Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • کشمیر پر لابنگ کیسی ہو ؟؟؟؟ عشاء نعیم

    وزیر اعظم پا کستان عمران خان صاحب نے عوام سے خطاب کر کے بہت ساری ایسی باتیں کہی جو پہلے کسی وزیر اعظم نے نہیں کہی وہ وہ حقائق تھے جو بھارت سے متعلق تھے سب سے پہلے وزیر اعظم صاحب نے کہا مودی آر ایس ایس کا رکن ہے جو دہشت گرد تنظیم ہے ۔بھارت میں کئی بار اس پہ دہشت گردی کی وجہ سے پابندی لگ چکی ہے۔
    وزیر اعظم صاحب نے کہا بھارت نے مودی کو وزیر اعظم چن لیا اور وہاں آر ایس ایس کا نظریہ کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے چل رہا ہے ۔۔
    اس لئے وہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم کرتے ہیں
    انھوں نے کہا پانچ اگست کو آر ایس ایس کی آئیڈ یالوجی کا پیغام ملا
    انھوں نے کہا اب بھارت اسی نظریے پہ چل رہا ہے اسی آئیڈیالوجی کے تحت بابری مسجد شہید ہوئی ‘اسی آئیڈیالوجی کے تحت وہ لوگ مسلمانوں کو سڑکوں پہ بھی پکڑ پکڑ کر مارتے ہیں ۔
    انھوں نے کہا پلوامہ بھی پاکستان کو پھنسانے کے لئے کیا گیا ۔
    اسی آئیڈیالوجی کے تحت گجرات میں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا
    حتی کہ ان کے سابقہ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ آر ایس ایس میں دہشت گرد پیدا کئے جارہے ہیں ۔
    انھوں نے کہا قائد اعظم نے بھی اسی آئیڈیالوجی کو بھانپتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
    انھوں نے کہا بھارت نے لابنگ کی کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جائے ۔
    انھوں نے کہا کہ پہلے ہم اسے الیکشن کمیشن کا حصہ سمجھے (کیونکہ انڈین عوام بھی پاکستان مخالف اور دہشت گرد کو ووٹ دیتی ہے )لیکن یہ سلسلہ الیکشن کے بعد رکا نہیں ۔
    ہمارے اب وزیر اعظم صاحب سے چند سوال ہیں
    1۔اگر آپ کو معلوم ہے کہ بھارت آر ایس ایس کے نظریئے پہ چل رہا ہے جس کا مطلب ہے دہشت گردی تو آپ نے لابنگ کی ؟
    یکیا آپ نے دنیا کو جاجاکر بتایا ؟
    2=آپ کے ملک کو بلیک لسٹ کروانے والے کی اصلیت دنیا کو دکھا کر آپ نے اسے دہشت گرد ملک قرار دلوانے کی کوشش کی ؟
    3=جب آپ کو معلوم ہے آر ایس ایس دہشت گرد ہے تو آپ آر ایس ایس کے خلاف لابنگ کیوں نہیں کرتے جیسا انھوں نے حافظ صاحب پہ دہشت گردی کا ایک جھوٹا الزام لگایا اور اس طرح لابنگ کہ آپ کو بےقصور حافظ صاحب کو بھی جیل میں ڈالنا پڑ گیا (کہ بھارت لابنگ کر کے دنیا کو منوا چکا ہے بھارت کی بات) اب ہم انھیں گرفتار نہ کریں تو بلیک لسٹ ہو جائیں گے ؟ آپ کیوں خاموش ہیں؟
    پاکستانیوں کو بتانے کی بجائے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں کیوں نہیں اٹھاتے؟
    بھارت بار بار حافظ سعید کا مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گیا حالانکہ حافظ سعید کی جماعت پہ پاکستان میں کبھی پابندی نہیں لگی نہ ہی دہشت گردی کا کوئی الزام ہے ۔
    جب معلوم ہے وہ سڑکوں پہ مسلمانوں کو مارتے ہیں آپ دنیا کو کیوں نہیں بتاتے ؟
    4=آپ کو معلوم ہے بھارت نے خود حملہ کرکے پاکستان کا نام لگایا آپ نے دنیا میں جا کر کیوں شور نہیں مچایا۔
    5=جب نواز شریف کا دور تھا تو اس نے وزیر خارجہ ہی نہیں لگایا تاکہ بھارت خوب لابنگ کرسکے پاکستان کے خلاف اور پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی وہ تو غدار مان لیا ہم نے ‘آپ نے وزیر خارجہ بنایا لیکن اسے ساتھ لے گھر بیٹھے ہوئے ہیں آپ کے وزیر خارجہ کیا کر رہے ہیں یہاں بیٹھ کر بیان بازی سے کیا ہوگا ؟
    یہ لابنگ کرنے کیوں نہیں نکلتے ؟
    آپ کیوں دوسرے ممالک میں جاکر بھارت کا اصل چہرہ دکھاتے ؟
    آپ نے دنیا سے کیوں بات نہیں کی کہ اس ملک کا دہشت گرد وزیر اعظم بن چکا ہے اسے دہشت گرد ملک قرار دیا جائے ۔
    جبکہ اس کا وزیر اعظم ساری دنیا کے سامنے پا کستان کو توڑنے کا اعتراف کرچکا ہے وہ پاکستان میں سازش ‘اور اپنی فوج کے لڑنے کا بھی اعتراف کر چکا ہے ۔
    دوسری طرف کلبھوشن یادیو کا اعتراف بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک اور دہشت گردی۔
    کیا یہ ایسے معاملات نہ تھے جن کو اچھالا جا سکتا ؟
    جس پہ عالمی سطح پہ اس طرح لابنگ ہوتی کہ بھارت آج تنہا کھڑا ہوتا ۔اور کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کا سوچ بھی نہ سکتا ۔
    آپ دونوں پاکستان میں گھسے بیٹھے ہیں کیوں؟
    کیا آپ بھی عوام کے ساتھ بس ہفتہ کشمیر منا کر حق ادا کردیا کریں گے ؟
    کہیں اس طرح ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر بیٹھ رہنا نواز پالیسی کا تسلسل تو نہیں؟
    آپ نے مسلمان ممالک کو ساتھ ملانے کی کوئی کوشش کیوں نہیں کی ؟
    آپ نے مسلم ممالک کے سربراہان کی غلط فہمیاں دور کیوں نہیں کیں؟
    جو حالات ہیں ان کے مطابق شاہ صاحب اس وقت اس طرح گھوم رہے ہوتے کہ ایک ملک سے ہی دوسرے اور پھر تیسرے ملک چلے جاتے ۔ان کی نیندیں حرام ہو جاتیں اور وہ بس بھاگ دوڑ کر رہے ہوتے لیکن افسوس وہ تو ملک کے اندر آرام فرما رہے ہیں ۔
    ہمیں ان سوالوں کے جواب چاہیئں

  • ذرا ٹھہریئے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!! جویریہ چوہدری

    ذرا ٹھہریئے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!! جویریہ چوہدری

    قارئین !!!!
    پرانے وقتوں میں کسی شادی بیاہ کے موقع پر۔۔۔۔جو زیادہ ہی انجوائے منٹ کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔وہ ناچنے گانے والے بلا لیا کرتا تھا۔۔۔۔ !!!!!
    یعنی یہ کام شرفاء کو زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ خود ایسے کام کرنے لگ جائیں۔۔۔۔
    اور جو حد سے بڑھ کر ناچنے کودنے والیوں کو بلانے پر مصر ہوتا تو گھر کا کوئی بزرگ اس بات کو اپنی توہین تصور کرتے ہوئے ناراضگی کا عندیہ دے دیتا تھا کہ۔۔۔۔اگر تم ایسا کرو گے۔۔۔۔تو میں نے ایسی محفلوں میں بیٹھنا ہی نہیں ہے۔۔۔۔!!!!!!
    یعنی تم جانو اور تمہارے کام۔۔۔۔
    بلکہ بعض اوقات تو گھر سے چلے جانے کی دھمکی بھی دے دی جاتی تھی۔۔۔۔
    چنانچہ اس بات کو بھی اپنی توہین تصور کرتے ہوئے کہ اگر اس موقع پر بزرگ نہ ہوں تو لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے۔۔۔۔؟؟؟
    تو نو جوان ایسی سوچ و حرکت سے باز رہ جاتے تھے۔۔۔۔

    رفتہ رفتہ ہم ترقی کی منازل طے کرنے لگ گئے۔۔۔۔اور ہر کام میں مہارت اور سب فن خود سیکھنے لگ گئے۔۔۔۔
    سو آج کسی بھی شادی کے موقع پر یہ سارا کام ہم خود ہی کر لیتے ہیں ناں؟
    گھر کی بیٹیاں۔۔۔۔۔کزنیں۔۔۔رشتہ دار خواتین دھرتی کو ہلاتی خود ہی یہ کام کر سکتی ہیں۔۔۔۔
    بلکہ بعض اوقات تو ماں جیسے عظیم اور قابل احترام رشتے سے بھی کہا جاتا ہے کہ:
    محفل تاں سجدی۔۔۔۔جے نچے منڈے دی ماں۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
    اور مرد کزنز اور دولہا کے دوست اپنوں کے روپ میں آنکھوں کی تسکین کے ساتھ ساتھ وڈیو آپریٹنگ میں مصروف نظر آتے ہیں۔۔۔؟؟؟

    ہر ہاتھ میں موجود موبائل فون نے یہ کام اور بھی آسان اور ممکن کر دیا ہے۔۔۔
    اور یہ سب کندھے جھٹک کر جواب دیا جاتا ہے کہ:
    Its our culture…no problem….!!!!
    لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلامی ثقافت کے فروغ اور بقاء کے لیئے ہمارے آباء نے اتنی عظیم قربانیاں دی تھیں تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت اور ثقافت برقرار رکھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔۔۔۔
    مگر وہ نسلیں آج بھی انڈین گانوں کی دھن پر ناچنا اپنا وقار سمجھتی ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟

    پہلے وقتوں میں مووی والا بلایا جاتا تھا۔۔۔۔اور اسے بھی شرفاء اپنی عزت کے خلاف سمجھتے تھے کہ ہماری بہنوں،بیٹیوں کی تصاویر کوئی اجنبی کیوں لیتا پھرے۔۔۔۔؟؟؟
    اور سائیڈ پر۔۔۔ذرا ہٹ کر بیٹھنے کو ترجیح دی جاتی تھی۔۔۔
    مگر رفتہ رفتہ ہم نے آگے بڑھنا سیکھ لیا اور شادی اٹینڈ کرنے والی خواتین نے یہ فریضہ سنبھال لیا۔۔۔۔مخلوط نظام میں مرد بھی پیچھے نظر نہیں آتے۔۔۔۔ اور ایک دن میں ہزاروں تصاویر ایک دلہن کی بآسانی لے لی جاتی ہیں۔۔۔۔۔ !!!!
    گھر جا کر جس جس کو دکھائیں۔۔۔۔جس جس سے شیئر کریں۔۔۔۔کچھ غلطی تصور نہیں کی جاتی۔۔۔اسے خیانت قطعاً نہیں کہا جاتا۔۔۔!!!!!!
    آج ہماری اور غیر مسلموں کی شادی میں کوئی واضح فرق نظر نہیں آتا۔۔۔۔فلموں اور ڈراموں کے مکمل سین آزمائے جاتے ہیں۔۔۔
    ہم فتویٰ بازی اور تنقید کرنے میں بس ماہر ہو گئے ہیں۔۔۔۔
    برائیوں کے سدباب کے لیئے ہمارے پاس پلان نہیں ہیں۔۔۔۔!!!!
    آج بزرگ دھیمے لہجے میں کہتے نظر آتے ہیں جی کیا کریں۔۔۔۔بس بچوں کی مرضی تھی۔۔۔۔
    یعنی طوفان مچائے رکھا۔۔۔۔ہماری اب کون سنتا ہے۔۔۔؟وغیرہ

    ایک وقت تھا کہ والدین کی مرضی کے خلاف کچھ کرنا اولاد کی رسوائی سمجھی جاتی تھی۔۔۔
    مگر رفتہ رفتہ ہم نے ترقی کر لی اور والدین کو اپنی خواہشات کے سامنے جھکا کر آگے لگا لیا۔۔۔۔؟؟؟
    ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ پیارے رسول حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "بے شک ہر دین کی ایک خصلت ہوتی ہے،اور اسلام کی خصلت حیاء ہے۔۔۔۔”
    (رواہ ابن ماجہ)۔

    یاد رکھیئے کہ ہر انسان آزاد ہے۔۔۔
    اور اپنی منشا کے مطابق جینے کا حق دار بھی۔۔۔۔
    مگر امت محمدیہ کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک اچھائی سے محبت اور تلقین اور برائی سے نفرت و بچانے کی بھی سخت تاکید کی گئی ہے۔۔۔!!!

    سب سے اوّل ذمہ داری تو والدین کی ہوتی ہے۔۔۔۔
    کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ تا حیات ان کے لیئے باعث فخر اور سرمایہ افتخار بنیں۔۔۔۔
    اسلام کی حقیقی تصویر اور وقار کہلائیں۔۔۔۔
    اور اس فطری و آسان۔۔۔با برکت اور باعث فلاح پیغام کی عملی تصویر بن جائیں۔۔۔۔
    اگر ہم خود ہی اپنی تہذیب و ثقافت کو بیچنے والے بن گئے۔۔۔۔
    تو ہماری ثقافتی اقدار کے بقاء کا ذمہ دار کون ہو گا۔۔۔۔
    تعلیمی ادارے اپنی قوموں کی اصل پہچان کے ضامن ہوتے ہیں۔۔۔۔
    اور ذرائع ابلاغ قوم کی تربیت اور رائے عامہ ہموار کرنے کا باعث۔۔۔۔
    کسی بھی قوم کی نسل نو کی تربیت کے یہ تین ستون ہیں۔۔۔
    اگر ایک ستون میں بھی لرزش پیدا ہو گی تو سمجھیئے کہ تربیت کی عمارت لرزاں رہے گی۔۔۔!!!!!!!!
    آج ہماری تربیت کی کمی کے ہی المیے ہیں کہ کوئی کسی بے بس کی توہین کرتے ہوئے وڈیو بنا رہا ہوتا ہے۔۔۔۔تو کوئی تشدد اور جان سے مار دینےکے واقعات کی اپ لوڈ۔۔۔۔
    ہمارے اخلاق و اقدار کہاں کھو گئے۔۔۔۔؟؟؟
    ہم خود ہی خود کو تماشہ بنا دینے پر کیوں بضد ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟آئیے!
    اخلاق کے سب سے بڑے علمبردار اسلام۔۔۔اور داعی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے اپنے روح و بدن کو منور کرنے کی کوشش کریں۔۔۔
    حیا کا لبادہ اوڑھ لیں۔۔۔۔
    اور دوسروں کے لیئے بھی آسانیاں بانٹنے والے۔۔۔۔نقصان ہٹانے والے۔۔۔اور عزتوں کے محافظ بن جائیں۔۔۔۔
    اللّٰہ تعالی کے پیغام کو مکمل سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔۔ادھوری نہیں۔۔۔۔
    اپنے گھر سے معاملات کی درستگی کا بیڑہ اٹھائیں۔۔۔۔کہ پہلی مملکت آپ کی وہی ہے۔۔۔۔
    بنی اسرائیل پر اللّٰہ تعالی نے بے شمار انعامات کیۓ تھے۔۔۔۔
    مگر وہ ایسی قوم تھی کہ اللہ کے احکامات میں ردوبدل کرنے اور اپنی خواہشات کے تابع کرنے سے باز نہ آتی تھی۔۔۔۔
    تو اللّٰہ غضب کا شکار ہوئی۔۔۔ان کی اسی خرابی کو یوں بیان کیا گیا۔۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "کیا تم لوگوں کو بھلائیوں کا حکم دیتے ہو،
    اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔۔۔۔باوجود یہ کہ تم کتاب پڑھتے ہو۔۔۔کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں۔۔۔؟؟؟”
    (البقرۃ:44)

    کہیں فرمایا:
    "کیا تم بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔۔۔؟
    تو جو بھی ایسا کرے اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذابِ شدید۔۔۔۔اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔۔۔”
    (البقرۃ:85)
    اور ہمیں اللّٰہ تعالی کے احکامات کے عموم کو سمجھنا ہو گا۔۔۔۔
    کیونکہ اللّٰہ تعالی کے احکامات پر ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کا ہی یہ امتحان ہے۔۔۔۔
    بہت آگے بڑھتے بڑھتے۔۔۔۔ہمیں اپنی اقدار۔۔۔۔اخلاقیات۔۔۔۔تعلیمات کو کسی بھی میدان میں پسِ پشت نہیں ڈالنا۔۔۔۔۔
    تہذیب،جدت اور حیا و کردار کا اسلام سے بڑھ کر کوئی پیامبر ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔
    جو ہر خلافِ تہذیب بات کو مہذب ہی نہیں کہتا۔۔۔۔۔۔ !!!!!
    اپنے گریبان میں جھانک کر۔۔ذرا ٹھہر کر۔۔۔۔کچھ سوچیں تو سہی۔۔۔۔
    کیا خبر ہمارے دلوں کے بند دریچے اس امن و بہار بھرے پیغام کے جھونکوں سے کھل جائیں۔۔۔۔اور ہم حقیقی خوشی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں۔۔۔۔
    ہاں حقیقی خوشی۔۔۔۔
    اپنے پروردگار کی رضا والے کاموں پر عمل کی خوشی۔۔۔۔۔
    ہمارے دلوں کو اطمینان سا مل جائے۔۔۔۔
    اور ارد گرد ایک سکون سا چھا جائے۔۔۔۔۔
    اور اس سکون کا بدلہ۔۔۔۔”ابدی سکون”ہو گا۔۔۔۔ان شآ ء اللّٰہ۔۔۔ !!!!
    ¤¤¤¤¤ ¤¤¤¤¤

  • سوشل میڈیا کا محاذ پاکستان کے نام — عاصم مجید لاہور

    سوشل میڈیا کا محاذ پاکستان کے نام — عاصم مجید لاہور

    ہائبرڈ وار میں پاکستان نے انڈیا کو زبردست طریقے سے پچھاڑ دیا ہے۔ اس کا ثبوت انڈین میڈیا پر سنائی دینے والی چیخیں ہیں۔ کہیں وہ حمزہ علی عباسی کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں اور کہیں ڈی جی آئی ایس پی آر کے ایک ایک ٹویٹ پر پورے پورے پروگرام کرتے نظر آتے ہیں اور دلچسپ بات یہ کہ انڈیا کا ریٹائرڈ لفٹینٹ جنرل عطا حسنین بھی آئی ایس پی آر کی تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔
    جس طرح آئی ایس پی آر نے نوجوان نسل کو متحد کیا اور سوشل میڈیا پر انڈین پروپیگینڈے کا جواب دیااور ملک کے طول ارض کے تمام نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر کے دشمن کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔
    اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

    بد حواسی کا یہ عالم ہے کہ انڈیا کے ٹویٹر صارفیںن صدر پاکستان اور وفاقی وزیر مراد سعید کے ٹویٹر اکاونٹ کو رپورٹ کر رہے ہیں۔
    انڈین یقینا آئے روز کشمیر کے متعلق ٹویٹر ٹرینڈ سے بہت پریشان ہیں۔

    مزید پڑھیں سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
    یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جیسے ہی پاکستانی کوئی ٹرینڈ چلاتے ہیں تو کچھ انڈین ان کو مصروف کرنے کے لیے جواب میں موضوع سے ہٹ کر یو ٹیوب لنک شعیر کرتے ہیں اور بحث پر لے آتے ہیں تا کہ وہ ٹویٹر صارف ٹرینڈ پر کام جاری نہ رکھ سکے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا کے ایسے ٹویٹر صارفین کے فالورز بہت کم ہوتے پیں یعنی وہ "را” کے پالے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب ان کو جواب نہیں آتا تو گالیوں پر اتر آتے ہیں۔ اسی طرح باقی سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں۔
    چند روز پہلے انڈیا نے سوشل میڈیا پر منظم انداز میں پروپیگینڈا کیا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ جس میں انڈیا کی ٹی وی چینل اور ٹویٹر ٹرینڈ پیش پیش تھے۔
    اس کا مقصد پاکستانی عوام کا مورال گرانا اور پاکستان سٹاک ایکسچینج جو کی مثبت چل رہی ہے اس کو گرایا جائے۔ مگر اس ٹرینڈ کے چلتے ہی حکومت پاکستان کی طرف سے اس پروپیگینڈے کو ناکام کر دیا گیا اور ہمارے ٹی وی چینل نے بھی بھر جواب دیا۔
    یہاں سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کے سوشل میڈیا محاز سے کس قدر بوکھلایا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کی ہائبرڈ وار کو ہم سب پاکستانیو کو سمجھنا چاہئیے۔ اس محاز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے۔ آپ کی ہر پوسٹ ، ہر ٹویٹ انڈیا کو گولی کی طرح لگتا ہے۔ لہزا ہر محب وطن پاکستانی کو اس محاذ پر پاکستان کے دفاع کے لیے آگے آنا چاہئیے۔
    مزید پڑھیں سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    حکومت پاکستان نے کشمیر میڈیا سیل بنانے کا بھی اعلان کیا ہے جو یقینا انڈیا کے لیے بہت بری خبر ہے۔

    پاکستان کی ہائیبرڈ وار میں کامیابی اپنی جگہ مگر ان سوشل میڈیا ایپلیکیشن کی انتظامیہ بھی کافی حد تک جانب دار ثابت ہوئی ہے۔
    ٹویٹر اور فیس بک انتظامیہ کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں اکاونٹ بند کئے گئے۔ یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اس مسئلہ پر آواز اٹھانے کی ہامی بھری۔
    یقینا اس محاز کو مزید موثر بنانے کے لیے پاکستان کو ان سوشل میڈیا ایپلیکیشن کی انتظامیہ سے بات کرنی چاہئیے۔ اور کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بننا چاہئیے۔ تاکہ حقیقت دنیا کے سامنے آئے۔

    عاصم مجید

  • فلاح کی راہیں۔۔۔۔۔ !!!!!!    جویریہ چوہدری

    فلاح کی راہیں۔۔۔۔۔ !!!!!! جویریہ چوہدری

    قرآن ہدایت و نور ہے۔۔۔
    سیدھی۔۔۔۔بلکہ بہت ہی سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرنے والی کتاب ہے۔۔۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "بے شک یہ قرآن بہت ہی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔۔۔۔”
    (سورۂ بنی اسرائیل)

    یہ دنیا انسان کے لیئے آخرت کے امتحان کی تیاری کا ایک موقع ہے۔۔۔۔۔
    اور دنیا اور آخرت کی فلاح پانے کے لیئے اللّٰہ تعالٰی نے انسانوں کو وہ راستے بتائے ہیں۔۔۔۔جن پر چل کر۔۔۔۔ان احکامات کو مان کر۔۔۔۔۔اپنی زندگی میں عملی طور پر اپنا کر۔۔۔۔ ہم مفلحین میں شامل ہو سکتے ہیں۔۔۔ !!!!!
    اللّٰہ تعالی واضح تعلیم کے ذریعے ہمیں کامیاب لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
    اور چاہتے ہیں کہ اس کے بندے دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں۔۔۔
    بامقصد زندگی گزاریں۔۔۔۔اور میری بخشش کے مستحق بن جائیں۔۔۔۔
    مفلح وہ ہوتا ہے جو صعوبتوں اور نافرمانی کے کاموں کو قطع کرتے ہوئے اپنے مطلوب یعنی اللّٰہ کی رضا تک پہنچتا ہے۔۔۔
    کامیابی کا Straight wayاس کے لیئے کھل جاتا ہے۔۔۔۔اور وہ اپنے رب کے فرمانبردار اور کامیاب لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے۔۔۔۔ !!!!!

    آئیے!
    قرآن میں فلاح کی طرف دعوت کے کچھ مقامات پر نگاہ ڈالتے ہیں۔۔۔۔کہ کامیابی کی راہیں کون سی ہیں۔۔۔۔!!!!!!

    وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔۔۔
    اللّٰہ کے احکامات پر اسے بن دیکھے ایمان لاتے اور عمل کرتے ہیں۔۔۔جو کتابیں اس کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔۔۔۔ان پر یقین رکھتے۔۔۔۔
    نمازیں قائم کرتے اور اپنے مال میں سے اللّٰہ کی رضا کی خاطر خرچ کرتے ہیں۔۔۔۔یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔۔۔۔ !!!!!
    (سورۃ البقرۃ: 5_2)

    "اے لوگو!
    جو ایمان لائے ہو۔۔۔شراب،اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے تیر۔۔۔یہ سب گندی باتیں ہیں،شیطانی کام ہیں۔۔۔ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔۔۔”(المائدہ:90)

    یعنی اپنے دامن ان گندی چیزوں سے آلودہ نہیں کرنے۔۔۔۔اگر ایسا کرو گے تو کامیاب لوگوں میں نہ رہو گے۔۔۔ !!!!

    "آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہہ دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں۔۔۔گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو۔۔۔۔تو اللّٰہ تعالی سے ڈرتے رہو۔۔۔اے عقلمندو۔۔۔۔تاکہ تم کامیاب ہو۔۔۔”
    (المائدہ:100)

    ہم لوگ اپنی زندگی میں اکثر یہ جملہ بولتے ہیں ہیں کہ جو کام ساری دنیا کر رہی ہے۔۔۔وہ سب غلط ہیں کیا ؟
    چاہے وہ رسوم و رواج ہوں۔۔۔۔
    یا بے پردگی و بے ہودہ فیشنز۔۔۔
    ہم کثرت کے عمل سے impressed ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ !!!!!
    حالانکہ یہ سب شیطانی چالیں اور جال ہوتے ہیں کہ اس نے جو عزم کیا تھا:
    "اس نے کہا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا ہے۔۔۔میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لیئے آپ کی سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔۔۔۔
    پھر ان پر حملہ کروں گا ،ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے
    اور ان کے دائیں جانب سے
    اور ان کے بائیں جانب سے بھی اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیں گے۔۔۔۔
    اللّٰہ تعالی نے فرمایا:
    یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا۔۔۔۔”(الاعراف:18_16)۔

    یعنی قرآن ہمیں بتا رہا ہے۔۔۔۔کہ غلط چیز غلط ہی رہتی ہے چاہے کثرت میں ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔
    کسی بھی عملِ صالح کا معیار یہ نہیں ہوتا کہ اسے بجا لانے والے زیادہ ہی ہوں۔۔۔۔۔
    بلکہ اللّٰہ نے ایمان۔۔شکر۔۔۔تدبر کرنے والوں کے لیئے "قلیل” کا لفظ استعمال فرمایا کہ ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔ !!!

    "اے ایمان والو!!!
    اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو،اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔۔۔۔”
    (المائدہ:35)

    یعنی اللّٰہ کے قرب کا سبب بننے والے اعمال اختیار کرو۔۔۔
    امام شوکانی فرماتے ہیں:
    "وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہی۔۔۔۔تقویٰ اور دیگر خصال خیر پر صادق آتا ہے۔۔۔۔جن کے ذریعے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔”

    "اے ایمان والو!
    ثابت قدم رہو،اور ایک دوسرے کو تھامے رہو اور رباط کے لیئے تیار رہو،،اور اللّٰہ تعالی سے ڈرتے رہو تاکہ مراد کو پہنچو۔۔۔”
    (آل عمران)۔۔۔۔

    صبر کرو یعنی طاعات کے اختیار کرنے اور شہوات و لذت کے ترک کرنے میں اپنے نفس کو مضبوط اور ثابت قدم رکھو۔۔۔
    جنگ کی شدت میں دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہو۔۔۔۔
    اسے مرابطہ کہا جاتا ہے۔۔۔!!!

    "اے ایمان والو!
    جب تم کسی مخالف قوت سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللّٰہ کو یاد کرو۔۔۔تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔۔۔”

    (الانفال)

    "اے لوگو جو ایمان لائے ہو!
    رکوع اور سجدہ کرتے رہو،اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو۔۔۔۔اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔۔”(الحج:77)

    "یقیناً ایمان والے فلاح پا گئے۔۔۔
    جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔۔۔
    اور جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔۔۔”
    (المؤمنون 3_1)۔

    "اے مسلمانو!
    تم سب کے سب اللّٰہ کی طرف توبہ کرو،تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔”
    (النور:31)

    اپنی سابقہ غلطیوں پر سچے دل سے معافی مانگتے رہنا۔۔۔۔توبہ کرتے رہنا۔۔۔۔مغفرت طلب کرتے رہنا۔۔۔۔
    کامیاب لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے۔۔۔ !!!!

    "جب تم نماز پڑھ چکو،تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللّٰہ کا فضل تلاش کرو،اور کثرت سے اللّٰہ کا ذکر کرو تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔”
    (الجمعہ:10)
    اللّٰہ کے ذکر۔۔۔۔اذکار،تسبیحات،قرآن کی تلاوت۔۔۔۔وغیرہ سے اپنی زرہ بکتر کو۔۔۔۔حفاظت کے حصار کو اور مضبوط کرتے رہو۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
    اور اسی سے روزی طلب کرتے رہو۔۔۔اطاعت کے ذریعے اسی کی طرف وسیلہ پکڑو۔۔۔۔کیونکہ اسی کی احکامات کی اطاعت اور اسی کی طرف انابت بابرکت اور کشادہ روزی کا بہت بڑا سبب ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "اور جہاں تک ہوسکے اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ۔۔۔اور اللّٰہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو ، جو تمہارے لیئے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے،وہی کامیاب لوگوں میں ہے۔۔۔۔”
    (التغابن:16)
    یعنی اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں سنتے جاؤ۔۔۔۔مانتے جاؤ۔۔۔۔عمل کی راہ سے گزرتے چلے جاؤ۔۔۔۔یہی اصل فلاح ہے۔۔۔۔
    یہ نہیں کہ سن تو لیا مگر عمل۔۔۔۔۔؟؟؟

    "یقیناً فلاح پا گیا،جس نے اپنے(نفس)کا تزکیہ کر لیا۔۔۔۔”
    (الاعلیٰ:14)۔
    کیونکہ
    شریعت کی نظر میں کامیاب وہ ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے اپنے رب کو راضی کر لے،اور اس کے بدلے میں آخرت میں اللّٰہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پا جائے۔۔۔۔ !!!!

    الٰہی۔۔۔ !!!
    ہمیں فلاح کی راہوں پہ چلا کر فلاح یاب لوگوں میں شامل کر دے۔۔۔۔آمین۔۔۔ !!!
    کہ جو تیرے بتائے ہوئے فلاح کے راستوں پر چل گئے وہی حقیقی کامیاب ہیں۔۔۔۔جو اس یقین کی راہ پر چل پڑیں،
    باعث فخر منزلیں ان سے ہمکنار ہو جاتی ہیں۔۔۔ !!!!!
    جبکہ اس دنیا میں کامیابی کو ماپنے کے پیمانے اور معیار تو مختلف رکھے جاتے ہیں ناں۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

  • ” روح کی غذا۔۔۔۔”    جویریہ چوہدری

    ” روح کی غذا۔۔۔۔” جویریہ چوہدری

    جس طرح ایک جسم کو صحتمند رکھنے کے لیئے اچھی اور معیاری خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔
    اسی طرح روح کی قوت اور توانائی کے لیئے بھی معیاری اعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔ !!!!!

    جب ہم اپنے دل کی دنیا میں بغاوت،نافرمانی اور اللّٰہ تعالی کی ناراضگی والے کاموں کی تخم ریزی شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔
    تو آہستہ آہستہ یہ بد عملی سیاہی بن کر ہمارے دل کو ڈھانپ لیتی ہے۔۔۔۔
    اس روح کی تسکین کا پہلا مرحلہ تو اپنے خالق کی صحیح معنوں میں پہچان ہے۔۔۔۔
    اس کی توحید ربوبیت،الوہیت،اور اسما وصفات پر صحیح معنوں میں ایمان ہے۔۔۔
    جب ہم اس چیز کو سمجھ کر اپنا لیتے ہیں۔۔۔۔تو پھر ہمارے قدم ٹیڑھے نہیں ہو سکتے۔۔۔۔
    ہماری روح سرشار رہتی ہے۔۔۔۔۔
    تنگ نہیں ہوتی۔۔۔۔فرمانبرداری ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن جاتی ہے۔۔۔۔
    روح کے کمزور ہونے کی وجہ قضا و قدر پر راضی نہ ہونا ہے۔۔۔۔
    یعنی جب ہم اللّٰہ تعالی کی حکمت،فیصلوں پر کھلے دل سے اطمینان ظاہر نہیں کرتے۔۔۔۔
    شکوہ و شکایت زبان پر لاتے ہیں۔۔۔
    مقدر کو کوستے ہیں۔۔۔تو پھر یہ روح توانا نہیں رہتی۔۔۔۔۔قوتِ ایمانی کمزور پڑ جاتی ہے۔۔۔۔
    اور انسان رفعتوں سےگہرائی کی طرف سفر کرنے لگتا ہے۔۔۔۔ !!!!!

    یہ دنیا چند دنوں کی ہے۔۔۔یہاں ملنے والی کوئی چیز،اور نعمت بھی پائدار نہیں ہے۔۔۔۔
    ہر شئے کا یہاں خاصہ جدائی ہے۔۔۔۔!!!!!!
    تو پھر ہم کیوں اس تھوڑے سے وقت کے لیئے نہ ختم ہونے والے وقت کو برباد کر دیں۔۔۔۔!!!!!!!!

    اللّٰہ کے ذکر اور یاد سے اعراض بھی ہماری روح کو کمزور کر دیتا ہے۔۔۔۔۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے،اور اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا۔۔۔۔زندہ اور مردہ شخص کی طرح ہے۔۔۔”
    (صحیح بخاری)۔

    یعنی ہماری روحانی طاقت کے لیئے اللّٰہ کا ذکر کتنی اہمیت رکھتا ہے کہ اسے زندہ اور مردہ سے تشبیہہ دی گئی ہے۔۔۔۔

    ارشاد ربانی ہے:
    "اور(ہاں)جو میری یاد سے روگردانی کرے گا،اس کی زندگی تنگ رہے گی اور روز قیامت ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔۔۔”
    (طٰہٰ:124)

    پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم ملا:
    اپنے پروردگار کی تعریف اور تسبیح بیان کرتا رہ۔۔۔۔سورج نکلنے سے پہلے،اور اس کے ڈوبنے سے پہلے،رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا رہ۔۔۔۔بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے۔۔۔”
    (طٰہٰ:130)۔

    اس اتنے اوقات کی تسبیح و تحمید میں نماز،تلاوت،ذکر واذکار،دعا و مناجات،نوافل وغیرہ سب شامل ہیں۔۔۔۔!!!!!!!

    مگر ہمارے پاس دن بھر سوشل میڈیا پر انگلیاں چلانے کا وقت تو بہت۔۔۔۔لیکن نماز کے اوقات کھو جانے کا ذرا غم نہیں ہوتا۔۔۔
    ٹیلی ویژن کی سکرین۔۔۔۔فلموں کی لذت۔۔۔۔لہو الحدیث میں مبتلا ہو کر۔۔۔۔حی علی الفلاح کی صدا پر نرم و ملائم بستر میں گھسے رہ کر۔۔۔
    دل میں ندامت کروٹ نہیں لیتی اور نماز اور دیگر فرائض کی فکر اور ضرورت سے لا تعلق رہ جاتے ہیں۔۔۔۔
    پھر روحانی بالیدگی کے اثرات ایسے شخص پر کیسے نمودار ہو سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟؟
    ہماری روح تسکین کی دولت سے مالا مال کیسے ہو۔۔۔۔؟؟؟
    اللّٰہ کی رضا کی متلاشی اطمینان پانے والی روح بے مقصد زندگی نہیں گزارتی۔۔۔۔
    زندگی کے سفر میں گناہ سرزد ہو بھی جائیں تو سچے دل سے رجوع الی اللہ اور توبہ کرتی ہے۔۔۔۔

    توبہ کی امید پر گناہ نہیں۔۔۔کیونکہ ایمان والوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    "ان سے جب کوئی ناشائستہ کام ہو جائے،یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللّٰہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لیئے استغفار کرتے ہیں۔۔۔
    فی الواقع اللّٰہ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟
    اور وہ لوگ باوجود علم کےکسی برے کام پر اَڑ نہیں جاتے۔۔۔”
    (آل عمران:135)۔
    سچی توبہ کر لینے والی کی روح شاد باد ہو جاتی۔۔۔۔یہ اللّٰہ کا وعدہ ہے کہ گناہوں کا اعادہ نہ کرنے والے سے پچھلے گناہوں کی بازپرس نہیں ہو گی۔۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "گناہ سے(سچی)توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے،گویا اس کے ذمہ کوئی گناہ ہی نہیں۔۔۔”
    (ابن ماجہ_کتاب الزہد)۔

    مگر جو سود کو حرام سمجھتے ہوئے بھی اسی میں دھنسا جا رہا ہو۔۔۔۔
    جو شراب سے توبہ کر کے پھر پی رہا ہو۔۔۔۔
    جو فحاشی و بدکرداری کو گناہ سمجھتے ہوئے بھی اعادہ کرتا اور ترویج و اشاعت کرتا جا رہا ہو۔۔۔۔
    توبہ کر کے پھر توبہ کی امید پر گناہ کرتا چلا جائے۔۔۔
    تو اس کے پاس کیا گارنٹی ہو گی کہ وہ مرنے سے پہلے ضرور ہی توبہ کر لے گا۔۔۔۔؟؟؟؟
    موت کا شکنجہ اسے سنبھلنے بھی دے گا کہ نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟؟
    دنیا کی لذتوں کی خاطر اپنے نفس کا تزکیہ نہ کرنا بہت بڑی محرومی ہے۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "بے شک اس نے فلاح پا لی جو پاک ہو گیا۔۔۔جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔۔۔
    لیکن تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔۔۔اور آخرت بہت بہتر اور بقا والی ہے۔۔۔”
    (الاعلیٰ:14_17)۔
    اپنے دل کو شرک کی آلودگی،نافرمانی کے کاموں۔۔۔حسد،بغض،برائی،قطع رحمی،والدین سے بد سلوکی، ظلم و زیادتی اورحرام مال کی محبت سے پاک صاف کر لینے۔۔۔۔
    اپنے دل کی دنیا میں ایمان،توحید،اطاعتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم،عملِ صالح،صلہ رحمی،تقویٰ اور قضا و قدر پر راضی برضا رہنے۔۔۔۔۔
    والوں کی روحیں اطمینان کے گھر میں داخل ہوں گی۔۔۔۔جسے علیین کہا گیا ہے کہ:
    یہ علو (بلندی)سے ہے جس میں نیک لوگوں کے نامۂ اعمال،اور روحیں رکھی جاتی ہیں۔۔۔جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔۔۔۔
    جبکہ بدکرداروں کے نامۂ اعمال اور روحیں سجین میں رکھے جائیں گے۔۔۔۔
    سِجِّینِِ۔۔۔۔سجن سے ہے۔۔۔تنگ و تاریک مقام۔۔۔۔گھٹن والا ماحول۔۔۔قید خانہ نما۔۔۔۔۔ !!!!!!
    اطمینان والی روح۔۔۔۔۔ایمانی قوت سے آراستہ ہو کر جب پرواز بھرتی ہے تو اعلان ہوگا:
    "اے اطمینان والی روح !!!!
    تو اپنے رب کی طرف چل،اس طرح کہ تو اس سے راضی۔۔۔۔وہ تجھ سے خوش۔۔۔۔
    پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا۔۔۔۔اور میری جنت میں چلی جا۔۔۔۔۔”
    (الفجر:27_30)۔
    اللھم اجعلنا منھم۔۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔!!!!!!!
    حافظ ابن کثیر نے ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا:
    (اللھم انی اسأَلک نفساً،بک مطمئنۃً،تُؤمِنُ بلقآئک،و ترضیٰ بقضآئک،و تقنع بعطآئک)۔۔۔(ابن کثیر)۔۔۔۔ !!!!!
    اللّٰہ ہمیں جسمانی و روحانی طور پر طاقتور بنا دے۔۔۔۔
    کہ جس سے ٹکرا کر ہر شر پاش پاش ہو جائے۔۔۔۔آمین
    اور ہمیں اپنے مقربین میں سے کرنا۔۔۔۔۔ہماری روحیں اعلیٰ علیین میں جگہ پا سکیں۔۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔۔۔ !!!!!!!

  • بنو قریظہ کا خندق کی جنگ میں کردار اور موجودہ حالات     جواد سعید

    بنو قریظہ کا خندق کی جنگ میں کردار اور موجودہ حالات جواد سعید

    خندق کی جنگ بنو قریظہ کے بغیر کبھی بھی وجود میں نہ أتی

    یہ پوسٹ أج نظر سے گزری ۔
    جو کہ أجکل کے حالات میں کفار سے دوستی یا خود مختاری پر غیروں کی امداد۔ وحدہ لا شریک کی مدد سے بے اعتنای برتتی محسوس ہو رہی تھی۔اور شاید کہ مسلم ملک کے زیر اہتمام مودی کو ایوارڈ دینے پر کی جانیوالی تناقید کا جواب تھا۔

    اس نظریے کے رو سے دو تین پہلو نکالے جا سکتے اور تقریبا علاوہ ایک سب غلط ہیں۔
    1⃣پہلا پہلو کہ بنو قریظہ ک بغیر جنگ جیتنا ناممکن تھی
    تو اسکا جواب ہے بدر احد خیبر سبھی بغیر کفار کی مدد سے جیتے۔
    کیا اسوقت بنو قریظہ کا نام وجود قبیلہ نہیں تھا۔؟

    2⃣دوسرا پہلو کہ اس عمل کی رو کفار سے دوستی مصالحانہ معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
    ضرور کیا جا سکتا مگر صرف معاہدہ ۔اس میں بھی ایک حد ہے۔نبی صل اللہ علیہ وسلم نے دوستی نہیں ہمیشہ معاہدانہ رویہ رکھا۔جیسے ہی کسی معاہد نے مخالفت کی۔بجایے طرز دوستی اور بمطابق أج کے مسلمان
    کہ دوستی لگا کر انکی غلط پیش قدمیوں پر بھی انکے احسانات یاد کر کر کے نظر انداز کرنا۔
    ان پر چڑھای کر دی۔ بنو قریظہ کا تو مدینے سے نام ختم کر دیا۔نا کہ انھیں معاف کیا۔اور بعد والوں کیلیٕ تاکید فرمای کہ عرب سے یہود کا انخلا لازمی کرنا۔
    ٕ
    3⃣تیسرا پہلو کہ خندق کی جنگ بنو قریظہ کی مرہون منت ہے۔تو یاد رکھیے جنگ خندق معاملہ تدابیر بہت پہلے سے شروع تھیں
    بنو قریظہ سے معاہدہ تو ایک مصلحت بھرا معاہدہ تھا جسے دنیا تدبیر کے نام سے جانتی ہے۔ اور یہ جنگی تیاری کے أخری مراحل میں وقوع پذیر ہوا۔ مزید کہ اسکے ساتھ کٕی اور قبایل بھی تھے جن سے معاہدہ کیا گیا۔
    کیا انکا کوی نام مدد نہیں حالانکہ سب برابر شامل تھے؟

    4⃣أخر میں ایک پہلو کو ٹھیک کہا جاسکتا۔
    کہ بنو قریظہ ودیگر قبایل سے معاہدہ جنگ خندق کے مزید مشکل نہ ہونے کا سبب بنا

  • بگٹی قبیلے سے سرداری نظام کا خاتمہ   آغا نیاز مگسی

    بگٹی قبیلے سے سرداری نظام کا خاتمہ آغا نیاز مگسی

    بگٹی قبیلے کا شمار بلوچ قوم کے اہم ترین ، طاقتور اور جنگجو قباٸل میں ہوتا ہے . اس قبیلے کا آخری سردار نواب محمد اکبر خان بگٹی گزرے ہیں . ان کی وفات 26 اگست 2006 میں ضلع کوہلو کے ایک پہاڑی غار میں پہاڑی تودہ گرنے کے نتیجے میں ہوٸی . وہ حکومت سے اختلافات کے باعث اپنا آباٸی شہر اور بگٹی قبیلے کے مرکزی صدر مقام ڈیرہ بگٹی چھوڑ کر روپوشی کی زندگی گزارنے یا مزاحمت کے اردادے سے یہاں مقیم ہو گٸے تھے . ان کی ہلاکت کے اس سانحے کے اصل حقاٸق آج تک سامنے نہیں آ سکے ہیں .

    بگٹی قبیلہ ایک طویل عرصے تک نواب اکبر بگٹی کو نہ صرف اپنا متفقہ سردار تسلیم کرتا رہا بلکہ ان کو کسی بھی پیر و مرشد سے زیادہ عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتا تھا. بہت سے سادہ لوح افراد کسی کو اپنی بات پر باور کرانے کی غرض سے نواب بگٹی کے سر کی قسم یا ان کی داڑھی کی قسم کھاتے تھے . لیکن سنہ 2000 کے بعد بگٹی قبیلے میں اندرونی اختلافات شدید تر ہوتے گٸے اور کچھ حلقوں میں اپنے سردار کے خلاف بغاوت کے آثار پیدا ہونا لگے .

    24 اگست 2006 کو ڈیرہ بگٹی میں بگٹی قبیلے کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں خود نواب بگٹی کے بھتیجے رکن صوباٸی اسمبلی میر جمل خان بگٹی سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی . اس جرگہ میں متفقہ طور پر نواب اکبر بگٹی کو بگٹی قبیلے کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا تھا اور بگٹی قبیلے سے مستقل طور پر سرداری نظام بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا. اس جرگے میں حکومت اور مری قبیلے سے مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ نواب بگٹی ضلع کوہلو میں روپوش ہے وہ ان کو گرفتار کرا کے ہمارے حوالے کرانے میں مدد اور تعاون کریں تا کہ ہم اپنے قبیلے کی صدیوں پرانی روایات کے تحت اکبر بگٹی کٕے متعلق ان کے جراٸم کے مطابق سزا کا فیصلہ کر سکیں .

    میں بگٹی قبیلے کے اس تاریخی جرگے میں بطور مبصر شریک تھا. جب جرگہ ختم ہوا تو میں نواب اکبر بگٹی کے بھتیجے اور ایم پی اے حاجی میر جمل خان بگٹی کے پاس گیا اور ان سے اس تاریخی قباٸلی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں کچھ سوالات کیٸے مگر انہوں نے مجھے ہاتھ جوڑ کر جواب دینے سے معذرت کی اور میرے رخصت ہونے پر انہوں نے اپنے کمرے کو اندر سے کنڈی لگا کر بند کر دیا. مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آٸی کہ اس میں کیا راز تھا . ٹھیک 2 روز بعد 26 اگست 2006 کو ضلع کوہلو کے پہاڑوں میں نواب اکبر بگٹی کی وفات کا سانحہ پیش آیا . ایک دلچسپ بات یہ کہ نواب اکبر بگٹی کی وفات کے ایک سال بعد بگٹی قبیلے کے کچھ معتبرین نے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر اکبر بگٹی کے پوتے میر عالی بگٹی کو بگٹی قبیلے کا نواب منتخب کر لیا . اس تقریب میں دیگر کسی بھی بلوچ قبیلے کے نواب یا سردار نے شرکت نہیں کی تھی . بگٹی قبیلے کی اکثریت نےبھی ان کو سردار تسلیم کرنے سے انکار کر دیا . میر عالی کے بطور نواب دستار بندی کے بعد بگٹی قبیلہ 3 واضح دھڑوں میں تقسیم ہو گیا . ایک دھڑا عالی کی حمایت میں دوسرا دھڑا نوابزادہ براہمدغ بگٹی کی حمایت میں آ گیا اور تیسرے دھڑے نے دونوں کی حمایت نہیں کی اور سرداری نظام سے لاتعلق ہو گٸے . نواب میر عالی بگٹی کی دستار بندی سوٸی میں ہوٸی تھی وہ وہاں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد خود کو شاید کمزور یا بگٹی قبیلے کے اندرونی اختلافات کے باعث خود کو غیر محفوظ کرنے لگے جس کی وجہ سے وہ سانگھڑ سندھ چلے گٸے کیوں کہ وہاں بھی ان کی اراضیات اور بستی آباد یے. اس کے بعد آج تک ڈیرہ بگٹی نہیں آ سکے لیکن نواب عالی کے حامی افراد وقتاً فوقتاً حکومت سے اپیل کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے نواب کو ڈیرہ بگٹی لایا جاٸے . ان کے اس مطالبے اور اپیل سے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ اس اپیل کے پیچھے خود عالی بگٹی کی منشا شامل ہے اور یہ اپیل اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ میر عالی خان بگٹی حکومت کی مدد کے بغیر ڈیرہ بگٹی کبھی نہیں آ سکتے . جبکہ نواب اکبر بگٹی کے ایک اور پوتے نوابزادہ براہمدغ بگٹی کچھ عرصہ ریاست کے خلاف مزاحمتی تحریک چلاتے رہے اس کے بعد افغانستان فرار ہو گٸے پھر وہاں سے وہ سوٸیٹزر لینڈ چلے گٸے اور وہاں پناہ حاصل کی .

  • پوری قوم کی ایک آواز قومی زبان میں یکساں نصاب!!   فاطمہ قمر

    پوری قوم کی ایک آواز قومی زبان میں یکساں نصاب!! فاطمہ قمر

    سابق حکومت کی طرح سے نہیں کہ یکساں نصاب کا نعرہ لگاتے ‘ لگاتے ائین پاکستان کو پامال کرتے ہوئے اور قائد اعظم کے فرمان کی نافرمانی کرتے ہوئے تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو انگریزی میڈیم کر کے وہ ہولناک تباہیاں مچائیں کہ جس کا تصور بھی محال ہے۔۔بجائے اس کے ‘ کہ نجی تعلیمی اداروں پر لاگو کیا جاتا کہ وہ ائین پاکستان کی روشنی میں اپنے تمام تعلیمی اداروں کو اررو میڈیم کر کے قومی دھارے میں شامل ہوں۔ الٹا ان لوٹ مار اداروں کے مفاد میں پاکستان کے سرکاری تعلیمی اداروں کا بیڑہ غرق کردیا گیا۔ قوم آپ کو متنبہ کرتی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد ” یکساں نصاب ” کو انگریزی میں مسلط کرکے اب یہ دھول قوم کی آنکھوں میں نہ جھونکی جائیں! غیر ملکی زبان میں تعلیم دینا نہ صرف فطرت کے قوانین سے بغاوت ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی نفی ہے۔ دنیا کا اصول ہے کہ جس ملک کی جو رابطے کی زبان ہے’ زرائع ابلاغ کی زبان ہے وہی تعلیم کی بھی زبان ہے۔کسی بھی مہذب دنیا میں یہ تصور ہی محال ہے کہ ملک کسی اور قوم کا ہو اور زبان کسی اور قوم کی۔ فرانس’ ترکی’ برطانیہ’ امریکہ’ چین ‘ جاپان’ کوریا ‘ اٹلی وغیرہ کی مثال ہمارے سامنےہے۔ یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے پاکستان قومی زبان تحریک کے بانی ‘ سینئر سائنسدان ماہر تعلیم پروفیسر اشتیاق احمد نے سے ایک بہت سستا’ قابل عمل ‘ جلد نتیجہ خیز خاکہ تشکیل دیا ہے۔ جو پاکستان سٹیزن کونسل کے اس سیمینار میں پیش کیا گیا جس کے اپ مہمان خصوصی تھے۔ جس میں اپ نے عین وقت پر شرکت سے معذرت کرلی تھی۔ اس محفل کے شرکاء پاکستان کے انتہائی باشعور ‘ اہل الرائے پاکستانی تھے۔جنہوں نے اس نصابی تعلیم کے خاکے کی منظوری بھاری اکثریت کے ساتھ کی۔ یہ نصابی خاکہ پرائمری تعلیم سے لے کر پی ایچ ڈی تک ہے۔ اس خاکے میں پرائمری تعلیم صرف اردو اور مادری میں زبان میں کی گئ ہے اور انگریزی کو ثانوی سطح پر ایک اختیاری مضمون کی حیثیت دی گئ ہے۔ ہم سفارش کرتے ہیں کہ کوئی بھی نصابی خاکہ تشکیل دینےسے پہلے پروفیسر اشتیاق احمد کے پیش کردہ اس یکساں نصاب کے خاکے کو ہرحال میں مد نظر رکھا جائے۔
    یہ حکومت تبدیلی کے نام پر وجود میں ائی ہے لہذا یہ عدالت عظمیٰ کے حکم کی روشنی میں تمام تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب قومی زبان میں نافذ کر کے قوم کی امنگوں کو پورا کرے!!

    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن اور کشمیر و فلسطین — بلال شوکت آزاد

    مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن اور کشمیر و فلسطین — بلال شوکت آزاد

    آج دنیا بھر میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ دن مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندوں اور تشدد پسندوں پر اجتماعی لعنتیں بھیجنے کے دن کے طور منایا جانا چاہیئے۔

    میرے علم کے مطابق اللہ نے آسمان سے کوئی مذہب اور عقیدہ آدم علیہ سے لیکر حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم تک ایسا نہیں اتارا جو بندوں کو انتہا پسندی اور تشدد پر آمادہ کرے یا انہیں اس کا راستہ دکھائے البتہ بندوں نے حسب منشاء اور اپنی انتہا پسندانہ سوچ کی پرورش کی خاطر مذاہب اور عقائد سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے کھلواڑ کیا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت آدم و حوا علیہ اسلام کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے عظیم عابد و زاہد کی مذہبی انتہا پسندی اور روحانی و نفسانی تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے ان علیہ اسلام کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا اور پھر یہ سلسلہ رکا ہی نہیں شیطان اور اسکی ذریت کی وجہ سے۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت موسی علیہ اسلام اور ان کی قوم کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم بادشاہ فرعون اور اسکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت عیسی علیہ اسلام کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم بادشاہ اور اسکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم سرداروں اور انکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    کس کس کا نام لوں اور کتنوں کو یاد کروں کہ ادھر تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ایسے انسانوں کے ناموں سے جو اپنے اپنے وقت میں اپنی جان, مال اور عزت سے گئے کہ ان کے مذاہب اور عقائد یکساں اور متفقہ نہیں تھے ان انتہا پسندوں کے مذاہب اور عقائد کے ساتھ جنہوں نے ان کا جینے کا حق چھین لیا۔

    حالیہ دنوں میں مذہبی اور عقیدہ جاتی انتہا پسندی کی عظیم الشان مثالیں اگر دیکھنی ہوں تو بھارت اور اسرائیل سے بہتر مجھے اور مثال نہیں ملتی کہ ان دو ممالک کے کیا خواص اور کیا عوام؟ دونوں طبقوں میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد پسندی اپنے عروج پر ہے اور ان کا شکار مسلمان ہیں, نہتے مسلمان, مظلوم و مقہور مسلمان, زبردستی کے غلام مسلمان قصہ المختصر کشمیر اور فلسطین کے مسلمان کہ وہ سب ان من حیث القوم مذہبی انتہا پسندوں کے مذاہب اور عقائد کی بنیاد پر انکی انتہا پسندی اور تشدد کا شدید شکار ہیں جبکہ دنیا بھر میں معروف امن کی فاختہ اور کبوتر, عالمی عدالت انصاف کی اندھی دیوی اور اقوام متحدہ جو کہ دراصل اقوام شرمندہ کا عالمی ادارہ ہے بھنگ پی کر سوئے ہوئے ہیں اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

    ایک کڑوی ترین حقیقت سے پردہ اٹھا دوں کہ نام نہاد انسانیت و انصاف اور رواداری کے علمبرداروں کی جانب سے اعلان کردہ "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کے دن” کی مروجہ و نافذالعمل تعریف پر دنیا کا ہر قدیم اور جدید مذہب, عقیدہ, نظریہ اور فرقہ پورا اترتا ہے اور شامل ہے سوائے اسلام اور مسلمانوں کے, نہیں یقین تو ذرا ضمیر کو جھنجھوڑ کر "گلوبل ویلیج” اور "انسانیت ایک مذہب” جیسے کھوکھلے نعروں سے باہر نکل کر نظر دوڑالیں تو آپ کو ایسے ایسے کڑوے سچ سننے پڑھنے اور دیکھنے کو ملیں گے جس کے بعد آپ خود پر خودکشی کو حلال اور فرض کرلیں گے۔

    کیا پاکستان کا قیام اور وجود "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن” کی واضح اور روشن مثال نہیں کہ جب برصغیر پاک و ہند کی ایک مذہبی اکثریت مذہب و عقیدہ کی بنیاد پر انتہا پسند اور تشدد پسند قوم میں بدلی تو اس قوم کی شکار ایک دوسرے مذہب کی اقلیت ہوئی تو پھر جنم لیا "دو قومی نظریہ” اور "تحریک آزادی” پاکستان نے اور بالآخر پاکستان نقشے پر ابھر کر آیا۔

    اپنے پڑوسی ملک بھارت کی ہی بات کریں کوئی بھی غیر جانبدار انسان, ادارہ, سیاسی پارٹی اور تتظیم چھٹتے ہی بھارت کو مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسند اور پر تشدد ملک قرار دیدے گا کہ کشمیر میں ہر منٹ پر یہ سوکالڈ سیکیولر جمہوریت مذہب کارڈ کی بنیاد پر قتل عام, ظلم, زیادتی, جبری گمشدگیوں, جنسی زیادتیوں اور تمام بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں میں پیش پیش اور سر فہرست ہے۔

    جس کسی انسانیت کے چیمپئن نے یہ دن "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن” تفویض کیا ہے دنیا کو وہ کوئی مہا منافق ماں باپ کی منافق اولاد ہے کہ جو مرگئے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوکر اسے ان کی یاد تو رہ گئی (جو کہ اچھی بات ہے) پر جو ہر منٹ پر کشمیر, فلسطین, شام اور اراکلن میں مر رہے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوکر اسے ان کی یاد نہیں آئی؟

    یہ "انسانیت عظیم مذہب اور عقیدہ” کے سطحی سوچ والے سوکالڈ پیروکار سارے ہی منافق ہوتے ہیں اور شومئی قسمت "انسانیت عظیم مذہب اور عقیدہ” میں جتنی انتہا پسندی اور تشدد پسندی پائی جاتی ہے شاید ہی کسی الہامی و انسانی ساختہ مذہب یا عقیدے میں اس کا اتنا وجود ہو؟

    میں ایسے دنوں کو متاثرین کے جلے پر نمک چھڑکنے کے مترادف سمجھتا ہوں کہ جو مرگئے انہیں ہماری دعائیں ہی کافی ہیں جبکہ جو زندہ ہیں پر مرنے کی کگار پر ہیں ہماری سوکالڈ انسانیت اور حکمت و مصلحت کی بھینٹ چڑھ کر ان کا کون پرسان حال ہے زمین پر اللہ کے بعد؟

    میں تو اس دن کی مناسبت سے بس یہی کہوں گا کہ جو لوگ اس دنیا سے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار ہوکر چلے گئے اللہ ان کے ساتھ انصاف پر مبنی معاملہ فرمائے پر جو لوگ اس دنیا میں ابھی بھی مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار ہو رہے ہیں اور حالت نزع میں ہیں اللہ ہمیں انہ سب کو اس ظلم سے نجات دلانے کی توفیق, ہمت اور ہدایت نصیب فرمائے۔