ذہنی سکون کس چیز کا نام ہے؟
کیا فکرِ فردا سے رہائی ذہنی سکون کا باعث ہے یا مالی آسودگی؟
کیا دنیا میں ٹھاٹھ باٹھ سکون کی علامت ہے یا کوئی ایسی چیز جو اس کی زندگی کو مسکراہٹ سے ہمکنار کر دے
اللہ تعالی کارساز ہے وہ انسان کے کاموں کے لیے خود انسان سے زیادہ متفکر رہتا ہے. انسان جب خود اپنے کاموں، مرادوں اور تمناوں کے لیے بے چینی و بے قراری کی روش اختیار کرتا ہے تو اس سے وہ ذہنی سکون چھن جاتا ہے جو زندگی کی مسکراہٹ کا باعث ہوتا ہے. اور فکرِ فردا سے رہائی اس کے لیے خواب بن جاتی ہے
انسان کو چاہیے کہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے اور اس میں کوتاہی نہ کرے اگر وہ عطا کردہ نعمتوں پر صبر بھی کر لے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہو گی
انسان بنیادی طور پر ناشکرا ثابت ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ جو چیز مل جائے اس کی قدر نہیں کرتا اور جو تمنا پوری نہ ہو اس پر شکوے شکایات ہر وقت نوکِ زباں پر رکھتا ہے
اور اگر ایسے انسان سے عطا کردہ نعمتوں میں سے کچھ یا ساری واپس لے لی جائیں تو اس کا چیخنا دیدنی ہوتا ہے
حالانکہ اس نے عطا ہوئی نعمتوں کا شکر تو ک ھی ادا کیا نہیں تھا
نجانے کیوں انسان خوب سے خوب تر کی تلاش میں کفرانِ نعمت کا مرتکب ہوتا ہے
قدرت انسان کو برابر اشارات دیتی رہتی ہے لیکن انسان نعمتوں کی تکفیر میں ایسا پڑتا ہے کہ قدرت کے اشارات کو سمجھتا ہی نہیں اور ذہنی سکون تباہ کر بیٹھتا ہے
اللہ سے بہتر کون حکیم و علیم ہے یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ عطا کردہ نعمتوں سے کسی کو واپس لے کر اس سے بہتر عطا کرنا چاہتا ہو لیکن اس پر یہ انسان ایسا دلگرفتہ ہوتا ہے کہ اللہ جیسے خالق و مالک کی شکایات اپنے ہی جیسے انسانوں سے کرنے لگتا ہے
شاید یہی وجہ ہے کہ وہ فکرِ فردا سے رہائی کے لیے ترستا رہتا ہے
غم ہمیشہ ماضی سے منسلک ہوتا ہے اور اور خدشے کے تعلق مستقبل سے ہوتا ہے
کیونکہ جو وقت ابھی آیا نہیں اس پر غم کرنا بنتا نہیں لہذا غم کا تعلق ماضی سے ہے
لیکن ماضی کے غم کو لے کر ہم مستقبل سنوار نہیں سکتے اس کے لیے ضروری ہے کہ بندہ ماضی سے صرف سبق حاصل کرتے ہوئے اسے یکسر فراموش کر دے اور مستقبل کی فکر کرے لیکن یہ فکر اسے ہلاک نہ کر ڈالے فکر کا مطلب جہاں ایک طرف بہتر پلاننگ کرنا ہے وہیں دوسری طرف اللہ سے بہتر امید لگانا اور اسی پر یقین رکھنا بھی ہے کہ اس کی مرضی ومنشاء کے بغیر مستقل بہتر نہیں ہو سکتا
ماضی کے غم اور مستق ل کی بے جا فکر سے ہم حال سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے
ننکانہ کے ایک مقامی سکول کے ذمہ دار سے ایک ملاقات میں طلبہ کی پڑھائی کا ذکر چلا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے سکول کے طلبہ دوپہر 2 بجے چھٹی کے بعد گھر چلے جاتے ہیں اور زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں پھر جس نے اکیڈمی وغیرہ جانا ہوتا ہے وہ چلا جاتا ہے لیکن ہمارے اور ایک دوسرے سکول کے جماعت نہم کے طلبہ کے نمبر ایک آدھ نمبر کے فرق سے 505 میں سے 500 ہی آئے ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے طلبہ نے پڑھائی بھی کی اور زندگی سے لطف اندوز بھی ہوئے اور نمبر 500 پائے لیکن مذکورہ سکول کے طلبہ نے سارا دن اور رات کو بھی پڑھائی کر کے اتنے ہی نمبرز حاصل کیے تو گویا اس ادارے کے طلبہ بھی طریقہ بدل کر پڑھائی کرنے سے زیادہ نمبر لے سکتے ہیں اور زندگی سے لطف بھی، لیکن ایسا ہو نہیں رہا
یہاں سمجھ یہ آتا ہے کہ مستقبل کی فکر میں وہ طلبہ اپنے آج کو تباہ کر رہے ہیں، یہی حال انسان کا بحیثیت انسان بھی ہے
زندگی مسکرائے گی یا تلملائے گی اس کا انحصار انسان کے رویے پر ہے
ذہنی سکون مل جائے گا یا ذہنی کرب جان لے لے گا اس کا انحصار انسان کی سوچ و عمل پر ہے
یقین جانیے کہ صبر و شکر سے ہی ذہنی سکون نصیب ہوتا ہے اور زندگی کِھلکھلا اُٹھتی ہے
تو آئیے! اگر ہم فکرِ فردا سے رہائی کے طلب گار ہیں اور ذہنی سکون کے خواہشمند تو اللہ کے کام اللہ پر چھوڑ دیں کہ وہ ہمارے بھلے کے کام ہی کرے گا اور ہم ہر حال میں صبر و شکر سے کام لیتے رہیں
وما توفیقی الا باللہ

Author: Baaghi TV

ذہنی سکون کس چیز کا نام ہے؟؟؟ تحریر: فہیم شاکر

پولیس اصلاحات کے مسودے پر ڈی ایم جی افسران اور پولیس افسران میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئ !!! حجاب رندھاوا
پولیس اصلاحات کے مسودے پر ڈی ایم جی افسران اور پولیس افسران میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئ
پنجاب میں سنئیر پولیس افسران نے دھمکی دی ہے کہ اگر نئی اصلاحات کے نام پر ضلعی پولیس کو ڈپٹی کمشنر کے مزید ماتحت کیا گیا تو وہ استعفی دے دیں گے پولیس کے مطابق بیوروکریسی پولیس کو کام ہی نہیں کرنے دیتی پولیس کے کاموں میں مداخلت کی جاتی ہے ،
پولیس اصلاحات میں بیورو کریسی کے پولیس میں عمل دخل پہ پولیس سروس آف پاکستان کے بھرپور احتجاج کے بعد، وزیراعلیٰ نے وزیر قانون راجہ بشارت کے ماتحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کے اجلاس میں پولیس افسران اور بیوروکریسی آمنے سامنے آ گئ تلخ کلامی کے بعد افسران نے نوکریا ں چھوڑنے کی دھمکیاں بھی دیدیں۔ اجلاس میں صوبائی وزرا دونوں گروپوں کے افسروں میں صلح کروانے کی کوشش کرتے رہے ، تین گھنٹے سے زائد ہونیوالا اجلاس بے نتیجہ رہا
جبکہ راجہ بشارت کے مطابق کمیٹی کے اجلاس میں 90؍ فیصد پولیس ریفارم پیکیج کا اتفاق رائے سے جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ڈپارٹمنٹ کو بیوروکریسی (پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسز) کے ماتحت کیے جانے کے حوالے سے پولیس کے تحفظات دور کرنے کیلئے کچھ تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیںسول سیکرٹریٹ کے ہنگامی اعلیٰ سطحی اجلاس میں دونوں طرف سے تلخ کلامی کے بعد ایک دوسرے کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں،بیوروکریسی نے واضح کر دیا کہ اب مسودہ تیار ہو چکا اب ہر صورت عملدآمدہوگا، پولیس کا موقف تھا کوشش کر کے دیکھ لیں اس پہ کسی صورت عمل نہیں ہوگا
پی ایس پی افسران کی رائے ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے سابقہ ڈی ایم جی گروپ (اور اب پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس) اصل میں پولیس پر اپنا کنٹرول واپس حاصل کرنا چاہتا ہے جیسا کہ ماضی میں نوآبادیاتی دور میں ہوا کرتا تھا۔
پولیس حکام ذرائع کا کہنا ہے پولیس ریفارمز سفارشات پرعمل درآمد پنجاب پولیس کو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے رحم وکرم پر لے آئے گا۔ پنجاب پولیس کی آپریشنل خود مختاری اور غیرسیاسی کرنے کے مسئلے کا حل بھی سفارشات نہیں۔پولیس حکام ذرائع نے کہا سفارشات کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو پولیس اور امن و امان سے متعلق بے پناہ اختیارات مل جائیں گے۔ سفارشات کے تحت بے بس عام آدمی ڈپٹی کمشنر کے رحم وکرم پر ہو گا۔ سفارشات میں تھانے کی اصلاح سے متعلق کوئی تجویز نہیں دی گئی۔
وفاق حکومت نے پولیس اصلاحات کیلئے سفارشات تیار کی ہیں۔ اصلاحات پنجاب اور خیبر پختونخوا میں لائی جائیں گی۔
وفاقی سطح پر پولیس اصلاحات، قانون سازی، کابینہ کے فیصلوں کے لیے پنجاب کو 30؍ ستمبر کی ڈیڈلائن دی گئی ہےسفارشات کے مطابق پولیس کو بیوروکریسی کے ماتحت کیا جائے گا۔ کارکردگی مانیٹرنگ کے لئے سیاستدانوں کو بھی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ سفارشات کے مطابق تھانوں کی انسپکشن کے لئے پولیس کو ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا ہو گی۔
ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ون ونڈو ٹربلز شوٹر قائم کیا جائے گا۔ صوبے میں ون ونڈوٹربلزشوٹر کے نام سے چھتیس دفاتر قائم ہوں گے۔ عوامی وسائل کے انتخاب میں ڈپٹی کمشنر مکمل بااختیار ہو گا۔ انکوائریاں، انسپکشن بھی کراسکے گا
بیوروکریسی کے مطابق یہ سب تجاویز میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے تیار کی ہیں اور یہ بہت بہتر ہیں،
بیوروکریسی کی جانب سے کہا گیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس مکمل آزاد ہو، جو قانون بنائے گئے یہ اوپر سے احکامات ملے
ان کی ابتدائی منظوری وزیراعظم عمران خان دے چکے ہیں ، وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت ہنگامی طورپر اجلاس میں صوبائی وزراانصر مجید، تیمور بھٹی، ہاشم ڈوگر، چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ پنجاب سید علی مرتضیٰ، سیکرٹری آبپاشی سیف انجم، سیکرٹری بلدیات جاوید قاضی، آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ ضعیم شیخ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر،ڈی آئی جی آئی ٹی ذوالفقار حمید، ڈی آئی جی احسن یونس، ڈی آئی جی جواد ڈوگر سمیت ریٹائرڈ پولیس افسران بھی موجودتھے ۔پولیس کی جانب سے کچھ تجاویز پیش کی گئیں ان میں کہا گیا کہ
سپیشل برانچ کو وزیراعلیٰ پنجاب کے ماتحت دینے کے بجائے آئی جی پنجاب کے ماتحت ہی کیا جائے
لیکن پولیس اصلاحات پیکج میں کہا گیا ہے کہ جیسے انٹیلی جنس بیوروکا سربراہ وزیراعظم ہے اسی طرح سپیشل برانچ کا سربراہ وزیراعلیٰ ہو گا، لیکن اس پر بیوروکریسی کو شدید اختلافات ہیں، دوسرا پوائنٹ یہ سامنے آیا ہے کہ پولیس کمپلینٹ کمیشن محکمہ داخلہ پنجاب یا سی ایم سیکرٹریٹ کے بجائے پنجاب کی امن و امان کی کیبنٹ کمیٹی کے ماتحت کیا جائے ، جبکہ نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن کو ایکٹو کیا جائے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے ، جبکہ پنجاب پولیس کا الگ سے کنٹرول انسپکٹوریٹ بنانے پر بھی اختلاف کیا گیا ہے ،
بیوروکریسی کی جانب سے مسلسل ان معاملات کی مخالفت کی گئی ،
اجلاس میں سید علی مرتضیٰ اور ایک صوبائی وزیر کی جانب سے کہا گیا کہ پولیس کی جانب سے یہ انتہائی خفیہ ڈرافٹ میڈیا کے ساتھ شیئر کیا گیا
جس پر پولیس افسران سخت ناراض ہوئے اور کہاکہ آپ ہم پر الزام تراشی کر رہے ہیں
پولیس اصلاحات پیکج میں افسران کی تقرریوں کے لائحہ عمل بھی طے کیا گیا ہے کہ سینئر پولیس افسران پر مشتمل ایک انٹرنل بورڈ کارکردگی کے مظاہرے کی بنیاد پر تقرریوں کی تجاویز پیش کرے گا۔
سفارشات آئی جی کو پیش کی جائیں گی اور پھر آئی جی پولیس ڈی پی او، آر پی او اور ایڈیشنل آئی جی کے عہدوں کیلئے تین تین افسران کے نام ترتیب وار ترجیح کے ساتھ پینل کو پیش کرے گا اور ساتھ ہی کارکردگی کا چارٹ بھی منسلک کرے گا، جس کے بعد یہ تجاویز منظوری کیلئے وزیراعلیٰ کو بھجوائی جائیں گی۔ جواز پیش کرکے حکومت قبل از وقت ٹرانسفر بھی کر سکے گی۔ پنجاب حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس مقصد کیلئے اپنے پولیس آرڈر میں فوری تبدیلیاں لائے۔
دستاویز میں مزید لکھا ہے کہ صرف تربیت یافتہ اور مصدقہ افسران کو تحقیقات (انوسٹی گیشن) اور سینئر انتظامی عہدوں پر تعینات کیا جائے۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پی پی او سرٹیفکیشن فریم ورک کا تعین کرے گا۔ پنجاب حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر سرٹیفکیشن کے متعلق شقیں پولیس آرڈر میں ترامیم کرکے شامل کرے۔ سرٹیفکیشن فریم ورک تیار کرنے کیلئے پنجاب حکومت کے پاس 60؍ دن ہیں۔ پنجاب حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسٹیشن ہائوس افسران (ایس ایچ اوز) کو ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کے طور پر بھی نامزد کرے اور اس مقصد کیلئے متعلقہ قوائد اور قانون میں ترامیم کی جائیں۔ فنانس ڈپارٹمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر پولیس اسٹیشن کیلئے بنیادی اخراجات کا تعین کرے اور اس مقصد کیلئے پولیس کے ساتھ مشاورت کی جائے۔ یہ کام 30؍ دن میں مکمل کرنے کیلئے کہا گیا ہے.
مسئلہ کشمیر پر عمران خان کا کردار!!! تحریر غنی محمود قصوری
مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جب جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے یہی صورت حال امت مسلمہ کی ہے 73 سالوں سے امت محمدیہ کے بیٹے بیٹیاں مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کے سائے تلے ہندو پلید کی غلامی میں جی رہے ہیں اور آج ہندو کی جانب سے کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیئے دو ماہ ہونے کو ہیں مقبوضہ وادی کشمیر مودی ظالم نے ظلم کی تمام حدیں پار کر دی ہیں جس پر پورا عالم کفر تو خاموش تھا ہی مگر حیرت اور دکھ عالم اسلام پر ہے کہ وہ جسم کے ایک حصے کی درد کو محسوس کرکے بھی گونگے بنے بیٹھے ہیں حالانکہ آج ہمارے اسلامی ممالک کے پاس ہر طرح کے مالی و عسکری وسائل موجود ہیں مگر سوائے پاکستان کے کسی کو توفیق نہیں کہ اس درد کو محسوس کرسکے
اتنے سالوں میں کئی لیڈر آئے اور کشمیری قوم کے ساتھ تسلی و تشفیع پر اکتفا کرتے رہے مگر بدقسمتی سے کشمیر کا دفاع صحیح معنوں میں نا کر سکے بلکہ الٹا عالم کفر کے مذید غلام بنتے گئے
ایسے میں 27 ستمبر کو اللہ رب العزت نے وزیراعظم عمران خان کو یونائیٹڈ نیشن کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کا موقع دیا مگر خان نے بھی اللہ کی مدد سے مسئلہ کشمیر کیساتھ ہندو پلید کی مکاری اور فریبی کو بھی دنیا کے سامنے خوب اچھی طرح باور کرایا جس پر پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے
یقینا اس طریقے سے بات کرنا عالم کفر کے ایوانوں میں بہت ہمت و حوصلے کی بات ہے کیونکہ پہلے بھی ہزار سال جنگ تو کوئی گھاس کھانے کے نعرے لگا چکے ہیں جس سے پاکستانی و کشمیری قوم کا سیاستدانوں سے اعتبار اٹھ چکا تھا مگر آپ نے اس اٹھے ہوئے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے کا عمل شروع کیا ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو کامیابی سے ہمکنار کرے
مگر خان صاحب اللہ کا واسطہ ہے اب اگر سر اٹھا ہی لیا ہے تو یہ سر نیچا نا ہونے پائے کیونکہ آپ نے دیکھا بھی ہے پڑھا بھی ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے کس قدر کمزوری کا مظاہرہ کیا اور آخر جوتے کھا کھا کر روانہ ہوتے رہے اور قصہ پارینہ بنتے گئے اور ان کیساتھ یہ ان کے رب کریم نے کروایا تاکہ وہ دنیا کے سامنے باعث عبرت بنیں کہ جو اپنے جسم و شہہ رگ سے وفاداری نہیں کرتا پھر جوتے ہی اس کے مقدر بنتے ہیں
اگر اب آپ نے بھی اپنے الیکشن کی طرح مسئلہ کشمیر کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کیا تو پھر یقین جانیئے اللہ کے عذاب سے آپ بچ نا سکیں گے کیونکہ پاکستانی عوام سے کیئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی بدولت بڑی حد تک قوم آپ سے مایوس ہو چکی ہے مگر مسئلہ کشمیر کے معاملے پر آپ کی دلیری نے آپ کو ایک موقع دیا ہے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس مسئلے کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرکے عالم اسلام کے ہیرو بنتے ہیں یاں پھر پہلوں حکمرانوں کی طرح روگردانی کرتے ہوئے اندھیروں کے مسافر بنتے ہیں
باقی قوم پاکستان و عالم اسلام کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو آمین
جعفر زٹلی اور شہنشاہِ مغل فرخ !!! تحریر: رضوان الحق
جعفر زٹلی کا شمار اردو کے ” ابتدائی طنز ومزاح نگار” میں ہوتا ہے. زٹل کے معنی بکواس، لغو، مزاح ہے زٹل سے زٹلی جو کہ آپ کا تخلص تھا
زٹلی نے لکھنے کا آغاز اورنگزیب کے دور سے کیا. جعفر زٹلی ایک بے باک شاعر تھا. اورنگزیب پر بہت زیادہ تنقید کے ساتھ ساتھ اس کی اچھی انتظامی صلاحیتوں پر کھل کر لکھا. اورنگزیب کے بعد کا دور مغلیہ سلطنت کے زوال کی داستان سے بھرا پڑا ہے. اور اسی دور میں جعفر زٹلی نے معاشی وسیاسی حالات، کمزور حکمت عملی اور ظلم وجبر کے خلاف اپنی آواز بلند کی شاعری کے ذریعے.
شہنشاہِ مغل فرخ سیر بہت ظلم کرتا تھا. حق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کی گردنیں کاٹ دی جاتیں، زبانیں کھینچ لی جاتیں اس دوران فرخ سیر نے ایک سکہ جاری کیا جس پر یہ درج تھا:سکہ زدازفضل حق برسیم وزر
بادشاہِ بحروبر فرخ سیر
جعفر زٹلی نے جب یہ جملہ پڑھا تو اس کا دل مسوس کا رہ گیا کہ ایک طرف ظلم و ستم اور شہنشاہیت، جاہ وجلال وثروت کی آڑ لے کر
زٹلی نے اس شعر کی تحریف یوں کیسکہ زد بر گندم وموٹھ ومٹر
بادشاہِ تسمہ کش وفرخ سیر
( یہ بادشاہ فرخ سیر تسمہ بنانے والا جس نے گندم، جو کی ایک قسم اور مٹر پر لگان/ ٹیکس لگائی ہے)
فرخ سیر کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ تسمے سے لوگوں کو پھانسی دیتا تھا. زٹلی نے اس کو حقیر تسمہ بنانے والا کہا. فرخ سیر کے لیے یہ شعر گالی بن گیا. مغل بادشاہ نے جعفر زٹلی کی پھانسی کا فرمان جاری کر دیا. اور پھر ایک شاعر ظلم وستم کا ساتھ دینے کے بجائے، حق کے لیے تختۂ دار پر چڑھ گیا.
بلاگ /کالم کی دم : یہ ایک غیر سیاسی اور ادبی بلاگ ہے اس کو آج کی سیاست سے نہ ملایا جائے.


کیا سندھ کا کوئی والی وارث ہے؟؟؟ تحریر: حجاب رندھاوا
لیاقت قائمخانی کی پوری دولت ابھی سامنے آنے میں کچھ دن لگے گے لیکن 20 گریڈ کے افسر کا محل نما گھر اور گھر سے 10 ارب روپے مالیت کی جائدادوں کی فائلیں، گاڑیاں، زیور، بانڈ، کرنسی ملنا لمحہ فکریہ ہے
لیاقت قائمخانی جس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ملازمت کا آغاز کیا اور اس نے آخری تنخواہ سوا لاکھ روپے وصول کی تھی اس کا محل نما گھر؟؟ ؟
سوا لاکھ تنخواہ میں؟
اور گھر سے دس ارب مالیت کی اشیاء کی برآمدگی؟؟؟ ؟کیا سندھ میں اس طرح جنگل کا قانون تھا کہ جو چاہتا لوٹتا رہا
لیاقت قائم خانی نے کراچی کے باغات کی بحالی۔اور تزئین و آرائش کے نام پر لوٹ مار کی جس کی تفصیلات منظر عام پر آ رہی ہیں ۔
لیاقت قائمخانی نے 20 سالوں میں کراچی کے 71 پارکس کو صرف کاغذات میں بنایا اور سابق ڈی جی پارکس نے ایک ارب سے زائد روپے ہڑپ کر لیےمئیرکراچی کے مشیر لیاقت قائم خانی 2012 میں شہید بے نظیر بھٹو پارک کے نام پر قومی خزانے کو 24کروڑ کا چونا لگا چکے ہیں۔
شہید بے نظیر بھٹو پارک میں لوٹ مار پر لیاقت قائم خانی پر اینٹی کرپشن نے مقدمہ بھی درج کیا تھا۔
سابق گورنر اور پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کے دباؤ پر لیاقت قائم خانی پردرج مقدمات کو سرد خانے کی نظرکر دیا گیا۔
لیاقت قائم خانی نے باغ ابن قاسم کی طرح شہید بے نظیر بھٹو پارک میں بھی جعلی کام کرائے۔
لیاقت قائم خانی کراچی کے باغات پر بھالو مٹی کے بجائے سمندری مٹی ڈالتا تھا۔ لیاقت قائم خانی نے صرف شہید بے نظیر بھٹو پارک پر ایک کروڑ کے جعلی درخت اور پودے لگائےکے ایم سی محکمہ باغات کے 14ملازمین لیاقت کے گھر پر اور 7 ملازم اہم شخصیات کے گھروں پر کام کرتے تھے۔
باتھ آئی لینڈ کلفٹن میں لیاقت علی نے گلشن فیصل پارک کے نام پر 40 لاکھ ہڑپ کئے۔۔
لیاقت قائم خانی کے گھر سے برآمد ہونے والی گاڑیوں جائیداد کی دستاویزات پرائز بانڈز سونے ہیرے اور قیمتی ساز و سامان کی مالیت کا اندازہ 3 ارب روپے سے اوپر ہے جبکہ ملزم سے ایک لاکر مزید کھلوایا جانا باقی ہے۔ ملزم کی دیگر جائیدادوں کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔
لیاقت قایم خانی کے قریبی افسران میں سابق ڈی جی پارک طاہر درانی ایڈیشنل ڈائریکٹر اخلاق بیگ شامل تھے۔ آزاد نامی افسر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر خورشید بھی لیاقت خانی کے قریبی افسرتھے۔جو اس کے کرپشن پارٹنر تھے
لیاقت قائمخانی نے پارکس میں جعلی کام کرانے کے لیے جعلی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں، جعلی کمپنیوں کے نام پر فنڈز ریلیز کئے جاتے تھے جس سے کسی کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا
نیب ذرائع کے مطابق لیاقت قائم کی کرپشن کے سیاسی حصے داروں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں کی اہم شخصیات شامل ہیں۔
لیاقت قائم خانی کے گھر سے برامد ہونے والی گاڑیاں اس نے ٹھیکدار کمپنی فیضان اینڈکو کے مالک چوہدری فیاض، ٹھیکیدار سلیم بھیا، مصطفی ٹھیکیدار سے لیں۔ لیاقت قائم خانی اہم شخصیات کی گاڑیوں کی مرمت بھی کےایم سی کے فنڈز سے کرا کر دیتے تھے
ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاقت قائمخانی 2007 سے غیر قانونی طور پر کے ایم سی کے مشیر باغات تھے، گریڈ 21 میں ریٹائرمنٹ کے بعد کے ایم سی سے ایک لاکھ روپے پینشن بھی وصول کرتے تھے
کراچی میونسپل کارپوریشن میں انیس سو اناسی میں بھرتی ہونے والے لیاقت علی قائم خانی کے ایم سی کے بااثر ترین افسر کیسے بنے یہ اب کوئی معمہ نہیں رہا
اس کو بنانے میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہےلیاری کے علاقے گٹر باغیچہ کے رہائشی لیاقت علی قائم خانی نے انیس سو اناسی کے ایم سی میں گریڈ سولہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شمولیت اختیار کی اور اس وقت کے میئر کراچی عبدل ستار افغانی ماتحت محکمہ باغات میں بطور ہارٹیکلچرسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کیا ، تینتیس سالہ سروس کابیشتر حصہ محکمہ باغات میں گزارا اور پی ای سی ایچ ایس میں قیمتی بنگلے کے مالک بن گئے۔
سن دو ہزار پانچ میں نئے بلدیاتی نظام کے وجود میں آنے کے بعد لیاقت علی قائم خانی نے حیرت انگیز طور تیزی کے ساتھ ترقی کی ۔
سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے دور میں گریڈ اٹھارہ کے ڈائریکٹر لیاقت علی قائم خانی کے لئے ڈی جی پارکس کی پوسٹ بنائی گئی اور انہیں کراچی میں باغات اور کھیلوں کے میدانوں کی بحالی کے حوالے سے سیاہ سفید کا مالک بنا دیا گیاباغ ابن قاسم کی بحالی کے بعد لیاقت علی قائم خانی سابق گورنر سندھ عشرت العباد اور مصطفیٰ کمال کے سب سے قریبی افسر سمجھے جانے لگے۔
سن دو ہزار دس میں بلدیاتی نظام تو لپیٹ دیا گیا لیکن لیاقت علی قائم خانی اپنے عہدے پر براجمان رہے اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے قرب حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔
بتایا جاتا ہے کہ بوٹ بیسن پارک کی تعمیر نو کے لئے وفاق سے آنے والا تمام فنڈ حکومت سندھ کے بجائے براہ راست لیاقت علی خان کو دیا گیا ، اعتماد اور قربت کا یہ عالم تھا کہ دو ہزار آٹھ میں سابق صدر آصف علی زرداری نے لیاقت علی قائم خانی کو تمغہ امتیازعطا کیا گیا اور پھر دو ہزار گیارہ میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔
اپریل دو ہزار گیارہ میں لیاقت علی قائم خانی گریڈ بیس سے ریٹائرڈ تو ہو گئے لیکن اس وقت کے ایڈمینسٹریٹر کراچی لالہ فضل الرحمن نے انہیں تین سال کی توسیع دے دی جو اگلے ہی سال یعنی دو ہزار بارہ میں سپریم کورٹ کے حکم پر کالعدم قرار دے دی گئی ۔
دو ہزار سولہ میں جیسے ہی بلدیاتی حکومت وجود میں آئی تو موجودہ میئر کراچی وسیم اختر نے لیاقت علی قائمخانی کو بطور مشیر باغات ایک بار پھر محکمہ باغات کے سیاہ و سفید کا مالک بنادیا
اج لیاقت قائم خانی نیب حراست میں ہے جبکہ مئیر کراچی وسیم اختر دوبئ جا چکا ہے
نیب ذرائع کے مطابق میئر کراچی کے مشیر لیاقت قائمخانی کے خلاف تین مزید ریفرنسز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیاقت قائمخانی پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور کرپشن اور جعلی دستاویزات کے ریفرنس بھی دائر ہوں گے
حجاب رندھاوا
ملتان ہمدرد ویلفیئر سوسائٹی میں کئے جانے والے تشدد کی ویڈیو منظر عام
https://youtu.be/N6LDCJ_raNQ
ملتان ہمدرد ویلفیئر سوسائٹی میں کئے جانے والے تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد حساس ادارے کی نشاندہی پر پولیس کی کاروائی ہمدرد ویلفر سوسائٹی کا مالک گرفتار کر لیا گیا رپورٹ رانا اظہر منیر نمائندہ باغی ٹی وی ملتان شجاع آباد










