Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاکستان میں فیلڈ کے بے روزگار صحافی اور ایک امید عمران خان۔۔۔۔۔!  تحریر: ملک محمد رفیع شاکر راجن پور

    پاکستان میں فیلڈ کے بے روزگار صحافی اور ایک امید عمران خان۔۔۔۔۔! تحریر: ملک محمد رفیع شاکر راجن پور

    ایک اندازے کے مطابق پچھلے چھے سالوں میں پاکستان میں 30 کے قریب صحافی اپنی جان گنوا چکے ہیں اور سینکڑوں ایسے ہیں جن پر بااثر اور کرپٹ لوگوں کی طرف سے ناجائز ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں کئی ایسے بھی صحافی ہیں جو حقائق اور کرپشن اور ظلم و زیادتی کو بے نقاب کرنے کی وجہ سے دھمکیوں کا سامنا ہے اور ان صحافیوں کے خاندان آج فاقوں اور کسمپرسی کی حالت کو پہنچ چکے ہیں اور کئی ایسے بھی سینیئر ترین صحافی ہیں جنہوں نے اس ملک قوم اور معاشرے کے لیے اپنی زندگی لٹا دی مگر آج بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور میڈیا صحافتی اداروں سمیت وزارت اطلاعات اور حکومت سمیت کوئی بھی آن کو کسی قسم کی سپورٹ کرنے کو تیار نہیں ہے

    حقیقت یہ ہے کہ اگر یہی فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی اپنی دو دن خبریں دینا ہی بند کردیں تو چینلز بند ہو جائیں گے اخبار تک نہیں چھاپے جاسکیں گے جبکہ ان میڈیا چینلز اور اخبارات کو شہرت اور بلندیوں پر پہنچانے والے ٹاپ سٹوری اور بریکنگ نیوز دینے والے سردی گرمی بھوک پیاس دن یا رات سفر اور دھمکیوں اور خطرات کے باوجود بریکنگ نیوز اور سٹوری دینے والے یہی فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کے ساتھ میڈیا مالکان کا رویہ دشمنوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویہ سے بھی بدتر ہے

    جب صحافتی ادارے صحافی کو اس کی محنت کا کوئی معاوضہ یا تنخواہ نہیں دیں گے تو آخر مرتا کیا نا کرتا پھر مجبور ہوکر اس نے کسی کرپٹ کو بلیک میل کرنا ہے یا کسی بھی غلط کام کا حصہ بن جانا ہے یا پھر اچھے سچے پڑھے لکھے لوگ صحافت چھوڑتے جائیں گے اور کرپٹ اور برے لوگ صحافت میں گھستے چلے جائیں گے یا پھر مجبور ہوکر فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار صحافیوں نے کچھ نا کچھ تو کرنا ہے اپنے گھر کا چولہا جلانے اور بچوں کو پالنے کے لیے۔ ہمارے پاکستان میں سب سے زیادہ آج کا صحافی ہی مظلوم ہے جو درحقیقت سب سے زیادہ معاشی استحصال کا شکار ہے اور جھوٹ کا پردہ اوڑھ کر زندگی گزار رہا ہے۔

    پاکستان میں صحافت کے سسٹم اور حکومتوں اور محکمہ اطلاعات کی نااہلی یا منافقت یا اپنی ہی کرپشن کی وجہ سے آج تک اس شعبہ میں کسی قسم کی بہتری کے لیے کوئی اقدامات نہیں ہوسکے ہیں

    کیونکہ بڑے بڑے اخباروں اور ٹی وی چینلز کے مالکان جو سیٹھ نما دولت کے پجاری انسان اور اثرورسوخ والے ہیں ان کے خلاف اور فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار صحافیوں کے لیے ستر سالوں سے کوئی اقدامات نہیں ہوسکے ہیں

    حقیقت یہ ہے کہ یہ میڈیا مالکان تمام حکومتوں سیاستدانوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ اور ججوں سمیت سب کے راز جانتے ہیں اور یہ کسی کے خلاف بھی اپنے اپنے اداروں میں موجود بڑے بڑے قابل لکھاریوں اور اینکرز جو کہ بے چارے اپنی نوکری بچانے کے لیے جب ان کو یہ میڈیا مالکان اشارہ کرتے ہیں تو حکومتوں بیوروکریسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مہم چلانا شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے ان میڈیا کے سیٹھوں کو کوئی چھیڑنے کو تیار نہیں ہوتا ہے

    کیونکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں جس کی وجہ سے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے سیٹھ نما کرپٹ مالکان فیلڈ میں محنت کرنے والے صحافیوں کو تنخواہ مراعات تو دور کی بات ہے الٹا ان سے نمائندہ بننے کا ہزاروں لاکھوں روپے لیتے ہیں اور سالانہ ششماہی سہ ماہی بزنس اشتہارات کی مد میں علاوہ لیتے ہیں

    اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایک دن یہ پڑھے لکھے با کردار صحافی جو کسی کو بلیک میل کرنے کے لیے پگڑی نہیں اتارتے بلکہ پروفیشنل طریقے سے مثبت رپورٹنگ کرنے والے ہیں چھوڑتے چلے جائیں گے اور حقیقت میں بھی ایسے ہی بلیک میلر کرپٹ دونمبری کے سرپرست ظالم کے حمایتی صحافی ہم آپ سب کو ملیں گے یا نظر آئیں گے جو واقعی میں بلیک میلر یا کرپٹ یا ان کرپٹ لوگوں کی سرپرستی کرنے والے ہوں گے جبکہ مظلوم کمزور کےے ساتھ کھڑے ہونے والے حق سچ کا ساتھ دینے والے صحافی دور دور تک نظر نہیں آئیں گے جس کے بہت زیادہ منفی اثرات اس ملک پاکستان اور اس معاشرہ پر پڑیں گے کیونکہ جو ارباب اختیار تک سچ کو سو پردوں سے نکال کر باہر لانے والے سچے اچھے اور قابل صحافی نہیں ہونگے تو معاشرے میں ایک بہت بڑا بگاڑ پیدا ہوگا جو پھر کسی سے بھی ٹھیک نہیں ہو پائے گا۔

    بظاہر تو ہم کو بلیک میلر فیلڈ کے صحافی نظر آتے ہیں مگر درحقیقت اصل بلیک میلر صحافتی اداروں کے یہ سیٹھ نما مالک ہوتے ہیں جو ان صحافیوں کو مجبور کردیتے ہیں کہ وہ ان کو کما کر کھلائیں

    ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ملک پاکستان کے خاص طور پر فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار اور مظلوم صحافیوں کے لیے کچھ اچھے اور ٹھوس اقدامات کریں جس کی امید عمران خان اور فردوس عاشق اعوان مشیر اطلاعات سے آج ان کو لگ رہی ہیں اگر اب بھی ان فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار مظلوم صحافیوں کی زندگی میں تبدیلی نا آئی تو شائد کبھی نا آسکے

  • ہماری عداوتیں  اور جادو ٹونا  تحریر: غنی محمود قصوری

    ہماری عداوتیں اور جادو ٹونا تحریر: غنی محمود قصوری

    اس دنیا میں رہتے ہوئے ہمارا واسطہ کئی طرح کے حاسدین و دشمنوں سے پڑتا ہے کچھ تو ہمیں سامنے آکر مارنے پیٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ ہمیں ناجائز مقدمات میں پھنسا کر مالی و ذہنی پریشانی میں مبتلا کرتے ہیں مگر کچھ لوگ اپنا حسد بغض و کینہ جادو کے ذریعے نکالتے ہیں ایسے لوگ انتہائی گھٹیا و کمینے ہوتے ہیں جو اپنا حسد و بغض تو نکالنا چاہتے ہیں مگر خود سامنے بھی نہیں آنا چاہتے ایسے لوگ انتہائی گھٹیا و ظالم ہوتے ہیں
    ہمارے معاشرے میں جادو ٹونے کا بہت زیادہ رواج چل نکلا ہے کوئی کسی سے مال و دولت کے حسد کی بناء پر جادو ٹونا کرتا ہے تو کوئی خاندانی رشتہ داریوں میں خلل ڈالنے کیلئے
    جادو کے اثرات یقینا ہوتے ہیں مگر ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ رزق،دولت،صحت،تندرستی،بیماری،شفاء غرضیکہ سب کچھ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اگر جادو کے اثرات مستقل ہوتے تو یقینا آج اس دنیا پر جادوگروں کا قبضہ ہوتا اور وہ اپنی روزی روٹی کیلئے یوں لوگوں کو بے وقوف بنا کر ان کی جیبیں صاف نا کرتے اگر جادو ہی سب کچھ ہے تو جادوگر گھر بیٹھے آرام سے دنیا کی ہر نعمت حاصل کرے اور جسے چاہے مار دے اور جس کی چاہے روزی بند کر دے مگر ایسا ہر گز نہیں
    جادو کے اثرات یقینا ہوتے ہیں خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جادو ہوا تھا جو کہ لبید بن اعصم نامی یہودی نے کیا تھا اس جادو کی بدولت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بھول جاتے تھے کہ فلاں کام آپ نے کیا ہے مگر وہ کام آپ نے نہیں کیا ہوتا تھا
    صحیح بخاری حدیث 3175
    مگر پھر اللہ رب العزت کی طرف سے دو فرشتے نازل ہوئے اور آپ پر دم کیا گیا اور آپ کو اللہ نے شفاء عطا فرمائی
    درج بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ جادو کے اثرات ضرور ہوتے ہیں مگر جادو ہمیشہ نہیں رہتا بلکہ قرآنی آیات اور اذکار مسنونہ کے دم کرنے سے جادو ختم ہو جاتا ہے مگر جادو کرنے کروانے والا لبید بن اعصم یہودی کا پیروکار ہے
    جادو کرنے اور جادو کروانے والے کی اسلام نے خوب نفی کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تباہ کرنے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچو اور جادو کرانے سے بچو صحیح بخاری 5764 ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائینگے 1 شراب پینے والا 2 قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے والا 3 جادوگر کی باتوں پر یقین کرنے والا مسند احمد جلد 4 صفحہ 399
    جہاں جادو کرنے کی ممانعت ہے وہاں جادو کروانے والے کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور ایسے لوگ جنت کے بلکل بھی حقدار نہیں حالانکہ ہمارے معاشرے میں آج جگہ جگہ عاملوں ،بابوں،اور کاہنوں کے اڈے سرعام کھلے ہوئے ہیں اور لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر حسد کرکے ایک دوسرے پر جادو ٹونا کروا رہے ہیں اور یوں ان جادوگروں کی روٹی قائم ہے جادو کرنے کروانے والا تو جہنمی ہے ہی مگر انجانے میں ہم بھی کالے جادو کی توڑ کیلئے انہی بابوں،عاملوں اور کاہنوں کا سہارا لے کر اس عظیم جرم میں شریک ہو رہے ہیں واضع رہے کہ نبی ذیشان پر جادو ہوا تو انہیں مسنون اذکار اور آیات کے ذریعے دم کیا گیا تھا ناکہ جادو کا مقابلہ جادو سے کیا گیا تھا ہم سمجھتے ہیں کہ جادو کو جادوگر ہی ختم کر سکتا ہے یہ بات صریحا غلط ہے اور ایسا کرنے سے ہم بھی جادو کروانے والوں میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے ، موسی نے کہا کہ تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ تمہارے پاس آ چکا ہے؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پاتے۔ سورت یونس آیت 77
    جادو چاہے خود کیا جائے یا کروایا جائے یا پھر جادو کی کاٹ کیلئے جادوگر کا سہارا لیا جائے یہ سب عمل بد ہے کیونکہ ابن عباس رصی اللہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے علم نجوم کیا تو اس نے جادو کا ایک حصہ حاصل کر لیا وہ نجومی کاہن ہے اور کاہن جادوگر ہے اور جادو گر کافر ہے لم اجدہ،رواہ رزین
    فرمان نبوی سے ثابت ہوا کہ جادوگر کافر ہے چاہے کوئی اپنی روزی روٹی کیلئے جادو کرے یا کسی سے حسد و بغض پر جادو کرے کروائے یا پھر جادو کی کاٹ کیلئے جادوگر کا سہارا لیا جائے سب کا شمار جادو کرنے والوں میں ہوگا لہذہ اس لعنت سے توبہ کرکے جادو کی کاٹ کیلئے اذکار مسنونہ و آیات قرآن حکیم سے جادو و سحر کا علاج کیجئے اور اپنی دنیا و آخرت خراب ہونے سے بچائیں
    خصوصی طور پر معوذ تین ،آیت الکرسی اور سورت بقرہ کی آخری دو آیات خود زبانی یاد کیجئے اور پڑھ کر اپنے و سحر زدہ مریض پر دم کریں نہار منہ 7 عجوہ کجھور کھانے سے بھی جادو کا اثر ختم ہوتا ہے
    اللہ تعالی ہمیں قرآن و حدیث پر عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جادو کا شکار ہونے ،جادو کرنے اور جادوگر کا سہارا لینے سے بچائے رکھے آمین

  • مقبوضہ کشمیر اور ھم  تحریر: خواجہ رضوان احمد

    مقبوضہ کشمیر اور ھم تحریر: خواجہ رضوان احمد

    دنیا کی سب سے بڑی جیل، کشمیر، جس میں تقریبا 12.55 ملین معصوم روحیں، ایک کھلی جیل میں قید ھیں۔ ایک رہورٹ کے مطابق 1990 سے اب تک 95،000 کشمیری معصوم شہید ھو چکے، 1،46،000 کو گرفتار کیا گیا، 22،000 عورتوں کے سہاگ اجاڑ کر انکو بیوہ کر دیا گیا، 1،07،000 معصوم بچوں کے والدین کو شہید کر کے انکو یتیم کیا گیا، اور اب تقریبا 15 جولائی 2019 سے اب تک کشمیر ایک مکمل کرفیو کے حصار میں ھے، جہاں پر رھنے والوں پر حیات تنگ کر دی گئی، اتنی تنگ کہ جس میں ھم جیسا آزاد و عیاش مسلمان 7 دن بھی زندہ نہ رہ پائے جس میں ھمارے کشمیری بہن بھائی 7 مہینے سے سانس لے رھے ھیں۔ کرفیو کے آغاز سے اب تک 1000 سے زائد لوگوں کو شدید زخمی و شہید کر دیا گیا، 3000 سے زائد مسلمانوں کو گرفتار کر کے نا معلوم عقوبت خانوں میں ڈال دیا گیا، موبائل سروس، انٹرنیٹ، لینڈ لائن فون، یہاں تک کہ بیرونی دنیا سے رابطے کا ھر ھر ذریعہ ختم کر دیا گیا۔ اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت، جنہیں یہ علم نہیں کہ کل کے دن انکو کھانے کے لیے کچھ میسر ھو گا یا نہیں، دواؤں کی شدید قلت، کہ بیمار ھو جائیں تو تقدیر ھی صحت یاب کر دے، یہانتک کہ عبادات تک پر پابندی، ایک مومن اپنے گھر کے دروازے سے مسجد تک جانے کے لئیے بھی روک دیا گیا، اللہ کا گھر صدائیں دے رھا اپنے ان مومن بندوں کو جو دن رات کی پانچوں نمازیں مسجد میں ادا کرتے تھے اور آج وہ تڑپ رھے ھیں، مسجد کے منبروں ہر کھڑے ھو کر اذان کی پاکیزہ صدائیں بلند کرنا چاھتے مگر طاغوت انکی کنپٹیوں پر بندوقوں کی نالیں جمائے بیٹھا ھے، یا اللہ، کیسا منظر ھو گا وہ، کیسی بے بسی ھو گی ان دلوں میں، کتنے ھی آنسوؤں کے سمندر ھونگے ان آنکھوں میں، جو اپنے رب کی بارگاہ میں چاھنے کے باوجود جانے سے قاصر ھیں۔۔۔ !!! اور اس سب سے قطع نظر کشمیری بہادر ماؤں کے بہادر سنگباز مجاھد بیٹے، کے جو گولیوں کا جواب پتھروں سے دے رھے ھیں، جن ھاتھوں میں کتاب و قلم ھونا تھا وہ ھاتھ یخ بستہ سردیوں میں اپنے دامن میں پتھر اٹھائے ظالم کو اپنی بساط سے بڑھ کر جواب دے رھے ھیں، انکے جذبے، انکے دل، اور انکی شیر جیسی دھاڑتی آواز میں وہ گرج ھے کہ جو بندوق تھامے کھڑے ناپاک ھندو فوجی کو بجی ایک لمحے کو لرزا کر رکھ دیتی ھے۔ یہ کیسا نوجوان ھے جو سینے پر گولی کھاتا ھے اور پھر اٹھ کر کافر کی طرف لپکتا ھے۔ یہ جذبہ یہ ھمت یہ ولولہ، اللہ اللہ۔۔۔۔۔قربان جاؤں ان ماؤں پر اور ان شیردل جوانوں پر۔
    اس سب قیامت میں ایک چیز فطری ھے جو ان میں بھی پائی جاتی ھے اور وہ ھے اپنے مسلمان بھائیوں کا انتظار، انکی راھیں تکنا، دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کی صفوں میں صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان و محمود غزنوی کو ڈھونڈنا۔۔۔ تقسیم کے وقت سے آج تک مائیں اپنے بچوں کو یہی دلاسہ دے رھے ھیں کہ گبھراو مت، تم اکیلے نہیں ھو، بارڈر پار تمہارے بھائی ھیں جو تمہارے پاس آنے تمہارے لئیے کٹنے مرنے کو بے تاب ھیں (شائد یہی آس ان کی نا ختم ھونے والی جدوجہد کی وجوھات میں سے ایک وجہ بھی ھے)۔۔۔!!!
    اور دوسری جانب ھم آزاد کشمیری و پاکستانی، کرفیو کے بعد ھم سے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں کشمیر سے یکجہتی کا اظہار کیا، میں نے ھر ایک کے دل میں اپنے ان مظلوم کشمیری مسلمانوں کے لئیے درد دیکھا۔ ایک طرف کشمیری حکمرانوں نے کشمیر سے غیر انسانی کرفیو اور پابندیوں کے خاتمے پر لب کشائی کی، تو دوسری طرف پاکستانی حکمرانوں نے بھی مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کے سامنے اپنے انداز میں بلکہ ماضی سے بہتر طور پر پیش کیا۔ جہاں کشمیری عوام اپنے مظلوم بھائی، بہنوں، ماؤں، بیٹیوں کا درد لے کر لائن آف کنٹرول تک پنہچے وھیں پاکستانی عوام بھی ھر گھر ھر شہر سے کشمیری مظلوموں کا درد لے کر نکلے۔ مگر پھر یوں ھوا کہ سب کچھ جیسے تھم سا گیا، اس جذبہ ایثار نے داخلی انتشار اور کدورتوں کی صورت اختیار کر لی۔ کشمیری و پاکستانی کے نام پر، بلوچی و پٹھان کے نام پر، خود مختاری و الحاق کے نام پر زبان درازیاں، فتوے بازیاں، زھر میں بجھے نفرتوں کے تیر، اور کافر کافر، غدار غدار کے طعنے ھر فورم ھر گلی ھر پلیٹ فارم سے سنائی دینے لگے، اور اب تو یہ نفرت ایک مستقل دشمنی کا روپ اختیار کر چکی ھے، جس نے مجھے پہلی بار قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ میں پچلھے کئی دنوں سے زبانی تکرار کو فحش اور لغو گفتگو، نازیبا اور اخلاق سے گری ھوئی بہن اور ماں کی گالیوں میں بدلتا دیکھ رھا، جس نے جاھل اور پڑھے لکھے، خود مختاری والے اور الحاقی نطریے والے ھر ایک فرد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔!
    ایک طرف ھمارے حکمران بھی کشمیریوں پر ٹوٹنے والی قیامت کو معمول کی چیز سمجھ کر عادی سے ھو گئے اور دوسری طرف ھماری عوام بھی جیسے اسکی عادی ھو گئی۔
    محترم قاری، خدارا آج یہ پڑھتے ھوئے وقفہ کیجئیے اور اپنے دل میں جھانک کر دیکھئیے، کیا آپ بھی عادی سے نہیں ھو گئے اس قیامت کو لے کر ؟ کیا آپ نے بھی اسے کشمیریوں کی تقدیر نہیں سمجھ لیا ؟ کیا آپ کو بھی کشمیری معصوموں کی عزتوں اور انکی جانوں سے زیادہ اپنی کسی پارٹی یا شخصیت کا نکتہ نظر زیادہ عزیز نہیں ھے؟
    ھر ایک فرد دوسرے فرد کو، ھر ایک جماعت دوسری جماعت کو، ھر ایک مکتبہ فکر دوسرے مکتبہ فکر کو نیچا دکھانے اور غدار ثابت کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگائے ھے۔ بخدا، سب کو ایسے وقت دل و دماغ سے یہ خیال یکسر محو ھو جاتا ھے کہ کشمیر بھی کوئی چیز ھے، کرفیو میں بلکتے بھوکے بچے، اہنی عصمتوں کے لٹ جانے کا ڈر لئیے ھوئے پاکیزہ پردہ دار بچیاں، ناتواں ماں باپ جن کے بیٹے کرفیو کے دوران لا پتہ کر دئیے گئے، بخدا ھم لوگوں کو یہ سب بھول چکا ھے۔ بخدا ھم لوگ شخصیت پرستی میں ھر آخری حد کو بھی عبور کر چکے ھیں، ھماری غیرتیں، ھمارے جذبے، ھمارے احساس، ھماری جدوجہد، ھمارے جلسے جلوس، ھمارے نعرے، سب کے سب کنٹرولڈ ھو چکے ھیں، ھم روبوٹ بن چکے ھیں، جذبات سے عاری جسم، ایک خالی ڈبہ، جسکو جب ریموٹ سے جہاں چاھے کوئی استعمال کرے اور ھم نے استعمال ھونا ھے۔۔!!!
    میں اس تحریر میں نہ تو کسی کی حمایت کرونگا نہ کسی کے مخالفت، میرے الفاظ ھر ایک کے لئیے سوال ھیں، ھر پڑھنے والا بس اپنے دل کے کسی کونے تک جھانکے اور اپنے آپ سے ھی انکشاف کر دے کہ کیا واقعی ایسا نہیں ھے؟؟؟
    میرے بھائیو، وہ تاریخی اور ظالمانہ قید آج بھی برقرار ھے اس لہو سے بھری جنت میں، اور تم لوگ یہاں، خود مختاری و الحاق کو لے کر لڑ لڑ کر تقسیم در تقسیم ھوتے جا رھے، کیوں؟
    کل حشر میں رب کی عدالت میں کیا جواب دو گے رب کو اور ان جنت کے شہسواروں کو جو دنیا میں آج جہنم کا درد سہہ رھے ھیں، کیا ھمارے جذبے اور کوششیں ویسی ھیں کہ کل ھم انکی آنکھ سے آنکھ ملا پائیں؟ اگر آپکا جواب "ھاں” ھے تو مبارک ھو آپکو، اور اگر "نہیں” ھے تو اللہ نے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ھر ذی روح کو دی ھے، لا علمی یا کم علمی کا رونا کل کوئی نہیں رو سکتا کہ اے اللہ مجھے تو پتہ نہیں تھا، میں تو فلاں بن فلاں کا پیروکار تھا، اسی کے پیچھے چلتے ھوئے اپنی زندگی گزار دی۔۔۔!
    خدارا، اپنے جذبات اور اپنے غصے کو صحیح سمت دیجئیے، اپنے اپنے گروہ اور اپنی اپنی سوچ کو ھی دوسروں سے بالاتر کرنے کی بجائے ایک جسم ایک جان بن کر سوچیں، اور کشمیر کو لے کر یہاں بیٹھ کر ان کے فیصلے کرنا چھوڑ دیں، انکی آزادی کا سوچیں۔ 73 سال سے ظلم سہنے والے اپنی تقدیر کا فیصلہ بھی کر ھی لیں گے کہ انہوں نے کیا کرنا ھے۔ یہاں آزاد فضاؤں میں بیٹھ کر آپ لوگ انکے فیصلے نہ کریں، بلکہ انکے لئیے عملی جدوجہد کریں، جس پر آپکا ضمیر کل کو آپکو ملامت نہ کر سکے، ورنہ ایک صدی تو ہوری ھو رھی ان کو مستقل عذاب دنیا سہتے ایک اور صدی گزر جائیگی مگر میں یا آپ نہیں ھونگے انجام دیکھنے کے لئیے اور نہ ھی ھم بروز محشر انکے سامنے کھڑے ھونیکی جرات ھی کر پائیں گے۔۔۔!!!
    اللہ پاک ھمیں علاقائی، نسلی و لسانی تعصب سے پاک کر کے وحدت امت کے لئیے جدوجہد کرنے والا اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لئیے جان لٹانے والا مجاھد بنائے۔۔۔!!!
    والسلام۔
    محتاج دعا۔
    rizwan.at009@gmail.com

  • ہمت و جرآت کا پیکر سید علی گیلانی   تحریر: غنی محمود قصوری

    ہمت و جرآت کا پیکر سید علی گیلانی تحریر: غنی محمود قصوری

    ہمت و جرآت کا پیکر سید علی شاہ گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوا اس 90 سالہ بزرگ کا بچپن ،جوانی اور اب بڑھاپا بھی ہندو کے ظلم و جبر میں گزرا اور اب بھی اتنی بزرگی میں ہونے کے باوجود اپنی ہی وادی کشمیر جنت نظیر میں اپنے ہے گھر میں ہندو کی نظر بندی میں زندگی بسر کر رہے ہیں
    5 اگست 2019 کو انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کے بعد پوری حریت قیادت کی طرح سید علی گیلانی صاحب بھی اپنے گھر سوپور میں نظر بند ہیں مسلسل 7 ماہ سے زائد کی نظر بندی کی بدولت ان کی صحت انتہائی متاثر ہوئی ہے جس سے ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن بن جانے سے انہیں تکلیف کا سامنا ہے سید صاحب کی صحت انتہائی تشویشناک ہے جس پر پوری کشمیری قوم کیساتھ پوری پاکستانی قوم بھی ان کی صحت و تندرستی کیلئے دعا گو ہے
    سید علی گیلانی صاحب الحاق پاکستان کے حامی ہیں ان کا موقف ہے کہ انڈیا کی فوجوں کے خلاف پاکستان اپنی فوجیں مقبوضہ وادی کشمیر میں داخل کرے اور انڈیا کی طرف سے اقوام متحدہ کی نا مانی جانے والی قرار دادوں پر طاقت کے بل بوتے پر عمل درآمد کروا کر تنازعہ کشمیر کو حل کروایا جائے
    سید علی گیلانی صاحب کی 90 سالہ عمر کا زیادہ حصہ انڈین جیلوں اور نظر بندیوں میں گزرا ہے
    جب انڈیا نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے مقبوضہ وادی کا لاک ڈاءون کرنے کیساتھ انٹرنیٹ و موبائل سروس بند کرکے کرفیو لگایا تھا اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا تب گیلانی صاحب نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نام خط لکھا تھا کہ کشمیر کیلئے تب کچھ کرو گے جب ہم مٹ جائینگے
    سید صاحب نے شروع سے ہی اس نظریے کے حامی ہیں کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراد دادوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور اپنی فوجیں کشمیر سے نکال کر کشمیریوں کو ان کا حق استصواب رائے دے جس کی بدولت سید صاحب کو ہمیشہ سے پابندیوں اور جیلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ سید صاحب 90 سال سے زائد العمر ایک معمر اور ضعیف شحض ہیں مگر پھر بھی ان کی ایک آواز پر ان کی تحریک حریت و آل پارٹیز حریت کانفرنس کے علاوہ پوری وادی جموں و کشمیر کے لوگ سر پر کفن باندھ کر لبیک کہتے ہیں جس کے خوف سے انڈیا نے اس عظیم حریت لیڈر کو نظر بند کیا ہوا ہے جو کہ انٹرنیشنل لاء کے سخت خلاف ہے مگر افسوس کے انڈیا کو کوئی پوچھنے والا نہیں مگر اب پوری دنیا کو سید علی گیلانی صاحب کے موقف کا احساس ہو چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے استعمال کے بغیر حل نہیں ہو گا جس کی تازہ مثال 5 اگست 2019 سے اب تک پوری وادی کشمیر کا لاک ڈاءون، انٹرنیٹ و موبائل سروس کی بندش کے علاوہ سخت ترین کرفیو میں مظلوم کشمیریوں کی انڈین قابض فوج کے ہاتھوں شہادتیں و کشمیری ماءوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دریوں پر پوری دنیا کے دباؤ پر بھی انڈیا کا کان نا دھرنا اور کشمیریوں کے مصائب میں مذید اضافہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ بموقف عظیم کشمیری حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی کشمیر بزور شمشیر ہی آزاد ہوگا
    دعا ہے کہ اللہ تعالی اس عظیم حریت قائد سید علی گیلانی صاحب کو صحت و ایمان والی لمبی زندگی عطا فرما کر انہیں طلوع آزادی کشمیر دیکھنا نصیب فرمائے آمین

  • ویلینٹائن ڈے اور اسلام    تحریر : انس عبدالباسط

    ویلینٹائن ڈے اور اسلام تحریر : انس عبدالباسط

    ویلینٹائن ڈے دو وجہ سے غلط ہے. ایک تو یہ ہے کہ یہ یوم رومانیت ہے یہ Romance Day ہے. اور رومانیت کا تصور اگر  اسلام میں کہیں موجود ہے تو وہ صرف شوہر اور بیوی کے درمیان موجود ہے اس کے علاوہ اور کسی رشتہ میں رومانیت کا اسلام میں کوئی تصور موجود نہیں ہے. آزاد رومانیت لڑکے لڑکی کا آپس میں ملنا تحفہ تحائف دینا، ان کے درمیان نہ جائز تعلقات کا ہونا اس کا اسلامی تہذیب و تمدن میں دور دور تک کا  بھی کوئی تصور نہیں ہے. ایک تو اس میں یہ کباہت والی بات ہے.
    اور دوسری اس میں کباہت والی بات یہ ہے کہ ویلینٹائن ڈے صرف سماجی رسم نہیں بلکہ یہ ایک مزہبی رسم بھی ہے. اور Catholic Church  کے مطابق اور Arthur’s Dog Church کے مطابق پوری دنیا میں *14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے* . گویا کہ ایک تیر سے دو شکار کیے جاتے ہیں. ایک تو مسلمانوں کو تہذیبی اعتبار سے گمراہ کیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جیسے کہ کرسمس (Christmas) کا تہوار ہوتا ہے اسی طرح ہے مسلمان نوجوانوں کو اپنے تہذیبی تہوار میں جزب(Absorb) کرنے کی کوشش کی جاتی ہے.
    کوئی بھی غیرت مند مسلمان حضرت محمدٌ کی اس حدیث کے اوپر عمل کرتے ہوئے کبھی بھی غیر مسلموں کے کسی بھی تہوار کو قبول نہیں کرسکتا.
    *آپٌ نے فرمایا : جو کسی قوم کی مشاہبت کو اختیار کرتا ہے وہ ان ہی میں سے ہے.* ہمارے مزہب میں جبر نہیں ہے، ظلم نہیں ہے، دباؤ نہیں ہے. ہم عیسائیوں کو ان کے عبادت گھروں میں جانے سے، ان کو اپنے مزہبی تہواروں کو منانے سے نہیں روکتے، ہم ان کو انجیل پڑھنے سے نہیں روکتے، ہم ان کو جبرًا اپنے مزہب میں داخل کرنے کی جستجو نہیں کرتے لیکن ہمارے مزہب کا یہ رویہ بلکل واضع ہے کہ کرسمس (Christmas) تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں، ہولی(Holli) تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں، تمہارے تہوار اپنے ہیں ہمارے تہوار اپنے ہیں. کیا تم نے کسی عیسائی کو عیدالاضحیٰ کے دن قربانی کرتے ہوئے دیکھا ہے..؟ کیا آپ نے رمضان المبارک میں کسی یہودی یا ہندو کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ہے..؟؟ کیا آپ نے کسی غیر مسلم کو یوم عرفات کے دن روزہ رکھتے ہقئے دیکھا ہے..؟؟ اگر کوئی غیر مسلم آپ کا تہوار نہیں مناتا اسے پتہ ہے کہ یہ مسلمانوں کا تہوار ہے اور میں غیر مسلم ہوں. تو مسلمانوں تمہاری عقل کو کیا ہو گیا ہے تم عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوں کے تہوار کو کیوں مناتے ہو.. کرسمس ان کا تہوار ہے. ہولی ان کا تہوار ہے یہ سارے کہ سارے تہوار ان کے ہیں. ویلینٹائن ڈے ان کا تہوار ہے. ہمارے ان تہواروں سے کوئی تعلق نہیں.تم اتنے لبرل کیوں بنتے ہو کبھی بھی غیر مسلم نے تمہارے تہواروں پر اپنی مہر لگانے کی جستجو نہیں کی تو تم کیوں ان کے تہواروں کو اپنے تہوار بنانے کی کوشش کرتے ہو.آپٌ کا امتی اٹھتا ہے جو اپنے آپ کو آزادی خیالی اور لبرلازم کا علم بردار بن کر میدان عمل میں آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بھی کرسمس کا کیک کاٹوں کا میں بھی ہولی کا تہوار منائوں کا اور مین بھی ویلنٹائن ڈے جیسے تہواروں کو منائوں گا..مسلمان تجھے کیا ہو گیا ہے ان کے تہوار اپنے ہیں تیرے تہوار اپنے ہیں. ان کی زندگی اپنی ہے تیری اپنے ہے ان کے زندگی گزارنے کے طریقے اپنے ہیں تیرے اپنے ہیں.اسلامی جمہوریہ پاکستان یا کسی بھی اسلامی ریاست میں عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوں کو زندہ رہنے کا حق ہے. اسی طرح ان کے تہواروں کو منانے کا حق ان کا ہے، انجیل پڑھنے کا حق ان کو ہے تجھ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ تو قرآن کے ہوتے ہوئے انجیل پڑھنا شروع کر دے..

  • 14 فروی ویلنٹائن ڈے یا یوم یکجہتی فلسطین   تحریر :غنی محمود قصوری

    14 فروی ویلنٹائن ڈے یا یوم یکجہتی فلسطین تحریر :غنی محمود قصوری

    ہر 14 فروری کو دنیا بھر میں کفار کا ایک تہوار ویلنٹائن ڈے جسے Saint Valentine’s Day بھی کہا جاتا ہمارے اس ارض پاک پر بھی منایا جاتا ہے
    اس دن شادی شدہ و غیر شادی شدہ بے راہ روی کا شکار جوڑے ایک دوسرے کو پھول دے کر اظہار محبت کرتے ہیں اسی لئے اسے Lover,s Festival بھی کہتے ہیں
    اس دن کے حوالے سے کوئی مستند روایات موجود نہیں کہا جاتا ہے کہ 1700 میں روم میں ایک سینٹ ویلنٹائن نامی راہب تھا جسے ایک (Nun) نن نامی راہبہ سے عشق ہو گیا مسیحیت میں کسی راہب یا راہبہ کا نکاح و جنسی تعلقات سخت ممنوع ہیں مگر عشق و محبت کے مارے راہب سینٹ ویلنٹائن نے نن راہبہ سے جنسی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی جسے راہبہ نے ٹھکرا دیا سو افسانوی کہانی سناتے ہوئے سینٹ ویلنٹائن نے نن سے کہا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ اگر ہم 14 فروری کو جنسی تعلقات قائم کرلیں تو کوئی گناہ نہیں ہوگا جسے نن نے مان لیا اور یوں دونوں مذہب کے رکھوالے مذہب کی عہد شکنی کرگئے جس کا علم کلیسا کو ہو گیا
    چونکہ یہ واقعہ کلیسا کی روایات کے سخت خلاف تھا اس لئے انہیں فوری قتل کر دیا گیا اور یوں ان دین سے بیزاروں خود ساختہ عاشقوں کی کہانی اس وقت کے جوان بے راہ روی پر مبنی جوڑوں تک پہنچی تو انہوں نے اس پریم کہانی کو زندہ کرنے کیلئے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانا شروع کر دیا حالانکہ خود مسیحیت میں بھی اس دن کو برا سمجھا جاتا ہے مگر پھر بھی ہمارے ملک میں اسے بڑے جوش و جذے کیساتھ منایا جاتا ہے مگر میرے آقا علیہ السلام نے کفار کی مشہابت کی سخت مخالفت کی ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔صحیح بخاری 3329
    حدیث کی رو سے کفار کی مشہابت اختیار کرنے والے کا دین اسلام اور جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں
    اب آتے ہیں اس بے ہودہ دن ویلنٹائن ڈے کو یوم یکجہتی فلسطین میں بدلنے پر تاکہ ہمارے مسلمان اس بے ہودہ دن کو بھول کر اپنے قبلہ اول کی آزادی کی خاطر کھڑے ہو سکیں اور جان سکیں کے مسئلہ فلسطین آخر ہے کیا
    لبنان اور مصر کے درمیانی علاقے کو فلسطین کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیر ہونے والی مسجد بیت المقدس بھی اسی علاقے فلسطین میں ہے مکہ مکرمہ سے پہلے یہی مسلمانوں کا قبلہ اول تھا اور مسلمان اسی کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے
    عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش اور تبلیغ کا مرکز بھی یہی فلسطین ہے مکہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریبا 1300 کلومیٹر ہے
    1948 سے پہلے تک فلسطین ایک آزاد خودمختار مسلم ریاست تھی اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا
    1947 میں عیسائی برطانیہ نے مسئلہ فلسطین کو الجھائے رکھا اور یہودیوں کو فنڈنگ کرکے انہیں مضبوط کیا اور یوں یہودی فلسطینی علاقوں پر قابض ہوتے چلے گئے مکار یہودیوں نے 14 اور 15 مئی 1948 کی درمیانی شب تل ابیب میں اسرائیلی ریاست کا اعلان کر دیا جس پر عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گئے
    اقوام متحدہ میں کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین بھی آج دن تک جو کا تو ہے 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس و امریکہ کی فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کو دو تہائی اکثریت سے قرار داد نمبر 181 کے تحت منظور کر لیا جسے عربوں نے سخت نامنظور کیا جس کے نتیجے میں بعد میں عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم جنگوں میں بدل گئے تھے
    1967 میں ظالم یہودی نے اپنی غلام و لونڈی سلامتی کونسل کے غیر جانبدارانہ رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا
    کافروں کی لونڈی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین میں بھی اپنا کوئی کردار ادا نا کر سکی اور 29 نومبر 1977 کو کو عالمی یوم یکجہتی فلسطین منطور کرلیا کہ بس مسلمانوں تم محض ایک دن منا لیا کرو اور آہستہ آہستہ فلسطین اپنے قبلہ اول کو بھول جاءو
    بیت المقدس عیسائیوں ،یہودیوں اور مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس حدیث سے لگاتے ہیں

    سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگااور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شام میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔ مسند احمد 13015
    اس حدیث سے ثابت ہوا دجال یہودیوں میں ظاہر ہو گا اور اس وقت یہودی اسرائیل یعنی سابقہ فلسطینی علاقوں میں رہ رہے ہیں اور مسیحیت کے پیشوا جناب عیسی علیہ السلام بھی شام و فلسطین کے علاقے لد میں آسمان سے نازل ہونگے اور یہی پر مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن دجال کا خاتمہ ہو گا ان شاءاللہ اس لئے یہودی و عیسائی ہر حال میں فلسطین پر قابض رہنا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے فلسطینی مجاہدین و عوام 7 دہائیوں سے یہودیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے اور ان کا ہر محاذ پر مردانہ وار مقابلہ کیا جا رہا ہے لہذہ ہمارا بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے حق بنتا ہے کہ ہم بھی جاری تحریک آزادی قبلہ اول میں اپنا کردار ادا کریں
    تو میرے عظیم پاکستانی بہن بھائیوں کافر کے ویلنٹائن ڈے کا بائیکاٹ کرکے اپنے قبل اول کی آزادی کی خاطر فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اس 14 فروری کو بطور یوم یکجہتی فلسطین منائیں