Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاکستان میں ڈیمز اب نہیں تو کب… ڈیمز پر اعتراضات کا جواب دیتی فیصل ندیم کی تحریر

    پاکستان میں ڈیمز اب نہیں تو کب… ڈیمز پر اعتراضات کا جواب دیتی فیصل ندیم کی تحریر

    کافی عرصہ ہوا میں پنڈی سے بذریعہ بس حیدرآباد آرہا تھا ایک صاحب جنہوں نے میہڑ ضلع دادو جانا تھا میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جب ہم میانوالی کے قریب چشمہ کے مقام پر پہنچے جہاں پاکستان نے ایک بڑا ذخیرہ آب جمع کیا ہوا ہے تو وہ صاحب مجھے کہنے لگے دیکھیں یہ پنجاب نے ظلم کیا ہوا ہے میں نے پوچھا بھائی وہ کیسے تو فرمانے لگے اتنا سارا پانی یہاں روکا ہوا ہے تو سندھ تو سارا خشک ہوجائے گا اور اس کی زراعت بالکل تباہ ہوجائے گی میں نے عرض کیا حضرت ایک ذاتی سا سوال پوچھ لوں کہنے لگے پوچھیں میں نے کہا آپ نے اپنے گھر میں پانی کا ذخیرہ کرنے کیلئے کوئی زیر زمین یا چھت کے اوپر کوئی ٹنکی بنائی ہے تو کہنے لگے بالکل بنائی ہے میں نے پھر پوچھا کیوں ؟؟؟
    جی ہر وقت لائٹ بھی نہیں ہوتی اور واٹر سپلائی کا پانی بھی مقررہ وقت پر آتا ہے اس لئے پانی جمع کرنا پڑتا ہے تاکہ سارا دن استعمال ہوسکے میں نے عرض کیا بھیا آپ کے چھوٹے سے گھر کو تو ذخیرۂ آب کی ضرورت ہو اور اتنے بڑے ملک کو پانی ذخیرہ کئے بغیر چلا لیا جائے کچھ عجیب سی بات نہیں ہے ۔۔۔۔؟؟؟
    حضرات ایسے وقت میں کہ جب ساری دنیا سینکڑوں نہیں ہزاروں چھوٹے بڑے ڈیم بنا رہی ہے چائنہ چار ہزار سے زیادہ ڈیم بنا چکا ہے ہمارا ازلی دشمن بھارت پندرہ سو سے زیادہ ڈیم بنا چکا ہے یہ پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ تربیلا اور منگلا کے بعد ہم کوئی قابل ذکر ڈیم نہیں بنا سکے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم شاندار نہری نظام رکھنے کے باوجود دن بدن خشک سالی کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں
    بھارت ہمارا وہ ازلی دشمن ہے جس نے مقبوضہ کشمیر میں ہمارے دریاؤں پر قبضہ کرکے متعدد ڈیم بناکر ہمارا پانی روکا تاکہ جہاں وہ ہمارے پانی پر اپنی بنجر زمینوں کو سیراب کرسکے وہیں ہمیں پانی کے قطرے قطرے کا محتاج بناکر اپنا باج گزار بنالے
    عجیب تماشہ یہ ہے کہ ایسے وقت میں کہ جب بھارت ہمارے دریاؤں پر ڈیم پر ڈیم بنائے چلا جارہا تھا اس نے ہمارے بیچ ایسے لوگ کھڑے کردئیے جنہیں پاکستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کا کوئی ذخیرۂ آب برداشت نہ تھا قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے یہ لوگ بظاہر اپنے اپنے ہم زبان لوگوں کے ہمدرد تھے لیکن حقیقت میں دشمن کے ایجنڈے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہمیشہ ان کے ساتھ دشمنی پر آمادہ نظر آتے تھے
    ان لوگوں نے سندھ اور کے پی کے کے بھولے بھالے عوام کو پروپیگنڈے کے جال میں اس طرح پھنسایا کہ انہیں لگنے لگا کہ پاکستان کی سرزمین پر بننے والا کوئی بھی ذخیرۂ آب ان کی تباہی کا سبب بنے گا نتیجتاً ایک بڑا عوامی ردعمل ڈیموں کی تعمیر کے ان منصوبہ جات کے خلاف کھڑا ہوگیا جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت تھے ان کی پاکستان دشمنی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کے ہر ڈیم کے خلاف بڑے بڑے احتجاج کرنے اور ان کے خلاف لمبے لمبے بھاشن جھاڑنے والے ان لوگوں کو کشمیر میں بننے والے کسی بھی ڈیم یا کینال کے خلاف بولتے ہوئے کبھی بھی نہیں سنا گیا یعنی تماشہ یہ تھا کہ یہ ایک طرف پاکستان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کررہے تھے تو دوسری طرف بھارت کو موقع فراہم کررہے تھے کہ وہ پاکستان میں موجود انتشار کا فائدہ اٹھا کر پاکستانی دریاؤں کا رخ اپنی منشا کے مطابق موڑ لے
    پاکستانی عوام کی ایک اور بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ انہیں کوئی ایک بھی حکومت اس طرح کی میسر نہیں آئی جو اس پاکستان دشمنی پر مبنی اس مذموم مہم کا کما حقہ مقابلہ کرسکے کیا اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ بجائے ان بدبخت عناصر کا قلع قمع کرنے کے انہیں اقتدار کے ایوانوں میں لا بٹھایا جائے ولی خان اسفندیار ولی محمود خان اچکزئی اور سندھ کے کئی بدبو دار قوم پرست سیاستدان اس کی عملی مثال ہیں ۔۔۔۔
    حضرات پاکستان اپنے قیام کے وقت فی کس پانی کی دستیابی کے لحاظ سے دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل تھا لیکن ہماری نااہلیوں اور دشمنوں کی سازشوں نے ہمیں اس جگہ لا پہنچایا ہے کہ ہم دنیا کے ان پندرہ ممالک میں شامل ہوگئے ہیں جو بڑی تیزی کے ساتھ قلت آب کا شکار ہورہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ پاکستان نے اگر ہوش کے ناخن نہ لئے تو پاکستان کا حشر صومالیہ جیسے خشک سالی کے مارے ملکوں جیسا ہوسکتا ہے
    یہ بات خوش آئند ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے نئے ذخیرۂ آب تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے مہمند ڈیم کی تعمیر تیزی سے جاری ہے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر بھی بہت جلد شروع ہونے جارہی ہے ان ڈیموں کی تعمیر کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان دشمن قوتیں ایک بار پھر متحرک ہوچکی ہیں اور ان ڈیموں کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ شروع کردیا گیا ہے اس وقت میں جہاں حکومت وقت کو چاہئے کہ وہ اس مذموم پروپیگنڈے کا سدباب کرے وہیں پاکستانی عوام کو بھی اس حوالہ سے میدان میں آنا چاہیے اور سوشل میڈیا کے محاذ پر پاکستان اور اس کے عوام کی ترقی کے ان دشمنوں کو دانت کھٹے کردینے والا جواب دینا چاہیے جان لیجئے ڈیموں کی تعمیر ہمارے آج اور آنے والے کل کیلئے ہماری بہت بڑی ضرورت ہے ہمیں اپنی اور اپنی نسلوں کی بقا کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دیکر بھی یہ ڈیم تعمیر کرنے چاہئیں تاکہ ہم اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کا تحفظ کرسکیں
    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں بات کو سمجھنے کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان اور پاکستانیوں کی حفاظت فرمائے
    آمین یا رب العالمین

  • اولاد باپ کی نافرمان کیسے بنتی ہے!!! سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ساجد مقبول کی تحریر

    اولاد باپ کی نافرمان کیسے بنتی ہے!!! سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ساجد مقبول کی تحریر

    دراصل باپ سمجھتا ہے میرا کام صرف کمانا ہے اور کما کر بچوں کو کھلانا ہے باپ یہ بھول ہی جاتا ہے میری اولاد میری دوست بھی ہے باپ دن رات محنت کرتا ہے جب بچے سو رہے ہوتے ہیں باپ کمائی کرنے نکل جاتا ہے اور جب باپ کمائی کر کے گھر لوٹتا ہے تو بچے سو چکے ہوتے ہیں نا باپ نے بچوں کا لاڈ دیکھا نا بچوں نے باپ کی شفقت دیکھی ماں گھر کے کام کاج میں اتنی مصروف ہوتی ہے کہ وہ بیچاری بچوں کی صحیح طرح تربیت نہیں کر پاتی البتہ پھر بھی ماں گھر میں موجود ہوتی ہے تو اس لیے بچوں کو ماں کا پیار مل تو جاتا ہے لیکن باپ کی شفقت باپ کا پیار نہیں ملتا بچے باپ کی تربیت سے محروم ہو جاتے ہیں اور بچے آہستہ آہستہ باپ سے اور باپ بچوں سے اجنبی سا ہو جاتا ہے پھر جب بچے ماں کو زیادہ تنگ کرتے ہیں تو ماں تھک ہار کے باپ کو شکائیت لگاتی ہے تو باپ پہلے ہی روزی روٹی کما کما کر تھکا ہوتا ہے باپ کو پتہ ہی نہیں ہوتا میرے بچوں کو کس تربیت اور شفقت کی ضرورت ہے اور والد صاحب بیوی سے بچوں کی شکائتیں سن کر لنگوٹا کس لیتے ہیں اور بچوں کی مار کٹائی کر دیتے ہیں بچے تو پہلے ہی باپ کی شفقت اور دوستی سے محروم ہوئے ہوتے ہیں تو بچے اور زیادہ باپ سے دور بھاگنے لگ جاتے ہیں اور باپ سمجھتا ہے میرے بچے نافرمان ہیں لیکن اصل مجرم باپ ہی ہوتا ہے جو بچوں کھلاتا تو ہے لیکن تربیت اور اپنے پیار سے محروم رکھتا ہے لہذا اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں ان سے دوستی کریں ان کے گلے شکوے سنیں ان کے ساتھ سیر و تفریح پر جائیں ہنسی مزاح گپ شپ کی محفل لگائیں اور بچوں کو کاروبار سے زیادہ ٹائم دیں کیونکہ باپ اولاد کے لیے وہ درخت ہوتا ہے جو چھاؤں بھی دیتا ہے اور پھل بھی ۔۔۔۔۔

  • عزم قطرہ تھا میرا، بحر ہو گیا!!! تحریر: محمد طلحہ

    عزم قطرہ تھا میرا، بحر ہو گیا!!! تحریر: محمد طلحہ

    اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں سے کام لینے پر آتا ہے تو کچھ لوگوں کو چن لیا کرتا ہے، ان کے دلوں میں اپنی محبت کو ڈال دیا کرتا ہے اور پھر وہ لوگ دنیا جہاں سے بے خبر اپنے مقصد میں لگ جایا کرتے ہیں، اللہ رب العزت پھر انہیں وسائل بھی عطا کرتے ہیں، دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور کامرانیاں ان کا مقدر ٹھہرتی ہیں اور بالآخر وہ رب کی جنتوں کے مستحق ٹھہر جایا کرتے ہیں

    ملک پاکستان سمیت دنیا بھر میں جب خالق کائنات نے کرونا وائرس کی صورت میں اپنے عذاب کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی اور دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا
    انسان نے اپنے تئیں حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کا آرڈر جاری کر دیا لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جب لاک ڈاؤن ہوا تو غربت و افلاس کے ہاتھوں پسی ہوئی عوام مزید متاثر ہوئی تو ایسے میں اللہ تعالیٰ نے کچھ عظیم لوگوں کو چُنا کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے ساتھ اپنے ان بھائیوں کی فلاح کا بیڑہ اٹھایا اور اپنے رب سے جنتوں کی امید لگائے ڈٹ گئے
    انہیں عظیم لوگوں میں ایک نام *کرونا فائٹرز تلہ گنگ* کا ہے
    گورنمنٹ کی طرف سے لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو اِن اللہ کے بندوں کو اپنے بھائیوں کا درد ستانے لگا اور یہ لوگ اپنے مسلمان بھائیوں کی ممکنہ مدد کرنے کا سوچنے لگے
    رات کے وقت ایک بھائی جو کہ گورنمنٹ ٹیچر ہیں واٹس ایپ سٹیٹس لگاتے ہیں کہ کل اس حوالے سے بھائی اکٹھے ہوں اور یوں کچھ اساتذہ کا ایک گروپ اکٹھا ہو جاتا ہے اور کرونا فائٹرز تلہ گنگ کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے
    کرونا فائٹرز تلہ گنگ کا قیام عمل میں لانے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ہم ابتدائی طور پر پچاس گھروں تک راشن پہنچائیں گے لیکن بات وسائل پر آکر اٹک جاتی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے کام لینا ہوتا ہے تو اسباب وہ خود پیدا کر دیا کرتا ہے اور بالکل ایسے ہی اللہ رب العزت نے مخیر حضرات کے دل میں اس بات کو ڈالا اور انہوں نے اپنے بھائیوں کی مدد کیلئے اپنا روپیہ پیسہ پیش کر دیا اور یوں وہ ابتدائی طور پر پچاس گھروں کیلئے تیار ہونے والا پیکج 100 گھروں کے پیکج میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہ کام چھ سو گھروں تک راشن پہنچانے تک جا پہنچتا ہے ۔ بحمد اللہ
    اُس کے بعد رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ دستک دے رہا ہوتا ہے تو کرونا فائٹرز ایک دفعہ پھر اپنی کمر کستے ہوئے اپنے بھائیوں کی مدد کو تیار کھڑے ہوتے ہیں ان شاء اللہ
    اور یوں اس ایک واٹس ایپ سٹیٹس کی بدولت اللہ تعالیٰ اپنے چُنے ہوئے لوگوں سے ایک اتنا بڑا کام لے لیتے ہیں
    جب حوصلے بلند ہوں، اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت شامل حال ہو تو پھر ایک قطرے کو بحر ہونے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔
    ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ کرونا فائٹرز تلہ گنگ اور ان مخیر حضرات کہ جنہوں نے دل کھول کر اپنے بھائیوں کے ساتھ تعاون کیا، دنیا و آخرت میں بہترین نعم البدل عطا فرمائے اور اپنی اعلی جنتوں سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین

  • محبت پر ظلم کا پہرہ !!! از قلم نعمان علی ہاشم

    محبت پر ظلم کا پہرہ !!! از قلم نعمان علی ہاشم

    کوئی ایک ہفتہ پہلے دنیا کرکٹ کے تیز ترین باؤلر نے ایک ویڈیو میں پاکستان اور بھارت کی عوام کو مشورہ دیا کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں پاکستان انڈیا کی کرکٹ سیریز رکھ لیں. ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا گھروں میں بور ہو رہی ہے. ٹی وی اور انٹرنیٹ کے علاوہ لوگوں کو کوئی کام نہیں ہے. لہٰذا براڈکاسٹنگ سے اچھا خاصا فنڈ اکٹھا کیا جا سکتا ہے. فنڈ پاکستان اور انڈیا آدھا آدھا کر لیں اور وہ پیسے کورونا کے مریضوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کر دیے جائیں. شعیب نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اپنے آفیشلز کے ساتھ سکینگ کے بعد کسی ایک وینیو پر جمع کی جائیں. اور براڈکاسٹنگ کے لیے جس چینل کو ٹھیکہ دیا جائے اس کی انتظامیہ کے 40 افراد سکینگ کے بعد جمع کر لیے جائیں. اسی طرح آئی سی سی اپنے نمائندگان کو سکینگ کے بعد سیریز کنڈکٹ کرنے بھیج دے. بغیر کراؤڈ کے انڈیا پاکستان کے تین میچیز کروا دیے جائیں.
    اس وباء کے موسم میں اس سے بہتر تجویز شاید ہی کوئی تھی. ایک تو جو لوگ گھروں میں قید ہیں ان کی تفریح کا سامان ہو جاتا. دوسرا سپانسرز اور براڈکاسٹنگ کے ذریعے تین ارب ڈالر کما لیے جاتے. جو کورونا کے خلاف لڑنے میں دونوں ممالک کے انسانوں کے کام آتے.
    میں نے یوٹیوب پر ویڈیو دیکھی تو نیچے ہندوستانیوں نے طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا تھا. سینکڑوں میں سے چند کمنٹ ایسے تھے جنہوں نے شعیب کے مشورے کو سراہا تھا.
    اولاً تو میں نے سوچا کہ عام اور جاہل ہندوستانی کا رویہ ہے. کسی زمہ دار بھارتی کا موقف جانتے ہیں.
    اس کے لیے سرچ کیا تو پورا ہندوستانی میڈیا شعیب اختر اور پاکستان کا مذاق اڑا رہا تھا. میڈیا تو چلو فاشٹ حکومت کا پیڈ ہوا. دکھ ہوا جب کچھ بھارتی سابق کرکٹرز نے بھی شعیب کا مذاق بنایا.
    سب سے شرمناک بات سنیل گواسکر نے کی کہ
    "پاکستان کے لاہور میں برفباری تو ہو سکتی ہے مگر شعیب اختر کے مشورے پر عمل نہیں.”
    ایک طرف تو یہ بھارتی رویہ ہے اور دوسری طرف ہمارا بھائی شعیب ہے جو ہر وقت امن کی بات کرتا ہے. شعیب نے کش میر پر ٹویٹ کی تو بھارتی عوام نے خوب سنائیں. شعیب نے کسی معاملے میں عمران خان کی تعریف کی تو شعیب اختر کو بھارتی میڈیا نے منافق کہہ دیا.
    ہماری ہوش کی آنکھوں نے پاکستان کی طرف سےامن کی آشاء سے لے کر آج تک بھارت کے تعصبانہ رویے کا ہمیشہ مثبت انداز میں جواب دیا. پاکستان کے ایمبیسڈرز نے ہر موقع پر پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کی بات کی. پاکستانی عوام کی اکثریت بھی پاک بھارت تعلقات کی برابری کی سطح پر چاہتی ہے. مگر بھارت کی اکثریت پاکستان کے ساتھ کھلی دشمنی کا اعلان کرتی رہتی ہے.
    اس وقت بھارتی حکومت، ایمبیسڈرز اور میڈیا دن رات پاکستان کی نفرت سیکھانے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا.
    بھارت نے ہر چیز کو دشمنی پر تولہ ہے. تجارت، ثقافت، کھیل، ادب اور سیاست سب جگہ بھارت کا یہی تعصبانہ رویہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ بھارت اس خطے میں امن کو لے کر سنجیدہ نہیں. اور خدانخواستہ بھارت کا یہ رویہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے.
    والسلام
    نعمان علی ہاشم

  • یہ کیسا لاک ڈاؤن ہے؟؟؟ از قلم عبدالحفیظ

    یہ کیسا لاک ڈاؤن ہے؟؟؟ از قلم عبدالحفیظ

    کریانہ، گوشت، دودھ دہی، میڈیکل سٹور، پہلے کھلے تھے،
    اب درزی، حجام، الیکٹریشن، بک سٹیشنری، مکینک، کو بھی اجازت، کرونا مرض کیا ان پیشہ والوں سے جو سٹیل کے برتن، کراکری، لنڈے والے، کپڑے والے، جوتے والے پیٹی و ٹرنک اور موبائل ریپئرنگ والے ایزی لوڈ، ٹرانسپورٹ، وان والے، منیاری والے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے، سے پھیلتا ہے جن کو مشکل میں ڈال دیا گیا ہے۔pti ساری کملی ہوگئی اے کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں عجب تماشہ لگا دیا ہے۔
    یا تو لاک ڈاؤن مکمل ہو یا پھر سب کچھ کھول دو۔
    عقل سے پیدل لوگوں جب ان متعلقہ افراد کے کام بند ہونگے تو ان کو کیا پڑی ہے کہ روزی روٹی کے بندوبست کے علاوہ حجام سے حجامت بنوائیں یا الیکٹریشن کا کام کروائیں یا کتابیں کاپیاں خریدتے پھریں۔
    سب سے بڑھ کر ٹرانسپورٹ ہی نہیں چلے گی تو دیہات وغیرہ کے لوگ شہر کا رخ کیسے اور کیوں کرینگے؟
    جب کہ آدھے سے زیادہ ان افراد کے متعلقہ چیزوں کی دکانیں ہی بند ہو۔
    حکومت پاکستان یا تو سب کو کاروبار کی اجازت دے یا پھر یہ وباء واقعی خطرناک ہے تو انسانی زندگی بچانے کیلئے سخت فیصلہ کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کرے کیونکہ اگر اس وباء سے کوئی بھی شہری متاثر ہوگیا تو وہ اپنے خاندان کو درد جدائی دینے کے ساتھ انکی صحت و زندگی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے اور دیگر افراد بھی اس مرض کا شکار ہو جائیں گے۔

  • اور صبر و برداشت سے بڑی خیر وعطا کوئی نہیں…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    اور صبر و برداشت سے بڑی خیر وعطا کوئی نہیں…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    میں نے آٹے والی پیٹی میں سے گوندھنے کے لیئے آٹا نکالا،اور دیکھا کہ آٹا تو ختم ہونے کے قریب ہے…اور آج کل تو آٹے کی ضرورت بھی زیادہ ہے کیونکہ گھر کے سبھی افراد گھر پر ہیں اور پھر کوئی نہ کوئی مستحق بھی آ جاتا چنانچہ طبیعت کی ناسازی کے باوجود ارادہ کیا کہ چلو آج ایک بوری گندم ہی صاف کر دی جائے تاکہ چکی پر پیسنے کے لیئے بھیجی جا سکے…
    چارو نا چار گندم کی بالٹیاں بھر بھر کر صحن میں رکھنا شروع کر دیں،اور چھپی نگاہوں سے سب کو تلاشنا بھی شروع کیا کہ کوئی مدد کو آتا ہے کہ نہیں…
    لیکن ظاہر سی بات تھی سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے اور مجھ مسکین پر کسی نے نظرِ رحم نہ کی اور شاید سبھی میرے کام سے بے خبر تھے…
    مجھے دل ہی دل میں بلا کا غصہ آیا کہ بھئی کمال ہے گیمز کھیلنا بہت ضروری ہیں؟
    اندر ہی اندر قہقہے بلند ہو رہے ہیں؟؟
    ہاں فل آواز میں چولہے کی آواز آ رہی ہے ضرور کوئی ریسیپی تیار ہو رہی ہو گی محترمہ کی؟
    وہ تو بس کوکنگ سنبھال کر باہر سے بے فکر…
    یہ تو گارلک تکہ اور انڈوں کے حلوہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں…
    اور ابھی کوکنگ کے بعد تلاوت و تفسیر کا وقت ہو جائے گا اور میری دلجوئی…؟
    اُف میں نے آج اکیلے کیا مصیبت سر ڈال لی ہے وغیرہ؟
    غرض خیالات کا سلسلہ اندر ہی اندر بہہ رہا تھا جو لبوں تک ابھی نہیں آیا تھا اور وجہ گردے میں درد تھی…
    خیر چند ہی لمحوں بعد جب سب نے میری عدم موجودگی کا نوٹس لیا تو سبھی بھاگے آئے کہ آپ کو کیا فکر پڑی تھی کل کر لیتیں،کون سا مجبوری تھی؟؟
    اب مجھے سب کے اپنے ہونے کا احساس ہونے لگا تھا…
    امی جان نے انڈا ابال کر بھیجا تھا کہ یہ اُسے دے آؤ کھالے…
    سسٹر سٹرابری دھو کر لے آئیں…
    اور بھائی گندم کی بالٹیاں بھر بھر کر مجھ تک پہنچانے لگے،اور صاف کی ہوئی الگ بوری میں ڈالنے لگے…
    چند لمحات پہلے کے خیالات ہوا ہو چکے تھے اب ایک سکون سا گھیرے ہوئے تھا…اُس وقت جو چاہا کہ ذرا چیخ کر سب کو بلاؤں کہ کہاں گئے ہو؟
    ایسا نہ کرنے پر فرحت رگوں میں اُتر رہی تھی اور میں نے انہیں یہ محسوس بھی نہ ہونے دیا کہ میں غصہ میں تھی…
    سو کام آدھے گھنٹہ میں مکمل بھی ہو چکا تھا کہ نمازِ ظہر کے لیئے اذان کی آواز بلند ہوئی تب میں نے شکر کیا کہ چلو بروقت فراغت ہوئی…اور دل میں اب پھر اک سوال اُبھرا کہ اگر میں ناراضگی کا اظہار کر ہی دیتی تو سب کے دل میں کیا بات جاتی؟
    سب کی ہنسی افسردگی میں بدل جاتی اور وہ مدد کرتے ہوئے بھی بوجھل ہو رہے ہوتے…
    حالانکہ ہر کام اور ہر لمحہ ساتھ نبھاتے ہیں…!!!

    صبح ناشتے کا پراٹھا،انڈا اور چائے کا کپ اُٹھا کر اپنے کمرے میں پہنچی،والدہ محترمہ بہت زبردست پراٹھا بناتی ہیں اور سبھی خاندان والے امی کے پراٹھے یاد کرتے ہیں…لیکن تین دن سے مجھے تو بالکل بھی پسند نہیں آ رہا تھا درمیان سے موٹا اور سائیڈ سے پتلا پراٹھا بھلا یہ کیا اصول ہوا؟
    آج تو جا کر امی جان سے شکایت کرتی ہوں کہ جیسے بھی ہو میں ناشتے میں خامی نہیں برداشت کر سکتی…
    چنگیر اُٹھا کر کچن میں پہنچی،دل تھا کہ آج تو چنگیر زور سے پٹخ دوں اور ساتھ ہی ایک مرحوم پڑوسی بابا جی بھی یاد آئے جن کو بہو کھانا دے کر آتی تھیں تو وہ اچھی طرح کھانا کھا کر پلیٹ صاف کر کے خالی چنگیر اور پلیٹ دور سے ہی پھینک دیتے جو بعض اوقات کام میں مگن بہو کی پیٹھ پہ آ لگتی وہ بہو اب بھی کبھی ملیں تو یہ دلچسپ آپ بیتیاں سناتی ہیں…
    خیر اسی خیال کے آتے ہی چنگیر تو آرام سے شیڈ پر رکھ دی اور ناراضگی میں باہر جانے لگی تو امی جان جو پیڑھی پر بیٹھی تھیں سمجھ کر کہنے لگیں،بچے آج تمہاری روٹی موٹی ہو گئی تھی…پتہ نہیں آٹا ٹھنڈا تھا کہ کیا میں نے تو روٹی بہت دقت سے بنائی ہے…
    ہاں جی امی وہ میں فریج میں آٹا رکھ کر نکالنا ہی بھول گئی تھی تو بہت سخت ہوگیا ہوگا معذرت امی جی…
    نہیں ذرا دھیان سے نکال دیا کرو کیونکہ صبح تو سردی سے میرے ہاتھ ٹھنڈے برف بنے ہوتے ہیں…
    جی ضرور امی…
    غلطی تو میری تھی اور میں ہی غصہ سے چنگیر پہ بھی غصہ نکالنا چاہ رہی تھی؟
    ،نگاہیں ندامت سے جھکنے لگیں…
    قارئین !!!
    یہ تو محض دو واقعات تحریر کیئے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ اکثر غلطی ہماری اپنی ہوتی ہے…
    ہم بات سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہوتے…
    کسی کی بات کا مقصد نظر انداز کر دیتے ہیں…
    اور محض بدگمانی اور عدم برداشت کی وجہ سے پھٹ پڑتے ہیں…
    جس کا نقصان بھی ہمیں ہی برداشت کرنا پڑتا ہے…
    سو زندگی میں مثبت بھی سوچتے رہنا چاہیئے…کبھی کسی کی چھوٹی موٹی غلطی کو نظر انداز بھی کر دینا چاہیئے…
    ہاں جہاں واضح غلطی کی اصلاح کی ضرورت محسوس ہو رہی ہو وہاں خاموش رہنا بھی غلط ہے…
    لیکن کسی کو محض وہم و گمان سے نشانے کی زد پر نہیں رکھنا چاہیئے…
    تھوڑی سی برداشت،صبر تحمل،بردباری بسا اوقات بڑے نقصانات سے بچا لیتے ہیں اور کبھی انہی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے شرمندگی و نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے…
    ہر بات کو جوش کے آئینہ میں ہی دیکھنے کی بجائے کبھی ہوش کا آئینہ بھی سامنے رکھنا چاہیئے…
    مجھے یاد آیا کہ پچھلے دنوں میں نے کسی گروپ میں ایک پوسٹ فارورڈ کر دی جس میں مردوں کی گھریلو مصروفیات کا مزاحیہ جائزہ تھا… جو کہ ہمارے مردوں کی اکثریت کا رویہ بھی ہے…نظر سے گزری تو دلچسپ لگی۔۔۔ جبکہ میرا اصول زیادہ تر صرف اپنی تحریر ہی فارورڈ کرنا ہے تو ایک گروپ ممبر نے(نامعلوم بہن ہیں کہ بھائی؟) نے کمنٹ کیا کہ آپ لوگوں کو صرف ایکٹروں کے انداز ہی گروپ میں بھیجنا پسند ہیں کچھ تو…… کرو وغیرہ۔
    اب اگر میں چاہتی تو اس بلینک کو پُر کر سکتی تھی کہ شرم کرو،حیا کرو یا خیال کرو وغیرہ
    یعنی ان کا مطلب کیا تھا؟
    تو بات طول پکڑ لیتی،بحث لمبی ہو جاتی…حالانکہ اُس تحریر میں نہ تو ایکٹرز کا تذکرہ تھا اور نہ ہی میرا مدعا…
    جبکہ بعض اوقات گروپ میں کچھ چیزیں بالخصوص وڈیوز وغیرہ ناگوار بھی گزرتی ہیں لیکن گروپ میں موجود سبھی قابلِ احترام ممبرز کی رائے اور فکر یا پیغام کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے…یہ بات تو سردست یاد آ گئی تو وضاحت کر دی ہے…
    بات ہم اپنے رویوّں میں تبدیلی کی کر رہے ہیں کہ جب تک ہم خود کو نہیں بدلتے…
    اَنا کو کم نہیں کرتے…
    کسی کی سوچ اور رائے کا احترام نہیں سیکھتے…
    اور محض بدگمانی اور تنقید کے تیروں کی برسات جاری رکھتے ہیں تو کسی بھی سفر کا مزہ ادھورہ رہ جاتا ہے…
    ہم اس کی لذت و چاشنی سے محروم رہ جاتے ہیں…
    محدود نظریات کے حامل بن جاتے ہیں
    چاہے وہ گھر ہو یا دفتر…
    فورمز ہوں یا ایوان…
    ہم تنہائی کا شکار ہونے لگتے ہیں کیونکہ ہم سب کو اپنی شخصیت اور سوچ کے آئینہ میں نہیں ڈھال سکتے ہمارے ذمہ بہترین نصیحت حکمت کے ساتھ پہنچا دینا ہے…!!!
    کبھی کچھ برداشت کر جانا…
    صبر کا گھونٹ پی جانا…
    بے پرواہ بن جانا بھی اس زندگی کے حُسن کو مذید چار چاند لگا دیتا ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو کوئی صبر کی عادت ڈالے اللّٰہ تعالٰی اسے صبر دے دیتا ہے اور کوئی عطا صبر سے زیادہ بہتر اور کشادگی والی نہیں…”
    (صحیح مسلم)۔
    جب ہم صبر و برداشت کا دامن تھام لیتے ہیں تو لاریب ہمارا ذہن وسیع،ظرف بلند اور دل کشادہ ہو جاتے ہیں…!!!!!

  • کرونا، لاک ڈاؤن اور تعلیمی ادارے۔۔!!! تحریر: خواجہ رضوان احمد کشمیری

    کرونا، لاک ڈاؤن اور تعلیمی ادارے۔۔!!! تحریر: خواجہ رضوان احمد کشمیری

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے آزاد کشمیر کا وہ طبقہ جو دن بھر کی کمائی کے بعد رات کا راشن لے کر اپنے بیوی بچوں کے پاس جاتا تھا، جن میں دیہاڑی دار مزدور، مستری، ٹھیلے اور ریڑھی لگانے والے غریب، اور سب سے بڑی تعداد دکاندار حضرات کی ھے، اسکے علاوہ وہ لوگ جو دیار غیر سے یہاں چھٹی آئے اور یہاں پھنس کر رہ گئے جو کہ اپنی فیملیز کے اکیلے سورس آف انکم ھیں، جن میں راقم بھی شامل ھے۔

    جیسا کہ سب کو معلوم ھے کہ چند اقسام کی دکانوں کے علاوہ باقی تمام کاروبار اور کام مکمل طور پر بند کر دئیے گئے ھیں، جس سے کہ یہ تمام طبقوں کے سفید پوش لوگ شدید تر متاثر ھو رھے ھیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ کافی سنگینی اختیار کرتا جائیگا۔

    اس تمام معاملہ سے قطع نظر یہ حقیقت ھیکہ آزاد کشمیر میں تعلیم کی شرح پاکستان سے بھی زیادہ ھے، سب جانتے ھیں کہ ایک معصوم غریب مزدور باپ بھی اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دینا اپنا اولین فرض سمجھتا ھے چاھے وہ بیٹا ھو یا بیٹی، اور آجکل تعلیم، شائد روزگار یعنی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے بچھانے، سب سے مہنگا بوجھ بن چکا ھے، (اسکی وجوھات و اسباب یہاں لکھنا تحریر کے اصل مقصد سے دوری کا سبب بن جائیگا، اسلئیے فی الوقت اسکو موقوف کرنا بہتر ھے۔

    تعلیمی اداروں کو پہلے 5 اپریل تک بند کر دینے کا اعلان کیا گیا جسے کہ اب غالبا مئی کے اختتام تک بند کرنیکا حکم صادر کر دیا گیا ھے، یہ حکومت وقت کا بہت اچھا اور احسن عمل ھے کیونکہ باقی لوگوں کی نسبت بوڑھے عورتیں اور چھوٹے بچے بیماریوں کے گھیرے میں جلد آ جاتے ھیں، کیونکہ انکا ایمیون سسٹم، انکا جسمانی ڈیفینس میکینزم، یعنی کسی بھی بیماری کے خلاف لڑنے کی طاقت ان میں بقدر کم ھوتی ھے، اور اس پر یہ کہ چھوٹے معصوم بچوں کو اسکولوں میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق سنبھال کر چلانا بھی ایک سعی لا حاصل ھے، جسکی بہت سی وجوھات ھیں، جن میں سہولیات اور وسائل کا فقدان قابل ذکر ھیں۔
    اسلئیے وقت کا تقاضا اور مصلحت اسی میں مضمر ھیکہ ھر ایک فرد انفرادی طور پر "کرونا وائرس” covid-19، نامی آفت سے بچاؤ بھی کرے، تمام احتیاطی تدابیر خود بھی اختیار کرے اور اہنے حلقہ احباب میں بھی اسکی آگاھی کو یقینی بنائے۔

    اپنی تحریر کے اصل مدعا کو پیش نظر رکھتا ھوں کہ، اسکولوں اور باقی تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد جہاں جہاں ممکن تھا تعلیمی اداروں، یونیورسٹیز و کچھ دینی درسگاھوں میں بھی اپنے شاگردوں کو آن لائن یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے مستفید کیا گیا اور کیا جا رھا ھے، جو کہ بہت ھی اچھی بات ھے، اور یہ سلسلہ جاری بھی رھنا چاھئیے۔۔۔
    مگر آج ایک بھائی سے انفارمیشن ملی کہ کچھ پرائیویٹ سکولز بھی چھوٹے بچوں، یعنی پلے گروپ، نرسری، پریپ یا اس سے بڑی کلاسز کے بچوں کو آن لائن سبق دینے کا سلسلہ شروع کرنا چاھتے ھیں، ساتھ ھی ساتھ والدین کو اسکول کی ماھانہ فیسز کی ادائیگی اور لیٹ ھونیکی صورت میں لیٹ فیس جمع کروانے کے حکم نامے بھی جاری کئیے جا رھے ھیں۔۔۔!

    پہلی بات تو یہ کہ کشمیر میں نہ ھی انٹرنیٹ اس معیار کا ھیکہ ھر کوئی اسکے ذریعے ایسا کام جاری رکھ پائے اور نہ ھی عام عوام کے پاس ایسی سہولت موجود ھوتی ھے کہ وہ آن لائین چھوٹے بچوں کے لئیے ایسی سہولت کا انتطام کرپائیں۔ ایک عام دیہاڑی دار مزدور کے لئیے ایسی باتیں کوہ قاف کی کہانیوں سے زیادہ کچھ معنی نہیں رکھتیں، اور دوسری بات کہ اس لیول کے بچوں کو اگر کوئی پرائیویٹ اسکولز آن لائن کلاسز کے لئیے کہیں تو یہ منطق بھی فہم سے بالاتر ھے، اور اگر ایسا اسلئیے کرنا مقصود ھیکہ اس تمام لاک ڈاؤن کے عرصے میں بند اسکولوں کے باوجود اور بند کاروباروں کے باوجود غریب والدین سے ماھانہ بڑی بڑی فیسز لینے کے سلسلے کو جاری رکھا جائے تو ہھر یہ علم کی اشاعت نہیں محض کاروبار ھی کہلائیگا۔

    عوام الناس میں اسوقت ایک طرف تو موجودہ حالات کو لے کر خوف کا عنصر پایا جاتا ھے، جو کہ ایک فطری ردعمل ھے اور دوسری بڑی تلوار اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی سوچ کی صورت میں انکے سروں پر لٹک رھی ھے، کہ اگر یہ بندش کچھ عرصہ تک مسلسل رھی تو ایک عام آدمی اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ کیسے پالے گا، اس سوچ کو شائد آپ میں سے ھر ایک قاری ھی باآسانی سمجھ لے گا کیونکہ ھر ایک کے قرب و جوار میں ایسے سفید پوش لوگ لازم موجود ھوتے ھیں، بلکہ یہ پریشانی تو مڈل کلاس طبقے کو بھی لاحق ھے، جو کہ ھمارے بشمول معاشرے کا 95% طبقہ ھے۔ اور ان تمام بنیادی کھانے پینے اوڑھنے کے اخراجات میں شامل بند اسکولوں کی فیسز کی ادائیگی بھی ان تمام غریب عوام کے لئیے سولی پر لٹکنے سے کم نہیں، یہ تمام باتیں میں کافی لوگوں سے اس موضوع پر مکالموں کے بعد تحریر کر رھا، جن میں کچھ لوگوں کا خیال تو یہ ھے کہ بند کام و کاروبار کے دوران ھم اتنے اخراجات کسی طور نہیں اٹھا سکتے اسلئیے اہنے بچوں کو ھی اسکولوں سے ھٹا دیں۔

    میں بہت سوچنے کے بعد اور بہت درد میں یہ تحریر لکھ رھا ھوں اپنے ان تمام غیور ھم وطنوں کی طرف سے جو خود جسم پر پھٹا کپڑا پہنتے ھیں لیکن اپنے بچوں بچیوں کو نئے اسکول بیگز اور یونیفارمز دلانے میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں کرتے، اللہ سب کے حالات پر رحم کا معاملہ فرمائیں اور سب پر اپنا خاص کرم فرمائیں۔

    میری ان تمام والدین کی طرف سے یہ استدعا اور اپیل ھیکہ جب تک یہ لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رھیگا اور جب تک لوگ اپنے معمول کے کام کاج اور روزگار پر دوبارہ سے رواں نہیں ھو جاتے، یہ بند اسکولوں کی فیسز کی ادائیگی کو روکا جائے، اور پرائیویٹ اداروں سے بھی گزارش ھیکہ جہاں سارا سال اور ھمیشہ یہی عوام اپنے بچوں کے درخشاں مستقبل کو لے کر آپکے ساتھ تعاون کرتے ھیں وھاں آپ بھی اس مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ تعاون کریں اور کم از کم جب تک یہ عارضی لاک ڈاؤن ختم ھو کر سب معمول پر نہیں آ جاتا، تب تک خدارا غریب والدین کی گردنوں ہر اسکول فیسز کے نام ہر چھریاں نہ ہھیری جائیں۔۔۔
    اسکول، کالجز، اساتذہ کسی بھی قوم کے بچوں اور حتی کے والدین کے لئیے بھی رول ماڈل ھوتے ھیں، لہذا تمام طرح کی مادیت پرست سوچوں سے نکل کر آگے بڑھ کر بھلائی اور اسلامی بھائی چارے کا مظاھرہ کریں اور غریب والدین کو کم از کم بند اداروں کے دوران کی فیسز کے جال سے آزاد کریں، ھماری حکومت وقت سے بھی گزارش ھیکہ وہ بھی اس پر عملدرامد کروائے، تاکہ لوگ ریاستی ھم آھنگی میں جڑ کر مل کر ناگہانی آفات کا مقابلہ کریں۔۔۔ !!!
    اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ھو، سب کو رزق حلال عطا فرمائے اور سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

  • عورت مارچ اور ہمارا کردار تحریر:عبدالحفیظ چنیوٹی

    عورت مارچ اور ہمارا کردار تحریر:عبدالحفیظ چنیوٹی

    عورت مارچ کے حوالے سے اک پیج دیکھا فیس بک پر جس کو 21،152 لوگوں نے پسند کیا ہوا ہے، اور بھی پیج تھے اس حوالے سے، اب آتا ہوں اصل بات کی طرف، آخر کون لوگ ہیں اتنے بڑی تعداد میں ان پیجز کو پسند کرنے والے؟ ظاہر سی بات ہے ہم ہی وہ لوگ ہیں جو آگاہی رکھنے کیلئے ان پیجز کو پسند کرتے ہیں لیکن اصل میں ہم ان کے مددگار بن جاتے ہیں، جیسے کچھ عرصہ پہلے تک وقاص گورایہ کو کوئی نہیں جانتا تھا وہ اسلام و پاکستان اور اداروں کے خلاف ٹویٹ کرتا تو ہم سب جواب دینے کیلئے کود پڑتے اور اس کی حرکات پر نظر رکھنے کیلئے اس کو فالو کیا جن میں، میں بھی شامل رہا، آج دیکھ لیں کہ اس نے کتنے بندوں کو فالو کیا ہوا ہے اور اسے کتنے پاکستانیوں نے فالو کیا ہے، جس پر اس نے خود کو فاتح ففتھ جنریشن وار لکھا، اس کو فاتح بنانے میں ہمارا ہاتھ تھا۔
    اسی طرح چند لوگ اٹھے پی ٹی ایم کے نام پر جن کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا ان کو بھی ہم نے ہی مشہور کیا، اب عورت مارچ والی اٹھی تو ان کو بھی ہم نے مشہور کردیا، اور عورت دشمن اور پاکستان دشمن پیپلزپارٹی کی رکن شیری رحمان نے ان چند آوارہ عورتوں کی حمایت میں اسمبلی میں بدتمیزی سے بات کی اور آخر بدمعاشی سے بات کی کہ یہ مارچ ہوگا۔
    پاکستان میں عورت ذات کی بہت عزت کی جاتی ہے، چند اکا دکا واقعات کو لے کر عورت پر تشدد اور انکے حقوق کا تماشہ کیا جاتا ہے، اور حقوق بھی وہ جو اک باعزت عورت کو قبول نا ہو اس پر شور مچایا جاتا ہے۔
    خود کی صلاحتیں ان پر ضائع نا کریں ہاں بوقت ضرورت ہلکی پھلکی کلاس لگا دیا کریں،
    ان کو مضبوط بنانے میں ہمارا ضرورت سے زیادہ بات کرنا تقویت دیتا ہے جو کہ ہمارے لئے، ہمارے معاشرے کیلئے نقصان بننے کا سبب بنتا ہے ہماری بے خبری اور حالات کی سنگینی کو سمجھے بناء۔

  • گیمز آف ایگزسٹنس, ایکسیپٹنس اینڈ پرزسٹنس !!!! بلال شوکت آزاد

    گیمز آف ایگزسٹنس, ایکسیپٹنس اینڈ پرزسٹنس !!!! بلال شوکت آزاد

    دنیا اس وقت بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور جتنی تیزی سے دنیا بدل رہی ہے اتنی ہی رفتار سے انسان تبدیلیوں کو قبول کرنے کے عمل سے گزر رہا ہے۔

    آپ ہوسکتا ہے رائٹ یا لیفٹ ونگ سے تعلق رکھتے ہوں یا پھر ایک نئی اور مضحکہ خیز جہت سینٹرک سے آپ خود کو جوڑتے ہوں پر آپ احباب کی نذر یہ بات پورے وثوق سے کرتا چلوں کہ تمام مذاہب بلخصوص اسلام کی رو سے جس زمانے کو پر فتن اور پر شر قرار دیکر پیش گوئیاں کی گئیں اور آگاہ کیا گیا کہ اس دور میں کیسے جینا اور کس طرح مرنا ہے وہ تمام نشانیوں اور اشارات کی رو سے یہی دور ہے جس میں آپ اور ہم جی رہے ہیں, مطلب اس وقت دنیا میں کہیں بھی کسی بھی جگہ اعلانیہ اور پرشدید حق و باطل کا معرکہ بپا نہیں بلکہ آپ اور ہم جو کچھ بھی دیکھتے, سنتے, پڑھتے اور سمجھتے ہیں وہ سب دراصل اور درحقیقت گیمز آف ایگزسٹنس, ایکسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) کا ادنی سا نمونہ ہے۔

    یہ وہ نادیدہ اور پراسرار جنگی کھیل ہے جو دنیا کے ہر ملک, مذہب, مسلک, معاشرے اور شعبہ زندگی میں اس وقت پوری شدومد سے جاری ہے جس پر کثیر جہتی محاذ کھلے ہوئے ہیں۔

    اس جنگی کھیل میں کوئی اخلاقی اور آفاقی اصول اور پیمانہ رائج نہیں بلکہ بلا مبالغہ یہ سروائیول آف فٹسٹ کی دوڑ ہے۔

    گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) سے مراد ہے کہ فریقین موجودگی یا وجود کو برقرار رکھنے, تسلیم کروانے اور مستقل بنیادوں پر اولین دونوں مقاصد کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کریں تاکہ سروائیول آف فٹسٹ کی دوڑ جیت کر طاقتور, بدستور موجود اور تسلیم شدہ فریق دنیا کی باگ دوڑ سنبھال کر نیو ورلڈ آرڈر رائج کرسکے۔

    آپ حیران اور پریشان ہورہے ہونگے اب یہ کیا نئی تھیوری مارکیٹ میں لانچ کی جارہی ہے جبکہ اس سے قبل ہی ہم ففتھ جنریشن وار فیئر اور ہائبرڈ وار جیسی اصطلاحات سن سن کر پک چکے ہیں؟

    تو میں آپ کی حیرانی اور پریشانی دور کردوں کہ دراصل ففتھ جنریشن وار فیئر اور ہائبرڈ وار فیئر جس کتاب کے ضخیم باب ہیں وہ درحقیقت گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) ہے جس میں کیا سپر پاورز, کیا سیکرٹ سوسائٹیز, کیا بزنس ٹائیکونز, کیا شوبز آئیکونز, کیا مافیا ورلڈ اور کیا تھرڈ ورلڈ سبھی کے سبھی شامل اور متحرک ہیں۔
    آپ کو نہایت سادہ مثال سے سمجھاتا ہوں۔
    آپ کو کبھی کبھی یہ خیال تو ستاتا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ پاک بھارت جنگوں کا نتیجہ کبھی بھی کسی ایک کی ہار یا جیت پر منتج نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ دونوں ملکوں کی عوام کے پاس اپنی جیت اور دوسرے کی ہار کے مضبوط ثبوت اور دلائل کے انبار ہوتے ہے لیکن چونکہ آپس میں مدلل مکالمے کی فضاء قائم نہیں تو دونوں ملکوں کی عوام اپنی اپنی ڈومین میں اپنی جیت اور دوسرے کی ہار کا جشن منا کر خوش ہولیتی ہے؟
    یا
    کبھی آپ کو یہ خیال ستایا ہو کہ روس اور امریکہ کو آخر کیا چیز افغانستان میں کھینچ لاتی ہے؟ کیا تیل یا گرم پانیوں تک رسائی موجودہ دور میں ایسا چمکتا ہوا ہدف ہے کہ جس کی خاطر ملکی معشیت اور عوام کی جان و مال کو داؤ پر لگایا جائے جبکہ دنیا خود کو گلوبل ویلیج کہتی ہو اور ملٹائی نیشن اقتصادی انجمنوں کی بھرمار ہو؟
    یا
    اکھنڈ بھارت, تکمیل پاکستان, گریٹر اسرائیل, یونائیٹڈ سٹیٹس آف مسلم امہ, یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ, یورپی یونین اور یونائیٹڈ سٹیٹس آف رشیا وغیرہ ایسی تھیوریز اور پریکٹیکلز ہیں جن کو ہم حق اور باطل کی جنگ یا مقابلہ کہہ کر کسی کے فریق بن سکیں؟ کیا یہ یونیٹی یا گریٹنس صرف اور صرف اپنی موجودگی یا وجود کی بقاء, تسلیمات اور دائمیت کی جنگ کا شاخسانہ تو نہیں؟

    غرض آپ زندگی کے جس بھی شعبے اور جہت کو کنگھال لیں آپ کو ہر بندہ اور گروہ یہی کہتا ہوا ملے گا کہ وہی ٹھیک اور حق پر ہے لہذا اس کو جگہ دی جائے, تسلیم کیا جائے اور اس کے وجود کو مستقلاً برداشت کیا جائے وہ بھی راضی خوشی۔

    کہیں ہمارے اردگرد قائم مقابلے کی فضاء کا مطلب یہی تو نہیں کہ کون دی بیسٹ ہے, کون نمبرون ہے, کون ناقابل تسخیر ہے اور کون مستقل ہے۔

    تاکہ جو ان پیرامیٹرز سے میچ نہیں کرتا اس کو وننگ پارٹی قصہ پارینہ بنا دے اور پھر ریس وہیں سے کسی اور فریق کے ساتھ شروع کردے جہاں تک وہ جیت چکا اور سابقہ فریق کو ہڑپ کرچکا؟

    ملکوں کی اندرون و بیرون سیاست و سفارت سے لیکر عسکری و اقتصادی اداروں تک یہ گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) جاری ہے تاکہ سروائیول آف فٹسٹ کا معرکہ جیت کر آخری بڑی جنگ کی تیاری ہوسکے جو واقعی معرکہ حق و باطل ہوگا اور جس میں ایک اور تین کا مقابلہ ہوگا وہ بھی آمنے سامنے پورے حق سے کہ ایک کو پتہ چل جائے گا تین حق پر ہیں اور وہ ایک باطل ہے۔

    قصہ مختصر یہ کہ یہ گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) اس وقت پاکستان میں بھی ہر گراؤنڈ پر جاری ہے خواہ وہ کارپوریٹ سیکٹر ہو, شوبز کی دنیا ہو, ایجوکیشن ورلڈ ہو, پولیٹکس ہو, ڈیفنس ہو, کامرس ہو, ذراعت ہو, میڈیا ہو یا سوشل میڈیا ہو غرض ہر بندہ دی بیسٹ اور نمبرون بننے کی چاہ لیے وجود کی بقاء, تسلیمات اور دائمیت کی جنگ لڑرہا ہے۔

    اس جنگی کھیل کا گورکھ دھندہ اسقدر پیچیدہ ہے کہ صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ ہر انسان اس پرفتن دور میں شدید ترین اور ہلاکت خیز فتنوں میں جکڑا اور پھنسا ہوا ہے۔