Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • میری تو پولیس بھی سپانسرڈ ہے ۔۔!   تحریر ؛ علی خان

    میری تو پولیس بھی سپانسرڈ ہے ۔۔!  تحریر ؛ علی خان

    @hidesidewithak

    "پولیس کا فرض ہے مدد آپ کی، تعاون: حق بناسپتی "۔”تیزرفتاری سے اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں مت ڈالیں: تعاون برق موٹرز”۔”تھانہ کورس پارک ایک سو میٹر بائیں جانب، تعاون :کڑک چائے”۔ یہ اور ان سے ملتے متعدد بل بورڈز اور سائن بورڈز آپ کو ہر چھوٹے بڑے شہر میں ضرور نظر آتے ہیں۔ انہیں پڑھ کر یہ سمجھنا قاصر ہوجاتا ہے کہ یہ متعلقہ محکمے کی جانب سے مفاد عامہ کے پیغامات ہیں یا پھر ساتھ بتائے کاروبار کے اشتہارات۔  سب سے اچھنبے کی بات یہ ہے کہ ایسے بورڈز اوراشتہار زیادہ تر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پیغامات سے مزین ہوتے ہیں۔  یہ کمپنیاں اور  کاروباری ادارے ایسے اشتہارات کو کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی یعنی  کاروباری سماجی ذمہ داری  کے  عنوان سے  چھواتے اور لگواتے ہیں۔لیکن  کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے؟؟؟ 

    سب سے پہلے تو  کارپوریٹ سوشل  ریسپانسبلٹی کا یہاں اطلاق مبہم ہے۔    ملکی  اور بین الاقوامی قوانین  میں سی ایس آر کا مطلب و مفہوم اس علاقے خطے یا ملک کے شہریوں کو معیار زندگی بہتر کرنے میں مدد کرنا  ہے جہاں  متعلقہ کمپنی کام یا کاروبار کر رہی ہو۔اس میں صحت عامہ کی سہولیات فراہمی، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے ۔ کمپنی کا نام سرکاری اداروں کے ساتھ اشتہاری بورڈوں پر ٹانک دینےسے کونسی سماجی ذمہ دار ی ادا ہوتی ہے ؟یہ حل طلب سوال ہے۔ 

    ایسے اشتہار نہ صرف  سماجی ذمہ داری قوانین کی غلط تشریح ہیں بلکہ بہت سے حوالوں سے  ذاتی فائدے، اثر و رسوخ بڑھانے اور  غیر قانونی کاموں کو جواز دیتے ہیں۔ پہلے تو اس مد میں خرچ کی جانے والی رقم کو ٹیکس چھوٹ لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا ادارہ جسکا نام محکمہ جاتی بورڈز پر کنندہ ہو سرکاری اہلکاروں کے لیے نو گو ایریا بن جاتا ہے اور وہ اسکی جانب رخ کرنے سے قبل کئی بار سوچتے ہیں چاہے وہاں کتنا ہی غیر قانونی کام ہی کیوں نہ ہورہا ہو۔ اب ایک ٹریفک کانسٹیبل ایسی کمپنی کی گاڑی کا چالان کیسے کاٹے گا جس کی ہر تقریب میں اسکا اعلیٰ افسر شرکت کرتا ہو؟ فوڈ انسپکٹر کے لیے ایسی فیکٹری میں کارروائی کرنا کہاں آسان ہوگا جو شہر میں ہونے والی تمام سرکاری تقاریب میں مفت کھانا فراہم کرتی ہو؟ 

    سرکاری سطح پر ایسی سماجی ذمہ داری سرگرمیاں کوئی اب کی بات نہیں بلکہ دور قدیم میں جب کوئی سرکاری افسر کسی شہر کے دورے پر آتا تو اسکے قیام و طعام اور تفریح کی ذمہ داری مقامی ماتحتوں پر آجاتی۔ پٹواریوں میں ایک مقامی زمینداروں سے دیسی ککڑ اکھٹے کرتا تو دوسرا صاحب اور ہمراہیوں کے لیے نئے بستروں کا انتظام کرتا۔ گرمیاں ہونے کی صورت میں نئے   پنکھوں کا انتظام کرنا بھی انہی سرکاری اہلکاروں کے ذمہ آتا ۔ اس مد میں آنے والی کل رقم صاحب کے ذاتی اکاونٹ میں منتقل ہوجاتی۔ یہی سلسلہ بڑھتے بڑھتے  آج سرکاری اداروں کے بورڈوں تک  پہنچ چکا

    کچھ شہروںمیں   اب پولیس کے گشت کرنے والے دستے کے موٹرسائیکلوں پر بھی یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔  نجی کاروباری  اداروں کی جانب سے  فراہم کردہ موٹرسائیکل انکے عطیے کو نہ صرف شہر بھر میں مشتہر کرتے ہیں بلکہ  قانون اور کاروبار کے مابین قریبی تعلق کا پیغام بھی عوام تک پہنچاتے ہیں۔  ارباب اختیار کو اس سلسلے کا جائزہ لینے  اور حدود متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہاتو کوئی بعید نہیں کسی دن اہلکاروں کی وردیوں کے ایک بازو پر چائے والی کمپنی کا اشتہار کنندہ ہو اور دوسری جانب  بناسپتی گھی کا۔ پولیس موبائل پر آئس کریم ، ٹوتھ پیسٹ، صابن اور ہیئر آئل کی تشہیر بھی دور کی بات نہیں لگ رہی۔ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ راہ چلتے  ہیلمنٹ نہ پہننے پر آپکا چالان کاٹا جائے اور چالان کی پرچی پر محافظ ہیلمنٹ بنانے والے کا بطور تعاون کردہ ذکر ہو ۔

  • ٹیرارزم سے ٹورازم تک کا سفر ۔۔

    ٹیرارزم سے ٹورازم تک کا سفر ۔۔

    9/11 کے بعد جنوبی ایشیا کے حالات بالعموم اور پاکستان کے حالات باالخصوص تبدیل ہوتے گئے۔ دنیا کی نظریں اس تبدیلی کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کے حالات پر ٹکی رہی۔

    دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے اور قریبی ہمسایہ ملک افغانستان میں بیک وقت نیٹو امریکہ بھارتیوں سمیت کل ملا کر 50 کے قریب پراکسیز کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں اگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پہلے قبائل اور پھر پشاور سے ہوتے ہوئے دہشت گردی کا یہ ناسور پورے ملک میں سرائیت کر گیا۔ 

    یہ ناسور اس قدر خطرناک تھا کہ ایک وقت میں پشاور میں لوگ خودکش اور بم دھماکوں کو گنتے تھے کہ اج کے دن ایک ہی روز میں 7 سے 8 دھماکے ہوتے گئے۔۔ حتی کہ کرکٹ جسے جینٹلمین کھیل کہا جاتا ہے اسکو بھی نا بخشا گیا اور سری لنکن ٹیم کی بس پر حملہ کر کے پاکستان کو پوری دنیا میں دہشت گردی کا گڑھ بنا دیا۔۔

    دہشت گردی کے اس بھیڑیے نے پاکستان کو دنیا کے لیے نو گو ایریا بنا دیا جس کی وجہ سے دنیا پاکستان انے سے کتراتی رہی اور یوں سیاحت پاکستان میں نا ہونے کے برابر ہوئی۔۔

    ِبھلا ہو ہماری عوام کا ہماری فوج کا ہماری عسکری نیم عسکری اداروں کا تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کا حکومت وقت کا جنہوں نے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا مصمم ارادہ کر کے 70 ہزار جانوں کا نزرانہ پیش کر کے بالاخر اس ناسور کو تقریباً ختم کردیا

     اور دنیا میں پاکستان کے بارے میں لوگوں کا خیال رفتہ رفتہ بدلنے لگا۔ 

    سب سے اچھا اقدام پی ایس ایل کا پاکستان میں انعقاد ہوا جس سے دنیا کو دہشت گردی کا خوف ختم کرنے میں بہت مدد ملی۔ اسکے بعد برطانوی جوڑے کا پاکستان کا دورہ کرنا بھی سیاحت کے فروغ کا باعث بنا۔

    پاکستان ایک زرخیز اور 4 موسم رکھنے والا ملک ہے

     جہاں دنیا کا اٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کے سرسبز و شاداب پہاڑ ، کشمیر کی قدرتی حسن سے مالا مال وادیاں  اور خیبر پختونخواہ کا حسن، سیاحوں کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے۔

     ساتھ ہی ساتھ موجودہ حکومت کی سیاحت میں دلچسپی کے باعث ایک بار پھر سے سیاحت نے انگڑائی لی اور مقامی افراد سمیت دنیا نے ان علاقوں کا رخ کرنا شروع کیا اور یوں دہشت گردی کے کالے سائے چھٹ کر سیاحت کا ایک درخشاں اور تابناک مستقبل سورج نمودار ہوا۔

    اس عید الاضحی پر ایک سروے رپورٹ کے مطابق سیاحت کے شعبے میں 28 لاکھ عوام نے شمالی علاقہ جات کا رخ کیا جہاں انہوں نے 23 ارب سے زیادہ روپے خرچ کیے۔ 

    یہ نوید ہے کہ پاکستان میں سیاحت پاکستان کی معیشت میں بہترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سیاحت کے لیے مزید اقدامات کرے تاکہ نا صرف اندرونی سیاح بلکہ بین الاقوامی سیاح بھی مزید بڑی تعداد میں اکر سیاحت کو فروغ دیں۔

    اخر میں سلام پیش کرتا ہوں پاکستانی عوام کا پاک فوج کا سیکیورٹی ایجنسیوں کا شہدا کا، جنہوں نے ٹیرارزم سے ٹورازم تک کے سفر میں بے شمار قربانیاں دے کر ہمیں اج اس قابل بنایا کہ ہم دنیا کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہیں۔۔

    @Goharspeaks

  • پاکستان کرکٹ کو دھچکہ   تحریر_سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کرکٹ کو دھچکہ تحریر_سید لعل حسین بُخاری

    نیوزی لینڈ کے عین اس وقت میچ اور سیریز کھیلنے سے انکار ،

    جب میچ شروع ہونے میں کچھ ہی دیر باقی تھی،

    نے پاکستان کی ساکھ کو بحیثیت کھیلوں کے لئے ایک محفوظ ملک کےشدید نقصان پہنچایا ہے۔

    پاکستان نے پچھلی دو دہائیوں میں سخت محنت اور سیکورٹی کے معاملات پر انتہائ جانفشانی سے کام کر کے حالات اتنے بہتر کر دئیے تھے کہ انٹرنیشنل ٹیموں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا۔

    کئی بین الاقوامی ٹیموں کے بعد نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان بھی انتہائ اہمیت کا حامل تھا۔

    نیوزی لینڈ کی ٹیم میں اگرچہ کئی سٹار کھلاڑی شامل نہیں تھے،

    مگر پھر بھی یہ ٹیم ون ڈے رینکنگ کی نمبر ون ٹیم تھی۔اس ٹیم کا پاکستان آنا اہمیت کا حامل تھا۔

    مگر میچ شروع ہونے سے قبل نیوزی لینڈ ٹیم نے جس بچگانہ اور نان پروفیشنل طریقے سے سیریز چھوڑ کر واپس بھاگنے کا اعلان کیا،

    اسکی کرکٹ کی حالیہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

    دوطرفہ سیریز میں فیصلے ہمیشہ مشاورت سے ہوتے ہیں،

    مگر اس موقع پر نیوزی لینڈ نے حیران کُن طور پر یک طرفہ طور پر دورے کے خاتمے کا اعلان کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

    نیوزی لینڈ نے سیکورٹی تھریٹ کو وجہ قرار دیتے ہوۓ دورہ جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔

    اس ہنگامی صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی کوششیں ناکام ہوتی دیکھ کر وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے نیوزی لینڈ کی 

    وزیر اعظم کو فون بھی کروایا مگر بات نہ بن سکی اور نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے خان کا نیوزی لینڈ کی ٹیم کا پاکستان میں بھرپور خیال رکھنے پر شکریہ ادا کرتے ہوۓ ٹیم کی واپسی کا فیصلہ بدلنے پر معذرت کی۔

    نیوزی لینڈ کے دورہ پاکستان کی منسوخی اس وقت تک کرکٹ کی دنیا کا نمبر ون موضوع بنا ہوا ہے۔

    نیوزی لینڈ کے اس غیر دانشمندانہ فیصلے پر زیادہ تر تنقید ہو رہی ہے کہ نیوزی لینڈ کو اسطرح اچانک دورہ چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔

    نیوزی لینڈ ٹیم کی پاکستان میں حفاظت کی زمہ داری ہمارے سیکورٹی اداروں کی زمہ داری تھی۔

    جو دنیا میں نمبر ون ہیں۔ان معاملات کو خاص طور پر ISIدیکھتی ہے،اور کون نہیں جانتا کہ دنیا بھر میں اس ایجنسی کے ڈنکے بجتے ہیں۔

    اس کی کارکردگی کا اعتراف اپنے پراۓ سبھی کرتے ہیں۔

    اسی وجہ سے ہم بجا طور پر اپنی فوج اور ISIپر فخر کرتے ہیں۔

    یہ ادارے ہمارے ملک کی شان ہیں۔

    نیوزی لینڈ کو ہمارے سیکورٹی کے انتظامات پر اعتماد کرنا چاہیے تھا۔

    نیوزی لینڈ کو بارہا بتایا گیا کہ آپ کو صدارتی سطح کی فُول پروف سیکورٹی دی جارہی ہے۔

    مگر نیوزی لینڈ نے بہانہ گھڑا اور پھرنہ ماننا تھا اور نہ ہی وہ مانے اور میں نہ مانوں کی گردان کرتے ہوۓ جینٹل مین گیم کو گندہ کر دیا،

    لاکھوں دل توڑ دیے جو کرکٹ دیکھنا چاہتے تھے۔

    موجودہ حالات میں کوئ بھی ملک سو فیصد محفوظ نہیں ہے،

    کیا نیوزی لینڈ میں تھوڑا ہی عرصہ قبل انکی مسجد پر دہشت گردی کےواقعہ میں درجنوں لوگ شہید نہیں ہوۓ؟

    جس وقت یہ واقعہ ہوا تھا،

    اس وقت بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم اس مسجد سے تھوڑے ہی فاصلے پر موجود تھی۔

    کیا بنگلہ دیش نے دورہ ادھورا چھوڑا؟

    کیا نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشت گردی کے اس واقعہ کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کا دورہ نہیں کیا؟

    پاکستان ٹیم کے دورہ نیوزی لینڈ کے دوران نیوزی لینڈ حکام نے جس طرح ہماری ٹیم سے بُرا سلوک کیا،

    وہ ایک الگ داستان ہے۔

    اُن کٹھن ترین حالات میں بھی ہماری ٹیم نے وہ دورہ مکمل کیا۔

    جب بھی کوئ ٹیم دوسرے ملک کے دورے پر جاتی ہے،

    تو وہ اپنی حفاظت خود نہیں کرتی بلکہ یہ زمہ داری اس میزبان ملک کی ایجنسیاں اور انکے ماتحت ادارے ہی کرتے ہیں۔

    چھوٹے موٹے تھریٹس ہر وقت موجود رہتے ہیں۔

    اگر ان تھریٹس پر کان دھر لئے جائیں تو پھر کاروبار زندگی چل ہی نہیں سکتا۔

    ہاں یہ بات ضروری ہے کہ ان تھریٹس کا تجزیہ کر کے ان سے نمٹنے کی تدبیر کی جاۓ تاکہ یہ تھریٹس ناکام کئے جا سکیں۔

    یہی مروجہ اصول ہیں،

    یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ نے ایک کان سے تھریٹ کے بارے میں سُنا اور آپ نے بزدلوں کی طرح دوڑ لگا دی اور اپنی بین الاقوامی زمہ داریوں کو پامال کر دیا۔

    ہر ٹیم دورہ پاکستان سے قبل پیشہ ور سیکورٹی ایجنسیوں سے یہاں کے حالات کا جائزہ لینے کا کہتی ہیں۔

    جب یہ سیکورٹی ایجنسیاں کلیرنس دیتی ہیں تو ٹیمیں آتی ہیں۔

    نیوزی لینڈ والوں نے بھی پاکستان کے اندر اپنی سیکورٹی کے معاملات کا باریک بینی اور خوردبینی انداز میں معائنہ کروا کے ہی یہاں آنے کی حامی بھری تھی۔

    جب ٹیمیں یہاں آجاتی ہیں تو پھر گیند ہمارے کورٹ میں ہوتی ہے کہ ہم سیکورٹی انتظامات کو کس احسن طریقے سے نبھاتے ہیں۔

    ماضی میں ہم سے کوتاہیاں بھی ہوئیں۔

    سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہونے والے حملہ ہماری اس وقت کی حکومت اور سیکورٹی اداروں کی نااہلی تھی۔

    اس نااہلی کی ہم نے لمبی سزا بھی بُھگتی،

    کئی سال کی  محنت شاقہ اور ہزاروں جانوں کی قربانیوں کے بعدجا کے دنیا کا ہم پہ اعتماد بحال ہوا۔

    مگر بلیک کیپس کی اس حرکت نے ایکبار پھر پاکستان کو مشکل صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے۔

    مگر ایک بات یقینی ہے کہ پاکستان اس مشکل صورتحال سے سرخرو ہو کر نکلے گا اور اگر میرے اللہ نے چاہا تو پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ضرور ہوگی۔اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی سازشیں ایک بار پھر ناکام ہوں گی۔

    نیوزی لینڈ کی اسطرح واپسی سے ہونے والے نقصان کا بہترین ازالہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ ہم نیوزی لینڈ کو ملنے والے تھریٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور دیکھیں کہ یہ ہمارے کسی دشمن کی چال تو نہیں۔

    کچھ بعید نہیں کہ اس سازش کے پیچھے ہمارا ازلی دشمن بھارت ہو۔

    ہو سکتا ہے ،

    اس سازش کے پیچھے وہ ہوں،

    جنہیں 

    ABSOLUTELY NOT

    سے بڑی تکلیف ہے۔

    ہو سکتا ہے،

    اس سازش کے پیچھے وہ قوتیں ہوں،

    جو افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتی ہیں۔

    اس سازش کو بے نقاب کر کے ہی ہم سرخرو ہو سکتے ہیں۔

    بس دیکھنا یہ ہے کہ اس سازش کے تانے بانے کہاں جا کے ملتے ہیں؟

    اس سازش کا توڑ بھی یہی ہے کہ اس سازش میں ملوث کردار بے نقاب کئے جائیں۔

    پاکستان سے یوں نیوزی لینڈ ٹیم کی اچانک واپسی سے ہر محب وطن پاکستانی رنج وغم اور غصے کی کیفیت میں تھا،

    سواۓ شریف فیملی،

    انکے خاص چمچوں اورصحافت کے لبادے میں چھپی کالی بھیڑوں کے۔

    اس افسوسناک واقعہ پر یا تو بھارت میں جشن تھا یا پھر ملک کے اندر موجود وطن کے غدار حلقوں میں۔

    یہ مشکل صورتحال پاکستان کے لئے تھی،

    عمران خان کے لئے نہیں۔

    مگر ان بد نسلوں نے اس موقع کو بھی اپنے سیاسی اور زاتی سکور سیٹل کرنے کے لئے استعمال کیا۔

    ان لوگوں کا کردار ایسے ہی تھا کہ جیسے کوئ اپنی ماں کے جنازے پر ناچ رہا ہو۔

    یہ مشکل ہماری ریاست کے لئے تھی اور ریاست ماں کے برابر ہوتی ہے،

    اگر کوئ سمجھ سکے تو#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • آج کا معاشرہ اور ہم   تحریر : ثناءاللہ محسود

    آج کا معاشرہ اور ہم تحریر : ثناءاللہ محسود

    آج ہمارا معاشرہ شدید بے راہ روی کا شکار ہے۔ آج لوگوں نے اچھائی برائی اور حلال و حرام میں تمیز کرنی چھوڑ دی ہے۔ صحیح اور غلط کا فرق بھلا کر ہر شخص جائز نہ جائز طریقے سے مال حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہم رشوت اور سود جیسی خطرناک اور مہک بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ قتل و غارت عام ہو چکی ہے۔ بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اولاد والدین کی نا فرمان ہے ہمیں غور کرنا ہوگا کہ آخر اس معاشرے کے بگاڑ کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہم بحیثیت مسلمان اپنا فرض اچھے طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ کیا ہم صراط مستقیم پر عمل گامزن ہیں۔

    کیا ہم اپنا محاسبہ کرتے ہیں۔ کیا ہم اپنے اہل و عیال کی اصلاح کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ کیا ہم اپنے حقوق وفرائض اچھے طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ ہمارا پیارا دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں ہر طبقے کے لئے رہنمائی موجود ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کو واضح طور پر بیان گیا ہے۔ انسان کی ہر مشکل کا حل بتایا گیا ہے۔ اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان اسلام کا پیروکار بننے کے لئے آمادہ ہو۔ اپنا تعلق اپنے رب تعالیٰ سے قائم کرے۔ ہر کام خالص اپنے اللہ عزوجل کے لئے کرے۔ اپنی خواہشات کو اللہ کے لئے قربان کر دے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری حالت اتنی ابتر کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ کے ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ آئے دن کوئی نہ کوئی مشکل آن پڑتی ہے۔

    گھروں میں نااتفاقیاں ہیں اور ہمارے خاندانوں کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ اس سب کی وجہ صرف اور صرف اسلام سے روگردانی ہے۔ چند لوگ ہیں جو اسلام کہ احکامات کو اپنی زندگی پر لاگو کئے ہوئے ہیں۔ وہ بھی اسلامی تعلیمات کو بس اپنے گھروں تک محدود رکھتے ہیں۔ خود تہجّد چاشت کے پابند ہیں۔ مگر معاشرے کی اصلاح نہیں کرتے۔ اسلامی تعلیمات نے انسان پر صرف اپنی زمہ داری عائد نہیں کی بلکہ اپنے گھر والوں اپنی اولاد، عزیز و اقارب اور اپنے خاندان والوں کی اصلاح کا فریضہ بھی عائد کر رکھا ہے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں سورت البقرہ میں ارشاد فرمایا! تم بہترین امت ہو۔ کیوں کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے منع کرتے ہو۔ اس آیت میں امت محمدیہ کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے۔

    کیوں کہ وہ نیکی کا حکم دیتی اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کیا ہم بھلا کا حکم دیتے اور نیکی سے منع کرتے ہیں۔ یقینا نہیں۔۔۔ اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ برائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ جب ایک فرد اپنی اصلاح کی طرف اپنی پوری توجہ مبذول کرے گا۔ تو اس سے ایک اچھا معاشرہ وجود میں آئے گا۔ اور جب ایک معاشرہ صحیح راستے کی طرف چل پڑے۔ تو دھیرے دھیرے اس کے اچھے اثرات پوری قوم میں منتقل ہوں گے۔ اور پوری قوم میں اصلاح کا جذبہ پیدا ہو گا۔ اگر آپ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ کا دین برحق ہے۔ اور مرنے کے بعد جزا سزا کے مراحل پیش آنے والے ہیں۔ تو خدا کے لئے اپنی اولاد، اپنے رشتہ دار اور دوست احباب کو بھی اس مرحلے کے لئے تیار کریں۔ گھروں کو نماز اور تلاوت قرآن سے آباد کریں۔ ان باتوں پر اگر خلوصِ دل سے عمل کیا جائے۔

    تو ہم اپنے معاشرے کو ایک بہترین معاشرہ بنا سکتے ہیں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔

    @SanaullahMahsod

  • شرمندہ ہجوم/ بےحس عوام تحریر: محمد عمران خان

    شرمندہ ہجوم/ بےحس عوام تحریر: محمد عمران خان

    Twitter Handle: @ImranKBloch

    کہاں سے لکھوں کہاں تک لکھوں میرے دیس کا تو ہر ہر لمحہ تار تار ہے، ہر روز اِک نیا عذاب جس سے ہجوم چیخ اُٹھتا ہے، فیس بک ٹیوٹر سوشل سائٹس پہ خوب واویلا کیا جاتا ہے، اپنے باشعور ہونے کا احساس چیخ چیخ کے دلانے والے اس ہجوم کا ضمیر اندر ہی اندر ہنس رہا ہوتا ہے کیسا چونا لگا رہا ہے لوگوں کو، اس ہجوم کے ہر تماشائی کی مثال اُس مزدور سی ہے جو مالک کو چونا لگانے کے چکر میں ایک ہی سیمنٹ کی بوری چھت پہ لے کے جاتا اور وہی واپس نیچے لے کے آتا صبح سے شام کر دیتا ہے، اس ہجوم کے غریب لاچار کی خود سے ہمدردی اُس مسافر کی سی ہے جو واپسی کا ٹکٹ بھی لے کر ٹرین پہ سوار ہو گیا ہے اور دل ہی دل میں اس خیال سے محضوظ ہو رہا ہے کہ واپسی تو میں نے کرنی نہیں، اس ہجوم کا ایک ایک فرد ملک و ملت سے اتنا وفادار ہے، غریب بے کس پسی عوام کا اتنا درد اس کے اندر سمویہ ہے کے کام کاج سے تھکا ہارا گھر لوٹ کر شام چھ سے رات بارہ ایک بجے تک پوری تندہی سے سوشل میڈیا سائٹس پہ مفکرانہ، مفسرانہ، قرآن حدیث اقوال ذریں پہ مبنی اسلامی پوسٹس کرتا ہے،  وطن سے محبت کے ترانے الاپتا ہے، حکمرانوں کی سمت درست کرواتا ہے، کرپٹ سیاستدانوں کی ماں بہن ایک کرتا ہے، بیوروکریسی کے کالے کارناموں پہ ہزار لعنتیں بھیجتا غریب دکھیاری پریشان عوام کے دکھ کا مداوا کر کے سکون کی نیند سو جاتا ہے کہ میں نے اپنا فریضہ ادا کر دیا الحمداللہ،

    ہم بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں سے شرمندہ، دہشتگردوں کے ہاتھوں گولیوں سے چھلنی ہونے والوں سے شرمندہ، اے پی ایس کے معصوم فرشتوں سے شرمندہ، بلدیہ ٹاون، ماڈل ٹاؤن، ساہیوال، جیسے کئی سانحوں کی لپیٹ میں آنے والے معصوم لوگوں سے شرمندہ، شاہ رُخ جتوئی کے ہاتھوں قتل ہونے والے  شاہ زیب سے شرمندہ، ایان علی کیس کے تفتیشی کسٹم آفیسر اعجاز چودھری سے شرمندہ، نقیب اللہ، ننھی زینب، صلاح الدین، جیسے ہزار ہا ناحق مارے جانے والوں، وڈیرے سرمایہ داروں کے ہاتھوں مارے جانے والے مظلوموں، مہنگائی، بیروزگاری، انصاف کی عدم دستابی کے ہاتھوں مجبور ہو کر فیملیز سمیت خودکشیاں و خود سوزیاں کرنے والوں سے شرمندہ ہیں، ہم ایک ایسا شرمندہ ہجوم ہیں جن کی شرمندگی دکھاوے کے سواء کچھ بھی نہیں، جن کے بیان سالہاسال سے اس فرسودہ نظام اور اس سے مستفید کرپٹ عناصر کے خلاف پورے جوش خروش والے ہوتے ہیں مگر جب ہر ہر بربریت سے بھرپور سانحہ پہ نکلنے کا موقع آتا ہے تو یہی عوام نکلنے والوں کی پکار پہ لبیک کہنے کی بجائے ٹی وی چینلز کے سامنے بیٹھ کر نکلے ہووں پہ ٹھٹھے اور جگتیں کسنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں، یہی ہجوم پانچ سال دل کھول کے گالیوں سے نوازنے کے بعد اُنہی کرپٹ ظالم بھتہ، قبضہ مافیا کو الیکشن کے دنوں میں اپنی پلکوں پہ بیٹھتا ہے، لائنوں میں لگ کر اُنہیں اگلے پانچ سال کیلئے کرپشن ظلم و بربریت کا بازار گرم کرنے کا لائسنس دیتا ہے، اے زندہ لاشو تم کب تک شرمندہ ہوتے رہو گے تمہارے مقدر کی گولی تو اس فرسودہ کرپٹ نظام میں تیار ہو چکی بس انتظار کرو  کسی نا کسی دن پولیس کی وین آئے گی اور تمہارے لواحقین پوسٹ مارٹم زدہ لاش وصولنے کیلئے مردہ گھر کے باہر منتظر ہوں گے، بے فکر رہو ایک تلاتم خیز سمندر تمہارے نام پہ ہزاروں لاکھوں پوسٹس کرے گا، ہو سکتا ہے ٹیویٹر پہ ٹرینڈ بھی بن جائے، زندہ تھے تو ٹی وی چینلز پہ لوگوں کی خبریں سنتے تھے پولیس گردی کے نتیجہ میں مرو گے تو ٹی وی چینلز کے بلیٹن، ٹاپ سٹوریز، ٹاک شوز، میں تمہارا نام جگمگائے گا، قوم بن کے بوسیدہ دیمک زدہ کرپٹ نظام کو زمین بوس کرنے کیلئے نکلنے کا کیا فائدہ گولیوں سے چھلنی کر بھی دیے گئے تو نیوز بلٹن میں بس اتنی سی خبر آنی ہے پاکستان کو کرپٹ نظام اور اُن کے چیلوں سے واگزار کرواتے ہوئے دس بیس ہزارافراد شہید

  • نیوزی لینڈ ٹیم کا دورہ منسوح اور پاکستان دشمنوں کی کامیاب چال تحریر ہارون خان جدون

    نیوزی لینڈ ٹیم کا دورہ منسوح اور پاکستان دشمنوں کی کامیاب چال تحریر ہارون خان جدون

    نیوزی لینڈ ٹیم 18 سال بعد 3 ون ڈے اور پانچ ٹی ٹیونٹی میچ کھیلنے کے لئے 11 ستمبر کو پاکستان آئ ہوئی تھی جبکہ ٹیم کی آمد سے قبل نیوزی لینڈ کے بہترین سیکورٹی کے ماہرین نے پاکستان کا دورہ کیا اور سیکورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا اور حکومت کو اس حوالے سے اوکے کی رپورٹ دی جس کے بعد ٹیم پاکستان پنچی اور اس نے پنڈی میں اپنے پریکٹس میچ کھیلنے شروع کئے جبکہ ایک روز قبل ٹرافی کی تقریب رونمای بھی بھی منعقد ہوئی لیکن گزشتہ روز عین میچ شروع ہونے سے دو گھنٹے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم نے کرکٹ کی تاریخ میں پہلی دفعہ اچانک گراؤنڈ میں نہ جانے کا فیصلہ کیا جس کا جواز اپنی حکومت کی جانب سے پاکستان میں سیکورٹی خطرات کو قرار دیا, اس اچانک فیصلے پر پاکستانی حکام ششدر رو گے، تاجكستان کے شہر دوشنبے میں موجود وزیراعظم پاکستان عمران خان نے غیر معمولی طور پر معاملہ میں خود مداخلت کرتے ہوے اپنی کیوی ہم منصب سے رابطہ کیا اور انہیں سیکورٹی کے حوالے سے بہترین فول پروف انتظامات کی یقین دہانی کروائی لیکن نیوزی لینڈ حکومت دورہ پاکستان کو یوں بیچ چوراہے میں چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی سو انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا اور زراہع کے مطابق ان سطروں کی اشاعت یا اس کے فوری بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان سے روانہ ہو ہو گی، اپنی نوعیت کے اس انوکھے واقعہ نے pakistan کو تو نقصان پنچایا ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ نہاد آزاد خودمختیار باوقار اور اصول پسند ہونے کے دعویدار نیوزی لینڈ کو بھی ننگا کر کے رکھ دیا ہے

    جس کے درجنوں سفارتکار پاکستان میں پرامن اور پر سکون انداز میں اپنی سفارتی خدمات سرانجام دے رے ہیں جس میں امریکہ اور اس اس کے ساتھ افغانستان سے شرمندگی و ذلت اٹھا کر ذلیل و رسوا ہو کر افغانستان سے فرار ہونے کے بعد پاکستان میں پناہ کے لئے بھیڑ بکریوں کی طرح جہازوں میں پاکستان آنیوالوں نے پاکستان کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جو کہ یقینی طور پر پاکستان کے ازلی دشمنوں کی سازشوں کا نتیجہ ہے لیکن اس سب کے باوجود مملكت خداداد پاکستان اور اس کے شہری اپنے ملک کی عزت و وقار کی خاطر تمام سیاسی و گروہی اختلافات بھلا کر ایک ہیں، لیکن نیوزی لینڈ جیسے احسان فراموش ملكوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کے اگر آج انہوں نے پاکستان نے اپنے دشمنوں کی ایماء پر نیچ حرکت کی ہے تو پاکستان انشاءاللّہ اس کا جواب اپنے انداز میں اپنے وقت پر دے گا، ملكی اور خود مختاری کا یہی تقاضہ ہے کے قوم کا ہر فرد چائے اسکا کرکٹ کے ساتھ کوئی لگاؤ ہے یا نہیں وہ نیوزی لینڈ کی اس حرکت پر سخت دل گرفتہ ہے اور اس وقت حکومت pakistan کے ساتھ ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کے حکومت پاکستان کو عوامی جذبات و احساسات کی بھرپور مکمل ترجمانی کرتے ہوے سخت اور ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے کیوں کہ پاکستان کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتا قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو تحریر سیدہ ام حبیبہ

    ظلم رہے اور امن بھی ہو

    قائین محترم جہالت کی ضد علم ہے

    تاریکی روشنی کو مات دیتی ہے

    صبح و شام ایک ساتھ ضم نہیں ہو سکتے.

    ہماری قوم کی یاداشت کمزور ہے یا ہماری جمہوریت کے پیچھے متحرک قوتیں ملک کے وسیع تر مفادات میں قوم کو ذہنی ہیجان سے گزارنے میں اور یاداشت کو مسخ کرنے میں ماہر ہیں.

    اور ہم بھی ایسی قوم ہیں کہ یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ

    چلو اچھا ہوا ہم بھول گئے

    ہماری قوم جابجا یہ بھی کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے.

    ہم نے بہت قربانیاں دیں ہیں .

    مگر ساتھ ہی یہ بھی کیا کہ ان ہی دہشت گردوں کی عام معافی کے اعلانات کیے جائیں؟ کس سے پوچھ کر ؟

    کیا اس ماں سے پوچھا گیا جسکا نازوں سے پالا نوخیز جوان ذبح کر کے اس کے سر سے فُٹ بال کھیلا گیا؟

    اس بہن سے پوچھا جسکا اکلوتا بھائی سہرا سجانے اے چند دن پہلے وردی میں ہی دفنانا پڑ جائے؟

    اس قوم سے پوچھا جس نے دہشت گردی کے لیبل کے ساتھ گلی گلی اور ملکوں ملکوں رسوائی برداشت کی پابندیاں برداشت کیں؟

    ملک کا ایسا کونسا مفاد ہے کہ اے پی ایس کے شہداء کے قاتل ہنس ہنس کر آپ کے ٹی وی چینل پہ بیٹھے ہوں اور شہیدوں کی مائیں اپنے بچوں کے ہنستے قاتل کو دیکھ کر خون رو رہی ہوں.

    کل نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ سے عین پہلے دورہ ختم کر کے نکل جاتی ہے. قوم تڑپ اٹھتی ہے کہ 18 سال بعد کرکٹ کے رنگ وطن لوٹے ہی تھے کہ سب ایکا ایکی ختم ہو گیا.

    تمام تبصرے قابلِ بحث نہیں ..کچھ آستین کے سانپ زہر اگلتے رہے اور کچھ نمک حلال اپنے نہ ہو کر بھی ہمت بنے رہے.

    مدعے کے بات یہ تھی کہ دورے کی منسوخی میں کہیں نہ کہیں طالبان کی حمایت وجہ بن رہی تھی اور سر دھنیے افغان طالبان نہیں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت اور وہ بھی عام معافی جیسی بات وہ بھی ان درندوں کے لیے جن کے سر پہ ستر ہزار پاکستانیوں کا بے گناہ خون ہو.

    دشمن وار جانے نہیں دیتا مگر ان کا کیا کریں جو دارالحکومت کے دامن میں دہشتگردی کی دکان سجائے بیٹھے ہیں.اور آج اسلام آباد کی پولیس کو لیکچر دیتا مہتمم کہتا ہے

    "پاکستانی طالبان آئیں گے تمہارا حشر نشر کریں گے”

    ریاستی ادارے کو دہشتگردوں کی دھمکی پہ وزیرِ داخلہ خاموش وزیرِ دفاع ناپید ؟

    ہمارے وطن کے کرتا دھرتا یہ سمجھتے ہیں ناں کہ مقتولین کے حق میں بھی نغمات جاری کر لیں اور قاتلوں کو بھی معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیں تو ان اے کہدیجیے…

    ظلم رہے اور امن بھی ہو

    کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    اپنے ہونٹ سیے تم نے

    میری زباں کو مت روکو

    تم کو اگر توفیق نہیں

    مجھکو ہی سچ کہنے دو

    ظلم رہے اور امن بھی ہو…

    @hsbuddy18

  • صحت مندانہ طرز زندگی تحریر:فاروق زمان

    صحت مندانہ طرز زندگی تحریر:فاروق زمان

    صحت مندانہ طرز زندگی کسی بھی شخص کے کے کھانے پینے، کام کرنے، سونے جاگنے اور دیگر تمام امور سے متعلق ہے ۔ یہ انسان کی عادات و خصائل اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف رحجان کا احاطہ کرتی ہے۔ زندگی اللّلہُ تعالی کی نعمت ہے اور صحت اس سے بڑی نعمت ہے۔ آج کل صحت مندانہ طرز زندگی بسر کرنا بہت مشکل ہے۔  لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت تباہ اور صحت مندانہ طرز زندگی کوختم کرنے کے درپے ہیں۔ لوگ اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے، پر آسائش زندگی کے حصول کے لیے  دن رات تگ و دو کرتے ہیں۔ محنت کرتے ہیں لیکن دراصل وہ صحت مندانہ طرز زندگی سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
    موبائل فون، اور دیگر آلات کے استعمال، سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ وغیرہ نے لوگوں کو قدرت اور صحت مندانہ طرز زندگی سے دور کر دیا ہے۔ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال نیند میں کمی، تنہائی ڈپریشن وغیرہ کی وجہ ہے۔ موبائل فون اور دیگر آلات سے شعاعیں خارج ہوتی ہیں، جن کے انسانی جسم پر مضر اثرات ہیں۔ موبائل فون استعمال کرتے دن کا بیشتر وقت گزر جاتا ہے، ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنا، وہی کھانا پینا، جس سے جسمانی سرگرمیاں تو بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس سے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    صحت مندانہ طرز زندگی بسر کرنا یا اس کے انداز اپنانا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔  اگر لوگ چاہیں تو اپنے لئے صحت مندانہ طرز زندگی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ترجیحات کے تعین، کوشش، اور توجہ سے صحت مندانہ طرز زندگی اپنا سکتے ہیں۔ اپنا خیال رکھیں، اچھی روٹین سیٹ کریں اور اسے فالو کریں۔ صاف ستھرے رہیں۔ نفاست پسندی کی زندگی بسر کریں۔ دوست بنائیں، باتیں کریں اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہیں۔
    صحت مندانہ طرز زندگی میں یہ شامل ہے کہ آپ خوراک کے معیار پر توجہ دیں۔ ناقص خوراک استعمال نہ کریں۔ غذائیت بخش خوراک کا استعمال یقینی بنائیں۔ جو غذا کھائیں، وہ متوازن ہو اور غذائیت سے بھرپور ہو۔ چینی، تیز مرچ مصالوں، چکنائیوں اور  مرغن کھانوں سے دور رہیں۔  فاسٹ فوڈز سے اجتناب کریں، یہ مضر صحت ہیں ان کا استعمال کسی بھی صورت صحت مندانہ نہیں ہے۔ پھل، سبزیاں اور دالیں وغیرہ اپنی خوراک میں شامل کریں۔ اس کے علاوہ بہت زیادہ مقدار میں کھانا نہیں کھانا چاہیے۔ بلکہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ وقت پر کھانا کھانے کا معمول بنائیں۔ بغیر وقت کے کھانا کھانا بھی جسم پر منفی اثرات چھوڑتا ہے۔ محنت کریں اور حلال کی کمائی کھائیں، محنت سے حاصل کیے گئے حلال رزق کے نوالے آپ کے جسم پر مثبت اثرات رکھتے ہیں۔
    پانی کا استعمال زیادہ سے کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ پانی کا استعمال ہمارے لئے کتنا مفید ہے لیکن ہم پانی کے بجائے دیگر مشروبات، کولڈ ڈرنکس وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ جو کہ مضر صحت ہیں۔ کولڈ ڈرنکس وغیرہ استعمال نہ کریں، بلکہ تازہ پھلوں سے کشیدہ رس کے استعمال کو ترجیح دیں۔
    کام کرنے کے اوقات متعین کریں۔ اتنا کام  کریں جو آسانی کے ساتھ کر سکیں، اور آپ کی صحت اجازت دے۔ دن رات کام نہ لگے رہیں اور نہ ہی جرآت سے بڑھ کر کام کریں بلکہ اتنا ہی کام کریں جس سے صحت پر کوئی برا اثر نہ پڑے۔ یاد رکھیں آپ کام کے لیے نہیں بنیں۔ آپ کا خود پر سب سے زیادہ حق ہے۔
    اچھی اور مناسب نیند لیں۔ بھرپور نیند آپ کو فریش اور تروتازہ رکھتی ہے۔  چوبیس گھنٹوں میں سے آٹھ گھنٹے کی مکمل نیند لیں نیند بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے اور نیند مکمل نہ ہونے کی صورت میں آپ بہت سی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دیر سے سونا اور دیر سے اٹھنا جیسی خراب عادتوں کو زندگی کا حصہ نہ بنائیں وقت پر سوئیں، وقت پر اٹھیں۔ اگر آپ وقت پر نہ سوئیں، اٹھیں، یا ناکافی نیند لیں تو چڑچڑا پن،  تھکاوٹ اور سستی مستقبل آپ کی ساتھی بن جاتی ہیں اور آپ کی صحت پر منفی انداز میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ بلا وجہ کی پریشانیوں اور ٹینشنوں کو زندگی میں جگہ نہ دیں۔ پریشانیاں اور ذہنی دباؤ آپ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ سٹریس کو مینیج کرنا سیکھیں۔ اور مثبت رویہ اپنائیں۔
    مشینوں کے استعمال نے ہمیں بہت سست اور کاہل بنا دیا ہے۔ آرام طلبی کی زندگی کو چھوڑ دیں، یہی صحت مندانہ طرز زندگی کی قاتل اور دشمن یے۔  ہر وقت پڑے رہنا اور جسمانی طور پر کوئی ہل جل نہ کرنا بہت سی بیماریاں لاتی ہے۔ یہ کاہلی، سستی اور موٹاپا کا سبب بنتا ہے۔ مشینوں پر انحصار کرنے کی بجائے خود ہل جل کریں، اور اپنی قوت باہر اعتماد کریں۔ اپنے کام خود کریں۔ کام کاج اور ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔
    روزانہ  مستقل بنیاد پر ورزش کریں۔ اگر آپ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے تو آپ جسمانی طور پر ہمیشہ فٹ، تندرست اور چاق و چوبند رہیں گے۔ ورزش دل کے لیے بہت مفید ہے اور دوران خون کو رگوں میں رواں رکھتی ہے۔ ورزش کرتے ہوئے ایسے ہارمونز ریلیز ہوتے ہیں جن سے منفی جذبات اور ذہنی دباؤ دور ہوتا ہے۔ جس کے سبب جسم پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔
    اس کے علاوہ چہل قدمی اور ہوا خوری کی عادات اپنائیں۔ ان کے بھی صحت پر خوشگوار اثرات ہیں۔ تازہ ہوا میں سانس لینے سے ذہن کو تازگی ملتی ہے اور سکون ملتا ہے۔
    صحت مندانہ طرز زندگی ایک کلچر ہے، اس میں آپ کے روزمرہ کے طور طریقے شامل ہیں اگر آپ کے انداز و اطوار صحت مندانہ نہیں ہیں، صحت مندانہ طرز زندگی کو فروغ دینے والے نہیں ہیں تو یقینا آپ برے کلچر کا حصہ ہیں۔ اپنے لیئے صحت منتخب کریں، اور زندگی گزارنے کا بہترین اور صحت بخش طریقہ اپناءیں۔ ہمیں اپنی بقا کے لیےصحت مندانہ طرز زندگی کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔

    @FarooqZPTI

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر: ماہ رخ اعظم

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر: ماہ رخ اعظم


    دین اسلام کی آمد عورت کیلٸے غلامی و ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کی نوید تھی۔ دین اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا خاتمہ کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے خلاف تھا اور عورت کو وہ حقوق اور فرائض  عطا کیے جس کی وہ مستحق تھیں دین اسلام نے عورت کو اس قدر عزت و اہمیت دی کہ قرآن کی ایک عظیم سورۃ کا نام سورۃ النساء ہے۔ پھر  ایک اور سورۃ کا نام سورۂ مریم ہے۔  تاریخ گواہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے دور سے عورت مظلوم چلی آرہی تھی ہر دور میں عورتوں پر ظلم  و جبر کیا گیا ہے ۔ مرد انہیں اپنے عیش وعشرت کی غرض سے خرید اور فروخت کرتے انکے ساتھ جانوروں سے بھی  بدتر سلوک کیاجاتاتھا حتی کہ اہلِ عرب عورت کے وجود کو معیوب سمجھتے تھے اور بیٹیوں  کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ ہندوستان میں خاوند کی چتا پر اس کی بیوہ اہلیہ کو جلایا جاتا تھا ۔ واہیانہ مذاہب بھی عورت کو گناہ کا سرچشمہ  سمجھتے تھے۔ عورت سے تعلق رکھناروحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ دنیا کے زیادہ تر تہذیبوں میں عورت کی سماجی حیثیت نہیں تھی۔ عورت کو حقیر وذلیل نگاہوں سے دیکھاجاتا تھا۔ عورت کے معاشی اور سیاسی حقوق نہیں تھے، عورت آزادانہ طریقے سے کوئی لین دین نہیں کرسکتی تھی۔ عورت اپنے باپ کی پھر اپنے خاوند   کی اور اس کے بعد اپنے بچوں کی تابع اور محکوم تھی۔ عورت کی کوئی اپنی مرضی نہیں تھی اور نہ ہی اسے کسی پر کوئی اقتدار حاصل تھا۔ یہاں تک کہ عورتوں کو فریاد کرنے کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔
    لیکن دین اسلام نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کوزندہ درگور کرنے سے منع فرمایا اور ذلت اور پستی کے گڑھوں سے نکالا۔ اسے باپ کے لیے رحمت بنایا، شوہر کے لیے راحت،بھاٸیوں کے لیے شفقت بنایا اور ماں کے روپ میں محبت اور الفت کا سرچشمہ بنایا ۔سب سے پہلے دین اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیئے جس سے وہ صدیوں سے محروم چلی آرہی تھی اور عورت کو یہ حقوق دین اسلام نے اس لئے نہیں عطا کئے تھے کہ عورت اس کا مطالبہ کر رہی تھی یا عورتوں نے کوئی مارچ کیا تھا، بلکہ دین اسلام نے یہ حقوق اور فرائض  عورت کو اس لئے تفویض کئے کہ یہ عورت کے فطری حقوق اور فرائض  تھے، جس کی وہ قدرت کی طرف سے حق دار تھی اور ہمیشہ رہے۔ گی  دین دین اسلام نے عورت کو انسانیت کے دائرے میں حقوق اور فرائض  دیئے اور لوگوں کو یاد دلایا کہ مرد ہونا کوئی برتری کی علامت نہیں ہے اور عورت ہونا کوئی باعث عار شے  نہیں ہے۔اسلام نے عورتوں کو آزادی رائے کا پورا حق ہے۔عورت نے دین اسلام کو بیٹی، بیوی اور ماں کی حیثیت میں بے پناہ حقوق و فراٸض اور آزادیاں دی ہیں، مگر حد سے تجاوز کرنے سے ممانعت کیں ہے مگر  کچھ نا سمجھ لبرلز عورتوں آزادی چاہتی ہیں اور میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے لگا کر عورتوں کو پھسلانا چاہتی ہیں، جبکہ ہمارا جسم تو اللہﷻ  کا عطا کردہ ہے اور اگر ہم اس جسم پر اللہ ﷻ کی مرضی کی بجائے کچھ اور نافذ کریں گے تو وہ یقینا فلاح نہیں ہو گی اس لئے عورتوں کو وراثت میں حق دینے کے لئے مارچ ہونے چاہئیں ، انہیں بہترین  تربیت اور تعلیم دی جانے چاہیے اور جہیز جیسی لعنت سے چھٹکارے کے لئے مارچ ہونے چاہئے جو عورت کے حقیقی مسائل ہیں اور اسی کیلٸے ہمیں مل کر جدوجہد کرنی چاہئے۔ 

    اللہ تعالیٰ ہم سب  مسلم بہنوں  کو اسلام کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارنے کی توفیق دے۔

    ‎@MahaViews_

  • پاکستان کا مستقبل روشن ہے تحریر: فرمان اللہ

    پاکستان کا مستقبل روشن ہے تحریر: فرمان اللہ

    پاکستان کے روشن مستقبل پر بات کرنے سے پہلے میں ماضی پر ایک نظر ڈالنا چاہتا ہوں۔ پچھلے 5 دہائیوں پر اگر نظر ڈالیں تو جتنے بھی حکمران آئے انہوں نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کی بجائے اسے تنزلی کی طرف لے کر گئے، معاشی طور پر پاکستان کو مقروض بنایا، اداروں میں سیاسی بھرتیاں کر کے اداروں کو تباہ و برباد کیا گیا، تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی صحت کی بہتر سہولیات عوام کو دی گئی۔ سادا لفظوں میں اگر بتاوں تو ملک غریب ہوتا گیا مقروض ہوتا گیا اور حکمران امیر سے امیر تر ہوتے گئے، بیرون ملک جائیدادیں اور کاروبار بناتے گئے۔

    اور مزے کی بات کہ یہ حکمران ملک لُوٹتے رہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں تھا نہ عدلیہ اور نہ باقی ادارے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہر ادارے میں اپنے من پسند کے لوگ بھرتی کیے جو خود بھی کھاتے رہے اور ان چور حکمرانوں کے سہولتکار بھی بنے رہے۔ آج پاکستان کا ہر ادارہ مقروض ہے اور ہر ادارے میں کرپشن عروج پر ہے۔

    ایسے ایک محب وطن پاکستانی اٹھا جس نے ان چور حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کیا اور ایک طویل جدوجہد کے بعد اسے موقع ملا کہ وہ پاکستان پر حکمرانی کرے اس محب وطن اور ایماندار شخص کا نام ہے عمران خان۔ جب اسے حکومت ملی تو پاکستانی دیوالیہ کے قریب تھا دن رات محنت کرنے کے بعد ملک کو ایک بہتر سمت میں ڈال دیا لیکن یہ ممکن نہیں کہ 70-60 سال کا گند 5 سال میں صاف کیا جا سکے۔ عمران خان ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جنکے اثارات کچھ سالوں کے بعد ظاہر ہوں گے اور ان منصوبوں کا فائدہ ہماری آنے والی نسل کو ہو گا جیسے شجرکاری بظاہر تو غیر مقبول منصوبہ ہے لیکن ماحولیات کے لحاظ سے انتہائی اہم جسے سابقہ ادوار میں نظر انداز کیا گیا، ڈیمز جو وقت کی ضرورت ہے ہر سال ہم اربوں روپے کا پانی ضائع کرتے ہیں اور اسے روکنے کا کوئی نظام نہیں ہمارے پاس موجودہ حکومت خاص توجہ دے رہی ہے اس پر اور ڈیمز سے سستی بجلی کی پیداوار میں کافی اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے یونٹ کے ریٹ کو کم کیا جا سکتا ہے اور لوڈ شیدڈنگ پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ زراعت جسے سابقہ ادوار میں تباہ و برباد کر دیا گیا کسان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی کسان کو سہولیات فراہم کی گئی جس سے وہ اپنی پیداوار بڑھا سکے اور نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم ہر قسم کی چیز امپورٹ کرتے ہیں اور مہنگائی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔ موجودہ حکومت نے پہلی بار کسان کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں تاکہ زرعی پیداوار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کیا جا سکے۔ تعلیم جو کسی بھی معاشرے کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے موجودہ حکومت تعلیمی نظام کی بہتری پر پوری توجہ دے رہی ہے تاکہ ہماری آنے والی نسل جدید تعلیمی نظام حاصل کر سکے۔ سابقہ ادوار میں صحت کی سہولیات نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی لیکن آج ہر پاکستانی کو صحت انصاف کارڈ دیا جا رہا ہے جس کے زریعے اس کا مفت علاج کیا جا سکے گا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک انقلابی اقدام ہے موجودہ حکومت کا۔

    اس کے علاوہ بہت سارے ایسے منصوبے ہیں جو ہیں تو غیر مقبول منصوبے لیکن پاکستان کے بہتر مستقبل اور ترقی میں بہت اہم کردار ادا کریں گے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی اس تحریر کا عنوان "پاکستان کا مستقبل روشن ہے” رکھا ہے۔ بس اس کے لیے عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا وقتی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن ان شاء اللہ بہت جلد اچھے دن آئیں گے۔

    Article by: Farman Ullah
    Twitter ID: @ForIkPakistan