Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ارطغرل اسٹار گلسم علی نے عائزہ خان کی  تعریف کی

    ارطغرل اسٹار گلسم علی نے عائزہ خان کی تعریف کی

    تاریخی ڈرامہ سیریل: ارطغرل میں اسلیہن ہاتون کے کردار کرنے والی ترک اداکارہ گلسم علی نے پاکستانی اسٹار ایازہ خان سے محبت کا مظاہرہ کیا۔

    عائزہ نے انسٹاگرام پر تازہ ترین فوٹو شوٹ سے اپنی کچھ حیرت انگیز تصاویر شیئر کیں ، جس سے گلسم نے عائزہ خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا "کامل خوبصورتی” جس کے بعد دل کا اموجی بھجا۔

  • چنیوٹ میں چار ماہ کے بچے کے خلاف مقدمہ درج

    چنیوٹ میں چار ماہ کے بچے کے خلاف مقدمہ درج

    چنیوٹ: ایک چونکا دینے والا واقعہ میں ، پولیس نے چنیوٹ میں ساؤنڈ سسٹم ایکٹ کی خلاف ورزی پر چار ماہ کے بچے کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
    تفصیلات کے مطابق ، چند روز قبل چنیوٹ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس کے دوران مختلف مذہبی اسکالرز نے لاؤڈ اسپیکر پر اپنی تقریریں کیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت حسنین شہزادہ نامی شیر خوار سمیت درجنوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
    حسنین شہزادہ کی عمر سے متعلق بتایا گیا تو پولیس نے ایف آئی آر سے بچے کا نام ہٹانے سے انکار کردیا۔ بدھ کے روز ، اس کے والد نے شیر خوار کے ساتھ عبوری ضمانت کے لئے عدالت میں کاغذات جمع کرائے تھے۔

  • پریانکا چوپڑا کےاثاثے جان کر آپ حیران  رہ جائیں گے

    پریانکا چوپڑا کےاثاثے جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

    جب سے ہی پریانکا چوپڑا نے سن 2000 کے مس ورلڈ میں شرکت کی ، اداکارہ ، گلوکارہ اور پروڈیوسر انٹرٹینمنٹ کی دنیا کو طوفان کی زد میں لے رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ابھی ابھی ان کی شروعات ہو رہی ہے۔

    38 سالہ اسٹار نے نہ صرف متعدد کامیاب فلمیں بنائیں ، جن میں ان کی حالیہ فلم ، "وہائیٹ ٹائیگر” بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ، اداکارہ نے پیپسی سے لیکر ناکون تک ان گنت اداروں کے ساتھ معاہدے کیے ہوے ہیں ، یہ سب چیزیں ان کی بہت ساری کامیابیوں کی فہرست میں سے کچھ کامیابیاں ہیں۔ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ پریانکا چوپڑا نے اپنے تمام پروجیکٹس سے کتنا کمایا؟ یا ، پریانکا چوپڑا کی کل مالیت کیا ہے؟

    مشہور "سلیبرٹی نیٹ ورتھ” کے مطابق ، پریانکا چوپڑا کی مجموعی مالیت تقریبا 50 ملین ڈالر ہے۔ اور ان کی سالانہ آمدنی؟ کم از کم 10 ملین ڈالر ہے۔ 2019 میں ، فوربس انڈیا نے دراصل اداکارہ کو بالی ووڈ کی زیادہ کمائی کرنے والی سلیبرٹی کی لسٹ میں شامل کیا ، لسٹ کے مطابق وہ 14 ویں نمبر پر ہے۔

    اکنامک ٹائمز کے مطابق ، "گیس گرل” کے ساتھ اس کا ایک سالہ معاہدہ 700،000 ڈالر سے 1.5 ملین ڈالر کے درمیان ہے۔ 2012 میں ، انہوں نے اپنی ڈرامہ سیریز میں شامل ہونے کے لئے اے بی سی نیٹ ورک کے ساتھ معاہدہ کیا۔ اور فوربس کے مطابق ، پرینکا چوپڑا نے ہر سیزن میں 30 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی کمائی کی جس سے وہ ٹی وی دنیا کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی سب بے بڑی اداکارہ بن گئیں ہیں۔

  • اسلام آباد:نجی بینک کےمینجرکےانتہائی شرمناک کرتوت،دیکھنے والےبھی شرما گئے،سخت سزاکا مطالبہ

    اسلام آباد:نجی بینک کےمینجرکےانتہائی شرمناک کرتوت،دیکھنے والےبھی شرما گئے،سخت سزاکا مطالبہ

    اسلام آباد:اسلام آباد کے نجی بینک کے مینجر کے انتہائی شرمناک کرتوت،دیکھنے والے بھی شرما گئے ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے نجی بینک کے مینجر کے انتہائی شرمناک کرتوت سامنے آئے ہیں‌ جہاں سرعام خاتون کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنا ڈالا۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک نجی بینک میں خاتون کو ہراساں کیے جانے کا انتہائی شرمناک واقعہ سامنے آیا۔ واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، ویڈیو لیک ہونے پر عوام شدید غم و غصے میں مبتلا ہیں:

    اس حوالے سے پہلے تو متضاد اطلاعات تھیں لیکن اب ٹوئٹر پر وائرل ہونے والی ٹوئٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو اسلام آباد کے فیصل بینک کی ہے۔اوراکثرصارفین نے کہاہےکہ وہ اس مینجرکوجانتے ہیں

    ذرائع کے مطابق بینک کی برانچ ایف 10 سیکٹر میں واقع ہے، جبکہ خاتون کو ہراساں کرنے والا شخص بینک مینجر ہے جس کا نام عثمان گوہر بتایا جا رہا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

     

     

    جبکہ لوگوں کی جانب سے فیصل بینک کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خاتون کو ہراساں کرنے والے شخص کیخلاف کاروائی کی جائے۔جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیا پر متحرک صارفین سے اپیل کی گئی ہے کہ بینک انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے۔

    اس واقعے کے حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے بھی ٹوئٹر پر ردعمل جاری کیا گیا ہے۔

    دونوں اعلیٰ سرکاری افسران کی جانب سے لوگوں سے درخواست کی گئی ہے کہ خاتون کی ویڈیو ڈیلیٹ کر دی جائے۔ واقعے کی تفصیلات موصول ہونے کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

  • ٹریفک وارڈنز کو رولز کے خلاف ورزی کرتے ہوئے رنگ اتھارٹی میں بھیجنے کے لیے لسٹیں تیار

    ٹریفک وارڈنز کو رولز کے خلاف ورزی کرتے ہوئے رنگ اتھارٹی میں بھیجنے کے لیے لسٹیں تیار

    باغی ٹی وی کے مطابق سی ٹی او لاہورنے رنگ روڈ اتھارٹی میں بھیجنے کے لیے ٹریفک وارڈن رولز کے برخلاف 128 ٹریفک وارڈنز کی لسٹ تیار کرلی ہے اور ڈی آئی جی ٹریفک آ فس بھیج دی ہے جبکہ ٹریفک وارڈنز رولز 2017 کے تحت ٹریفک وارڈن پنجاب کے کسی بھی دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں نا تو ٹرانسفر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آن ڈیپو ٹیشن جا سکتے ہیں۔جب 2012 میں شہبازشریف کے دور میں رنگ روڈ پر ٹریفک وارڈن کو بھیجا گیا تو اس کے لیے پنجاب کے دوسرے شہروں فیصل آباد ،راولپنڈی،گوجرانوالہ اور ملتان کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے رنگ روڈ پر جانیکے لیے درخواستیں طلب کی گئیں۔

    اور باقاعدہ میرٹ پر لسٹیں بھی تیار کی گئیں اور انٹرویوز بھی لیے گئے۔
    انٹرویوز لینے کے لیے باقاعدہ تب کے کمشنر لاہور ڈویژن کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی جس میں سابقہ CCPO ذوالفقار حمید، کمانڈنٹ رنگ روڈ پولیس اور ایک آفیسر S&JAD ڈیپارٹمینٹ سے لیا گیا تھا۔
    لیکن اس دفعہ 128 ٹریفک وارڈنز کو بھیجنے کے لیے نہ تو کوئی واضح میرٹ پالیسی بتائی جارہی ہے اور نہ ہی لاہور کے علاوہ کسی دوسرے شہر سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔۔۔
    حالانکہ ابھی 2017 کے ٹریفک وارڈنز رولز کے تحت کوئی 1 بھی ٹریفک وارڈن ڈیپوٹیشن پر کسی دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں نہیِں جا سکتا۔۔۔
    اس کے علاوہ نئے ٹریفک وارڈنز کو رنگ روڈ میں لانے کی وجہ سے رنگ روڈ اتھارٹی پر پیسے کا بھی کافی بوجھ پڑے گا

  • مہنگائی،بے روزگاری لاقانونیت اور سیاسی اختلافات بھی خارجیت پروان چڑھاتے ہیں  از قلم غنی محمود قصوری

    مہنگائی،بے روزگاری لاقانونیت اور سیاسی اختلافات بھی خارجیت پروان چڑھاتے ہیں از قلم غنی محمود قصوری

    مہنگائی،بے روزگاری لاقانونیت اور سیاسی اختلافات بھی خارجیت پروان چڑھاتے ہیں

    از قلم غنی محمود قصوری

    وطن سے محبت سنت بھی ہے اور ایمان کا حصہ بھی بلکہ یہ تو تمام انبیاء کی سنت ہے ہر زمانے میں انبیاء و رسول اپنے وطن کو دعوت و تبلیغ کرتے رہے اور بعض وطن کے دفاع کے لئے جنگ بھی لڑتے رہے
    وطن و دیس تبھی ترقی کرتے ہیں جب وہاں سکون ہو مکہ میں میرے نبی کریم کو کفار نے ایذا دی سو آپ نے اپنے وطن کے امن و سکون اور محبت کی خاطر مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور آخر اپنے وطن مکہ کو جہاد فی سبیل اللہ، جدوجہد اور قربانیوں سے امن کا گہوارہ بنا دیا
    اگر وطن سے محبت اور وطن کے امن و امان کی فکر نا ہوتی تو میرے نبی آخر الزماں کبھی واپس مکہ نا جاتے کیونکہ وہاں ان کو بے شمار غم و دکھ دیئے گئے تھے
    وطن سے محبت کی مثال قرآن نے موسی علیہ السلام کی طرف سے یو بیان کی ہے
    اے میری قوم ( ملک شام یا بیت المقدس کی) اس مقدس سر زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور اپنی پشت پر نہ پلٹنا ورنہ تم نقصان اٹھانے والے بن کر پلٹو گے سورہ المائدہ آیت 21
    گو کہ قرآن امت محمدیہ کیلئے محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا مگر اس میں اللہ تعالی نے پچھلی قوموں کی بھی مثالیں ہمارے لئے رکھی ہیں
    اس آیت میں اللہ رب العزت موسی علیہ السلام کو فرما رہے ہیں کہ اے موسی ایک ظالم جابر اور ناجائز قابض خود کو رب کہلوانے والے فرعون کا مقابلہ کرنا اور پشت پھیر کر نا بھاگنا اگر ایسا کرو گے تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے سوچنے کی بات ہے اگر نبی موسٰی علیہ السلام کو صرف دنیا میں رہنا ہی مقصود ہوتا تو اللہ کی اتنی بڑی زمین تھی اگر فرعون یہاں رہنے سے روکتا تھا تو وہ کہیں اور جا کر رہ لیتے وہ زمین چھوڑ دیتے مگر اللہ نے حکم دیا کہ موسی اپنے مقبوضہ ملک کو اس جعلی رب سے مقابلہ کر کے چھڑوا سو کوشش تو کر نتیجہ میں دونگا سو موسی علیہ السلام نے حکم ربی کے مطابق مقابلہ کیا اور اللہ نے فرعون کو غرق کر دیا
    پیارے اور محبوب نبی جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وطن کی محبت کی خاطر اللہ ربا العزت یوں ہم کلام ہیں
    اے نبی آپ فرما دیجئے اگر تمہارے باپ اور بیٹے،بیٹیاں اور تمہارے بھائی، بہنیں اور تمہاری بیویاں اور تمہارے دیگر رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو ،اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو تمہارے نزدیک اللہ اور رسول اور اس راہ جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔۔ سورہ التوبہ آیت 24
    چونکہ نبی کریم اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے اس لئے اللہ نے نبی سے کہا کہ اے نبی اپنے اصحاب اور آنے والی امت کو کہہ دو کہ تمہاری اولادیں ،جانیں ،کاروبار ماں باپ اور تجارت اگر تمہیں اللہ کی راہ جہاد سے زیادہ محبوب ہو جائیں تو پھر اللہ کے عذاب کا انتظار کرنا وہ عذاب دنیا میں تمہاری پشتی و غلامی اور کئی قسم کی صورتوں میں ہو گا کیونکہ اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں عطا کرتا
    اب سوچنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنے مضبوط اور مقدس رشتے ہوتے ہوئے ان سے پہلے جہاد کو کیوں قرار دیا؟
    تو اس کا مطلب یہ ہوا اللہ تعالی نے دفاع وطن کو رشتہ داریوں سے بھی زیادہ لازم قرار دے دیا تاکہ کوئی وطن پر ناجائز قابض ہو جائے تو پھر رشتہ داریوں کی بجائے جہاد فرض ہوجاتا ہے تاکہ دفاع وطن کرکے رشتہ داروں اور معاشرے کیلئے امن و سکون لایا جائے اور یہی وطن سے محبت کی ایک عمدہ دلیل بھی ہے
    واضع رہے جہاد کفار کیساتھ اس وقت لڑنے کا نام ہے جب وہ حدود اللہ و حدود العباد پر حملہ کریں اس کے علاوہ کافروں کو بھی اللہ اور اس کے رسول نے امن و سکون سے رہنے کا درس دیا ہے اس کے برعکس اپنوں پر سو طرح کے بہانے گڑھ کر گولی چلانا ان کا قتل عام کرنا خود کش جیکٹس مسجدوں مدرسوں بازاروں میں پھاڑ کر مسلمانوں کو شہید کرنا جہاد نہیں بلکہ فساد یعنی خارجیت ہے اور اس خارجیت کی قرآن وحدیث میں سخت وعید کی گئی ہے ویسے تو ان دہشت گرد خارجیوں کی نشانیاں اتنی ہیں کہ اگر میں لکھنا شروع کر دو تو ایک پورا موضوع انہی پر لکھا جا سکتا ہے سو مختصراً ایک حدیث لکھتا ہوں
    بے شک ان کی پشت سے ایسی قوم نکلے گی جو قرآن یوں پڑھیں گے کہ وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ،وہ مسلمانوں کو قتل کرینگے جبکہ اہل اوثان کو چھوڑ دینگے وہ اسلام سے ایسے نکلیں گے جیسے تیر کمان سے نکل کر شکار کے آر پار ہو جاتا ہے اگر میں انہیں پاؤ تو ضرور قوم عاد کی طرح انہیں قتل کرونگا
    یہ حدیث پہلے خارجی جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا، ذوالخویصرہ التمیمی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور آگے مذید کہا گیا ہے کہ یہ لوگ قیامت تک نکلتے رہینگے اور دجال کا ساتھ دینگے جبکہ خود کو مسلمان کہینگے دوسرے مسلمانوں کو کافر مرتد کہہ کر قتل کرینگے اور زمین میں فساد برپاء کرینگے
    اس حدیث میں وضع کیا گیا یہ کہ یہ خارجی فسادی لوگ مسلمانوں کو تو حیلوں بہانوں سے قتل کرینگے مگر اوثان یعنی غیر مسلمانوں کو کچھ نا کہینگے اور یہ قرآن تو بڑے خوبصورت انداز سے پڑھینگے مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یعنی وہ خود اس قرآن کو ایسے پڑھینگے کہ ان کو بھی سمجھ نا ہو گی کہ یہ قرآن کیا فرما رہا ہے اور جو کچھ قرآن فرما رہا ہے خود اسی کا الٹ کرینگے یعنی قرآن صرف دکھلاوے کے لئے ہی پڑھینگے گے
    یہاں یہ وضاحت کرتا چلو کہ بہت سے ایسے اور لوگ بھی ہونگے جن میں ان خارجیوں والی ایک آدھ نشانی پائی جاتی ہو گی مگر وہ قطعاً خارجی نا ہونگے جب تک کہ کسی مسلمان کو قتل نا کریں اور کفر و ارتداد کے فتویٰ لگا کر ملک کا امن و امان برباد نا کر دیں جیسا کہ پیشہ ور قاتل ڈاکو بھی فساد کرتے ہیں مگر وہ شرع کا نعرہ لگا کر نہیں اپنی ذاتی آسائشوں کی خاطر فساد کرتے ہیں شاید ان کو اللہ معاف کر دے اگر نا بھی کرے تو ایسے لوگ جہنم کی سزا کاٹ کر جنت میں جائینگے اگر شرک و خارجیت کے مرتکب نا ہوئے تو کیونکہ شرک و خارجیت ایسے گناہ کبیرہ ہیں جن کی بدولت اسی پر قائم رہتے ہوئے بندہ مر گیا تو ٹھکانہ ہمیشگی جہنم ہی ہو گا یہ رب کا کھلا فرمان ہے ہاں اگر مرنے سے قبل توبہ کرکے اس توبہ پر قائم رہیں تو پھر اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے اور وہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا
    قصہ مختصر ان خارجیوں ،دہشت گرد فسادیوں کی اولین پہچان مسلمانوں کیساتھ قتال اور کفار کیساتھ پیار ہے جیسا کہ آپ دیکھ لیں کہ پاکستان میں شریعت محمدی کے نفاذ کا خوشنما نعرہ لگا کر انہوں نے مسلمانوں کو مسجدوں،بازاروں اور بچوں تک کو سکولوں،مدرسوں میں شہید کیا اور مسلمانوں کی
    عزت مآب عورتوں کو گھروں سے اٹھا کر ان سے جبری نکاح کیا خود ہی انہوں نے نعرہ شریعت کا لگایا اور امداد بھی انڈین را سے لی خود ہی کفار کی چیزوں سے اعلان برأت کیا اور جب بھی کسی پاکستانی و غیر ملکی کو اغواء کیا تو مطالبہ بھی کفار کے ڈالروں کا ہی کیا یہی باتیں ان کے قرآن پڑھنے اور حلق سے نیچے نا اترنے کی مضبوط ترین دلیل ہیں
    آج انہی دہشت گردوں کی بدولت پاکستانیوں کو ہزاروں فوجی جوانوں و عام پاکستانیوں کی جانوں کی قربانیاں دینا پڑیں اور یہ سلسلہ ایک بار پھر سے چل پڑا ہے گزشتہ ادوار میں الحمدللہ پاکستانی فوج نے اپنی عوام سے ملک کر ان کا قلع قمع کر دیا تھا مگر اب پھر یہ لوگ سر اٹھانے لگ گئے ہیں جس کی واضع مثال حالیہ پشاور مدرسہ میں دھماکہ اور ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز پر حملے ہیں
    آخر سوچنے کی بات ہے کہ کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ بار بار سر اٹھاتے ہیں اور پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا شروع کر دیتے ہیں
    بیشک یہ لوگ خارجی ہیں اور پکے جہنمی ہیں مگر آخر وجہ کیا ہے کہ یہ خارجیت اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے اس کے لئے میں آپ کو اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتا ہوں جو میں نے مینگورہ سوات ،دیر اور وزیرستان کے لوگوں سے حاصل کیا ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم اس سول گورنمنٹی نظام کے ستائے ہوئے تھے سارا سارا دن محنت کرکے بھی بچوں کا پیٹ نا پال سکتے تھے تھانے کچہری میں ایم پی اے،ایم این اے و افسران جاگیردارن کے بندوں کی اجارہ داری تھی اور تو اور ہسپتال سے دوائی لینے جاتے سارا دن لائن میں لگے رہتے اور جب ہماری بھاری آتی تو کوئی شفارشی چند منٹ میں اپنا کام کروا کر ہماری آنکھوں میں آنکھوں ڈال کر چلتا بنتا کاروبار تباہ تھے پرائیویٹ ڈاکٹروں کی فیسیں ہمارے کئی دنوں کی محنت سے بھی زیادہ تھیں بنیادی سہولیات ہم سے کوسوں دور تھیں امن و امان برباد ہو چکا تھا لوگوں کی جان و مال محفوظ نا تھا جس کا دل کرتا طاقت کے بل بوتے پر مال و جان کے ساتھ عزت پر ہاتھ ڈال لیتا اور تھانے کچہری میں شنوائی بھی نا ہوتی تھی
    سو ہم اس ناانصافی کے مارے ان خارجی جماعتوں کے آلہ کار بننے پر مجبور ہو گئے
    قارئین یہاں میں آپ کو بتاؤں کہ سب سے پہلے دشمن نے چھوٹے موٹے چور ڈاکوؤں کو خرید کر دہشت کی فضاء قائم کرکے سیاحت کو ختم کیا اور سیاحت کے ختم ہوتے ہی ان کا روزگار بھی چھن گیا لوگ چاہتے ہوئے بھی دو وقت کی روٹی نا حاصل کر سکتے تھے
    مذید دشمن نے لوگوں میں ان کے ساتھ ہوتی ناانصافیوں کو ہائی لائٹ کیا ان کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ زنی پر انہیں جھنجھوڑا سندھی کو پنجابی ،پختون،بلوچی کے خلاف اور ان سب کو ایک دوسرے کے خلاف کیا ایک فرقے کو دوسرے ،دوسرے کو تیسرے اور پھر سب کو ایک دوسرے کے خلاف کیا
    صوبوں کو ایک دوسرے کے حق مارنے کا واویلا کیا گیا اور ان کے باسیوں کو بتلایا کہ اگر حق نا ملے تو حق لینے کیلئے لڑنا جہاد ہے اس سے جنت ملے گی تمہاری حکومت ہو گی تم شرع اللہ نافذ کرکے جنت پاؤ گے لہذہ سندھیوں تم بھی سندھو دیش کا نعرہ لگاؤ بلوچیوں تم پاکستانی فوج کا بلوچستان سے انخلاء مانگو پختونوں تمہاری سیاحت کا پیسہ گورنمنٹ کھا رہی ہے تم سب اٹھو لڑو ان سے
    قارئین دشمن نے بڑے عرصے سے پاکستان کے خلاف محاذ کھولا ہوا تھا جس کا عملی مظاہرہ انہوں نے کامیابی سے بنگلہ دیش میں کیا بھی تھا اور کامیاب بھی رہے تھے اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے اب کھلے عام پمفلٹ شائع کروائے کہ تھر میں پانی نہیں لوگ و جانور ایک جگہ سے پانی پیتے ہیں پنجاب کی فصل ہوتی ہے بلوچی سندھی پٹھان کھا جاتے ہیں وڈیرے تمہیں غلام بنا کر رکھتے ہیں تمہیں بنادی سہولیات میسر نہیں تمہارے لیڈران بیرون ملک مہنگے سفر کرتے ہیں تمہاری فوج قوم کا اسی فیصد کھا جاتی ہے فوجی عیاشیاں کرتے ہیں جو کہ تمہارے ٹیکس کی بدولت ہیں وغیرہ وغیرہ
    چند نا پختہ کچ ذہن لوگوں کو اپنے پے رول پر کر لیا جنہوں نے اپنے سے ہوئی زیادتیوں کی بنیاد پر ان غریب غرباء اور کچھ صاحب حیثیت مگر ذاتی انتقام کے مارے لوگوں کو ورغلا کر آتش و خون کا بازار گرم کر دیا جس کا سارا خمیازہ پاکستانی قوم و فوج کو بھگتنا پڑا پاکستانی فوج کے افسران و جوان شہید ہوئے جبکہ عوام پاکستان کی املاک و جان کا نقصان ہوا
    اگر دیکھا جائے تو ان ساری وجوہات کی وجہ غربت حد سے زیادہ مہنگائی انصاف کا نا ملنا سیاستدانوں کا اپنے ذاتی کارکنوں کو ڈنڈے کے زور پر سہولیات لے کر دینا اور دوسروں کو حق سے محروم رکھنا اور سیاستدانوں کی طرف سے دشمن کی زبان سرعام بولنا ہے
    اگر سابقہ گورنمنٹس اس ملک پاکستان سے مخلص ہوتیں اور موجودہ بھی مخلص ہوتی تو یہ لوگ اسلام آباد میں اپنے اے سی لگے کمرے میں بیٹھ کر تھر کے بچے کی خوراک کی کمی پر محض بات نا کرتے بلکہ اس بچے کو غذا اور صاف پانی فراہم کرتے یہ لوگ خود ہیلی کاپٹروں جہازوں میں اندرون ملک سفر کی بجائے بغیر پروٹوکول سفر کرتے تاکہ عوام کو احساس ہوتا کہ یہ شاہراہیں پر امن ہیں
    یہ لوگ جنسی زیادتی کے مجرمان کو سرعام پھانسی کے عوامی فیصلے پر قانون سازی کرکے ان کو لٹکاتے تاکہ امن و امان کے ساتھ عزتیں محفوظ رہتیں اگر ان کو پاکستان سے پیار ہوتا ان کی اپنی اولادیں بیرون ملک پڑھنے کی بجائے پاکستان کی یورنیورسٹی کالجز میں پڑھتیں تاکہ عوام کو احساس ہوتا کہ اگر لیڈران کے بچے یہاں پر پڑھتے ہیں تو ہم بھی اس ملک کے باسی ادھر پڑھینگے
    یہ بیرون ملک علاج کروانے کی بجائے میڈیکل کی تعلیم سستی کرتے تاکہ ہر پاکستانی کو ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر میسر ہوتا
    یہ اپنی تنخواہیں کم ہونے کا رونا نا روتے جہاں مزدور چھ سو روپیہ یومیہ کمائے وہاں ایک ایم پی اے لاکھوں ماہانہ لے تو نفرت بڑھتی ہے
    یقین کیجئے خارجی دہشت گرد جہنم کے کتے ہیں شک کی بات نہیں مگر ہمارے یہ افسران اور سیاستدان بھی اس خارجیت کو پروان چڑھانے کے ذمہ دار ہیں یہ ان لوگوں کو ان کا حق دیتے مہنگائی کو قابو کرتے بے انصافی لاقانونیت کو روکتے تو یہ دن نا دیکھنے پڑتے دوسری طرف وہ خارجی مسلح لوگ وڈیروں کی غلامی سے نکل کر دشمن کافر کی غلامی میں چلے گئے جن کو یہ احساس نا ہوا کہ ہم تو اپنے ہی مسلمانوں کی چھوٹی موٹی کمیوں کوتاہیوں کا شکار ہوئے ہیں جس کے بدلے اللہ جنت دے گا اور ان بے انصافوں سے حساب لے گا
    مگر وہ دشمن کے ایجنٹ بنکر اپنی فوج و عوام پر گولی و خودکش جیکٹ پھاڑ کر جہنم کے حقدار ٹھہرے
    الحمدللہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا سیاستدانوں کے چھوڑے منصوبے اب فوج خود اسی وزیرستان سوات میں پایہ تکمیل کر رہی ہے جس سے مرجھائے چہروں پر رونق آ رہی ہے تھر کے اندر کچھ محب وطن لوگ اور فوج کنویں کھود رہی ہے جس سے ان بیچاروں کو صاف پانی ملنا شروع ہوا تو ان کے اندر کا باغی کمزور ہو کر وطن کا رکھوالا بن گیا الحمدللہ بہت سے دہشت گرد خارجی اس ہمدردی سے متاثر ہو کر اس ملک پاکستان کے بازوں بن گئے ہیں
    کاش یہ حکمران بھی اپنا پیٹ بھرنے کی بجائے حقداروں کو ان کا حق دین تاکہ قائد اعظم کا پاکستان لاالہ الااللہ کی بنیاد پروان چڑھے
    اسلام زندہ باد
    پاکستان زندہ باد
    افواج پاکستان زندہ باد

  • گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کیسے ممکن ہے   بقلم  عبدالرحمان محمدی

    گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کیسے ممکن ہے بقلم عبدالرحمان محمدی

    گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کیسے ممکن ہے

    بقلم
    عبدالرحمان محمدی

    اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا
    بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا۔
    الأحزاب – آیت 57

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات مبارکہ امت مسلمہ کے دلوں کی دھڑکن ہے اور آپ سے محبت رکھنا ایمان کا جزو لازم ہے آپ کی ذات مبارکہ پر ہونے والے ہر حملہ کو روکنا امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کی اہم ترین ذمہ داری ہے خواہ اس کے لیے تن من دھن کی بازی لگانا پڑے

    نہ جب تک کٹ مروں رسول اللہ کی حرمت پر
    خدا شاہد ہے ،کامل مرا ایماں ہو نہیں سکتا

    حرمت رسول کی پہرے داری کے لیے چند اھم امور مد نظر رکھنا ضروری ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دنیا کی ہر چیز سے عزیز سمجھا جائے حتی کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر آپ سے محبت کی جائے

    حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں
    آپ نے فرمایا
    لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
    (بخاري ،كِتَابُ الإِيمَانِ،بَابٌ: حُبُّ الرَّسُولِ ﷺ مِنَ الإِيمَانِ15)
    کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والدین اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں…

    محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
    جو ہو اس میں خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات مبارکہ کا ہر فورم پر دفاع کیا جائے

    جب کبھی اور جہاں کہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حرمت و ناموس پر کیچڑ اچھالنے یا حملہ کرنے کی کوشش ہو فی الفور ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اسی جگہ آپ کا دفاع کیا جائے

    ایک مثال

    صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ رضی اللہ عنہ نے (اس وقت تک وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کے نمائندے بن کر آئے تھے) کہا ۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !

    اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب ہوئے تو میں خدا کی قسم تمہارے ساتھیوں کا منہ دیکھتا ہوں اس وقت یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور آپ کو تنہا چھوڑ دیں گے ۔
    تو اسی لمحے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا
    امْصُصْ بِبَظْرِ اللَّاتِ أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ
    (بخاري ،كِتَابُ الشُّرُوطِ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوطِ،2732)

    جاؤ جا کر لات کی شرمگاہ چوسو کیا ہم اپنے نبی کو یونہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے

    عروہ نے پوچھا کون صاحب ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ عروہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمھارا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتاجس کا اب تک میں بدلہ نہیں دے سکا ہوں تو تمہیں ضرور جواب دیتا ۔

    دوسری مثال

    وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگوکرنے لگے اور گفتگو کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک پکڑ لیا کرتے تھے ۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے‘ تلوارلٹکائے ہوئے اور سر پر خود پہنے ۔
    فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ وَقَالَ لَهُ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ… (بخاری كِتَابُ الشُّرُوطِ، بَابُ الشُّرُوطِ فِي الجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوطِ،2732)
    عروہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی طرف اپنا ہاتھ لے جاتے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ تلوار کی نوک کو ان کے ہاتھ پر مارتے اور ان سے کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ الگ رکھ ۔

    کفار کے سامنے محبت رسول کا خوب اظہار کیجئے

    کفار کے سامنے محبت رسول اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے معاملے میں ذرہ برابر بھی لچک اور کمپرومائز کا رویہ مت اپنایا جائے تاکہ انہیں یہ میسج پہنچے کہ مسلمان قوم کسی بھی چیز پر سمجھوتہ کر سکتی ہے مگر حرمت رسول پر بلکل کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

    اس کی ایک مثال صلح حدیبیہ کے اسی واقعہ میں موجود ہے جب قریش کے نمائندے عروہ رضی اللہ عنہ گھور گھور کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی نقل و حرکت دیکھتے رہے ۔
    اس نے دیکھا کہ اگر کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اپنے ہاتھوں پر اسے لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا ۔ کسی کام کا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کی بجا آوری میں ایک دوسرے پر لوگ سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے لگے تو ایسا معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر لڑائی ہوجائے گی ( یعنی ہر شخص اس پانی کو لینے کی کوشش کرتا تھا ) جب آپ گفتگو کرنے لگے تو سب پر خاموشی چھاجاتی ۔ آپ کی تعظیم کا یہ حال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی نظر بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے ۔

    عروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے صحابہ کی یوں والہانہ محبت دیکھی تو بہت مرعوب ہو کر واپس پلٹا اور اپنی قوم کے حوصلے پست کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایسی محبت کہیں نہیں دیکھی
    أَيْ قَوْمِ وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ وَكِسْرَىوَالنَّجَاشِيِّ وَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدًا
    (بخاری كِتَابُ الشُّرُوطِ
    بَابُ الشُّرُوطِ فِي الجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوط،2732)
    اے میری قوم کے لوگو ! قسم اللہ کی ‘ میں بادشاہوں کے دربار میں بھی وفد لے کر گیاہوں‘ قیصروکسریٰ اور نجاشی سب کے دربار میں لیکن اللہ کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے ساتھ اس کی اس درجہ تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کی تعظیم کرتے ہیں ۔ قسم اللہ کی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوک دیا تو ان کے اصحاب نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اگر کوئی حکم دیا تو ہر شخص نے اسے بجا لانے میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر وضو کیا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو پر لڑائی ہوجائے گی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گفتگو شروع کی تو ہر طرف خاموشی چھا گئی ۔ ان کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے ۔

    دوسری مثال
    خبیب رضی اللہ عنہ کو جب سولی چڑھاتے وقت ابو سفیان نے کہا کہ اگر آج آپ کی جگہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو سولی دی جائے اور آپ بچ جائیں تو آپ کو کیسا لگے گا تو انہوں نے فوراً اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ میں تو یہ بھی نہیں پسند کرتا کہ میری جان کے بدلے ان کے پاؤں میں کانٹا چھبے اور انہیں تکلیف ہو
    الرحیق المختوم 397

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی عادات وسنن سے محبت کی جائے

    جس سے کفار کو یہ میسج جائے گا کہ جانثاران محمد حرمت رسول کی پامالی کبھی برداشت نہیں کر سکتے

    اگر ہم خود آپ کی سنتوں کو تضحیک کا نشانہ بنائیں گے تو غیروں سے شکوہ کس بات کا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی جن سنتوں سے کفار کو چڑ یا خوف ہو وہ بڑھ چڑھ کر اپنائی جائیں
    مثال کے طور پر
    داڑھی سے کفار چڑتے ہیں
    برقعہ اور پردہ سے سیخ پا ہوتے ہیں
    زنا سے خوش اور شادیوں سے غصہ میں آتے ہیں
    لہذا
    داڑھی رکھی جائے، اپنی عورتوں کو پردہ کروایا جائے، ایک سے زائد شادیوں کا کلچر اپنایا جائے

    جیسا کہ مدینہ کے یہود آمین بالجہر اور سلام سے چڑتے تھے تو آپ نے ان پر خصوصی توجہ مرکوز کی

    جب امت سنت رسول ﷺ کو اپنائے گی تب ہی امت رسول اللہ ﷺ کی محبت کا حق ادا کرے گی ۔ یہی امت کی قوت ہے اور اسی سے دشمن کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے

    لیکن افسوس ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت کو خود ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا (داڑھی والا) چہرہ پسند نہیں ہے تو پھر کفار سے نالاں ہونے کی کیا ضرورت ہے

    سیرت النبی کا پیغام دنیا میں ہر طرح کے وسائل سے پھیلایا جائے

    اہانت کرنے والوں کا مقصد ذاتِ نبوی سے لوگوں کو بیزار کرنا ہے تاکہ اسلام کی بڑھتی مقبولیت کے آگے بند باندھا جاسکے، لیکن آپ کی سیرت اورپیغام کی اشاعت ان کے مذموم ارادوں کو خاک میں ملادے گی۔

    قلم وقرطاس کے ذریعے سرور کونین کی سیرت کے سنہرے نقوش دور دور تک پہنچائے جائیں مثلاً بینرز ، سٹیکرز، پوسٹر، مضامین، خطوط، ای میل، میڈیا کو فون وغیرہ، غرض ہر ذریعہ کو استعمال میں لایا جائے۔ اس ابلاغی مہم کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ عالم کفر کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے اور وہ جارحانہ انداز کی بجائے دفاعی پوزیشن میں چلے جائیں گے

    حافظ قمر حسن حفظہ اللہ تعالی لکھتے ہیں
    "اس سلسلے میں اہم ترین اقدام یہ ہے کہ تراجم کے ذریعے سے فرانسیسی زبان میں زیادہ سے زیادہ اسلامی لٹریچر فراہم کیا جائے۔ حکومتوں اور اداروں کی سطح پر مترجمین کی ٹیمیں تیار کی جائیں جو بالخصوص ان مغربی زبانوں میں حدیث و سیرت کی کتابوں کا ترجمہ کریں جن میں اسلامی لٹریچر نہ ہونے کے برابر ہے۔
    ان میں فرانسیسی،جرمن،اطالوی،روسی اور ہسپانوی زبانیں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان زبانوں میں کم سے کم قرآن مجید، صحاح ستہ،تفسیر ابن کثیر اور سیرت ابن ہشام وغیرہ کا ترجمہ کیا جانا ضروری ہے۔
    تراجم کا یہ سلسلہ اہل مغرب کے لیے پیغمبر اسلام کے مقام و مرتبہ سے آگاہی کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو گا”۔

    گستاخانہ خاکوں کے مد مقابل، سیرت النبی کے موضوع پر انٹرنیشنل سطح پر تحریری و تقریری مقابلہ جات رکھے جائیں

    ان مقابلہ جات میں غیر مسلم سکالرز کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے اول نمبروں پر آنے والے پوزیشن ہولڈرز کو قیمتی ورلڈ کپ سے نوازا جائے اور اس کے لیے نوبل پرائز کی بجائے محمدی یا اسلامک پرائز کی اصطلاح متعارف کروائی جائے اور یہ مقابلے اتنے زور و شور اور دھوم دھام سے ہوں کہ گستاخانہ خاکوں کی آواز ان کے نیچے ہی دب کر رہ جائے

    اور پھر پہلے نمبروں پر آنے والی کتب کا خوب چرچا کیا جائے
    جیسا کہ( الرحیق المختوم )اشاعتِ سیرت النبی کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے

    علماء کرام اپنے خطبات، مواعظ اور دروس وغیرہ میں حرمت رسول سے متعلق آگاہی مہم جاری کریں

    علماء ورثۃ الأنبياء ہیں اور وارث کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنےمورث کا دفاع کرے علماء کرام ہی اس وراثت کے داعی، امین اور محافظ ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دین میں فقاہت کی بصیرت سے نوازکر اُمت کے منتخب شدہ افراد ہونے کی سند ِتصدیق عطا کی ہے، انہیں پر بطورِ خاص اُمت ِمسلمہ کے نمائندے اور وراثت ِ رسول کے امین ہونے کے ناطے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ایسے المناک مراحل پر ملت ِاسلامیہ میں احساس وشعور بیدار کرنے میں کوئی کمی نہ روا رکھیں تاکہ اُمت من حیث المجموع اپنے فرائض کو بجا لانے پر کمربستہ ہوجائے

    جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالٰی نے اپنے دور کے عوام الناس کو اپنی مایہ ناز کتاب( الصارم المسلول علی شاتم الرسول )کے ذریعے اس مہم سے آگاہ کیا تھا

    ایسے مواقع پر خطابات و مواعظ سے کچھ نہ بھی بن پڑا تو دین سے دور ہوتی نسل تک اپ کا پیغام ہی پہنچ جائے گا۔ کچھ بعید نہیں کہ اللہ پاک ان مواعظ ہی کو خیر کا دروازہ بنا دیں

    سوشل میڈیا پر مہم

    سوشل میڈیا پر حرمت رسول اور دفاع ناموس رسالت کی زبردست مہم جاری کی جائے سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے موضوع پر تحاریر، تقاریر، پوسٹس اور اپنے جذبات کا اظہار اس قدر شدت سے کیا جائے کہ گستاخانہ خاکے نیچے ہی دب جائیں

    سوشل میڈیا ہم میں سے اکثریت کی رسائی میں ہے تو کیا ہم ایک طاقت بن کر ان گستاخانہ خاکوں کے چھپنے سے پہلے کچھ ایسا نہیں کر سکتے کہ جس سے یہ شیطانی حرکت روکی جا سکے؟ ۔

    اگر قیامت کے روز سوال ہوا کہ ’’جب سوشل میڈیا پر اللہ کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کھُلے عام انتہائی غلیظ باتیں ہو رہی تھیں تو تم نے اس معاملے میں کیا کردار ادا کیا‘‘؟۔ تب جواب کیا یہ ہوگا کہ ’’اُس وقت فیس بک پر سو لفظی کہانیاں لکھی جا رہی تھیں ، اشعار پوسٹ کیے جا رہے تھے سیاست پر بات ہو رہی تھی ، الیکشن زیرِ بحث تھے یا یہ کہ اس معاملے میں صرف حکومت ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو کردار ادا کرنا چاہیے تھا جو انہوں نے نہیں کیا‘‘۔

    جہاد بالقلم کا حصہ بنیں، اس شیطانی مہم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ یہ ہی وقت ہے کہ جب سوشل میڈیا کو صرف تفریح اور وقت گزاری کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنی آخرت سنواری کے لیے استعمال کیا جائے کیونکہ ہم تو آج ہیں کل شاید نہ بھی رہیں لیکن کسے معلوم کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کو رکوانے کی ہماری یہ چھوٹی سی کوشش ، ہمارے یہ چند الفاظ ہی ہمارے لیے توشہ آخرت بن جائیں

    اپنے جماعتی امراء، قائدین اور محبوب لیڈرز سے بڑھ کر رسول اللہ کا درد محسوس کیا جائے

    حرمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا درد ایسے محسوس کیا جائے جیسے اپنی جماعت کے امیر کا درد محسوس کیا جاتا ہے

    اگر ہمارے جماعتی اکابرین پر کوئی حرف گیری کرے تو ہم مناظرے مباہلے اور دست و پا ہونے تک کے تمام مراحل اتفاقی مشاورت کے ساتھ خوش اسلوبی سے طے کر لیتے ہیں۔عزیزان گرامی یہ تو ایمان کا حصہ ہے۔ اگر یہ امر اس سے اہم نہ ہوا تو ہم کل رب کو کیا جواب دیں گے جو حجرے سے باہر پکارنے کی بھی ممانعت نازل کرنے والا ہے

    جس طرح ن لیگ والے نواز شریف کے خلاف
    پی ٹی آئی والے عمران خان کے خلاف
    جے یو آئی والے مولانا فضل الرحمن کے خلاف
    اور ہر جماعت کے کارکنان اپنے اپنے امراء کے خلاف
    کوئی بات سننے کو تیار نہیں اور کبھی سن لیں تو فوراً سیخ پا ہو جاتے ہیں
    لیکن
    آخر کیا وجہ ہے کہ اسی طرح کے جذبات ساری کائنات سے زیادہ عزیز ذات گرامی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق نہیں ہوتے❓

    امت مسلمہ متحد و یک جان ہو

    گستاخانہ خاکے روکنے اور ان کے خلاف مؤثر آواز پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امت مسلمہ باہمی اتفاق و اتحاد پیدا کرے جب تک ہم اندرونی اختلافات و انتشارات کا شکار رہیں گے تب تک ہم کفار کو ان حرکتوں سے باز نہیں رکھ سکتے

    جب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقين نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں
    ( ليخرجن الأعز منها الأذل )کہہ کر گستاخی کی اور انصار و مہاجرین کو باہم دست و گریباں کرنے کی کوشش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کو متحد رکھنے کے لیے کہا اس( باہم لڑائی )کو چھوڑ دو یہ بدبودار ہے

    پھر آپ نے خلاف معمول وقت میں کوچ کا حکم دیا، صبح سے شام، شام سے صبح اور صبح سے دوپہر تک مسلسل چلتے رہے، جب لوگوں کو خوب تکلیف ہونے لگی تو آپ نے پڑاؤ ڈالا، لوگ زمین پر جسم رکھتے ہی سو گئے، آپ کا مقصد بھی یہی تھا کہ اگر انہیں سکون سے بیٹھ کر گپ لڑانے کا موقع مل گیا تو باہمی جھگڑے کی آگ پھر سے بھڑک اٹھے گی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گستاخ رسول عبداللہ بن ابی اپنے ناپاک منصوبے میں خوب ناکام رہا

    اتحاد کے بغیر اسلام کا رعب غیرمسلموں پر طاری نہیں ہوسکتا۔ جس طرح غیر مسلم، پورا یورپ اور مغربی میڈیا یک جہتی سے گستاخوں کی حمایت پر کمربستہ ہیں اس مسئلہ کا مداوا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک مسلمانوں میں باہمی مؤاخات کو پروان نہ چڑھایا جائے۔

    اسی سلسلے میں او آئی سی، اسلامی سربراہی کانفرنس کے فوری ہنگامی اجلاس منعقد کیے جائیں اور متحد ہو کر گستاخوں پر پریشر ڈالا جائے

    گستاخوں کی سرکوبی کے لیے حکومت وقت سے مطالبہ کیا جائے

    ملک بھر میں پرزور مگر پرامن تحریک چلا کر اپنی حکومت کو اپنے درد اور جذبات سے آگاہ کریں، علماء و مشائخ اور سرکردہ لوگوں کے وفود بنا کر وزیراعظم سے ملاقات کی جائے اور انہیں اس معاملے میں ٹھوس اقدامات کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے

    جیسا کہ صحابی رسول سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے جب عبداللہ بن ابی کی زبان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی گستاخی کے جملے سنے تو فوراً اپنے چچا کو پوری بات کہہ سنائی اور ان کے چچا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اطلاع دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ عباد بن بشر سے کہیے کہ عبداللہ بن ابی کو قتل کردیں پھر اللہ تعالٰی نے زید کی تصدیق میں قرآن کی آیات نازل کیں…
    بخاری

    تاریخ اسلام میں ایسے دسیوں واقعات موجود ہیں کہ جب لوگوں نے آ آ کر حاکم وقت کو مختلف گستاخوں سے متعلق آگاہ کیا اور پھر ان گستاخوں کو لگام ڈالی گئی

    مسلم حکمران دفاع حرمت رسول کو اپنے بنیادی فرائض اور اولین ترجیحات میں شامل کریں

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبارک میں جب آپ کی اہانت کی جاتی تو آپ اپنے صحابہؓ سے بذات خود یہ مطالبہ کیا کرتے کہ ’’کون ہے جو میرے اس دشمن کا جواب دے…؟

    یہ مطالبہ ایک بار آپﷺنے کعب بن اشرف کے بارے میں کیا کہ کون ہے جو کعب کو قتل کرے کیونکہ وہ اللہ اور اسکے رسول کو تکلیف پہنچاتا ہے
    مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّہُ قَدْ آذٰی اﷲَ وَرَسُولَہُ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بن مسلمة فقال: یا رسول اﷲ أتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَہٗ۔ قَالَ: نَعَمْ
    (صحیح مسلم:۴۶۴۰)
    آپ نے فرمایا کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا گا کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے
    محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اللہ کے رسول کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کروں
    تو آپ نے فرمایا(ہاں)

    ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جنگ خیبر میں ایک دشمن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی
    تو آپ نے فرمایا کہ میرے دشمن سے کون نمٹے گا؟
    اس پر زبیر آگے بڑھے، اسے للکارا اور پھر اسے قتل کر دیا۔
    (مصنف عبد الرزاق، ۹۷۰۴)

    الغرض دورِ نبویؐ میں نبی اکرمﷺ خود صحابہ کرام کو متوجہ کیا کرتے اور صحابہؓ نے آپ کی پکار کے نتیجے میں ان گستاخانِ رسالت کو کیفر کردار تک پہنچایا

    آج بھی عمران خان، شاہ سلمان اور طیب اردگان کی طرف اعلان ہونا چاہئے کہ( کون ہے جو ان گستاخانہ کارٹونز کے ذمہ داران) کو قتل کرے کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے

    مسلم نوجوان گستاخوں کی سرکوبی کے لیے اپنے آپ کو مسلم حکمران کے سامنے پیش کریں

    جیسا کہ عبداللہ بن ابی کے بیٹے سیدنا عبداللہ نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے پیش کیا تھا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اپنے باپ کو قتل کرنے کے لیے تیار ہوں کیونکہ اس نے آپ کی گستاخی کی ہے
    رحیق 451

    اسی طرح زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا
    فَقَالَ: مَنْ یَّکْفِینِي عَدُوِّي؟
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے دشمن کے مقابلے میں کون کافی ہوگا
    فَقَالَ الزُّبَیرُ: أَنَا
    زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا (میں)
    (مصنف عبد الرزاق : رقم۹۴۷۷)

    اسی طرح خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ یَّکْفِینِي عَدُوِّي؟
    فَخَرَجَ إِلَیْہَا خالد بن الولید فَقَتَلَہا (ایضاً: رقم۹۷۰۵)

    جب بھی کفار کی طرف سے توہین رسالت اور گستاخانہ خاکوں کا اعلان ہو تو مصلحت اور بزدلی کی چادر اوڑھنے کی بجائے اعلان کا جواب بھرپور اعلان سے دیا جائے

    ایک موقع پر آپ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے آپ کی ہجو کرنے والوں کو جواب دو
    یا حَسَّان أجِبْ عن رَّسُوْل اﷲ،اللّٰہم أیِّدْہ بروح القدس
    (صحیح مسلم:۴۵۳)
    احسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دے (اور پھر دعا کی) اے اللہ روح القدس کے ذریعے حسان کی مدد فرما

    اسی طرح غزوہ احد کے موقع پر ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے جب( یہ گمان کرتے ہوئے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم قتل کر دیے گئے ہیں)کہا تھا کہ محمد سے جان چھوٹ گئی تو فوراً عمر رضی اللہ عنہ نے کرارا جواب دے کر انہیں خاموش کروایا تھا
    رحیق 378

    آج بھی مسلم حکمرانوں اور عہدیداروں کی طرف سے بھرپور جوابی بیانات ریکارڈ ہونے چاہئیں

    جہاد فی سبیل اللہ، گستاخوں کو نکیل ڈالنے کے لئے بہترین اور بہت زیادہ کارگر نسخہ جہاد فی سبیل اللہ ہے جس سے آئمۃ الکفر کی گردنوں سے سریا نکلتا اور ان کا پتہ پانی ہوتا ہے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَاِنۡ نَّكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُوۡا فِىۡ دِيۡـنِكُمۡ فَقَاتِلُوۡۤا اَٮِٕمَّةَ الۡـكُفۡرِ‌ۙ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنۡتَهُوۡنَ
    اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ بیشک یہ لوگ، ان کی کوئی قسمیں نہیں ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں۔التوبة – آیت 12

    اور فرمایا
    اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ وَهَمُّوۡا بِاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ وَهُمۡ بَدَءُوۡكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ‌ ؕ اَتَخۡشَوۡنَهُمۡ‌ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ
    کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ التوبة – آیت

    معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہ نے جہاد کے میدان میں گستاخ رسول ابوجہل کو قتل کیا تھا

    گستاخوں کی سرکوبی کے لیے مجاہدین کے دستے تشکیل دیے جائیں

    گستاخوں کی نازک رگ اور کمزورپوائنٹس کو استعمال کیا جائے

    پاکستان حکومت اعلان کرے کہ پاکستان سے افغانستان جانے والی نیٹو سپلائی بند کر دی جائے گی

    افغانستان میں حرمت رسول آپریشن کے نام پر امریکیوں اور یورپین فوجیوں کے خلاف کاروائیاں تیز تر کردی جائیں

    پھر دیکھنا ان شاء اللہ أن لوگوں کو جلد نانی یاد آجائے گی اور کبھی بھی ایسی حرکتیں کرنے کا نہیں سوچیں گے

    مصنوعات اور معاشی بائیکاٹ کیا جائے

    یورپی ممالک بالخصوص فرانس کی مصنوعات کاکلی بائیکاٹ کرنا۔ ایسی چیزوں کی فہرستیں تلاشِ بسیار کے بعد شائع کی جائیں اور اقتصادی میدان میں بھی اپنا شدید احتجاج سامنے لایا جائے

    جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بنو نضیر کے درخت کاٹ کر انہیں معاشی طور پر ذلیل و خوار کیا تھا
    مَا قَطَعۡتُمۡ مِّنۡ لِّيۡنَةٍ اَوۡ تَرَكۡتُمُوۡهَا قَآٮِٕمَةً عَلٰٓى اُصُوۡلِهَا فَبِاِذۡنِ اللّٰهِ وَلِيُخۡزِىَ الۡفٰسِقِيۡنَ
    جو بھی کھجور کا درخت تم نے کاٹا، یا اسے اس کی جڑوں پر کھڑا چھوڑا تو وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور تاکہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔
    الحشر – آیت 5

    رسول اکرمؐ نے ہجرت کے بعد قریش کے تجارتی قافلہ کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا

    اسی طرح آپ نے خیبر اور طائف کے قلعوں کا محاصرہ کیا تھا

    انصار کے سردار حضرت سعد بن معاذ نے مکہ والوں سے کہا تھا کہ اگر تم نے مجھ سے تعرض کیا تو میرا قبیلہ تمہارے تجارتی قافلوں کا شام کی طرف آنا جانا بند کر دے گا۔

    بنو حنیفہ قبیلے کے سردار ثمامہ بن اثالؓ نے اپنے علاقہ کے لوگوں کو مکہ مکرمہ پر گندم فروخت کرنے سے روک دیا تو قریش کے بعض سرداروں نے آنحضرتؐ کو ’’صلہ رحمی‘‘ کا واسطہ دے کر یہ پابندیاں ختم کرانے کے لیے کہا چنانچہ حضورؐ کی ہدایت پر یہ پابندیاں ختم کر دی گئیں۔

    حضرت ابوبصیرؓ اور ان کے ساتھیوں نے قریش کا تجارتی راستہ غیر محفوظ کر دیا، جس سے مجبور ہو کر قریش نے معاہدہ حدیبیہ واپس لے کر یہ ’’ناکہ‘‘ ختم کروایا۔

    ’’معاشی جنگ‘‘ کے یہ مختلف پہلو بھی جہاد کا حصہ ہیں اور سنت نبویؐ ہیں، اس لیے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اسی جذبہ کے ساتھ فرانس بلکہ پورے یورپ کا معاشی بائیکاٹ کریں

    پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں موجود عیسائی کمیونٹی کو استعمال کیا جائے

    اس کی ایک صورت تو یہ ہو سکتی ہے کہ ان لوگوں کے ذریعے یورپی و امریکی حکمرانوں تک پیغام ارسال کیے جائیں کہ ہم لوگ جب مسلم ممالک میں بلا خوف و خطر رہ رہے ہیں تو تمہیں بھی مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے ایسی حرکات سے باز رہنا چاہئے

    دوسری صورت یہ کہ مسلم حکمران ان لوگوں کو بطور ہتھیار استعمال کریں
    جیسا کہ قسطنطنیہ کی دیوار کے قریب مدفون صحابی رسول سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر اور نعش کی بے حرمتی کے متعلق جب عیسائیوں نے پروگرام بنایا تو مسلمانوں کے امیر یزید رحمہ اللہ نے عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ( اگر کوئی گستاخی تمہاری طرف سے روا رکھی گئی تویادرکھو اسلام کی وسیع الحدود حکومت میں کہیں ناقوس نہ بچ سکے گا)

    عیسائی ملکوں میں موجود أحبار و رھبان، قسیسین و عوام کو استعمال کیا جائے

    سب عیسائی متشدد اور اسلام سے سخت متنفر نہیں ہیں، عیسائیوں میں اچھی اور سلجھی طبیعت کے بہت سے احبار و رھبان اور عوام پائے جاتے ہیں

    جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے
    وَلَـتَجِدَنَّ اَ قۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ‏
    اور یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، ان میں سے دوستی میں سب سے قریب ان کو پائے گا جنھوں نے کہا بیشک ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ بیشک ان میں علماء اور راہب ہیں اور اس لیے کہ بیشک وہ تکبر نہیں کرتے۔
    المائدة – آیت 82

    لہذا اس طرح کے عیسائی عوام و علماء کی خدمات لیتے ہوئے ان کے ذریعے ایسے عناصر کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جا سکتے ہیں

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ والوں کے خلاف مکہ کے اندر سے ہی مطعم بن عدی سے تعاون لیا تھا

    اسی طرح آپ نے حبشہ کے عیسائی بادشاہ نجاشی سے تعاون لیا تھا

  • استنبول میں حجر اسود (Hajre Aswad) کے ٹکڑے، تاریخی حقائق کیا کہتے ہیں…!!! تحقیق و ترتیب: قرطبی

    استنبول میں حجر اسود (Hajre Aswad) کے ٹکڑے، تاریخی حقائق کیا کہتے ہیں…!!! تحقیق و ترتیب: قرطبی

    سوشل میڈیا آج کل ہمارے اذہان پر بری طرح سے حاوی ہے، جہاں ہر طرف فرضی میدان جنگ سجے رہتے ہیں ، مختلف ٹرینڈز اور مہمات چلتی رہتی ہیں ۔ اس جنگ کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ، لیکن عموما ہمارے ہاں فریقین اپنے ذاتی تعصب ،رجحان اور مسلکی ، سیاسی و معاشی وابستگی کی بنیاد پر نبرد آزما رہتے ہیں ۔
    سوشل میڈیا پر پچھلے کچھ دنوں ایک مہم یا ٹرینڈ #الحجر_الأسود_مكانه_الكعبة_فردوه ( حجر اسود کا مقام کعبہ ہے اسے وہاں لوٹا دو )کے نام سے بڑے زور وشور سے گردش کرتا رہا ، اگرچہ اردو حلقوں میں اس کی ابتداء ابھی ہوئی ہے اور اس شدت سے اس بارے میں گفتگو نہیں کی جارہی مگر عرب اور ترک حلقوں میں اس بارے میں کچھ عرصہ قبل سے کافی زور و شور سے مباحثے چل رہے تھے ۔
    اس سلسلے میں دلچسپ امر یہ کہ سلطنت عثمانیہ کو قرامطہ کے ساتھ تشبیہ دی جارہی ہے کہ جیسے قرامطہ نے حرم مکی سے بزور قوت حجر اسود اٹھایا ، بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا اور حجر اسود اپنے ساتھ لے گئے ، وہی طرز عمل سلطنت عثمانیہ کا تھا۔یقینا حجرا سود کی چوری ایک ایسا معاملہ ہے جس سے مسلمانوں کو آسانی کے ساتھ مشتعل اور ان کے جذبات کو بھڑکایا جا سکتا ہے ۔
    اس معاملے میں زیادہ گرمجوشی اس وقت آئی جب سعودیہ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ترکی کو حجر اسود کے ٹکڑے واپس کرنے چاہئیں ، کیونکہ یہ دو ارب مسلمانوں کی ملکیت ہیں اور اس عمل کو اس شخص نے ایسی چوری کا نام دیا جس پر ترک بڑی ڈھٹائی سے فخر کرتے ہیں ۔
    یہاں اس معاملے کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ابتداء میں دو تین باتیں گوش گزار کرنا ضروری ہیں: پہلی بات تو یہ کہ سلطنت عثمانیہ انسانوں کی ہی قائم کردہ ایک حکومت تھی جس میں نہ تو فرشتوں کی سی معصومیت تھی اور نہ ہی وہ شیطان کی مانند مجسم شر ۔
    خیر و شر دونوں معاملات اس میں موجود تھے ، چنانچہ نہ تو ان کی غلطیوں کا بے جا دفاع کرنا چاہئے اور نہ ہی غلطیوں کو بنیاد بنا کر اس سلطنت سے حاصل ہونے والی تمام تر خیر و بھلائی کو بیک جنبش قلم رد کرنا چاہئے ۔
    دوسرا یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ حالیہ عرصے میں اس مسئلہ کو ہائی لائیٹ کرنے کی وجہ دینی حمیت و غیرت یاشرعی بنیادنہیں بلکہ سیاسی وجوہات ہیں ۔
    ورنہ ماضی میں ترک مساجد میں حجر اسود کے ٹکڑوں کی موجودگی سے متعلق شور کیوں نہ اٹھایا گیا؟ سعودیہ وترکی کے مابین حالیہ کشمکش سے قبل اس طرح کا مطالبہ کبھی کیوں نہ سنا گیا؟
    ایسا تو نہیں تھا کہ یہ کوئی راز ہو جو لوگوں کی نظروں سے مخفی تھا اور اچانک ہی اس کا انکشاف ہوا اس بات سے تو سبھی واقف تھے ، بلکہ شاید آپ کو تعجب ہو کہ سعودی میڈیا میں اس سے قبل اس کا ذکر ایک تاریخی واقعے کے طور پر ہوتا تھا جس کے ساتھ کسی کی مذمت و تنقیص یا حوالگی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا تھا۔جس کا لنک آخر میں دیا گیا ہے )
    لیکن حالیہ کچھ عرصے میں چونکہ سعودی عرب اور ترکی کے باہمی معاملات کچھ بگڑ گئے تو فریقین ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے یا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔
    اس سلسلے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں بنیادی مسئلہ کا علم تو ہو کہ مسئلہ ہے کیا …؟ حجر اسود کے ٹکڑے استنبول پہنچے کیسے …؟اور ان کا حجم کتنا ہے… ؟
    مجھے بڑی حیرت ہوئی جب ایک اچھے خاصے دانشور شخص کی پوسٹ میں پڑھا کہ سلطان سلیمان قانونی 1571 ء میں حجر اسود کے چھ ٹکڑے ترکی لے گئے، اچھے خاصے سمجھدار شخص کا یہ حال ہے ، جسے یہ تک علم نہیں کہ سلطان سلیمان ایک تو خود اپنی زندگی میں کبھی مکہ مکرمہ گئے ہی نہیں اور دوسرا یہ کہ 1571ء سے قبل ہی وہ وفات پا چکے تھے ۔
    بہرحال اس سلسلے میں سعودی نیوز ایجنسی "الوکہ ” کی جانب سے ہی نشر کردہ ایک رپورٹ سے معلومات ذکر کرتاہوں جس میں وہ سکوللو محمد پاشا مسجد کے امام محمد سانجاک کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :
    یہ پانچ ٹکڑے ہیں جن میں سے چار کا قطر لگ بھگ ایک سینٹی میٹر ہے جبکہ سب سے بڑا پانچواں ٹکڑا جو سلیمان قانونی کے مزار پر نصب ہے اس کا حجم 3 سینٹی میٹر ہے۔
    اس کی آمد کی تفصیل یہ ہے کہ کعبہ کی ترمیم و مرمت کے دوران کچھ ٹکڑے حجر اسود سے الگ ہو کر گر گئے ، کام کرنے والے کاریگر ان ٹکڑوں کو اپنے ہمراہ استنبول لے آئے ۔جب ان کی آمد کا چرچا ہوا تو انھیں تلاش کیا گیا کہ یہ ٹکڑے کن کے پاس ہیں انھیں انعام دے کر ان ٹکڑوں کو واپس اس کی جگہ پر نصب کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس دوران سنان پاشا معروف معمار نے تجویز دی کہ یہ ٹکڑے معزز مہمان کے طور پر ہمارے ہاں ہی باقی رہیں ۔
    پھر سنان پاشانے ان میں سے چار ٹکڑوں کو سونے کے فریم میں سجا کر سکوللو محمد پاشا مسجد میں( جسے وہ اس وقت تعمیر کر رہا تھا) مختلف مقامات پر نصب کیا جہاں آج تک یہ موجود ہیں ۔
    جبکہ چھٹا ٹکڑا جو ادرنا کی اسکی مسجد میں منبر و محراب کے درمیان موجود ہے یہ ان پتھروں کا حصہ ہے(جبکہ کچھ کے نزدیک حجر اسود کا ہی حصہ ہے ) جو کعبہ میں نصب تھے اور شدید بارشوں کی وجہ سے گر گئے ۔
    اس سلسلے میں قابل غور یہ کہ کیا سلطنت عثمانیہ کے اس عمل کو قرامطہ کے طرزعمل کے ساتھ تشبیہ دینا درست ہے ؟
    قرامطہ جنہوں نے یوم ترویہ (8 ذوالحجہ)کو بیت اللہ پر حملہ کر کے حجاج کرام کو شہید کیا ، ان کے اموال کو لوٹا اور حجر اسود کو اکھاڑ کر اپنے ہمراہ لے گئے۔
    قرامطہ نے وحشیانہ جارحیت ، بدترین مظالم کے ساتھ بیت اللہ کی حرمت اور دیگر کئی حرمات کو پامال کرتے ہوئے لوٹ مار کر کے اسے غصب کیا.
    جبکہ عثمانیوں نے مرمت کے دوران اس کے کچھ ٹکڑوں کو تبرک کے طور پر اپنے پاس پورے اعزاز کے ساتھ رکھا اور اسے ایک معزز مہمان کے طور پر جانتے ہوئے اس پر کی اپنی ہاں موجودگی کو باعث شرف سمجھتے ہیں ۔
    قرامطہ کے اس گھناؤنے عمل کا محرک کعبہ اور مسجد حرام سے ان کی نفرت و بغض تھا اور وہ کعبہ کے گرد طواف کو بتوں کی عبادت کی مانند سمجھتے تھے ، جبکہ عثمانی حرمین کے محافظ ، اس کی توقیر کرنے والے تھے ۔ ان دونوں کے درمیان بھلا کیسے برابری ہو سکتی ہے ؟
    یہاں ہمارا مقصد عثمانیوں کے اس عمل کا دفاع کرنا یا اس پر حسن و قبح کا حکم لگانا نہیں بلکہ محض حقیقی واقعہ سے آگاہی ہے ۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ اگرہم اس واقعتا دینی حمیت کی بنیاد پر شرعی تقاضوں کے ساتھ حل کرنے کے خواہش مند ہیں تو امت کے حقیقی رہنما ، علماء حق اس مسئلے پر مل کر بیٹھیں اور اس کا حل پیش کریں ، نا کہ اپنے سیاسی مقاصد اور حریف کونیچا دکھانے کیلئے الزام تراشی اور حقیقی صورتحال سے کہیں زیادہ واقعہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے ۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی روز بروز اہمیت پکڑتا جا رہا ہے کہ اس مسئلے میں ہمیں سعودی شاہی خاندان یا اردگان کے کھینچے ہوئے محدود دائرے سے نکلنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہم تاریخ کا مطالعہ ضرور کریں لیکن ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کیلئے نہیں اس سے سیکھنے کیلئے !
    ان غلطیوں کے اعادے سے بچنے کیلئے جنہوں نے ہمیں آج اس حال تک پہنچایا۔

    الوکۃ نیوز ایجنسی پر حجر اسود کے ٹکڑوں کی إسطنبول آمد کے پس منظر پر تحریر کا لنک
    https://www.alukah.net/translations/0/35944/
    ماضی میں سعودی اخبار میں حجر اسود کے ان ٹکڑوں کے بارے میں رپورٹ کا لنک
    https://www.al-madina.com/article/119533