Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! بلال شوکت آزاد

    کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! بلال شوکت آزاد

    6 ستمبر 1994, یوم دفاع پاکستان وہ دن تھا جب میرے والد نے پہلی دفعہ مجھے جذبہ حب الوطنی, جہاد, شہادت, دفاع وطن, افواج پاکستان, کشمیر اور اس دن کی تاریخی حیثیت کے بارے میں تب بتایا تھا جب میری عمر صرف چھ سال تھی اور میں اپنے والد کے کام کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔

    اس کے بعد ہر سال 2001 تک یوم دفاع پاکستان, یوم بحریہ اور یوم فضائیہ کے پروگرامز میں لیکر جانا اور آرمی, نیوی اور ایئر فورس کے میوزیمز کی سیر ہمارے لیئے بلکل ویسے ہی لازم بلکہ فرض ہوگئی جیسے ہر سال عیدین منانا ہم پر فرض ہے۔

    چھ سال کی عمر سے جو نظریاتی اور عسکری سبق رٹنا شروع کیا تو اگلے چھ سال یعنی بارہ سال کی عمر تک میں اپنے آپ میں ایک فوجی بن چکا تھا اور پاکستان و افواج پاکستان کی محبت ایسی کوٹ کوٹ کر جسم و جاں میں بھر چکی تھی کہ اپنی یہ دھمکی کھلے عام تھی کہ جس کو پاکستان اور افواج پاکستان سے ذرا سی بھی تکلیف ہے وہ چپ رہنے میں ہی سیف ہے۔

    چونکہ میرے والد کا تعلق پاک بحریہ سے تھا تو میرا فطری جھکاؤ, لگاؤ اور الفت پاک بحریہ سے زیادہ تھی بانسبت بری و فضائی افواج کے لیکن 6 ستمبر 1994 کی شام جب ہم باپ بیٹا کی یوم دفاع پاکستان پر بات چیت ہوئی تو اس کے بعد اگلے سال سے یہ روٹین بن گئی کہ میں 5 ستمبر کو رات جلدی سوجاتا اور 6 ستمبر کی صبح جلدی اٹھ کر ٹیلی ویژن پر گارڈز کی تبدیلی سے شروع ہونے والا پروگرامز دیکھ کر دن کا آغاز کرتا اور پھر اس دن اور اگلے دو دن کی مناسبت سے جو جو پروگرامز شیڈول ہوتے ان سے لطف اندوز ہوتا بشمول عسکری نمائشوں اور میوزیمز کی سیر وغیرہ۔

    خیر بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قوموں کی تاریخ میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں, جہاں خیر ہے وہاں شر بھی ہے, جہاں عروج ہے وہاں زوال بھی ہے۔

    لیکن ترقی یافتہ اور مہذب قومیں کیا کرتی ہیں کہ ان کی اگلی نسل مکمل نظریاتی پروان چڑھے اور ترقی کی منازل طے کرنے میں دقت نہ ہو؟

    قومیں اپنے ہیروز اور اہم قومی دنوں کو پوری شان و شوکت سے یاد رکھتی ہیں اور ان کی یادیں اپنی نئی نسلوں کو من وعن پہنچادیتی ہیں اور ایسے لمحات جب قوم واقعی قوم بن کر کسی مصیبت یا ناگہانی آفت و بلا سے نبرد آزما ہوئی ہو کو نئی نسل میں فخر سے بیان کرتی ہے تاکہ اگر مستقبل قریب یا مستقبل بعید میں پھر کوئی انہونی ہو تو نئی نسل بھی اسی قومی جذبہ حب الوطنی سے آگے بڑھ کر مصائب کا مقابلہ کرے جیسے ان کے آباؤ اجداد نے کیا تھا۔

    6 ستبمر ہماری تاریخ کا وہ تابناک دن تھا جب دشمن اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی خاطر ہم پر وہ میدان چھوڑ کر چڑھ دوڑا تھا اچانک جہاں ہم نے اس کے دانت اصل میدان جنگ یعنی کشمیر سیکٹر میں اتنے کھٹے کردیے تھے کہ آزاد کشمیر جتنا اور علاقہ ہمارا مفتوحہ ہوچکا ہوتا پر کشمیر میں ہار دیکھ دشمن سیالکوٹ, لاہور, اوکاڑہ اور بالترتیب تمام مشرقی سرحد پر فوج لیکر چڑھ دوڑا پر وہ غلط فہمی یا خوش فہمی میں ایک ایسی موت کی وادی میں در آیا جہاں سروفروشان اسلام و پاکستان نے بدر و حنین کی یادیں تازہ کردیں۔

    دکھا دیا دنیا کو کہ 313 والے آج بھی کامیاب ہوسکتے ہیں گر توکل اللہ اور قوت ایمانی 313 والوں جیسی ہوجائے تو۔

    کتنے ہمارے نئی نسل کے نوجوان ہیں جنہیں یہ معلوم ہو کہ 6 ستبمر کی جنگ دراصل دفاعیہ کم جارحانہ زیادہ تھی؟

    ہمارا ایک ہی مسئلہ, ایک ہی دکھ ہے 1947 سے, کشمیر۔

    کشمیر کی خاطر ہماری افواج نے ایک گرینڈ فریڈم آپریشن, آپریشن جبرالٹر تشکیل دیا اور اس پر عمل کیا جس کی وجہ سے بھارتی افواج کا مورال بری طرح ڈاؤن ہوا اور کشمیر بھارت کو ہاتھ سے جاتا نظر آیا لہذا بھارت نے بین الاقوامی سرحدی خلاف ورزی میں پہل (کشمیر کی سرحد تب نہ تو لائن آف کنٹرول تھی اور نہی بین الاقوامی سرحد لہذا پاکستان کی کشمیر پر چڑھائی بلکل بھی بین الاقوامی سرحدی اصول کے خلاف نہیں تھی پر کچھ دانشور آپ کو اس بابت بری طرح گمراہ کرسکتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ افواج پاکستان نے خود شروع کی اور الا بلا۔) کرکے پاکستان کے پرامن شہروں کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی اور اسی جنگ کے خاتمے کا معاہدہ سائن کرکے لال بہادر شاستری کا دیہانت ہوگیا تھا شدید خفت اور شرمندگی سے۔

    بتانے کا مقصد بس یہی ہے کہ اپنی افواج کو ہلکا مت لیں اور یہ مت سمجھیں کہ کشمیر ان کی ترجیحات میں شامل نہیں بلکہ یاد رکھیں کہ کشمیر افواج پاکستان کی اولین ترجیحات میں اول ہے اور اس کا ثبوت 1948, 1965, 1999 اور 2019 کی وسیع و محدود پاک بھارت جنگیں و جھڑپیں ہیں۔

    اگر تب نامساعد حالات اور عسکری لحاظ سے کمتر فوج نے آپریشن جبرالٹر جیسے آپریشن لانچ کرکے کشمیر کو آزاد کروانے کی خاطر اپنی جان, مال اور پاکستان تک کو داؤ پر لگا دیا تھا تو ٹھنڈ رکھیں وہ آج بھی کوئی کارگر موقع گنوائیں گے نہیں۔

    آج کا دن قوم کی نئی نسل کو یہ بتانے, دکھانے, سمجھانے اور سنانے میں گزاریں کہ ہم کیسی قوم ہیں اور ہمارا کردار کیا تھا اور اب ہم نے کس کردار کے ساتھ ملک کا دفاع مضبوط کرنا اور آگے بڑھنا ہے۔

    یاد رکھیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان ہی وہ عنصر ہے جس نے ہمیں 6 ستمبر 1965, یوم دفاع پاکستان کا دن دیا۔

  • ماہ ستمبر اور پاکستان  تحریر غنی محمود قصوری

    ماہ ستمبر اور پاکستان تحریر غنی محمود قصوری

    6 ستمبر یوم دفاع پاکستان ہے کیونکہ اس دن ہمارے ازلی دشمن ہندوستان کہ جس کو ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ وہ انڈیا ،بھارت یاں ہندوستان ہے ،نے رات کی تاریکی میں بزدلوں کی طرح ارض پاک پاکستان پر حملہ کر دیا دشمن سمجھ بیٹھا کہ رات کا وقت ہے پاک فوج کے جوان سو رہے ہونگے اور یوں ہم حملہ کرکے لاہور پر قبضہ کرکے وہاں چائے پیئے گے نادان دشمن کو یہ نہیں یاد رہا کہ 1948 میں پاکستانی فوج اور عوام نے اسی تین ناموں والے بھارت کا کشمیر میں بھرکس نکال دیا تھا اور آدھا کشمیر مقبوضہ سے آزاد کشمیر بن گیا تھا حالانکہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی بمشکل ایک سال ہوا تھا
    آج اسی زخموں کی بدولت ہندو مشرک اندھا ہو کر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے مگر اللہ نے کشمیریوں کو بھی بے پناہ جرآت و مردانگی سے نوازہ ہے مظلوم نہتے کشمیری پتھروں کیساتھ ظالم و جابر ہندو فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں اور 73 سالوں ڈٹے ہوئے ہیں
    7 ستمبر یوم تحفظ ختم نبوت کا دن ہے کہ جس دن کائنات کے بدترین کافر خود ساختہ مسلمان قادیانی کو دائرہ اسلام سے خارج کیا گیا یہ وہی قادیانی ہے کہ جس نے خاتم النبیین جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو انگریز دور میں چیلنج کیا تھا اور خود کو مسلمان کہلوا کر اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا مگر اللہ کے فضل سے غیور پاکستانی علماء، سیاستدان اور دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں کی کاوشوں سے قادیانی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کافر قرار پا گیا
    6 ستمبر بھارت کی بربادی کا دن جبکہ 7 ستمبر قادیانیت اور لبرلز کی بربادی کا دن ہے
    دعا ہے اللہ تعالی پاکستان کے دشمنوں کو یونہی ذلیل رسوا کرتا رہے اور وطن عزیز کو بے پناہ نعتموں اور آسائشوں سے نوازے اور میرے کشمیر کے مظلوم بہن بھائیوں کو ظالم و پلید ہندو کی غلامی سے نجات دے آمین
    غنی محمود قصوری

  • پولیس گردی کا خاتمہ کیسے ہوگا  تحریر: غنی محمود قصوری

    پولیس گردی کا خاتمہ کیسے ہوگا تحریر: غنی محمود قصوری

    ایک ماں کا لخت جگر دو شہداء کا بھائی ا ذہنی معذور صلاح الدین پولیس گردی سے قتل ہو گیا الزام کیا تھا اے ٹی ایم مشین توڑنا حالانکہ اس ملک میں لوگ قرآن کے احکامات کھلے عام توڑ رہے ہیں پولیس نے گرفتار کیا مارا پیٹا تفتیش کی وہی تفتیش کہ جس کے سنتے ہی پورا جسم لرز جاتا ہے اسی تفتیش کی بدلت صلاح الدین زندگی کی بازی ہار گیا مگر کیا ہوگا SHO, Si یاں اگر بہت زیادہ سختی کریں تو سرکل کا DSP معطل ہوگا انکوائری لگے گی اور یہ لوگ کچھ دنوں کیلئے پورے پروٹول کیساتھ جیل جائینگے
    لوگ اور میڈیا چند دن شور مچائینگے پھر سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو جائینگے اور اسی سناٹے مین معزز پولیس اہلکاران بحال ہو جائینگے اور پھر سے کسی نئی صلاح الدین کو تخت مشق بنائینگے اور ایسا 73 سالوں سے ہو رہا ہے
    جناب عزت مآب تخان صاحب اگر پولیس گردی روکنی ہے تو پھر معطل نہیں قتل کرو ان کا قتل کیونکہ قرآن میں رب رحمن نے اپنے نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتلایا ہے قتل کا بدلہ قتل ہے
    فرض کریں اگر ان پولیس اہلکاران کو صلاح الدین کے بھائی یاں کوئی اور رشتہ دار قتل کر دیں تو وہ بھی معطل ہی ہونگیں؟ نہیں بلکہ پولیس مقابلے میں مار دئیے جائینگے
    خان صاحب تبدیلی کہاں سے آئے گی معطل کرنے سے نہیں آئے گی بلکہ آسمانی احکامات کی روشنی میں فیصلے کرنے سے آئیگی کل روز قیامت آپ کا گریبان ہوگا اور صلاح الدین کا ہاتھ کیونکہ آپ نے ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ کیا تھا اور ایک سال سے اوپر ہو گیا آپ کو وزیراعظم یعنی خلیفتہ المسلیمین بنے ہوئے اور اس سال کے اندر کتنے ماورائے آئین و عدالت پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے ان سب کا حساب اللہ آپ سے لے گا کیونکہ آپ وقت کے حاکم ہیں ریاست مدینہ ثانی بنانے کے دعوے دار ہیں تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان میں آئے ہیں.

  • باجوڑ  بم دھماکہ ایک شخص زخمی

    باجوڑ بم دھماکہ ایک شخص زخمی

    باجوڑ (اے پی پی) باجوڑ کی تحصیل ماموند کے علاقہ ڈبر میں بم دھماکہ ایک شخص شدید زخمی، خار ہسپتال منتقل کر دیا گیا ضلع باجوڑ کے تحصیل ماموند علاقہ ڈبر میں منگل کے صبح ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا دھماکہ کے نتیجے میں ایک شخص فضل حلیم شدید زخمی ہوگیا جس کو علاج کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار منتقل کیاگیا ہے۔ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

  • دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر  8 افراد گرفتار

    دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر 8 افراد گرفتار

    گلگت (اے پی پی) دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر سدپارہ کے 8 افراد کو پکڑ کر جیل بھیج دیا گیا جبکہ 3 ملزمان کی ضمانتیں ضبط کردی گئیں۔ سب ڈویڑنل مجسٹریٹ سکردو حافظ کریم داد چغتائی نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ سدپارہ سے تعلق رکھنے والے 8 افراد کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر جیل بھیج دیا گیا جبکہ 3 افراد کی زر ضمانت ضبط کر لیے گئے ہیں۔ سدپارہ سے تعلق رکھنے والے ان افراد نے گزشتہ دنوں سدپارہ روڈ کو بلاک کیا تھا اور عوام الناس کو تکلیف دی تھی۔ نیز ان کے خلاف دفعہ 151/107کی کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو عرصہ تین سال کے لیے پابند ضمانت کیا ہوا تھا اب پابند ضمانت کے خلاف ورزی کرنے پر 8 افراد کو جیل بھیج دیا گیا ہے کہ 3 افراد کا زر ضمانت منسوخ کرکے داخل خزانہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری روڈ بلاک کرنے والے اور دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے والے مزید 100 افراد کی تلاش جاری ہے اور ان کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سدپارہ لوگوں نے سرکاری روڈ کو بلا وجہ بلاک کر کے عوام الناس اور سیاحوں کو تکلیف دی تھی اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی بھی کی تھی۔

  • پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ جویریہ چوہدری

    پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ جویریہ چوہدری

    "پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟”
    پڑوس سے ایک آنٹی آئیں کہ بیٹا دو ہزار روپے چاہئیں۔۔۔میری تنخواہ مل نہیں رہی۔۔۔۔جونہی تنخواہ ملتی واپس کر جاؤں گی،
    رمضان کا مہینہ ہے تو ضرورت پڑ جاتے۔۔۔۔۔
    میں نے پکڑاتے ہوئے تسلی دلائی کہ آپ بے فکر رہیں،
    آسانی سےہو گئے تو ٹھیک، نہیں تو کوئی ضرورت نہیں واپسی کی۔۔۔
    صرف دو سو روپے ہوں گے آپ کے پاس۔۔۔۔۔بیٹے نے کام پر جانا تھا،تو کرائے کے لیئے چاہیئے تھے۔۔۔۔۔دوسری آنٹی آئیں۔۔۔۔ !!!!

    آج کا دور واقعی پیسے کا دور ہے۔۔۔۔
    میں نے امی جی سے مجلس سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔!!!!!
    کیونکہ امی جی آج تو ہر چیز پیسے کی ہو گئی ہے۔۔۔۔تعلیم،صحت،خوشی،غمی۔۔۔ چند قدم تک جانا ہو تو پیسے کے ساتھ۔۔۔
    بچوں کو تعلیم دلانے کا خواب سجے تو لاکھوں کی فیسیں ایڈوانس بینک میں موجود ہوں تب۔۔۔۔
    صحت کی بات آئے تو ہزاروں جیب میں موجود ہوں تب کسی ڈاکٹر کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔
    خوشی کا موقع آئے تو ہوٹلوں کے اخراجات لاکھوں میں۔۔۔۔
    ملبوسات،زیورات اور جہیز کی مد میں کروڑوں کو چھوتے بِل۔۔۔
    غمی کا لمحہ آئے تو پہلی فکر مہمانوں کو ڈیل کرنے کی،،،
    ان کی چائے،پانی کے بندوبست کی۔۔۔۔
    ہر فنکشن کے لیئے نیا جوڑا۔۔۔۔
    ہر ملاقات کے لیئے الگ سوٹ۔۔۔۔
    ہر روز نئی ڈشز،اور اخراجات۔۔۔
    بچوں کے روزانہ کے الگ حساب۔۔۔
    واقعی ماں جی یہ دور پیسے کا آ گیا ہے ناں۔۔۔
    اس کے بغیر تو اب اک قدم بھی چلنا مشکل ہو گیا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟
    صحیح کہا تم نے۔۔۔۔
    اب تو رشتہ داریاں بھی پیسے کے بل بوتے پر ہی ہیں۔۔۔۔
    جس کے پاس دولت ہے اس سے سب کے تعلقات۔۔۔۔اور جس کا ہاتھ ذرا تنگ اس سے ایک گھر کے بندے بھی اجنبی اجنبی۔۔۔۔
    مائیں،بہنیں بھی اس بیٹے،بھائی کے ساتھ رہتی اور چلتی ہیں جو زرا عیش کرا دے۔۔۔۔!!!!!
    لیکن ماں دیکھیں ناں پہلے وقتوں میں بھی لوگ گزارا کرتے تھے ناں؟
    تو کیسے ہو جاتا تھا۔۔۔؟؟؟؟؟
    بیٹی!!!!
    تب لوگ کپڑوں کے اندر رہتے تھے۔۔۔۔پھٹ کر باہر نکلنے کے عادی نہ تھے۔۔۔
    عاجزی و شکر کے پیکر تھے۔۔۔
    ہزاروں ایکڑ زمینیں رکھنے کے باوجود بطور فصل ہونے والی دال پر گزارا کر لیتے تھے۔۔۔۔
    بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھا لیتے تھے کہ جس نے پڑھنا ہے وہ جہاں بھی جائے پڑھ لے گا۔۔۔۔اس کے لیئے پرائیوٹ ادارے یا بھاری فیس سٹیٹس نہ تھی۔۔۔
    سبزی روزانہ لانے کا رواج ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔دال پہ دل نہ کرتا تو دیسی مرغ ذبح کر کے بھون لیتے۔۔۔۔مٹن لے آتے تھے یا پھر گھر میں ہی موجود بکری کا چھوٹا موٹا بچہ ذبح کر لیا جاتا تھا۔۔۔۔
    دن میں دہی،لسی کا استعمال کرتے تھے اور صحتمند و توانا رہتے تھے۔۔۔۔
    لباس عزت والا پہنتے تھے۔۔۔۔سادہ زیب تن کرتے تھے
    اور ہر فنکشن پر پیسے پھونکنے کا رواج کوئی نہیں تھا بلکہ ایک ہی سوٹ سے کئی تقریبات اٹینڈ ہوتی تھیں۔۔۔
    بڑے بڑے سرداروں کے گھر بھی ہر وقت پیسہ ہی پیسہ کی کوئی رٹ نہ ہوتی تھی۔۔۔۔
    اور بمشکل چند روپے ہی گھر میں موجود ہوتے تھے۔۔۔۔!!!!!!
    خوشی،غمی کے مواقع مل جل کر ڈیل کیئے جاتے تھے اور ایک دوسرے کی مالی معاونت بھی کر دی جاتی تھی،
    کسی کے مہمانوں کو سنبھال لیا جاتا۔۔۔۔کسی کے لیئے کھانے کی ذمہ داری اٹھا لی جاتی تھی۔۔۔!!!!!
    بیماریاں تھیں ہی بہت کم کہ لوگوں کو اسپتالوں کا رخ کرنے کی نوبت ہی کم آتی تھی۔۔۔۔
    اور گھر کے ہر ہر فرد کے لیئے الگ الگ مہنگے ڈاکٹروں کے علاج کی رسم ایجاد نہ ہوئی تھی۔۔۔
    بلڈ پریشر تھے،نہ شوگر کی پریشانی،
    آلودگی کے مسائل تھے نہ ڈپریشن کے عارضے۔۔۔۔

    خاندانی نظام مضبوط تھا،
    سب کی عزت سانجھی تھی۔۔۔۔
    ایک کا دکھ سب کا دکھ تھا
    اور ایک کی پریشانی سب کی پریشانی ہوتی تھی۔۔۔۔۔
    ایک دوسرے کے پیچھے قربانی کا جذبہ موجود تھا۔۔۔۔
    بچوں کو گھر پر ہی مائیں خالص خوراک کھلا پلا دیتی تھیں،
    جو ان کے توانا،مضبوط،قد بڑھنے میں معاون ثابت ہوتی تھی،
    آج کی طرح پیسے کے بل بوتے پر،برگر،پیزا اور جنک فوڈز کے کاروبار نے ترقی نہیں پکڑی تھی،،،
    اور بچوں کی کم عمری میں ہی صحت کو سنجیدہ خطرات لاحق نہیں ہوتے تھے۔۔۔۔!!!!!
    بچے کس کو پیارے نہیں ہوتے مگر ان کی تربیت کا تقاضا ہوتا تھا کہ
    ہزاروں کے ڈریسز لے کر پھر انہیں ایک ہی بار پہن کر الماریوں کی زینت بنا دینے کا رواج نہیں تھا۔۔۔بلکہ ایسے اچھے لباس تو شاذ و نادر ہی تیار ہوتے تھے۔۔۔
    اور ایک بار لے کر پھر کئی کئی مواقع پر وہی زیب تن کیۓ جاتےتھے۔۔۔۔۔بڑے بھی اسی اصول پر چلتے تھے۔۔۔
    تکلف،بناوٹ،ریا نہیں تھا۔۔۔۔!!!!
    مجھے یاد آئی کہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی وہ بات یاد آگئی کہ جو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے کہی تھی کہ:
    "جو چادریں میں نے لپیٹ رکھی ہیں،مجھے انہی میں کفنانا۔۔۔۔۔کیونکہ نئی چادریں زندہ مسلمانوں کا حق ہیں”۔۔۔۔رضی اللّٰہ عنہ۔۔۔
    آج ہم نے اپنی پریشانیاں خود تخلیق کر لی ہیں۔۔۔۔

    میں سوچ میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
    واقعی ماں وہ دور تو بہت اچھا تھا پھر۔۔۔۔!!!!!!
    سکون،آشتی والا۔۔۔۔۔حسد بغض سے دور،
    سادگی اور اخلاص والا۔۔۔!!!
    آج اگر امیر امیر ترین ہے،
    تو غریب،غریب تر واحساس کمتری میں مبتلا۔۔۔۔
    عدم توازن کا شکار زندگیاں ہیں۔۔۔
    اور ہر شئے کی فراوانی کے باوجود جزو بدن بننے سے انکاری۔۔۔!!!!
    ہم آج خالص غذا سے محروم ہیں،
    کھادوں والی خوراک،لذت و ذائقہ سے خالی،،،
    مہنگائی کے جن نے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔۔۔
    بجٹ میں توازن آنے کا نام نہیں لیتا۔۔۔۔ایک کام نمٹاؤ،دوسرا تیار۔۔۔

    واقعی ماں جی۔۔۔
    یہ سچ ہے اب آپ صرف سبزی،فروٹ کی مد میں مہینہ کے ہزاروں روپے خرچ کر دیتی ہیں،
    اور دال کا پکنا ہمیں پسند نہیں ہوتا،
    لیکن سچ پوچھیں تو روٹی تو اسی دن مزے سے کھائی جاتی ہے۔۔۔۔جس دن آپ اپنے خاص طریقہ سے دال بنا کر دیتی ہیں۔۔۔میں نے مزاح کرتے ہوئے کہا
    ہاں !!!
    بچے یہ بھی خوراک کا حصہ ہے اور انسان کو متفرق اشیاء استعمال کرنی چاہئیں۔۔۔۔
    لیکن امی جی!
    مجھے اکثر سوچ آتی ہے کہ
    وہ غریب آدمی جو دن کا بمشکل پانچ سو روپیہ کما لائے تو اس سے کیا کیا ضرورت پوری ہوتی ہو گی۔۔۔۔؟؟؟؟
    بجلی،گیس کے اخراجات،
    آسمان کو چھوتی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں۔۔۔۔
    سبزی فروٹ کے استعمال کی خواہش،،،
    مکانوں کےکرائے،
    گاڑی کا کرایہ،
    گھر میں بچوں کی معصوم فرمائشیں یا چھوٹی چھوٹی چیزوں پر قیمت کے برابر لگے ٹیکسوں کی ادائیگی۔۔۔۔؟؟؟
    بچوں کے تعلیمی اخراجات یا والدین کی بیماریوں کا علاج۔۔۔۔؟
    اور نفسا نفسی کے عالم میں یہ جنگ ہر کوئی خود ہی لڑ رہا ہے۔۔۔۔
    اور دل تو ہر ایک کا ہوتا ہے ناں۔۔۔؟؟؟؟

    ہم تو اڑوس پڑوس سے بھی بے خبر رہتے ہیں۔۔۔
    مصروف دور ہے ناں۔۔۔۔
    پیسے کا دور ہے۔۔۔۔۔
    اپنے کاموں سے ہی فرصت کہاں؟

    میرے پاس سب اپنا ہے،
    کوئی ضرورت نہیں کسی کی۔۔۔
    مجھے بھلا کیا تَک ہے کسی کی؟؟؟
    یہ ہوتے ہیں وہ الفاظ جو ہمارا تکیہ کلام ہوتے ہیں اکثر۔۔۔
    ہم بے حسی کے دور میں جی رہے ہیں ناں۔۔۔۔۔
    بے سکونی کے دور میں۔۔۔۔
    پیسے کے دور میں۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    بس یہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے ناں؟
    ہمارے پاس دولت کی کمی نہیں ہے،،،
    ہاں ہم نے دولت کے خرچ کا فن تاحال نہیں سیکھا،،،
    یہی وجہ ہے کہ نیچے سے اوپر تک کرائسز کا رونا ہماری فطرت میں شامل ہو گیا ہے۔۔۔۔
    اور بہتری کی امید پر ہی ہمارے روز و شب گزر رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
    کئی سالوں سے۔۔۔۔۔
    عشروں سے۔۔۔۔
    نصف سے زائد صدی سے۔۔۔۔
    مگر مرض بڑھتا گیا،جوں جوں دوا کی والی صورت حال سے دوچار و نبرد آزما رہتے ہیں۔۔۔۔
    کیا واقعی آج کا دور پیسے کا دور ہے؟
    کیا پیسے کے بغیر اک پل بھی جینا ناممکن ہے۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    کیا ہمارے آباء و اجداد ہم سے بھلے چنگے باعزت وقت گزار کر نہیں گئے۔۔۔۔؟؟؟
    اس سب پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔
    قوم کے نوجوانوں کے لیئے باعزت روزگار کے حصول کو آسان و یقینی بنانا بھی۔۔۔۔
    کہ اپنے ہاتھ سے کمائے گئے چند لقمے سب سے بہترین کمائی ہے۔۔۔۔!!!!!
    یہی وجہ ہے کہ آج ہماری ڈگریوں کا مقصد بھی صرف آگے نکل کر کچھ کما لینے کے سوا کچھ نہیں رہا۔۔۔۔؟؟؟؟
    سوسائٹی کے ضرورت مندوں کا خیال واحساس سب سے اول ذمہ داری ہے۔۔۔۔۔
    کہ یہ دور تو بلاشبہ پیسے کا ہے۔۔۔اور اس کے بغیر اک قدم بھی چلنا مشکل ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟؟
    اورسہولیات و آسانیوں کی فراہمی ہی اس کے بخار کے ٹمپریچر کو کم کر سکتی ہے۔۔۔!!!!
    کیونکہ ہمارے کچھ انداز بدل گئے ہیں۔۔۔کچھ کردار۔۔۔۔۔؟
    اور منزل کے حصول کے لیئے ان دونوں کی اصلاح ازحد ضروری ہے۔۔۔ہم جس قدر زیادہ کے چکر میں گھومتے رہتے ہیں۔۔۔۔
    ہم سے آگے بٹورنے والے ہم سے بھی زیادہ مستعد نظر آئیں گے۔۔۔ !!!
    ہم نےاس سوچ کوبھی پروان چڑھانا ہے کہ ہر کام کے لیئے پیسہ ہی نہیں چاہیئے ہوتا۔۔۔۔بلکہ کردار،ٹیلنٹ ، فن،سکون اور اخلاقیات بھی اس دنیا کی رونقوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔ہر وقت پیسہ کے فوبیا میں ہی مبتلا ہو کر ہم حقائق سے بہت دور تو نہیں نکلتے جا رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟