اسلام آباد: (نمائندہ خصوصی)چیئرمین کشمیر کمیٹی فخر امام نے کہا ہے کہ بھارت بہیمانہ ظلم و ستم کے ذریعے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبا نہیں سکتا، پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی عالمی برادری کے سامنے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کررہی ہے، پاکستانی نوجوان کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیر یوتھ الائنس کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں مقبوضہ جموں کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ ریاست کی خود مختار حیثیت کو ختم کرنے کے حوالے سے مختلف معاملات سمیت کشمیر کمیٹی کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران فخر امام نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی عالمی برادری کے سامنے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بہیمانہ ظلم و ستم کے ذریعے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہاکہ ایل او سی پر بھارت کی جانب سے سویلین آبادی پر کلسٹر بموں کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ کشمیر یوتھ الائنس کے چیئرمین سعد ارسلان صادق نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور نوجوان مقبوضہ جموں کشمیر کی مظلوم عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ وفد میں ڈاکٹر مجاہد گیلانی، ڈاکٹر سلمان شفی اور ڈاکٹر اسامہ ظفر شامل تھے۔
Author: Baaghi TV

انگریزی یا کوئی دوسری زبان بولنا کیسا ہے — عبداللہ قمر
زبانیں اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہیں، یہ بول چال کا ذریعہ ہیں اور بول چال ہی زندگی ہے. ذرا تخیل میں لائیے کہ اگر ہمارے آس پاس تمام لوگ مکمل طور پر خاموش ہوں، کوی کسی سے بات نہ کر سکتا ہو، اپنا پیغام کسی بھی طریقے سے نہ پہنچا سکتا ہو تو کیا تصویر بنے گی. ہم جذبات کسی دوسرے تک نہ پہنچا سکیں اور وہ ہمارے دل ہی میں رہ جائیں تو کیا گزرے گی. بولنے اور الفاظ کے معانی اور ان کی گہرائیوں اور مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے باجود ہمارے دل میں رہ جانے والے ہمارا جینا محال کر دیتے ہیں تو سوچیے جب ہمارے پاس وہ جذبات شیئر کرنے آپشن ہی نہ ہو تو وہ کرب کیسا ہو گا. یقیناً ہمارے جذبات، خیالات، احساسات اور افکار کا بوجھ لے کر نا ممکن کی حد تک مشکل ہو جائے گا. جب خیالات اور نظریات کا تبادلہ نہیں ہو گا تو بہت سے راستے آہستہ آہستہ بند ہو جائیں گے. یہاں تک بات ہے صرف زبان کی یا یوں کہہ لیجیے یہ اس دور تک کی بات جب انسان جنگلوں میں جانوروں کی طرح رہا کرتا تھا.
دنیا میں اس وقت سینکڑوں زبانیں بولی جا رہی ہیں. مگر انگریزی زبان کو زبانوں میں وہ حیثیت حاصل ہو گئی ہے جو موبائل فونز میں آئی فونز کو حاصل ہے، یعنی کہ status سمبل. انگریزی زبان قابلیت اور تربیت ماپنے کا معیار بن چکا ہے. اگر کوئی شخص انگریزی کے دو چار لفظ ذیادہ بول لیتا ہے خواہ اس نے وہ کیسے ہی سیکھے ہوں، اسے نسبتاً بہتر سمجھا جاتا ہے. اور کوئی قابل اور با صلاحیت انسان اگر انگریزی نا جانتا ہو تو اسے اس معاشرے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے. میں اپنے بہت ہی چھوٹی سی زندگی میں لوگوں کو صرف اس احساس کمتری کی وجہ سے اگلی صفوں سے پچھلوں صفوں میں جاتے دیکھا ہے کہ ان کی انگریزی اچھی نہیں تھی اور صرف اس وجہ سے وہ اپنے آپ کو اگے کی صفوں پر سکون محسوس نہیں کرتے تھے. اگر انصاف کے ساتھ کہا جائے تو انگریزی زبان کی جان پہچان کی بنیاد پر لوگوں کی قابلیت کا فیصلہ کرنا ظلم ہو گا، جی ہاں ظلم.
ابھی ہم اس بحث نہیں الجھتے کہ ہم من حیث القوم انگریزی زبان کی غلامی کا شکار کیوں ہیں. زبانیں سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں اور وہ زبانیں جو رائج وہ تو ضرور سیکھ لینی چاہیے. اس وقت بدقسمتی سے انگریزی شبان سٹیٹس سمبل بن چکی ہے. لوگ لپک لپک کر انگریزی زبان سیکھ رہے ہیں، مختلف ادارے ملک بھر موجود ہیں جو انگریزی پڑھنے، بولنے، لکھنے اور سننے کا ہنر سیکھاتے ہیں. یونیورسٹیز میں چار کی باقاعدہ ڈگری کروائی جاتی ہے. میں انگریزی سیکھنے، بولنے اور لکھنے کا ناقد نہیں ہوں. میں انگریزی ادب اور تاریخ کا طالبعلم ہوں اور عموماً انگریزی زبان میں بلاگنگ کرتا ہوں. لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انگریزی سیکھنے کے لیے ہمارا وژن اور مقصد ہمارے اذہان میں بالکل واضح ہونا چاہیے. ہمارا مقصد انگریزی بول کر کسی کو نیچا دکھانا یا کسی پر رعب ڈالنا نہیں ہونا. چلیں میں ان لوگوں کی بات بھی نہیں کرتا جنہیں انگریزی بول کر شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے. آپ مقصد کچھ بھی مثبت ہو سکتا ہے مگر انگریزی زبان سے مرعوبیت نہیں ہونی چاہیے. آپ کا مقصد کچھ نیا سیکھنا بھی سکتا ہے مگر آپ اس کی بنیاد پر اپنے کو افضل تصور نہیں کر سکتے. ذمہ دار اور نظریاتی ریاست کے فرض شناس شہری ہونے کی حیثیت سے آپ کا مقصد اقوام عالم کے سامنے اپنی قوم اور اپنی ریاست کے بیانیے کا دفاع بھی ہو سکتا ہے. لیکن وہ لوگ بھی لوگ بھی انصاف نہیں کرتے جو ان انگریزی لکھنے اور بولنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں. ہم اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ انگریزی زبان وقت کی ضرورت ہے اور پاکستانی سوشل میڈیا اور بلاگنگ کی دنیا میں سمجھدار ہونے کے ساتھ ساتھ انگلش زبان میں لکھنے والے بھی ضرور ہونے چاہیے. میں کسی کو ترغیب نہیں دیتا کہ آپ انگلش میں کام کریں لیکن بلاگنگ کی دنیا میں انگلش زبان میں کام کرتے ہیں میں ان کی حوصلہ افزائی ضرور کروں گا. از راہِ تفنن غرض ہے کہ جب بندہ سارا دن انگریزی میں ہی پڑھتا ہے اور انگریزی میں ہی لکھتا ہے تو اس کا کچھ نا کچھ اثر تو انسان کی زندگی پر ضرور پڑتا ہے. زبان اس مین رچ بس سی جاتی ہے اور زبان سیکھنا بنیادی طور پر ہے ہی ایک پریکٹس، تو کچھ رعایت دے دیا کریں جو لوگ نارمل حالات میں بھی آپ کو انگریزی میں جواب دیتے ہیں. ہی


شہباز شریف کی گرفتاری سے متعلق ایسی خبر آ گئی کہ ن لیگ پریشان ہو گئی
مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 23 اگست کو عدالت میں پیشی کے موقع پر گرفتار کئے جانے کا امکان ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور مریم نواز سمیت بعض دیگر لیگی رہنما پہلے سے جیل میں ہیں اور مقدمات بھگت رہے ہیں. اسی طرح شہباز شریف بھی چوہدری شوگر ملز کیس اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سکینڈل میں کرپشن الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ 23 اگست کو عدالت میں پیش ہوں گے، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو اس موقع پر گرفتار کیا جاسکتا ہے تاہم اس سلسلہ میں حکومت کا باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے،
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہباز شریف گرفتاری سے بچنے کیلئے کمر درد کا بہانہ بنا رہے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایسے معاملات میں ہمیشہ سیاستدانوں اور دیگر اہم شخصیات کی
جانب سے کمر درد کا بہانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ کمر درد کا کوئی ایسا ٹیسٹ نہیں ہوتا جس سے یہ پتہ چل سکے کہ مریض جھوٹ بول رہا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہیں ہے، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی بات کا اس لئے بھی اعتبار نہیں کیا جارہا کہ پہلے بھی وہ کمر درد کی بات کرتے رہے ہیں لیکن جب اسمبلی میں خطاب کی باری آئی تو انہوں نے ڈیڑھ گھنٹہ تک کھڑے ہو کر خطاب کیا اور انہیں اس میںکوئی پریشانی نہیں ہوئی،واضح رہے کہ چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کو نیب لاہور نے پہلے ہی گرفتار کر رکھا ہے جس کے بعد اب مزید تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اس کے شیئر ہولڈر شہباز شریف کو 23 اگست کو طلب کیا گیا ہے۔ چودھری شوگر ملز کیس میں کروڑوں ڈالر کی مبینہ منی لانڈرنگ کی گئی جس کے حوالے سے شیئر ہولڈرز سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں، اسی طرح لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سکینڈل میں بھی کرپشن الزامات پر شہباز شریف کو 23 اگست کو طلب کر لیا گیا ہے۔ شہبازشریف پر الزام ہے کہ انہوں نے بیوروکریسی کی مخالفت کے باوجود کمپنی بنانے کی منظوری دی اور بیرون ممالک سے کمپنیوں کو لا کر مہنگے داموں ٹھیکے دئیے۔

پاکستان، افغان جنگ اور تحریک آزادی کشمیر — عبدالرحمن
گزشتہ چند دنوں سے کچھ تحریریں پڑھنے کو مل رہی جن افغان اور کشمیر گوریلا وار کا موازنہ کیا جارہا ہے ایک مؤقف یہ ہے کہ اگر افغانستان میں امریکی شکست کا ذمہ دار پاکستان ہے تو پھر کشمیر میں ہونے والے ستم کا ذمہ دار بھی پاکستان ہے کہ ایک طرف اس نے وقت کی سپر پاور کو ناکوں چنے چبوادیے تو دوسری طرف ہندوستان جیسے مکار سے کشمیر کو نہ بچا سکا
کیا کشمیر یا افغانستان کی جنگ کی ہار جیت کا مکمل ذمہ دار صرف پاکستان ہے یا اس میں افغانیوں اور کشمیریوں کا بھی کردار ہے آئیے اس سے متعلق چند نقاط پر بات کرتے ہیںسب سے پہلے افغان قوم کی بات کرتے ہیں ذرا تاریخ دیکھیں تو یہ ہمیشہ سے جنگجو رہے ہیں غوری، غزنوی اور سوری سب انھی میں سے تھے اور ماضی قریب میں پچھلی ایک صدی سے یہ مسلسل جنگ کررہے ہیں پہلے برطانیہ پھر روس اور اب امریکہ گویا ان کی موجودہ نسل حالت جنگ میں ہی پیدا ہوئی اور پھر ان کو عسکری محاذ پر مختلف قوتوں کی علی الاعلان یا پھر بھرپور خفیہ حمایت ہی نہیں عملی مدد بھی شامل رہی روس کے خلاف امریکہ اور مکمل مسلم دنیا نے ان کی بھرپور مدد و حمایت کی اور امریکہ کے خلاف مسلم دنیا بالخصوص پاکستان نے ان کی مکمل مدد جاری رکھی
اس کے برعکس کشمیری قوم قیام پاکستان سے پہلے راجا ہری سنگھ سے لے اب تک مسلسل غلامی میں رہی اور(ماضی میں ) ان کا جذبہ حریت افغانوں سے موازنہ کرنا سراسر بے ایمانی ہوگا 65 کی جنگ میں پاکستان نے بہت کوشش کی کہ
منظم ہوئی عوام نے اس کی بھر پور حمایت تو کی اور مسلح جدوجہد میں تیزی آئی
یہ منظم اور بھرپور عسکری جدوجہد کا پہلا دور تھا جب کشمیریوں نے ہتھیار اٹھانے شروع کیے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کا اس میں کیا کردار تھا اور اس عسکری جدوجہد کو انجام تک پہچانے کے لیے شروع کی جانے والی کارگل جنگ اپنوں کی بے وفائیوں کی نظر ہوگئی اور پھر اس کے بعد امریکہ افغانستان میں آگیا اور پاکستان کے لیے مغربی محاذ بھی کھل گیا چونکہ امریکہ کا مقصد پاکستان اچھی طرح سمجھ چکا تھا
اور پھر پاکستان کو کچھ کڑوے گھونٹ بھرنے پڑے جن میں ایل او سی پر باڑ بھی شامل تھی ان تمام عوامل کی بنیاد پر کشمیر کی عسکری جدوجہد سست روی کا شکار ہو گئی
ادھر امریکہ افغانستان میں ایک سال
بھی نہیں ہوا تھا تو جذبہ حریت سے سرشار فاتح افغان قوم نے اس کو دن میں تارے دکھانا شروع کردیئے اور بھرپور گوریلا وار شروع کر دی
اگر آپ دیکھیں کہ تقریباً ایک لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں لیکن ان میں سے بندوق اٹھاکر لڑکر شہید ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے تو یقیناً آپ مایوس ہوں گے
2013 تک کشمیر کی حالت یہی رہی کہ لڑنے والوں کی اکثریت مقامی نہیں تھی اس دوران یقیناً سفارتی سطح پر پاکستان کے حکمرانوں نے سفارتی محاذ بالکل ٹھنڈا رکھا لیکن مودی کے مظالم اور پھر برہان مظفر وانی کی شہادت نے ایک بار پھر کشمیریوں کو بھارت کے خلاف عسکری طور پر کھڑا کردیا اور پاکستان کی کھلم کھلا عسکری حمایت کے لیے پاکستان موقع کی تلاش میں ہے مگر پاکستان پہل نہیں کرنا چاہتا ان شاء ﷲ تحریک آزادی کشمیر اس بار ضرور اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی


مسئلہ کشمیر اور ہم ––– حنظلہ عماد
کشمیر بانی پاکستان کے الفاظ میں پاکستان کی شہ رگ، اور ہرگز کوئی جذباتی جملہ نہیں بلکہ زمینی حقائق اس کے ناقابل تردید شواھد فراہم کررہے ہیں۔ عرصہ ایک صدی سے بالترتیب ڈوگرہ اورہندو غاصبوں کے خلاف کشمیری نبرد آزما ہیں یعنی تقسیم ہندوسان اور پاکستان بننے سے بھی پہلے، 19 جون 1947 کو ہی ریاست جموں و کشمیر میں الحاق پاکستان کی قراداد پیش ہوکر منظور ہوچکی تھی، بعد ازاں دھوکے بازی سے بھارت سرکار اس پر قابض ہوئی اور پاکستان کے ساتھ تنازعہ بڑھنے پر معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا گیا جہاں ابھی تک حل طلب ہے۔ بھارت میں نریندرا مودی کی حکومت نے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت قائم رکھنے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا۔ یوں دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا اب مسئلہ کشمیر حل ہوگیا اور بھارت نے کشمیر کو مستقل اپنا حصہ بنالیا ہے۔ یہ سراسر بے وقوفی تھی جس کی بھارت ہی میں موجود بہت سے صاحب عقل افراد نے بھی مخالفت کی۔ کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور پاکستان اس کا باقاعدہ فریق ہے اس لیے بھارت تنہا اس کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا لیکن یہ بات پاکستان میں بہت سے لوگوں کو سمجھانی بہت مشکل ہے۔ یہ فیصلہ سامنے آنے پر پاکستان میں بھی بھانت بھانت کی بولیاں سامنے آنے لگیں۔ ان میں اکثریت اس ملک سے نہایت مخلص تھے۔ ماسوائے چند ایک کے جو صرف یہی راگ الاپتے رہے کہ کشمیر بیچ دیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے صاحب الرائے اور لکھنے والے احباب مضطرب تھے کہ بھارت نے اس قدر بڑاقدم اٹھا لیا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے کوئی جوابی کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔ جذبہ حب الوطنی اور کشمیریوں سے محبت ان کے خون کھولائےدیتی تھی اور وہ بار بار شکوہ کناں تھے۔ بظاہر ہماری طرف سےایک خاموشی اور رسمی مذمتوں کے سوا کچھ نا تھا۔ کردیں گے، ہوگا، کیا جائیگا، یعنی مسقبل کے صیغے کی گردان تھی جو حکومتی حلقوں کی طرف سے جاری تھی۔ لیکن ماضی میں کچھ تلخ یادوں کی بدولت ان دعووں پر یقین کرنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ اس لیے بہت سے ہمارے احباب سوال اٹھانے پر حق بجانب تھے۔ اس پر انہیں الزامات کا بھی نشانہ بنیا گیا جو سراسر بے وقوفی تھی لیکن ایسا بھی نہیں کہ کشمیر پر پاکستان اس دفعہ روایتی مذمت ہی کررہا تھا تاہم یاد رہے کہ اگر اپنی سٹریٹجی فیس بک پر ہی عام کرنی ہے تو پھر دشمن سے تو لڑلیے ہم، البتہ اپنی افواج اور اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن یہاں تو ابراھیم علیہ السلام جیسے پیغمبر بھی کہہ اٹھے تھے کہ اللہ ایمان تو ہے لیکن آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ یہ حال ہمارا ہے کہ اپنے اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن ہمیں کوئی ایسے آثار بھی تو نظر آئیں کہ کچھ ہورہا ہے۔ اب اگرچہ معمولی لیکن بھر بھی کچھ آثار نظر آنے لگے ہیں کہ پاکستان اس بار معاملے کو سنجیدگی سے لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ایک مثبت خبر ہے۔ اگرچہ اس اجلاس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں تاہم یہ اس بات کی یقین دہانی ضرور ہے کہ پاکستان عالمی دنیا میں تنہا نہیں ہے۔ لیکن ایک تلخ حقیقت اور بھی کہ مسئلہ کشمیر اس بار بھی ہم دنیا میں نمایاں نہیں کرسکے ہیں بلکہ یہ بھارت ہے جس نے اس قدر بڑا قدم اٹھایا ہے کہ دنیا بولنے پر مجبور ہے۔ پاکستان نے ابھی معمولی سنجیدگی دکھائی ہے اور بھارت سرکارکے ہرکارے نیوکلیائی حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ حقیقت میں اس وقت مودی سرکار کی اپنے ہی پاؤں پر ماری گئی کلہاڑی کی بدولت بھارت سخت مشکل میں ہے۔ بھارت مخالف عالمی رائے عامہ کی وجہ سے اضطراب میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا کہ یہ جدید ریاست کا دور ہے اور یہاں میکاؤلی کا فلسفہ ہی چلتا ہے۔ ایک ارب انسانوں کی منڈی سے محض انسانی حقوق کی خاطر کچھ سخت معاملہ کرنے آج کل کا دستور نہیں ہے۔ لہذا پاکستان کو نہایت سنجیدگی اور متانت سے اپنے کارڈ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا شاید یہ آخری موقع ہے۔ لیکن ایک گزارش میری ہم وطن دوستوں سے جو سوشل میڈیا پر لکھتے بھی ہیں کہ ایک دوسرے پر فتوے مت بانٹو اور اختلاف کرنے کا ہنر سیکھ لو، پاکستان کے کردار سے اختلاف یا سوال اٹھائے جاسکتے ہیں اوراس کی وجہ صرف کردار میں کمی ہی نہیں آپ کی معلومات کی کمی بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری پاکستان سے ہرگز ناراض نہیں ہے اور آج بھی سبزہلالی پرچم ہی تھام کر کھڑے ہیں۔اس لیے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑنے والوں کے پشتیبان بنیں نا کہ آپس میں محاذ آراء ہوں ، اللہ ہمارا حامی ناصر ہو اور جلد کشمیریوں کو آزادی کی نعمت نصیب فرمائے۔ آمین


14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک — محمد عبداللہ اکبر
چودہ اگست نام سنتے ہی دل دماغ تھم جاتے ہیں اور ذہن چند دہائیاں قبل کے زمانے میں غوطے کھانے لگتا ہے۔
نسلِ نو سے تعلق ہونے کی بنا پر کچھ جدت کی لہروں سے تھپیڑے کھا کے اس وقت بڑے ٹھنڈے جذبے سینے میں سموئے بیٹھا ہوں اس لیے شائد وہ والا خلوص، وہ جذبے، وہ ہمت کی داستانیں اور وہ جرات کے علمبرداروں کی ترجمانی میرا قلم اس شدت کے ساتھ نہ کر سکے۔
ہاں بزرگوں سے وہ جذبے ان کی زبانی ضرور سن چکا ہوں۔ مجھے یاد ہے اپنا کچھ سال پرانا چودہ اگست جب چند الڑ سے جوان جو میرے ہی ہم عمر تھے بابا جی کے سامنے سے اپنے چہروں کو ہلال اور ستاروں سے مزین کئے ہوئے سائلنسر اتارے سیٹیاں بجاتے ہوئے گزرے۔
میری نظریں گزرنے والے ان جوانوں کا تعاقب کرنے میں محو تھیں کہ اپنے پہلو سے انا للہ وانا الیہ راجعون کی آواز سنی۔ ایک لمحے کے لیے مڑ کے بابا جی کی طرف دیکھا تو یہ الفاظ انہی بابا جی کے تھے جنہوں نے تحریک آزادئ پاکستان میں اپنے جگر گوشوں کو آنکھوں کے سامنے ہندوں کے نیزوں پہ لٹکتے اور اپنی بیٹیوں کی دراؤں کو ان کی برچھوں کے ساتھ لہراتے دیکھا۔
میں بزرگوں کے اس جملے کا پس منظر بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا پر پھر بھی سوال کر لیا کہ بابا جی آپ شائد کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ کہنے لگے بیٹا میں کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن بابا جی کی داڑھی کو تر کرنے والے آنسو مجھے بابا جی کے جذبات اور نکلنے والے الفاظ بہت اچھے انداز سے سمجھا چکے تھے کے بابا جی کیا کہنا چاہتے ہیں۔
خیر بابا جی نے کہا بیٹا جب قوموں کی نوجوان نسل کو انکی مقصدیت اور نظریے سے دور کر دیا جائے تو ایسے واقعات کا اپنی آنکھوں کے سامنے ہونا کچھ بعید نہیں۔ کہتے پاکستان بنانے میں ہمارا کوئی کمال نہیں، یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اگر اللہ نے اس نعمت کو ہماری جھولی میں کچھ لے کے اور آپکی جھولی میں بنا کچھ لئے ڈال دیا ہے تو اس کے تقاضے آج کی نسل کے لیے اتنے ہی بڑے ہیں۔
ان تقاضوں کو پورا کرنا ہے تو بس مقصدیت پاکستان اور نظریہ پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
تب ہی میں نے ان کے پاس کشمیر میں بننے والی حالیہ چند دنوں کی صورت حال کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے کہ بیٹا کشمیری بڑے خالص جذبوں کے ساتھ کھڑے ہیں باقی جو اللہ کو جو منظور ہو گا وہی ہونا ہے۔یہ بات تو اٹل ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا یے تو مٹ جاتا ہے۔ کشمیر میں چلنے والی حالیہ ظلم کی لہر اگرچہ بہت بڑی ہے پر آگے سے کشمیریوں کے جذبے بھی اتنے ہی بڑے ہیں یہی وجہ ہے کہ جنرل راوت نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا کہ سنگ باز لوگوں سے نمٹنا بندوق سے زیادہ مشکل ہے۔ اور اس نے یہ بات بھی کہی کہ ’’کاش سنگ بازوں کے ہاتھ میں بندوق ہوتی، کاش وہ ہم پر پتھر نہیں گولیاں چلاتے، پھر مجھے مزہ آتا پھر میں وہی کرتا جو میں چاہتا ہوں۔‘‘ اس جملے کو سلیس کرنا ہو تو مطلب یہ ہے کہ ’’کاش سب سنگ باز جنگ باز ہوتے، تو کھیل کا مزہ آجاتا۔‘‘
یہ گویا کشمیر انتضاضہ کی اخلاقی فتح ہے جس کافخریہ اعلان خود ایک جنرل کررہا ہے جو ایک ارب پچیس کروڑ آبادی والے ملک کا سپہ سالار ہے۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح پوری دنیا پر عیاں ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جب 313 کے عزائم بلند اود جواں ہوں تو شکست ایک ہزار کی تعداد والے لشکر کے نصیب میں ہی ہوتی ہے۔لیکن ظاہر سی بات ہے کہ نہایت غیر متناسب جنگ میں طاقت ور فریق ہی غالب رہتا ہے۔
لیکن وہ ظلم کر کے نہ ظاہری طور پہ تحریک آزادی کو دبا سکے ہیں اور نہ ہی باطنی طور پر۔
کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے باوجود بھارت سرکار ان کی تحریک آزادی کو دبانے کے قابل نہیں ہو سکے۔
انڈیا کا کشمیر میں پچس ہزار نئی فوجی کمک داخل کرنا بھی انڈیا کی کشمیر میں ہار کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔
اس وقت پاکستان کی عوام سیاسی و عسکری قوت کشمیر کے لیے اپنے عزائم واضح کر چکے ہیں کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ اور اس شہ رگ کو پاکستان کسی بھی قیمت پر ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں یے اور اسی طرح پاکستان کی کشمیر والے معاملے پہ سفارتی سطح پر کی جانے والی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔
کشمیری بھی حالیہ کرفیو اور آرٹیکلز کو ختم کرنے کے باجود کسی قسم کی ڈھیل اور ڈیل کے موڈ میں نہیں۔
چند گھنٹوں کے لیے ختم کئے جانے والے کرفیو میں کشمیری واضح پیغام دے چکے ہیں کہایک ہی نعرہ ہے، آزادی کا نعرہ ہے
ایک ہی مقصد ہے، آزادی مقصد ہے
آؤ ستم گرو ہُنر آزماتے ہیں
تم تیر آزماؤ ‛ہم جگر آزماتے ہیں

عید قربان، جشن پاکستان اور کشمیریوں کو پیغام —- غنی محمود قصوری
اس مرتبہ عیدالاضحی یعنی عید قربان اور جشن آزادی یعنی یوم آزادی پاکستان ایک ساتھ آئے ہیں مگر المیہ کہ اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں ہندو پلید نے ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے کم و بیش ایک ہفتے سے زائد دنوں سے پوری وادی میں کرفیوں نافذ ہے انٹرنیٹ سروس و موبائل فون سروس بھی بند ہے تلاشی کے بہانے نہتے کشمیریوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے پوری وادی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے
کچھ اسی قسم کا منظر ہمارے بزرگوں نے 1947 میں بھی دیکھے ہیں جس کے کئی عینی شاہدین ابھی بھی الحمدللہ حیات ہیں ہمارے انہی بزرگوں کی قربانیوں کی بدولت ہندوستان پلید کے بطن سے اور انگریز بے ایمان کے جبری قبضے سے لاکھوں شہادتیں اور عزتیں لٹوا کر اپنے گھر بھار گلی محلے مال مویشی چھوڑ کر 14 اگست 1947 کو آزادی حاصل کی گئی تھی آج اس 14 اگست 1947 کے دن کی نسبت سے ہم یوم جشن آزادی مناتے ہیں
ہندوستان میں اتنے عرصے سے رہتے ہوئے آخر علیحدہ ہونے کی نوبت کیوں آئی وجہ صرف اور صرف دو قومی نظریہ تھا چونکہ ہندو کڑوروں خود ساختہ جعلی خداءوں کا ماننے والا اور مختصرا گائے کا پیشاب پینے والا ہے جبکہ مسلمان ایک اللہ کو ماننے والا اور گائے کا گوشت کھانے اور اس کے پیشاب سے بچنے والا ہے اور پیشاب کو پلید جاننے والا
دو قومی نظریہ جو قیام پاکستان کے لئے پیش کیا گیا کوئی نیا نہیں بلکہ یہ تمام انبیاء کا بھی نظریہ ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نظریہ بھی دو قوموں کے مابین تھا ابراہیم کا نظریہ تھا کہ اللہ ایک ہے اس کے مقابل جو لوگوں نے خود ساختہ جعلی خدا بتوں کی شکل میں بنا رکھے تھے وہ سب رد ہیں باطل ہیں ان سے بیزاری ہے خیر بات لمبی ہو جائیگی مختصر لکھتا ہوں کہ ابراہیم علیہ السلام نے ایک اللہ کا حکم مانتے ہوئے اور دیگر نظریوں کا رد کرتے ہوئے بتوں کے ٹکڑے کیئےاور نمرود کے سامنے کلمہ حق بیان کیا پھر اس کے بعد اپنے لخت جگر اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم کے مطابق قربان کرنے کا فیصلہ کیا مگر ادھر اللہ احکام الحاکیمین نے ابراہیم علیہ السلام کے نظریہ کی قدر کی اور ان کے لخت جگر کی بجائے مینڈھا یاں دنبہ قربان ہوا اسی نسبت سے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جد ابراھیم علیہ السلام کے نظریہ کی بنا پر ہر سال 10 ذی الحج کو جانور قربان کرکے عیدالاضحی یعنی عید قربان مناتی ہے
وہی ہندو نجس پلید کہ جس پر ہمارے بڑوں نے تقریبا 1 ہزار سال حکومت کی اور پھر ہمارے ہی بڑوں کی جہاد سے دوری کی بدولت انگریز ہندوستان پر قابض ہوا تو اللہ کریم نے ٹیپو سلطان اور شاہ اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ جیسے مجاھدین کیساتھ امت کے غم خوار علامہ اقبال اور قائد اعظم اور ان کے دیگر غیور ساتھی ہندوستان کی دھرتی پر پیدا کیئے جنہوں نے اپنے نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کے نظریہ پر جدوجہد کرتے ہوئے انگریز اور ہندو مکار سے آزادی حاصل کی اس ظالم انگریز اور ہندو کی چالوں کی بدولت وادی جموں و کشمیر جنت نظیر مقبوضہ وادی کشمیر بن گئی اور تاحال مقبوضہ ہی ہے جس کی آزادی کیلئے غیور کشمیری قوم اب تک 1 لاکھ کے قریب شہادتیں اور ہزاروں عزتیں نچھاور کر چکی ہے یوں تو 1947 سے اب تک کشمیری ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں مگر گزشتہ ہفتے سے کشمیریوں پر مظالم کے ایسے پہاڑ توڑے جا چکے ہیں کہ جن کا بیان نا ممکن ہے اس کمیونیکیشن کے دور میں ہونے کے باوجود کشمیری موبائل اور انٹرنیٹ سے محروم سخت کرفیو میں اب تک سینکڑوں مذید شہادتوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں کیونکہ کشمیری قوم مسلمان اور دو قومی نظریہ کی بنا پر تحریک آزادی کشمیر جاری رکھے ہوئے ہے اور اللہ کے فضل سے آزادی کے قریب تر ہوتی جا رہی ہے سو ہندو ظالم دن بدن کشمیریوں پر نت نئے طریقوں سے ظلم کر رہا ہے مگر افسوس تو مسلمان حکمرانوں پر ہے کہ جو اتنا کچھ جاننے اور دیکھنے کے باوجود چپ چاپ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں عالم اسلام کے حکمران آزادی کے نبوی طریقے کو (جہاد جو کہ کہنا اس وقت جرم ہے) چھوڑ کر خالی بیانات اور ہندو کو بد دعائیں دینے کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ روز قیامت انہی لفظی بیانات کے جہاد سے ہم اللہ کے غضب سے بچ جائینگے جو کہ دراصل خود کو دھوکا دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں
اور آخر میں میرا کشمیری قوم کو پیغام امت محمدیہ کے غیرت مند کشمیریوں ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آزادی کیلئے 10 لاکھ سے اوپر قربانیاں دی گئیں آج تمہاری قربانیاں بھی لاکھوں تک پہنچ چکی ہیں سو ڈٹے رہنا گھبرانا مت کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مت جاتا ہے سو ایک اللہ پر توکل کرتے ہوئے ڈٹ جاءو میرا رب آج بھی وہی ہے جو فرعون کے گھر موسی کی پرورش کرتا ہے ابابیلوں سے ہاتھی مرواتا ہے اور مچھروں سے نمرود جیسے خود ساختہ جعلی خدا کو کیفر کردار تک پہنچاتا ہے باقی آزادی تو ان شاءاللہ تمہیں ملنی ہی ہے کیونکہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عزوہ ہند کی بشارت دے کر گئے ہیں مگر کل روز قیامت ان خاموش تماشائیوں کے گریبان ہونگے اور تمہارے ہاتھ کیونکہ میرا رب قرآن میں فرماتا ہے
ومالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہکشمیریوں سے رشتہ کیا؟ لا الہ الا اللہ

پارلیمنٹ کی بحث کہ محلے کی لڑائی – – – فرحان رضا
ایک صاحب نے واقعہ سنایا کہ ان کےمحلے میں دو گھروں میں برسوں سے لڑائی چلی آرہی تھی۔ ان میں سے ایک صاحب کے گرد عموما کم عقل اور بھانڈ ٹائپ کے لوگ زیادہ موجود ہوتے تھے ایک دن دونوں گھروں میں تصادم ہوا اور وہ صاحب جن کے گرد کم عقل اور بھانڈ مزاج لوگ زیادہ تھے وہ زخمی ہوگئے ان کےلڑکے نے ان صاحب کے دوستوں کو بلایا کہ ابا کو ہسپتال لےکر چلیں اور پڑوسیوں کو ذرا رعب میں لائیں لیکن ہوا یہ کہ ان کے دوستوں نے آتے ہی پہلےتو ان صاحب کو دس سنائیں پھر ایکدوسرے کو سنانا شروع کردیں کہ تونےکچھ نہ کیا اوئے تو نے کچھ نہ کیا اور بات گالم گلوچ تک چلی گئی آخر کر لڑکا خود ہی ابا کو ہسپتال لےکر گیا دوسری طرف پڑوسی ہنستے رہے
یہ واقعہ آج اس وقت یاد آیا جب میں قومی اسمبلی کی کارروائی دیکھ رہا تھا۔ اپوزیشن کو دیکھو تو لگتا تھا کہ لاٹری نکل آئی ہے خان کو رگڑنے کی۔اپوزیشن کے تقریباً ہر شخص کی تقریر دیکھیں تو لگتا تھا کہ اسمبلی میں مودی کے گُن گانے کے لیئے آئے ہیں نہ کہ آئندہ کی حکمت عملی پر بات کرنے۔ صرف آصف زرداری نے اٹھ کر ایک تجویز دی جو کہ سب سے مثبت تقریر تھی۔ رضا ربانی اس موقع پر پھر روایتی بیانیہ سول ملٹری تعلقات کو لےکر بات کرنےلگے اور اس حد تک چلے گئےکہ پاکستان کو امریکا کی کلائنٹ اسٹیٹ نہ بننے دیئے جانے کا مطالبہ کردیا شاید وہ بھول گئے تھے کہ کیری لوگر بل کے ذریعہ کلائنٹ اسٹیٹ کا متبرک رتبہ انہی کی جماعت کی حکومت نے بڑی محنت سے حاصل کیا تھا۔ جو ختم ہونے میں بڑا عرصہ لگا
پھر مشاہد اللہ کی تقریر جسے سن کر لگتا تھا کہ موصوف شاید ن لیگ کے جلسے سے خطاب کرنے آئے ہیں کیونکہ اصل ن لیگ کے جلسوں میں آج کل شعلہ بیانی کا موقع کم ملتا ہے۔
سب سے دلچسپ صورتحال اس وقت تھی جب اپوزیشن لیڈر نے بڑی دھواں دھار تقریر کی لیکن حل کوئی نہ دیا تو وزیراعظم نے پوچھا کیا بھارت پر حملہ کردوں آپ کہیں توکردیتاہوں تو فوری طور پر اٹھ کر کہا میں نے تو ایسا نہیں کہا۔ شاید انہیں جندال یاد آگیا ہوگا۔ سوال پھر وزیراعظم کا وہی تھا کہ پھر آپ بتائیں کیا کروں تو جواب کوئی نہ تھا۔ اور جب اپوزیشن کو لگاکہ جواب کوئی نہیں ہے تو پھر ہر تقریر کا رخ صرف تنقید کی طرف موڑ دیا گیا۔
ایک طرف یہ حال ہے پاکستان کی اسمبلی کا تو دوسری طرف بھارت کی اسمبلی میں اختلاف ہےلیکن ہرگروپ ایک تجویز لےکر آیا ہے اور اس کے حق میں دلائل دے رہا ہے مودی کے حامی ایکطرف اور کانگریس اور اتحادی دوسری طرف ہیں دلائل سے موجودہ حالات اور آئندہ کی حکمت عملی اور منظر نامے پر بات ہورہی ہے۔ کانگریس کی قیادت نے اس فیصلے کو بھارتی آئین پر حملہ کہا اور ان شقوں کی بحالی کا مطالبہ کردیا۔ دوسری طرف بی جےپی کے وزرا نے اس
واپس آجائیں ہماری پارلیمنٹ کی طرف تو بات شروع ہوتی ہے مودی نے یہ کیا وہ کےا اور پھر ایکدم بات ہمارا لیڈر جیل میں کی طرف چلی جاتی ہے اور آخر میں تو بات یو شٹ اپ یو شٹ اپ تک بھی چلی گئی۔
ان تقاریر کو دیکھ کر یقینی طور پر نوجوانوں کو ایک بات ہی سمجھ میں آئی ہوگی کہ اسمبلی میں سنجیدہ، تحقیق اور مضبوط دلائل سے بات نہیں ہوسکتی یہ ارکان اسمبلی یقینی طور پر فی الحال کوئی راستہ بتانے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ انہیں تو ایکدوسرے کو کوسنے اور پوائنٹ اسکورنگ سے فرصت نہیں ہے
ان کے رویوں سے کشمیریوں اور پوری دنیا پر واضع ہوگیا کہ پاکستان کی اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ ان کے لیئے اپنے اختلافات نہیں بھلا سکتے اور یہ ایک مشترکہ بیانیہ لانےکےبھی قابل نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ مشکل کا حل بتانے کے بجائےایک دوسرے کو برا بھلا ہی کہہ سکتے ہیں۔ دوسری طرف کشمیریوں نےدیکھاکہ پاکستان کی فوجی قیادت نے چند لمحوں میں ہی واضع موقف بدیدیا تھا کہ کشمیر کےلیئے ہر سطح تک جاسکتے ہیں۔
جب قومی اسمبلی کے مبینہ طور پر معزز ارکان کی کم عقلی کا ایک بار مظاہرہ ہوچکا تو اب سوال یہ ہےکہ کیا انہیں عوام کا نمائندہ کہلائےجانے کا حق حاصل ہے۔ کیا یہ لوگ ذہنی سطح پر اس قابل ہیں کہ ملک کے حساس معاملے پر ان سے مشورہ لیا جائے؟
ان ارکان اسمبلی کے غیر سنجیدہ اور ذاتی مفادات پر مبنی رویوں نے یقینی طور پر آج پارلیمنٹ کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے اپنی قابلیت پر ہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی افادیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔کشمیر پر قرارداد تو منظور ہوگئی لیکن جوان ارکان اسمبلی نے تماشا لگایا وہ بھی تاریخ میں ان کےناموں کے ساتھ محفوظ ہوگئی


کشمیر میں غلطی کس نے کی — عزیر احمد (نئی دہلی)
غلطیاں لمحوں میں ہوا کرتی ہیں, اور اس کی سزا صدیوں بھگتنی پڑتی ہے, کچھ یہی کشمیر میں ہوا ہے, کسی نے تو غلطی کی تھی, شاید پڑوسی ملک کے لیڈران نے, یا شاید اپنے ہی ملک کے قائدین نے, یا پھر خود کشمیریوں نے, ان کی سب سے بڑی غلطی تو یہی رہی کہ وہ کبھی متحدہ موقف پیش ہی نہیں کرپائے, کچھ پاکستان زندہ باد کے نعرے سے دل بہلاتے, تو کچھ لوگ ہندوستانی سرکاری مراعات سے مستفید ہوتے, انہیں ہندوستان ہی اچھا لگتا, کچھ ایسے بھی ہوتے جنہیں آزاد کشمیر چاہئےتھا, حالانکہ آزاد کشمیر محض ایک خواب تھا, ایک بھیانک خواب, جس کی تعبیر محض تباہی تھی, دونوں ملکوں میں سے کسی کی بھی خواہش نہیں کہ ایک اور ملک کا درد سر مول لیں, بہرحال آزادی کے متوالے تھے سو جوش اور جذبے کا کیا کہنا, ادھر مراعات سے فائدہ بھی اٹھاتے رہے, ادھر لڑتے بھی رہے.
حالات ہمیشہ یکساں کہاں رہتے ہیں,ہندوستان کے افق پر بی.جے.پی کا سورج دوبارہ چمکا, امت شاہ کو وزیر داخلہ بنایا گیا, دل نے کہا یہ بندہ کچھ تو الٹا سیدھا کرے گا, سو الیکشن کا وعدہ تھا, اس نے پورا کیا, مگر محض میجوریٹی کو خوش کرنے کے لئے, کشمیریوں کی کہاں پڑی تھی کہ کم سے کم مشورہ ہی لے لیا جاتا, جس طریقے سے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 A کو ختم کیا گیا ہے, کیا پتہ کل اسی پریزیڈنشیل آرڈر کا سہارا لے کر ملک کے قانون سے Secular, Democratic Republic کے لفظ کا خاتمہ کرکے "Hindu Rashtra” لکھ دیا جائے, اور یہ کوئی بعید بات نہیں, کہ جب آرٹیکل 70 کا خاتمہ کردیا گیا جس کے بارے میں لیگل ایکسپرٹ کہا کرتے تھے کہ یہ صرف بی.جے.پی کی بڑبول ہے, ورنہ اسے اتنی آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا, اسے محض ایک گھنٹے کی سیشن میں بغیر ڈیبیٹ اور بغیر ڈسکشن کے ختم کردیا گیا, تو کیا بعید ہے کہ کل جو بولنے والے باقی بھی بچے ہیں ان کی گردن پر چھری رکھ کے بات منوا لی جائے, ہمارے وزیر داخلہ کو تو اس کا تجربہ بھی ہوچکا ہے.
ہمیں یہ بات تسلیم کرنے میں اب کوئی عار نہیں ہونی چاہئے کہ کم سے کم شمالی ہند کا ہندو اب Polarize نہیں, بلکہ حد درجہ Radicalize ہوچکا ہے, مسلم دشمنی ہی اب اس کے لئے سب کچھ ہے, آر.ایس.ایس نے ہندو ذہن میں مسلمانوں کے تئیں جو نفرت بھر دی ہے, اب ہندو قوم اس نفرت کی بنیاد پر کسی بھی حد تک جاسکتی ہے, انہیں اب نہ ڈوپلمنٹ سے مطلب ہے, نہ ایمپلائمنٹ سے, نہ تعمیر و ترقی سے, اب اگر کوئی بھی پالیسی جو مسلمانوں کے خلاف ہے تو وہ ان کے لئے نیشنل ہِت میں ہے, اور یقین مانئے امت شاہ اور مودی نے اتنا بڑا جو فیصلہ لیا ہے, اس نے انہیں ہمیشہ کے لئے ہیرو بنا دیا, اب جو آوازیں مخالفت میں اٹھا کریں گی بھی, وہ ان کے ووٹ بینک کو ذرہ برابر بھی نقصان پہونچانے والی نہیں, تین طلاق کا فیصلہ عام ہندؤوں کے نزدیک بڑا تاریخی رہا ہے, اس وجہ سے نہیں کہ اس سے مسلم عورتوں کا فائدہ ہوگا, بلکہ اس سے وجہ سے کہ ملاؤں نے اس کی مخالفت کی تھی, اس کے باوجود مودی جی نے پرواہ نہ کرتے ہوئے اسے پاس کرادیا تھا, سو کشمیر کا معاملہ تو اسے بڑھ کر ہے اور جس طریقے سے چٹکیوں میں اسے حل کیا گیا ہے, اس نے ان دونوں کو ہمیشہ کے لئے ہندو قوم پرستوں کی نگاہ میں امر کردیا ہے.
ہندؤوں میں ایک بہت ہی کم تعداد باقی بچی ہے جو Constitutional Morality میں یقین رکھتی ہے, اور ایسے لوگ بھی مٹھی بھر ہیں, جنہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے, اور ان کو بھی کب ڈرا دھمکا کر خاموش کردیا جائے یا وہ خود ہی پالا بدل لیں کچھ کہا نہیں جاسکتا, آخر کون کب تک مخالفت کرے گا, اسٹیبلشمنٹ سے تو ڈر ہر کسی کو لگتا ہے, ہم لوگ بھی ڈرتے ہیں, ہم کشمیر کے مسئلے پر صحیح سے کچھ لکھ بول نہیں سکتے, مقابلہ اس اسٹیبلشمنٹ سے ہے جس کے ٹرول جب جسے چاہیں اینٹی نیشنل قرار دے دیں, ہم چیخ چیخ کر نہیں کہہ سکتے کہ یہ جو فیصلہ لیا گیا ہے, یہ غیر جمہوری ہے, غیر اخلاقی ہے, Right to self-determination کا وعدہ کہاں گیا, جس بنیاد پر Accession ہوا تھا اسی کو کیوں ختم کردیا گیا؟ یہ فوجی بوٹ, یہ گلی نکڑ پر چمچماتی بندوقیں, کب تک رکھوگے ایسے؟ بھلا جذبوں کو بھی کبھی مارا جاسکتا ہے, کچھ لمحوں کے لئے انہیں ڈرا دھمکایا کر دبایا جاسکتا ہے, مگر ختم نہیں کیا جاسکتا ہے, جب بھی موقع ملنا ہے, ان جذبوں کو پھوٹ پڑنا ہے, وہ بھی اس شدت کے ساتھ کہ روکنا بس میں ہی نہ رہے. آج کشمیری ڈرے سہمے ہیں, خاموش ہیں, کل کو یہ خاموشی کسی طوفان میں بدل جائے تو کیا آپ کا انہیں ٹیررسٹ قرار دینا صحیح ہوگا؟ ہم یہ سب سوال اب نہیں پوچھ سکتے, کیونکہ اسے نیشنل سیکورٹی اور انٹیگرٹی سے جوڑ دیا گیا ہے, اور نیشنل سیکورٹی بھی کیا, محض ایک کانسیپٹ, جس کا استعمال اکثر اسٹیبلشمنٹ لوگوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے لئے ہی کرتی ہے, Integrity without Integration محض زمین کا چاہا جانا ہے, اہل زمین کو نہیں.
کشمیر الگ ہوجائے یا پاکستان سے مل جائے, اس کی حمایت میں میں کبھی نہیں تھا, ہاں یہ میں ضرور چاہتا تھا اور چاہتا ہوں کہ کشمیر ہندوستان کا ہی حصہ رہے, مگر ایسے نہیں, فیصلے کا حق انہیں دیا جائے, اور اس کے لئے لازمی تھا کہ گورنمنٹ ناراض کشمیریوں سے قریب ہو, انہیں اپنے قریب لائے, گلے لگائے, ان کے غم اور غصہ کو سمجھنے کی کوشش کرے, مگر یہ سب کچھ نہ کرکے آرٹیکل 370 کا خاتمہ اس Accession پر حملہ ہے جس کی بنیاد پر کشمیر ہندوستان کے ساتھ تھا, 26 اکتوبر 1947 کا یہ الحاق دو ملکوں کا الحاق تھا, یہ ایسے ہی تھا جیسے دو ملک اپنی آئیڈنٹی کو Preserve کرتے ہوئے ساتھ کام کرنے پر راضی ہوجائیں, اسی لئے تو کشمیر کے جھنڈے کو بھی باقی رکھنے کا وعدہ ہوا تھا, اور کشمیر کے کانسٹیٹیوشن کو بھی, ہندوستانی قانون میں بھلے ہی اسے Temporary لکھا گیا تھا, مگر اس کے خاتمے کے لئے کشمیری حکومت کی منظوری ضروری قرار دی گئی تھی, جسے ہماری گورنمنٹ نے محض گورنر کی منظوری سمجھا, حالانکہ دو دن پہلے گورنر کو خود نہیں معلوم تھا کہ کیا فیصلہ لیا جانے والا ہے, وہ اپنے انٹرویوز میں فرما رہے تھے کہ یہ نئے فوجیوں کی آمد محض روٹین ہے اور اس کا آرٹیکل 370 سے کوئی لینا دینا, اور پھر گورنر کی منظوری حکومت کی منظوری کب سے ہونے لگی سمجھ سے پرے ہے,گورنر خود حکومت اپانئنٹ کرتی ہے, اور فیصلہ لینے کے لئے اپنے ہی ایمپلائی کی منظوری کو عوام کی منظوری سمجھنا محض ہنسنے کا سبب ہوسکتا ہے, قانون نہیں.
بہرحال اب تو جو ہونا تھا ہوچکا, اور بہت ممکن ہے کہ سرحدوں پر حالات کشیدہ ہوجائیں, ایسی صورتحال میں کشمیریوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے نہیں معلوم, لیکن یہ تو ہے کہ ہندوستانی حکومت کشمیر میں ان آوازوں کو کھونے والی ہے جو کبھی ہندوستان کے ساتھ جڑے رہنے کے فوائد گناتے تھے, اس جلد بازی کے فیصلے سے حکومت نے کشمیریوں کی نظر میں مین اسٹریم پولیٹیکل لیڈرز کو مجرم بنا دیا ہے جو اپنی قوم کو یقین دلاتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ ہم ہندوستانی ہیں, اب وہ کس منہ سے اپنے عوام کا سامنا کریں گے, اور بہت ممکن ہے کہ وہ بھی اپنے خیالات بدل لیں, جو کہیں نہ کہیں ہندوستان کے لئے نقصاندہ ہی ہے.
اس فیصلے سے نکل کر کیا آتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا, لیکن سردست کشمیریوں سے یہی گزارش ہے کہ وہ اپنی زمینیں بیچنے کی غلطی نہ کریں گے, کہیں نہ کہیں آرٹیکل 35 کو ختم کرنے کے پیچھے مقصد ڈیموگرافی کی تبدیلی ہی ہے تاکہ ہمیشہ کے لئے ایک مسلم میجوریٹی والے اسٹیٹ کے سر درد سے چھٹی مل جائے, ویسے خدا کی ذات پر اس قدر بھروسہ ہے کہ بار بار میرے ذہن میں پاک پروردگار کا وہ فرمان آرہا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو, تو غالب گمان ہے کہ ذات باری تعالی نے کچھ اور پلان کررکھا ہے, لوگ چالیں چلتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ سب سے بہتر چال چلنے والا بس اوپر والا ہی ہے.
















