Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں …  ناصر بیگ چغتائی

    لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں … ناصر بیگ چغتائی

    ہم جب پرنٹ میں تھے تو ہم پر ہر قسم کی مافیا کا دباو تھا ۔دباو بھی ایسا کہ رات کو تعاقب کیا جاتا تھا ۔گھر پر فون کر کے کہا جاتا تھا کہ آج تو آجائے گا لیکن باز نا آیا تو پھر واپس نہیں آئے گا ۔ کبھی فون امی اٹھا لیتیں تو ہماری جان پر بن جاتی بھی کہ وہ دل کی مریض تھیں ۔۔۔کئی بار پوچھا یہ کون لوگ ہیں ۔۔۔ہم ان کے نام بتاتے تو ہنس پڑتیں
    ایک دن میرے دوست مسرور احسن کا پیپلز پارٹی سے اور دوسرے دوست آفاق احمد کا ایم کیو ایم سے فون آیا 1۔ شارع فیصل سے مت جانا 2 ۔ یونیورسٹی روڈ سے مت جانا ۔۔۔۔پوچھا پھر کون سا راستہ اختیار کریں ہم لوگ ۔۔۔۔دونوں ہنس پڑے ۔۔۔۔ہم چپ رہے لیکن رات 3 بجے شارع فیصل سے ہی گئے
    اس زمانے میں ذہنی دباو بہت تھا اور یہ مالکان اور اسٹاف دونوں پر تھا ۔ دن بھر دھمکیاں اور خوف کے سائے لیکن موت کا خوف ہونے کے باوجود کسی کا ہارٹ اٹیک ہوا نا برین ہیمرج ۔ یہ دباو ہر جماعت کا تھا حتی کہ جماعت اسلامی بھی گھیراو کا شوق پورا کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن یہ کیسا دباو ہے کہ یکے بعد دیگرے بے روزگار ہی نہیں با روزگار بھی دل کے دورے سے یا برین ہیمرج سے مر رہے ہیں ۔ چالیس سے 50 سال کا تجربہ رکھنے والے نکالے جارہے ہیں اور پندرہ بیس سال محنت کرنے والے دل کے دورے سے مر رہے ہیں ۔
    پہلے دور میں جب سیاسی دباو تھا کارکنوں کو تنخواہ بر وقت ملتی تھی ۔۔۔سات آٹھ بونس مل جاتے تھے اور سروس اسٹرکچر تھا ۔۔۔پراویڈنٹ فنڈ ایک بڑا سہارا تھا ۔۔۔۔۔
    اب ایسا کیا ہے کہ میڈیا سے اموات کی خبریں مسلسل آرہی ہیں ۔ بہت سی ہم تک نہیں پہنچیں ۔ لیکن لوگ مر رہے ہیں ۔ وجہ ؟؟؟؟؟
    1۔ 5 پانچ مہینے کی تنخواہ نہیں ملنا
    2 ۔ ملازمت کی سیکیورٹی نا ہونا
    3۔ ملازمت چھوڑنے یا ختم ہونے کی صورت میں خالی ہاتھ گھر جانا
    4 ۔ کنٹریکٹ پر ملازمتیں
    5 ۔ میڈیکل کی ناکافی سہولت
    6 ۔ لائف انشورنس کا نا ہونا ۔
    کامران فاروقی اس راہ مرگ کا نیا راہی ہے ۔ اپنے چھوٹے بچوں اور بیوہ کو سال گرہ والے دن چھوڑ گیا ۔ صدمہ سب کو ہوا بہت سے روئے ۔ بیوہ حنا سے بھی خواتین جا کر ملیں جو خود صحافی تھی اور جس نے گھر کی خاطر ملازمت چھوڑ دی تھی ۔
    دوست بتا رہے ہیں کہ کامران یہ ” کم بخت پیشہ ” چھوڑنے والا تھا جس نے اس کو میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی بھی مہلت اور وسائل نہیں دئیے ۔ وہ ھی ہر ایک کی طرح دوسروں سے پوچھتا تھا کہ تنخواہ کب آئے گی ۔۔۔۔وعدے یقین دہانیاں سب بے سود رہیں ۔ کامران نے دوسری نوکری کی تلاش شروع بھی کردی ۔ بقول بن غازی ۔۔۔وہ کچھ سرٹیفیکٹ بھی تیار کروا رہا تھا ۔۔
    یہ کامران کی کہانی نہیں ۔۔۔درجنوں صحافیوں کیمرہ مین اور ٹیکنیکل کی کہانی ہے جو اس ” گلیمرس کیرئر ” سے نجات حاصل کر کے دوسری نوکری کی تلاش کررہے ہیں
    یہ ہے سوچنے کی بات ۔ اگر تربیت یافتہ صحافی چلے گئے اور یا نکال دیئے گئے تو صحافت کی ننگی نہائے گی کیا نچوڑی گی کیا؟


    Nasir Baig Chughtai

  • بھانڈے قلعی کرا لو! … غریدہ فاروقی

    بھانڈے قلعی کرا لو! … غریدہ فاروقی

    بھانڈے قلعی کرالو۔۔۔

    پرانے نوے بنا لو۔۔۔

    آگیا ہاں شیدا قلعی گر۔۔۔

    1977 میں ریلیز ہونے والی رنگین ہٹ فلم ’سسرال‘ کا یہ مشہور گانا مہدی حسن نے گایا، جس کے بول لکھے تھے ریاض الرحمان ساغر نے اور موسیقی ترتیب دی تھی ایم اشرف نے۔ گانا مشہور فلم سٹار شاہد پر فلمایا گیا۔ فلم نے کھڑکی توڑ بزنس کیا اور یہ گانا ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر تھا۔

    لیکن ’بھانڈے قلعی کرا لو‘ کی آواز گلی محلوں کے لیے نئی نہیں تھی۔ پاکستان کا شاہد ہی کوئی شہر، محلہ، گلی یا گھر اس صدا سے ناواقف ہو۔ چھوٹی سی قلعی گری کی مشین اور چند اوزاروں کے ساتھ کوئی نہ کوئی شیدا قلعی گر کسی نہ کسی روز، کہیں نہ کہیں آواز لگاتا تھا ’بھانڈے قلعی کرالو‘ اور گھروں کے کونوں کھدروں میں ڈھکے چھپے، کالے سیاہ، ڈینٹ پڑے، پیتل، تانبے اور لوہے کے ناکارہ برتن آناً فاناً گلی میں جمع ہو جاتے تھے۔

    شیدا قلعی گر چمتکار دکھاتا اور پل بھر میں چند پیسوں کے عوض یہی برتن چمکتے دمکتے، نوے نکور اور کارگر بن کر گھروں میں سج جاتے۔

    ایک مہینہ، دس دن ہوئے خان حکومت نے بھی صدا لگائی ’بھانڈے قلعی کرالو‘۔۔۔ ’سیاہ کاری‘ کے ذریعے کمائے اور بنائے کالے سیاہ اثاثوں کو چمکتا دمکتا، نَوا نکور اور کارگر بنوانے کی آ فر میں تحریکِ انصاف کی حکومت نے اپنے ماضی کے وعدوں اور دعووں کے منہ پر لگی کالک تو جیسے تیسے برداشت کرلی لیکن اصل مسئلہ تو اب آن کھڑا ہوا ہے!

    بار بار کی صدا گیری پر بھی کوئی کان نہیں دھر رہا! کوئی اپنے گھروں کے کونوں کھدروں میں چھپائے گئے کالے سیاہ برتنوں کی قلعی نہیں کروا رہا۔

    صدا لگانے والوں کا گلا دُکھ رہا ہے لیکن گھروں میں دبکے بیٹھے لوگوں کے کانوں پر گہرا پردہ پڑا ہے۔ صدا سُنی اَن سنی کردی ہے۔ اِکّا دُکّا نے آواز پر کان دھرا تو ہے لیکن فکرمند بھی ہیں کہ برتنوں کی قلعی نہ جانے کب تک چلے گی؟

    کیا وجہ ہے؟ آخر شیدے قلعی گر کی آواز کوئی سنتا کیوں نہیں؟ بار بار کی صدا لوگ ٹھکرا کیوں رہے ہیں؟ شیدے قلعی گر کا تو دل صاف ہے، نیت صاف ہے، لوگوں کے گھروں کی صفائی چاہتا ہے، اپنے گھر کی کمائی چاہتا ہے، دام بھی زیادہ نہیں مانگتا۔ پھر آخر وجہ کیا ہے؟

    کیا لوگوں کو کالے برتنوں میں کھانے کی عادت پڑ گئی ہے؟ یا کسی نے دیکھ لیا ہے کہ شیدے قلعی گر کے اپنے گھر میں کئی برتن کالے پڑے ہیں! کوئی چمچہ، کوئی کڑچھا، کوئی گڑوا، کوئی لوٹا۔ شیدے قلعی گر کے اپنے گھر میں، اپنے کچن میں کئی برتنوں کی قلعی ہونا باقی ہے۔ کیا شیدا قلعی گر کالے سیاہ برتنوں کی ٹھوک ٹھاک کا آغاز اپنے گھر سے کرے گا؟

    لیکن آخر شیدا قلعی گر کرے بھی تو کیا کرے؟ پاکستان میں یہی تو چلتا ہے، یوں ہی تو چلتا ہے۔

    کوئی بھی شعبہ اٹھا کر دیکھ لیں۔ کئی پیتل، تانبے، لوہے کے برتن ملیں گے۔ کچھ خالی، کچھ بھرے ہوئے۔ کئی چمکتے دمکتے، نوے نکور جن کی حال ہی میں قلعی ہوئی ہوگی۔ کچھ پر ابھی تک سیاہی جمی ہوگی۔ پاکستان کی سیاست ہو یا معیشت، کام انہی برتنوں سے نکلوایا جاتا ہے۔

    عمران خان بھی ان برتنوں سے پیچھا نہ چھڑوا سکے۔ کئی چمچے،کئی کڑچھے، کئی گڑوے، کئی لوٹے ان کے اردگرد اکھٹے ہو گئے۔ دعویٰ تو کیا تھا خان صاحب نے ’نیا پاکستان‘ بنانے کا، لیکن فی الحال پرانے، ناکارہ، کالے برتنوں کو ہی قلعی کرا کے، نوا نکور بنا کے کام چلا لیا گیا۔

    سیاست کا ’نیا پاکستان‘ تو گزشتہ سال 25 جولائی کو ڈاؤن لوڈ کرلیا گیا تھا لیکن معاشی طور پر ’نیا پاکستان‘ تقربیاً ایک سال ہونے کو ہے، ابھی تک نہ بن سکا۔ جب کچھ کارگر نہ ہوا تو پرانے اور منجھے ہوئے قلعی گرنے پرانا گُر ہی آزمایا۔

    پرانے برتنوں کو قلعی کرا کے نیا رنگ روپ تو دلوا دیا لیکن برتن چونکہ بے پیندے ہیں، سو فی الحال تو لڑھک رہے ہیں اور ساتھ ہی معیشت کو بھی لڑھکا رہے ہیں۔

    شیدے قلعی گر کو اب کچھ اور کرنا ہو گا۔ کچھ اور سوچنا ہوگا۔ گھروں کی صفائی کرنی ہے اور اپنی کمائی کرنی ہے تو نئے اوزار اپنانے ہوں گے! اپنے ساتھ کے دیگر ماہر کاریگروں کے ساتھ بیٹھنا ہو گا یا انہیں اپنے ساتھ بٹھانا ہوگا۔ مشورہ کرنا ہوگا۔ نئی تکنیک اختیار کرنی ہوگی۔ آزمودہ طریقے اپنانے ہوں گے۔

    اس سے پہلے کہ پرائے محلے کا کوئی اور قلعی گر اپنی دکان چمکانے ہماری گلی میں آکر صدا لگائے: ’بھانڈے قلعی کرالو۔۔۔‘
    بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو


    Gharidah Farooqi
    Senior Anchor Person / Executive Producer
    AAJ TV
    Islamabad

  • صرف جاب تلاش نہ کریں کام کریں‎ … عمیر ضیاء

    صرف جاب تلاش نہ کریں کام کریں‎ … عمیر ضیاء

    ”کیپ ٹائون ” کا ان پڑھہ سرجن مسٹر ” ھیملٹن ” جس کو ماسٹر آف میڈیسن کی اعزازی ڈگری دی گئی ____ جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا _____ یہ کیسے ممکن ھوا آئیے بتاتے ہیں ______
    کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔
    دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘
    اس یونیورسٹی نے چند سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو

    ”ماسٹر آف میڈیسن“

    کی اعزازی ڈگری سے نوازا جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔
    جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا
    اور
    نہ ہی لکھ سکتا تھا…..

    لیکن 2003ء کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا:،
    "ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے،
    جو ایک غیر معمولی استاد، اور
    ایک حیران کن سرجن ہے، اور
    جس نے میڈیکل سائنس
    اور
    انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔

    اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ” ہیملٹن ” کا نام لیا،
    اور
    پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا ۔

    یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔
    ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅں ” سنیٹانی ” میں پیدا ہوا۔
    اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا، اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتاتھا،
    بچپن میں اس کاوالد بیمار ہو گیا لہٰذا وہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر "کیپ ٹاﺅن” آگیا۔ ان دنوں ” کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی ” میں تعمیرات جاری تھیں۔
    وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔
    اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا
    اور
    خود چنے چبا کر کھلے گراﺅنڈ میں سو جاتاتھا۔
    وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا

    تو

    وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ ……
    اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، ……..
    وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، . ……

    وہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا ……
    پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا
    اور
    وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔

    یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی۔”پروفیسررابرٹ جوئز” زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھےکہ:

    "جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا،”

    انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا،اسے بے ہوش کیا،
    لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا، زرافے نے گردن ہلا دی،
    چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑ کر رکھے۔

    پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ‘ہیملٹن’ گھاس کاٹ رہا تھا،
    پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ” ہیملٹن” نے گردن پکڑ لی،

    یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اورکافی کے وقفے کرتے رہے، لیکن
    ” ہیملٹن ”
    زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔

    دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہرا کام کرتا رہا،
    اور
    اس نے اس ڈیوٹی کا کسی قسم کا اضافی معاوضہ طلب کیا
    اور
    نہ ہی شکایت کی۔

    پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا
    اور
    اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔

    ” ہیملٹن ” کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔

    1958ء میں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ” ڈاکٹر برنارڈ ” یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کر دیئے۔

    ” ہیملٹن ” ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ” ڈاکٹر برنارڈ”
    کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔

    اب ڈاکٹر آپریشن کرتے
    اور
    آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا….

    چنانچہ
    بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔

    وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا،
    لیکن
    وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔

    1970ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی. …..جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔

    اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا،

    آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے
    اور
    مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے
    تو
    اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ” ہیملٹن ” کو چلا جاتا ہے، اس کا محسن ‘ہیملٹن” ہوتا ہے“

    ” ہیملٹن ” نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں
    اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔
    وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور
    ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔
    لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے،

    ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا،

    اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت
    اور
    سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا…….

    پھر

    اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں
    اور
    اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔

    وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔
    وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی،
    وہ 2005ء میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیاگیا
    اور
    اس کے بعد یونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد
    اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں
    اور
    اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں….“

    میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا:
    ”تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا“

    نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا:

    ”صرف ایک ہاں سے‘

    جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا
    اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں
    تو
    وہ مرتے دم تک مالی رہتا.

    یہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا“ ۔

    ”ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں.

    جبکہ

    ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے“

    ” دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور
    یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے
    جبکہ
    کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔

    "” ہیملٹن”” اس راز کو پا گیا تھا لہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی. یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔

    ذرا سوچو، اگر وہ سرجن کی جاب کے لئے اپلائی کرتا

    تو

    کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں،
    لیکن
    اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی
    اور
    سرجنوں کا سرجن بن گیا اور ہم اس لیے بے روزگار اور ناکام رہتے ہیں کہ صرف جاب تلاش کرتے ہیں، کام نہیں، جس دن "” ہیملٹن”” کی طرح کام شروع کردیا
    تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے،
    بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے

  • سیالکوٹ کو ڈویژن کی ضرورت کیوں ؟؟ عبدالحنان

    سیالکوٹ کو ڈویژن کی ضرورت کیوں ؟؟ عبدالحنان

    سیالکوٹ کے معروف سیاستدان خواجہ آصف صاحب کے والد محترم خواجہ صفدر صاحب کے دور میں ضلع گوجرانوالہ کو ڈویژن بنایا گیا تو پہلے سیالکوٹ کا نام تجویز کیا گیا تھا لیکن اس وقت سیالکوٹ کے ایم این ایز, اور ایم اپی ایز میں کوئی اتنا دم یا لائحہ عمل مرتب کرنے کا تجربہ نہیں تھا جس وجہ سے پیپر ورک کرنے اور سیالکوٹ کی معاشی اور اقتصادی صورتحال پر وزیراعلیٰ کو کیسے بریف کرنا ہے اس پر ناکامی کی وجہ سے سیالکوٹ کی بجائے گوجرانوالہ کو ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا تھا خیرجیسے تیسے یہ وقت گزر گیا اور ڈویژن کا تاج گوجرانوالہ کے سر پر پہنا دیا گیا لہذا پھر ایک خبر کی وجہ سے سیالکوٹ کی عوام شدید غم و غصہ کی لہر دیکھی گئی ہے گزشتہ روز خبر شائع ہوئی کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری صاحبان کی انتھک کوششوں اور محنتوں سے گجرات کو ڈویژن بنانے کے لیے پیپرورک تیار کرلیاگیا جلد ہی وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے اس پر عملدرآمد کروانے کے لیے بریفنگ دی جائے گی جس میں گجرات, سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین کو ملا کر ڈویژن کی شکل دی جائے گی
    اور بعدازاں جہلم کو بھی اس میں شامل کرنے کے لیے سوچ بیچار کیا جارہا ہے. پیپرورک سے لیکر منظوری تک کے لئے تمام لائحہ عمل مرتب دیا جاچکا ہے لیکن سیالکوٹ سے کسی بھی سیاستدان حکمران جماعت کے رہنما ڈار صاحبان کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے اور نہ سیالکوٹ کے معروف سیاستدان خواجہ آصف صاحب کی طرف سے اس پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے ماسوائے سوشل میڈیا پر عوام میں شدید غم وغصہ اظہار دیکھنے میں آیا ہے جس میں سیالکوٹ کی عوام نے گجرات کو ڈویژن بنانے کی شدید مذمت کی ہے سیالکوٹ کی عوام کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل کب تک کھیلا جائے گا اور سیالکوٹ کی عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کی روایت کو برقرار رکھنا ہمارے سیاستدانوں کی فطرت میں شامل ہوچکا ہے
    سیالکوٹ پاکستان کا بارہواں بڑا گنجان آباد شہر ہے جس کی تاریخی ثقافتی اور تہذیبی حیثیت منفرد مقام رکھتی ہے ۔جبکہ زرمبادلہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو سیالکوٹ سالانہ 2 بلین ڈالرز سے زیادہ کی ایکسپورٹ کرنے والا شہر ہے۔ سیالکوٹ میں صنعتی یونٹس کی بہت زیادہ تعداد ہے جس کی وجہ اس شہر کا بین الاقوامی طور پر رابطے میں رہنا انتہائی ضروری ہے ۔سیالکوٹ کو دنیا بھر میں اعلٰی ترین سپورٹس اور سرجیکل سامان بنانے میں امتیاز حاصل ہے۔دنیا کی کل پیداوار کا ستر فیصد فٹ بال سیالکوٹ میں بنتا ہے جبکہ لیدر اور سرجیکل سامان کی اپنی ڈیمانڈ ہے۔پاکستان کی برآمدات میں چند ہی مصنوعات ایسی ہیں جو عالمی معیار پر پوری اترتی ہیں اور ان میں زیادہ تر سیالکوٹ میں بنتی ہیں۔ سیالکوٹ میں ہر طرح کا کھیلوں کا سامان، کھلاڑیوں کے ملبوسات، چمڑے کی مصنوعات، آلات جراحی اور دیگرعالمی معیار کی مصنوعات بنائی جاتی ہیں۔ گزشتہ سال اس شہر نے 2ارب ڈالر (تقریباً2کھرب روپے)کی برآمدات کیں جو پورے ملک کی برآمدات کا 9فیصد ہیں۔ سیالکوٹ جب سے اچھے اور مخلص سیاستدانوں سے محروم ہوا اس نے اپنا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کی کوشش کی ہے اگر سیالکوٹ کو ایئرپورٹ کی ضرورت محسوس ہوئی تو سیالکوٹ کے صنعتکاروں کی مدد سے اس کو پایا تکمیل تک پہنچایا گیا اور اپنی ائیر لائن کو بھی یہاں سے شروع کیا ہے جو ائیر سیال کے نام جانی اور پہچانی جاتی ہے اس وقت سیالکوٹ میں 6 ہزار سے زائد انڈسٹری ہے جو بیرون ملک میں اپنی پراڈکٹ سیل کررہی ہیں میڈیکل کالجز ویمن یونیورسٹی اور اس کے علاوہ موٹر وے جو ن لیگ کی حکومت نے پروجیکٹ شروع کئے تو وہ پایاتکمیل کے آخری مراحل میں ہیں سیالکوٹ میں سیاستدانوں کے فقدان کے سبب اس کا حق سیالکوٹ سے 2 حصے چھوٹے ضلع کو سونپا جارہا ہے جو سراسر زیادتی ہے کسی بھی صورت میں گجرات کو ڈویژن کا درجہ دینا مناسب نہیں ہے سیالکوٹ کو ہر لحاظ سے ڈویژن کی شکل دی جاسکتی ہے سیالکوٹ ,گجرات, اور نارووال کو ڈویژن بنا کر تینوں اضلاع کے مسائل کو دور کیا جاسکتا ہے سیالکوٹ سے دونوں اضلاع ایک ہی مسافت پر واقع ہیں لہذا دونوں اضلاع میں کسی بھی مسئلے پر بروقت پیش رفت آسان ہوگی

  • دنیا میں تیزی سی بڑھتا ہوا منافع بخش بزنس …. محمد فہد شیروانی

    دنیا میں تیزی سی بڑھتا ہوا منافع بخش بزنس …. محمد فہد شیروانی

    پودوں کو کئی ہزار سالوں سے صحت اور طبی فوائد حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ دنیا کے وہ علاقے جہاں جدید ادویات دستیاب ہیں وہاں بھی دیسی اور روایتی طریقہ علاج کے استعمال میں نہ صرف دلچسپی بڑھ رہی ہے بلکہ اس کو جدید طریقہ علاج پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ لوگ "ایلوپیتھک” دوائیاں چھوڑ کر دیسی اور روایتی طریقہ علاج کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کے 62 فیصد لوگ دیسی طریقہ علاج کا استعمال کر رہے ہیں۔ مارکیٹ میں دیسی ادویات کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے پوری دنیا کی فارماسوٹیکل انڈسڑی اس وقت ہر بل دوائیں بنانے کے لئے مجبور ہو چکی ہے اور تقریباً ہر ملٹی نیشنل فارماسوٹیکل کمپنی کی ہر بل ادویات اس وقت مارکیٹ میں موجود ہیں جو اس بات کا واضح اور منہ بولتا ثبوت ہے دنیا دیسی طریقہ علاج کی طرف واپس لوٹ رہی ہے۔
    "ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن” کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت ہربل ادویات کا بزنس 60 ارب امریکی ڈالرز تک جا پہنچا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کابل میڈیسن آہستہ آہستہ پوری دنیا میں اپنی جگہ بنا چکی ہے اور ہیلتھ فورمز میں اس کو باقاعدہ موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ اس وقت لاکھوں امریکی ڈالرز ہربل ادویات کی ریسرچ پر خرچ کئے جا رہے ہیں ۔ افریقی میں موجود 80 فیصد آبادی اس وقت ہربل ادویات کا استعمال کر رہی ہے ۔
    ہربل اور دیسی طریقہ علاج کی ڈیمانڈ کے سامنے بلین ڈالرز کی فارما انڈسٹری اس وقت لاچار و بے بس نظر آتی ہے۔ "ایلوپیتھک” ادویات کی قیمتوں میں آئے دن ہونے والے ہو شربا اضافے اور اس کے "سائیڈ افیکٹ” لوگوں کو اس سے دور کرتے جا رہے ہیں۔
    ہربل ادویات کا استعمال بڑھنے کی مندرجہ ذیل وجوہات نظر آتی ہیں۔
    – عام ادویات کی نسبت کم قیمت ہونا
    – انتہائی کم مضر اثرات ہونا
    – جسم میں موجود مدافعتی نظام کو فعال کرنا
    – قدرتی طور پر شفایاب ہونا
    – ادویات کا کیمیکل وغیرہ سے پاک ہونا
    "گلوبل ہربل میڈیسن مارکیٹ” کی 2019 میں کی گئی ریسرچ کے مطابق ہربل میڈیسن مارکیٹ عالمی سطح پر سب سے زیادہ مستحکم صنعت بننے کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ اس کی گزشتہ سالوں سے اس کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے. تیزی سے بڑھتی ہوئی ہربل میڈیسن کی طلب مارکیٹ میں ترقی کو فروغ دینے میں مدد دے رہی ہے اسی وجہ بزنس ادارے اور بزنس شخصیات کا رحجان ہربل میڈیسن کی پروڈکشن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2025 تک ہربل میڈیسن کا بزنس دنیا کے اہم ترین بزنس میں شمار ہونے لگے گا ۔

  • 100 بیماریوں کا ایک ہی حل …  محمد فہد شیروانی

    100 بیماریوں کا ایک ہی حل … محمد فہد شیروانی

    قدیم ترین چینی طریقہ علاج کے مطابق پاؤں کے نیچے 100 کے قریب Acupressure Points (ایکوپریشر پوائنٹ) ہوتے ہیں۔ جن کو دبانے اور مساج کرنے سے انسانی اعضاء صحت یاب ہوتے ہیں۔ اس کو Foot Reflexogy
    کہا جاتا ہے۔پاؤں کو مخصوص جگہ سے دبانے اور مساج کرنے سے 100 مختلف قسم کی بیماریوں کا علاج بغیر آپریشن اور دوائی کے کیا جا سکتا ہے۔اس طریقہ علاج کے حیران کن مثبت نتائج کی وجہ سےاس وقت عموماً پوری دنیا میں پاؤں کی مساج تھراپی سے مختلف بیماریوں کا نہ صرف علاج کیا جارہا ہے بلکہ اس سے اعضاء کو بھی ٹھیک کیا جا رہا ہے۔
    مغلیہ دور سلطنت میں خود کو صحتمند اور چست رکھنے کا راز بھی تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔
    وہ راز بالکل آسان نہایت مختصر ، ہر جگہ اور ہر شخص کے لئے کرنا بہت آسان ۔کوئی سا بھی تیل سرسوں یا زیتون وغیرہ پاؤں کے تلوؤں اور پورے پاؤں پر لگائیں خاص طور پر تلوؤں پر تین منٹ تک دائیں پاؤں کے تلوے اور تین منٹ بائیں پاؤں کے تلوے پر رات کو سوتے وقت مالش کرنا کبھی نہ بھولیں ، اور بچوں کی بھی اسی طرح مالش ضرور کریں ساری زندگی کا معمول بنا لیں پھر قدرت کا کمال دیکھیں۔
    میرے رشتے کے نانا 90 سال کے ہو چکے ہیں۔ وہ گاؤں میں رہتے ہیں اور ساری زندگی سے کھیتی باڑی کر رہے ہیں۔ ان کی نہ کمر جھکی، نہ جوڑوں میں درد، نہ سر درد، نہ دانت ختم ، ایک بار ان سے ان کی صحت کا راز دریافت کیا تو بتانے لگے کہ مجھے ایک حکیم نے مشورہ دیا تھا کہ سوتے وقت اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کرو۔ بس یہی عمل میری شفاء اور فٹنس کا ذریعہ ہے۔
    لہذا روزانہ رات کو پاؤں پر مالش کے عمل کو اپنا چاہیے تاکہ ہم بھی صحت مند و چست وتوانا زندگی بسر کر سکیں

  • انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے گا….محمد فہد شیروانی

    انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے گا….محمد فہد شیروانی

    اسلام کا سب سے بڑا درس انسانیت ہے۔ لیکن اسلام کا نام استعمال کرنے والے پاکستان کے نام نہاد بنک ” مسلم کمرشل بنک” نے انسانیت کا ایسا جنازہ نکالا جس نے آج قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ مسلم کو کمرشل کرنے والے "MCB” نے اُس وقت دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب اس نے اپنے ایک ایسے اکاؤنٹ ہولڈر کو بنک میں آ کر اکاؤنٹ کی تصدیق کر نے کا کہا جو کہ اپنی علالت و لاغری کے باعث چلنے کے قابل نہ تھا۔ مگر MCB کی انتظامیہ نے روایتی بے حسی اور اذلی ہٹ دھرمی کا ثبوت دیتے ہوئے اکاؤنٹ ہولڈر کے کسی بھی عذر کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اکاؤنٹ بند کرنے کا مژدہ سنایا۔ مجبور و لاچار مریض کو بحالت مجبوری بنک آ کر اپنے اکاؤنٹ کی (بائیو میٹرک) تصدیق کرنا پڑی( تصویر، تحریر کے ساتھ منسلک ہے)۔
    MCB جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور مشہور بنک ہونے کا دعوی کرتا ہےہمیشہ اپنے لاکھوں صارفین کو تسلی بخش اور عمدہ سروسز دینے میں ناکام رہا ہے جو کہ MCB کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

    MCB کے رولز، سسٹم اور عملے کا رویہ دوستانہ و ہمدردانہ ہرگز نہ ہے۔ وہاں صارفین کو اپنے کام کے لئے گھنٹوں انتظار کی زحمت سے گزرنا پڑتا ہے اور جب اس اذیت بھرے انتظار کے بعد صارف کی باری آتی ہے تو بنک کے پاس فوٹو کاپی کی سہولت نہ ہونے کے باعث صارف کا کام ادھورا رہ جاتا ہے اور صارف کو اپنے شناختی کارڈ وغیرہ کی فوٹو کاپی کرانے لے لئے باہر جانا پڑتا ہے اور واپس آکر پھر اسی انتظار کی کیفیت سے دو چار ہونا صارف کی مجبوری بن جاتا ہے۔
    پاکستان میں دوسرے اداروں کی طرح بنکنگ کا معیار بھی اتنا گر چکا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو سہولیات دینے کے بجائے ان کی مشکلات میں اضافہ کئے جا رہا ہے۔ سٹیٹ بنک کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعلامیے کے مطابق ہر بنک اکاؤنٹ ہولڈر کو اپنے اکاؤنٹ کے "بائیو میٹرک” تصدیق کرانا لازم ہوگی،جو کہ ملک کی معاشی پالیسی کے لئے ایک احسن قدم ہے لیکن اس کے لئے کوئی خاص طریقہ کار وضح نہیں کیا گیا جس کے باعث بنک صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
    سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق مختلف بنکوں کی کم و بیش 15 ہزار سے زائد برانچوں میں تقریباً 5 کروڑ پاکستانی بنک اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں اور پاکستان میں بنک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دنیا کے درجنوں ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    MCB میں بزرگوں اور خواتین کے لئے دیگر پرائیویٹ بنکوں کی مانند کوئی خصوصی کاؤنٹر نہیں بنائے گئے MCB کی کچھ برانچز میں اگرچہ یہ کاؤنٹر موجود ہیں لیکن اس کا با قاعدہ طور پر صحیح استعمال نہیں کیا جاتا جس سے بزرگ اور خواتین اس سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔سٹیٹ بنک کو چاہئیے کہ وہ ایسا طریقہ کار وضح کرے جس سے بزرگ اور بیمار صارفین کی “بائیو میٹرک” تصدیق کی سہولت انہیں ان کی گھر پر مہیا کی جائے۔ اس سے نا صرف صارفین کو سہولت ملے گی بلکہ بنکنگ سیکٹر کے لئے ان کے اعتماد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا

    بنکنگ سیکٹر کے تمام صارفین کی جانب سے سٹیٹ بنک آف پاکستان سے التماس ہے کہ MCB کے سسٹم اور خدمات کو بہتر سے بہترین کیا جائے اور اگر پرائیویٹ سیکٹر اس بنک کو صحیح طریقہ سے نہیں چلا سکتا تو اسے واپس حکومت کی تحویل میں لے کر اس کا نظام درست کیا جائے۔

    محمد فہد شیروانی

  • مراد علی شاہ، خورشید شاہ اور انور سیال کی آئندہ چوبیس گھنٹوں میں گرفتاری متوقع، نیب کا تصدیق سے انکار

    مراد علی شاہ، خورشید شاہ اور انور سیال کی آئندہ چوبیس گھنٹوں میں گرفتاری متوقع، نیب کا تصدیق سے انکار

    باغی ٹی وی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ اور انور سیال کی آئندہ چوبیس گھنٹوں میں گرفتاری متوقع ہے تاہم نیب کی جانب سے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی گئی۔

    باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں میں مذکورہ رہنماﺅں کوکسی بھی وقت حراست میں لیا جاسکتا ہے ۔ باغی ٹی وی نے اس سلسلہ میں جب قومی احتساب بیورو( نیب )سے نوٹس جاری کرنے سے متعلق کنفرم کرنے کی کوشش کی گئی تو نیب کے ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

    واضح رہے کہ نیب کی طرف سے حالیہ دنوں میں کرپشن کے خلاف مہم تیز کر دی گئی ہے۔ چند دن قبل سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جبکہ شہباز شریف، حمزہ شہبازاور دیگر لیڈروں کے خلاف بھی مختلف الزامات پر تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ ادھروزیر اعظم عمران خان نے انکوائری کمیشن بنانے کابھی اعلان کیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ملک سے کرپشن کو ہر صورت ختم کر رہے ہیں گے۔

    ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے اگر پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں خورشید شاہ، سید مراد علی شاہ اور انور سیال کو حراست میں لیا جاتا ہے تو اپوزیشن میں شامل جماعتوں کا احتجاج مزید زور پکڑے گا جو رواں ماہ حکومت مخالف تحریک کے حوالہ سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے یہ الزامات بھی لگایا جارہا ہے کہ انہیں دباﺅ میں لانے کیلئے گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔

  • کیا بھروسہ ہے زندگانی کا …. فرحان شبیر

    کیا بھروسہ ہے زندگانی کا …. فرحان شبیر

    کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
    آدمی بلبلہ ہے پانی کا
    ” ہم سب رنگ منج کی کٹھ پتلیاں ہیں عالم پناہ ، جنکی ڈور اوپر والے کے ہاتھوں میں ہے کب کسکا کردار ختم ہوجائے کوئی نہیں جانتا ۔ ہا۔۔ہا۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔”
    اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ ابھی زندہ ہیں آپکا دل دھڑک رہا ہے اور اعضاء بھی کام کر رہے ہیں ۔ دل اس لئیے دھڑک رہا ہے کہ خون کو سارے جسم میں گھمادے تاکہ خون میں موجود ہیموگلوبین کے ذریعے پھیپھڑوں سے آکسیجن کو جسم کے ایک ایک مسام تک پہنچا دے اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو جسم کے ایک ایک مسام سے پکڑ کر پھیپھڑوں کے ہی راستے واپس باہر فضا میں خارج کرا دے ۔ حضرت انسان کے سانس لینے کا یہ عمل جب تک رواں رہتا ہے انسان زندہ رہتا ہے سانسوں کی مالا ٹوٹتے ہی زندگی کی ڈور بھی ٹوٹ جاتی ہے ۔ ہم کھانے کے بغیر تقریبا 30 دن ، پانی کے بغیر تین سے چھ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں لیکن آکسیجن کے بغیر چند منٹ سے زیادہ بھی نہیں گذار سکتے ۔ اور یہ ایسی حقیقت ہے جو ہم سب اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔

    دو ارب سال پہلے زمین پر آکیسجن کا آج کی طرح گیس کی صورت علیحدہ سے کوئی وجود نہیں ہوتا تھا یہ مرکب یعنی Compound form میں پائی جاتی تھی ۔ جیسے پانی میں ( H2O ) یا کاربن ڈائی آکسائیڈ ( CO2) . یہ تو اس وقت پیدا ہونے والے سائینو بیکٹیریاز کا احسان کے انہوں نے سمندروں سے لیکر پہاڑوں تک اپنی آبادیوں کو پھیلایا اور کاربن ڈائی اکسائیڈ کو اپنے اندر لے کر آکسیجن بناتے چلے گئے اور یہ سلسلہ آنے وال دو چار سال نہیں بلکہ اگلے 150 کروڑ سالوں تک اسی طرح نان اسٹاپ چلتا رہا ۔ ہر سائینو بیکٹیریاتا یہی کام کرتا رہا ۔ وہ جنم لیتا تھا اپنے حصے کی CO2 کو آکسیجن O2 میں تبدیل کرکے ختم ہوجاتا تھا ۔ یہ انہی سائینو بیکٹیریاز کی سانسیں لے کر چھوڑی ہوئی آکسیجن ہے جو آج ہماری زندگی کی بنیاد ہے جس کے بغیر ہماری زندگی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔

    دو ارب سال پہلے زمین پر حیات ، زندگی یا life بہت ہی اممیچیور فارم یعنی اپنی ابتدائی حالت میں تھی یعنی اس وقت life یونی سیکولر سیل اور تھوڑے بہت ملٹی سیکولر سیل کی سطح تک ہی پہنچی تھی ۔آسان الفاظ میں دو ارب سال پہلے زمین پر چاروں طرف جہاں کہیں بھی زندگی تھی تو وہ صرف بیکٹیریاز کے ہی پیکر میں پائی جاتی تھی ۔ ان بیکٹیریاز میں سب سے زیادہ تعداد جس مخصوص بیکٹیریا کی تھی اسے سائینس کی دنیا نے سائینو بیکٹیریا کا نام دیا ہے ۔

    یہ سائینو بیکٹیریا 13 ارب سال پہلے وجود میں آنے والی اس کائنات میں life یعنی حیات نامی سپر ڈوپر ہٹ فلم کا بڑا ہی اہم اور بڑا ہی خاموش سا کردار رہا ہے خدا کی اس کائنات میں اس سیارہ زمین پر دو ارب سال پہلے جنم لینے والے اس سائینو بیکٹیریا نے وہ کام کیا جس پر ہم انسانوں کو اسکا شکر گذار ہونا چاہئیے ۔ کیونکہ یہ سائنو بیکٹریا اس وقت کی فضا پر چھائی زندگی کے لئیے نقصان دہ گیس کاربن ڈائی آکسائڈ کو inhale کرکے آکسیجن کو ریلیز کرتا تھا اور آج ہمارے اردگرد کی فضا میں موجود آکسیجن O2 اسی ننھے سے نہ نظر آنے والے سائنو بیکٹیریا کے کروڑ ہا کروڑ سالوں تک اسی طرح سانس لینے کا نتیجہ ہے ۔

    آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ بات شروع کہاں سے کی تھی اور کہاں پہنچ گئی لیکن ذرا تصور کریں اگر میں اور آپ بھی ایسے ہی کوئی سائینو بیکٹریا ہوتے جو اس کائنات میں صرف اتنا ہی کردار ادا کرتے کہ اپنے حصے کی کچھ کاربن ڈائی آکسائڈ وصول کرتے اسکو آکسیجن میں کنورٹ کرتے اور کچھ ہی منٹوں کی زندگی گذار کر اس جہان فانی سے کوچ کرجاتے تو کیا ہمیں اپنی وہ ننھی سی زندگی بے مقصد اور ب کار نا لگتی ۔ کیا ہم اپنے اس وقت کے بیکیریائی شعور کی سطح پر اپنے اس چھوٹے سے کردار کو اس بڑی ساری کائنات کے گرینڈ ڈیزائن میں کبھی سمجھ بھی پاتے ؟ کیا ہمیں اندازہ بھی ہو سکتا تھا کہ ہمارے ہی سانس لینے سے پیدا ہونے والی آکسیجن ڈیڑھ سو سے دو ارب سالوں کے ایک طویل ترین عرصے بعد اتنی اہمیت کی حامل ہوجائیگی کہ زمین پر پائے جانے والے ہر جاندار کے لئیے لازم و ملزوم ہوجائے ۔

    وہ بیکٹیریا اتنا شعور نہیں رکھتا تھا کہ یہ ساری باتیں سوچتا لیکن ہم انسان تو شعور رکھتے ہیں ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس سائنو بیکٹیریا کی طرح ہم بھی شاید اپنے شعور کی موجودہ سطح پر اس وقت خدا کی اس کائنات میں اپنا کردار شاید سمجھ نہیں پائیں اور کائنات کے اس گرینڈ ڈیزائن میں ہم انسانوں کا کردار بھی ہمارے شعور کی موجودہ سطح سے کچھ اوپر کی چیز ہو ۔ فرق صرف یہ ہے کائنات کی ہر شے خدا کی طرف سے اسے دی گئی پروگرامنگ پر چلنے پر پابند ہے جب کہ ہم انسانوں کو خدا نے اختیار و ارادہ کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔

    اب یہ ہم انسانوں پر ہے کہ ہم اس کائنات اور اس زمین پر اپنی کیسی چھاپ چھوڑ کر جاتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو کیسے رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ تو خدا ہی جانے کہ کس کے اعمال اسے حیات ابدی دلاتے ہیں اور کس کے اعمال اسکے لئیے ابدی خسارے کا سبب بنتے ہیں لیکن جینٹیکس سے لیکر سائیکالوجی تک کے علوم یہ بتاتے ہیں کہ ہر انسانی بچہ اپنی پشت پر کچھ وراثتی اثرات کا بوجھ لاد کر لاتا ہے جس میں اسکے Genes جینز کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور وہ زندگی کے اکثر و بیشتر فیصلے انہی جینیاتی اور وراثتی اثرات کے تابع رہ کر کرتا ہے جیسے باپ جیسا غصہ رکھنا ، مجرمانہ ذہنیت یا مثبت سوچ ، حتی کہ شوگر اور اس جیسی کئی بیماریاں نسلوں تک منتقل ہوتی چلی جاتی ہیں ۔

    خدا ہر ماں اور باپ کو یہ اعزاز دیتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی ایسی پرورش کریں کہ انکی آنے والی نسلیں انسانوں کو فائدہ پہنچائیں ۔ اور اسکے لئیے کوئی بہت مشہور یا بڑا آدمی بننا ہی ضروری نہیں بلکہ ایک اچھا انسان بننا ضروری ہے ۔ ہر باپ اپنی اولاد کا پہلا ہیرو اور پہلا آئیڈیل ہوتا ہے ۔ آپ کےاچھے برے اعمال اور فیصلے نہ صرف آپکی اولادبلکہ آنے والی نسلوں اور قوموں تک متاثر کرسکتاہے ۔ کسے پتہ کہ کسی ان پڑھ کا اپنے خون جگر سے بچوں کو تعلیم دلوانا بعد میں اسکی نسل میں کسی آئن اسٹائن کی پیدائش کا سبب بن جائے ۔

    میرے والد بچپن میں ہی یتیم ہوگئے تھے لیکن انہوں نے اپنی یتیمی کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا اپنے پیروں پر بہت جلد ہی کھڑے ہوگئے خود تو پڑھ لکھ نہیں پائے لیکن مجھے انہوں ماسٹرز تک تعلیم دلائی اور اس طرح اپنی برسوں سے چلی آرہی فیملی Tree کے Gene میں تعلیم کا ٹانکا لگا کر اور اپنے اچھے کردار و عمل سے ہماری اچھی نگہداشت اور پرورش کرکے اپنی آنے والی نسلوں کے Genes کو آپ گریڈ کر گئے ۔ ہمارے باپ کا اتنا ہی احسان کم نہیں کہ اس نے ہمیں اچھے برے کی تمیز صرف الفاظ سے نہیں اپنے عمل سے بھی دکھائی ۔ مجھے یقین ہے کہ خدا نے جو کام بحیثیت انسان انکے حوالے کیا تھا وہ انہوں نے بخوبی پورا کیا ۔ آج وہ اپنے رب کے پاس خوش و خرم ہونگے ۔

    زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر
    خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
    مثل ایوان سحر، مرقد فروزاں ہو تیرا
    نور سے معمور یہ خاکی شبستان ہو تیرا
    آسماں تیری لحد پے شبنم افشانی کرے
    سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

  • پاکستانی کھلاڑیوں‌ کی میچ سے قبل رات بھر آوارہ گردی، کیفے میں شیشہ پیتے رہے، سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل

    پاکستانی کھلاڑیوں‌ کی میچ سے قبل رات بھر آوارہ گردی، کیفے میں شیشہ پیتے رہے، سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل

    پاکستانی کرکٹ ٹیم سے متعلق معلوم ہوا ہے کہ کل کا دن انہوں نے آوارہ گردی کرتے ہوئے گزارا. کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں‌ نے کل سرے سے میچ کی پریکٹس ہی نہیں‌ کی بلکہ ایک شیشہ کیفے میں‌ زیادہ وقت گزارا اور ایک ساتھ مل کر شیشیہ پیتے رہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق سوشل میڈیا پر پاکستانی کھلاڑیوں‌ کی تصاویر تیزی سے شیئر ہوئی ہیں‌ جس میں کھلاڑیوں‌ کو ایک شیشہ کیفے میں‌ موجود دیکھا جاسکتا ہے. کل کا دن اس لحاظ سے اس لئے انتہائی اہمیت رکھتا تھا کہ آج پاکستان اور انڈیا کا سب سے اہم میچ تھا تاہم پاکستانی ٹیم کے پریکٹس نہ کرنے کی وجہ سے کھلاڑیوں‌ کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی. شعیب ملک اور دیگر کھلاڑی میچ سے چند گھنٹے قبل بھی مانچسٹر میں‌ ولمسلو روڈ پر ایک شیشہ کیفے میں‌ موجود رہے.

    سوشل میڈیا پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کی تصویریں بھی شیئر ہو ئی ہیں جس میں انہیں‌ میچ کے دوران جمائیاں‌ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے. پاکستانی کھلاڑیوں نے رات آرام بھی نہ کیا اور رات بھر آوارہ گردی کرتے رہے جس سے انڈیا کے خلاف مضبوط کارکردگی نہ دکھا سکے اور برے طریقہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا.

    واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ کپ کے کرکٹ‌ میچ میں‌ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی ہے اور 337 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اس کے پانچ کھلاڑی 137 رنز پر آؤٹ ہو گئے. کچھ دیر کیلئے بارش کی وجہ سے میچ رکا تاہم دوبارہ شروع ہو گیا اور پاکستان شکست سے دوچار ہو گیا. پاکستان کا ایک کھلاڑی صرف 13 سکور پر آؤٹ ہو گیا. آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی امام الحق تھے. بھارت نے پاکستانی ٹیم کو فتح کیلئے 336 رنز کا ہدف دیا ہے. بھارت کے پچاس اوور کے اختتام پر پانچ کھلاڑی آؤٹ‌ہوئے . محمد عامر نے دس اوور میں سینتالیس سکور دے کر تین کھلاڑی آؤٹ کئے. میچ کے دوران کچھ دیر کیلئے بارش کی وجہ سے میچ روک دیا گیا تاہم بارش رکنے پر دوبارہ کھیل کا آغاز کیا گیا. بارش کی وجہ سے میچ کے اوورز کم نہیں کیے گئے تاہم اننگز بریک 15 منٹ کا کردیا گیا ہے. پاکستان انڈیا میچ میں ویرات کوہلی نے اپنے تیز ترین گیارہ ہزار رنز بھی مکمل کر لئے ہیں.

    ورلڈ کپ کے اہم میچ میں بھارت نے پاکستان کے خلاف عمدہ بیٹنگ کی۔ روہت شرما 140 رنز بنا کر حسن علی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے. ہاردک پانڈیا اور دھونی نمایاں‌کارکردگی نہیں‌ دکھا سکے. اسی طرح محمد عامر کے علاوہ پاکستانی باﺅلر میچ کے دوران نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں اور بھارتی کھلاڑی تیزی سے سکور میں اضافہ کر رہے ہیں۔ انڈیا کی جانب سے اننگز کا آغاز روہت شرما اور لوکیش راہول نے کیا، دونوں اوپنرز نے پر اعتماد انداز میں اننگز کا آغاز کیا اورپاکستانی باﺅلرز کو کھیلنے میں انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔