Author: Baaghi TV

سوشل میڈیا پر عورتوں کو بلیک میل کیے جانے کا حل : تحریر غنی محمود قصوری
معاشرے کا حصہ ہونے کی حیثیت سے ہر بندے کا حق ہے کہ وہ دوسروں کی طرح ہر سہولت کا استعمال کرسکے انٹرنیٹ اور خاص کر سوشل میڈیا کی بدولت یہ دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج بن چکی
ہے لوگ اپنے سے دور بیٹھے عزیز و اقارب کیساتھ جلد رابطے کیلئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں جو کہ زیادہ تر محفوظ نہیں ہیں
اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 22.2 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جن میں بیشتر خواتین بھی شامل ہیں خواتین کی جانب سے بہت مرتبہ سائبر کرائم کی شکایات بھی ملی ہیں کچھ کم ظرف لوگ عورتوں کو اپنے جال میں پھانس کر ان کی تصاویر حاصل کر لیتے ہیں پھر ان تصویروں کی بدولت ان خواتین کو بلیک میل کرکے پیسے بٹورنے کے علاوہ جنسی تعلقات بھی قائم کر لیتے ہیں زیادہ تر خواتین ان بلیک میلروں کی باتوں میں آکر اپنی تصاویر ان کو دے بیٹھتی ہیں جنہیں یہ لوگ فوٹو شاپ و دیگر سوفٹ وئیر کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق ایڈٹ کر لیتے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات بن جاتی ہے اور ایسا سب سے زیادہ فیس بک استعمال کرنے والی خواتین کے ساتھ ہوتا ہے زیادہ تر خواتین یہ غلطی کرنے کے بعد اپنی بدنامی کے ڈر سے خاموش ہی رہتی ہیں کیونکہ انہیں اپنی غلطی کی بدولت اپنے گھر والے افراد سے برے برتاءو کی توقع بھی رہتی ہے جس سے ان بلیک میلروں کے ناپاک عزائم کو مذید تقویت ملتی ہے عورتوں کی خاموشی ہی ان کی سب سے بڑی غلطی بن جاتی ہے جس سے یہ افراد دید ور ہو کر دوسری عورتوں کو بلیک میل کرکے پیسے اور جنسی تعلقات بڑھاتے ہیں کئی ایسی خواتین ان بلیک میلروں کی بدولت خاموش رہتے ہوئے ان کی ڈیمانڈیں پوری کرتی رہیں اور آخر تھک ہار کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو گئیں
عورتوں سے گزارش ہے کہ اپنی تصویر اپلوڈ نا کرنے کی عادت ڈالیں اور کسی بھی بغیر پہچان والے بندے کو اپنی تصویر ہرگز نا دیں تاکہ آپ کی زندگی جہنم بننے سے بچ سکے اور آپ کے بہن بھائی ،ماں باپ اور خاندان کے دیگر افراد سر فخر سے بلند کرکے اس معاشرے میں جی سکیں
حالانکہ کسی پر اعتبار کرکے اسے اپنی تصویر یا ویڈیو دینا اتنا جرم نہیں جتنا بڑا جرم کسی کے اعتماد ٹھیس پہنچا کر اسے بلیک میل کرنا ہے
مگرخدانخواستہ اگر کسی بھی عورت کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آ جائے اور وہ اس غلطی کا شکار ہو چکی ہے تو مذید چکروں میں پڑ کر بلیک میل ہونے کی بجائے دوسری عورتوں کو اس بلیک میلر کا شکار نا ہونے دیں بلکہ معاشرے کے اس ناسور کو اس کے کردہ جرم کی سزا دلوائیں تاکہ کوئی اور حوا کی بیٹی اس کی بلیک میلنگ کی بھینٹ نا چڑھ سکے کیونکہ بلیک میل ہوتے رہنا یا پھر خودکشی کرلینا مسئلے کا حل نہیں اگر آپ خاموش رہی یا خودکشی کر گئی تو وہ بلیک میلر آپ کے بعد آپ کے گھر کے دیگر افراد کو بلیک میل کرے گا کیونکہ جب تک اس کے پاس آپ کی ویڈیو یا تصویریں ہونگی وہ بندہ بلیک میلنگ سے رکے گا نہیں عورت کا خاموش رہنا اپنے خاندان کی بدنامی کا ڈر ہے تو کیا فائدہ اس ڈر کا جو آپ کے بعد آپ کے خاندان کیلئے بھی ڈر بن جائے لہذہ خاموش رہنے اور خود کو ختم کرنے کی بجائے اپنی غلطی سے دی جانے والی ویڈیو یا تصویروں کو اس مجرم کو قانون کی گرفت میں لا کر ختم کروائیں کیونکہ سائبر کرائم کے انسداد الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2015 کے تحت کسی بھی شخص کو فحش تصویر یا ویڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ کرنے کی سزا 5 سے 7 سال قید یا 50 لاکھ روپیہ جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ایک ساتھ ہو سکتی ہیں مذید یہ کہ اگر بلیک میلر بیرون ملک مقیم ہے تب بھی وہ اسی ایکٹ کے تحت مجرم ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ اسے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا حق رکھتا ہے اب تک کتنے ہی ایسے مجرموں کو پکڑ کر سزا ڈلوائی جا چکی ہے
اگر آپ اس تکلیف میں مبتلا ہیں تو فوری فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی FIA کے سائبر کرائم ونگ کی چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ہیلپ لائن 9911 پر کال کریں یا پھر ڈائریکٹر کرائم ایف آئی اے کے ای میل Dir.crime@fia.gov.pk
ڈائریکٹر این آر 3 سی کے ای میل Pd@nr3c.gov.pk پر ای میل کرکے اپنی شکایت درج کروائیں اور ان کی ہدایات پر عمل کریں یہ ادارہ آپ کے راز کو راز ہی رکھتا ہے اور آن لائن آپ سے رابطے میں رہ کر مطلوبہ مجرم کو پکڑے گا وفاقی تحقیقاتی ادارہ مکمل تصدیق کرکے اس مجرم کو قابو کرکے آپ کا فحش مواد ختم کروائے گا اور یوں آپ کی اس جرآت سے دیگر حوا کی بیٹیاں اس کی بلیک میلنگ سے بچ جائیں گی اور پھر کوئی دوسری حوا کی بیٹی بلیک میلنگ سے مجبور ہوکر خود کشی نا کرسکے گی تو چپ رہ کر بلیک میل ہونے و خودکشی کرنے کی بجائے مجرم کیساتھ اپنا فحش ڈیٹا بھی ختم کروائیں تاکہ آپ اور آپ کے خاندان کے افراد سر فخر سے بلند کرکے جی سکیں
پکار مظلوم کشمیری بہن اور کردار محمد بن قاسم!!! تحریر: غنی محمود قصوری
ہم بفضل تعالی مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ایک نبی آخرالزمان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے اور جو ہمارے پیارے نبی نے فرما دیا وہ کبھی جھوٹ نہیں ہو سکتا میرے نبی نے بڑی محنت اور قربانیوں سے اپنے اصحاب کی جماعت بنائی اور اس کی خالص نبوی منہج پر تربیت کی اور پھر اسی جماعت اصحاب نے مسلمان تو مسلمان کفار کی بھی مدد کی جس کی بہت واضع اور مشہور مثال حجاج بن یوسف کا اپنے 17 سالہ کمانڈر بتیجھے محمد بن قاسم کو ایک ہندو عورت کی پکار پر عرب سے ہند پر یلغار کیلئے بھیجنا ہے
میرے نبی نے اپنی فتوحات میں کفار کو عام معافیاں دیں اور پھر ان معافیوں کے عیوض بہت سے کفار مسلمان ہو گئے اور کچھ احسان فراموش معافی مانگ کر بوقت جنگ میرے نبی کے مقابلے میں پھر میدان کار زار میں مدمقابل بھی آتے رہے مگر تاریخ گواہ ہے انہوں نے ہمیشہ منہ کی کھائی میرے نبی سے زیادہ ان کفار کو کوئی نہیں جانتا اسی لئے فرمان نبوی ہے
الکفر ملت واحدہ یعنی کفر ایک جماعت ہے ایک ملت و واحدت ہے کافر دنیا کے کسی کونے کا ہو یا پھر کسی بھی رنگ و نسل یا مذہب سے ہو وہ سب یکجان ہو کر مسلمانوں پر ظلم کرتے آئے ہیں اور کر بھی رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال کشمیر میں ہندوستان کا فلسطین میں اسرائیل اور افغانستان ، عراق ،شام غرضیکہ دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو اور ظلم بھی مسلمانوں پر ہو اس میں امریکہ کا کردار سرفہرست ہے
ایک بہت مشہور نعرہ ہے رو زمین کے تین شیطان امریکہ ،اسرائیل ہندوستان
اگر دیکھا جائے تو اس نعرے میں رتی بھر بھی شک نہیں کہ درج بالا تینوں ممالک شیطان کے خالص پیروکار اور بے شرمی و بے حیائی میں سب سے اوپر ہیں آج امریکہ بین المذاہبی ہم آہنگی کا نعرہ لگانے والا بھی ہے اور اسی بین المذاہبی ہم آہنگی کو پاش پاش کرنے والا بھی یہی امریکہ ہی ہے آپ دیکھ لیجئے 148 روز سے مظلوم کشمیریوں پر ہندو ظالم کا ظالم جاری ہے کشمیری مسلمان سخت سردی میں بغیر ادویات و خوراک کے اپنے گھروں میں محصور ہیں تمام حریت قیادت جیلوں میں ہے
کاروبار زندگی معطل ہے سکول و کالجز بند ہیں مذید ستم کہ لینڈ لائن و موبائل فون سروس کیساتھ انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے مگر کیا مجال امریکہ منافق کی کہ جو منہ سے پھوٹا ہو کہ یہ ظلم ہے یہ شدت پسندی و دہشت گردی ہے مگر اس کے برعکس ظالم ہندو فوج سے برسربیکار مجاھدین کی راہ میں جب بھی رکاوٹ ڈالی اسی امریکہ نے ڈالی امریکہ کے علاوہ اسرائیل بھی انڈیا کیساتھ مل کر مظلوم کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے کئی بار اسرائیلی بلیک کیٹ کمانڈوز کی مقبوضہ وادی کشمیر میں موجودگی کا انکشاف ہوا اور 27 فروی کو پاکستانی ائیر فورس کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک طیارے کا پائلٹ بھی اسرائیلی تھا
یہ ظالم کافر جب بھی کسی مسلمان ملک پر ظلم کرتے ہیں سب مل کر کرتے ہیں مگر افسوس تو عالم اسلام پر ہے کہ جو حیرت انگیز طور پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں چند بول ہی بول سکے ورنہ عملا تو کچھ بھی نہیں حالانکہ میرے پیارے نبی کریم کا ارشاد ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں یعنی جب جسم کے کسی حصے کو دکھ درد ہوگا تو دوسرا حصہ بھی وہ دکھ درد محسوس کرے گا مگر افسوس صد افسوس کہ ہم نے درد کو محسوس کرنا صرف بیان بازی سمجھ لیا حالانکہ میرے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے عرب اسرائیل جنگ میں اپنی فضائیہ کی مدد سے اسرائیل کے اندر گھس کر اس کا خواب چکنا چور کیا پھر 80 کی دہائی میں روس کے خلاف لڑ کر روس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے عالم اسلام کو بتایا کہ مسلمان کس طرح ایک جسم کی مانند ہیں ابھی حال ہی میں ایک بار پھر امریکہ کی افغانستان میں قبر بنا کر عالم اسلام کو بتایا کہ ایک جسم کی مانند ایسے ہوتے ہیں خالی نعروں للکاروں سے نہیں بلکہ عملا کچھ کرنا پڑتا ہے یاد رکھوں عالم اسلام کے حکمرانوں کل روز قیامت کشمیریوں کی بے بسی پر تمہاری مجرمانہ خاموشی تمہیں لے ڈوبے گی مگر بفضل تعالی پاکستان نے کل 48 میں بھی کشمیریوں کی مدد کیلئے اپنی افواج چڑھائی تھی پھر 65،71 کی جنگیں بھی انڈیا نے پاکستان سے اس لئے لڑیں کیونکہ پوری دنیا میں اللہ کے بعد کشمیریوں کا مددگار پاکستان ہی ہے پھر 1999 میں پاکستان نے کشمیری کی آزادی کیلئے ہی کارگل جنگ کی اب رواں سال 27 فروری 2019 میں بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے بعد بھارت کے گھر میں گھس کر اسے مارنا بھی آزادی کشمیر کی آزادی کی طرف ایک کاوش ہی ہے
سنو عالم اسلام کے حکمرانوں پاکستان نے نبی ذیشان کے فرمان ،مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، پر عمل کرتے ہوئے امریکہ،اسرائیل ہندوستان کے علاوہ روس تک کو بتلا دیا کہ ہم اپنے نبی کے فرمان پر جان بھی قربان کرنے والے ہیں مگر فلسطین ،شام و افغانستان اور خصوصی طور پر اہلیان مقبوضہ کشمیر تم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم ایک جسم ہیں پھر تم درد محسوس کیوں نہیں کرتے ؟ اور روز قیامت تمہیں جواب دینا ہوگا اپنی چپ کا حساب دینا ہوگا ان شاءاللہ پاکستان تو عملا جان و مال پیش کر چکا اور کر بھی رہا ہے تم اپنی عیاشیوں سے نکل کر دیکھو تم نے کیا کرنا ہے اور کیا کر چکے اسلام کے نام لیوا کھوکھلے مسلمان حکمرانوں دیکھ لو آج اسرائیل و امریکہ کو پاکستان سے صرف یہی عداوت ہے اس ارض مقدس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی خاطر اسرائیل و امریکہ سے ٹکر لی بلکہ حال ہی میں محمد بن قاسم کی طرح خطے کے لئے بہت بڑے خطرے تامل ٹائیگرز کو ختم کرکے غیر مذہب کی بھی مدد کی
افسوس عرب کے عیاش حکمرانوں تم محمد بن قاسم کی نسل سے ہوکر بھی ہند کے کشمیر کی مظلوم بیٹیوں کی پکار نا سن سکے ہاں مگر ابن قاسم کی سنت زندہ کرنے کیلئے پاکستان ہے ان شاءاللہ
ہندو کی فطرت اور حالات مسلم !!! تحریر: غنی محمود قصوری
اس وقت میں دنیا دوسرا بڑا مذہب اسلام اور تیسرا بڑا مذہب ہندو مت ہے یہ دنیا کا مشرک اور نجس ترین مذہب ہے اس کے تقریبا 3 کروڑ کے لگ بھگ خدا ہیں جن کی وہ پوجا پاٹ کرتے ہیں گائے ،بیل،بندر حتی کہ انسانی اعضاء مخصوصہ تک کی پوجا اسی مذہب میں کی جاتی ہے
اس مذہب میں ایسی تقسیم ہے کہ خود ہندو بھی اپنے ہندو مذہب سے محفوظ نہیں
ہمارے آباءو اجداد نے تقریبا 1 ہزار سال تک اس ہندوستان اور اس کے ہندوءوں پر حکومت کی لیکن تاریخ گواہ ہے آج دن تک کوئی ثابت نا کرسکا کہ کسی مسلمان بادشاہ یا سالار نے ہندوءوں سے ناروا سلوک کیا ہو بلکہ اسلامی شعائر کے مطابق بتائے گئے طریقے پر عمل کرتے ہوئے ان کو ان کی پوجا گاہیں اور رہائش گائیں فرائم کی گئیں ہندوستان بھر میں مغل دور حکومت میں قائم ہوئے مندر اس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ ہندوستان کے ہندو مسلمانوں کے غلام ہو کر بھی اپنی رسومات و رواج آزادانہ طریقے سے ادا کرتے تھے مگر اس کے برعکس ہندو کو جب بھی موقع ملا اس نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے اب چند دن قبل ہندوستان نے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے کر اپنی اندر چھپی خباثت ظاہر کر دی ہندوؤں کا ظلم مسلمانوں پر کشمیر میں ہو یا ہندوستان کے اندر اس میں نمایاں کردار انتہا پسند ہندو جماعتوں کا ہے جس میں سر فہرست RSS نامی متعصب ہندو جماعت ہے
RSS راشٹریہ سیونک سنگھ ایک ہندو دہشت گرد تنظیم ہے
جو کہ قیام پاکستان سے قبل ہی کیشوا بلی رام ہیڑ گوار کے زیر سایہ انڈین شہر ناگپور میں 1925 کو بنی یہ اتنی دہشت گرد تنظیم ہے کہ مسلمان سکھ عیسائی تو دور کی بات خود ہندو بھی اس سے محفوظ نہیں انگریز دور میں اس پر ایک بار جبکہ قیام آزادی کے بعد اب تک ہندوستان میں اس تنظیم پر دو مرتبہ پابندی لگ چکی ہے جبکہ امریکہ جیسا دہشت گرد اور دہشت گردوں کا سرپرست ملک بھی اس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے مگر حیرت ہے کہ یہ تنظیم پھر بھی اپنی پوری قوت سے کام کر رہی ہے بلکہ اب تو اس نے باقاعدہ بھرتی سینٹر اور ٹریننگ سینٹر بھی کھولے ہوئے ہیں ماضی میں اس تنظیم کو انڈین گورنمنٹ کی طرف سے پابندیوں اور نظر بندیوں کا سامنہ کرنا پڑا مگر مودی سرکار کے آتے ہی اس تنظیم نے سرعام اپنا کام کرنا شروع کر دیا اور اب یہ تنظیم درحقیقت نریندر مودی کے زیر سایہ ہی چل رہی ہے اپنے قیام سے ہی یہ تنظیم 13 نکات پر کام کر رہی ہے
1 بھارت کو خالص ہندو ریاست بنانا
2 بھارت کا ترنگا درست نہیں اس کی جگہ بھگوا جھنڈا یعنی آر ایس ایس کا جھنڈہ لانا
3 بھارت پر صرف ہندوؤں کا حق ہے لہذہ سیاسی و مذہبی جماعتیں صرف ہندوؤں کی ہی ہو اور ہندو ہی حکمران ہو
4 بھارت میں صرف اور صرف ہندو قانون کا نفاذ جمہوری نظام کا رد
5 مہاتما گاندھی کی جگہ ناتھو رام کا پرچار کیا جائے
6 دلت ہندوؤں کو غلامی کی طرف دھکیلا جائے
7 سپین کی طرف مسجدوں کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے
8 مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ اقلیتوں کو جبرا ہندو بنایا جائے
9 بھارت کی بھاگ دور عدلیہ انتظامیہ اور دیگر تمام شعبوں پر صرف اور صرف ہندو برہمنوں کو آگے لایا جائے
10 آر ایس ایس کے نزدیک برہمن خدا کا روپ ہیں سو برہمن کسی قسم کی سزا کا مستحق نہیں چاہے جو مرضی جرم کرے
11 پولیس اور فوج میں اعلی عہدوں پر ہندوں برہمن جبکہ نچلی سطح پر دلتوں کو لایا جائے
12 گائے کے تحفظ اور گائے کی پوچا کروائی جائے
13 مسلمان عورت کے ریپ اور قتل کو جائز قرار دیا جائے
دراصل مودی سرکار کا مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دینا آر ایس ایس کے ایجنڈے کے مطابق ہی ہے چونکہ مودی ایک متعصب اور انتہا پسند ہندو لیڈر ہے اس لئے وہ آج کشمیر اور ہندوستان میں مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کئے ہوئے ہے مگر ان ظالموں کو پتہ نہیں کہ اللہ رب العزت قران مجید میں ارشاد فرماتے ہیں
وَمَکَرُوْوَمَکَرَاللّٰہْ،وَاللّٰہُ خَیْرُالْمَاکِرِیْن
ترجمہ_ایک چال یہ کافر چلتے ہیں اور ایک چال اللہ اور جان لو اللہ بہتر چال چلنے والا ہے
ان شاءاللہ ہندوستان کی بربادی اور ہندوؤں کے مسلمان ہونے کا سبب بھی یہی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس اور ظالم متعصب مودی بنے گا ان شاءاللہ
ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عمران خان کے الفاظ!!! تحریر: نعمان علی ہاشم
بارگاہِ رسالت مآب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنی مقدس و مکرم ہے اس کا اندازہ شاید ہی ایک دنیادار کو کبھی ہو سکے،
اس دنیا کا سب سے زیادہ مہذب، باشعور، باادب اور بااخلاق شخص بھی شاید سید عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب کا حق ادا نہ کر سکے.
میر تقی میر کا ایک مصرعہ ہے کہ
"لے سانس بھی آہستہ کے نازک ہے بہت کام”
سیاسی وابستگی اور نظریے سے قطع نظر اس بات کا حد درجہ خیال رکھیں کہ آپ کس کا ذکر کر رہے ہیں، اور جب آپ عالم کے سب سے زیادہ حسین، اکمل و کامل انسان کا تذکرہ کر رہے ہوں، جو نہ صرف سب سے عظیم انسان ہوں بلکہ صاحب شریعت ہوں. اللہ کے آخری نبی ہی نہیں بلکہ سیدالانبیاء ہوں. جن کے متعلق اللہ نے ادب کا حکم دیا ہو تو پھر اس وقت تک کچھ نہ کہیں جب دل، دماغ، زبان، جسم اور روح ایک پیج پر نہ ہوں.
جب آپ ہر طرح کی احتیاط کو ملحوظ رکھیں گے تو غلطی کا امکان بہت کم ہے. میں سمجھتا ہوں اس معاملے میں بداحتیاطی بھی جرم ہے. اور ایسے عادی مجرم کو اس کی سزا ملنی چاہیے. اب اس کی سزا امت کے مجتہدین ہی طے کر سکتے ہیں. ہم تو عام سے لوگ ہیں.
مگر جب آپکو علم ہو کہ یہ بد احتیاطی کرنے والے کی نیت توہین و گستاخی کی نہیں تو پھر کافر و گستاخ کے فتوے لگانا بھی مناسب نہیں. بلکہ علماء کو چاہیے کہ ایسے بندے کو پیار سے سمجھائیں کہ یہ معاملہ کتنا حساس ہے. اگر بارہا سمجھانے پر بھی وہ شخص نہیں سمجھ پاتا تو اس کے لیے سزا ضرور ہونی چاہیے.
کل سے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم عمران خان کے منہ سے رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق انتہائی نازیبا جملہ نکلا. وزیر اعظم صاحب سیدالانبیاء سید البشر صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدوجہد کا تذکرہ کر رہے تھے. اور اس راہ میں آنے والی پریشانیوں کو معاذ اللہ ذلالت کہہ دیا. جو کہ سراسر بے ادبی ہے. اس پر خان صاحب کو اللہ سے معافی بھی مانگنی چاہیے. اور آئندہ کے لیے احتیاط بھی کرنی چاہیے. اور وسائل ہوں تو اس اچھا سا عالم دین بھی رکھ لیں جو انہیں سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب سکھائے.
البتہ اس ایک کلپ کی بنیاد پر گستاخ و کافر کہنا قطعاً درست نہیں. لہٰذا تنقید کے گھوڑے دوڑانے کے بجائے اور شدت کی فضاء قائم کرنے کے بجائے اصلاح کے راستے کو اپنائیں. اور ایسے کلپ کو ایسے شئیر کر کے اپنا مذاق نہ بنوائیں. آپ کی شئیرنگ پر ملحدین قہقہے لگاتے ہیں. اور سوچیں کے مذمت کے نام پر ہم جو کر رہے ہیں وہ بھی کہیں اسی زمرے میں تو نہیں آتا.نکاح اور عہد وفا ! تحریر: غنی محمود قصوری
اللہ رب العزت نے اس کائنات کو بنایا اور اس کو اپنے بندوں سے سجایا بندوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے پیغمبر اور رسول بیجھے تاکہ ان کے بتلائے ہوئے طریقے پر چل کر عام انسان زندگی بسر کر سکیں روزی روٹی حاصل کرسکیں اور دیگر امور زندگی گزار سکیں
یوں تو سارا سال ہی نکاح اور شادیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے مگر نومبر سے جنوری تک ملک پاکستان میں شادیوں کا خاص سیزن ہوتا ہے
نکاح ایک مقدس فریضہ ہے اور تمام انبیاء کرام کی بھی سنت ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔ نکاح میری سنت ہے
یعنی یہ ایک فرض عین ہے نکاح کیلئے ہم نے طرح طرح کی شرطیں اور رسمیں خود سے بنا ڈالیں ہیں کہ جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اس خوشی کے موقع پر دوستوں رشتے داروں کو اکھٹا کیا جاتا ہے لڑکے والے بارات کیساتھ لڑکی کے گھر جاتے ہیں جنہیں کھانا لڑکی والے اپنی خوشی سے کھلاتے ہیں جبکہ لڑکے والے بعد میں ولیمہ پر دوست احباب اور رشتہ داروں کو کھانا کھلاتے ہیں مگر اس عظیم خوشی اور پاکیزہ عمل پر بھی ہم عہد شکنی کرنے سے باز نہیں آتے اکثر اوقات اس موقع پر ہم کھانے میں اور بارات کے مقرر کردہ وقت میں عہد شکنی کرتے ہیں حالانکہ شادی کارڈ پر لکھواتے ہیں کہ ،پابندی وقت کو ملحوظ خاطر رکھیں مگر اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مترادف ہم بارات کے مقرر کردہ ٹائم پر بارات نہیں لیجاتے جس کی بدولت ساتھ جانے والے رشتہ داروں اور دوستوں کو کھانے میں دیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسا تقریبا ایک رواج بن چکا ہے خاص کر ہمارے گاؤں دیہات میں جہاں میرج ہال نہیں ہوتے وہاں ایسا زیادہ ہوتا ہے چونکہ شادیوں کا سیزن ہوتا ہے اور ایک دن میں ایک میرج ہال کو دو سے تین تک شادیوں کا آرڈر ملا ہوتا ہے تو اسی لئے میرج ہال والے وقت کی پابندی لازمی کرواتے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے مگر ہمیں یہ بھی سوچنا چائیے کہ ایک ایسا عمل کہ جس کا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اگر اس کی شروعات میں ہی ہم فضول رسم و رواج کرنے کیساتھ لوگوں کو گھنٹوں بھوکا رکھ کر عہد شکنی کرینگے تو اس نکاح میں برکت کیسے ہوگی کیونکہ صحیح بخاری میں نبی رحمت کی حدیث ہے کہ جس میں تین باتیں پائی جائیں وہ منافق ہے
1 جب بات کرے تو جھوٹ بولے
2 وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے
3 اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں سے خیانت کرے
تو آپ خود سوچیں جب شادی کارڈ والے سے بات کرکے خود ہم نے نکاح و ولیمہ کا ٹائم مقرر کرکے لکھوایا پھر جب ہم نے ہی ٹائم کی پابندی نا کی تو گویا ہم جھوٹ بولا اور اسی طرح عہد شکنی بھی کی
جہاں پابندی وقت کی عہد شکنی شادی والے گھر سے شروع ہوتی ہے وہاں شادی میں شرکت کرنے والے بھی لیٹ پہنچ کر اس عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں لہذہ اس مقدس فرض میں فضول رسم و رواج کی عہد شکنی کیجئے اور پابندی وقت کے عہد کو بھی پورا کریں تاکہ ہم ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دے سکیں اور زندہ قومیں اپنے اسلاف کی بتائی گئی باتوں سے عہد شکنی نہیں کرتیں








