Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • حلیمہ سعدیہ ؓ کی گود میں. تحریر: فاطمہ بلوچ

    حلیمہ سعدیہ ؓ کی گود میں. تحریر: فاطمہ بلوچ

    اس زمانے میں عرب کا دستور یہ تھاکہ جب ان کے ہاں کوئی بچہ ہوتا تو وہ دیہات سے آنیوالی دائیوں کے حوالے کردیتے تھے تاکہ دیہات میں بچے کی نشوونمابہتر ہواوروہ خالص عربی زبان سیکھ سکے-
    دائیوں کا قافلہ مکہ میں داخل ہوا_انہوں نے ان گھروں کی تلاش شروع کی جن میں بچے پیدا ہوئے تھے-اس طرح بہت سی دائیاں جناب عبد المطلب کے گھر بھی آئیں-نبی کریمﷺکو دیکھالیکن جب انہیں معلوم ہواکہ یہ بچہ تو یتیم پیدا ہواہے تو اس خیال سے چھوڑکر آگے بڑھ گئیں کہ یتیم بچے کے گھرانے سے انہیں کیاملے گا-اس طرح دائیاں آتی رہیں، جاتی رہیں…کسی نے آپ کو دودھ پلانامنظور نہ کیااور کرتیں بھی کیسے؟ یہ سعادت تو حضرت حلیمہؓ کے حصے میں آناتھی-
    جب حلیمہ ؓ مکہ پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا، سب عورتوں کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیاہے اور اب صرف وہ بغیر بچے کے رہ گئیں ہیں اور اب کوئی بچہ باقی نہیں بچا، ہاں ایک یتیم بچہ ضرور باقی ہے جسے دوسری عورتیں چھوڑ گئیں ہیں-
    حلیمہ سعدیہؓ نے اپنے شوہر عبد اللہ ابن حارث سے کہا:
    خدا کی قسم! مجھے یہ بات بہت ناگوار گزر رہی ہے کہ میں بچے کے بغیر جاؤں دوسری سب عورتیں بچے لے کر جائیں، یہ مجھے طعنے دیں گے، اس لیے کیوں نہ ہم اسی یتیم بچے کو لے لیں۔”
    عبداللہ بن حارث بولے:
    "کوئی حرج نہیں! ہوسکتا ہے، اللہ اسی بچے کے ذریعے ہمیں خیروبرکت عطا فرمادیں۔”
    چنانچہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا عبدالمطلب کے گھر گئیں۔جناب عبدالمطلب اور حضرت آمنہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔پھر آمنہ انہیں بچے کے پاس لے آئیں۔آپ اس وقت ایک اونی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔وہ چادر سفید رنگ کی تھی۔آپ کے نیچے ایک سبز رنگ کا ریشمی کپڑا تھا۔آپ سیدھے لیٹے ہوئے تھے، آپ کے سانس کی آواز کے ساتھ مشک کی سی خوشبو نکل کر پھیل رہی تھی۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں۔آپ اس وقت سوئے ہوئے تھے، انہوں نے جگانا مناسب نہ سمجھا۔لیکن جونہی انہوں نے پیار سے اپنا ہاتھ آپ کے سینے پر رکھا، آپ مسکرادیے اور آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "میں نے دیکھا، آپ کی آنکھوں سے ایک نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا، میں نے آپ کو گود میں اٹھا کر آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیانی جگہ پر پیار کیا۔پھر میں نے آپ کی والدہ اور عبدالمطلب سے اجازت چاہی، بچے کے لیے قافلے میں آئی۔میں نے آپ کو دودھ پلانے کے لیے گود میں لٹایا تو آپ دائیں طرف سے دودھ پینے لگے، پہلے میں نے بائیں طرف سے دودھ پلانا چاہا، لیکن آپ نے اس طرف سے دودھ نہ پیا، دائیں طرف سے آپ فوراً دودھ پینے لگے۔بعد میں بھی آپ کی یہی عادت رہی، آپ صرف دائیں طرف سے دودھ پیتے رہے، بائیں طرف سے میرا بچہ دودھ پیتا رہا۔

    پھر قافلہ روانہ ہوا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "میں اپنے خچر پر سوار ہوئی۔آپ کو ساتھ لے لیا۔اب جو ہمارا خچر چلا تو اس قدر تیز چلا کہ اس نے پورے قافلے کی سواریوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔پہلے وہ مریل ہونے کی بنا پر سب سے پیچھے رہتا تھا۔میری خواتین ساتھی حیرانگی سے مخاطب ہوئیں:
    "اے حلیمہ! یہ آج کیا ہورہا ہے، تمہارا خچر اس قدر تیز کیسے چل رہا ہے، کیا یہ وہی خچر ہے، جس پر تم آئیں تھیں اور جس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل تھا؟ ”
    جواب میں میں ان سے کہا:
    "بےشک! یہ وہی خچر ہے، اللہ کی قسم! اس کا معاملہ عجیب ہے۔”

    پھر یہ لوگ بنو سعد کی بستی پہنچ گئے، ان دنوں یہ علاقہ خشک اور قحط زدہ تھا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "اس شام جب ہماری بکریاں چر کر واپس آئیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے تھے جب کہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا، ان میں سے دودھ بہت کم اور بہت مشکل سے نکلتا تھا۔ہم نے اس دن اپنی بکریوں کا دودھ دوہا تو ہمارے سارے برتن بھرگئے اور ہم نے جان لیا کہ یہ ساری برکت اس بچے کی وجہ سے ہے۔آس پاس کی عورتوں میں بھی یہ بات پھیل گئی، ان کی بکریوں بدستور بہت کم دودھ دے رہی تھیں۔
    غرض ہمارے گھر میں ہر طرف، ہر چیز میں برکت نظر آنے لگی۔دوسرے لوگ تعجب میں رہے۔اس طرح دو ماہ گزر گئے۔دو ماہ ہی میں آپ چلنے پھرنے لگے۔آپ آٹھ ماہ کے ہوئے تو باتیں کرنے لگے اور آپ کی باتیں سمجھ میں آتیں تھیں۔نو ماہ کی عمر میں تو آپ بہت صاف گفتگو کرنے لگے۔

    اس دوران آپ کی بہت سی برکات دیکھنے میں آئیں۔حلیمہ سعدیہ فرماتی ہیں:
    "جب میں آپ کو اپنے گھر لے آئی تو بنو سعد کا کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا۔جس سے مشک کی خوشبو نہ آتی ہو، اس طرح سب لوگ آپ سے محبت کرنے لگے ۔جب ہم نے آپ کا دودھ چھڑایا تو آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے:
    اللہ اکبرکبیراوالحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا
    یعنی اللہ تعالٰی بہت بڑاہے، اللہ تعالی کے لئے بے حد تعريف ہے، اور اس کےلئے صبح وشام پاکی ہے،، ۔
    پھر جب آپ ﷺدو سال کے ہو گئے تو ہم آپ کو لےکر آپ کی والدہ کے پاس آئے، اس عمر کو پہنچنے کے بعد بچوں کو ماں باپ کے حوالہ کردیا جاتاتھا ۔ادھر ہم آپکی برکات. دیکھ چکےتھے اور ہماری آرزو تھی کہ ابھی آپ کچھ اور مدت ہمارے پاس رہیں، چنانچہ ہم نے اس بارے میں آپ کی والدہ سے بات کی، ان سے یوں کہا ;
    ،، آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم بچےکو ایک سال اوراپنے پاس رکھیں، میں ڈرتی ہوں، کہیں اس پر مکہ کی بيماريوں اور آب و ہوا کااثر نہ ہوجائے،، ۔
    جب ہم نے ان سے باربار کہا تو حضرت آمنہ مان گئیں اورہم آپ کو پھر اپنے گھر لے آئے۔جب آپ کچھ بڑے ہو گئے تو باہر نکل کر بچو ں کو دیکھتے تھے ۔وہ آپ کو کھیلتے نظر آتے، آپ ان کے نزدیک نہ جاتے، ایک روز آپ نے مجھ سے پو چھا;
    ،، امی جان ” کیا بات ہے دن میں میرے بھائ بہن نظر نہیں آتے? آپ اپنے دودھ شریک بھائ عبداللہ اور بہنوں انیسہ اور شیما کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں; میں نے آپ کو بتایا، وہ صبح سویرے بکریاں چرانے جاتےہیں، شام کے بعد گھر آتے ہیں: یہ جان کر آپ نے فرمایا:
    "تب مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا کریں”
    اسکے بعد آپ اپنے بھائ بہنوں کے ساتھ جانے لگے ۔آپ خوش خوش جاتے اور واپس آتے، ایسے میں ایک دن میرے بچے خوف زدہ انداز میں دوڑتے ہوئے آئے اور گھبرا کر بولے:
    "امی جان! جلدی چلئے… ورنہ بھائ محمدﷺ ختم ہو جائیں گے۔”
    یہ سن کر ہمارے تو ہوش اڑ گئے، دوڑ کر وہاں پہنچے، ہم نے آپ کو دیکھا، آپ کھڑے ہوئے تھے، رنگ اڑا ہوا تھا، چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی – اور یہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ کو سینہ چاک کئے جانے سے کوئی تکلیف ہوئی تھی بلکہ ان فرشتوں کو دیکھ کر آپ کی حالت ہوئی تھی -”
    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، ہم نے آپ سے پوچھا:
    "کیا ہوا تھا؟”
    آپ نے بتایا:
    "میرے پاس دو آدمی آئے تھے – وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے – (وہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تھے) ان دونوں میں سے ایک نے کہا:
    ” کیا یہ وہی ہیں؟”
    دوسرے نے جواب دیا:
    "ہاں یہ وہی ہیں -”
    پھر وہ دونوں میرے قریب آئے، مجھے پکڑا اور لٹادیا – اس کے بعد انہوں نے میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے کوئی چیز تلاش کرنے لگے – آخر انہیں وہ چیز مل گئی اور انہوں نے اسے باہر نکال کر پھینک دیا، میں نہیں جانتا، وہ کیا چیز تھی -”
    اس چیز کے بارے میں دوسری روایات میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ایک دانہ سا تھا – یہ انسان کے جسم میں شیطان کا گھر ہوتا ہے اور شیطان انسان کے بدن میں یہیں سے اثرات ڈالتا ہے –
    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، پھر ہم آپ کو گھر لے آئے – اس وقت وہ میرے شوہر عبد اللہ بن حارث نے مجھے سے کہا:
    "حلیمہ! مجھے ڈر ہے، کہیں اس بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، اس لیے اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو

  • پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ کیسے ٹھنڈی ہو گی؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ کیسے ٹھنڈی ہو گی؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے جس کے حصول کا مقصد دین اسلام کا نفاذ تھا، لیکن آج تک سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم اس مقصد کی تکمیل حاصل نہیں کر سکے جس کے لئے ملک حاصل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان میں فرقہ واریت نے اپنے مقصد تک پہنچنے ہی نہیں دیا،پاکستان میں بظاہر تو مسلمان ،لیکن گروہوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں جس کا فائدہ ہمارا دشمن مسلسل اٹھا رہا ہے،کون اکثریت میں ہے کس کی تعداد زیادہ ہے؟ دیکھا جائے تو پاکستان میں اکثریت سنیوں کی ہے اسکے باوجود فرقہ واریت کی لپیٹ میں ہے اسکی بنیادی وجہ جو مجھے دیکھنے کو ملی وہ ہے ایران میں خمینی انقلاب وہاں جب خمینی نے تحریک چلائی اسکے منفی اثرات پاکستان میں پھیلے ،اس تحریک سے پہلے دیکھیں تو پاکستان میں کسی بھی طرح کا فساد فرقہ وارانہ دہشت گردی دیکھنے کو نہیں ملی۔۔۔

    پاکستان میں اہل سنت کے مقدس شخصیات بلکے اسلام کی مقدس شخصیات حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی شان میں گستاخانہ اشعر اور جو تبرا کیا گیا اسکے بعد امت مسلمہ میں جو غم و غصہ پایا گیا اسکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایران سے نفرت انگیز لٹریچر پاکستان لایا جاتا رہا اور عوام کو آپس میں فرقہ واریت کے نام پر لڑوانے کی بھرپور کوشش کی گئی،جب یہ سب ہوا تو پھر پاکستان میں مذہبی جماعتیں وجود میں آئی جن کا مقصد دفاع صحابہؓ اور حضرات صحابہؓ کی ناموس کا دفاع کرنا تھا ،اور ایسے یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا ۔۔۔

    حضرات صحابہ کرامؓ پوری امت مسلمہ کی مقدس شخصیات ہیں جن کے ذریعے ہم تک اسلام پہنچا یہ وہ شخصیات ہیں جن کی تربیت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ،حضرات صحابہؓ کے بارے میں اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں ،”رضی اللہ تعالی عنہ و رضو عنہ”
    جب امت مسلمہ کی عظیم شخصیات کی شان اقدس میں گستاخی کی جائے گئی تو مسلمان کب خاموش رہ سکتے ہیں۔۔

    اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام دشمن عناصر نے پاکستان کو فرقہ واریت میں دھکیل دیا آج ہم سنی،شیعہ دیوبندی،بریلوی اہل دیث،وہابی تو ہیں لیکن کیا ہم مسلمان بھی ہیں؟؟
    یہ سوال ہمیں اپنے دل سے کرنا ہے
    چاہے ہم سنی ہوں یا شیعہ سب سے پہلے انسان ہیں اور اگر ہم اپنے آپ کو کلمہ گو مسلمان سمجھتے ہیں  تو اسلام کی مقدس شخصیات پر تبرا کرنا چھوڑنا ہوگا تبھی جاکر یہ فرقہ واریت کی آگ ٹھنڈی ہوگی۔

  • نیوٹرل ہونے اور پروفیشنلزم کا ڈھکوسلہ. تحریر ‏حمیرا الیاس

    نیوٹرل ہونے اور پروفیشنلزم کا ڈھکوسلہ. تحریر ‏حمیرا الیاس

    میرے بھائی ہم صحافی ہیں۔۔ہمارے پروفیشن کے مطابق ہم سائیڈز نہیں لے سکتے۔ہمیں نیوٹرل ہو کر رہنا پڑتا ہے ورنہ آپ اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ خیانت کرتے ہیں۔

    دیکھئے ہم کیریئر ڈپلومیٹ ہیں اور ہمارا کام ہے کہ ریاست ہمیں جو چیز کہے ہم اس کے لئے لوبنگ کریں اور ان مفادات کو حاصل کریں۔ ہم خود سے یہ تعین نہیں کر سکتے کہ کیا چیز ہمارے ملک کے لیے اچھی یا بری ہے۔۔۔ ہم وہ کریں گے جو ہمیں ریاست کہے گی۔ یہی پروفیشنلزم ہے۔

    دیکھیں میں ایک پروفیشنل سولجر ہوں۔میرا یہ کام نہیں ہے کہ اس بات کا تعین کرو کہ کون سا آپریشن صحیح ہے یا غلط۔ ہمیں قیادت جو حکم دیتی ہے بطور پروفیشنل فوجی میرا کام ہے اس پر عمل کرنا۔ صحیح ہے یا غلط پالیسی۔۔ اچھا یا برا کام۔۔۔ یہ تعین کرنا قیادت کا کام ہے۔

    دیکھیں میں ایک پروفیشنل وکیل ہوں۔۔۔میرا کام موکل کا دفاع کرنا ہے۔ اور میرے انکل ایک پروفیشنل جج ہیں۔ ان کا کام موجودہ قانون اور اس کے اصولوں کے مطابق مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے ۔۔۔وہ قانون سخت ہے یا نرم۔۔ اسلامی ہے یا غیر اسلامی۔۔۔ یہ دیکھنا ان کا کام نہیں ہے۔ بطور پروفیشنل، ان کا کام قانون جو بھی ہے اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔

    اوکے اوکے اوکے!
    او۔۔۔۔کے!
    او۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے!!!!!

    تو جناب میرے آپ سے کچھ سوال ہے!!!

    کہ آپ کے لیے شریعت کا قانون زیادہ معتبر ہے یا آپ کا پروفیشنل کوڈ آف ایتھکس اور پروفیشن کے قوانین؟

    آپ اللہ کو سب سے پہلے بطور مسلمان جواب دینگے یا بطور صحافی؟

    آپ کو اللہ نے اپنے بندے کی حیثیت میں پیدا کیا ہے یا صحافی کی حیثیت میں؟

    آپ بطور مسلمان اسلام کے وکیل پہلے نہیں ہیں؟

    آپ کا کام اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ نہیں ہے؟

    آپ کا کام امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہیں ہے؟

    کیوں کیا آپ اسلام سے کوئی بالاتر کسی پوزیشن پر کھڑے ہیں؟

    بطور صحافی نیوٹرل ہونے کا دعوی کرنا خود ایک آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہے۔ جو مغربی ماڈل کی پوزیشن ہے۔ کیا مغرب کا ہر صحافی جمہوریت، لبرل رائٹس، ہیومن رائٹس کو نیوٹرل پوزیشن نہیں سمجھتا؟ آپ کی نظر میں عورت کو کیا حق ملنا چاہئے؟ آپ کا جو بھی جواب ہوگا یہ ایک آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہوگی۔۔۔ تو نیوٹرل بھلا کیسے کوئی ہو سکتا ہے؟ اور کیا آپ ملک کے مفادات کو بھی نیوٹرل ہونے کے نام پر اگنور کر دیں گے، جس چیز کو بھی بے شک آپ ملک کا مفاد سمجھیں؟

    اگر آپ کیریئر ڈپلومیٹ ہیں۔۔ تو آپ جانتے بوجھتے کشمیر پر سودا بازی کی حکومتی ہدایات کو بیک ڈور ڈپلومیسی سے کیوں پرفارم کریں گے۔ جبکہ آپ کو یہ معلوم ہو کہ یہ امریکی ہدایت پر کیا جا رہا ہے۔ اور یہ براہ راست ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ کیوں کیا آپ کا پروفیشن ملک یا اسلام سے پہلے ہے؟ اگر آپ ملازم ہیں اور آپ کی قیادت آپ کو ان آپریشنز کا حکم دیں جس کے لیے وہ امریکہ سے ڈالر وصول کر رہے ہو اور آپ اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ امریکی پالیسی ہے تو اس کے لئے آپ اپنے لوگوں کو کیسے تاراج کر سکتے ہیں؟ کیا آپ اللہ کو جواب دہ نہیں ہے؟ اللہ سبحان تعالی نے قرآن میں پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اللہ اس عذر کو قبول نہیں کرے گا کہ آپ اپنے بڑوں کی اطاعت کر رہے تھے۔

    اور آپ ایک پروفیشنل جج ہیں تو کیا آپ قرآن کے اس حکم سے مبرا ہے جس میں کہا گیا کہ جو کوئی اس چیز سے فیصلے نہ کرے جو اللہ نے نازل کر دیا ہے تو وہ ظالم ہیں وہ فاسق ہے اور وہ کافر ہے۔

    تو یہ نیوٹرل ہونا ایک ڈھکوسلہ ہے جسکو مغرب نے ڈیزائن کیا ہے اور یہ بنیادی طور پر مغربی آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہے جس کو آپ نیوٹرل نیوٹرل کا راگ الاپ کر اپنائے ہوئے ہیں۔
    ‎@humerafs

  • ماہِ نبوت طلوع ہوا .تحریر :فاطمہ بلوچ

    ماہِ نبوت طلوع ہوا .تحریر :فاطمہ بلوچ

    سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی
    سب سے بالا و وَالا ہمَارا نبی
    اپنے مولیٰ کا پیارا ہمَارا نبی
    دونوں عالَم کا دُولہا ہمَارا نبی
    بزمِ آخر کا شمع فَروزاں ہوا
    نُورِ اوّل کا جلوہ ہمَارا نبی

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کی آنول نال کٹی ہوئی تھی۔{آنول نال کو بچے پیدا ہونے کے بعد دایہ کاٹتی ہے۔}
    آپ ختنہ شدہ پیدا ہوئے۔عبدالمطلب یہ دیکھ کر بےحد حیران ہوئے اور خوش بھی۔وہ کہا کرتے تھے، میرا بیٹا نرالی شان کا ہوگا۔{الہدایہ}
    آپ کی پیدائش سے پہلے مکّہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے۔لیکن جونہی آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا۔بارشیں شروع ہوگئیں، خشک سالی دور ہوگئی۔درخت ہرے بھرے ہوگئے اور پھلوں سے لد گئے۔زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔
    پیدائش کے وقت آپ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے۔سر آسمان کی طرف تھا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے۔مطلب یہ کہ سجدے کی سی حالت میں تھے۔{طبقات}
    آپ کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔جیسا کہ ہم نماز میں اٹھاتے ہیں۔
    حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    "جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا۔اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے۔” ( طبقات )
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں:
    "محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی میں مجھے بصری میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں تک نظر آئیں۔”
    علامہ سہلی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ نے اللہ کی تعریف کی۔ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں:
    "اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا ۔
    "اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ کی بےحد تعریف ہے اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں۔”
    آپ کی ولادت کس دن ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔آپ صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔
    تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت سے قول ہیں۔ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ایک روایت 8 ربیع الاول کی ہے، ایک روایت 2 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں۔زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ آپ 8 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔تقویم کے طریقہ کے حساب سے جب تاریخ نکالی گئی تو 9 ربیع الاول نکلی۔مطلب یہ کہ اس بارے میں بالکل صیح بات کسی کو معلوم نہیں۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مہینہ ربیع الاول کا تھا اور دن پیر کا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو پیر کے دن ہی نبوت ملی۔پیر کے روز ہی آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ کی وفات ہوئی۔
    آپ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔یعنی ہاتھیوں والے سال میں۔اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔
    آپ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی تھی –
    واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ
    ابرہہ یمن کا عیسائی حاکم تھا – حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں – اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا :
    ” یہ لوگ کہاں جاتے ہیں ”
    اسے جواب ملا:
    ” بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں ”
    اس نے پوچھا:
    ” بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے”
    اسے بتایا گیا :
    ” پتھروں کا ہے ”
    اس نے پوچھا :
    ” اس کا لباس کیا ”
    بتایا گیا
    ” ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے ”
    ابرہہ عیسائی تھا – ساری بات سن کر اس نے کہا ":
    "مسیح کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے اس سے اچھا گھر تعمیر کروں گا ”
    اس طرح اس نے سرخ ” سفید ” زرد ” اور سیاہ پتھروں سے ایک گھر بنوایا – سونے اور چاندی سے اس کو سجایا اس میں کئی دروازے رکھوائے اس میں سونے کے پترے جڑوائے – اس کے درمیان میں جواہر لگوائے – اس مکان میں ایک بڑا سا یاقوت لگوایا – پردے لگوائے ” وہاں خوشبوئیں سلگانے کا انتظام کیا – اس کی دیواروں پر اس قدر مشک ملا جاتا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کی ہوگئیں – یہاں تک کہ جواہر بھی نظر نہیں آتے تھے۔
    پھر لوگوں سے کہا:
    ” اب تمہیں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جانے کی ضرورت نہیں رہی, میں نے یہیں تمہارے لیے بیت اللہ بنوادیا ہے لہٰذا اب تم اس کا طواف کرو ”
    اس طرح کچھ قبائل کئی سال تک اس کا حج کرتے رہے – اس میں اعتکاف کرتے رہے – حج والے مناسک بھی یہیں ادا کرتے رہے –
    عرب کے ایک شخص نفیل خشمی سے یہ بات برداشت نا ہوسکی – وہ اس مصنوعی خانۂ کعبہ کے خلاف دل ہی دل میں کڑھتا رہا -آخر اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ابرہہ کی اس عمارت کو گندہ کرکے چھوڑے گا -پھر ایک رات اس نے چوری چھپے بہت سی گندگی اس میں ڈال دی -ابرہہ کو معلوم ہوا تو سخت غضب ناک ہوا کہنے لگا :
    "یہ کاروائی کسی عرب نے اپنے کعبہ کے لیے کی ہے , میں اسے ڈھادوں گا اس کا ایک ایک پتھر توڑدوں گا ”
    اس نے شام و حبشہ کو یہ تفصیلات لکھ دیں , اس سے درخواست کی کہ وہ اپنا ہاتھی بھیج دے – اس ہاتھی کا نام محمود تھا – یہ اس قدر بڑا تھا کہ اتنا بڑا ہاتھی روئے زمین پر دیکھنے میں نہیں آیا تھا – جب ہاتھی اس کے پاس پہنچ گیا تو وہ اپنی فوج لیکر نکلا اور مکہ کا رخ کیا – یہ لشکر جب مکہ کے قرب و جوار میں پہنچا تو ابرہہ نے فوج کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے جانور لوٹ لیے جائیں – اس کے حکم پر فوجیوں نے جانور پکڑ لیے – ان میں عبدالمطلِّب کے اونٹ بھی تھے –
    نفیل بھی اس لشکر میں ابرہہ کے ساتھ موجود تھا اور یہ عبدالمطلِّب کا دوست تھا – عبدالمطلِّب اس سے ملے – اونٹوں کے سلسلے میں بات کی – نفیل نے ابرہہ سے کہا :
    ” قریش کا سردار عبدالمطلِّب ملنا چاہتا ہے یہ شخص تمام عرب کا سردار ہے ” شرف اور بزرگی اسے حاصل ہے – لوگوں میں اس کا بہت بڑا اثر ہے -لوگوں کو اچھے اچھے گھوڑے دیتا ہے, انہیں عطیات دیتا ہے, کھانا کھلاتا ہے- ”
    یہ گویا عبدالمطلِّب کا تعارف تھا – ابرہہ نے انہیں ملاقات کے لیے بلالیا – ابرہہ نے ان سے پوچھا
    ” بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں؟”
    انہوں نے جواب دیا :
    ” میں چاہتا ہوں میرے اونٹ مجھے واپس مل جائیں ”
    ان کی بات سن کر ابرہہ بہت حیران ہوا – اس نے کہا :
    ” مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ عرب کے سردار ہے ” بہت عِزّت اور بزرگی کے مالک ہیں ” لیکن لگتا ہے مجھ سے غلط بیانی کی گئی ہے- کیونکہ میرا خیال تھا آپ مجھ سے بیت اللہ کے بارے میں بات کریں گے جس کو میں گرانے آیا ہوں اور جس کے ساتھ آپ سب کی عِزّت وابستہ ہے – لیکن آپ نے تو سرے سے اس کی بات ہی نہیں کی اور اپنے اونٹوں کا رونا لیکر بیٹھ گئے – یہ کیا بات ہوئی ”
    اس کی بات سن کر عبدالمطلِّب بولے
    "آپ میرے اونٹ مجھے واپس دے دیں بیت اللہ کے ساتھ جو چاہیں کریں ” اس لیے کہ اس گھر کا ایک پروردگار ہے – وہ خود ہی اس کی حفاظت کرے گا – مجھے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ”
    ان کی بات سن کر ابرہہ نے حکم دیا :
    "ان کے اونٹ واپس دے دیے جائیں ”
    جب انہیں ان کے اونٹ واپس مل گئے ” تو انھوں نے ان کے سموں پر چمڑے چڑھا دیے – ان پر نشان لگادیے – انہیں قربانی کے لیے وقف کرکے حرم میں چھوڑ دیا تاکہ پھر کوئی انہیں پکڑ لے تو حرم کا پروردگار اس پر غضب ناک ہو –
    پھر عبدالمطلِّب حِرا پہاڑ پر چڑھ گئے – ان کے ساتھ ان کے کچھ دوست تھے – انہوں نے اللہ سے درخواست کی :
    "اے اللہ! انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے سامان کی حفاظت کر۔”
    ادھر سے ابرہہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھا۔وہ خود ہاتھی پر سوار لشکر کے درمیان موجود تھا۔ایسے میں اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ہاتھی بانوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ اٹھا۔انہوں نے اس کے سر پر ضربیں لگائیں۔آنکس چبھوئے مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔کچھ سوچ کر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ فوراً اس طرف چلنے لگا۔اس کا رخ پھر مکہ کی طرف کیا گیا تو پھر رک گیا۔ہاتھی بانوں نے یہ تجربہ بار بار کیا۔آخر ابرہہ نے حکم دیا، ہاتھی کو شراب پلائی جائے تاکہ نشے میں اسے کچھ ہوش نہ رہ جائے اور ہم اسے مکہ کی طرف آگے بڑھاسکیں۔چنانچہ اسے شراب پلائی گئی، لیکن اس پر اس کا بھی اثر نہ ہوا۔

  • انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی . تحریر: مبین خان

    انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی . تحریر: مبین خان

    انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی .جب تک کے وہ خود ہار نہ مان لے۔

    ہمارے سامنے اکثر ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو قسمت اور نصیب کی خرابی کا شکوہ کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ یا تو وہ خود محنت نہیں کرتے، کام سے جی چراتے ہیں یا پھر انہیں انکی نیت کا بدلہ مل رہا ہوتا ہے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ بجائے اپنی غلطی ماننے کے وہ سارا الزام قسمت کو دے رہے ہوتے ہیں کہ خدا ہمیں دینا ہی نہیں چاہتا یا پھر یہ کہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ نصیب میں ہی یہ ملنا نہ تھا۔ یہ سراسر ایک غلط نظریہ ہے۔ خدا پاک کبھی کسی کے ساتھ زیادتی یا نا انصافی نہیں کرتا۔ ہر کسی کو اسکی محنت کا ثمر ضرور ملتا ہے۔ ہاں مگر اسکے لیے محنت تو ضروری ہے۔

    اللہ پاک نے ہمیشہ انسان کیلئے کئی راستے کھول رکھے ہوتے ہیں، اب اہم یہ ہے کہ کون اپنی مرضی کا مقام پانے یا اپنی خواہش بر لانے کیلئے محنت جاری رکھتا ہے ۔ آزمائشیں بھی آتی ہیں مگر وہ ہمرے خدا پر ایمان اور یقین کا ایک امتحان ہوتی ہیں۔ جو انہیں صبر شکر سے گزارنے میں کامیا ب ہو جاتا ہے اسکے لیے اللہ پاک بہت اچھا اجر تیار کر رکھتے ہیں۔

    اس لیے کبھی کبھی ہمیں ہماری من پسند چیز یا راہ مل نہیں پاتی۔ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کبھی کبیھی خدا اپنے بندے کی محنت ، نیت اور اسکا جذبہ پرکھنا چاہ رہا ہوتا ہے، اسی لیے کوئی ایک راہ بند کردی جاتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ مزید کئی راہیں کھول دی جاتی ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کو بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ خدا پاک کے ہر فیصلے میں حکمت ہوتی ہے۔ اگر ہمیں محنت مشقت کے بعد بھی کچھ مل نہیں پا رہا تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے لیے بہتر نہ ہو۔ اگر آزمائش آ جائے تو

    بے صبری کا مظاہرہ کیوں؟
    کیا ہمیں اللہ پاک پر یقین نہیں ؟
    کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہے؟
    لیکن جب محنت اور کوشش کی ہی نہ جائے تو نصیب یا قسمت کو الزام دینا کہاں کا انصاف ہے؟

  • کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ؟ .تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ؟ .تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں اگر ہم تاریخ کی ان ورق کو دیکھیں جب کراچی کولاچی ہوا کرتا تھا تو اس شہر میں امن و سکون سے لوگ رہا کرتے تھے نا مذہب کے نام پر کوئی فساد ہوتا تھا نا ہی لسانیت کی بنیاد پر جھگڑے ہوتے دیکھے، جسے جسے وقت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگا آپسی پیار محبت لوگوں کی دلوں سے ختم ہونا شروع ہوگی،

    گزرتے وقت کے ساتھ کراچی میں رہنے والے خواہ وہ کسی بھی زبان سے تعلق رکھتے ہوں ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے اور آپسی بھائی چارہ ختم ہوتا چلا گیا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کچھ ایسی جماعتیں وجود میں آئی جن کا مقصد تعصب اور لسانیت کو ہوا دینا تھا کوئی مہاجر کے نام پر تو کوئی سندھی کے نام پر آپس میں لڑواتا کہی پٹھان تو کہی پنجابی دست گربان دکھائی دیے

    جس قوم کو قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے ایک جھنڈے تلے جمع کیا تھا وہ قوم لسانیت کی بھینٹ چڑھ گئی۔۔
    کولاچی سے کراچی تک کا سفر بہت کٹھن رہا اس درمیان بہت سے گھر اجڑے بہت سے بچے یتیم ہوئے خون کی ہولیاں کھیلی گئی…..
    آج تہتر سال گزر جانے کے باوجود ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟

    آج تہیہ کرلیں ہم نے یا تو مفاد پرست ٹولے کو اپنے اوپر مسلط کرنا ہے یا پھر ان سے جان چھڑانی ہے۔
    فیصلہ آپ کا..!!

  • پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی؟ تحریر:سید محمد مدنی

    پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی؟ تحریر:سید محمد مدنی

    میں پچھلے بیس سال سے پاکستان کی سیاست دیکھتا آ رہا ہوں اوراس بارجب فلسطین پرظلم ہؤا توبا حیثیت ایک مسلمان ملک پاکستان اورپاکستانیوں کےدل افسردہ تھے پاکستان کی خارجہ پالیسی نےاس بار بڑے عرصے بع دکروٹ بدلی اوراس کی وجہ وزیراعظم پاکستان کی اقوامِ متحدہ وہ تقریرہے جس سےکئی ممالک کے دارالحکومتوں کی زمینیں ہل گئیں وزیراعظم پاکستان عمران خان کا اقوام متحدہ میں دبنگ بیان خاص کرمقبوضہ کشمیراورفلسطین کےحوالےسےایک بہترین اورجامع بیان تھا پاکستان کی اہمیت کااندازہ آپ بین الاقوامی سطح پرافغانستان امن کےبارے کام اورکاوشوں اس کےعلاوہ وزیراعظم عمران خان کی شخصیت مسلم امہ کے لیے کتنی بہترین اوراہم ہے سے لگا سکتے ہیں

    یہی وجہ ہے کہ آج اوآئی سی ہومشرق وسطی کےممالک ہوں یہ بڑےادارے وزیراعظم کی کاوشوں کے بعد متحرک ہوئےاورآج وزیراعظم کی کاوشوں کی وجہ سے پاکستان کےعرب ممالک کےساتھ تعلقات مزید بہترین ہورہے ہیں خراب ہوئے نہیں بس تاثرایسا دیا گیا کہ خراب ہین اوراس میں قصورپاکستان کے دشمنوں کا ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان صرف پاکستان کاہی نہیں بلکہ وہ چاہتےہیں کہ مسلم ممالک اورمسلم امہ جوکہ دنیا کے اس خطےمیں بڑی تعدا دمیں ہیں اپنا اثرپیدا کریں

    صرف اسلاموفوبیا اورنبی آخری الزماں حضرت محمدرسول ﷲ صلعم سے متعلق موضوع پروزیراعظم سرتوڑکوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح بین الاقوامی سطح پر مسلم ممالک مغرب کوکہ باورکرائیں کےاسلام امن کاپیغام ہےاورمغرب کوکوئی حق نہیں کےوہ اس طرح ہمارےپیارے نبی صلعم کی شان میں گستاخی کرےاوروزیراعظم چاہتےہیں کہ کوئی ایسی قرارداد یانظام لائین کہ پھرآئندہ کسی کی جرات ناہو

    کچھ عرصہ پہلےجب پاکستان کےوزیرخارجہ جب فلسطین کےمسئلےپراقوامِ متحدہ گئےاوروہاں ترکی اوردیگرمسلم ممالک کےساتھ بہترین ڈپلومیسی کاکرداراداکیااورپھرجب بین الاقوامی خبروں کےچینل سی این این پرانٹرویو دیا جسے اس شوکی اینکرنےغلط رُخ دینے کی برابرکوشش کی اوروہ یہ تھاکہ میڈیا فلسطین کے مظالم نہیں دکھاتااوراثررکھنے والے افراد ہی میڈیا کوچلاتے ہیں جوکہ درست بات ہے لیکن اس اینکرنےاس کواینٹی سیمیٹیزم کانام دے دیا اینکروزیرخارجہ کی سچائی کوسننا نہیں چاہ رہی تھیں اوروہ اسرائیل کی طرف داری کرنے یا پھروزیرخارجہ کوغلط ثابت کرنے میں لگی ہوئی تھیں لیکن ناکام ہوئیں پاکستان کی دبنگ ڈپلومیسی نےایک بارپھراپنا اثراوراہمیت دکھائی اورحقائق دکھائےجس سےاورمسلم ممالک نےبھی فوری جنگ بندی پرزوردیا

    اب آتےہیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کشمیرکےحوالےسےبھارت کشمیرکواپنااٹوٹ انگ توکہتاہےمگروہیں ان پرظلم کرتاہےعورتوں کی بےحرمتی کرتاہےوزیراعظم پاکستان عمران خان نےبہت چاہاکےپاکستان بھارت میں تعلقات بہترہوں مگربھارت کارویہ ہمیشہ سےگھناؤنارہاہےکچھ عناصرغلط خبریں بھی نکالتے رہے کہ کشمیرپاکستان کے ہاتھ سے گیا اورحکومت پاکستان تجارت کرنے پرلگی ہے تومحترم میرے قارئین وزیراعظم صاحب نے یہ برملاکہا کہ پاکستان بھارت سے تجارت نہیں کرسکتا جب تک وہ کشمیر پر بات نہیں کرتا

    اب افغانستان کوزراگہری نظرسے دیکھتے ہیں یہ پاکستان ہی ہے جوامریکہ کوامریکہ کی ہی مدد سے افغانستان سے نکالنے کا کام کررہا ہےاوردنیا پاکستان کی معترف بھی ہے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو زرا بڑے صفحے پردیکھیں توپاکستان کی اہمیت کا اندازہ آپ کو ہوگا

  • حسیات کی انسانی زندگی  میں اہمیت .تحریر: عترت آبیار

    حسیات کی انسانی زندگی میں اہمیت .تحریر: عترت آبیار

    ‏انسان نے دنیا میں آنکھ کھولی تو سب سے زیادہ آنکھ اور زبان کا استعمال کیا . ارتقا۶ کے ماہرین کے مطابق جنگلی زندگی نے انسانی جسم میں بے پناہ تبدیلیاں کیں .مرد نے شکار کے لیۓ دور دراز جانا شروع کیا تو عورت نے زراعت کے ذریعے اپنی گزر بسر اور تنہاٸ ختم کرنے کے لیۓ سبزیاں اور پالتو ‏جانور اور پرندے پالنا شروع کر دیے اور یوں عورت گھر اور گھر کی حفاظت تک محدود ہوگٸ جبکہ مرد کے لیۓ باہر کی دنیا کے راستے کھلتے چلے گیۓ اس نظریہ میں کتنی حقیقت اور کتنا فسانہ ہے یہ تو وقت کے ساتھ واضح ہوتا جائے گا مگر ایک بات میں حقیقت ضرور محسوس ہوتی ہے کہ جنگل کی زندگی میں جہاں ‏ہر طرف جنگلی جانور اور درندے انسان کے ساتھ بستے تھے آخر انسان حفاظت کے لیۓ کون سے طریقہ اپناتا ہوگا؟ آنکھیں ایک خاص حد سے آگے کام کرنا چھوڑ دیتی تھیں اور ہاتھ سے صرف قریب کی چیزوں کو محسوس کیا جاسکتا تھا .

    اس صورت میں وہ کون سی حسیات تھیں جو انسان کی حفاظت کرنے میں معاون ہوتی تھی ‏علم الانسان کے مطابق سننے اور سونگھنے کی حیسیات انسان زندگی کو محفوظ بنانے میں معاون بنی .اندھیرے میں دور سے آنے والے انجان حملہ آور کو پہچاننے میں ”سماعت“اور”بو“ نے مدد کی اور زندگی اپنے مدارج طے کرنے لگی .ابتدا میں مرد و عورت ایک دوسرے کو خوشبو سے پہچانتے تھے پھر زندگی نے کروٹ ‏لی تو پہچان کے دوسرے طریقے ایجاد ہوے مگر جانوروں میں آج بھی یہی طریقہ موجود ہیں . جنگلی جانور شکار کی خوشبو دور سے سونگھ لیتے ہیں اور کتا ،بلی،شارک،بھیڑیا ہاتھی سب اپنی سونگھنے کی حس کی بدولت ہی زندہ ہیں اور اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق قطار میں چلتے ہوے ‏ایک دوسرے کی بو سونگھ کر چلتی ہیں انسان کی ساٸنسی ترقی نے جسمانی اعضا۶ کو منجمد کر دیا ہے آنکھوں کی کمزوری کو عینک لگا کر دور کیا جاتا ہے کیونکہ اب ہم آنکھوں سے زیادہ کام لیتے ہیں جبکہ دوسرے اعضا۶ کی معاونت کے لیۓ مصنوعی چیزیں مارکیٹ میں آچکی ہیں مگر دنیا میں آنے والا بچہ اپنی ‏ماں کو صرف خوشبو اور آواز سے پہچانتا ہے

    اگر ہم غور کریں تو خوشبو آج بھی زندگی کا بہت اہم حصہ ہے آنکھیں بند کرکے باغ میں جاٸیں تو ہر پھول کو لمس کے بغیر صرف خوشبوسے جان جاتے ہیں .کمرے میں بیٹھے ہونے کے بوجود بارش کی خوشبو اپنے آنے کی خبر دیتی ہے جسے ہم پسینہ کی بو کہتے ہیں وہ بھی ‏دراصل ہر انسان کی پہچان کی وجہ ہے ،کھانے کی خوشبو اشتہا۶ میں اضافہ کا سبب بنتی ہے جبکہ ناپسندیدہ بو تکلیف کا سبب بنتی ہے. ان سب نعمتوں کو ہر انسان اپناحق سمجھتا ہے مگر حق سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان نعمتوں سے نوازنے والی ذات کا شکر ادا کرنے کے لیۓ بھی سوچ لیا کریں .

  • لباس،خواتین اور جنسی ہراسگی .تحریر:علی عبداللہ

    لباس،خواتین اور جنسی ہراسگی .تحریر:علی عبداللہ

    لباس کی اہمیت اسی روز شروع ہو گئی تھی جب شجر ممنوعہ کھانے پر آدم و حوا کو برہنگی کے باعث اپنے بدن جنت کے پتوں سے چھپانا پڑے اور پھر یہیں سے لباس اور حجاب کی بحث نے جنم لیا جو آج تک زیر بحث ہے۔ مرد و عورت کے مابین ایک مخصوص فاصلہ رکھنے کو جہاں مختلف مذاہب نے اصول و ضوابط پیش کیے، وہیں ظاہری طور پر مرد اور عورت کے لیے لباس کی اہمیت اور اس کا طریقہ کار بھی وضع کیا۔ کوئی بھی الہامی مذہب شرم و حیا اور لباس کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں پیچھے نہیں رہا چاہے وہ عیسائیت تھی یا یہودیت یا پھر اسلام، تمام مذاہب نے باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کو بھی محفوظ اور پاکیزہ بنانے پر زور دیا ہے۔ پست ترین قوموں میں بھی لباس کی اہمیت برقرار رہی اور ایسی قوموں نے جنگلوں میں رہتے ہوئے بھی اپنی سمجھ بوجھ اور مرتبے کے مطابق لباس وضع کیے تا کہ ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ جسم کو ڈھانپنے اور حیا کا تصور برقرار رکھا جا سکے۔ سینٹ پال نے لکھا ہے کہ ”خواتین کو سجاوٹ کے لیے ایسا مناسب لباس استعمال کرنا چاہیے جو شائستہ اور عمدہ ہو۔“ اسلام کی بات کریں تو قران کہتا ہے، ”اے اولاد آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانپے اور تمہارے لیے زینت ذریعہ بھی ہو۔“ یہاں ایک بات تو واضح ہو گئی کہ لباس جسم کو ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ ہمیں محفوظ بنانے اور شرم و حیا کو برقرار رکھنے کا باعث ہے۔

    لباس جسم انسانی کو خوبصورتی بخشتا ہے اور اسے طمانیت کے احساس سے روشناس کرواتا ہے۔ انسانی جذبات پر لباس کا گہرا اثر ہے، اسی لیے سیاہ لباس، سفید لباس، سرخ لباس وغیرہ مختلف جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ جبکہ بسنت اور بہار کی مناسبت سے پیلے اور تیز رنگوں والے لباس استعمال کیے جاتے ہیں۔ جذبات برانگیختہ کرنے والے کئی اقسام کے لباس جدید دنیا میں رائج ہیں جو انسانی جذبات کو بھڑکا کر جنسی طور پر انھیں مشتعل کرنے کا باعث بنتے ہیں- آپ کسی بھی بڑے سٹور پر چلے جائیں، وہاں مردوں سے زیادہ خواتین کے لباس کی مختلف اقسام دیکھنے کو ملیں گی کیونکہ جذبات کو ابھارنے میں یہ لباس نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ فرائڈ کے مطابق ”ہمارے اکثر افعال کی رہنمائی عقل نہیں کرتی۔ جو کچھ ہم سوچتے ہیں، جو کچھ ہم خواب میں دیکھتے ہیں اور جو کچھ ہم کرتے ہیں، ان کا تعین اکثر اوقات ہماری غیر عقلی جبلتیں جنھیں ترنگ یا من کی موج بھی کہا جا سکتا ہے کرتی ہیں۔ اس قسم کی غیر عقلی جبلتیں بنیادی انگیختوں یا ضروریات کا اظہار بھی ہو سکتی ہیں۔ مثلاً شیر خوار بچے کا ماں کا دودھ چوسنے کی جبلت بنیادی ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کی جنسی انگیخت بھی بنیادی ہو سکتی ہے۔“ جنس مخالف کی جانب مائل ہونے کی بہت سی نفسیاتی، حیاتیاتی اور فطری وجوہات ہیں اور انہی عناصر کو مزید تقویت دینے کے لیے مختلف انداز کے لباس مستعمل ہیں۔ جب ایک لباس آپ کو محفوظ ہونے کا احساس دلا سکتا یا آپ کو مذہبی اور کسی خاص قوم یا طبقے کا فرد کہلوا سکتا ہے تو یقیناً لباس انسان کے جذبات کو بھی ابھار سکتا ہے۔ لہذا یہ بحث ہی نہیں کہ لباس کا جنسی جذبات پر کوئی اثر ہے یا نہیں، یہ حقیقت ہے کہ لباس جنسی جذبات کو بھڑکانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لباس جنسی ہراسگی کی وجہ ہے؟ اس کا سادہ اور آسان جواب یہ ہے کہ ریپ اور ہراسگی کی بہت سی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ لباس بھی ہے۔ پوری دنیا میں کی جانے والی مختلف تحقیقات کے مطابق خواتین کا چست اور مختصر لباس ہراسگی اور ریپ کی وجوہات میں اہم کردار کا حامل ہے۔ ”Grammer et al. 2004“ کے مطابق کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ مخصوص لباس مردوں کو جنسی طور پہ لبھانے اور اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق جو کہ 20 سال سے 68 سال کی خواتین سے انٹرویو کے ذریعے کی گئی، میں بتایا گیا کہ خواتین لباس، کاسمیٹکس اور اپنی جسمانی حرکات کے ذریعے اپنے جنسی جذبات کو ظاہرکرتی ہیں۔ 2011 میں کی جانے والی ایک تحقیق (Gueguen 2011) کے مطابق مختصر اور چست لباس پہننے والی خواتین کی جانب لوگ سب سے زیادہ متوجہ ہوئے جبکہ ڈھیلے اور مکمل لباس پہننے والی عورتوں کے جانب بہت کم لوگوں نے توجہ دی۔ ایک اور تحقیق سے ظاہر ہوا کہ جو جوان عورتیں مختصر اور اعضا کو ظاہر کرنے والے لباس پہنتی ہیں وہ بہت زیادہ جنسی جرائم کے خطرات سے دوچار ہوتی ہیں۔ ورک مین اور جانسن کی تحقیق جس میں مرد و عورتوں کو دو تصاویر دکھائی گئیں، ایک تصویر میں مختصر اور چست لباس والی خاتون جبکہ دوسری تصویر میں عام ڈھیلے ڈھالے لباس والی خاتون موجود تھی۔ دیکھنے والے مردوں اور عورتوں نے پہلی تصویر میں موجود مختصر لباس والی خاتون کو جنسی ہراسانی پر اکسائے جانے کی وجہ قرار دیا۔ ایسی ہی چند تحقیقات مراکش، افریقہ اور ہندوستان میں بھی ہو چکی ہیں جن میں بہت سی خواتین اس بات سے متفق تھیں کہ چست اور مختصر لباس جنسی ہراسگی کا سبب بنتا ہے۔ لباس اور جنسی ہراسگی کے مابین تعلق پر بہت سے نظریات پیش کیے جا چکے ہیں جن میں ایٹری بیوشن تھیوری، ابجیکٹیفیکیشن تھیوری اور فیمینسٹ تھیوری وغیرہ شامل ہیں۔ 2018 کی تحقیق کے مطابق مختصر اور غیر مناسب لباس میں ملبوس عورت کم ذہین، کمزور کردار اور کم اہل سمجھی جاتی ہے۔

    اس ساری بحث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جنسی ہراسگی میں ہمیشہ عورت ہی ذمہ دار ہوتی ہے اور مرد بیچارہ بے قصور ہے۔ جنسی جرائم کی بے شمار وجوہات ہیں اور مرد ہمیشہ اس میں شامل ہوتا ہے، لیکن لباس کو اس سارے معاملے سے نکال دینا اور اس کی اہمیت سے انکار کرنا خطرناک بات ہے۔ جو لوگ بچوں سے زیادتیوں کی مثالیں دیتے ہیں اور لباس کو جنسی ہراسگی کی وجہ نہیں مانتے، وہ بھی درحقیقت اچھی طرح جانتے ہیں کہ مختلف ذرائع جیسے ٹی وی، انٹرنیٹ، فلمیں، فیشن شو اور سوشل میڈیا ایپس جیسے ٹک ٹاک، لائیکی اور سنیک ویڈیو پر پیش کیے جانے والے پروگرام اور ویڈیوز میں اکثریت ایسے مواد کی ہوتی ہے، جو مسلسل جنسی جذبات کو ابھارتے ہیں اور جن میں ماڈلز اور اداکاروں نے پرکشش اور چست و مختصر لباس پہنا ہوتا ہے۔ نتیجتاً ایک عام آدمی مسلسل جب ان کو دیکھتا ہے اور جنسی طور پر مشتعل ہوتا ہے تو پھر اس کے سامنےجو موقع آئے وہ اسے ضائع نہیں کرتا۔ اس طرح آسان ترین شکار انہیں چھوٹے بچے بچیاں نظر آتے ہیں جنہیں وہ اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ دوسری دلیل لوگ مغرب کی پیش کرتے ہیں کہ وہاں تو ہے ہی مختصر لباس تو پھر وہاں ایسے واقعات کیوں نہیں ہوتے؟ ایسے لوگوں سے عرض ہے کہ ریپ اور ہراسگی کے سب سے زیادہ واقعات یورپ اور امریکہ میں ہی ہوتے ہیں جنہیں ہمارا میڈیا مختلف وجوہات کی بنا پر پیش نہیں کرتا۔ پھر وہاں زنا بالرضا پر کوئی روک ٹوک نہیں اور اکثریت اسی پر گزارہ کرتی ہے۔ سخت قوانین اور سزائیں صرف جبراً زیادتی پر ہیں- اس کے باوجود اس معاشرے میں جنسی جرائم کی شرح بلند ہونا حیران کن ہے اور تحقیقات نے ثابت بھی کیا ہے کہ لباس ان واقعات کے پیش آنے میں خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ڈاکٹر ایلکسس کاریل کے مطابق ”لوگ ان قوانین طبعی کی مخالفت کرتے ہیں جن کو اسلامی زبان میں کائناتی سنتیں کہا جاتا ہے اور اس نتیجے میں تہذیبی و اخلاقی گراوٹ پیدا ہوتی ہے۔“

    مغربی اثر و رسوخ کی بنا پر ہمارے ہاں بھی چونکہ اب عورت آزادی کے نام پر پرانی کسان عورت کی طرح ماں کے کردار اور ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتی ہے اور بقول ایک عرب سکالر کے، وہ ابسن کی عورت کی طرح دوست، گرل فرینڈ اور ساتھی بننے کو جدت سمجھتی ہے۔ حالنکہ یہ مغرب کا مسئلہ تھا کہ امریکی عورت کسی قیمت پر تقریب میں حاضری ترک نہیں کرتی۔ پیرس کی معزز عورت ڈرتی ہے کہ اس کا عاشق اسے چھوڑ نہ جائے اور ابسن کی ہیروئن اپنی ذات کے علاوہ کسی کو توجہ کے قابل نہیں سمجھتی، لیکن اب مشرقی عورت بھی اس ڈگر پر چلنے کو پر پھیلا رہی ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں زنا بالجبر ہو یا بالرضا، دونوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس پر سزائیں مقرر ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ جدیدیت کے قائل افراد کو صرف مرضی کے بنا کیے گئے فعل پر اعتراض ہوتا ہے اور انہیں سخت سزا دیے جانے کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں، مگر اپنی مرضی سے استوار کیے گئے جنسی تعلقات پر اعتراض نہیں ہوتا اور نہ ہی ان پر لاگو شرعی سزا پر بات کی جاتی ہے۔ لباس میں آئے روز جدت کے نام پر عجیب و غریب انداز اپنائے جا رہے ہیں جو شرم و حیا سے عاری ہوتے ہیں۔ اسی مسئلے سے بچنے کے لیے ہی اسلام نے عورت کو شائستہ اور عمدہ لباس پہننے کی تلقین کی ہے، جس میں اس کے اعضا ظاہر نہ ہوں اور مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو اب ان دونوں احکامات پر بیک وقت عمل کرنے کی ضرورت ہے نا کہ صرف نگاہیں نیچی کرنے پر زور دیا جائے۔

  • اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کا قانون. تحریر:عائشہ یاسین

    اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کا قانون. تحریر:عائشہ یاسین

    پچھلے دنوں ایک الگ مسئلے کو سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ یہ مسئلہ نوجوانوں کی شادی کے متعلق تھا۔ نوجوانوں کی اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کو ہر صورت ممکن بنانے پر زور دیا گیا اور شادی نہ ہونے کی صورت میں والدین کو اس کا جواب طلب کرنے کی تجویز دی گئی اور باقاعدہ قانون نافذ کرنے اور اس پر عمل کروانے کے قانون کو رائج کرنے کی تلقین کی گئی۔ اس بحث میں صرف نوجوانوں کی بے راہ روی اور غلط سمت میں جانے کے خدشات کو واضح کیا گیا۔ ایک عام شہری ہونے کے ناطے یہ بات عقل تسلیم کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔ اٹھارہ سال میں شادی کسی صورت ممکن نہیں۔ اس کی ایک نہیں بے شمار وجوہات ہیں۔ ایک عام سروے میں جب یہ بات نوجوانوں سے پوچھی گئی تو ان کے پاس ہنسنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہ تھا۔ اسی طرح جب یہ مسئلہ والدین کے آگے رکھا گیا تو ان کی شکل پر فکر و پریشانی کے ساتھ صرف یہ الفاظ ادا ہوئے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟
    ہم جدید دور کے باسی ہیں اور ہر دور کا ایک تقاضا ہوتا ہے۔ جلد شادی کرنا ہرگز کوئی مسئلہ نہیں مگر اس شادی کو نبھانا اور آنے والی نسل کی پرورش اور کفالت اہم مسئلہ ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر اس قدر نا پختہ اور غیر سنجیدہ دور ہوتا ہے جس میں لڑکا لڑکی زندگی کو ایک خواب و خیال گردانتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی موج مستی اور شور ہنگاموں جیسی ہوتی ہے۔ ان میں احساس زمہ داری اور قوت فیصلہ نہیں ہوتا۔ وہ انتہائی جذباتی اور نڈر ہوتے ہیں۔ فیصلہ کرنا اور اس پر قائم رہنا ان کے لیے دشوار ہوتا ہے۔ ایسے میں ان پر شادی جیسی ذمہ داری ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ اس سے بھی زیادہ ضروری ان کی تعلیم ہے۔ بہتر تعلیم اور بہتر ذریعہ معاش کا ہونا انتہائی اہم ہے۔

    عموما تمام دنیا میں پیشہ وارانہ تعلیم کے مکمل ہونے کی عمر 23 سال ہے۔ پھر اس کے بعد نوکری اور دیگر انٹرنشپ وغیرہ میں ایک سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔اگر ہم اصول و ضوابط کے حساب سے اندازہ لگائیں تو بھی 24 سال کی عمر سے پہلیشادی ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ ہاں جہاں تک بات لڑکیوں کی ہے تو بھی اگر ہم لڑکی کی پیشہ وارانہ تعلیم نظرانداز کرکے ان کی تعلیم کی معیشت انتہائی کمزور ہے اور جہاں پہلے ہی غربت اور جہالت کا راج ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ تجویز نامناسب ہے۔ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی نوجوانوں کے ساتھ ناروا سلوک برتا جارہاہے۔ لڑکیوں کی تعلیم ویسے ہی ایک متنازعہ معاملہ ہے۔ نہ ہی لڑکیوں کو بہتر تعلیمکو مختص کریں تو انٹر بنتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں جہاں ہمارے ملک کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر ان کے جائز حقوق دیے جاتے ہیں۔نو عمری کی شادی کسی طور خیر کا باعث نہیں بن سکتی۔ چھوٹی عمر کی شادیوں سے صحت کے معاملات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ تعلیم کی شرح نمو میں کمی آسکتی ہیں۔ آبادی جو پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہے خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ پیشہ وارانہ افراد کی کمی ہوسکتی ہے۔ نہ سمجھی اور لا ابالی عمر کی شادی گھر کے نہ بسنے کا سبب بن سکتی ہے۔

    شادی کوئی کھیل نہیں بلکہ یہ ایک معاہدہ ہے جو دو افراد کے بیچ قائم ہوتا ہے تاکہ نسل پروان چڑھے اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکے۔ایسا ہرگز نہیں کہ میں کم عمر کی شادی کے خلاف ہوں۔ بلکہ بات صرف اتنی سی ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر کو ہی قانون بنانا دانشورانہ روش نہیں۔ ہاں 24 سے 25 سال کی عمر کی بات کی جائے تو بات کچھ سمجھ آتی ہے کہ جب بچے تعلیم کی فارغ التحصیل ہوجائیں اور ذمہ داریوں کا تعین کرسکیں تو ان کی شادی کر دینی چاہیے۔ بات صرف حقائق و معاشرتی شعور کی بنیاد پر کی جائے تو نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے مگر ایک ایسی تجویز جس کا معاشرے میں اطلاق ہونا ممکن نہ ہوسکے سوائے وقت کے زیاں کے کچھ نہیں۔ نوجوانوں کے لیے اگر قانون دان کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جس سے نوجوانوں کی فلاح و ترقی کے راستے کھل سکیں۔ بہتر معاش زندگی اور بہتر تعلیمی نظام کو مستحکم بنایا جاسکے تاکہ آج کا نوجوان بیرون ملک جانے کے خواب دیکھنے کے بجائے اپنے ملک میں رہ کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکے اور ملک و قوم کو ترقی مل سکے۔ سو اس طرح کے قانون جس سے نوجوانوں کے مستقبل کو خطرہ ہوسکتا ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔