Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • مولانا نے دھرنا دیا تو دھر لئے جائیں گے!!!

    مولانا نے دھرنا دیا تو دھر لئے جائیں گے!!!

    ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والی تحریکوں کا انجام!!!

  • ترکی کی کردوں پر چڑھائی اور کشمیر ایشو پر عالمی طاقتوں کا ردعمل !!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    ترکی کی کردوں پر چڑھائی اور کشمیر ایشو پر عالمی طاقتوں کا ردعمل !!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    ٹرمپ انتظامیہ نے کرد ترکی کشیدگی کا نوٹس لیا،
    یو این کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس بھی بلا لیا گیا.
    مزید یہ کہ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے دونوں ممالک میں پیدا ہونے والے بحران کے تین حل پیش کیے ہیں.
    1- شام میں امریکی فوج کے ذریعے بغاوتوں کا خاتمہ
    2- ترکی پر معاشی پابندیاں حتیٰ کہ وہ جنگ لڑنے کے قابل نہ رہے.
    3- کردوں اور ترکی کے درمیان ثالثی.
    .
    تو قارئین یہ ہے منظر نامہ.
    نہ ہی ترکی سے کوئی سفیر و مندوب یو این کی خدمت میں حاضر ہوا.. نہ شام کو مضبوط سفارت کاری کا سہارا لینا پڑا. اور پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ آپکے سامنے ہے.
    .
    جناب غور کیجیے گا کہ ترکی کا نقصان ہو یا کردوں یا پھر شام کا امریکہ کسی جگہ بھی براہ راست متاثرین میں شمار نہیں.
    .
    ناظرین یہ بھی دیکھیے کہ ثالثی تیسرا آپشن ہے. پہلے دو آپشنز انتہائی بیہودہ اور جابرانہ ہیں.
    .
    خیر یہ تو تھا پس منظر جس پر آپکو ماضی قریب کی جھلک دکھانی ہے.
    .
    تنازعہ کشمیر یو این میں 1948 سے پیش ہے.
    بھارتی فورسز کشمیریوں پر جلاد کی طرح مسلط ہیں.
    لاکھوں شہید، لاکھوں یتیم، بے شمار بیوہ و نیم بیوہ.
    سکول کالج مدارس تباہ
    کم عمر بچوں کا قتل عام
    پیلٹ گن کے چھروں سے معذور ہزاروں
    غیر قانونی و غیر انسانی حراست میں ہزاروں قید اور قید بھی جانے کب سے.
    .
    مقبوضہ کشمیر کی امتیازی حیثیت ختم ہو چکی.
    70 دن کا کرفیو ہو چکا
    ادویات، خوراک کی قلت
    ہسپتال، سکول، مدارس بند
    اور ہماری سفارت کاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر.
    .
    ترلوں سے سلامی کونسل کا کشمیر پر اجلاس بلایا،
    پوری دنیا کو آن بورڈ لیا.
    یو این کی جنرل اسمبلی میں ثریا کو چھوتی تقریر کی.
    اور ٹرمپ اور یو این نے فقط مذمت کی.
    اور دونوں راضی ہوں تو ثالثی کی پیشکش ہے.
    اور فیر کیس انہی پرانی فائلوں کی طرح تہہ خاک میں چھپ جائے گا جو 1948 سے شنوائی اور عملدرآمد کی منتظر ہیں.
    .
    وزیراعظم عمران خان صاحب.. گلوب کو بھی دیکھیں اور اپنے حالات کو بھی.. دنیا کے دہرے معیار کو جاننے کی کوشش بھی کریں. جو بھاشن آپ دنیا کو دے رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ دنیا کے خدا آپکو تاج پہنا دیں گے. یہ بھاشن شاید یہ فرعون زمانہ اپنے ٹوائلٹ کے پیپرز پر چھپوا کر اس سے اپنی غلاظت صاف کرتے ہیں.
    .
    فرعونوں کو بس طاقت کا نشہ آور ظلم کا چسکا ہوتا ہے.
    آپ کاہے امید لگائے بیٹھے ہیں. اور اپنے کشمیری بھائیوں کو موت کے منہ میں چھوڑ رہے ہیں…
    اللہ کے لیے اللہ سے ڈرتے ہوئے دل سے "ایاک نعبد و ایاک نستعین” کہہ کر فیصلہ کریں.

  • "سوچ ہمیں کیسے بڑا بناتی ہے” تحریر: عبداللہ قمر

    "سوچ ہمیں کیسے بڑا بناتی ہے” تحریر: عبداللہ قمر

    ہر انسان کی زندگی کے اندر کچھ ایسے موڑ آتے ہیں جب اس لگنے لگتا ہے کہ وہ ہار گیا ہے، وہ اپنا مقصد پورا نہیں کر سکا. وہ ٹھکرا دیا گیا ہے، کائنات نے اسے ٹھکرا دیا ہے، اللہ نے اسے ٹھکرا دیا ہے (معاذاللہ). لوگوں میں اس کی مقبولیت نہیں رہی اور اس کی اونچی آواز سے سماعت چھین لی گئی ہے، اس کی بات سنتا کوئی نہیں. لوگ اس کو پسند نہیں کرتے، اس کی شان میں قصیدے پڑھنے والے اب اس کے پاس نہیں بیٹھتے. ہر طرف مایوس ہی مایوسی ہے، اندھیر ہی اندھیرا ہے. بات تو کسی حد تک درست ہے، اکثریت لوگ یہاں آ کر ہار قبول کر لیتے اور زندگی کی اس مشکل دوڑ سے باہر نکل جاتے ہیں.

    لیکن!!!

    یہ اندھیرے یہ مایوسیاں، ان کا وجود صرف اور صرف ہمارے دل و دماغ میں ہوتا ہے. چیزوں کی حقیقت ضرور ہوتی ہے مگر جس حد تک ہم سوچ رہے ہوتے ہیں ویسا بالکل نہیں ہوتا. ہم اس قدر مایوس ہو جاتے ہیں یہ بھی ہماری سوچ ہی کی طاقت ہوتی ہے. ان مایوس سوچوں کی واحد وجہ ہماری سوچ، ہمارے مقصد، ہماری شخصیت اور ہمارے زاویہ نظر کا چھوٹا ہونا ہے. زندگی ایک طویل اور اعصاب شکن جنگ کا نام ہے اور چھوٹی بڑی ناکامیاں اس سفر کی خوبصورتی اور اس جنگ کی معراج ہیں، تاج ہیں.

    لیکن

    اگر آپ کا مقصد یہ شان و شوکت، یہ تعریفوں کے پل، یہ ڈگریوں کی دوڑ اور شہرت کی بھوک تھا تو اچھے سے سمجھ لیجیے آپ اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں، جو کچھ آپ کے ساتھ ہو گیا ہے وہی ہونا تھا. کیونکہ یہ چیزیں عارضی ہیں، یہ چیزیں کھوکھلی ہیں اور چِھن جانے والی ہیں. لہٰذا، زندگی کی یہ طویل المدت اور اعصاب شکن جنگ لڑنے کے لیے، اپنے اعصاب کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی سوچ میں وسعت پیدا کریں، اپنے زاویہ نگاہ کو بڑا کریں. اپنے اندر کے اک خوبصورت فرد کو ایک قد آور شخصیت بنانے کے لیے اپنی کھوکھلی بنیادوں کو توکل، محاسبہ، عزم، دوام، استقلال، مستقل مزاجی، مردم شناسی، علم، تدبر، تفکر اور تعلق باللہ کے ساتھ بھریں. وگرنہ، زندگی کی یہ جنگ بہت مشکل ہے، گھپ اندھیرا اور بے گھڑے ہیں. ہمارا کام اس سفر میں، اس رستے ہر چلتے رہنا ہے، راستے کھولنا، خوبصورت وادیاں دکھانا اور بالآخر منزل تک پہنچانا اللہ کا کام ہے. کامیابیوں کی اس وادی میں ڈر جانے والوں، بغیر حکمت عملی ترتیب دیے بس چل پڑنے والوں اور رب کی مدد اترنے کا یقین نہ رکھنے والوں کی کوئی جگہ نہیں.

    لہذا..!

    اپنے آپ کو مایوسیوں کے اس جکڑ لینے والے چنگل سے چھڑوانے کے لیے اور اس اندھیرے میں روشنی کے حصول کے لیے اپنے آپ کو چھوٹی سوچ سے آزاد کریں، لوگوں کی باتوں اور ان عبادتوں سے نکلیں، اگر ہمارے دل میں رشتہ داروں، دوستوں، ہمسایوں سے مقابلہ، حسد، بغض اور غرور کے جراثیم بھرے ہوئے ہیں تو پھر میرے بھائی اس اندھیرے میں آپ کو روشنی نہیں مل سکتی.

  • "انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انسانیت کی اُڑتی دھجیاں” تحریر . جویریہ رزاق

    "انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انسانیت کی اُڑتی دھجیاں” تحریر . جویریہ رزاق

    یوں تو مغربی معاشرے نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بہت سی تنظیمیں بنائیں
    بہت سے دن متعارف کروا دئیے
    مگر ان تنظیموں کے ہوتے ہوئے مسلمان ہر جگہ ظلم و ستم کی چکی میں پستا ہے
    یہ تنظیمیں ہیومن رائٹس کے سبھی ادارے ہمیشہ مسلمانوں کی زبوں حالی پہ منہ پہ تالے لگائے ہوئے ہیں
    افسوس بین الاقوامی سطح پر یہ دن محض دکھاوے کے لئے منائے تو جاتے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے
    جس کا منہ بولتا ثبوت مسلمانوں پر ہوتے بدترین تشدد سے لگایا جا سکتا ہے
    چاہے وہ کشمیر ہو برما ہو فلسطین ہو شام ہو الغرض پوری دنیا میں مسلمانوں پر ہوتا ظلم و ستم مغرب کے ایجاد کردہ انسانی حقوق کے یہ دن کو منہ چڑاتا ہے
    ایسا کونسا بدترین تشدد ہے جو آج کشمیر کے نہتے مظلوم مسلمانوں پر نہیں کیا جا رہا
    لیکن دوسری طرف مغرب میں کسی غیر مسلم کا اگر کوئی کتا بھی مر جاتا ہے تو دنیا تہس نہس کر دی جاتی ہے
    جانوروں کے لئے انکی اتنی ہمدردیاں جبکہ مسلمان انہی کے نزدیک کیڑے مکوڑے
    جب چاہا جس نے چاہا مسلمانوں کو کچل دیا..
    فلسطین کی تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں
    برما ,شام ,عراق اور کشمیر کی تاریخ دیکھ لیں
    جہاں معصوم کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں
    مسلمان عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے
    حتی کہ بوڑھے ضعیف مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کیا جاتا ہے
    پوری دنیا میں مسلمانوں کے خون کے ندیاں بہائی جا رہی ہیں لیکن ہیومن رائٹس کی سبھی تنظیمں ہنوز خاموش ہیں
    حقوق حقوق کے کھوکھلے دعوے آج تک مسلمانوں پہ ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کو نہیں روک پائے
    بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا
    مغرب کی بنائی ہوئی یہ تنظیمیں صرف غیرمسلموں کے لئے ہیں انہی کے حقوق کے لئے ہیں
    مسلمانوں کی ان کی نظر میں نہ کوئی حیثیت کل تھی نہ آج ہے
    کہیں مسلمانوں کی مساجد کی بے حُرمتی
    کہیں انبیاء کی توہین..

    اس کے باوجود بھی اسلام کو ہی دہشت گرد کہا جاتا ہے
    آج تک ان کھوکھلی جھوٹی تنظیموں سے اسلام کے لئے نہ کوئی نرم گوشہ ملا نہ انصاف ملا..
    تو پھر کیوں یہ تنظیمیں بنائی گئیں؟؟؟
    کیوں انہیں عالمی امن کی
    انسانی حقوق کی تنظیم کا نام دیا گیا ؟؟
    اگر یہ پورے عالم کے لئے ہیں تو پھر مسلمانوں کے ساتھ انکا ناروا سلوک کیوں؟؟
    پوری انسانیت کے حقوق کی تنظیمیں ہیں تو پھر مسلمان کو کچل کر انسانیت کی دھجیاں کیوں اُڑائی جا رہی ہیں آخر؟؟
    مسلمانوں کا سانس تک روک دینا انہیں کیوں دکھائی نہیں دیتا؟؟
    معصوم بچوں کی آہیں
    مظلوم بہنوں بیٹیوں کی سسکیاں
    بوڑھے ضعیفوں کی چیخیں انہیں کیوں سنائی نہیں دیتیں
    آخر کیوں؟؟
    عالمی بین الاقوامی حقوق کا راگ الاپنے والو کہہ کیوں نہیں دیتے یہ دن
    یہ جھوٹے کھوکھلے نعرے اور تنظیمیں محض مغرب کے لئے ہیں
    مسلمانوں کے لئے ہرگز نہیں ہیں”