Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • "عورت اور مرد لازم و ملزوم” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    "عورت اور مرد لازم و ملزوم” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو ناقص العقل اور کم فہم بنایا ہے تو دوسری طرف عورت کی سادگی و بھولپن کو بھی لائق محبت رکھا عورت کتنی ہی غیر معمولی کیوں نہ ہو مرد کی ہوش مندی و ہوشیاری سے مات کھا جاتی ہے مرد کو اوصاف میں مقام میں برتری حاصل ہے اور اس کو سجتا بھی ہے کہ وہ اپنی برتری کا استمعال کرے حاکم بن کر نہیں بلکہ ایک زمہ داری ولی بن کر عورت کو ساتھ لے کر چلے اس کی اہمیت کو تسلیم کرے کیوں کہ عورت
    ہمیشہ سے مضبوط، خود سے بہتر و برتر، سہارے کی تلاش میں رہتی ہے
    اسے پسند ہے مضبوط اور محفوظ حصار میں رہنا مرد جتنا مضبوط ہو گا عورت خود کو معاشرے میں اتنا ہی زیادہ معتبر اور با وقار سمجھتی ہے
    مرد محبت کو بھی اپنے تابع رکھنا چاہتا ہے جب دل کیا دو لفظ محبت کے بول کر عورت کو رام کر لیا اور جب چاہا اسکی زات کی توہین و تذلیل کر دی
    مرد ہمیشہ خود کو برتر ہستی سمجھتا ہے اور سمجھنا چاہیے بھی لیکن دوسرا پہلو بھی مد نظر رکھنا چاہیے صنف نازک بھی انسان ہے اسکی بھی خواہشات ہیں اسکی مرضی بھی معنی رکھتی ہے لیکن بقول
    مشتاق احمد یوسفی کے’’بعض مَردوں کو عشق میں محض اس لیے صدمے اور ذلّتیں اٹھانی پڑتی ہیں کہ محبت اندھی ہوتی ہے کا مطلب وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شاید عورت بھی اندھی ہوتی ہے
    جو کہ سرا سر غلط اور قابل نفی حقیقت ہے
    عورت ہمیشہ مرد کو ہر طرح سے جانچتی ہے معاشرتی لحاظ سے اسکا اسٹیٹس بھی دیکھنا ضروری ہے اور یہ اسکا بنیادی حق ہے محض محبت کے ورد پر زندگی نہیں گزرتی بہرحال زندگی کے حقائق سے انحراف ممکن نہیں
    مرد اور عورت لازم و ملزوم ہیں اور یہ کبھی نہ ختم ہونے والی بحث ہے جو ہمیشہ سے چلتی آئی ہے لیکن مرد کی فضیلیت کو تسلیم کرنا چاہیے اور یہی حقیقت عورت کو ہمارے معاشرے میں معتبر کرتی ہے
    مرد و زن دونوں ہی ہمارے معاشرے کا لازمی حصہ ہیں ایک کا کردار دوسرے سے مشروط ہے اور دونوں ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں
    اور اگر بات کی جائے تربیت کی تو اس سے انکار ممکن نہیں کہ تربیت اگر بیٹی کو دینی ضروری ہے تو بیٹا بھی ایک متوازن شخصیت بننے کے لیے مکمل تربیت کا محتاج ہے
    اگر لڑکی ماں اور بیوی کے کردار میں اہم ہے تو ایک مرد بھی باپ یا شوہر ہونے کے ناطے خاندان کی مضبوطی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ماں اور باپ دونوں مل کر ہی ایک صحت مند خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں کوئی ایک کبھی بھی دوسرے کی کمی کبھی پوری نہیں کر سکتا اس حقیقت سے بھی
    انکار نہیں کہ بچوں کے لیے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے تو باپ بھی اس تربیت گاہ کا ایک اہم اور بنیادی کردار ہے۔کسی بھی بچے کی تربیت کے لیے نہایت ضروری ہے کہ گھر کا ماحول سازگار ہو اور اس ماحول کو بنانے والےمرد اور عورت والدین ہونے کا فریضہ احسن طریقے سے سر انجام دیں اور یہی ہمارے معاشرے کے لئے ضروری اور خوب صورت پہلو ہے جو ہمیں دوسرے معاشروں سے ممتاز رکھتا ہے۔
    زہرا نگاہ نے عورت کا مقام یوں بیان کیا ہے
    "ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی
    دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی”

  • مسلم پاکستان بمقابلہ سیکولر انڈیا .تحریر:حسان خان

    مسلم پاکستان بمقابلہ سیکولر انڈیا .تحریر:حسان خان

    تاریخی شہروں کے متضاد مذہبی نام اور ان دو ممالک کا نقطہ نظر

    مذہب دنیا کے تقریباً ہر معاشرے میں اولین اہمیت رکھتا ہے اور ہر معاشرہ مذہبی معاملات میں حساس پایا گیا ہے جبکہ جو معاشرے سیکولر یعنی مذہبی وابستگی سے بالاتر ہونے کے دعویدار ہیں وہاں مذہب ایک حیثیت ایک ثانوی چیز کی سی ہوتی ہے
    ہمارا ملک پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے جہاں رہن سہن ، رسم و رواج نیز ہر پہلو میں مذہب کا عمل دخل نظر آتا ہے جبکہ ہمارے برعکس بھارت ایک سیکولر ملک ہونے کا دعویدار ہے اور سیکولر نظریات کے مطابق ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے ریاست کو غرض نہیں کہ کس کا مذہب کیا ہے اور کون کیسی روایات کا قائل ہے۔ ان دونوں ہمسایہ ممالک میں مذہبی تضاد اپنی جگہ مگر پاکستان حیران کن طور پر بھارت کے مقابلے میں مذہبی طور پر زیادہ روادار ثابت ہوا ہے جبکہ بھارت میں مذہبی جنون آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ آج ہم پاکستان اور بھارت کا تاریخی شہروں کے ناموں پر رویے کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کریںگے کہ مسلم پاکستان ہندو سکھ ناموں والے شہروں پر کتنا روادار ہے اور سیکولر انڈیا کس طرح مسلم دشمنی میں تاریخی شہروں کے نام بدل کر انکی تاریخی اہمیت کو سپوتاژ کر رہا ہے

    پاکستان میں متعدد شہروں سڑکوں اور عمارتوں کے نام اس دھرتی کے ہںدو اور سکھ سپوتوں کے ناموں پر ہیں جنہوں نے ان شہروں میں زندگی گزاری ، ان شہروں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور ان شہروں کی تاریخی حیثیت میں ان شخصیات کا نمایاں اثر پایا جاتا ہے اسی طرح بھارت میں بھی بہت سارے شہروں ، شاہراوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے نام مسلمان فاتحین کے ناموں پر ہیں جنہوں نے ان شہروں کی بنیاد رکھی ، انکی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا

    پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اگر پاکستان چاہے تو سکھ/ہندو نام والے شہروں کے نام آسانی سے تبدیل کر دے اور مسلم ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کے اس اقدام کی مذمت بھی نہیں کی جا سکتی مگر پاکستان اور پاکستانی عوام کی مذہبی رواداری کو یہ گوارہ نہیں کہ ان شہروں سے ان کے تاریخی نام چھنے جائیں۔ ننکانہ صاحب سکھوں کا ایک مقدس شہر جہاں پر سکھ مذہب کے بانی گرو نانک کی پیدائش ہوئی یہاں ہر سال ہزاروں سکھ زائرین زیادت کیلئے آتے ہیں اور پھر کرتار پور راہداری کھول کر پاکستان نے مذہبی رواداری کی مثال قائم کر دی ہے کرتار پور میں گرو نانک کی آخری آرام گاہ ہے یہاں بھی یومیہ ہزاروں سکھ زائرین زیادت کیلئے آتے ہیں اس کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا نام بھی سکھ مذہبی گرو کے نام پر ہے۔ پاکستان کے ان دو بڑے اہم شہروں کے سکھ نام آج بھی برقرار ہیں اسی طرح لاہور میں سرگنگا رام ہسپتال اور سر گنگا رام روڈ کے علاوہ لکشمی چوک ، گرو مانگٹ وغیرہ کے نام بھی جوں کا توں قائم ہے جو ان جگہوں کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں کبھی کسی حلقے نے ان کو تبدیل کرنے کی بات نہیں کی اسکے علاوہ پورے پاکستان کے بہت سارے قصبوں کے ہندو سکھ نام ہیں جبکہ دوسری طرف سیکولر ہونے کا دعویدار مذہبی جنونی بھارت ہے جہاں بڑی تیزی کے ساتھ مسلم ناموں والے شہروں ، قصبوں اور عمارتوں کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں انکی شناخت چھینی جا رہی ہے جسکی تازہ مثال الہ آباد جیسے تاریخی شہر کا نام تبدیل کر کے "پریاگراج” رکھ دیا گیا جس سے شہر کی تاریخی حیثیت خراب ہو کر رہ گئی اسی طرح ضلع فیض آباد کا نام بدل کر "ایودھیہ” رکھ دیا گیا اس سب کے بعد بھارتی حکومتی تاریخی شہر آگرہ اور ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے نام بھی تبدیل کرنے کیلئے پرتول رہی ہے

    مودی کی انتہا پسند حکومت آتے ہی اس رجحان میں تیزی واقع ہوئی ہے۔ راجھستان میں تین گاوں کے نام اس وجہ سے تبدیل کر دیے گئے کہ وہ سننے میں مسلم نام لگتے تھے
    بھارت میں مسلم دشمنی کی بناء پر جس طرح مسلمانوں کی ثقافت اور تاریخ کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسکی مثال نہیں ملتی مسلم نام والے شہروں کے نام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان کو بھی ریلوے اسٹیشن اور سنگ میل سے غائب کیا جا رہا ہے۔ سیکولرازم کا مزاق اڑاتا بھارت دراصل مذہبی جنون کا شکار ملک بن چکا ہے جہاں مسلمانوں کی تہذیب اور ثقافت کا قتل عام ہو رہا ہے

  • انسانیت کیا ہے؟میان بخش علی پیرزادہ

    انسانیت کیا ہے؟میان بخش علی پیرزادہ

    انسانیت کیا ہے؟ کیا انسانیت نام کا کوئی تصور ہے؟ اگر ہے تو اس میں کوئی ترقی ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو اس افسانے کی حقیقت کیا ہے؟ ابھی تک نہ کوئی ایسی کتابیں نظر سے گزری، جس کا مرکز انسانیت ہو البتہ کچھ ماہرین نے موجودہ معاشی ترقی عناصر ترکیبی پر ضرور اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ صر ف مادّی یا منافع پر مبنی چیزوں کے اعداد و شمار کا نام ترقی ہونی چاہیے۔ ان میں وہ کام بھی شامل ہونا چاہیے جو لوگ خیرات و صدقات کی مد میں کرتے ہیں اور اس میں وہ خرچے بھی شامل ہونے چاہئیں، جو لوگ تعلیم و تربیت پر خرچ کرتے ہیں۔

    اگر ہم انسانیت پر غور کریں تو انسانیت کا پہا اصول قربانی کا ہونا چاہیے کیونکہ اج ہم اس لیے زندہ ہیں کہ ہماری ماؤں نے ہمارے لیے قربانیاں دیں۔ جسمانی طور پر ہم ان کے خون کا حصہ ہیں۔ اگر قربانی کی تشریح ہم یوں کریں کہ کسی کسی دوسرے انسان یا حیوان کو راحت پہنچانے کے لیے اپنے وسائل خرچ کرنا۔ اب یہ وسائل مالی، جسمانی، مکانی، زمانی، یا ذہنی ہو سکتے ہیں۔

    انسانیت کا دوسرا اصول ایمان داری کا ہونا چاہیے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے وہ چیز پسند کریں، جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ انسانیت یہ نہیں ہے کہ میں خود فاسٹ فوڈ نہ کھاؤں بلکہ دوسروں کو کھلا کر فائدہ حاصل کرنے کے لیے اشتہار بازی کا ہر ذریعہ استعمال کروں۔ مطلب یہ کہ ایک چیز جس کو میں اپنے لیے نقصان دہ سمجھتا ہوں، دوسروں کو کھلاتا ہوں۔

    تیسرا اصول، عزت نفس۔ نفسیاتی طور پر ہر انسان کو عزت نفس عزیز ہے، لہٰذا ہر انسان کا فرض ہے کہ دوسروں کی عزت کا خیال رکھے۔ آدمیت و احترام آدمی کے اصول کی پاسبانی کرے اور یہ احترام بلا تفریق ہونا چاہیے۔ عزت کا تعلق زبان کے استعمال سے ہے لہٰذا انسانیت کا تقاضا ہے کہ اپنی زبان کو انسانیت کے تابع کریں۔

  • والدین عہد کریں .تحریر: شعیب رحمان

    والدین عہد کریں .تحریر: شعیب رحمان

    پاکستان میں روانہ 8 بجے زیادتی کا شکار ہوتے ہیں اغواء ہونے والوں کی تعداد الگ ہے کچھ سالوں سے اچانک اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جہاں حکومت ادارے اسکی روک تھام میں ناکام وہی والدین بھی بچوں کی حفاظت پر خاص توجہ دیتے دکھائی نہیں دیتے ایسے کتنے کیسز ہیں جن میں بچے گھروں سے باہر چیز لینے جاتے مگر واپس نا آتے جیسا آج کل ماحول ہے رشتےداروں پر بھی بھروسہ کرنا مشکل ہے اکثر کیسز میں قریب کے لوگ ہی ملوث پائے جاتے ہیں پھر وہ پڑوس کے ہی کیوں نا ہوں کچھ عرصہ قبل زینب ریپ کیس میں پڑوسی ہی مجرم تھا جو ناک کے نیچے رہا مگر کسی کو شک نا ہوا وہ اپنے انجام کو پہنچا اس کے باوجود کوئی خاص ڈر خود ایسے درندوں میں نا پایا گیا آخر وجہ کیا ہے کچھ لوگ کہتے یہ بے حیائی کا نتیجہ تو جناب تین چار سال کی بچی کیا بے حیائی کرتی نوجوان لڑکے کیا خود کو چادر میں لپیٹ کر گھر سے باہر نکلیں عورت کو پردے کا طعنہ دینے والے مردوں کی نظروں میں شرم کی کمی کیا ایسے واقعات کا خمیازہ نہیں تعلیمی ادارے، مدارس، ہسپتال کی نرس ہو یا فیکٹری میں جاب کرنے والی مجبور ماں کس طرح خود کو ان واقعات سے بچائیں ایسے وقت میں جہاں حکومت کو سخت اقدامات کرنے چاہئیں وہی ہمارے وزیراعظم سارا ملبہ خواتین کے کپڑوں پر ڈال دیتے ہاں وہ ڈی چوک کے دھرون کو بھول چکے جہاں 126دن خواتین و مرد سب ساتھ روزانہ علم کی روشنی جلاتے تھے اس وقت اقتدار کی بھوک تھی تو سب اچھا تھا آج اقتدار کا نشہ ہے تو عورت بے حیا ریپ کیسز کی جڑ ! تو بتائیں جناب 3 سالہ بچی کو لاہور کے ایک اسکول میں درندگی کا نشانہ بنانے والے درندے کون تھے ؟ بوائز ہاسٹل میں نوجوان کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے کون ہیں ؟ جہاں ساری زمہ داری والدین پر ڈالی جاتی وہی ہماری حکومت اپنی کارکردگی پر کب دھیان دیگی حکومتی وزراء خو آئے دن اسکینڈلز کا شکار رہتے ہیں وہ کیا ہمارے بچوں ماں بہنوں پر ہونے والی اس درندگی پر آواز اٹھائیں گے ؟ کب سرعام پھانسی کا بل پاس ہوگا ؟ کب ایسے درندوں کو سنسار کیا جاے گا؟ یا یہ مان لیں ہم کے ہمیں خود ہی ایسے شیطانوں کا خاتمہ کرنا ہوگا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں کوئی اس ماں سے پوچھے جس کی پھول جیسی بچے بنا کپڑوں کے خون میں لت پت مردہ حالت میں کچرہ کنڈی پر ملے وہ ماں کیا جانے قانون اس بے بس باپ کو کن الفاظوں میں آپ حوصلہ دینگے جس کی اک لوتی اولاد سڑک پر لٹ جاے اور حکومت کہے تحقیقات جاری ہے کیسے ملے گا ان والدین کو سکون جن کی بچیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر برہنا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرکے غلط کام پر لگایا جاتا

    کہتے ہیں ٹک ٹاک بین کریں ٹک ٹاک فساد ہے” آپ کو بنا دوں کے ٹک ٹاک سے بڑھ کر یوٹیوب پر مواد پایا جاتا ہے توکیا ہم یوٹیوب پر پابندی کا ٹرینڈ چلائیں ؟ ایسی کتنی ایپس ہیں وہ سب بند کردیں ہمارے پاکستانی ایڈز کیا کم ہیں بے حیائی پھیلانے میں ان پر پابندی کیسے ممکن ہوگئی ؟ رمضان ٹرانسمشن کے نام پر خواتین کو نچوانے والے حکومتی وزراء کے خلاف کب آواز اٹھائے گا کوئی ؟ ہم ناامید ہوچکے ہیں مان لیں والدین کو چائیے اب اس پڑوس سے لے کر کسی ادارے پر بھروسہ کرکے اپنے لخت جگر کو اکیلا باہر نا چھوڑیں نا کسی کے ساتھ جانے دیں آپ کی اولاد کا خیال صرف آپ رکھ سکتے ہیں دوسرا کوئی نہیں تو آج سے عہد کریں ہمارے بچے ہماری زمہ داری اللہ پاک سب کے بچوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین

  • ‏سر سبز و شاداب .تحریر: شاہ زیب

    ‏سر سبز و شاداب .تحریر: شاہ زیب

    کائناتِ ارضی و سماوی کی تخلیق و حیران کر دینے والی ترتیب، خوبصورت و سر سبز لہلہاتی فصلوں اور کھیتیوں، گھنے اور قد آور درختوں سے مزین جنگلات، عقل و خرد اور دل و نگاہ کو مست و بےخود کر دینے والی سُریلی آبشاروں، روح وقلب کو تازگی بخشتے دریاؤں اور سمندروں، اسمان کوچھوتے سخت جان پہاڑوں، الگ الگ نوعیت کے رنگ و بو سے مزین خوشبودار پھولوں اورصحت افزا پھلوں، خوشوں والی کھجوروں اور بھوسے اور خوراک و معاشی ضروریات کی تکمیل کرنے والے اناج سے مزین یہ کائنات انسانی سوچ کی تمام حدوں سے ورا اُلوریٰ یقیناً اُس ذات کا بے حد و بے شمار شکر ادا کرنے کے لئے عظیم نشانیاں ہیں جِس نے انہیں حضرت انسان کے لئے انہیں پیدا فرمایا۔

    یقیناً تمام کبریائی، بزرگی اورعظمت اُسی ذات کے شایانِ شان ہے جِس نے تمام آسمانی کرّے باہمی ترتیب و مطابقت کے ساتھ اس پیدا فرمائے کہ نہ ان میں کوئی جھول ہے نہ کوئی خامی، اور اسی ذات بزرگ و برتر نے آسمانِ دنیا کو روشن ستاروں اور سیّاروں سے روشن و آراستہ فرمایا۔ اس کائنات کا یہ نظام ودیعت اور تخلیق ذرا بھر بے ضابطگی اور عدمِ تناسب سے مکمل طور پر پاک و مبرا ہے اور اس طرح مرتب کہ ایک کا نظام دوسرے میں کسی طرح بھی مُدخل نہیں-

    قرآن پاک اللہ تعالی کی تخلیق پر تمام معترضین نقادوں کو چیلنج کرتا ہوا فرماتا ہے :

    ’’الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاؕ-مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍؕ-فَارْجِعِ الْبَصَرَۙ-هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ(۳)ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ(۴)
    ترجمہ: کنزالایمان
    جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ(خرابی وعیب) نظر آتا ہےپھر دوبارہ نگاہ اٹھا نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی‘‘
    تفسیر:
    اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار میں  سے یہ ہے کہ اس نے کسی سابقہ مثال کے بغیر ایک دوسرے کے اوپرسات آسمان بنائے۔ہر آسمان دوسرے کے اوپر کمان کی طرح ہے اور دنیا کا آسمان زمین کے اوپر گنبد کی طرح ہے اور ایک آسمان کا فاصلہ دوسرے آسمان سے کئی سوبرس کی راہ ہے۔ تو اے بندے! تو اللّٰہ تعالیٰ کے بنانے میں  کوئی فرق اور کوئی عیب نہیں دیکھے گا بلکہ انہیں  مضبوط،درست،برابر اور مُتَناسِب پائے گا۔تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھ تا کہ تو اپنی آنکھوں  سے اس خبر کے درست ہونے کو دیکھ لے اور تیرے دل میں  کوئی شبہ باقی نہ رہے،پھر دوبارہ نگاہ اٹھا اور باربار دیکھ، ہر بارتیری نگاہ تیری طرف ناکام ہو کر تھکی ماندی پلٹ آئے گی کہ بار بار کی جُستجُو کے باوجود بھی وہ ان میں کوئی خَلَل اور عیب نہ پاسکے گی۔

    اللہ پاک نے نہ صرف یہ کائنات اور اس میں موجود نظام تخلیق فرمایا بلکہ خود اس نظامِ بے مثال و باکمال کی حفاظت کاذمہ بھی لیا۔

    کبھی غور تو کریں کہ اس نظام کی ترتیب کس قدر عقل و خرد کو لاچار کر دیا کرتی ہے۔
    اس شمسی و قمری نظام و ترتیب میں سورج اور چاند مقررہ حساب و اوقات کے پابند ہیں جو منزلیں اور اوقات ان کیلئے مقرر ہیں نہ ان سے تجاوز کرتے ہیں اور نہ روگردانی ، اپنے اپنے مدار میں مصروف و متحرک ہیں کیا مجال کہ سرسائی دائیں ہوں یا بائیں یا لمحہ بھر کی بھی تقدیم، تاخیر و سکونت ہو سکے۔

    الغرض نظامِ ارض و سمٰوات میں جس جہت غور و تفکر کر لیں مکمل نظم و ضبط اور ترتیب و تکمیل پائی جاتی ہے، نظامِ قدرت کے اس توازن و ترتیب کی وجہ سے ہر شے مکمل افادیت اور حسن و تازگی کا منبع ہے-

    جبتک یہ نظام اِسی ترتیب و توازن سے چلتا رہتا ہے انسان اِس کی افادیت سے مستفید و متنفع رہتا ہے لیکن ادھر انسان نے اس توازن و ترتیب کو زاتی مفاد کے لئے عدم توازن کا شکار کرنے کی کوشش کی تو اس کو دور رس منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا- یہ ہر ذی شعور و خرد پر مثلِ شمس واضح و عیاں ہے کہ تخلیقِ کائنات میں کوئی کمی، کوئی کجی، کوئی نقص وآلودگی کا شائبہ بھی نہیں –
    تو پھر یہ جو آج کا انسان نواع و اقسام کی آلودگیوں و پیچیدگیوں کا شکار نظر آتا ہے یہ اس کی زاتی تخلیق شُدہ ہیں۔

    بظاہر آج کے انسان نے مادی اشیا و صنعت میں فقیدالمثال ترقی کر لی ہے۔ ایجادات و تعمیرات میں بہت آگے نکل گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی نئی سے نئی دریافت میں سرگرداں ہے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دھن میں نئے سے نئے تجربات و ریاضات کی کھوج میں ہے۔ لیکن اِسی کھوج اور طاقت ور بننے کے نشے میں بےشُمار ایسے عوامل و طریق میں کھو چکا ہے کہ وقتی مفاد کے لئے دورافتادہ نقصانات کو پرکھنے و ادراک کرنے سے عاری ہو چکا ہے۔ انسان کی اسی دھن کا شکار آج کا معاشرہ ہوتا جا رہا ہے۔

    صنعتی و سائنسی ترقی کے نام پر جب انسان نے گیسی مادوں کی بڑے پیمانے پر ایجادات و استعمال کو اس کے دور رس مضمرات سے کنارہ کش ہوتے ہوئے، مختلف الاقسام ایجادات، تحقیقات کے نام پر کیمیائی اور حیاتیاتی دریافتوں کے ذریعے ترقی حاصل کی- اِس ترقی کی راہ میں آنے والے نقصانات سے پیدا ہونے والے احتساب و سوالات سے مبرا و منزہ انسان جب اپنی دھن میں بھاگتا چلاگیا تو اسی ترقی کی وجہ سے قدرتی ماحول پر انتہائی بھیانک اثرات مرتب ہونے لگے-
    آج کے دور کا ہر ترقیاتی منصوبہ اس اجتماعی ماحول کو کسی نہ کسی طرح نقصان سے دوچار کر رہا ہے۔
    1880ء سے پہلے توکبھی کسی نے اس ماحولیاتی آلودگی پر کسی قسم کی خاطر خواہ توجہ نہ دی۔ لیکن اس صنعتی ترقی میں استعمال ہونے والی مادی گیسوں، کیمیائی و نباتاتی اشیاء و اجزا کے کثرتِ استعمال اور نئی ایجادات کے بنا پر پیدا ہونے والی اس
    آلودگی کی پیمائش کی حساب و کتاب کرنے کے لئے پہلا ادارہ عمل میں لایا گیا۔
    اس ادارے کی تحقیقات کے تحت اِن تمام استعمال شدہ عوامل کے پیشِ نظر فضا میں درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
    اس کی تحقیق کے مطابق سنہ 1880 سے سنہ 1980 تک اس درجہ حرارت میں 0.13 فارن ہیٹکے حساب سے ہر دس سال میں اضافہ ہوا ہے۔
    1981 کے بعد اس میں 0.32 ڈگری فارن ہیٹ/10سال کے حساب سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق اِس طویل عرصہ میں 2019 ایسا سال تھا جِس میں درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔
    تحقیقاتی ادارے کو یہ کہنا ہے کہ اگر اسی رفتار سے ماحولیاتی الودگی میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے چند سالوں کے بعد یہ اس کے باعث سطح سمندر میں اضافے سے ساحلی علاقےزیر آب آنے کےخطرے سے دوچار ہیں۔
    اِسی درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشئیرز پگلنا شروع ہو گئے ہیں۔ اور بارشوں کے سلسلے متاثر ہونے اور غیر متوقع طوفانوں کی تباہی کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔

    اس موسمی تبدیلی کے پیشِ نظر مجبوری ہجرت،انواع القسام بیماریوں، قلتِ اجناس، جنگلی حیات کا ناپید ہونا، پانی کی قلت اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل کا سامنا ناگزیر ہے-

    اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وقت انسانی جان کی بقاء کو اِس ماحولیاتی آلودگی سے شدید خطرہ لاحق ہے۔
    اس پر تو کوئی دوسری رائے نہی ہو سکتی کہ روئے زمین پر تمام جانداروں اور بالخصوص انسانی جان کے تحفظ کا انحصار جن ضروریاتِ حیات پر کیاجا سکتا ہے ان میں سےایک پاک و شفاف ماحول و ہوا ہے- اس اہم اور حساس معاملے پر ادراک و فہم ہر ذی شعور کو جاننا اور اِن مضمرات کی روک تھام کے لئے اُن عوامل کو کارفرما لانا انتہائی ضروری ہے جِس سے ماحول آلودہ ہونے سے بچ سکے کیونکہ اس کا بالواسطہ تعلق انسانی حیات سے ہے۔
    اس ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات کا اندازہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جِس کے مطابق دنیا میں 70 لاکھ لوگ ہوائی آلدگی اور آکسیجن کی کمی کیوجہ سے انتقال کر چکے ہیں۔

    جیسا کہ شروع میںذکر ہوا کہ اللہ کا نظام ایک اکمل واعلٰی اور ہر نقص و کمی سے پاک نظام ہے۔ اسی نظام میں ہر مسئلے کا حل اور تدارک رکھا گیا ہے۔ دین اسلام جہاں دیگر مسائل کے متعلق راہنما و پیشوا ہے وہاں ہر ماحولیاتی آلودگی سے متعلق بھی ایک آفاقی نقطۂ نظر رکھتا ہے-
    ماحولیاتی نقصان و فضائی آلودگی کے تدارک کیلئے اسلام میں واضح احکام کے ذریعے صفائی اور شجر کاری کے فوائد ذکر کیے ہیں قرآن پاک میں کھیتی باڑی اور پودوں کا نقصان پہنچانا منافقین کا شیوہ قرار دیا ہے۔

    اسلام میں بلاضرورت درختوں کو کاٹنے سے منع کیا گیا ہے- حتیٰ کہ جنگ میں روانگی کے وقت فوجوں کو اس بات کی باقاعدہ ہدایت کی جاتی کہ وہ شہروں اور فصلوں کو برباد نہی کریں گے-
    حضور نبی اکرم (ﷺ) نے شجر کاری کو صدقہ قرار دیا اور حکم فرمایا:
    “ اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اس کو لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو‘‘
    لہٰذا ہمیں بطور مسلمان اِن اسلامی تعلیمات و تربیت کی روشنی میں اپنے گردونواع کے ماحول و فضا کو پاک و صاف رکھنے کے لئے جہاں تک ممکن ہو اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہنا ہے۔ اور اپنی آنےوالی نسلوں کو اس آلودگی کے نقصانات سے بچانے کے لئے ایسے اقدام کرنے ہوں گے جِن کے ثمرات کے نتیجہ میں وہ ایک صحت مند اور توانا زندگی گزار سکیں۔
    ہر فرد معاشرے کا حصہ اور اہم اکائی ہے۔ مختلف اکائیوں کے اجتماع کو معاشرہ کہتے ہیں۔ جب تمام اکائیاں اپنے مثبت کردار کو جمع کرتی ہیں تو ہی صحت مند معاشرہ وجود پا سکتا ہے۔
    آئیے سب ملکر اس معاشرے کی فضا کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنااپنا کردار ادا کریں۔
    جتنا ممکن ہو اپنے گردو نواع میں صفائی ستھرائی رکھنے، پانی کے ضیاع سے بچنے، غلاظت اور گندگی کوپھیلاؤ کے تدارک کاذریعہ بنیں اور زیادہ سے زیادہ شجر کاری کےذریعے ماحول کو ہرا بھرا اور سر سبز و شاداب بنا دیں اِنࣿ شَاءاَللٰؔه
    @shahzeb___

  • یس سر سے ابسلیوٹلی ناٹ تک کا سفر .تحریر: سنگین علی زادہ

    یس سر سے ابسلیوٹلی ناٹ تک کا سفر .تحریر: سنگین علی زادہ

    سوال:
    کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے معاملے میں اتنا ہی غیر سنجیدہ ہے کہ بیس سال پہلے ریاست نے ایک فیصلہ کیا تھااور بیس سال بعد پاکستان 180 ڈگری کا یوٹرن لے کر الٹا پھر گیا؟ یعنی بیس سال پہلے امریکہ کو اڈے دیے، اتحادی بن کر یس سر کیا تو اب بیس سال بعد ابسلیوٹلی ناٹ کیوں کر رہا ہے؟ جس طرح آج سے بیس سال پہلے کیے گئے مشرف کے ایک فیصلے کو عمران خان اسمبلی میں آج غلط قرار دے رہے ہیں، کیا اب سے بیس سال بعد کا کوئی حکمران اسمبلی میں کھڑے ہو کر عمران خان کے موجودہ فیصلے کو بھی غلط قرار دے رہا ہو گا؟ کیا ہم خارجہ پالیسی کے معاملے میں یوں ہی کوہلو کے بیل کی طرح ایک دائرے میں گھومتے رہیں گے؟
    جواب:
    1
    نائن الیون سے چالیس سال پہلے امریکہ نے افغان جنگجوؤں کو روس کے خلاف کھڑا کر کے پوری دنیا میں ج ہ ا د شروع کروایا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے انہی لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر ایک سو اسی ڈگری کا ٹرن لیا۔ تب نا تو آپ نے امریکہ کو کوہلو کا بیل قرار دیا نا ہی آپ کو امریکی خارجہ پالیسی دائرے میں گھومتی دکھائی دی۔ بلکہ آپ نے دل و جان سے امریکہ کے اس فیصلے کی تائید کی۔ آج اگر پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ہے تو آپ کو تکلیف کیوں ہے؟
    2
    دنیا کی ہر ریاست میں خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد ریاست کا مفاد ہوتا ہے۔ نائن الیون سے دو سال پہلے پاکستان ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے معاشی اور ملٹری پابندیوں میں جکڑا جا چکا تھا۔ ہم ایٹم بم بنا چکے تھے مگر حالات واقعی گھاس کھانے والے بنتے جا رہے تھے۔ ایسے خراب معاشی حالات میں امریکہ کے ساتھ جنگ شروع ہوتی تو یہ دانشور جو آج مشرف پہ اڈے دینے کےلیے اعتراض کر رہے ہیں، وہ گھاس کھا کھا کے مر چکے ہوتے اور ان کی بھٹکتی آتما مشرف کو اڈنے نا دینے کی وجہ سے پورے پاکستان میں گالیاں دیتی پھرتی۔

    3
    آج عمران کے ابسلیوٹلی ناٹ اور مشرف کی یس کے درمیان بیس سال کا فرق ہے۔ ان بیس سالوں میں بہت کچھ بدلا ہے۔ مثلاََ
    بیس سال پہلے افغان سٹوڈنٹس کے ساتھ دنیا کا ایک بھی ملک نہیں کھڑا تھا آج درجن بھر ملک ان کے ساتھ ہیں۔
    بیس سال پہلے کا چین زمین پہ تھا آج آسمان پہ ہے اور امریکہ کو ٹکر دینے کےلیے پوری طرح تیار ہے۔
    بیس سال پہلے کا روس معاشی طور پر بدحال تھا اور امریکہ اسے مردہ ریچھ قرار دے چکا تھا۔ آج وہ ریچھ امریکا کو جِن جپھا ڈالنے کےلیے ہوشیار کھڑا ہے۔
    بیس سال پہلے افغانستان میں امریکہ کی موجودگی سے چین اور روس دونوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا مگر آج ہے۔
    بیس سال پہلے کوئی سی پیک نہیں تھی، کوئی گوادر پورٹ نہیں تھی جن کی وجہ سے چینی مفادات کو خطرہ ہوتا اور وہ امریکہ کو یہاں سے نکالنے کےلیے پاکستان کا ساتھ دیتے۔ آج یہ سب کچھ ہے اور وہ پاکستان کا ساتھ بھی دے رہے ہیں۔
    ایسے آئیڈیل حالات اگر عمران خان کے بجائے مشرف کو اس وقت ملتے جیسے آج ہیں یقیناََ مشرف امریکہ کو ناں کرتا۔
    مگر مشرف نے ہاں کی اس لیے کہ
    1 پاکستان اس وقت اس قابل نہیں تھا کہ افغانستان کی جنگ کو اپنے گھروں میں داخل کرے۔
    2 پہلے سے موجود معاشی پابندیوں کو ختم کروانے کے بجائے دوگنا کرے۔
    3 بھارت کو موقع دے کہ اپنے اڈے امریکہ کو دے اور وہ بحرہِ ہند کے پانیوں سے ہوتا ہوا بھارت میں ڈیرہ لگائے، وہاں سے پاکستان پہ حملہ کرے اور پاکستان کو کھنڈر بنا کر یہاں اڈے بنانے کے بعد یہاں سےا فغانستان کو فتح کرے۔

    اوپر لکھا ہےکہ دنیا کی ہر ریاست کی خارجہ پالیسی کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ مشرف نے ریاست کے مفادات کا تحفظ کیا۔ آج بیس سال بعد ریاستی مفاد کا تحفظ امریکہ کو جگہ دینے کے بجائے نکالنے میں پوشیدہ ہے لہذا ہم نے یہی کیا۔ یہی امریکہ نے کیا تھا۔ چالیس سال پہلے جو م ج ا ہ د تھے چالیس سال بعد وہ دہشت گرد تھے۔ یہی دنیا کی ہر ریاست کرتی ہے۔ یہی مثال چودہ سو پہلے مدینہ کی ریاست میں بار بار ملتی ہے۔ ریاستِ مدینہ کے تحفظ کےلیے یہودیوں جیسی قوم کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔ پھر ریاستِ مدینہ کے تحفظ کےلیے ہی انہی یہودیوں کے ساتھ جنگ کی گئی۔ ریاستی مفاد کے تحفظ کےلیے ریاستِ مدینہ نے مکہ کے کفار کے ساتھ صلحِ حدیبیہ کی تھی۔ اور پھر ریاستی مفاد کے تحفظ کےلیے ہی انہی کفارِ مکہ کے ساتھ جنگ کی گئی تھی۔ بلاشبہ ریاستِ مدینہ اور ریاستِ پاکستان کے مفادات میں یقیناََ فرق ہے۔ مگر یہ حقیقت کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ وہ ریاستِ مدینہ اور یہ ریاستِ پاکستان دونوں مسلمان ریاستیں ہیں۔ آپ مشرف کے فیصلے کے بجائے اس فیصلے اثرات دیکھو۔
    کیا بیس سال یہاں رہ کر امریکہ کوئی کامیابی لے سکا؟
    کیا افغان سٹوڈنٹس ختم ہو گئے؟
    کیا آج پھر افغان سٹوڈنٹس اسی طرح طاقتور نہیں؟
    کیا پوری دنیا میں امریکہ بدنام نہیں ہوا کہ مٹھی بھر جنگجوؤں کو ختم نہ کر سکا؟
    اور سب سے بڑھ کر،
    کیا بیس سال بعد ہی سہی پاکستان اس قابل نہیں ہوا کہ امریکہ کو ابسلیوٹ ناٹ کہہ سکے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر دکھ کاہے کا ہے ببوا؟
    تحریر: سنگین علی زادہ۔

  • ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ .تحریر: بشارت محمود رانا

    ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ .تحریر: بشارت محمود رانا

    پاکستان کا خواب دیکھنے اور اپنی لازوال شاعری کے زریعے محکوم اور بدحال مسلمانانِ برصغیر کو جگانے والے عظیم مفکر ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال رح صاحب کے لکھے گئے اس شعر میں جتنا وزن، وسعت اور دور اندیشی میں نے محسوس کی ہے آج اپنی اس تحریر کے زریعے اور اپنے ناقص سے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ کسی حد تک اس کا احاطہ کر سکوں

    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

    ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

    جب کبھی بھی ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال رح صاحب کا یہ شعر میری نظر سے گزرتا ہے تو یقین جانیں کہ میں اس سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کیا میں علامہ صاحب کی اس بات پہ پورا اتر رہا ہوں یا پھر اس پہ پورا اتر سکنے کی کوشش تک بھی کر رہا ہوں

    لیکن! ہر بار میں اس کے جواب میں خاموش سا رہ جاتا ہوں اور کوئی جواب نہیں ڈھونڈ پاتا وہ اِس لئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ علامہ محمد اقبال رح صاحب کی زیادہ تر فکر اور شاعری حضورِ اقدس جناب محمّد رسول اللہ ﷺ کی احادیث و فرامین اور اُن کی قائم کردا ریاستِ مدینہ میں نافذ کردہ قوانین اور اصولوں کے گرد ہی گھومتی ہے

    تو میرے مطابق علامہ اقبال رح صاحب کا یہ کہنا کہ

    “ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

    یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اگر کوئی سمجھے تو ہم سب کیلئے بہت بڑے اعزاز کی بھی بات ہے۔ جس کو بطور ایک “ملّت کا ستارہ” بن کے نبھانا ہم سب پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے۔ قطع نظر اس کے کہ چاہے آپ ایک وزیراعظم، ایک وزیر، ایک آرمی چیف، ایک جنرل، ایک فوجی،ایک چیف جسٹس، ایک جج، ایک وکیل، ایک سی ایس پی آفیسر، ایک سائنسدان، ایک پروفیسر، ایک ٹیچر، ایک بیوروکریٹ، ایک گورنمنٹ آفیسر، ایک سول سروینٹ، ایک ڈاکٹر، ایک بینکر، ایک بزنس مین، ایک انجینئر، ایک صحافی، ایک ادیب و شاعر، ایک اداکار و فنکار، ایک سنگر، ایک کسان و دہقان، ایک مزدور و دیہاڑی دار، ایک طالب علم، کوئی بچہ یا بوڑھا اور کوئی مرد یا عورت یہاں تک کہ ہر اِک فرد اِس ملکِ خدا داد پاکستان کیلئے ایک روشن اور چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہے اور ہم سب اپنی اپنی پہنچ اور استطاعت کے مطابق پاکستان کے ہر اچھے اور بُرے ایمج کے ذمہ دار ہیں۔

    تو پھر کیوں ناں ہم سب بطور ایک ذمہ دار شہری اپنی اپنی اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے (قطع نظر اس کے کہ آپ سیاسی طور پہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا لیڈر کو پسند یا نا پسند اور سپورٹ یا مخالفت کرتے ہیں کیونکہ جہاں ہمارے پیارے ملک پاکستان کی عزت اور وقار کی بات آئے تو ہمیں اپنی ہی کھینچی ہوئی اِن ریڈ لائنز کو خود ہی جوتے کی نوک پہ رکھتے ہوئے اپنے اس ملک پاکستان کے حق میں ہونے والی ہر اچھائی کے ساتھ اور ہر برائی کے خلاف کھڑا ہونا ہے) ہمیں اپنے اِرد گرد ہر اُس اچھائی کا ساتھ دینا ہو گا جو ہمارے پیارے مذہب اسلام، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے فرامین و تعلیمات کے مطابق ہوں اور ہر اُس برائی کے خلاف دیوار بن کے بھی کھڑے ہونا ہو گا جو آنحضرت ﷺ کے فرامین و تعلیمات کے برعکس ہوں اور مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال رح صاحب کے اِن اشعارمیں بھی اسی بات کا درس دیا گیا ہے۔

    اور ایک طرح سے اگر غور کیا جائے تو اس میں اصلاً آپ کو “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” ہی کی اصل روح بھی نظر آئے گی جس کا حکم ہمیں اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بھی بار بار دیا ہے۔

    تو میرے پیارے پاکستانیو! جس طرح سے ڈاکٹر علامہ اقبال رح صاحب نے ہم سب کو یہ کہہ کر ذمہ دار قرار دیا ہے کہ “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر” میرے نزدیک اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنے ملک اور قوم کی تقدیر کو خود لِکھ کے (اچھی یا بُری) اِس کو عملی جامہ پہنانا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔

    اور اب یہ ہم پہ منحصر ہے کہ ہم اس ملک و قوم کی شان، قدر ومنزلت کو دنیا کے سامنے اچھائی کی صورت میں پیش کرتے ہوئے اپنے پیارے ملک پاکستان کی شان میں اضافے کا باعث بنتے ہیں یا پھر اس سب کے برعکس ہم اپنے اِس ملک پاکستان کی شان، قدر ومنزلت کو اپنی اپنی برائیوں میں پڑنے کے بعد اقوامِ عالم میں بدنام کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

    اور ہم میں سے ہر کوئی اس میں برابر کا شریک ہے۔

    تو اب آخر میں اپنے سب پاکستانیوں سے یہ کہوں گا کہ آپ کبھی بھی اس بات کو فراموش مت کرنا کہ آپ لوگ اُس ملک کے باسی ہیں جو ریاستِ مدینہ کے بعد اسلام کے نام پہ کی گئی ہجرت کے بعد اور ہمارے بزرگوں کی لاکھوں قربانیوں، بہت سے ولیوں کی دُعاؤں اور کئی عظیم لیڈروں کی محنت کے بعد ہمیں نصیب ہوا تھا۔

    اور اب ہم سب پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اِس ملک پاکستان کو اقوامِ عالم میں عظیم سے عظیم تر بنانے کیلئے ہر قسم کی تگ و دو کریں اور اپنے تائیں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔

    یقیناً! اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم سب مِل کے اس ایک مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ڈٹ جائیں تو ایک دن انشاءاللہ ہم اس میں ضرور کامیاب بھی ہو جائیں گے۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو- آمین ثم آمین

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، خطرات اور اُنکا حل .تحریر : ذیشان ہوتی

    خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، خطرات اور اُنکا حل .تحریر : ذیشان ہوتی

    پشتون قوم میں تین اقسام کے نوجوان ہیں۔ اور یہ وہ نوجوان ہیں کہ اگر مل کر ایک ساتھ چلیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں نہیں روک سکتی۔
    پہلی قسم کے نوجوان مذہبی طبقے سے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ہر شہ کو مذہب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ نوجوان ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جو ان نوجوانوں کے دلوں میں مذہب کے نام پر وطن سے نفرت پیدا کرتے ہیں۔ یہ نوجوان مذہب کے نام پر خودکش دھماکوں کے لئے تیار کیے جاتے ہیں۔

    دوسری قسم ان نوجوانوں کی ہے جو قوم پرست ہیں۔ ان نوجوانوں کو بچپن سے قوم پرستی کی بناء پر نفرت سکھا دی گئی ہوتی ہے اور ان کے ذہنوں میں یہ بات رکھ دی گئی ہوتی ہے کہ پشتون قوم کو ہمیشہ سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ہر سطح پر قوم پرستی کا نعرہ لگاتے ہیں اور قوم پرستی کی خاطر پاکستان کو بھی اہمیت نہیں دیتے۔
    تیسری قسم ان نوجوانوں کی ہے جو سوشل میڈیا پر فعال ہیں۔ یہ نوجوان ہر اس طبقے کی حمایت کرلیتے ہیں جو طبقہ انہیں اپنی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہوئے انہیں پیسے فراہم کرتا ہو۔ یہ نوجوان پیسے کی لالچ میں ملک کے خلاف نفرت پھیلانے سے بھی نہیں کتراتے ہیں۔

    اس وقت پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے اور ملک کے دشمنوں کی یہی سازش ہے کہ پہلے اس ملک کے نوجوانوں کو تقسیم کریں اور پھر انہیں اپنی مفادات کے لئے استعمال کریں۔ اس وقت پاکستان میں 64 فیصد نوجوان ہیں۔ جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہے جہاں نوجوانوں کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی تک نوجوانوں کے اتحاد کے لئے کوئی پروگرام تربیت نہیں دیا گیا جہاں یہ نوجوان آپس میں بیٹھ جائیں، اور اس کی وجوہات اوپر بیان کر دی گئی ہے۔
    دوسری طرف غیر ملکی میڈیا نے پاکستان میں صرف خیبرپختونخواہ کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ اور ہر واقعے کو بڑھ چڑھ کر پیش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف پیجز بناتے ہیں اور ایسا مواد شئیر کرتے ہیں جو پاکستان اور نوجوانوں کے لئے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ جبکہ نوجوان طبقہ میڈیا کے اس پراپیگنڈے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا پہلا ہدف بھی یہی نوجوان ہیں، کیونکہ نوجوان وہ طبقہ ہے جو جلد اثر انداز ہوتا ہے اور ان کو کسی بھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
    اسی طرح بہت سے این جی اوز بھی پاکستان کے خلاف کام کرتے ہوئے نوجوانوں کے لئے مختلف تربیتی پروگرام تشکیل دیتے ہیں اور ان تربیتی پروگراموں میں نوجوانوں کو ایسی مواد فراہم کرتے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ ریاستی اداروں کے لئے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ یہاں نوجوانوں کی ایسی ذھن سازی کی جاتی ہے کہ یہ نوجوان اپنے ہی ریاستی اداروں کے خلاف بولنے لگتے ہیں۔ بیشتر این جی اوز نے پشتون نوجوانوں ہی کو اپنا نشانہ بنایا ہوا ہے اور بے روزگار نوجوانوں کو چند روپوں کی لالچ میں ملک کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ ان نوجوانوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ ملک کتنی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ہے۔

    ہمارے تعلیمی اداروں کا نصاب بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ نوجوانوں کی ذہن سازی کرے۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال انتہائی ناکارہ ہے ہے۔ جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اول تو طلباء کو دیگر زبانیں سکھائی جاتی ہیں اور جب طلباء میٹرک پاس کرلیتے ہیں تو نہ انہیں علامہ اقبال کے افکار کا پتہ ہوتا ہے اور نہ قائد اعظم محمد علی جناح کی اس ملک کے لئے قربانیوں سے با خبر ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ طلباء ان قومی رہنماؤں کے خلاف تک بولنے لگتے ہیں۔

    پاک فوج نے اس ملک کی حفاظت اور سربلندی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ لیکن اس وقت نوجوانوں کا ایسا ایک طبقہ موجود ہے جو پاکستان کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ نوجوانوں کے اس طبقے میں پاکستان کے نوجوان کم جبکہ افغانستان کے نوجوان زیادہ ہیں۔ اس طبقہ نے پاکستان کے نوجوانوں کو تقسیم کر رکھا ہے اور یہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں امن قائم ہو۔

    بھارت بھی پاکستان کا وہ دشمن ہے جو پاکستان میں امن نہیں چاہتا۔ بھارت بھی ان پشتون نوجوانوں کو اپنی مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے اور مختلف ذرائع سے خاص تنظیموں کو فنڈنگ فراہم کرکے پاکستان اور خصوصاً پاک فوج کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ اگر اس وقت ہم نے اپنے ان مسائل پر غور نہ کیا تو چند ہی سالوں میں اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ جہاں ہمیں اپنے دوست اور دشمن کا پتہ تو لگ جائے گا لیکن تب وقت گزر چکا ہوگا۔

  • ھئمم

    ھھآج کل ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں عورت کو ایک بوجھ، ذمہ داری اور بد نصیبی کی نشانی سمجھا جاتا ہے ۔ خواتین کے لئے بدقسمتی سے ایسے ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں کہ وہ خود کومعاشرے کا حصہ سمجھتے سے محروم کردیتی خود کو۔ آج کل ہمارے معاشرے میں عورت کے لئے یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس کا کام صرف گھر گرہستی کرنا ہے اور خود کو شوہر کے لئے ایک بہت ہی اچھی بیوی بن کر دیکھانا ہے۔ وہ کبھی شوہر کے آگے زبان نہ چلائے،اسکی بات ہر خواہش ایک آواز میں پوری کرے۔کیوں عورت کو صرف گھر گرستی جیسے کاموں تک ہی محدود کررکھا ہے۔

    عورت معاشرے کی تکمیل کے لیے اہم عنصر ہے۔ عورت ہر روپ میں انمول تحفہ ہے خدا کی طرف سے وہ صرف اپنے خاندان کی زندگی ہی نہیں بناتی بلکہ ایک خالی مکان کو گھر بنانے میں اپنی زندگی گزار دیتی ہے۔ اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتی ہے۔ بچوں کی اچھی تربیت کرتی ہے،انکی اچھی اور اعلی پرورش کرتی ہے اور اولاد کو اچھا شہری بنانے کی کوشش میں مگن ہوجاتی ہے۔بحیثیت مجموعی عورت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ایک مثالی ریاست،معاشرہ اور خاندان تعمیر کرے۔
    آج اگر ہم اپنے ملک میں کئی علاقوں میں جائیں وہاں عورت پر نظر ڈالیں تو اس کو اعلی تعلیم، صحت جیسی بنیادی حق سے بھی محروم کررکھا ہے۔ ان کو خود سے فیصلہ کرنے کا حق بھی نہیں دیا جاتا ہے۔
    آج کے زمانے میں اب بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ وقت بدل گیا ہے تو کیا ہوا عورت کے حقوق اب بھی ویسے ہی ہیں۔ آج بھی عورت کو صحت، تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی میسر نہیں۔اور جن علاقوں میں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات میسر ہیں وہاں ان کو مساوات اور ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    منفی مساوات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان ان ملکوں میں دوسرے نمبر پر آتا ہے اور اس لحاظ سے پیچھے بھی ہے۔
    آج بھی خواتین اپنے اوپر تشدد صرف اور صرف اس لئے برداشت کررہی ہیں کہ ان پر کوئی اور تشدد نہ ہوجائے وہ سمجھتی کہ اگر انہوں نے آواز اٹھائی تو لوگ ان پر انگلیاں اٹھائیں گے اور ان کو الزام تراشی کا شکار بنا دیں گے۔ ان کے گھر والے بھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے اور یوں ہرحال میں قربانی دینے،برداشت کرنے کے اور مصلحت سے کام لینے کے لئے بھی عورت کو ہی کہا جائے گا۔ ان کو ہر وقت اس بات کا ڈر کہ کہیں طلاق ہوگئی تو لوگ اور یہ معاشرہ کیا کہے گا لوگ کیا سوچیں گے معاشرے میں اور مزید بدنامی ہوگی۔ ہر حال میں عورت کو ہی تحمل اور برداشت سے کام لینا ہوگا اور اس بات کا دباؤ اس کو گھر والے اور رشتہ دار بھی دیتے ہیں کہ چاہیے کچھ بھی ہو اپنا گھر تم کو ہی بچانا ہے۔ آخر کیوں اور کب تک؟ کیا یہ سب اگر کسی مرد کے ساتھ ہو تو کیا اس کو بھی اسی طرح لوگ سمجھائیں گے،یہی کہیں گے کہ اپنی انا کو مارو،اور رشتہ بچاو۔ شاید نہیں اور کبھی نہیں کیونکہ ان کی نظر میں عورت ایک بہت بے معنی سی چیز ہے اور اس لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

    مرد عورت پر ہاتھ اٹھائے، گالیاں دے،مارپیٹ کرے پھر بھی عورت کو یہ رشتہ ختم نہیں کرنے کا کہا جاتا ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ مالی لحاظ سے شوہر کی ہی محتاج ہوتی ہے۔ اس کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنے اخراجات خود برداشت نہیں کرسکتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین اس کی تعلیم پر توجہ ہی نہیں دیتے اور ان کی تعلیم پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ وہ ان کو گھر سے باہر بھیجنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ اور یہی سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے جو عورت مالی لحاظ سے اپنے گھر والوں کے سامنے کمزور اور ان کی محتاج بن کر رہ جاتی ہے۔
    اگر عورت کو بچپن میں ہی اس کے حقوق دیے جائیں تو وہ ایسے کسی بھی قسم حالات اور ناانصافی کا سامنا نہیں کرے۔
    آج معاشرے میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ عورت کو صحت تعلیم روزگار جیسے حقوق دیے جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹیوں کی تربیت ایسے کریں ان کو اچھی تعلیم دلوائیں اور ان کو سارے حقوق دیں۔ کسی بھی کے ساتھ محض صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں رکھا جائے کیونکہ کچھ بھی ہو سب سے پہلے وہ انسان ہے۔ عورت کی قابلیت کو اس بات سے نہیں جانچیں کہ وہ صرف گول روٹی ہی بنا سکتی ہے بلکہ اس معاشرے میں رہتے ہوئے اس کا حصہ ہوتے ہوئے وہ ہر کام جو مرد کرسکتا ہے وہ عورت بھی کر سکتی ہے اور اپنے گھر والوں کا سر فخر سے بلند بھی کرسکتی ہے۔ اس لیے عورت کی قدر کریں اور اس کا خیال رکھیں۔

    تحریر: ایمن رافع

  • 5 جولائی یومِ سیاہ کا ڈھونگ تحریر: فیصل خالد

    5 جولائی یومِ سیاہ کا ڈھونگ تحریر: فیصل خالد

    ذوالفقار علی بھٹو کی بنائی ہوئیPPP فقط چُوں چُوں کا مربہ پارٹی تھی
    اس میں اسلام،سوشلزم،جمہوریت اور لادینیت کے تمام اجزاء شامل تھے
    بلاشبہ بھٹو جینئیس تھا لیکن زیادہ تر معاملات میں اِیول جینئیس تھا
    وہ جینئیس تھا تو صرف اس حوالے سے کہ وہ لوگوں کو جمع بھی کر سکتا تھا اور انہیں کسی نکتے پر مائل بھی کر سکتا تھا
    یہی وجہ ہے کہ اس نے پی پی پی کے بے تُکے منشور پر سیاستدان بھی جمع کر لیے تھے اور اسلام کا تڑکہ لگانے کیلیے مولانا کوثر نیازی جیسے مولوی بھی ساتھ ملا لیے تھے

    یہ بھٹو کی منفی لیکن طلسماتی شخصیت اور اس کے جاہلانہ منشور کا کمال ہے کہ پی پی کو ضیاء جیسا اسلام پسند اور الطاف حسین جیسا دہشت گرد بھی ختم نہ کر سکے
    بھٹو نے پی پی میں جو مفاد پرست لوگوں کی زیریں غلام قیادت ترتیب دی تھی اس نے بھی ذاتی مفاد پرستی کا حق ادا کر دیا
    بھٹو کے دربارِ منافقت میں وڈیرے،تعلیم یافتہ افراد مزدور جب پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

    سب جونکوں کی طرح اپنی اپنی جگہ کو چاٹنے میں مصروف رہے
    کسی کو صف اول کی قیادت اور بھٹو کا متبادل بننے کی فکر نہیں تھی کہ پی پی کے سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے

    یہی وجہ ہے کہ بھٹو کی پی پی کا سیاسی عمل اس کی پھانسی کے بعد جمہوریت سے موروثیت کی شکل اختیار کر گیا

    جمہوریت کیلیے شعور و قابلیت درکار ہوتی ہے جبکہ موروثیت کیلیے لا شعور اور جاہلیت مطلوب ہوتی ہے
    چنانچہ بھٹو کی پیدا کی ہوئی جہالت نے پی پی کو سیاسی سے زیادہ موروثی طور پر مستحکم کیا
    پی پی کی موروثیت کو بے نظیر نے خوب استعمال کیا،
    بھٹو کے نام کا مکمل فائدہ اٹھایا

    پھر بے نظیر کے قتل کے بعد زرداری نے موروثیت کی گاڑی کو جہالت کے دو پہیے بے نظیر کو "شہید” کہہ کر اور بلاول زرداری کو "بھٹو” کہہ کر دیے اور خود جئے بھٹو کا اسٹئرنگ سنبھال کر چلانے لگا

    یہی مرحلہ پی پی کی تباہی کا آغاز تھا

    پی پی میں جن کو بزرگ سیاستدان کہا جاتا ہے ان کی حیثیت خاندان کے بوڑھے ملازم،مالی یا خانسامے سے زیادہ نہیں۔اور نہ ہی ان میں سیاسی شعور ہے۔
    وہ کل وقتی لٹیرے تھے اور لٹیرے ہی رہے۔
    کسی کو پی پی کے سیاسی حوالے کی فکر نہ رہی۔
    یہی وجہ ہے کہ وہ بزرگ ملازم اور جیالے زرداری سے موہوم اختلاف کے باوجود پی پی کے نام سے لوٹ مار کرتے رہے۔
    ورنہ پی پی 50 سال کے بعد سندھ تک محدود نہ ہوتی۔

    پی پی کو موروثیت نے تباہ کر دیا

    نصرت بھٹو کی رفاقت،بے نظیر کی ذہانت اور زرداری کی شاطرانہ خیانت نے پی پی کو محدود سہی لیکن زندہ ضرور رکھا ہوا ہے۔

    اب نصرت کی رفاقت اور بے نظیر کی ذہانت ختم ہو گئیں۔

    زرداری کی دلیرانہ اور شاطرانہ قیادت کے ختم ہونے کی صورت میں بلاول کی مخنثانہ اور مضحکہ خیز قیادت پی پی کو مکمل تباہی سے ہمکنار کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے۔
    کیونکہ بلاول کے پاس اس کی انفرادی حیثیت میں بے نظیر جیسی ذہانت ہے نہ زرداری جیسی خباثت

    ابھی بھی پی پی کے برائے نام سیاستدانوں کیلیے موقع ہے کہ وہ "مرد ” بنیں، آگے آئیں۔
    پارٹی قیادت پر سوال اٹھائیں اور پارٹی کو موروثیت سے سیاست و جمہوریت کی راہ پر گامزن کریں۔
    خود بھی جیالے پن سے نکل کر سیاسی کارکن بنیں۔

    یقین جانیے بلاول کی طفلانہ، مخنثانہ اور جاہلانہ "حرکات” وہ آگ ہیں جو زرداری کی موت کے فوراً بعد پارٹی کو جلا کر بھسم کر دیں گی

    "اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے”

    Twitter handle
    @_FaysalKhalid