Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اڑان .تحریر: ‏حمیرا الیاس

    اڑان .تحریر: ‏حمیرا الیاس

    وہ روز صبح ہی صبح اڑان بھرتی، اور اپنی چونچ میں کچھ نا کچھ بھر کر لاتی ریتی،تب تک جب تک بچوں کی بھوک ختم نا ہو جاتی،اور وہ خاموش نا ہو جاتے
    اور میں روزانہ یہ اڑان دیکھتی
    پھر ایک دن کیا ہوا کہ صبح دم کی چہل پہل میرے روشن دان میں ختم ہو چکی تھی۔ اور وہاں بس خاموشی کا راج تھا۔ چڑیا کے بچے اڑنا سیکھ چکے تھے، اور وہ گھونسلا چھوڑ کر اڑ گئے۔ چڑیا بھی دوبارہ نظر ناآئی، کافی دن انتظار کر کے گھونسلہ ادھر سے ہٹادیا۔ تھوڑے دن گزرے تھے کہ ہماری کام والی واویلا کرتی آن موجود ہوئی، امی کے سامنے بیٹھےروئے جائے، پانی کھانا،چائے پینے کے بعد کچھ ڈھارس بندھی تو پتا چلا کہ بیٹے کی نوکری دوسرے شہر میں ہو گئی، بہت اچھی تنخواہ مل رہی اب ماں کے لئے اس گھر کو چھوڑنا اپنے محلے داروں رشتے داروں سے دور رہنا ممکن نہیں ہو رہا، اور وہ زور دے رہی تھی کہ کوئی اس کے بیٹے کو سمجھائے اپنے شہر سے دور نوکری نا کرے۔
    اور وہ رات اس سوچ میں گزری کہ ماں تو ماں ہے، وہ کیوں اتنا کچھ کرتی، وہ کسی پرندے کی ہو یا انسان کی،خود سے بڑھ کر اپنی اولاد کو دیتی۔ ہر سکھ کے لئے بار بار اڑان بھرتی۔ اندر باہر کے چکر کاٹتی۔

    لیکن کیاوجہ ہے کہ چڑیا اپنے بچوں کو گھونسلے سے اڑان بھرنا سکھاتی!!!
    جبکہ ہمارے معاشرہ کی ماں اسے اڑان سکھانے کے بجائے خود خوفزدہ اور غیر محفوظ ہوجاتی!!!
    کیوں؟؟
    بہت سی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہم پہلے سے ہی یہ سوچ کر بچے پیدا کرتے کہ یہ ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہوںگے۔

    ہجرت ہر پیغمبر کی نسبت سے ہمارے لئے سنت ہے، لیکن ہم ہجرت کے نام سے ہی خوفزدہ ہونے لگتے۔ ہم گھروندے بنا کر انہی میں اپنی وابستگیاں اتنی گہری لگاتے کہ ان کے ٹوٹ جانے سے ڈرنے لگتے۔
    یہی خوف بڑھ کر ہمارے بچوں کے اوپر ہر وقت پروں کی چھایا کئے رکھنے کی ترغیب دیتا، ہم ان کی پرواز سے ڈر جاتے کہ کہیں کچھ گزند نا پہنچے، اور یوں ان کی اونچی اڑان کی راہ میں ہم خود رکاوٹ بن جاتے

    کیا ایسے ہم اس چڑیا سے زیادہ بے بس اور کمزور نا ہوئے؟ جس نے اپنی اولاد کو پرواز کرنا سکھایا، آر آزاد کر دیا کہ کاؤ، اس دنیا میں گھومو، پھرو اور اللہ کی تسبیح بیان کرو۔
    ہمارے معاشرہ میں ہر جگہ پر محدود سوچ کی بنیادی وجہ ہمارا اپنے بچوں کو یہ ترغیب دینے سے کوتاہی ہی ہے۔
    ذمہ داری بحیثیت والدین یا اساتذہ یہی ہے کہ ہم انہیں اڑان بھرنا سکھائیں اور جب وہ آزادانہ رہنے کے قابل ہو جائیں تو انہیں اپنی زندگی کو جی کر دیکھنے دیں۔

    ہاں ایک انسان اور چڑیا میں اتنا فرق ضرور ہے، کہ والدین اپنی اولاد کی کونسلنگ اور حوصلہ افزائی دونوں کے لئے ان کے پیچھے موجود رہیں تاکہ ان کے پروں کی سمت صرف اونچی پرواز ہی کی طرف اشارہ کرے، بس یہی ایک طریقہ ہو سکتا اسوقت گرتی معاشرتی اقدار کو سہارا دینے اور واپس اوج ثریا کو پانے کا۔

    @humerafs


  • Bobswiffey is a Freelance Journalist on Baaghitv. He is associated with us from 14 june 2021 and have 3 publications .To find out more about him please visit his Twitter

     

    The rest of Bobswiffey Articles and Twitter Timeline


    https://twitter.com/Bobswiffey

     

  • ‏گھریلوتشدد بل کے نام پرآزاد خیال معاشرے کا قیام  .تحریر:عنقودہ

    ‏گھریلوتشدد بل کے نام پرآزاد خیال معاشرے کا قیام .تحریر:عنقودہ

    گھریلو تشدد بل سینٹ سے منظور ہوکر آئینِ پاکستان کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک خوشنما نام لیکن اس کے مندرجات دیکھیں تو یوں لگے گا کہ جیسے کسی سیکولر / لبرل مغربی فنڈڈ این جی او نے اپنا منشور ہی آئین پاکستان کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ خاندانی نظام، خونی رشتوں اور خصوصاً والدین اور اولاد، میاں بیوی کے درمیان تعلقات، خانگی زندگی کی بنیادیں ہلا کے رکھ دے گا۔

    آئیے پہلے اس کے چیدہ چیدہ پوائنٹس دیکھتے ہیں۔ ان کی گہرائی میں جانا، مستقبل کی تصویر سوچنا آپ پر ہے۔

    گھریلو تشدد بل کے اہم نقاط یہ درج ذیل ہیں.
    🔥والدین کا اپنے بچوں کی پرائیویسی، آزادی میں حائل ہونا جرم ہوگا
    🔥اولاد کے بارے میں ناگوار بات کرنا / شک کا اظہار کرنا بھی جرم ہوگا
    🔥معاشی تشدد یعنی کسی بھی قسم کے اختلاف، نافرمانی، کسی بھی وجہ سے بچے کا خرچہ کم یا بند نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ جرم ہوگا، اس پر سزا ملے گی
    🔥جذباتی / نفسیاتی اور زبانی ہراسمینٹ کی اصطلاحات متعارف کرائی گئیں ہیں، یعنی کسی بھی بات کو ہراسمنٹ قرار دے سکتے ہیں
    🔥خاوند کا دوسری شادی کا کہنا، خواہش کا اظہار کرنا جرم ہو گا، اسے گھریلو تشدد قرار دیا گیا ہے۔
    🔥طلاق کی بات کرنا بھی جرم، جس کی سزا ہوگی، اسی طرح کوئی غصے والی بات، اونچی آواز میں بولنا، کوئی بھی ایسا جملہ جو کہ جذباتی، نفسیاتی یا زبانی اذیت کا باعث بنے وہ جرم تصور ہوگا
    🔥اگر باپ نے مندرجہ بالا "جرائم” میں سے کوئی ایک سرزد کیا تو بطور سزا وہ اپنے گھر نہیں جاسکتا، اسے اولاد سے "محفوظ” فاصلے پر رہنا ہوگا۔ جی پی ایس کڑا پہننا ہوگا۔ کسی شیلٹر ہوم / یا تھانے میں سزا کاٹنی ہوگی
    🔥کم سے کم 6 ماہ جبکہ 3 سال تک سزا سنائی جاسکتی ہے۔ ایک لاکھ تک جرمانہ بھی ہوگا، اگر جرمانہ نہ دیا تو مزید 3 سال قید
    🔥اس میں ساتھ دینے والے کو بھی برابر کی قید ہوگی، یعنی ماں اور باپ دونوں مجرم بنیں گے😨

    اس بل کو بجٹ اجلاس میں انتہائی عجلت میں منظور کیا گیا، تمام سیاسی جماعتوں نے حق میں ووٹ دیا، جبکہ صرف چند مذھبی جماعتوں نے محض علامتی طور پر مخالفت کی۔
    صحافی اوریا مقبول جان کے مطابق اب تو والدین اس قدر قانون کے شکنجے میں ہوں گے کہ اگر بیٹا آوارہ پھرتا ہے ، نشہ استعمال کرتا ہے ، کسی بھی اخلاقی جرم میں مبتلا ہوتا ہے تو والدین اس کو روک نہیں سکیں گے ، اسی طرح بیٹی ، بیٹے کی ” آزادی ” اور پرائیویسی میں دخل دینا قابل سزا جرم بنا دیا گیا ہے ۔ یہ تو جیسے عورت مارچ کا ایجنڈا پاکستانی قانون بن گیا ہے ، مہر گڑھ ، الف اعلان ، عورت فاؤنڈیشن وغیرہ جیسی این جی اوز ایسے قوانین منظور کراتی ہیں ۔ معاشرے کے سنجیدہ حلقوں کو احساس تک نہیں کہ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ چند طاقتور این جی اوز کس طرح ملکی آئین میں اپنا ایجنڈا شامل کر رہی ہیں ۔

    والدین کو مجرم بناکر پیش کرنا ایک ایجنڈا ہے ۔ اس کے کئی مقاصد ہیں ۔ جب ان قوانین کے تحت والدین جیلوں میں جائیں گے تو باقی رہ جانے والے اولاد پیدا کرنے کے بارے بھی سوچیں گے ۔ نوجوان شادی کے بندھن سے آزادی چاہیں گے ۔ اگر شادی ہو بھی گئی تو گھریلو زندگی ان قوانین کے شکنجے میں رہے گی ۔ اولاد ہوئی تو اس کے ہاتھوں جیل کی ہوا کھانے کا ڈر ہو گا ۔ کون یہ ذمہ داریاں نبھائے گا ۔ پھر وہی تصور جو عورت مارچ کے نعرے ہیں ۔ ذرا ان کو یاد کر لیں ۔ شادی کے بغیر زندگی ، گھر سنبھالنے سے انکار ، میرا جسم میری مرضی کے تحت اولاد سے انکار ، طلاق کی آسانی اور اس کو خوشنما بنا دینا ۔

    مغربی معاشرت کی ایک جھلک کا تصور کریں
    اس کے خاندانی نظام پر انتہائی گمراہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔یہ ایک مخصوص ایجنڈا ہے جس کے مقاصد بڑے واضح ہیں ۔اسی کے تحت شادی کی عمر بڑھانے، دوسری شادی کو مشکل بلکہ ناممکن بنانے ۔ طلاق کو قابل تعریف اور آسان بنانا۔ حدود آرڈیننس ، مردوں کو کڑے پہنانے کے قوانین، غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قوانین کورٹ میرج کی آسانی، خواجہ سراؤں کے تحفظ ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل کے قوانین میں سے کچھ بن چکے ہیں باقی پر کام جاری ہے ۔

    ماروی سرمد جو ببانگ دہل کہتی ہے کہ یہ ملک سیکولر ہو کر رہے گا تو ایویں نہیں کہتی
    کیونکہ اسے فنانسرز کی طاقت ، دولت اور ایجنڈے کا علم ہے وہ انہی کیساتھ ملکر کام کرتی ہے ۔
    ان کو اپنے ایجنڈے کا پورا اندازہ ہے اور کام خاموشی سے جاری ہے.

  • پاکستان اور ہم .تحریر: سجاد علی

    پاکستان اور ہم .تحریر: سجاد علی

    پاکستان کو بنانے کی خواہش لے کر لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان، مال، اولاد، جائیداد غرض ہر اُس چیز کی قربانی دی جو ہر نوعِ انسان کی اول خواہش ہوتی ہے. ان بےانتہا قربانیوں کے بعد ہم نے اپنا وطن تو حاصل کر لیا مگر کیا ہم نے ان قربانیوں کا جائزہ لیا جو ہمارے آباؤ اجداد نے دیں؟
    کیا ہم نے تحریکِ آزادی کے ان پہلوؤں کو دیکھا جن سے گزرتے ہوۓ مسلمان بچے یتیم ہوگئے، ماؤں کی گود اجڑ گئی، بیٹیوں کے سروں سے دوپٹے اتر گئے، بہنوں کے سروں پر ہاتھ رکھنے والے بھائی نذر آتش ہوگئے؟
    کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ انگریز کے علاوہ کون لوگ تھے جو انگریز سے وفاداری کر کے اپنے ہی مسلمانوں پر گھات لگا کر قتلِ عام کرتے تھے؟
    چلیے ہم آج یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اتنا سب کچھ کیسے کھویا اور جن لوگوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کرتے ہوئے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ان کے بچے آج کدھر ہیں.
    ہم محب وطن لوگ ماں کی گود سے دو سبق لیکر پیدا ہوتے ہیں، پہلا ﷲ پر ایمان اور دوسرا وطن کی محبت.
    ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ حق کی خاطر اپنے وطن کا دفاع خون کے آخری قطرے اور آخری سانس تک کرتے رہنا ہے اور ہماری اسی بات کو ان لوگوں کی اولادیں کمزوری سمجھتی ہیں جنہوں نے پاکستان بننے کی نا صرف مخالفت کی بلکہ ہمارے اسلاف کا قتلِ عام بھی کیا.
    آج ہم سب کو اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ جن لوگوں نے تحریک آزادی میں تن من دھن کی بازی لگائی وہ لوگ اور ان کے خاندان پسا ہوا طبقہ کیونکر ہیں اور جن لوگوں نے انگریزوں کی غلامی کی وہ پاکستان پر حکمرانی کیسے کر رہے ہیں اور کیسے کر سکتے ہیں.
    ہمیشہ سے مغرب کی خواہش رہی ہے کہ دنیا کے ہر خطے خصوصاً مسلمانوں کے خطے پر بالواسط یا بلا واسطہ اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا جائے تاکہ مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روکا جائے.
    انگریز نے تحریک آزادی کے خلاف جن مسلمانوں کو استعمال کیا پاکستان بننے کے بعد انہیں لوگوں کے بچوں کو بھی اپنے ایجینٹ کے طور پر استعمال کیا اور کر رہے ہیں.

    میرے عزیز ہموطنوں اگر ہم آج یہ تہیہ کرلیں کہ ہم نے انگریزوں کے جاسوسوں کی اولادوں کو ووٹ دیکر اسمبلی تک نہیں لانا تو پاکستان اور ہماری ان لوگوں سے جان چھوٹ سکتی ہے مگر مگر مگر!!!! یہ تب ہی ہوگا جب ہم ایک قوم اور پاکستانی بن کر سوچیں گے.
    میں جانتا ہوں کہ آپ لوگوں بشمول میرے یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا کہ اپنے حلقے کے بااثر افراد کو چھوڑ کر ایک غیر معروف شخصیت کو ووٹ دینا لیکن اگر ہم یہ کر گزرتے ہیں تو یقین جانیں ہماری نسلیں ہمارا شکریہ ضرور ادا کریں گی بالکل اسی طرح جس طرح ہم تحریکِ آزادی کے ہیروز کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے قربانیاں دیکر ہمیں ایک آزاد فضا میں سانس لینے کے قابل بنایا.
    بقول عمران خان کے "خدا اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود بدلنے کیلئے محنت نہیں کرتی”
    میرے عزیز پاکستانیوں آج ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم اپنی نئی نسل سے آنکھیں چرانے کی بجائے ان کی دعائیں لیں اور صرف چند سالوں کیلیے خود کو قربانی کیلیے پیش کریں تاکہ پاکستان کی حالت بدلے. ہماری حالت بدلے.
    ہم ایسے لوگ چنیں جو ہم سے ہوں نا کہ ایسے لوگ جن کے ساتھ سو سو گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہو اور اس قافلہ سے ہمیں اپنا نمائندہ ڈھونڈنے میں عمریں بیت جائیں.
    یقین جانیے پاکستانیوں اگر ہم نے ایسا کر لیا تو قیامت کے روز ہمارے نبی ﷺ آگے بڑھ کر ہمارا استقبال کریں گے کہ یہ ہیں میری امت کے وہ لوگ جنہوں نے غیر مسلموں کے تسلط سے مسلم خطے کو نکال کر اسلام کا جھنڈا سر بلند کیا.
    آئیں آج آپ اور میں ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم نے ایک ہو کر ملک دشمن عناصر کو شکستِ فاش دینی ہے.

    دلوں میں حُبِ وطن ہے اگر تو ایک رہو
    نکھارنا یہ چمن ہے _ اگر تو ایک رہو

    پاکستان زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

  • افغان امن عمل .ازقلم: فیصل فرحان

    افغان امن عمل .ازقلم: فیصل فرحان

    کہانی آج سے بیس سال پہلے سے شروع ہوتی ہے جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ نے افغانستان میں ط الب ان کی حکومت کا تختہ الٹا تو اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہوئے۔ اس خطے میں افغانستان کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔
    جن میں 5 ہزار سکیورٹی اہلکار، 70 ہزار معصوم لوگ شہید اور تقریباً 100 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔
    پر امن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ کیونکہ پاکستان پہلے سے تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ سے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کیا۔ چاہے وہ دوہا قطر میں ہونے والے امر یکہ طا لبان امن مذاکرات ہوں یا پھر ڈیورنڈ لائن پر طورخم سے لیکر چمن تک سرحد پر باڑ لگانا ہوں۔

    اب چونکہ ام ر یکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور افغانستان چھوڑنا پڑا لیکن امر یکہ کا شاطرانہ اور مداخلتی پالیسی جوکہ شاید ان کو فرانسیسیوں اور انگریزوں سے ورثے میں ملی ہے کہ وہ کسی بھی جگہ کو آسانی سے نہیں چھوڑتا بلکہ کسی نہ کسی ٹول کے ذریعے اپنی مداخلت جاری رکھتا ہے۔
    اس لیے امریکہ کا افغانستان سے مکمل طور پر انخلاء کے بعد اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اڈے دینا کا مطالبہ کیا گیا۔ آج کے جدید اصطلاح میں اس کو (Drone Treatment) کہا جاتا ہے جس میں UAVS کو استعمال کر کے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکی سرزمین سے باہر جنگ لڑی جاتی ہے جس میں امریکہ کا نہ تو کوئی فوجی مرتا ہے اور نہ کوئی اور نقصان۔

    اس سلسلے میں پاکستانی ریاست نے "Absolutely Not” کا انتہائی واضح اور
    دو ٹوک موقف دے کر مزید کسی بھی جنگ کا متحمل نہ ہونے کا واضح پیغام دے دیا۔
    پاکستان کا یہ موقف انتہائی خوش آئند اور ہمارے غیرت و حمیت کے عین مطابق ہے۔
    پاکستان کے اس دو ٹوک اور غیر متوقع سٹانس کے بعد امریکہ اور اس کے خوار دوست پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرینگے۔
    جن میں ہائبرڈ وار، انفارمیشن وار انسرجنسی اور مختلف قسم کے کانسپریسی تھیوریز کے ذریعے عوام کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسایا جائے گا۔ میڈیا کو استعمال کیا جائے گا مذہبی اور مختلف لسانی جماعتوں کو استعمال کیا جائے گا۔
    ہماری قوم نے بہت سی قربانیاں دیے کر اس پاک چمن کا امن دوبارہ بحال کیا ہے۔ اور اب یہ ہم سب کی ذمّہ داری ہے کہ سوشل میڈیا پر ہم ریاست کے اس بہادرانہ اور دلیرانہ موقف اور فیصلوں کا ہر صورت دفاع کریں۔ اور ریاستی اداروں کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرکے اغیار کے سازشوں کو ناکام بنائیں۔
    اللہ تعالیٰ مملکت پاکستان اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

  • مصطفیٰ کمال، امیدوں کی کرن،تحریر : ثاقب شیخ

    مصطفیٰ کمال، امیدوں کی کرن،تحریر : ثاقب شیخ

    جو لوگ آج یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ مصطفیٰ کمال واپس ایم کیو ایم میں چلے جائیں گے آئے ان پر تھوڑی نظر اس پر ڈالی جائے

    چھ سال پہلے وہ لوگ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ 2 لوگ آتو گئے ہیں لیکن یہ خیابان سحر سے باہر نہیں آسکتے

    آج اَلْحَمْدُلِلّٰه رب نے خیابان سحر کے گھر سے نکال کر دنیا بھر میں پھیلا دیا آج جہاں جہاں پاکستانی ہیں، وہاں پاک سرزمین پارٹی بھی موجود ہے

    2018 کے الیکشن کے بعد لوگوں نے یہ بھی افواہ پھیلائی کہ مصطفیٰ کمال پارٹی ختم کرکے دبئی واپس چلیں جائیں گے اور پھر وقت نے ثابت کردیا

    حالیہ طوفانی بارشوں میں پی ایس پی فاؤنڈیشن کے تحت پاک سرزمین کارکنان کی انتھک محنت نے پورے کراچی میں یہ بات ثابت کردی کہ آج اللّه تعالی نے پاک سرزمین پارٹی کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کردیا ہے

    انشاء اللّه حسد کرنے والے کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے ظالموں کے مقدر میں ہمیشہ ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں

    بیشک جھوٹوں پر اللّه کی لعنت ہوتی ہے

  • فرقہ واریت مسلم دنیا بمقابلہ باقی دنیا. تحریر:حسان خان

    فرقہ واریت مسلم دنیا بمقابلہ باقی دنیا. تحریر:حسان خان

    کوئی بھی بڑا بین الاقوامی اخبار کھولیں تو مسلم ورلڈ والے سیکشن میں آپکو یمن ، شام ، عراق ، لبنان ، لیبیاء کی تباہی اور وہاں کی کٹھ پتلی حکومتوں کے آنے جانے کی خبریں ہی ملتی رہتی ہیں۔ امریکہ بہادر کی خاص "مہربانیوں” کے علاوہ جس چیز نے ان ممالک کی تباہی س بربادی میں اہم کردار ادا کیا وہ ہے ان ممالک میں فرقہ واریت کی بناء پر ایران اور سعودیہ عرب کی پرسکسی جنگ۔ ایران اور سعودیہ عرب کی اس پراکسی جنگ نے مسلم دنیا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا یے۔ ایک چھوٹی سی مثال لے لیتے ہیں یمن میں ایران حوثی باغیوں کی امداد کرتا ہے اور سعودیہ ان باغیوں پر بم گراتا ہے مگر ان دونوں کے چکر میں تباہ یمن ہو رہا ہے مر عام مسلمان رہے ہیں اور کچھ دہائیوں پہلے تک ایک خوشحال ملک آج پتھر کے زمانے میں پہنچ چکا ہے۔ ایسی خبریں پڑھنے کے بعد ذہن میں سوال ضرور اٹھتا ہے کیا اسلام کے علاوہ دنیا کے کسی اور مزہب میں فرقے نہیں ہوتے ؟ اگر ہوتے ہیں تو کیا وہ بھی اسی طرح اپنے ہم مذہبوں کی تباہی و بربادی کا سامان مہیا کرتے ہیں ؟؟ آج ہم انہی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرینگے
    عیسائیت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مزہب ہے اور اس کے پیروکاروں کی تعداد لگ بھگ دو ارب اڑتیس کروڑ سے زائد ہے اور 15 ممالک کا سرکاری مذہب ہے۔ عیسائیت کے دس فرقے ہیں جن کے بنیادی عقائد میں ایک دوسرے سے اختلاف ہیں اور ان میں زبانی گولہ باری بھی ہوتی رہتی ہے مگر عیسائی دنیا میں مذہب کی بناء پر ایک دوسرے کا قتل اور فرقہ وارانہ فسادات نہیں دیکھے جاتے اور ناں ہی ایک فرقہ دوسروں کے ساتھ کسی قسم کی پراکسی وار میں الجھا ہوا یے۔ اٹلی میں کیتھولک عیسائیت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے جبکہ رومانیہ میں اسکے مخالف فرقے آرتھوڈوکس عیسائیت ماننے والوں کی اکثریت ہے مگر آپ کبھی نہیں سنیں گے ان دونوں فرقے والوں نے یورپ کے کسی ملک کو میدان جنگ بنایا ہوا ہو اور اس ملک میں اپنے فرقے والوں کی حکومت لانے کیلئے وہاں جنگ چھڑوا دی ہو
    اسی طرح یہودیت ہے اس کے چار بڑے فرقے ہیں مگر جب بھی کہیں یہودیت بمقابلہ باقی دنیا ہو تو بنیادی اختلافات کے باوجود سارے یہودی متحد ہو جاتے ہیں تو سوال یہ ہے مسلمان ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟؟

    ایران نے پوری القدس فورس بںا رکھی ہے جسکا مقصد بتایا جاتا ہے کہ یہ ملک سے باہر ایرانی مفادات کا تحفظ کرتی یے جبکہ حقیقت یہ ہے اس تنظیم کے زریعے ایران ہمسائیوں ممالک میں اپنے فراقے اور پسند کی حکومت بنانے کی جستجو میں مصروف ہے اسی مقصد کیلئے ایران نے لبنان میں حزب اللہ کو کھڑا کیا ، یمن میں حوثی باغیوں کی کھل کر حمایت کر رہا ہے اسی طرح سعودیہ عرب اپنے پسند کے گروہوں پر کھل تک ڈالروں اور ریالوں کی برسات کرتا رہتا ہے تاکہ اسکی ہم نظریہ حکومت قائم کی جا سکے۔ شام میں ایران بشار الاسد کا خاص اتحادی ہے جبکہ سعودیہ شامی حکومت کے خلاف مختلف ملشیاء کو جدید ہتھیار فراہم کر کے جنگ کی آگ کو مزید بھڑکا رہا ہے نیز یہ تمام عرب ممالک ایران اور سعودیہ کی سرد جنگ کا میدان جنگ بنایا ہوا ہے۔ ایرانی رکن پارلیمنٹ عصمت اللہ فلاحتفی شاہ کے مطابق ایران صرف شام میں اپنی پراکسی وار پر 30 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ سعودیہ عرب نے جتنا پیسہ بہایا اسکا کوئی حساب ہی نہیں۔
    پاکستان میں بھی فرقہ وارانہ فسادات اور اپنے نظریات کی ترویج کیلئے دونوں ممالک نے اپنی اپنی پسند کی تنظیموں پر سرمایہ کاری کی جس کی وجہ سے پاکستان دہائیوں تک ان فسادات کی لپیٹ میں رہا اور آج تک ان فسادات اور نفرتوں کی سائے سے نکل نہیں سکا۔ ایران اور سعودیہ عرب مسلم دنیا کے امریکہ اور سویت یونین بن چکے ہیں جنکی آپسی پراکسی جنگوں نے کئی برادر اسلامی ممالک کو تباہ کر دیا ہے جس طرح امریکہ اور سابقہ سویت یونین کی سرد جنگوں نے کوریا ، ویت نام اور افغانستان سمیت کئی ملکوں میں جنگیں برپا کیے رکھیں آپ غور کریں جو ممالک ان دونوں کے حصار سے دور ہیں وہاں کوئی بدامنی فتنہ فساد نہیں ہے۔ ملائیشیا ، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش ایران و سعودیہ سے دور الگ تھلگ ہیں وہاں پر ان دونوں ممالک کی آپسی جنگ نہیں چھڑی ہوئی وہاں پر امن و سکون ہے۔

    جس دن ان دونوں ممالک نے اپنے قدرتی وسائل کا استعمال جنگیں چھیڑنے کی بجائے اپنی قوم اور ملک کی بہتری پر خرچ کرنا شروع کیا اس دن اسلامی دنیا میں سکون آ جائے گا

  • قصور کس کا؟ از قلم: فیصل فرحان

    قصور کس کا؟ از قلم: فیصل فرحان

    پاکستان میں روز ظلم و بربریت کی نئی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہے۔ کبھی خبر سننے کو ملتی ہے کہ فلا امیر زادے نے فلا عورت کے ساتھ ریپ کر دیا فلا وڈیرے نے فلا غریب کو سرعام قتل کر دیا۔ اور یہ سارے واقعات چوری چھپے نہیں ہو رہے بلکہ سرعام ہزاروں گواہوں کے سامنے بلکہ ویڈیوز تک موجود ہوتی ہے لیکن ان سب ثبوتوں کے باوجود یہ درندے چند مہینوں بعد آزاد کیسے ہو جاتے ہے؟ یقینً ہمارے ذہن میں پہلا سوال عدلیہ کا آتا ہے لیکن اکیلی عدلیہ ان سب کی قصور وار نہیں ہے۔ سب سے بڑا قصور تو ہمارے غیر مکمل اور کالے قانون کا ہے۔ ہمارا ملکی آئین خود چوروں اور لٹیروں کو آزادی دیتا ہے پھر عدلیہ کیسے سزا دے؟؟ آپ سب کو بلوچستان والا واقعہ یاد ہوگا جس میں ایک پولیس والے کو بلوچستان کے وڈیرے نے ڈیوٹی کے دوران گاڑی سے کچل دیا اور اس کیس کا سب سے اہم ثبوت ویڈیو تھی جس میں صاف نظر آرہا تھا لیکن اس وڈیرے نے اس شہید پولیس والے کی فیملی کو ڈرا دھمکا کر دیت کا نام دے کر کیس معاف کروا لیا اور پکا ثبوت ہونے کے باوجود باعزت بری ہوگیا۔ اسی طرح کشمالہ طارق کے بیٹے والا کیس بھی یاد ہوگا جس میں کئی گھروں کے چراغ بجھا کر ان کو ڈرا دھمکا کر دیت دے کر کیس معاف کروا لیا ۔

    یاد رکھیں اسلام نے دیت والی حد صرف اس کیلیے رکھی جس سے غلطی ہو جائے یا جھگڑے میں قتل ہو جائے اسلام ہرگز کسی ظالم یا بدمعاش کی دیت قبول نہیں کرتا بلکہ اسے کڑی سے کڑی سزا دیتا ہے لیکن ہمارے ملک میں سسٹم الٹا ہے یہاں پر ہر امیر اور بدمعاش کی دیت قبول کر لی جاتی ہے جو کہ ہمارے قانون میں شامل ہے۔ اب خود بتاو یہاں پر عدلیہ کیا کرے؟ جب قانون خود راستہ دے رہا ہو۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے ججز بہت پارسا ہے یقینًا بہت سے ججز کرپٹ ہے جو بڑی بڑی پارٹیوں سے پیسے لے کر فیصلہ کرتے ہے لیکن وہ ججز بھی قانون کا استعمال کر کے ہی ظالموں کو رہا کرتے ہے اسلیے آج تک کسی جج کو کوئی افف تک نہیں کر سکا کیونکہ سارا پراسس قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ اسلیے اگر ہمیں ملک میں ظلم اور نا انصافی کو ختم کرنا ہے تو ہنگامی بنیادو پر لاء ریفارمز کرنی ہوگی اور سخت شقیں شامل کرنی ہونگی تاکہ ہر ظالم اور چور کو کڑی سے کڑی سزا ہوسکے اور پھر کوئی جج چاہ کر بھی دونمبری نہیں کر سکے گا اگر کرے گا تو پکڑا جائے گا۔ انصاف کسی بھی معاشرے کیلیے سب سے اہم جز ہے۔ نبی کریمؐ نے پورانی اقوام کی تباہی کا یہی سبب بتایا کہ وہ لوگ غریب کو سزا دیتے تھے اور امیر کو چھوڑ دیے تھے جیسا آجکل ہمارے ملک میں ہورہا ہے۔

    امام علیؓ کا قول ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن انصافی کا نظام کبھی نہیں چل سکتا اور یہی پاکستان کی پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اگر پاکستان کو بہترین ملک بنانا ہے تو سب سے پہلے نئے قانون بنائے جائے اور ہر قانون کو مکمل سٹڈی کے بعد پاس کیا جائے تاکہ کسی قسم کی جھول باقی نہ رہے پھر ان شا اللہ جلد ہمارا ملک عظیم اقوام میں شامل ہوگا

  • شاہینوں کا شہر سرگودھا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    شاہینوں کا شہر سرگودھا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    1904 میں ایک انگریز عورت کے ہاتھوں نو آبادیاتی نظام کے تحت آباد کیا جانے والا پاکستان کا پہلا شہر سرگودھا ہے اسکے بعد اسلام آباد اور فیصل آباد بنائے گئے۔
    شہر کے درمیان میں ایک مارکیٹ ہے جسے گول چوک مارکیٹ کہا جاتا ہے اسکے اندر ایک خوبصورت مسجد بھی ہے۔ کہتے ہیں اسی جگہ ایک تالاب ہوا کرتا تھا جسکے کنارے ایک گھر تھا ۔ ہندو جو اس تالاب کا مالک تھا اسکا نام “گودھا” تھا اور تالاب کو فارسی میں “سر” کہتے ہیں تو اسی مناسبت سے اس کا نام سرگودھا رکھا گیا۔
    اپنے محلے وقوع کے اعتبار سے سرگودھا خاص اہمیت کا حامل شہر ہے۔ 5800 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان میں واقع سرگودھا کو ڈویژن کا درجہ حاصل ہے اور موجودہ ڈویژن میں 6 تحصیلیں بھلوال، بھیرہ، کوٹمومن، سرگودھا، سلانوالی، شاہ پور شامل ہیں۔ کل آبادی تقریبا 270000 دو لاکھ ستر ہزار ہے۔
    تعلیمی میدان میں سرگودھا کا لٹریسی ریٹ تقریبا 80% ہے جبکہ پورے ملک میں 30%۔ تعلیمی اداروں میں سرفہرست سرگودھا یونیورسٹی ،اس کے علاوہ ائیربیس کالج، میڈیکلُ کالج، لاء کالج، ووکیشنکل کالج، کامرس کالج اور بہت سارے پرائیویٹ تعلیمی ادارے جیسے پنجاب گروپ آف کالجز، دارارقم گروپ، بیکن ہاوس، سٹی سکول سسٹم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    صحت کی سہولتوں کے لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور اسکے علاوہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز، پرائیویٹ ہسپتال ، ٹی بی سنٹر ، ٹراما سنٹربھی موجود ہیں۔ شوکت خانم ، آغا خان ہسپتال کے کولیکشن سنٹر بھی کام کررہے ہیں۔
    کیونکہ یہ ایک پلانڈ شہر ہے تو اس شہر میں ہر قسم کے کاروبار کے الگ الگ بازار ہیں جیسے سونے کی مارکیٹ، کپڑے کی مارکیٹ۔ تمام بازاروں کے درمیان میں ایک چوک آتا ہے جو ان بازاروں کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ اگر آپ شہر کے کسی بھی کونے سے داخل ہوں تو آپ پورے شہر کو باآسانی گھوم سکتے ہیں۔

    دفاعی لحاظ سے اس شہر کی بہت اہمیت ہے کیونکہ یہاں پر پاکستان ائرفورس کا ہوائی اڈہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس شہر کو شاہینوں کا شہر بھی کہا جاتاہے۔ اس شہر کی فضائیں ہر وقت ائرفورس کے جنگی طیاروں کی آواز سے گونجتی رہتی ہیں۔ 1965 کی جنگ میں ائر فورس نے بہت اہم کردار ادا کیا اور بہترین کارکردگی پر سرگودھا شہر کو ہلال استقلال سے نوازا گیا۔ لاہور اور سیالکوٹ کے علاوہ یہ اعزاز صرف سرگودھا شہر کوہے۔ اسی جنگ میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے اور ایک منٹ سے کم وقت میں انڈیا کے 5 جہازوں کو مار کر ورلڈ ریکارڈ بنانے والے ایم ایم عالم کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ اسکے علاوہ سرفراز رفیقی کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ پاکستان کے کم عمر ترین نشان حیدر کا اعزاز پانے والے راشد منہاس اسی دھرتی کے سپوت ہیں۔
    سرگودھا اپنی بہت ساری باتوں سے مشہور ہے جس میں سرفہرست یہاں کا کینو مالٹا ہے جو پورے پاکستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔سرگودھا شہر بجری کی سپلائی سے بھی مشہور ہے بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا کرش سپلائر ہے۔ اس شہر نے پاکستان کی بہت ساری مشہور شخصیات کو بھی جنم دیا ہے جن میں جنرل حمید گل، احمد خان المعورف ملنگی، فٹح خان بلوچ،مفتی محمد شفیع، خواجہ ضیاءالدین سیالوی،خواجہ قمرالدین سیالوی، ملک فیروز خان نون، ملک خضر حیات ٹوانہ، پیر امیر محمد بھیروی. مولانا محمد حسین نیلوی . پیر کرم شاہ صاحب ازھری. سید حامد علی شاہ . مولانا ثناءاللہ امرتسری: علامہ عطاءاللہ بندیالوی. مولانا عبدالشکور ترمذی. سید سبطین نقوی اور مولانا نقشبند شامل ہیں۔
    اسکے علاوہ کھیل میں محمد حفیظ، اعزاز چیمہ اور نوید لطیف کرکٹ میں سرگودھا کی نمائندگی کر چکے۔ اس شہر کے نامور شعراء میں احمد ندیم قاسمی, وصی شاہ، ڈاکٹر وزیر آغا. ریاض احمد شاد . شاکر کنڈان. محمد حیات بھٹی. غلام محمد درد. قاسم شاہ. افضل عاجز. اور ھارون الرشید تبسم .سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ڈاکٹر عطاء الرحمان. ڈاکٹر شاہد اقبال. ڈاکٹر عامر علی شامل ہیں۔

  • ہسپتال مافیا. تحریر: شعیب رحمان

    ہسپتال مافیا. تحریر: شعیب رحمان

    ہمارے ملک میں بہت سی مافیاز میں سے ایک "ہسپتال مافیا” بھی ہے، جو کہ عام شہری (غریب ہو یا امیر) کے جزبات سے کھیلتی جسکا اولین کام صرف اور صرف پیسہ بٹورنا ہے.
    یہ اب پرانی بات ہوئی کہ ہسپتال والے مسیحائی کا کام کرتے آج کے دور میں یہ بات الف لیلی کی داستان ہی لگتی، پورے ملک سے آپکو سینکڑوں واقعات سننے کو ملینگے کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے ڈیڈ باڈی دینے کے لیئے کس طرح سے رقم نکلوائی،
    ہمارے ایک دوست ضیاء الدین ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں انکے بقول ہمیں باقاعدہ یہ لیکچر دیا جاتا کے جبتک مریض کے لواحقین پیسے دینے کی استطاعت رکھتے ہوں ان سے پیسے نکلواتے رہو کیونکہ آپکی تنخواہ اور ہسپتال کے اخراجات اسی سے چلتے ہیں-
    جب بوڑھے والدین اپنے آخری وقت کو پہنچتے تو یہ ہسپتال گدھ کی طرح حملہ آور ہوتے،ایک تو گھر والوں پر فیملی پریشر بھی ہوتا کہ والدین کو ہسپتال کیوں لیکر نہی گئے؟

    نا ہونے کے برابر کیسس میں ایسا ہوا ہوگا کہ ستر اسی سال عمر کا پیشنٹ سیریس حالت کے بعد صحت یاب ہوکر گھر لوٹا ہو، 95% کیسس میں یہ ہسپتال اس عمر کے مریضوں کو میت میں بدل نے کے لاکھوں روپے لیتے، جسکے لیئے غریب مڈل کلاس شخص قرض لیتا، زیور بیچتا مگر ان ہسپتال والوں کو زرا بھی احساس نہی ہوتا،
    حکومت کو چاہئے اس معاملے میں قانون سازی کرے اور ہسپتال کی انتظامیہ کو پابند کرے کہ علاج میں کامیابی کی صورت میں ہی اسے بل ادا کیا جائے اور اگر مریض جاں بر نہی ہوتا تو بل کی ادائیگی کو لواحقین کے حالات سے مشروط کیا جائے کہ اگر وہ دینے کے قابل ہیں تو ادا کریں ورنہ ہسپتال کی انتظامیہ اس شخص سے حلفیہ بیان لیکر بل کو خود ادا کرے،اس یہ ہوگا انتظامیہ لواحقین کو مریض کے متعلق درست معلومات بتائے گی غیر ضروری علاج سے اجتناب کریگی، نیب کو بھی چاہیئے کہ زرا ہسپتالوں کی لوٹ ماری کو چیک کرے کرونا کی وبا کے دوران عام شہری کو کسی چور ڈکیت نے نہی لوٹا ہوگا جتنا کے ان مسیحاؤں نے لوٹا
    #شعیب_رحمان