر ایشیا میں چھٹے نمبر پر ہیں اور یہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے۔

    لیکن۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔لیکن

    سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ملک کرپٹ، چور اور لٹیرے سیاستدانوں کی پیداوار میں ایک نمبر پر ہے
    وہ اسلئے کہ ملک پچھلے 30 سالوں سے چوروں کے شکنجے میں رہا
    ملک کو تباہ کرکے اپنے کاروباروں کو وسعت دی
    ملک گروی رکھ کر بیرون ملک جائیداد بنائی
    ملک میں روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر اپنے بچوں کو انگلینڈ شفٹ کروائے
    اپنے خاندان والو کو اعلی اعلی منسبوں پر فائز کروائے
    ملک کو غیروں کا مرکز بنایا
    خق و سچ بات کرنے والو کا گلہ دبایا
    اور جس نے ملک کی فلاح چاہا اسے غدار اور ایجنٹ کہا۔

    اور آج اس ملک کا حال یو چھوڑ کر گئے ہے کہ ملک کا حزانہ خالی ہے
    ملک آئی ایم ایف کو گروی دیا ہے
    قرضوں میں جکڑا ہوا ہے
    معیشت ڈوب گئی ہے
    لوگ غربت سے مر رہے ہے
    عدالتوں سے غریب کیلئے قانون اور امیر کیلئے ریلیف مل رہے ہے

    اور یہ ہے
    مملکتِ خداداد” پــــــاکـــــــــــستان ”

  • پاکستان میں تعلیم ،تحریر ! صاحبزادہ ملک حسنین

    پاکستان میں تعلیم ،تحریر ! صاحبزادہ ملک حسنین

    تعلیم انفرادی و اجتماعی طور پر سب کے لیے نہایت اہم ہے تعلیم معاشرے کو بہترین شہری پڑھے لکھے نوجوان اور معاشرے کو باشعور کرتی ہے تعلیم ہر قوم کی بنیاد ہوتی ہے تعلیم ایک اچھا انسان بننے میں مدد دیتی ہے انفرادی طور پر کسی بھی ملک کا تعلیم یافتہ ہونا ملکی استحکام اور ترقی کے لئے بہت ضروری ہے جس سے وہ ملک ترقی کرتا ہمارے دن اسلام نے مسلمانوں پر تعلیم فرض کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی اہمیت اس قدر بیان کی ہے کہ "علم عبادت سے افضل ہے”
    تحریک پاکستان سے قبل برصغیر میں سرسید احمد خان نے تعلیم کے لئے جو اقدامات کیے آج ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں ایک سکول کو کالج اور یونیورسٹی تک لے گئے اگر اس وقت مسلمان ایسی اعلی کاوشیں کر سکتے ہیں تو آج ہم اس آزاد ملک میں کیوں نہیں کر سکتے

    ہماری آزادی کو 73 گزر چکے ہیں مگر آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے کیا اچھا کیا اور کیا برا کیا کبھی ہم پکے مسلمان بننے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی مغربی ممالک کی نقالی کرتے نظر آتے ہیں یہ یہ بات صرف رہن سہن کی حد تک نہیں ہمارا تعلیمی نظام بھی اس سے نہیں بچ سکا ہرسال بدلتے تعلیمی نصاب نے ہمارے تعلیمی نظام کو مکمل تباہ کر دیا ہے ہم تو آج تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہمارے تعلیمی نظام کی زبان اردو ہونی چاہیے یا انگریزی ملک کا حال یہ ہے کہ ہماری قومی زبان اردو ہونے کے باوجود ہم لوگ انگریزی کو پسند کرتے ہیں تعلیمی نظام میں بھی انگریزی کو پسند کیا جاتا ہے آخر کون سی احساس کمتری ہے جو ہمیں ہماری قومی زبان اردو سے دور کر رہی ہے دنیا میں جتنی بھی قوموں نے ترقی کی ہے وہ اپنی قومی زبان میں کی ہے

    مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارا تعلیمی نصاب امریکا اور یورپ کا ہی مرہون منت رہا ہے ہمارے مصنفین نے جو بھی اردو میں کتابیں لکھی ہیں ان کو ترقی یافتہ ممالک میں لکھی گئی کتابوں کا ترجمہ کہہ سکتے ہیں جو کتابیں ہمارے مصنفین نے انگریزی میں لکھی ہیں ان کو ترقی یافتہ ممالک میں لکھی گئی کتابوں کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں جب سے نجی اسکولوں اور اور کالجوں کا رواج پڑا ہے تب سے کتابیں بھی انہی مصنفین کی پڑھائی جاتی ہیں جو یورپین یا امریکن سکولوں کالجوں میں پڑھائی جاتی ہیں
    قوموں کی ترقی کا دارومدار کتابیں پڑھ لینے یا ڈگریاں حاصل کرنے میں نہیں ہے کہا جاتا ہے کہ گریجویٹ اسمبلی بن جانے سے ہمارا سیاسی کلچر تبدیل ہو جائے گا اکثر ہمیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ پڑھے لکھے لوگ آگے آئیں گے تو یہ ملک ترقی کرے گا مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان ہر محکمے میں پڑھے لکھے افراد موجود ہیں جن کی تعلیمی قابلیت ایم فل یا پی ایچ ڈی ہے مگر پھر بھی ملک ترقی نہیں کر رہا ہے تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں جن کا ذکر ہمیں کتابوں میں ملتا ہے

    مگر "پاکستان میں حقیقت اس چیز کے بالکل برعکس ہے یہاں طلبہ کو تعلیم نہیں ڈگریاں دی جاتی ہیں”
    پاکستان میں ہزاروں گورنمنٹ کالج اور سکول قائم ہیں جن میں نہ جانے کتنے زمین پر اور کتنے کاغذوں پر موجود ہیں لیکن ہزاروں کالجوں اور سکولوں کے باوجود لوگ بنیادی تعلیم سے محروم ہیں تعلیم مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہے لوگوں میں اس کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے "بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کو کاروبار سمجھا جاتا ہے اور لاکھوں نہیں کروڑوں کمائے جاتے ہیں ”
    دنیا کے وہ 26ممالک جو پاکستان سے بھی زیادہ غریب ہیں مگر تعلیم پر پاکستان سے زیادہ خرچ کرتے ہیں مگر ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بجٹ میں سے صرف 2 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ ہمیں سکولوں اور کالجوں کی خستہ حالت کی صورت میں نظر آتا ہے جو چند لوگ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ سرکاری اداروں کے بجائے نجی اداروں کو فوقیت دیتے ہیں

    تعلیم کے لیے مختص کیا گیا 2 فیصد بجٹ بھی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے ” پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے بھی زیادہ بچے غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جا پاتے ہم اس وجہ سے بھی تعلیم میں دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں کہ ہمارے حکمران تعلیم پر توجہ نہیں دیتے اگر پاکستان میں نظام تعلیم بہتر کرنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں تعلیمی بجٹ بڑھانا ہوگا اور اپنا تعلیمی نصاب درست کرنا ہوگا اور تعلیم کے لیے ان اساتذہ کا انتخاب کرنا ہوگا جو نئی نسل کی ذہنی صلاحیت سے واقف ہوں اور ان کے تعلیمی تقاضوں کو پورا کر سکیں اور اس کا بہترین ذریعہ ہے وہ طلباء ہیں جو حال ہی میں تعلیم حاصل کرکے فارغ ہوئے ہو (یعنی نوجوان اساتذہ )وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز تبدیل ہوئی ہے تو لازما” ایجوکیشن کے طور طریقے اور تقاضے بھی تبدیل ہوئے ہیں انہیں وہ اساتذہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں جو چند سال قبل ہی تعلیم سے فارغ ہوئے ہوں حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے لئے تمام عملی اقدامات بروئے کار لائے اور پورے ملک میں ایک ہی نظام تعلیم ہو۔