Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ماں کی یاد . تحریر:عترت آبیار

    ماں کی یاد . تحریر:عترت آبیار

    زندگی کی کوئی محرومی نہیں یاد آئی
    جب تلک ہم تھے ترے قرب کی آساٸش میں
    گزرے وقتوں میں ایک ہوا کرتا تھا برگد کا پیڑ ،جس کی چھاٶں بہت گھنی ہوتی تھی اور گرمی کے موسم میں اردگرد کے سب لوگ دھوپ کی تپش سے بچنے کے لیۓ اس درخت تلے اکٹھے ہوجاتے تھے ،اس گھینری چھاٶں میں بیٹھ کر سارے دکھ درد‏بھول جایا کرتے اور زندگی بہتر گزر جاتی ،
    برگد کے پیڑ کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوتی ہیں اور اس پیڑ کو ختم کرنا آسان کام نہیں ،ہمارے ارد گرد بھی بہت سے رشتے برگد جیسی چھاٶں لیۓ ہمیں موسموں کی شدت سے محفوظ رکھتے ہیں .

    ماں بھی ایسا ہی ایک گھنیرا درخت ہے جب تک زندہ رہتی ہے ساری‏گرمی ،سردی آندھی ،طوفان خود پر سہہ کر محض خاموش رہتی ہے اور بچوں پر کسی دکھ کی پرچھاٸیں تک نہیں آنے دیتی اوربچوں کو دنیا ایک کھیل سے زیادہ کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا،ہر طرح کی جگتیں مذاق اور بے فکری چھاٸ رہتی ہے،انسان کبھی سوچ ہی نہیں سکتا کہ اس پیڑ کا تنا کمزور ہو کر اچانک کسی دن ‏ڈھے جائے گا جس کی جڑیں زمین میں دور تک پھیلی ہیں مگر پھر بھی موسموں کی سختیاں برداشت کرتا یہ پیڑ کسیے اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے پتہ ہی نہیں لگتا .اس چھاٶں میں کسی گاٶں کے چوپال کا سا منظر ہوتا ہے رشتے دار ہوں یا محلے دار،عیدوں تہواروں پر اکٹھے ہوتے ہیں اورزندگی کسی فلم کی کہانی‏لگتی ہے مگر جب ماں جیسے برگد کی چھاٶں مٹی اوڑھ کر سو جاتی ہے تب لو کے تھپیڑے انسان کی روح کو جھلسا دیتے ہیں اور خون جما دینے والے سرد ہواٸیں جسم کو شل کر دیتی ہیں تو دینا کی اصل حقیقت سمجھ آتی ہے،کوٸ کتنا حقیقت پسند ہو یا دانشور،ماں کے دنیا سے رخصت کا تصور نہیں کر سکتا،کم از کم‏میں نہیں جانتی تھی کہ میری ماں رخصت ہو جاۓ گی،یوں لگتا تھا کہ ساری دنیا بھی ختم ہو گٸ تب بھی ماں کی چھاٶں ایسے ہی قاٸم و داٸم رہے گی،مگر یہ محض تصوراتی دنیا تھی جو آج بھی نیند کی وادی میں جاتے ہی حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے ،برسوں بیت گۓ اس جداٸ کو مگر آج بھی یہی لگتا ہے کہ وہ‏یہیں کہیں ہے اور ابھی مجھے ڈانٹتے ہوۓ کہیں گی ”تم نے میرا پرس کیوں کھولا“

    میں ہمیشہ سے حساب کے مضموں میں نکمی رہی ،کسی چیز کا حساب رکھنا نہ آیا مگر برگدجیسی چھاٶں کے جاتے ہی حساب کے سارے سوالوں کے جواب ازبر ہوگۓ” بس وہ آواز کہیں کھو“ گٸ ہے‏ہمارے ہاتھ سے ایسے نازک تعلق مٹھی میں بھری ریت کی طرح نکل جاتے ہیں اور ہمیں خبر بھی نہیں ہو پاتی ، جب ایسا کوٸ دل میں اترا ہوا رشتہ اپنے ہاتھوں مٹی کے سپرد کر کے خالی ہاتھ گھر کو لوٹنا پڑے تو وہ رات کیسے کٹتی ہے یہ صرف وہی لوگ جان سکتے ہیں جو اس کرب سے گزرے ہیں ،گھر میں پھیلی ‏سرخ گلابوں کی خوشبو کیسے چبھتی ہے یہ بھی سب نہیں جان سکتے

  • "طبقاتی نظام میں فرق” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    "طبقاتی نظام میں فرق” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    بد قسمتی سے ہمارا طبقاتی نظام معاشرے کا بہت اہم مسئلہ بن چکا ہے اس مسئلے کے پسِ آئینہ جو عوامل کارفرما ہیں اُن سے ہر باشعور اِنسان آگاہ ہے مگر ایسی آگہی اور ادراک کا کیا کرنا جس میں ان مسائل کا حل ہی نہ ہو نہ ان کے تدارک کے لئے کوئی کارگر حکمت عملی تیار کی جا سکے اور تفریق کو کم کرنے کے لئے ہم سب کو انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ایسے حالات میں
    ہر شخص اپنے وسائل سے بڑھ کر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کوشاں رہتا ہے تا کہ اس کے بچے نہ صرف اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکیں بلکہ معاشرے میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کے قابل بھی ہوں اور زندگی کو بہترین طریقے سے گزار سکیں
    لیکن دن رات کی تگ و دو اسے غریبی اور مفلسی کی زنجیروں میں جکڑ کر زہنی بیمار کر دیتے ہیں
    ایسے میں امیر طبقے کے لئے بہترین سہولیات ان کے بچوں کے لئے اچھے تعلیمی ادارے

    پروٹوکول، غریب رکشہ ڈرائیور کے لئے چالان کی ادائیگی لازم ہے جب کہ کسی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر قانون کی دھجیاں بکھیرتے امیر زادے کے لئے نہیں کیوں کہ وہ صاحب حیثیت کی اولاد ہے اس کے ماموں چاچو کی فون کال ہمارے نظام سے ماورا ہے دن رات اسی طبقاتی تفریق کی الجھن مڈل کلاس بچوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے
    سکولز کالجز میں امیروں کے بچوں کے لئے الگ رولز دیکھ کر مڈل کلاس بچے رات کو اپنے والدین سے بہت سے سوال کرتے ہیں ایسے میں ان کے والدین انکو کیا بتائیں کہ ان کے سوال غلط نہیں مگر جواب بھی نہیں ہے

    پھر بھی غریب والدین اپنے بچوں کو سنہرے مستقبل کے حوالے سے خوب صورت خواب دیکھا کر آنے والے کل کے لئے مضبوط کرتے ہیں
    اور پھر وہی بچے پڑھ لکھ کر جب کسی اچھی نوکری پر مامور ہوتے ہیں تو ان میں سے بیشتر اپنا ماضی بھول کر خود کو وی آئی پی کیٹیگری میں رکھ کر باقی سب کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں تو فرق کہاں اور کیسے کم ہو سکتا جب کہ انفرادی طور پر کوئی عمل پیرا نہیں ہوتا
    اس طبقاتی تفریق میں کمی کے لئے حکومتی پالیسیز پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تا کہ تعلیم علاج اور روزگار کے لئے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں ورنہ یہ فرق کبھی نہ ختم ہونے والی ایسی لکیر ہے جسے کوئی کبھی بھی نہیں مٹا سکتا۔

  • موجودہ  کراچی کے حالات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    موجودہ کراچی کے حالات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی ،وہ شہر تھا جسے روشنیوں اور ستاروں کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا بدقسمتی سے اب کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے میرا کراچی
    پاکستان بھر سے ہر قوم و ذات کے لوگ میرے کراچی میں روزگار کمانے آتے تھے یہ وہ شہر تھا جس کو بہترین دنیا کے شہروں میں چوتھا نمبر حاصل تھا پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی میرے شہر قائد کو،

    کراچی میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد سابقہ سٹی ناظم سید مصطفیٰ کمال کے دور نظامت میں ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کراچی پیرس کا منظر پیش کرنے لگا جی ہاں وہ مصطفیٰ کمال جس نے اپنے نظامت کے پانچ سال دن رات ایک کر کے کراچی کی خوب خدمت کی جب لوگ راتوں کو سوتے تھے مصطفیٰ کمال انکی صبح بہتر بنانے کے لئے مصروف عمل رہے 2005 سے 2010 کا یہ دورانیہ کراچی والوں کیلئے تاریخ کا سب سے بہترین وقت رہا ہے یہ وہ وقت تھا جب مصطفیٰ کمال میئر کراچی بنے اور دل و جان سے کراچی والوں کی خدمت کی کیا لیاری ایکسپریس وے جہاں چھتیس ہزار گھر نالوں پر بنے ہوئے تھے وہاں کے رہائشیوں کو مختلف آبادیوں میں آباد کیا یہاں بات ختم نہیں ہوتی کٹی پہاڑی جو پختون بھائیوں کا گڑھ تھا وہاں لوگ جانے سے ڈرتے تھے وہاں پہاڑی توڑ کر راستہ بنانے والے بھی یہی مصطفیٰ کمال ہی تھی آج کراچی والوں کو مصطفیٰ کمال کی یاد تو آتی ہوگی..

    بہرحال یہ وقت تھا جب کراچی شہر دنیا کے پانچ بہترین شہروں میں شمار ہوتا تھا اور آج دنیا کے بدترین شہروں میں کراچی کا 16 واں نمبر ہے کراچی کے نام نہاد سیاستدانوں نے اپنے سیاست کو چمکانے کے واسطے کراچی کو لاوارث بنا دیا استعمال کرکے اللّه پاک میرے کراچی کو مصطفیٰ کمال جیسی باکردار قیادت اور باصلاحیت کردار سے نوازے آمین۔

  • کالے دل کے خوبصورت لوگ۔۔۔تحریر: وسیم اکرم

    کالے دل کے خوبصورت لوگ۔۔۔تحریر: وسیم اکرم

    ‏روز مرہ زندگی میں آپ کو بے شمار ایسے لوگوں سے پالا پڑے گا جو ظاہری طور پر عزت و اکرام کے حامل ہوں گے انہیں مرتبہ، مقام اور دولت بھی میسر ہوگی مگر ان کی ذات سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اگلے کا دل اور روح زخمی کر دیتے ہیں۔ لوگوں کے جذبات ان کا ایندھن ہوتے ہیں۔۔۔ چھوٹے دل والے یہ خوشامد پسند ہوتے ہیں انہیں اپنی تعریف کرتے اور کرواتے رہنا بے حد پسند ہوتا ہے۔ یہ خود نمائی کے شوقین ہوتے ہیں۔ انہیں اپنا آپ گھڑی گھڑی جتانے کی لت لگی ہوتی ہے۔ یہ ’ریکگنیشن اور وفاداریوں‘ کے بھوکے ہوتے ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ بزدل ہوتے ہیں۔ دلیری ان میں نام کی نہیں ہوتی۔ گالیاں دینے میں ماہر ہوتے ہیں۔۔۔ یہ مرد ہوں بھی تو ان میں مردانگی کا کوئی وصف نہیں ہوتا۔۔۔ یہ ہمیشہ ’پلے سیف‘ کی پالیسی کو اپنائے رکھتے ہیں۔ ان میں قربانی کا حوصلہ تو بالکل نہیں ہوتا اور یہ ہر معمولی خطرے سے بھی خود کو بچانے کی کوشش میں مصروف عمل رہتے ہیں، پھر چاہے ان کے ایک دلیرانا اقدام کی کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو۔۔۔۔

    ایسے بے چارے اپنی غلطی ماننے کو اپنی بے عزتی تصور کرتے ہیں اور خود کو ہر اس مقام اور حالت سے بچا کر رکھتے ہیں جہاں انہیں تنِ تنہا اپنا آپ یا اپنی کوئی قابلیت یا دعوٰی ثابت کرنا پڑجائے۔ یہ ایک خوبی بہرحال ان میں ہوتی ہے کہ وہ کمال کی ’پرسیپشن مینجمنٹ‘ کرتے ہیں۔ اپنا تراشیدہ چہرہ کبھی بے نقاب نہیں ہونے دیتے۔۔۔ انکی جھوٹی انا ہمیشہ بھوکی اور لالچی رہتی ہے۔ یہ آپ کا خون تک چوس کر ہضم کر جاتے ہیں اور ہمیشہ ’اور کی دوڑ‘ میں مصروف رہتے ہیں۔ اور یہ دوڑ صرف مادی چیزوں کی نہیں ہوتی بلکہ انسانی رویوں، جذبات اور خلوص، خدمت کی بھی ہوتی ہے۔ انہیں ہر وقت مزید خدمت، مزید قربانی، مزید خلوص اور مزید ’پروٹوکول‘ درکار ہوتا ہے۔۔۔ ایسے لوگ جس ٹیم یا گروہ میں ہوں اس گروہ سے وفاداریوں پر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں جب تک انکی منشاء کے مطابق سب کچھ ہوتا رہے تو ٹھیک ورنہ اپنے مخالف کو غداروں کی فہرست میں شامل کرلیتے ہیں۔۔۔ میں نے کمیونیکیشن اسٹڈیز کے نفیساتی پہلو پڑھتے وقت یہ سیکھا تھا کہ آپ جب بھی کسی سے ملتے ہیں تو آپ سے پہلے آپ دونوں کی ’اینرجیز‘ آپس میں ملتی ہیں اور آپ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی آپ کا ایک خاص تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ یہ تعلق آپ میں مخاصمت، تلخی، جھجک یا آسانی اور خلوص پیدا کرتا ہے۔ یہ آپ کے آئندہ تعلق کی نوعیت کی بنیاد بنتا ہے۔ مگر آپ جب بھی ایسے لوگوں سے ملیں گے آپ کو ان سے خوف، جھجک، مخاصمت یا تلخی محسوس ہوگی۔ کچھ لوگ کمال فنکار ہوتے ہیں، پہلی ملاقات میں شاید آپ کی ملاقات ایک چھلاوے سے ہو مگر وقت سے ساتھ یہ تحلیل ہوتا رہے گا۔۔۔

    ان لوگوں سے نفرت کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ تو ہمدردی کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے جذباتی وابستگی پیدا نہیں کرنی چاہیے اور انہیں کسی بھی طرح خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ یہ اعصاب پر سوار ہونے لگیں تو انہیں چیلنج کرنا چاہیے اور یقین جانیں ان کی جڑوں میں ایک خوف ہوتا ہے اور یہ خوف کبھی بھی آپ کی جرأت کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ آپ کی جیت ایسے لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے۔۔۔ ایسے لوگ ہر وقت دوسروں کو عزت پر لیکچر دیں گے لیکن یقین جانے کم ظرف اور گھٹیا انسان جتنی مرضی عزت کی باتیں کر لے کسی کیطرف سے ملنے والی عزت کا بوجھ کبھی نہیں اٌٹھا سکتا۔۔۔ یہ لوگ معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے ہوتے ہیں جہیں صرف سوشل میڈیا پر فلاسفر بننے کا موقع ملتا۔۔۔
    @PatrioticWsi

  • انسان کیا ہے؟ :تحریر مبین خان

    انسان کیا ہے؟ :تحریر مبین خان

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​

    یاایہا الناس انتم الفقراءالی اللّٰہ واللّٰہ ھو الغنی الحمید (فاطر: ١٥)
    ”لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اللہ ہی ہے جو بے نیاز ہے اور آپ اپنی ذات میں حمد کے لائق“۔

    عزیز دوستوں!۔
    فقر بندگی کا ایک زبردست موضوع ہے۔ بلکہ فقر ہی بندگی ہے۔ انسان کیا ہے؟ محتاجیوں اور ضرورت مندیوں کا مجموعہ۔ اپنی یہ حقیقت پہچاننا، اس کا اعتراف اور احساس کرنا بندگی کا ایک زبردست عمل ہے۔ دوسری طرف اللہ کو ہر ضرورت سے بے نیاز اور ہر نقص سے مبرا جاننا اور یوں اللہ کو خود اس کی ذات میں قابل ستائش مان کر اس کی حمد کرنا عبادت کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔

    ان دونوں باتوں میں براہ راست تعلق ہے۔ جس قدر انسان اپنے فقر اور احتیاج کا احساس کرتا ہے اتنا ہی وہ اللہ کی بے نیازی کا معترف ہوتا اور اس کی مطلق حمد کا دم بھرتا ہے۔ جس قدر وہ اللہ کے غنی اور بے نیاز ہونے کی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے اتنا ہی وہ اپنی اور سب مخلوق کی اللہ کے آگے محتاجی اور ضرورت مندی کا معترف ہوتا ہے اور اسی قدر اس پر خالق اور مخلوق کی حقیقت کا یہ فرق واضح ہو جاتا ہے۔ نہ صرف خالق اور مخلوق کا یہ فرق ظاہر ہوتا ہے بلکہ خالق اور مخلوق کا یہ تعلق بھی واضح ہوتا ہے۔ ایک بے نیاز اور دوسرا اس کامحتاج۔ ایک غنی اور دوسرا اس کے در کا فقیر۔

    چنانچہ آدمی کا اپنے آپ کو فقیر اور محتاج جاننا اور اللہ کے غنی اور بے نیاز ہونے کا معترف ہونا ایک محنت طلب کام ہے اور دل کا ایک مسلسل عمل۔

    البتہ انسان بہت جلد بھول جانے والا ہے۔ اِس کی ضرورت پوری ہو تو یہ اپنا فقر بھول جاتا ہے۔ اس کی مراد برآئے تو یہ اپنی یہ حقیقت کہ یہ محتاجیوں کا مجموعہ ہے اس کی نگاہ سے ہی روپوش ہو جاتی ہے۔ ایک شکم سیر کو ’بھوک‘ کا تصور کرنا بہت ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ پیٹ بھرا نہیں کہ ضرورت مندی کا تصور ہی چلا گیا! اب جب تک دوبارہ بھوک نہیں لگتی یہ بھلا چنگا ہے! یہ لمحہء حاضر کا اسیر جاہل محظ ہے ظلوم اور جہول۔ تب اس میں تونگری اور بے نیازی آتی ہے جو کہ دراصل اللہ کی صفت ہے اور صفتِ بندگی کے سراسر منافی۔ انسان کا بے نیاز ہونا اور اپنے آپ کو غیر ضرورت مند جاننا دراصل اپنی اوقات بھول جانا ہے۔ یہ دہری جہالت ہے۔ ایک اس کا اپنے آپ کو محتاج نہ جاننا او دوسرا کسی مہربان کے ہاتھوں اپنی ضرورت پوری ہو جانے کو بے نیازی کے مترادف جان لینا۔ جو اپنی صفت سے ناآشنا رہے وہ اللہ کی معرفت بھی کبھی نہیں پاتا۔ اپنی ’بندگی‘ اور ’عاجزی‘ سے ناواقف اللہ کی ’خدائی‘ اور ’بے نیازی‘ کا کیونکر معترف ہوگا! ایسے آدمی کی نگاہ میں ’بندگی‘ اور ’خدائی‘ کے مابین بہت ہی تھوڑا فرق رہ جائے گا جو ممکن ہے کہ پلک جھپکنے میں جاتا رہے۔ شرک کر لینا بھی لوگوں کیلئے تبھی آسان ہو جاتا ہے۔

    اسلامی عبادات ساری کی ساری دراصل اسی فقر کا اظہار ہیں۔ مخلوق کی اسی صفت کا اقرار ہیں۔ بندگی کا ہر عمل اللہ کے غنی مطلق اور لائق حمد ہونے کا اعتراف ہے۔ نماز ہے تو تب دُعا ہے تو تب۔ تسبیح ہے تو تب اور ذکر ہے تو تب۔ سب اسی حقیقت کا اعادہ ہے۔ البتہ روزہ اس حقیقت کا ایک بہت ہی منفرد اظہار ہے۔ روزہ ایک موحد کی زبان پر اس کے اس فقر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روزہ کی صورت میں ایک موحد کا رواں رواں یہ بولتا ہے کہ وہ مجسم احتیاج ہے اور اس ذات کا سدا محتاج جو ہر عیب سے پاک، ہر ضرورت سے بے نیاز، غنی مطلق، لائق حمد اور احد اور صمد ہے اور جس کے آگے ہر مخلوق اپنی ضرورت کیلئے دست سوال درازکرتی اور ایک اسی کے فضل کے سہارے جیتی ہے اور جس کے در کا یوں محتاج ہونا کہ اس کی محتاجی اس کے ماسوا ہر ہستی سے اس کو بے نیاز کردے نہ صرف فضیلت کی بات ہے بلکہ انسان کی اصل دولت اور سرمایہء افتخار ہے۔ پس روزہ ایک انداز کی تسبیح ہے۔ یہ اپنے فقر کا بیان ہے اور خداکے بے عیب اور بے نیاز ہونے کا اقرار اور اس کے فضل کا اعتراف اور اس کی احسان مندی کا اظہار اور اس کی دین پر قناعت اور اس سے مانگنے کا ایک اسلوب۔

    چنانچہ روزہ اس صفت بندگی کا اقرار ہے۔ یہ انسان کے فقر کا بیان ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ بندہ بھوکا ہے _ اور بھوک بندے کی صفت ہے _ جب تک کہ اللہ اس کو نہ کھلائے اور یہ کہ پاکی اور تعریف اس کی جو اس کی اس بھوک کا علاج اپنے پاکیزہ رزق سے کرتا ہے اور یہ کہ تعریف اس کی تب بھی جب بندہ بھوکا ہو اور تعریف اس کی تب بھی جب بندہ اس کا رزق کھائے اور اس رزق سے اپنی بھوک اور پیاس بجھائے۔ سو یہ ایک بے لوث تعلق ہے۔ گو یہ ایک محتاج اور ایک غنی کا تعلق ہے اور گو یہ اس کے فضل کا ہر دم سوالی ہے مگر اس کو یہ ظرف بھی نصیب ہوا ہے کہ اِس کیلئے اُس کی تعریف کرنا کچھ پیٹ بھرنے پر موقوف نہیں! سبحان اللہ روزہ کیسی خوبصورت عبادت ہے! اللہ کی تسبیح، اللہ کی بندگی، اللہ کی حمد اور اللہ کی فرمانبرداری کچھ اِس کی شکم سیری پر منحصرنہیں۔ یہ بھوکا رہ کر بھی اس کی ویسی ہی حمد اور تعریف کرے گا جیسی کہ شکم سیر ہو کر۔

  • ,”ڈو مور سے نو مور تک” تحریر:محمد محسن

    ,”ڈو مور سے نو مور تک” تحریر:محمد محسن

    چند دن پہلے آپ نے Absolutely Not کی تو خوب دھوم سنی ہو گی۔ عمران خان کے امریکی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں جب پاکستان سے فضائی اڈوں کا مطالبہ کیا گیا تو بدلے میں ملنے والے بیان نے اینکر پرسن کو حیرانی میں مبتلا کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ پاکستانی حکمران ٹی وی پر بیٹھا جب لائیو انٹرویو دے رہا ہو گا تو تاریخی معمول کے مطابق ہاں بولے گا یا پھر شاید بات کو گھما پھرا دے گا۔ لیکن اس کو کیا معلوم تھا کہ اس بار تو ساری گیم ہی الٹ جائے گی۔ اس واضح نا نے تو عالمی منظر نامے پر اک کھلبلی مچا کر رکھ دی۔ کھلبلی مچتی بھی کیوں نہ کیونکہ ہمیشہ سے ہمارا یہ معمول رہا کہ جب بھی امریکہ مدد کے لیے ہمارے پاس آیا تو ہم نے ان کے لیے دل و جان سے انکی خوب آہ و بھگت کی اور ان کو ہر ممکن بلکہ نا ممکن مدد بھی فراہم کی سوائے چند اک مواقعوں کے۔ دل میں یہی تمنا لیے اس دفعہ بھی پہلے امریکی انٹیلیجنس کا ڈائریکٹر اور بعد میں ٹی وی اینکر آئے لیکن دونوں کو کوئی خاص لفٹ نہیں کروائی گئی۔ ماضی میں کیا کیا ہوتا رہا آئیے پہلے اک نظر اس پہ ڈال لیتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد اس وقت کی دونوں سپر پاورز کے انویٹیشنز پاکستان کو موصول ہوئے۔ سوویت یونین کے تعلقات پہلے سے ہی انڈیا خاص طور پر نہرو فیملی سے اچھے ہونے کی بنا پر اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نے امریکہ کو منتخب کیا۔ جس پر تب سے لیکر آج تک تنقید ہوتی آئی ہے۔ خیر تب کے حالات کے مطابق جو ان کو بہتر لگا انہوں نے کیا۔ ہمیں انڈیا کے مقابلے میں اک ایسا طاقتور حلیف چاہیئے تھا جو مشکل میں ہماری مدد کر سکتا ۔ دوسری جانب امریکہ کو ساؤتھ ایشیاء میں اک ایسا حامی ملک چاہیئے تھا جو اس خطہ میں سوویت یونین کا پھیلاؤ روکنے میں اسکا مددگار ثابت ہو۔ لہٰذا لیاقت علی خان کے دور میں پہلی بار امریکہ نے پاکستانی سر زمین میں اڈے مانگے لیکن لیاقت علی خان نے انکار کردیا۔ یہ انکار دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں سرد مہری کا باعث نہ بنا جیسا کہ عموماً ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایوب خان کے دور تک پاکستان مختلف امریکی فوجی اتحادوں میں ان کے ساتھ شامل ہوا جسکی بدولت پاکستان کو فوجی اور معاشی امداد ملتی رہی۔ اسی دوران میں حسین شہید سہروردی وہ پہلا پاکستانی وزیر اعظم تھا جس نے 1956 میں پشاور کا ائیر سٹیشن امریکہ کو لیز پر دیا تاکہ وہ سوویت یونین کی جنوبی ایشیاء میں بڑھوتری پر اک نظر رکھ سکے۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے اک ایسا سلسلہ شروع ہو جو کہ اکیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہا۔ ایوب خان کے دور میں تو باہمی تعلقات نقطہء عروج تک جا پہنچے وہ تو پاکستان- انڈیا کی 1965 کی جنگ شروع ہو گئی جس نے امریکی عیاری کو ظاہر کر دیا نہیں تو شاید وہ اک وقفہ جو اس جنگ کے بعد رونما ہوا کبھی نہ ہوتا۔ اسی اک مختصر وقفہ کے دوران پاکستان نے امریکہ کے علاؤہ دوسرے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے شروع کر دئیے۔

    پاکستان-انڈیا کی 1965 اور 1971 کی یکے بعد دیگرے جنگوں نے امریکی دوستی کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔ جسکی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آتے ہی سوویت یونین اور چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے شروع کر دئیے تھے۔ بھٹو کو بہرحال یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس وقت بھٹو نے پہلے والی غلطی نہ دہرائی۔ بھٹو نے چین اور سوویت یونین کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات بحال رکھے جسکی وجہ سے اس نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے امریکہ اور چین کے تعلقات کی راہ ہموار کی۔ بھٹو سوویت یونین سے انویسٹمنٹ لے کر آیا جسکی بدولت پاکستان میں سٹیل مل لگی۔ اس دوران میں چین ابھی اتنا طاقتور اور اہم نہیں تھا کہ اس پر مکمل انحصار کیا جاتا۔ دوسرا بھٹو کیپیٹل ازم کی بجائے سوشلزم کو زیادہ اہمیت دیتا تھا۔ اگرچہ اس دورانیہ میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی لیکن پھر بھی امریکہ نے بھٹو کو اپنے پیش نظر رکھا جسکی سب سے بڑی وجہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا۔ ایوب خان کے دور کے بعد تعلقات جس سرد مہری کا شکار ہوئے تھے وہ ضیاء الحق کے آنے کے بعد گرمجوشی میں بدل گئے۔ ضیاء الحق پاکستان کا شاید پہلا حکمران تھا جس کو امریکہ میں فرسٹ کلاس پروٹوکول دیا گیا۔ وہ ڈیمانڈز جو ہوائی اڈوں پر منحصر ہوتی تھی اب کی بار بہت آگے چلی گئیں۔ قصہ مختصر یہ کہ پاکستان اک پرائ جنگ میں کود پڑا جس میں نہ صرف اڈے دئے گئے بلکہ انٹیلیجنس، ٹریننگ کے ساتھ ساتھ لڑنے کے لیے مجاہدین بھی فراہم کیے گئے۔ اس کے بدلے میں خوب امداد بھی ملی۔ سوویت یونین کی فوجوں کے انخلاء کے ساتھ ہی پاکستان پر شدید معاشی پانبدیاں لگا دی گئیں جو کہ اکیسویں صدی تک جاری رہیں۔ مجاہدین کی سوویت یونین کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد وہی امریکہ جس کو پتہ تھا کہ پاکستان ایٹمی پروگرام پر کام کر رہا ہے نے فوراً پاکستان پر شدید قسم کی معاشی پانبدیاں لگا دیں۔ جنگ کے بدلے میں ملنے والی فوجی اور معاشی امداد کو فوراً بند کر دیا گیا۔ مختصر یہ کہ بیسویں صدی کا آخری عشرہ پاکستان کے لیے بہت تنگدستی والا عشرہ تھا۔ وہ تو بھلا ہو چین اور سعودی عرب کا جنہوں نے اس مشکل ترین صورتحال میں بھی پاکستان کا ساتھ دیا۔ 9/11 کے بعد افغانستان میں وار آن ٹیرر شروع کی گئی اور وہی امریکہ جو 1989 کے بعد ہمرے طرف سے منہ فیر گیا تھا اک بار پھر بھاگا بھاگا پاکستان کے پاس آیا اور مدد طلب کی جس میں فوجی اڈے سرفہرست تھے۔ اس بار انکا خیال تھا کہ پاکستان یا تو فوجی اڈے نہیں دے گا یا پھر سخت شرائط منوائے گا جس کہ لیے وہ پہلے سے ہی تیار تھے۔ لیکن قربان جائیں اپنے جنرل پرویز مشرف سے جنہوں نے سب کی سب امریکی شرائط کو من و عن یہ کہہ کر قبول کر لیا کہ پاکستان کے پاس اس کے علاؤہ اور کوئی آپشن ہی نہیں تھی۔ وہ امریکہ جو اپنی شرائط میں سے کچھ کے مانے جانے پر مرکوز تھا اسکی سب شرائط کو تسلیم کر لیا گیا۔ اس بات پر امریکی خود بھی شسدر رہ گئے کہ وہ پاکستان جس کو ہمیشہ ہم نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا اس نے پھر ان کا بھرپور ساتھ دینے کی حامی بھر لی۔ خیر یہاں سے نا تو امریکی پھولے نہ سما رہے تھے اور نہ ہی مشرف کی کابینہ۔ یہاں سے پاکستان میں ڈرون حملوں اور ڈو مور کا اک ایسا سلسلہ شروع ہو جو کہ عمران خان کے آنے تک جاری رہا۔

    یہ ڈرون حملے اور ڈو مور کا تانا بانا مشرف دور سے شروع ہوا اور پیپلز پارٹی کے دور میں اپنے عروج پر پہنچا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اک طرف تو ڈرون حملوں کی اجازت دیتی رہی تو دوسری طرف انکو تنقید کا نشانہ بھی بناتی رہی۔ وہ تو بعد میں وکی لیکس کے دوران یہ واضح ہوا کہ پیپلز پارٹی نے تو ان ڈرون حملوں کے بارے میں ڈبل سٹینڈرڈز پالیسی اختیار ہوئی تھی۔ ہماری جنریشن کو جب تھوڑی بہت سیاست کی سمجھ آنے لگی تب سے ہم تو امریکہ کی جانب سے اک ہی آرڈر سنتے آئے ہیں "ڈو مور”. یہ ڈو مور کا سلسلہ بش جونیئر سے شروع ہوا اور اب شاید اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ جارج بش، کی دو ٹرمز اور اس کے بعد باراک اوباما کی دونوں ٹرمز تک یہ اپنے فل آب و تاب سے جاری رہا۔ ہمارے جیسے بچے تب سوچتے تھے کہ کیا مجبوری ہے کہ اک امریکی صدر یا کوئی امریکی حکومت کا نمائندہ جب بھی پاکستان آتا ہے یا یہاں سے ہمارے حکمران وہاں جاتے ہیں تو ڈو مور کی ہی آواز آتی ہے۔ ویسے کیسی پالیسی تھی کہ پاکستان نے اپنے ہی اڈے دیئے اور اپنے ہی لوگ ان کے ہاتھوں سے مروا رہے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ جو دہشت گرد تھے ان کے خلاف آپریشن کیا جاتا لیکن کسی نے سوچا کہ اب تک تقریباً اسی ہزار مرنے والے پاکستانیوں میں سے کتنے دہشت گرد تھے اور کتنے معصوم۔ عمران خان نے ہماری جنریشن کو اسی لی ہی فیسینیٹ کیا کہ یہ بندہ واحد تھا جس نے ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کی مخالفت کی۔ اسی لیے پاکستانیوں خاص طور پر یوتھ نے اسکا ساتھ دیا کہ یہ بندہ کچھ کرے گا۔ ہاں اگرچہ حکومت میں آنے کے بعد عمران خان نے اپنے کئی وعدے پورے نہیں کیے لیکن اک بات پر قائم رہا کہ امریکہ کے ساتھ برابری کے تعلقات ہوں گے اگر ہوئے تو۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آیا تو اس نے آتے ہی پاکستان کے متعلق اپنے پہلے ٹویٹ میں کچھ ایسی زبان استعمال کی جسکا عرف عام میں مطلب ڈو مور تھا۔ لیکن جوابی ٹویٹ میں عمران خان نے بھی وہی لہجہ استعمال کیا ۔ جب عمران خان امریکی دورے پر گیا تو معمول سے ہٹ کر پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس نے روایتی حکمرانوں کی طرح امداد کی بھیک نہیں مانگی یہاں تک کہ امداد کا لفظ تک استعمال نہیں کیا۔ پچھلے ہفتہ میں امریکی ٹی وی دئیے جانے والے انٹرویو میں عمران خان نے امریکہ کے متعلق وہی رویہ، وہی پالیسی اختیار کی جسکا ذکر پچھلے بیس سالوں سے کرتا آرہا تھا۔ خیر عمران خان نے absolutely not تو کہہ دیا اب امریکہ اور ایورپ کی جانب سے اسکا ری ایکشن بھی آسکتا ہے جس کے لیے پاکستان کو تیار رہنا ہوگا۔ عمران خان نے لیاقت علی خان کی طرح جو پالیسی آج اختیار کی اگر یہ پالیسی پاکستانی حکمران شروع سے اختیار کرتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ آج پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہو چکا ہوتا۔ آج پاکستان آئی۔ایم۔ایف، ورلڈ بینک اور فیٹیف پر انحصار نہ کر رہا ہوتا کیونکہ انہی اداروں اور امریکہ نے شروع سے پاکستان کو اپنی امداد پر لگا دیا جسکی وجہ سے ہم آج تک معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہو سکے اور نہ ہی ہم نے اس کے لیے تگ و دو کی۔

  • body {
    font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;
    margin: 0;
    }

    html {
    box-sizing: border-box;
    }

    *, *:before, *:after {
    box-sizing: inherit;
    }

    .column {
    float: left;
    width: 33.3%;
    margin-bottom: 16px;
    padding: 0 8px;
    }

    .card {
    box-shadow: 0 4px 8px 0 rgba(0, 0, 0, 0.2);
    margin: 8px;
    }

    .about-section {
    padding: 50px;
    text-align: center;
    background-color: #474e5d;
    color: white;
    }

    .container {
    padding: 0 16px;
    }

    .container::after, .row::after {
    content: "”;
    clear: both;
    display: table;
    }

    .title {
    color: grey;
    }

    .button {
    border: none;
    outline: 0;
    display: inline-block;
    padding: 8px;
    color: white;
    background-color: #000;
    text-align: center;
    cursor: pointer;
    width: 100%;
    }

    .button:hover {
    background-color: #555;
    }

    @media screen and (max-width: 650px) {
    .column {
    width: 100%;
    display: block;
    }
    }

    About Us Page

    Some text about who we are and what we do.

    Resize the browser window to see that this page is responsive by the way.

    Our Team

    Jane

    Jane Doe

    CEO & Founder

    Some text that describes me lorem ipsum ipsum lorem.

    jane@example.com

    Mike

    Mike Ross

    Art Director

    Some text that describes me lorem ipsum ipsum lorem.

    mike@example.com

    John

    John Doe

    Designer

    Some text that describes me lorem ipsum ipsum lorem.

    john@example.com

  • حُسنِ اَخلاق .تحریر:مبین خان

    حُسنِ اَخلاق .تحریر:مبین خان

    حسن اَخلاق کی ایک پہلو کے اعتبار سے تعریف:‏
    ’’حسن‘‘ اچھائی اور خوبصورتی کو کہتے ہیں، ’’اَخلاق‘‘ جمع ہے ’’خلق‘‘ کی جس کا معنی ہے ’’رویہ، برتاؤ، عادت‘‘۔یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے رویے یا اچھے برتاؤ یا اچھی عادات کو حسن اَخلاق کہا جاتا ہے۔امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:

    ’’اگر نفس میں موجود کیفیت ایسی ہو کہ اس کے باعث عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ اچھے اَفعال ادا ہوں تو اسے حسن اَخلاق کہتے ہیں اور اگر عقلی اور شرعی طور پر ناپسندیدہ برے اَفعال ادا ہوں تو اسے بداَخلاقی سے تعبیر کیاجاتا ہے۔‘‘
    حسن اَخلاق میں شامل نیک اعمال:

    حقیقت میں حسن اَخلاق کا مفہوم بہت وسیع ہے، اس میں کئی نیک اعمال شامل ہیں چند اعمال یہ ہیں:معافی کو اختیار کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا،جاہلوں سے اعراض کرنا، قطع تعلق کرنے والے سے صلہ رحمی کرنا،محروم کرنے والے کو عطا کرنا،ظلم کرنے والے کو معاف کردینا،خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا،کسی کو تکلیف نہ دینا،نرم مزاجی، بردباری، غصے کے وقت خود پر قابو پالینا، غصہ پی جانا، عفو ودرگزر سے کام لینا، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا، مسلمان بھائی کے لیے مسکرانا، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا، لوگوں میں صلح کروانا، حقوق العباد کی ادائیگی کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا، دعائے مغفرت کرنا، کسی کی پریشانی دور کرنا، کمزوروں کی کفالت کرنا، لاوارث بچوں کی تربیت کرنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا، بڑوں کا احترام کرنا، علماء کا ادب کرنا، مسلمانوں کو کھانا کھلانا، مسلمانوں کو لباس پہنانا، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا ، مشقتوں کو برداشت کرنا، حرام سے بچنا، حلال حاصل کرنا، اہل وعیال پر خرچ میں کشادگی کرنا۔ وغیرہ:
    آیت مبارکہ:‏

    اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:( وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴))(پ۲۹، القلم: ۴)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے ۔‘‘اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے:حضرت اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سیّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خُلْق قرآن ہے ۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی نے مجھے مَکارِمِ اَخلاق و محاسنِ افعال کی تکمیل وتتمیم (مکمل وپورا کرنے)کے لئے مبعوث فرمایا ۔

    ترے خُلْق کو حق نے عظیم کہا

    تر ی خِلْق کو حق نے جمیل کیا
    کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا!

    (حدیث مبارکہ) میزان عمل میں سب سے وزنی شے:

    حضرتِ سیِّدُناابودَرْداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ باقرینہ ہے: ’’ قیامت کے دن مؤمن کے میزان میں حسنِ اَخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں ہو گی۔‘‘

    حسن اَخلاق کا حکم:
    حسن اخلاق کے مختلف پہلو ہیں اسی وجہ سے بعض صورتوں میں حسن اخلاق واجب، بعض میں سنت اور بعض صورتوں میں مستحب ہے۔
    حسن اَخلاق اپنانے کے دس(10)طریقے:
    (1)اچھی صحبت اِختیار کیجئے:
    (2) حسن اَخلاق کے فضائل کا مطالعہ کیجئے:
    (3)بداَخلاقی کی دُنیوی واُخروی برائیوں پر غور کیجئے:
    (4)حسن اَخلاق میں شامل نیک اَعمال کی معلومات حاصل کیجئے:
    (5)دِل میں احترامِ مسلم پیدا کیجئے:
    (6)نفسانی خواہشات سےپرہیز کیجیے:‏
    (7)حسن اَخلاق کی بارگاہِ اِلٰہی میں دعا کیجئے:
    (8)بُرائی کا جواب اچھائی سے دیجیے:
    (9)بد اَخلاقی کے اَسباب کو دُور کیجئے:
    (10)بلا وجہ غصہ چھوڑ دیجیے:

    تحریر مبین خان

  • صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    دنیا کی ایک تحقیق بھی یہ ثابت نہیں کرسکی کہ کھانے کے بعد Cold Drink پینے سے کھانا ہضم ہوجاتا ہے۔کھانے کے بعد ڈکار (Burp) آنے کو ہم کھانا ہضم ہونے کی علامت سمجھتے ہیں ، جو کہ غلط ہے۔
    دراصل ڈکار آنا کھانا ہضم ہونے کی علامت نہیں بلکہ جب ہم کھانا تیزی سے کھاتے ہیں تو ہمارے پیٹ میں کھانے کے ساتھ ساتھ ہوا (air) بھی چلی جاتی ہے۔ پھر جب ہم کھانے سے فراغت حاصل کر لیتے ہیں تو ہمارے پیٹ میں داخل ہوا (air) منہ کے راستہ سے باہر آتی ہے جس کی وجہ سے ایک آواز پیدا ہوتی ہے جسے ہم ڈکار (burp) کہتے ہیں۔
    کوشش کریں کہ کھانے کے آخر میں پانی نہ پیا جائے کیونکہ کھانے کے آخر میں پانی پینا کھانے کو ہضم کرنے میں رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔

    کیونکہ جب کھانا انسانی پیٹ میں جاتا ہے تو چھوٹے چھوٹے ذرّات کی صورت میں ہوتا ہے مگر جب کھانے کے اوپر سے پانی پی لیا جائے یاں کوئی بھی liquid پی لیا جائے تو کھانے کے ذرّات بڑے بڑے ہوجاتے ہیں جو کھانا ہضم کرنے میں رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔
    انسانی زندگی کے بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب Cold Drink کا استعمال بہت زیادہ ہوجاتا ہے مثلاً شادی بیاہ ، پارٹیز اور عید جیسی تقریبات کے موقع پر۔

    تو یاد رکھیں صرف ایک Cold Drink کا can جو 330 ملی لیٹر پر مشتمل ہوتا ہے اُس میں 9.75 چائے کے چمچ کے برابر چینی (sugar) شامل ہوتی ہے یعنی 330 ملی لیٹر کولڈ ڈرنک کا can جب انسان کے پیٹ میں جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ کہ liquid کے ساتھ ساتھ 39 گرام چینی (sugar) بھی انسان کے پیٹ میں جارہی ہوتی ہے
    جس کی وجہ سے انسان کے جسم میں diabetes ، bloodpressure ، وزن میں اضافہ اور جگر کے امراض جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں تو کوشش کریں کولڈ ڈرنکس کی جگہ تازہ پھلوں سے تیار کردہ juice کا استعمال کریں جس کے حقیقتاً فوائد ہیں۔

    اللہ پاک ہمیں طرح طرح کی بیماریوں سے محفوظ فرمائے۔
    اپنی صحت کا خیال رکھیں کیونکہ ” صحت عظیم نعمت ہے۔”

  • گمان  تحریر:   سیف اللہ عمران

    گمان تحریر: سیف اللہ عمران

    گمان ۔۔۔۔تحریر:: عمران علی

    یقین کچے گھڑے کو پکا رنگ دیتا ہے اور گمان محلات میں رہ کر لرزتا ہے، خوفزدہ ہوتا ہے زرا سہمہ رہتا ہے

    آپ کے گمان پر آپ کی زندگی کا تسلسل ہے

    مطلب کہ آپ جس چیز کا گمان زیادہ کر لیں کہ یہ ایسی ہے. تو آگے چل کر آپ کو وہی کچھ ملے گا جیسا آپ نے گمان کیا

    اللہ پاک فرماتے ہیں اے میرے بندے تومجھ سے جیسا گمان کرے گا میں تجھ سے تیرےگمان کے مطابق معاملہ کرتا رہوں گا پختہ یقین منزل کو قدموں کی دھول بنا دیتا ہے اللہ پر یقین مثبت سوچ اور مضبوط ارادہ جس کے کردار اور شخصیت ہوں وہ ماحول میں نہیں ماحول خود ان میں ڈھلتا ہے کیوں کہ انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی نہیں مانتا

    عبرت اور مقدر میں بڑا فرق ہے
    کچھ لوگ عبرت حاصل کرکے مقدر سنوار لیتے ہیں.
    اور کچھ لوگ مقدر پر چھوڑ کر عبرت بن جاتے ہیں.

    تمھیں پتہ ہے تمہارا مسئلہ کیا ہے ۔۔۔؟
    تم نے اپنے فیصلے اللہ پر چھوڑ تو دیے ہیں مگر دل سے نہیں چھوڑے تم اب بھی چاہتے ہو کہ کاش فیصلہ وہی ہو جو تمہاری خواہش ہے

    یہ کیسا اعتبار ہے بھلا ۔۔۔؟
    سمندر کے بیچ کھڑے شخص کو اس بات سے کیا غرض کشتی آر لگے یہ پار اسے تو بس یہ یقین ہونا چاہیے٬
    میں ڈوب بھی گیا تو یہ میرے لیے آر پار جانے سے بہتر ہوگا
    یہی تو اعتبار امتحان ہے
    اللہ جتنی محبت اپنے بندے سے کرتا ہے آپ کے گمان سے بھی آگے ہے ہم صرف دیکھتے ہیں جو ظاہری خوبصورتی ہے جب کے اللہ یہ بھی جانتا ہے آپ کے لیے کیاخوب صورت ہے
    یقین کرو جس دن اس اعتبار پے فیصلہ اللہ پے چھوڑو گے کہ جو بھی ہوا میرے لیے وہی بہترین ہوگا اس دن نہ صرف آپ بےچینی سے نکل آئیں گے بلکہ فیصلہ آپ کے یقین سے ذیادہ بہترین ہوگا کیوں کہ اللہ ساری دنیا اور لوگوں کے دلوں سمیت ان کی سوچ کے رخ تک بدلنے پے قادر ہے۔