Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ابصار عالم کا پیمرا کو بڑا نقصان… تفصیل جانیے!!! تحریر: حجاب رندھاوا

    ابصار عالم کا پیمرا کو بڑا نقصان… تفصیل جانیے!!! تحریر: حجاب رندھاوا

    ‏سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے خلاف ضابطہ سرکاری گاڑی استعمال کی..اتھارٹی کو ایک ملین روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا گیا
    آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ریکوری کی سفارش کردی

    بچپن میں کہانی سنتے تھے کہ بادشاہ اپنے قصیدہ گو سے خوش ہوے اور انعام کے طور پر اس ہیرے اور جواہرات سے نوازا
    اج کل چونکہ جدید دور ہے ہیرے جواہرات نے بھی جدیدیت اختیار کر لی ہے اج جب بادشاہ اپنے قصیدہ گو سے خوش ہوتا ہے تو کسی کو چیئرمین پی ٹی وی، کسی کو چیئرمین پی ٹی اے، کسی کو چیئرمین پیمرا لگا دیتا ہے
    ایسا ہی جناب نوازشریف نے کیا

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ابصار عالم کو چیئر مین پیمرا تعینات کیا تھا
    ابصار عالم کی تعیناتی کو سپریم کورٹ نے بھی کالعدم قرار دیا تھا کیونکہ ابصار عالم چیئرمین پیمرا کیلئے مطلوبہ معیار اور مطلوبہ تعلیمی قابلیت پر پورا نہیں اترتے تھے جبکہ نواز شریف حکومت نے ابصار عالم کو قواعد کے برعکس اہم عہدے پر تعینات کیا تھا
    ابصار عالم کی تقرری کے لیے 2 بار اخبارات میں اشتہار دیکر رولز اینڈ ریگولیشن ظاہر کرنے کی کوشش کی گئ ، وہ پہلے اشتہار کے تعلیمی معیار پر پورا نہ اترے تو دوسری بار کم اہلیت کا اشتہار جاری کیا گیا
    آج کل کانسٹیبل کی بھرتی کے لئے بی اے کی شرط ہے، جس کی تنخواہ چند ہزار ہوتی ہے،
    مگر اسی بی اے کی ڈگری پر ابصار عالم 33 لاکھ ماہانہ کا مراعات یافتہ پیکیج لیتے رہے جس میں سے ہر ماہ تنخواہ سولہ لاکھ روپے تھی جبکہ دیگر مراعات جس میں گھر ‘ ڈرائیور‘، گاڑی، ٹی اے ڈی اے‘ کلب ممبر شپ کارڈ وغیرہ ملا کر 33 لاکھ کا پیکیج تھا ۔ ابصار عالم چیئرمین پیمرا بننے سے قبل نواز شریف خاندان کی جی حضوری میں مصروف رہتے تھے بالخصوص اسحاق ڈار اور شریف خاندان کی خوشنودگی حاصل کرنے کیلئے ٹی وی پروگراموں میں ان کے حق میں پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہتے تھے جس کی وجہ سے انھیں نوازا گیا
    یہ بہت آزمودہ بات ہے کہ جو لوگ بادشاہ کی طرف سے نوازے جائیں، وہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں آگے چلے جاتے ہیں، اس کا بادشاہ کو نقصان تو ہوتا ہے، فائدہ بالکل نہیں ہوتا۔ ابصار عالم نے اپنے دور میں ذاتی لڑائیاں بھی لڑیں اور ان لڑائیوں کا نزلہ اُن پر کم اور نواز حکومت پر زیادہ گرا۔
    پیمرا کا کام چینلوں کو ضابطۂ اخلاق کے دائرے میں رکھنا ہے، لیکن ابصار عالم کا کام نوازشریف کے خلاف اٹھنے والی آوازوں پہ پابندیاں لگانا ہوتا تھا
    ابصار عالم ایک طرف حکومت اور نواز شریف کے خلاف پروگراموں پر گرفت کرتے رہے اور دوسری طرف انہوں نے عدلیہ کے خلاف وزیروں کی پریس کانفرنسیں ٹیلی کاسٹ ہونے دیں۔

    گویا پیمرا ان حالات میں ایک پارٹی بن گیا تھا ریاستی اداروں میں اپنے چہیتوں کو بٹھا کر انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی کے بارے میں جو منفی ردِ عمل پیدا کیا اس کا نقصان تو انھوں نے خود اٹھایا لیکن جو نقصان نوازشریف کے قاسمی اور ابصار عالم جیسے قیصدہ گو نے اداروں کو پہنچایا اس کی بھرپائی ان سے وصولی کے زریعے ممکن ہے

  • پلاسٹک بیگز سے چھٹکارہ کس صورت ممکن ہے!!! تحریر:  نعمان علی ہاشم

    پلاسٹک بیگز سے چھٹکارہ کس صورت ممکن ہے!!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    قارئین کرام ہم نے جس دور میں ہوش سنبھالا وہ دور کپڑے کے تھیلوں کا آخری دور تھا. کانچ کی پراڈکٹ پلاسٹک میں تبدیل ہو رہی تھیں. مٹی اور چینی کے برتنوں کی جگہ میلامائن کے برتن لے رہے تھے. ابتدائی زمانے میں ہم نے اسے نعمت جانا، برتنوں کے وزن سے جان چھوٹی، کپڑے کے تھیلے کی جگہ شاپر آیا. مجھے یاد ہے جب نئے نئے گوجرانوالہ شفٹ ہوئے تو شاپر میں دودھ دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی. کیونکہ ہمارا عقیدہ بن چکا تھا کہ دودھ ڈول میں لایا جاتا اور پتیلی میں اوبالا جاتا ہے. دہی جمانے کے لیے مٹی کی چاٹی یا سلور کی گاگر ہوتی تھی. دیکھتے ہی دیکھتے مٹی کے کنڈوں کی جگہ سٹیل نے لے لی.. فریج کی بہتات ہوئی تو مٹی کے گھڑے گئے اور پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی یخ کیا جانے لگا. دیکھتے ہی دیکھتے پانچ سات سالوں میں ایک پوری ثقافت کو لپیٹ کر ہم نے جدت سے لعنت خاص اٹھا کر منہ پر مل لی..

    .
    ماضی کے ایک واقعے کو یاد کروا کر بات آگے چلاتے ہیں.. ماضی میں پہلے تمباکو اور چائے کو عام کیا گیا. اور جب لوگ عادی ہونے لگے تو ان کے مضمرات سامنے آنے لگے.
    .
    پلاسٹک پراڈکٹس کے چند سالہ استعمال کے بعد جب لوگوں میں یہ چیز سرایت کر گئی تو اس کے مضمرات عوام کے سامنے لائے جانے لگے. میڈیا کی آزادی کے بعد ہمیں اسی کے توسط سے معلوم ہوا کہ یہ پراڈکٹس ہماری صحت کے لیے کس قدر نقصان دہ ہیں. مگر زہر رگوں سرایت کر چکا تھا. اب ہم اس سے جان چھڑوانے سے رہے. اور ظاہری سے بات ہے کہ جب انسان رنج میں راحت محسوس کرنے لگے تو اسے خوشی کی حاجت ہی کیا؟
    یہ تو ہو گئی تمہید. اب چلیے زرا مدعے پر.. ہم پچھلے پانچ سال سے اکثر و بیشتر جگہ اس بات کا اظہار کرتے رہے کہ اس پلاسٹک کو ختم ہونا چاہیے، یہ زندگی نگل رہا ہے. اور اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں. ماضی میں بھی حال کی طرح کوششیں ہوتی رہیں مگر کچھ عرصہ بعد یہ شور ختم ہوتا اور پلاسٹک ہماری زندگیوں میں زندگیاں تباہ کرنے کے لیے چلتا رہا.
    خیر حالیہ چند دنوں کے اقدامات دیکھ کر میں نے مناسب سمجھا کہ آپ لوگوں کو اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کر دوں.
    یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ آپ گراونڈ سیٹ کیے بغیر شریعت بھی نافذ کریں گے تو نقصان آپکا ہی ہوگا. اس کے لیے لازم ہے قوم کی اخلاقی و اسلامی تربیت، جمہور کا صالح ہونا، گرد و پیش کے سازشی عناصر کے مقابل ڈٹ جانے کی قوت ہونا. جس طرح سب سے افضل کام آپ گراونڈ سیٹ کیے بغیر نہیں کر سکتے اسی طرح چھوٹے سے چھوٹا کام بھی گراونڈ سیٹ کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا.
    خیر بات یہ ہے کہ
    انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشنز کے مطابق عصر حاضر میں 35 فیصد بیماریوں کی وجہ یہ پلاسٹک ہے. کمال یہ ہے کہ اسی پلاسٹک کے مضمرات میں کینسر جیسی بیماری بھی ہے. ہیپاٹائٹس اور جلدی امراض کی طویل لسٹ، اس سے زیادہ حیران کن بات یہ کہ اس پلاسٹک نے پچھلے بیس سالوں میں 18 فیصد آبی مخلوق کو سرے سے ختم کر دیا.
    اور صرف پاکستان کی بات کریں تو دریائے راوی میں آبی مخلوق کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے. مچھلیاں تو ایک طرف اب تو مینڈک بھی اس شاپر کی موت مر رہے ہیں. یہاں نالوں اور شہروں کا گندہ پانی پھینک کر پلاسٹک کئی فٹ موٹی تہہ بنا دی گئی ہے جو اگلے دو سو سال تک بھی مٹی میں نہیں ملے گی. یعنی اگلے تو سو سال کے لیے زندگی ناپید..
    .
    ان برتوں میں ٹھنڈا گرم کرنے کی بیماریاں، ان میں صفائی کے بعد بھی جراثیم کی افزائش، اور تو اور اگر ان برتنوں کو ابالا جائے تو اندر سے مزید جراثیم زندہ ہو کر انسانی صحت کا نقصان کرتے ہیں.
    اس پلاسٹک کے عمل دخل کی بات کی جائے تو بچے کے منہ میں لگی چوسنی سے لے کر، 80 سالہ بابے کی چارپائی تک پلاسٹک کی بنی ہے.
    اب سوال یہ ہے کہ اس سے جان کیسے چھڑائی جائے؟
    ایک بات ذہن میں رکھیں اب اس پلاسٹک سے جان چھڑوانا ناممکنات میں سے ہے. البتہ اس کا استعمال 80 فیصد تک روکا جا سکتا ہے. اور یہ ہماری نسلوں کی بقا کے لیے کافی ہوگا.
    سب سے پہلی بات آگاہی، لوگوں کو جہاں پلاسٹک کے مضمرات بتانے کی ضرورت ہے وہیں کپڑے، شیشے اور مٹی کی فضیلت پر بھی لیکچرز دینے کی ضرورت ہے.
    .
    جس چیز کو رائج کرنا ہے اسے فیشن بنا دیں. شوبز، میڈیا کھلاڑی سب مل کر اس کو پروموٹ کریں.
    .
    دوسرا اہم کام یہ کریں کہ پلاسٹک بنانے والی فیکٹریوں کو کپڑے یا ایسے میٹیریل کے بیگ بنانے کے لیے فنڈز جاری کریں جو ماحول اور انسان دوست ہوں. تاکہ وہ ہنسی خوشی قوم کے لیے یہ خدمات سرانجام دیں
    .
    شہروں کے کوڑے کی ریفائنگ پر کام کریں. تمام پلاسٹک پگلا کر ایسی پراڈکٹس بنائیں جو دوبارہ مارکیٹ میں چلتی رہیں اور وہ چیزیں زمین یا پانی کی نذر نہ ہوں.
    .
    شاپر کا ریٹ بڑھا دیں، اور اسے کباڑ میں خریدنے اور بیچنے کی تجویز دیں. یوں پلاسٹک میٹیریل گلیوں نالیوں میں نہیں جائے گا. گھر کی خواتین ان بیگز کو سنبھال کر رکھیں. جس طرح لوہا، لیلن، سوکھی روٹیاں اور ہیل والی جوتیاں خراب ہو جانے کے بعد بھی سنبھالی جاتی ہیں. اور کباڑیے کو بیچ کر پیسے کمائے جاتے ہیں. اسی طرح استعمال شدہ پلاسٹک شاپر بھی بیچے اور خریدے جائیں
    .
    جب آپ یہ تمام اقدامات کر لیں گے تو پھر پلاسٹک بیچنے والوں کی باری آئے گی. اب یہاں پر بھی بتا دوں کہ اگر آپ مافیاز کو پکڑ نہیں سکتے تو آپ محض بوتل اور شاپر پر بھی یہی لکھ سکیں گے.. "خبردار..! پلاسٹک کا استعمال کینسر کا باعث ہے”
    جس طرح آپ سگریٹ پر ٹیکس لگا کر عام آدمی کے لیے اسے مشکل کر کے سمجھ رہے ہیں کہ تمباکو نوشی ختم ہو جائے گی اسی طرح شاپر کا معاملہ ہو گا. جس طرح سگریٹ جن کو لگ چکا ہے، ان کے لیے انتباہ، اور ٹیکس کوئی مسئلہ نہیں بلکہ آپ دن بہ دن تباکو بیچنے والوں کی کمائی میں اضافہ کر رہے ہیں. اسی طرح شاپر کے معاملے میں ہوگا. لوگ جس آسائش کے پیچھے چل پڑے ہیں، وہ چار پانچ روپے زیادہ خرچنے کو ترجیح دیں گے.
    .
    یہاں ایک بات یاد رکھیں کہ آجکل مارکیٹ میں مختلف اقسام کے بیگز آ رہے ہیں، جنہیں ماحول دوست ثابت کر کے مارکیٹنگ کی جا رہی ہے. مگر یہ بیگز کسی صورت بھی پلاسٹک بیگز جتنے فنگشنل نہیں. پلاسٹک بیگ میں آپ بہت سے اقسام کا میٹیریل ڈال سکتے ہیں. جبکہ ان بیگز میں مخصوص طرح کا میٹیریل ڈل سکتا ہے.
    یعنی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنی فنگشنلیٹی کے اعتبار سے بھی پلاسٹک بیگ کا کوئی ثانی نہیں.
    .
    عوام کو بھی چاہیے کہ ہر ممکن کوشش کرے کہ جہاں تک اس پلاسٹک بیگ سے بچ سکتی ہے بچے. جو پراڈکٹس کسی دوسری چیز میں لائی جا سکتی ہیں، ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں میں اسی چیز کو شاپر میں لانے سے پرہیز کریں. دودھ، دہی سالن جیسی پراڈکٹس کے لیے برتن. اور خشک پراڈکٹس کے لیے کپڑے کے تھیلے استعمال کریں. آپ سیدھی راہ پر ہونگے تو ملک بھی سیدھی راہ پر ہوگا. ٹھیک ہے پالیسیاں سرکار نے بنانی ہیں. مگر آپ کو اپنی جانب سے اقدامات کرنے پر کوئی روک نہیں. آپ خود باز آئیں اور اپنے جاننے والوں کو پلاسٹک سے پرہیز کا مشورہ دیں. اگر ہم بحیثیت قوم کسی نیک مقصد کے لیے خود کو پیش کر دیں تو یہ مافیاز خود بخود بھاگ جائیں گے. جنہوں نے ملک پاکستان کے سسٹم کو ہائی جیک کیا ہوا.

  • ”کشمیر!زبانی کلامی مذمت،مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں“   تحریر: محمد عبداللہ گل

    ”کشمیر!زبانی کلامی مذمت،مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں“ تحریر: محمد عبداللہ گل

    ہمارے وزیراعظم صاحب نے مصالحت کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ابھی کنٹرول لائن کی طرف مارچ نہ کریں۔ مجھے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جانے دیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ایٹمی طاقت ضرور ہیں لیکن کشمیر پر بھارت کو ظلم ڈھانے سے نہیں روک سکتے۔ ہم مذمت کر رہے ہیں لیکن دشمن کی مرمت سے ڈرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلسل کشمیری بھارتی درندہ صفت افواج کے پہرے میں ہیں۔ ڈیڈ لاک، کرفیو نے کشمیریوں کا جینا ہی نہیں مرنا بھی دشوار کر دیا ہے۔ بچے دودھ کے لئے بلک رہے ہیں، جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت ہے، بھارت کی بربریت و سفاکیت کی یہ انتہا ہے کہ ہسپتال پر بھی پہرے بٹھا رکھے ہیں۔ بیماروں کو علاج کروانے کے لئے ڈاکٹرتک نہیں جانے دیا جا رہا۔ پیلٹ گن سے زخمی ہونے والوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بھارت گاجر مولی کی طرح ہمارے کشمیری بھائیوں کو کاٹ رہا ہے ادھر ہمارے وزیراعظم صبر کی تلقین کر رہے ہیں انہیں جنرل اسمبلی میں خطا ب کرنے کا انتظار ہے اُن سے ہم یہ پوچھتے ہیں حق بجانب ہیں کہ تب تک کشمیریوں کو قصائی مودی کے ہاتھوں ذبح ہونے کے لئے چھوڑ دیا جائے اور ہندوستان کو بربریت و سفاکیت کی کھلی چھٹی دی جائے۔ جنت نظیر پر کافر قبضہ کرنے کی سازش میں مصروف ہے اور اسے اسلام دشمن طاقتوں بالخصوص امریکہ و اسرائیل کی آشیرباد حاصل ہے۔ اسرائیلی طرز پر کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے اور کشمیریوں کو یہاں سے نکالنے کے دشمن کے مذموم عزائم کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ وادی کا مسلم تشخص ختم کیا جا رہا ہے۔ 72 سال بعد پہلی بار سری نگر کے لال چوک میں کشمیر کا جھنڈا اتار کر بھارت کا ترنگا لگا یاگیا۔ اصل میں بھارت نے ہماری معذرت خواہانہ پالیسی کے جواب میں پیغام دیا ہے کہ دیکھو تم امن کی بھاشا بولتے رہو اورہم جنگ کی بھاشا کو نہیں چھوڑیں گے۔ آج کشمیر کو ہتھیا لیاہے کل تم نے اسی طرح کمزوری دکھائی تو ہم آزاد کشمیر کو بھی تم سے چھین لیں گے بلکہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ دھمکی دے چکا ہے کہ اب پاکستان سے آزاد کشمیر چھیننے کی باری ہے ایسے میں وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ہم امن کی داعی ہیں جنگ نہیں چاہتے مذاکرات سے حل چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امریکہ سمیت یورپی ممالک ہماری مدد کو آئیں گے اور بھارت کو سبق سکھائیں گے۔ سبق انہوں نے نہیں ہم نے سکھانا ہے۔ خلیجی ریاستوں نے تومودی کو مندر کا تحفہ دیکر اپنی پالیسی ہم پر واضح کردی ہے اب وزیراعظم اپنی کشمیر پالیسی پر ابہام دور کرتے ہوئے اس کی وضاحت فرمائیں قوم آپ کی مرہون منت ہوگی۔ادھر تو یہ عالم ہے کہ چالیس روز سے زیادہ ہو گئے ہیں اور ہم ایک دن کا بھی کرفیو نہ اٹھا سکے نہ ہی بھارت کے لئے فضائی حدود بند کی اور نہ اس سے تجارتی بائیکاٹ کیا اور نہ ہی افغان ٹریڈ بند کی۔ ہم کس معجزے کے انتظار میں ہیں آسمان سے ابابیلیں نہیں اتریں گیں کہ جو کفار کو عبرت ناک شکست دیں۔ ہمیں کشمیر کی آواز کے لئے اعلان جنگ کرنا ہوگا۔ ہماری شیر صفت بہادر افواج ان پرایسے ٹوٹے گی کہ نیست و نابود کر دے گی۔وزیراعظم عمران خان سن لیں! اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی عوام کی امنگوں کے مطابق نہ اپنائی تو قوم ان پالیسی سازوں کا دھماکہ کر دیگی۔ پاکستان کو قدرت نے طالبان امن مذاکرات کی صورت میں ایک سنہری موقع دیا تھا کہ ہم امریکہ سے اپنی شرائط پر دونوں کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوتے مگر حکومت تو امریکہ کی اس پیشکش پر پھولی نہیں سما رہی تھی کہ طالبان مذاکرات کی مزید پر لانے کے لئے امریکہ نے ہم سے مدد طلب کی ہے اور وہ پکے ہوئے پھل کی طرح امریکہ کی جھولی میں جاگرے۔ ہائر کوالیفائیڈ، فارن ریٹرن وزیراعظم کی کابینہ و پالیسی سازوں کو یہ سوچنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی کہ کم از کم امریکہ سے طالبان سے ثالثی کے عوض ہی منوا لیا جاتا کہ پہلے بھارت کشمیر سے اپنی فوج نکال لیں۔ مگر یہاں تو امریکہ یاترا کی واپسی پر پاکستان کی شہ رگ ہی کاٹ دی گئی۔ اگر شہ رگ کٹ جائے تو جسم زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہتا۔ اس کی زندگی کا واویلا شہ رگ پر ہی ہوتا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے 5 اگست 2019ء کو پاکستان کوایک دفعہ پھر دولخت کر دیا گیا۔ اب غیرت مند لوگوں کو چاہئے کہ وہ علم جہاد بلند کریں ہماری افواج کا نعرہ ہے ایمان تقویٰ فی سبیل اللہ کس کا نعرہ ہے۔ افواج پاکستان نے بتا دیا ہے کہ ہم ہر سطح تک جانے کئے تیار ہیں اب یہ فیصلہ سول حکومت نے کرنا ہے۔ خدارا ٹیپو سلطان بنیں۔ ”ٹویٹ سلطان“ نہ بنے۔ ٹویٹر اور فیس بکوں پر جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں۔ وزیراعظم صاحب کمزوری مت دکھائیں خوف کی بنیاد پر پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔ کشمیر تکمیل پاکستان کا ادھورا ایجنڈا ہے۔ کشمیریوں کے اوپر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں آپ سلامتی کونسل میں اجلاس کے انعقاد، رپی یونین کے اجلاس میں کشمیر کے ذکر کو ہی سفارتی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ مان لیا جائے کہ سفارتی محاذ پر ہمارے حصے میں صرف ناکامی آئی ہے جبکہ عسکری محاذ پر ابھی تک کوئی واضح حکمت عملی ترتیب نہیں دی جا سکی۔ الحمد للہ! ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں اور یہ ایٹم بم ہم نے ہندوستان اور اسرائیل کے لئے ہی بنایا ہے۔ کشمیر کی خاطر جس حد تک جانا پڑا ہم جائیں گے۔ مشکل کی اس گھڑی میں ان کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہ گزشتہ 72 سالوں سے آزادی کی راہ میں خون بہانے والے کشمیریوں کے لہو سے غداری ہوگی اگر اسرائیل کو تسلیم کیا آخر اتنی جلد بازی کیوں ہے؟ کیا اسرائیل کے بغیر زندہ نہیں رہا جا سکتا؟؟؟
    حالات تیزی سے پاکستان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔ مودی کی سازش کو ناکام بنانے اور کشمیر سے نکالنے کا ایک ہی واحد آپشن ہے وہ ہے جہاد اور اگر حکومت نے یہی بزدلانہ روش اختیار کئے رکھی تو قیامت کا دن ہوگا کشمیریوں کے ہاتھ ہونگے اور ہمارا گریبان ہوگا اس لئے ہمیں کچھ کرنا چاہئے اس وقت کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم ایک پیج پر ہے لیکن حکومت اور ادارے ہوش کے ناخن لے رہے یہ تشویشناک صورتحال ہے قوم میں مایوسی کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے غفلت دکھائی تو یاد رکھیں ہندوستان کا بارڈر اسلام سے صرف 22 کلومیٹر دور رہ جائے گا۔ دراصل بھارت کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک لوکل موومنٹ ہے اسی لئے حالیہ اقدامات اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا۔ انڈیا کے فوجی دستے کشمیریوں کے گھر گھر میں گھس کر قتل عام کررہے ہیں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فوجی اقدامات بروئے کار لائیں جائیں صرف سفیر کی طلبی یا اُسے نکالنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں آگے جانا ہوگا۔ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے خطرناک عزائم میں کامیاب ہو گیا تو وہ یقیناً آزاد کشمیر پر حملہ کرے گا اس حملے کی صورت میں وہ ثالثی کی کوششیں سامنے آئیں گی جن کا ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے سامنے اظہار کیا تھا ہمیں مصلحت کی پالیسی مسترد کر کے سخت ردعمل اختیار کرنا ہوگا۔بابائے قوم قائداعظم نے فوج کو کشمیر کی طرف جانے کا حکم دیا تھا جسے جنرل ڈگلس گریسی نے ماننے سے انکار کردیا تھا آج پھر اسی حکم پر عمل درآمد ضروری ہو گیا ہے۔

  • خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پشاور نے ایم بی بی ایس سال اول کے داخلوں کا اعلان کردیا

    خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پشاور نے ایم بی بی ایس سال اول کے داخلوں کا اعلان کردیا

    پشاور (اے پی پی) خیبرمیڈیکل یونیورسٹی نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس سال اول کے داخلوں کا اعلان کردیا‘ چیئرمین جوائنٹ ایڈمشن کمیٹی کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔ حافظ قرآن ٹیسٹ 7 اور 8 اکتوبر کو ہوگا‘ عبوری میرٹ لسٹ 15اکتوبر جبکہ فائنل 23 اکتوبر کو جاری کی جائے گی، داخلے 25 اکتوبر سے 13نومبر تک ہوں گے۔

  • سرگودھا اور گجرات میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی

    بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سرگودہا کے زیر اہتتمام یکجہتی کشمیر ریلی
    https://youtu.be/AxGIiOiUXZM
    ڈپٹی کمشنر گجرات اور پرنسپل گورنمنٹ زمیندار ڈگری کالج گجرات کی زیر قیادت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف گورنمنٹ زمیندار کالج کے طلبہ کی احتجاجی ریلی

    گجرات سے ہمارے بیوروچیف طارق محمود کے مطابق آج ڈپٹی کمشنر گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد اور پرنسپل گورنمنٹ زمیندار ڈگری کالج گجرات غلام عباس زیر قیادت گورنمنٹ زمیندار ڈگری کالج گجرات کے طلباء نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کے لیے ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی کے شرکاء نے بھارتی حکومت کیخلاف زبردست نعرے بازی کی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد نے کہا کہ طلبہ کا کشمیریوں سے محبت کا جذبہ قابل تحسین ہے ۔ وہ وقت دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا ۔ وزیراعظم عمران خان آج مظفر آباد میں کشمیریوں کی آواز بنیں گے ۔

  • مظفرگڑھ: کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور کی قیادت میں ریلی

    مظفرگڑھ: کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور کی قیادت میں ریلی

    مظفرگڑھ: ریلی گورنمنٹ جامع ہائی سکول سے جھنگ موڑ چوک تک نکالی گئی ریلی میں ہزاروں طلباء،اساتذہ،پولیس،ریسکیو اہلکاروں اور شہریوں کی شرکت
    https://youtu.be/oy9O4oVgeHU
    کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے.ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور

  • اقوام متحدہ کی مکاریاں اور دہرا معیار !!! تحریر عبدالرحمن مبشر

    اقوام متحدہ کی مکاریاں اور دہرا معیار !!! تحریر عبدالرحمن مبشر

    آج کا وقت اپنے آپ کو دوہرا رہا ہے جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا ایک بہت بڑی تباہی سے گزر کر امن تلاش کرنے میں مصروف عمل ہوئی۔ دنیا میں طے پانے لگا کہ اب جنگوں کی بجاے امن کے راستے کو اختیار کیا جائے اقوام متحدہ کا ادارہ معرض وجود میں آیا۔ تمام ممالک کو شامل کیا جانے لگا۔26 اکتوبر 1945 میں قائم ہونے والے یو این او کے وہ کردار جو اپنے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آرٹیکل 2 کے تحت تمام ممالک کو برابری کی حیثیت حا صل ہو گی۔ تمام دنیا کے ممالک کو جنگوں سے محفوظ کیا جائے گا۔یو این او کی مکاری اور ظلم پر مبنی ضابطے آج فلسطین پون صدی کا قصہ بن چکا نسلوں کی نسلیں گزر گئی ان کا کردار صفررہا۔ اس موقع پر یو این کاکردار اسرئیل کی لونڈی کا ہے۔نوے کی دہا ئی میں امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا اس کے بعد دوبارہ بیس سو دس کی دہائی میں دوسرا حملہ کر دیا یو این کی نیٹو فورسزنے پورا کردار ادا کیا اور امریکہ کے شانہ بشانہ لڑے ۔روس نے 1979 میں افعانستان میں فو جیں داخل کر دیں یو این او نے گونگے شیطان کا کردار ادا کیا۔ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی پچھلے ستر برس سے جاری ہے موجودہ دور کے جدید میڈیا نے اس یو این کا پول کھول دیا کہ لاکھوں انسان قتل کر دیے گئے مگریو این اوتماشائی بنا رہا، شام اجڑ گیا مگر اس یواین کی ایک دن بھی غیرتنہیں جاگی، بوسنیا میں لاکھوں افراد کا اجتماعی قتل عام کر کے انسانوں کو زندہ اس لیے گاڑ دیا گیا کہ کہ وہ مسلمان تھے 1527 عیسوی میں بننے والی بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 ء میں منہدم کر دیا گیا پورے ہند وستان میں فسادات شروع ہو گئے صرف گجرات میں 28 ہزرا مسلمانوں کابے دردی کے ساتھ قتل عام کیا گیا آج یو این ایسے شحص کو گجرات کا جو قصائی نازی ہٹلر تھا اور جو قتل عام مین پیش پیش تھا اسے وزیر اعظم تسلیم کرلیتی ہے۔ یو این منہ چڑہاتی رہ گئی 84 ء میں آپریشن بلیو سٹار کیا گیا معصوم اور نہتے لوگوں کو سرعام ٹینکوں کے گولوں کا نشانہ بنایا گیا یو این او یہاں مائی میسنی کا کردار ادا کرتی رہی، عراق میں امریکی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ ہے فلسطین میں اسرئیل کی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والے مسلمانوں تعداد 5 لاکھ ہے، افغانستان میں امریکی اور روسی دہشت گردوں کے ہا تھوں مرنے والے مسلمانوں کی تعداد 21 لاکھ ہے،شام میں ایک اندازے کیمطابق 2 لاکھ پچاس ہزار افرد مارے گئے 80 لاکھ لوگ مہاجر ہیں کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔کشمیر میں 47ء سے اب تک 4 لاکھ لوگ دہشت گردی کیبھینٹ چڑھ گئے۔ اب تک پچھلے 35 سالوں میں چالیس لاکھ مسلمان شہید کردیے گئے اور اقوم متحدہ کا کردار اور فیصلہ کیا مسلمان دہشت گردہیں دنیا کے مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا اوراس دھوکے سے باہر نکل کر اپنے مسائل کے کے لیے مل بیٹھنا ہو گا اپنی علیحدہ یو این او بنانا ہوگی۔ یہ والی یواین او دنیا کے عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے ہے انہی کے مسائل حل کرتی ہے۔ مشرقی تیمور ہو جنوبی سوڈان آج کشمیر میں چالیسواں دن ہے کرفیوکا یہ کرفیوں عیسائیوں کے کسی ملک میں لگا ہوتا آج یو این کی نیندیں حرام ہوتیں۔ آج کوئی ایسا لمحہ نہیں کہ وزیراعظم عمران خان او ر انکی ٹیم ہمہ وقت ۰۴دن یو این کو صدا دے رہی ہے مگر طاقتوروں کی لونڈی کان دھرنے کے لیے تیارہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے کمزور لوگوں کو بڑا فیصلہ کرناہوگا اور کمزوروں کومل کر ایک بڑی قوت بننا ہوگا جو عالمی ظالم سامراجی قوتوں سے ٹکرا کر اسے پاش پاش کردے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر27 ستمبر سے پہلے پہلے کشمیر میں کرفیو ہٹا کر ان کے بنیادی حقوق بحال نہیں کیے جاتے تو یو این او کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کریں۔جب اس یو این او نے مسئلہ حل ہی نہیں کرنا وہاں جا کر صرف تقریر کر کے آجانا ہے تو بائیکاٹ بہتر ین پیغام ہو گا کر کے دیکھ لو جن کے پیچھے آپ بھاگ رہے ہیں یہ چل کر آپ کے پاس آئیں گے۔

  • قوم پرستی اب کشمیر کو نگلنے کے لیے بے تاب  تحریر: عبدالرحمن

    قوم پرستی اب کشمیر کو نگلنے کے لیے بے تاب تحریر: عبدالرحمن

    کشمیر میں چند قوم پرست میڈیا کی توجہ مبذول کرنے اور فری کشمیر کے مردہ ڈھانچے میں دوبارہ جان ڈالنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں اور اپنی سیاست کشمیریوں کے خون سے چمکانے کے لیے بے تاب ہیں اور نہتے لوگوں کو لائن آف کنٹرول کو کراس کرنے پر اکساکر ایک سفاک دشمن کے سامنے کھڑا کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو ماضی میں خونی لکیر روندنے والوں کے خلاف رہے ہیں اور انہیں کشمیر کا دشمن گردانتے آئے ہیں ان لوگوں کے نعروں اور باتوں سے ان کی پاکستان کے خلاف نفرت بالکل واضح ہے اور حسب سابق تمام ریاست مخالف عناصر ان کی حمایت میں سرفہرست نظر آرہے ہیں
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ کوئی نہ کوئی گروہ پاکستان میں اچانک سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور وہ ریاست کو للکارنا شروع کر دیتا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرکے اپنے ساتھ ملانے میں بھی بظاہر کافی حد تک کامیاب نظر آتا ہے باقی گروہوں سے صرف نظر کرتے ہوئے فی الوقت ہم کشمیری قوم پرستوں کو اگر دیکھیں تو ہمیں یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ پروپیگنڈہ ہمیشہ کسی سچے یا جھوٹے واقعہ یا سانحہ کی بنیاد پر ہوتا ہے

    کشمیر کے موجودہ حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور ہر پاکستانی کشمیر کے معاملے پر انتہائی غمزدہ اور غصے میں ہے
    اور تقریباً ہر پاکستانی ہی کشمیر پر موجودہ حکومتی اقدامات کو سابقہ سے تو کچھ بہتر مگر ناکافی ہی سمجھتا ہے اور وہ اس بات حق بجانب ہے کہ اب تک اگر ہم یہ کہیں کہ موجودہ حکومت دنیا کی توجہ کشمیر کی جانب کرانے میں کچھ کامیاب تو نظر آرہی ہے لیکن 5 ہفتوں سے کرفیو میں سسکتے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کشمیریوں کو رتی برابر بھی سہارا یا ریلیف دلانے میں ناکام رہی ہے
    کیا ہماری شہ رگ کا صرف یہی تقاضا ہے کہ ہم اسے کچلتے ہوئے دیکھ کر صرف اور صرف اقوام عالم اور غیبی امداد کے منتظر نظر آئیں

    ہم آخری حد تک جانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ہم نے اب تک ابتدا بھی کی ہے..؟ یقیناً آخری حد سے مراد جنگ ہی ہے لیکن کیا ہم نے بھوکے کشمیریوں کو راشن دلانے کے لیے کوئی شروعات کی ہے!؟
    کیا ہم نے بیماروں کے لیے ادویات پہچانے کے لیے کوئی اقدامات کیے ہیں!؟
    یہ تو بنیادی انسانی حقوق ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان سے پاکستان کا "سوفٹ امیج” بھی خراب نہ ہوگا اور اگر ہم یہ بھی نہیں کر پارہے تو ہمارےپاس اس کے نتائج بھگتنے اور ہاتھ مسلنے کے علاوہ کچھ نہیں رہے گا

  • مقبوضہ وادی میں کرفیو کے انتالیس دن پاکستانی خواتین کیا کریں؟؟؟ تحریر خنیس الرحمن

    مقبوضہ وادی میں کرفیو کے انتالیس دن پاکستانی خواتین کیا کریں؟؟؟ تحریر خنیس الرحمن

    آج وادی کشمیر میں کرفیو کو ایک ماہ سے زائد دن بیت چکے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا عوامی سطح پر لوگوں میں کشمیریوں کے لئے تڑپ پیدا ہوئی۔کیوں نا ہوتی کشمیرتو ہماری شہ رگ ہے۔کشمیرکے بغیرتو پاکستان ہی نامکمل ہے۔کشمیر سے تو ہمیں دینی محبت ہے۔وہ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں اورہیں بھی تو پھر ہم کیوں نا ان کے لیے تڑپیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کشمیر آور منانے کا اعلان کیا اسلام آباد سے لیکر کراچی تک پورا پاکستان وزیر اعظم کی کال پر باہر نکلا۔میں نے بذات خود اس چیز کو محسوس کیاکہ سب پاکستانی مسلکی و جماعتی تعصبات سے نکل کر سڑکوں پر نکلے۔اب بھی ہمیں خاموش رہنے کی ضرورت نہیں کشمیر میں ابھی تک ایک ماہ گزرنے کے باوجود کرفیو نہیں ہٹایا گیا۔ہمیں مزید تحریک کو تیز کرنا ہوگا۔
    آپ جانتے ہیں کہ ہر تحریک میں خواتین کا کلیدی کردار رہا ہے۔اگر آپ آج سے چودہ سو سال پیچھے چلے جائیں تو اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی آپ کو کثیر تعداد نظر آئے گی۔سمیہ بنت خباط ؓ سے لے کر اندلس کی اس بیٹی تک جس کے بارے اقبال رحمہ اللہ علیہ کچھ یوں منظر کشی فرماتے ہیں
    یہ سعادت،حور صحرائی!تری قسمت میں تھی
    غازیان ِدیں کی سقائی تری قسمت میں تھی
    جب پاکستان بنا تو اس وقت بھی خواتین نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے آزادی کی بھرپورتحریک چلائی۔خواتین کے اس کارواں میں موجود مادر ملت فاطمہ جناح،بیگم محمد علی جوہر،بیگم رعنا لیاقت علی،بیگم سلمی تصدق حسین ودیگر خواتین کو آج بھی تاریخ کے اوراق میں یاد رکھا جاتا ہے۔قوم ان کی خدمات پر فخر کرتی ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں پاکستان ابھی نامکمل ہے کیونکہ اس کی شہ رگ بدن سے جدا ہے۔آج کشمیر کے اندر بھی آزادی کے لیے خواتین کا کردار کسی سے مخفی نہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی آج مردوں کے شانہ بشانہ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔آسیہ اندرابی صاحبہ ایک ایسے مرد مجاہد کی رفیقہ حیات ہیں جس نے اپنی آدھی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزار دی۔آسیہ اندرابی صاحبہ نے بھی اپنی زندگی کشمیر خواتین کی اصلاح اورتحریک آزادی کے لئے وقف کر رکھی ہے۔وہ کشمیر کی سب سے متحرک تنظیم دختران ملت کو چلا رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں کئی سیاسی و دینی جماعتوں نے کروٹیں بدلیں اپنے نظریات بدلے لیکن آسیہ اندرابی صاحبہ پہلی خاتون لیڈر ہیں جو آج بھی اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑی ہیں۔وہ 6ستمبر،یوم آزادی و یوم تجدید عہد اور ہر قومی دن پر دختران ملت کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تقریب کا اہتمام کرتی ہیں. جہاں پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے. پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے. بھارت سے یہ کہاں ہضم ہوتا ہے وہ آپا آسیہ اندرابی اور ان کی قیادت کو زندانوں می ڈال دیتا ہے. لیکن وہ باہمت خاتون پیچھے ہٹنے والی نہیں, جھکنے والی نہیں ڈٹ کر کھڑی ہے. آج انہوں نے خواتین کی ایسی کھیپ تیار کرلی ہے جو ہاتھوں میں پتھر تھامے بھارتی افواج کے سامنے سینہ سپر ہے. کشمیر کی ناجانے کتنی مائیں, بہنیں اور بیٹیاں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکی ہیں.میں سلام پیش کرتا ہوں کشمیر کاز کے سب سے بڑے حمایتی جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی کو جنہوں نے یہ بیڑہ اپنے سر اٹھایا ہے کہ پاکستانی خواتین کو یہ پیغام دیا ہے اگر کشمیر کی بیٹی کرفیو میں نکل سکتی ہے, اگر کشمیری ماں بھارتی فوج کے خوف کے باوجود باہر نکل سکتی تو پاکستان کی ماں, بہن اور بیٹی کیوں نہیں نکل سکتی. جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی عظمٰی گل صاحبہ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میری سب مائیں اور بہنیں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے 13 ستمبر کو 4 بجے ڈی چوک پہنچیں. میں سمجھتا ہوں پاکستان کی ہر بہن, بیٹی اور ماں کو ان کی خاطر نکلنا ہوگا جن کو پاکستان کی آواز اٹھانے پر پابند سلاسل کردیا جاتا ہے .ہم نکل کر دنیا کو یہ پیغام دیں کہ ہماری مائیں اور بہنیں کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور دنیا واقعی دیکھے کہ جاگ اٹھا ہے پاکستان…!

  • کیا حقیقت کیا افسانہ "مقبوضہ کشمیر امت مسلمہ اور پاکستان” تحریر:  فیصل ندیم

    کیا حقیقت کیا افسانہ "مقبوضہ کشمیر امت مسلمہ اور پاکستان” تحریر: فیصل ندیم

    کشمیر آج ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے, کشمیر ایک ایسا نام کہ جس کے ساتھ پاکستان کا ہر دل دھڑکتا ہے, بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور آج یہ شہہ رگ ظالم و جابر دشمن کے ہاتھ میں ہے آج ایک ماہ ہونے کو آیا ہے کشمیر کرفیو کے شکنجے میں ہے کشمیر کی ہر گلی ہر محلے میں آج بھارتی فوج موجود ہے. کشمیریوں کیلئے خوراک ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت بند ہیں گھر سے نکلنے کا ایک مطلب ہے گرفتاری ۔
    آٹھ سے اسی سال کے لوگ گرفتار ہورہے ہیں.
    زخمی اور بیمار ہاسپٹل منتقل نہیں کئے جاسکتے وہاں بھی بھارتی درندے اپنے پنجے تیز کئے موجود ہیں ہاسپٹل جانے کا مطلب بھی گرفتاری ہے ۔۔۔۔
    محترم بھائیواپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو اس طرح ظلم کی چکی میں پستا دیکھ کر ہر پاکستانی مضطرب ہے ہر پاکستانی کے لبوں پر سوال موجود ہے کیا کشمیر پاکستان سے ہمیشہ کیلئے چھین لیا گیا ہے ؟؟؟
    آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمہ سے یقینی طور پر یہی سمجھا جارہا ہے ہر طرف سقوط کشمیر کی باتیں ہیں ہر زبان کشمیر کا نوحہ پڑھتی دکھائی دے رہی ہے لیکن یہاں تھوڑا سا رک کر بعض امور کا جائزہ لینا ضروری ہے.
    آرٹیکل 370 اور 35 اے کشمیر کو بھارتی آئین کی رو سے خصوصی حیثیت دلواتا ہے اس آرٹیکل کی موجودگی میں کوئی غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا کسی غیر کشمیری کو کشمیر میں نوکری نہیں مل سکتی کشمیر کا اپنا جھنڈا اپنا آئین ہے کوئی بھارتی حکومت کشمیریوں کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ ان پر مسلط نہیں کرسکتی ان تمام تر سہولیات کو دیکھتے ہوئے سمجھ یہی آتا ہے کہ اگر آرٹیکل 370 اور 35 اے اگر ختم کردیا گیا تو کشمیر کی حیثیت بھارت کی ایک ریاست کی سی ہوجائے گی یہاں غیر کشمیریوں کی زبردست یلغار ہوگی جس کے ذریعہ یہاں آبادی کا تناسب بدل دیا جائے گا اور یوں مستقبل میں ہر وہ راستہ جو آزادی کشمیر اور الحاق پاکستان کی طرف جاتا ہوگا بند ہوجائے گا
    اس پوری صورتحال پر بحث کرنے سے پہلے ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ حالات کا دھارا کبھی بھی بندوں کے ہاتھ میں نہیں رہا یہ ہمیشہ بندوں کے رب کے ہاتھ میں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی اور حال بڑے بڑے عروج زوال کی جانب جاتے دکھائی دیتے ہیں بڑے بڑے سمجھدار لوگوں سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ان کی یہ غلطیاں ان کی پوری قوم کے زوال کا سبب بنتی ہے ایسا ہی کچھ نریندر مودی کے ساتھ بھی ہوا ہے بھارت کے گورباچوف مودی سے ایک ایسی غلطی ہوچکی ہے جو ابتدا میں کشمیر کی آزادی اور پھر بھارت کی بربادی کا سبب بننے والی ہے.
    کیا حالیہ دنیاوی تاریخ کو تھوڑا سا جاننے والا کوئی فرد انکار کرے گا کہ مسئلہ کشمیر دنیا کی نظروں میں اپنی اہمیت کھو بیٹھا تھا اقوام متحدہ جو اپنی قراردادوں کی رو سے اس مسئلہ کے حل کی ذمہ دار تھی اس مسئلہ کو ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینک چکی تھی کیا آرٹیکل 370 اور 35 اے سات لاکھ بھارتی فوج کے کشمیریوں پر بہیمانہ ظلم میں رکاوٹ تھی یقیناً نہیں ۔۔۔
    یاد کریں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا تھا لگتا یوں تھا سارا معاہدہ کفار مکہ کے حق میں ہے لیکن یہی معاہدہ جزیرة العرب میں کفار کے زوال اور مسلمانوں کے عروج کا سبب بنا تھا اس زمانے میں قبیلے بنو خزاعہ اور بنو بکر بھی اسی علاقہ میں بستے تھے بنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف تھا تو بنو بکر کفار مکہ کا ۔ صلح حدیبیہ کی رو سے ان دونوں قبیلوں کی جنگ کی صورت میں مسلمانوں اور کفار مکہ پر لازم تھا کہ وہ اپنے حلیف کی مدد نہ کریں لیکن کفار مکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے حلیف بنو بکر کی مدد کی اور یوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موقع ملا کہ وہ دس ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو لیکر آگے بڑھیں اور مکة المکرمہ سے کفر و شرک کی ہر علامت کو مٹادیں واللہ یہی صورتحال آج بھی ہے کل کے مشرکین مکہ کی طرح آج کے مشرکین ہند نے مدینہ ثانی پاکستان کو اسی طرح موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بھی بتکدہ ہند پر اسی طرح چڑھائی کرے جس طرح کل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی.
    سقوط کشمیر کی بات کرتے پاکستانی دودھ کے جلے ہیں اس لئے چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں ان کے ذہنوں میں آج بھی سقوط مشرقی پاکستان زندہ ہے اس لئے ان کے دل ڈرے ہوئے ہیں.
    لیکن یہاں سمجھنا چاہئے مشرقی پاکستان ابتدا سے پاکستان کا حصہ تھا وہاں پاکستان کی حکومت پاکستان کا انتظام تھا پاکستانی فوج مشرقی پاکستان کی حفاظت پر مامور تھی اور جب بھارتی حکومت نے سازشوں کے جال بچھا کر اسلام اور پاکستانیت کو پیچھے کیا لسانیت و علاقائیت کو فروغ دیا تو اس طرح کے رخنے ہمارے اور مشرقی پاکستان کے بیچ پیدا ہوئے جہاں سے دشمن کو ہمارے بیچ سرائیت کرنے کا موقع ملا اور اس نے ہمارے بیچ نفرتیں پیدا کرکے ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ دیا لیکن کشمیر کی صورتحال مختلف ہے یہاں تقسیم ہند کے وقت سے ہندوستان کی فوج اور ہندوستان کا انتظام موجود ہے کل یہ فوج سات لاکھ تھی آج کچھ اضافے کے ساتھ سات لاکھ اڑتیس ہزار ہوگئی ہے آرٹیکل 370 کو نہ پہلے کسی نے مانا تھا ( پاکستان ، حریت کانفرنس ، کشمیری مجاہدین ) نہ آج کوئی تسلیم کر رہا ہے
    یاد کیجئے کچھ دن قبل بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی ہی قائم کردہ کٹھ پتلی حکومت کو ختم کرکے گورنر راج لگایا تھا وجہ صرف ایک سیاسی حکومت تحریک آزادی کشمیر کو روکنے میں ناکام ہوچکی تھی اب گورنر راج سے اگلا قدم اٹھایا ہے تو اس کی وجہ بھی بنیادی طور پر کشمیریوں کے جذبہ حریت کے سامنے بھارت کا اعتراف شکست ہے
    کیا اس حقیقت سے آج کوئی بھی باشعور فرد انکار کرسکتا ہے کہ مودی کے اس اقدام سے مسئلہ کشمیر ایک بار پھر دنیا کی نظروں میں زندہ ہوگیا ہے اقوام متحدہ کب کا مسئلہ کشمیر کو دفن کر چکی تھی لیکن آج چون سال بعد کشمیر پھر سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آ چکا ہے کیفیت یہ ہے کہ سارا انٹرنیشنل میڈیا میں بھارت پر تھو تھو کی جارہی ہے یورپی پارلیمنٹ برطانوی پارلیمنٹ امریکی اراکین کانگریس سمیت ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں میں کھلے عام بھارت پر تنقید ہورہی ہے بھارت جو بڑے فخر یہ انداز میں اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا تھا آج پوری دنیا میں ایک فاشسٹ ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے بھارتی سنگھ پریوار کی انتہا پسندی کی داستانیں ساری دنیا میں زبان زد عام ہیں عرصہ دراز بعد دنیا نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی سفارت کاری کا جارحانہ رخ دیکھا ہے.
    اس پوری صورتحال میں ایک سوال جو کانٹے کی طرح پاکستانیوں کے دلوں میں کھٹکتا ہے وہ یہ ہے کہ کشمیریوں پر بہیمانہ تشدد دیکھنے کے باوجود دیگر مسلم ممالک کا طرزعمل کیا ہے وہ پاکستان کے ساتھ آکر کیوں نہیں کھڑے ہوتے اس کا سب سے آسان جواب یہ ہے کہ آج دنیا میں تمام ممالک سب سے پہلے اپنا مفاد دیکھتے ہیں پھر کسی اور کا یہی وجہ ہے کہ مفادات کی ڈور میں بندھے مسلم ممالک بالعموم اور عرب ممالک بالخصوص مسئلہ کشمیر پر کھل کر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے سے قاصر ہیں اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ جو غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ اپنے تحفظ کیلئے دنیا سے بھیک مانگتے ان ممالک میں سے کون سا ملک ایسا ہے جو پاکستان کی خاطر خواہ مدد کرنے کے قابل ہے مشرق وسطی میں ایک چھوٹے سے رقبہ اور قلیل آبادی کا حامل ملک اسرائیل ان تمام ممالک کے سینے پر چڑھ کر انہیں رگیدتا دکھائی دیتا ہے پھر بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ آکر پاکستان کا دفاع کرنا شروع کردیں ان تمام ممالک میں سب سے بری صورتحال متحدہ عرب امارات کی ہے جس نے عین اس وقت کہ جب پاکستان بھارت کے بیچ طبل جنگ بجنے کو ہے بھارتی دہشتگرد وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے پاس بلا کر اپنے سب سے بڑے سول ایوارڈ نواز دیا امارات کے اس عمل کو پاکستانیوں نے اپنے ساتھ کھلی دشمنی سے تعبیر کیا اور عوامی سطح پر اس حوالہ سے سخت غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے.
    بہت سارے لوگ جو اس کیفیت میں پاکستان کے امت کیلئے کردار پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں ان سے ایک سوال تو بنتا ہے کہ وہ ملک جس نے اپنی معیشت کی بنیاد ہی بدکاری پر رکھی ہو ساری دنیا کے لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے ہر طرح کے برائی کے اڈے اپنی سرزمین پر بنائے ہوں جن کی زندگی کا واحد مقصد کسی بھی طرح کا حربہ اور طریقہ اپنا کر اپنی عیاشی کو تحفظ دینا ہو وہ کیسے امت کیلئے کوئی تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے.
    یاد رکھیں پاکستان وہ ملک ہے جس نے اپنی ابتدا سے اپنے لئے کٹھن راستے کا انتخاب کیا ایک طرف عین مسلم ممالک کے بیچ ایک ناجائز ریاست اسرائیل قائم کی جارہی تھی اور وہ اف تک نہ کر سکے تھے تو دوسری طرف اپنے قیام کے ابتدائی مہینوں میں ہی کمزور ترین پاکستان کشمیر کے محاذ پر اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کو للکار رہا تھا ایسے وقت میں کہ جب کشمیر میں بھارت نے اپنی فوجیں داخل کی تھیں اور پاکستان کی افواج کا انگریز کمانڈر جنرل گریسی کسی بھی قسم کے اقدام سے گریزاں تھا تو اسٹیٹ پالیسی کے طور پر قائداعظم محمد علی جناح نے جہاد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کا ایک بڑا حصہ آزاد کروایا تھا وہ نہرو جو کل پاکستان کو ایک کمزور ریاست قرار دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ پاکستان شبنم کے قطروں کی مانند ہے جو سورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہوجائے گا آج اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر جنگ بندی کی دہائیاں دے رہا تھا.
    یہ پاکستان تھا کہ جس ستمبر 1965 میں اپنے سے کئی گنا عددی اور عسکری قوت رکھنے والے ملک کے دانت کھٹے کیے تھے یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے انیس سو اکہتر میں اپنا ایک بازو گنوایا لیکن اس کی بھی وجہ ہندوستان کی بہادری نہیں ہمارا باہمی انتشار تھا لیکن ہم نے ہتھیار نہین ڈالے اور اپنی جنگی صلاحیتوں میں اضافے کی کوشش کرتے رہے دشمن کی ساز شوں کے جال میں پھنس کر زخم زخم ہونے والے پاکستان نے اپنے زخموں سے اٹھنے والی ٹیسوں کو اپنا ہتھیار بنایا تھا اور مستقبل میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے مقابلہ کی تیاری کرتے ہوئے ایٹم بم بنانے جیسے عظیم کارنامے کو سرانجام دیا تھا.
    ایسے وقت میں کہ جب دوسرے اسلامی ممالک اپنے اپنے ملکوں میں عیاشی کے اڈے کھول رہے تھے بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنانے میں مصروف تھے پاکستان دنیا کا بہترین میزائل سسٹم تشکیل دے رہا تھا پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک تھا جو دفاعی خود کفالت کی منزل کے حصول کیلئے محنت کرتے ہوئے لڑاکا طیارے جدید ٹینک بکتر بند اور دیگر اسلحہ تیار کررہا تھا.
    یہ پاکستان ہی تھا کہ جس نے سرخ ریچھ سوویت یونین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارا تھا ایسے وقت میں جب دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں روس کی خوف سے کانپ رہی تھی پاکستان نے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اسے شکست فاش دیکر کتنی مسلم اور غیر مسلم ریاستوں کی آزادی کا سامان کیا تھا.
    نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکہ کی آمد کے بعد ساری دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ پاکستان ختم ہونے کو ہے یہ پاکستان تھا کہ جس نے بظاہر اپنی مستقل حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے یوٹرن لیکر امریکہ سے تعاون کا فیصلہ کیا تھا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ صرف اپنی صفیں درست کرنے کیلئے تھا ہر گزرتا دن افغانستان میں امریکہ کیلئے مشکلات میں اضافے کا باعث تھا امریکہ کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر اترنے والے اتحادی ایک ایک کرکے گھر دوڑ رہے تھے جبکہ سپر پاور امریکہ اپنی سپرپاوری بچانے کیلئے میدان میں کھڑا ہونے پر مجبور تھا لیکن مسلسل گرنے والی لاشوں اور اخراجات کے بھاری بھرکم بوجھ نے امریکی سپرپاور کو بھی آخرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اس جنگ کو جیتنے والے بظاہر افغان طالبان تھے لیکن جن کے ساتھ بیتی تھی وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس جنگ میں ان کا اصل حریف کون تھا فاکس نیوز کو دیا گیا امریکی جنرل ڈیمپسی کا انٹرویو سننے کے قابل ہے جس میں امریکی سورما سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے عراق اور شام میں داعش کو شکست دیدی لیکن افغانستان میں آپ خود شکست کھا رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے امریکی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا اس کا جواب صرف ایک لفظ ہے پاکستان ۔۔۔۔
    پھر اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ امریکیوں کی افغانستان میں آمد کے ساتھ ہی کیسے پاکستان نے مزاحمت کاروں کو منظم کرنا شروع کیا انہیں اپنے پاس پناہ دی انہیں سہولیات فراہم کیں اور پوری جنگ ان کے ساتھ مل کر لڑی.
    کیا خیال مسلم ممالک میں کوئی دوسرا ملک ہے جو دنیا کی دو بڑی سپر پاورز کے خلاف مزاحمت کی ایسی تاریخ رکھتا ہو.
    یاد رکھیں پاکستان وہ ملک ہے جس نے کشمیر کو ہمیشہ اپنی شہہ رگ قرار دیا ہے بھارت سے ہونے والی سارے جنگوں کا سبب بھی کشمیر ہی ہے آج بھی پاکستان پوری طرح سے کشمیریوں کی پشت پر کھڑا ہے پاکستان کے اسی کردار کے سبب کسی نہ کسی طرح جاری رہنے والی تحریک آزادی کشمیر آج اپنے بام عروج ہر پہنچ چکی ہے اور کیفیت یہ ہے کہ بھارت کو اپنی حمایت کیلئے کشمیر سے ایک قابل ذکر شخص میسر نہیں ہے جس دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا دعوی بھارت کی جانب سے بڑے فخریہ انداز میں کیا جاتا ہے آج پوری آب و تاب سے دوبارہ افق دنیا پر نمودار ہوچکا ہے فاروق عبداللہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے سکہ بند بھارت نواز بھی آج اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ ان سے بھارت کو سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی وہ کہہ رہے ہیں ہم غلط تھے اور محمد علی جناح درست ۔۔۔۔
    معزز قارئین یقین رکھیں آزادی کشمیر کی منزل قریب تر ہے اپنے حوصلوں کو بلند اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھئے آج کی صورتحال میں دشمن کا سب سے کاری وار وہ پروپیگنڈہ ہے جو وہ پاکستان عوام اور افواج کے بیچ غلط فہمیاں پھیلانے کیلئے کرتا ہے ایسے منفی پروپیگنڈہ سے خود بچنا بھی ضروری ہے تو دیگر پاکستانیوں کو بچانا بھی ضروری ہے اس لئے ہمہ وقت چوکنا اور چوکس رہئے جان لیجئے اس وقت پاکستان میں فرقہ واریت لسانیت علاقائیت سمیت انتشار کی کوئی بھی بات کرنے والا شخص ملک و ملت کا دشمن ہے دوست نہیں ۔۔۔
    اللہ رب العزت نے پاکستان کو آج بھرپور دفاعی صلاحیتوں سے نوازا ہے بہت جلد وطن عزیز اپنے معاشی مسائل سے بھی باہر نکل آئے گا اور یہ وہ وقت ہوگا کہ جب پاکستان قائد ہوگا اور ساری دنیا کے مسلمان اس کے پیچھے چلتے ہوئے اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ حاصل کریں گے اسی لئے
    پاکستان سے محبت کیجئے
    پاکستان کی حفاظت کیجئے
    اسلام زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد