Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • جنگ کے سائے اور دنیا کا مستقبل.تجزیہ :شہزاد قریشی

    جنگ کے سائے اور دنیا کا مستقبل.تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں فیصلے صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عالمی معیشت، سیاست اور انسانی بقا کے تناظر میں بھی ہو رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی آگ اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے درپے ہیں۔ حالیہ بیانات، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آنے والے متضاد اشارے، اس حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں کہ آیا دنیا جنگ کے خاتمے کی طرف بڑھ رہی ہے یا ایک بڑے تصادم کی دہلیز پر کھڑی ہے۔

    توانائی، جو جدید دنیا کی شہ رگ ہے، اس تنازع کا سب سے پہلا اور بڑا نشانہ بن رہی ہے۔آبنائے ہرمزجیسے اہم بحری راستے خطرے میں ہوں تو اس کے اثرات صرف تیل بردار جہازوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پوری عالمی معیشت کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، گیس کی قلت اور توانائی کی غیر یقینی صورتحال ایک ایسے عالمی بحران کو جنم دے رہی ہیں جس کے اثرات ہر ملک، ہر شہر اور ہر فرد تک پہنچ سکتے ہیں۔

    معیشت کے ایوانوں میں بے چینی واضح ہے۔ عالمی منڈیاں دباؤ کا شکار ہیں، سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ ہیں اور ترقی پذیر ممالک ایک نئے مالی طوفان کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ مہنگائی، جو پہلے ہی کئی خطوں میں ایک بڑا مسئلہ بن چکی تھی، اب مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو کساد بازاری کا خطرہ محض ایک خدشہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ حقیقت بن سکتا ہے۔

    لیکن یہ بحران صرف معاشی نہیں، بلکہ گہرا سیاسی بھی ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ اتحادی کمزور ہو رہے ہیں، نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں اور دنیا ایک نئے جغرافیائی سیاسی نقشے کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ نقصان اس عالمی توازن کو ہو رہا ہے جو دہائیوں کی محنت سے قائم کیا گیا تھا۔

    انسانی المیہ اس سب سے بڑھ کر ہے۔ جنگیں ہمیشہ سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات گھروں، شہروں اور عام انسانوں کی زندگیوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ نقل مکانی، جانی نقصان اور عدم تحفظ کا احساس ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جس سے نظریں چرائی نہیں جا سکتیں۔

    سوال یہ نہیں کہ یہ جنگ کہاں تک جائے گی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ دنیا اسے کہاں روکنا چاہتی ہے۔ اگر فوری اور سنجیدہ سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع ایک ایسے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔یہ وقت طاقت کے اظہار کا نہیں بلکہ بصیرت، تدبر اور اجتماعی دانش کا ہے۔ کیونکہ جنگ جتنی طویل ہوگی، اس کا اندھیرا بھی اتنا ہی گہرا ہوگا ، اور اس اندھیرے میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

  • جمعہ کا دن اور عید دونوں کی حقیقت،تحریر:تابندہ طارق عکس

    جمعہ کا دن اور عید دونوں کی حقیقت،تحریر:تابندہ طارق عکس

    اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر معاملے میں اعتدال سے حکمت سے اور آسانیوں کا درس دیتا ہے لیکن اس کے باوجود کئی تہواروں پر یا پھر کئی دنوں کے حوالے سے بہت سی ایسی باتیں گردش کرتی ہیں جن کا کوئی مستند حوالہ نہیں ملتا ہے نہ ہی قرآن و حدیث میں اور نہ ہی حضور نبی کریم ﷺ اور اصحابہ اکرام کی حیات مبارکہ کے مطابق کہی پر کوئی تفصیل بیان کی گئی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں سنی سنائی باتوں کو اتنی بار دہرایا جاتا ہے کے لوگ آنکھیں موند کر اس پر سر تسلیم خم کر کے بھروسہ کر لیتے ہیں اور اس کے برعکس حقیقت کیا ہوتی ہے اسے جانچنے کی کوشش تک نہیں کرتے ہیں۔یہ باتیں اتنی سفاک گوئی سے پیش کی جاتی ہیں کے انسانی دلوں و دماغ میں پختگی اختیار کر کے اپنی آنے والی نسلوں میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ بھی ان من گھڑت باتوں پر اپنے یقین کی مہر ثبت کر دیتے ہیں۔ان سب باتوں میں سے ہی ایک من گھڑت بات جمعہ کا دن اور عید کے حوالے سے بھی پختگی سے سننے میں آتی ہے۔جمعہ کے دن کو مسلمانوں کے لیے عید کا دن قرار دیا گیا ہے کیوں کہ تمام اہل ایمان اس دن عید کی طرح لباس،خوشبو اور وقت مقرر پر مسجد کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کے اس دن کو عید کے دن سے مشابہت رکھتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اہل اسلام نے غیر مسلموں کی باتوں کو حقیقت کا روپ دے کر ماننا شروع کر دیا ہے۔اگر جمعہ کے دن عید کا تہوار آ جائے تو یہ ملک کے حکمران کے حق میں نحوست کی علامت ہوتا ہے اور ایک ہی دن میں دو خطبات کا ہونا مناسب نہیں ہے۔اب سوال یہ ہے کیا واقعی اس میں کوئی حقیقت ہے یا پھر یہ صرف من گھڑت کہانیاں ہیں؟

    اگر اسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کے عید اور جمعہ کا ایک ہی دن آنا کوئی غیر معمولی یا تشویش ناک بات نہیں ہے۔بل کہ یہ ایک فطری امر ہے جو قمری کلینڈر کی گردش کے باعث کبھی کبھار رونما ہو جاتا ہے۔تاریخ اسلام کے اگر پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن ایک ساتھ رونما ہوئے ہیں اور اس میں کسی قسم کی نحوست کی پیش گوئی یا خطرے کا تصور بیان نہیں کیا گیا ہے۔احادیث مبارکہ میں اس حوالے سے واضح رہنمائی ملتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن وقوع پذیر ہوتے تھے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے فرمایا کہ:”جو شخص عید کی نماز ادا کر لے وہ چاہے تو جمعہ کی نماز میں شرکت نہ کرے البتہ امام پر لازم ہے کے وہ جمعہ کا خطبہ اور نماز ادا کرے تاکہ جو لوگ شرکت کرنا چاہیں ان کے لیے ادا کرنے کا موقع مل سکے۔اس بات سے اندازہ ہوتا ہے اسلام میں مسلمانوں کے لیے کتنی آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کے "دو خطبات” کا مسئلہ دراصل ایک غلط فہمی ہے۔عید اور جمعہ دونوں کی اسلام میں الگ الگ اہمیت کے حامل ہیں عید کا خطبہ ایک خوشی اور اپنے رب کے حضور شکر گزاری کا اظہار ہوتا ہے اور جمعہ کا خطبہ ہفتہ وار تربیت اور نصیحت کا ذریعہ ہوتا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کے یہ غیر مستند روایات کا نتیجہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ عوام میں پھیل گئی ہیں۔اسلام ہمیں ایسی افواہوں سے دور رہنے اور ہر بات کو دلیل اور تحقیق کی روشنی میں پرکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن پاک سے بہترین کوئی اور مستند کتاب نہیں ہے جو اہل ایمان کو سچ اور جھوٹ کا فرق سمجھا سکے۔سنی سنائی باتوں پر عمل کرنے سے بہتر ہے قرآن پاک کو مع ترجمہ و تفسیر پڑھنے کا اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور روزانہ ایک آیت سمجھ کر پڑھنے سے اپنے علم و عمل میں اضافہ فرمائے اللّٰہ پاک ہمیں صحیح بات سننے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔

  • سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، بین الاقوامی سیاست میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور طاقت کے توازن میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں ایک ایسے نازک مرحلے کی نشاندہی کر رہی ہیں جہاں ہر ریاست کو نہایت دانشمندی اور محتاط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ایسے پیچیدہ ماحول میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا متوازن اور محتاط رہنا ایک قابلِ غور پہلو ہے۔

    وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے جس انداز میں سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک سنجیدہ اور منظم حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی دباؤ، علاقائی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے مفادات کے بیچ پاکستان کو غیر ضروری تنازعات سے دور رکھتے ہوئے ایک متوازن پوزیشن پر قائم رکھنا ایک مشکل مگر اہم کامیابی ہے۔

    اسی طرح ریاستی سطح پر پاک فوج اور دیگر قومی اداروں کا کردار بھی نمایاں رہا ہے، جنہوں نے اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود ملک کے استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم ذمہ داری نبھائی۔ یہ ہم آہنگی دراصل ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کی عکاس ہے، جو کسی بھی ریاست کے لیے ایسے نازک دور میں ناگزیر ہوتی ہے۔
    اسحاق ڈار کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بیک وقت مختلف شعبوں میں متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے دور میں ان کی مصروفیات، معیشت کی بہتری کے لیے ان کی کوششیں، اور اب بطور وزیر خارجہ سفارتی محاذ پر سرگرمی،یہ سب ان کی کثیرالجہتی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ وہ پیشہ ور قانون دان نہیں، مگر قانون سازی کے عمل میں ان کی شمولیت اور سیاسی بصیرت ایک تجربہ کار سیاستدان کی پہچان ہے۔

    مزید برآں، نواز شریف کی سیاسی حکمتِ عملی کو برقرار رکھنے اور اسے آگے بڑھانے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی جیسے اہم سیاسی معاہدے میں ان کی شمولیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ حالات بلکہ ماضی کے اہم موڑ پر بھی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت حساس دور سے گزر رہا ہے، جہاں ہر فیصلہ مستقبل کی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ ایسے میں خارجہ پالیسی کی دانشمندانہ سمت، اداروں کی ہم آہنگی اور قیادت کی مسلسل کاوشیں وہ عوامل ہیں جو ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو یقیناً آج کے یہ اقدامات مستقبل میں ایک مثبت مثال کے طور پر تاریخ کا حصہ بنیں گے۔

  • افغانستان یاد رکھے،پاکستان تسلیم شدہ ایٹمی طاقت،تجزیہ،شہزاد قریشی

    افغانستان یاد رکھے،پاکستان تسلیم شدہ ایٹمی طاقت،تجزیہ،شہزاد قریشی

    خطے میں بگڑتی صورتحال میں افغانوں کا پاکستان سے پنگا بدنیتی کی علامت
    احسان فراموش افغان اسلام آباد کی میزبانی بھول گئے،ہم ذمہ داراور زندہ قوم ہیں
    مسائل کا واحد حل ڈائیلاگ،کشیدگی امن کیلئے خطرہ،محاذ آرائی بندکی جائے
    تجزیہ:شہزاد قریشی
    خطے کی بدلتی صورتحال اور افغانستان کے لئے ایک سنجیدہ پیغام،جنوبی ایشیاءاس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں معمولی غلط فہمیاں بھی بڑے تناز عات کو جنم دے سکتی ہیں،ایسے میں افغانستان کی موجودہ پالیسیوں اور علاقائی طرزِ عمل پر سوال اٹھنا فطری ہے، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میںیہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان نے تاریخ کے مختلف ادوار میں افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا، لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی سے لے کر سفارتی اور انسانی امداد تک، پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہونے کا ثبوت دیا،یہی وجہ تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اور مذہبی و ثقافتی رشتوں پر قائم رہے،تاہم حالیہ برسوں میں ابھرتی ہوئی صورتحال تشویش ناک ہے،یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین بعض ایسے عناصر کے لئے استعمال ہو رہی ہے جو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں،مزید برآں بھارت کے ساتھ افغانستان کی بڑھتی قربت بھی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر رہی ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں،افغانستان کو یہ حقیقت نظرانداز نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے جس کی دفاعی طاقت اور عسکری تیاری دنیا میں تسلیم شدہ ہے،اس تناظر میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن کے لئے خطرہ بن سکتی ہے،دوسری جانب افغانستان کو درپیش اصل چیلنج اندرونی استحکام ہے،دہائیوں پر محیط جنگ، معاشی مشکلات اور سماجی مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ وہ اپنی توجہ اپنے عوام، خصوصاً نوجوان نسل کی تعلیم، ترقی اور بہتر مستقبل پر مرکوز کرے،ایک مستحکم افغانستان ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے،

    آخرکار، دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں ممالک محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے اپنے اختلافات کو حل کریں کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگ نہیں، بلکہ تعاون ہی خطوں کو ترقی اور استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔

  • مبشر لقمان،جرات مندانہ صحافت، مضبوط آواز،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مبشر لقمان،جرات مندانہ صحافت، مضبوط آواز،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں مبشر لقمان ایک ایسا نام ہے جس نے اپنے منفرد انداز، جرات مندانہ مؤقف اور براہِ راست گفتگو کے ذریعے اپنی ایک الگ پہچان قائم کی۔ وہ ان چند اینکرز میں شمار ہوتے ہیں جو محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں رہے بلکہ قومی اور بین الاقوامی معاملات پر واضح رائے دے کر عوام کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر کئی نشیب و فراز سے گزرا، مگر انہوں نے ہر دور میں خود کو ایک “آواز” کے طور پر منوایا۔ چاہے وہ ٹی وی اسکرین ہو یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم، انہوں نے ہمیشہ بروقت معلومات فراہم کرنے کو اپنا فرض سمجھا۔ بطور سی ای او باغی ٹی وی، انہوں نے جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آن لائن صحافت کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا، جہاں لمحہ بہ لمحہ خبریں اور تجزیے عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔

    حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران، مبشر لقمان نے جس طرح مسلسل اپڈیٹس اور تجزیے فراہم کیے، وہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا واضح ثبوت ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی ان کی نظر گہری رہی ہے، اور انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام کو باخبر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    صحافت محض خبر دینا نہیں، بلکہ ذمہ داری، دیانت اور الفاظ کے درست استعمال کا نام ہے۔ ایسے میں جب کسی بھی شخصیت کے بارے میں غیر مناسب یا توہین آمیز زبان استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف اس فرد بلکہ مجموعی صحافتی اقدار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ناصر ادیب جیسے افراد کو بھی اس حساسیت کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ الفاظ کا انتخاب معاشرتی فضا پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

    مبشر لقمان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی اپنی رائے کے اظہار سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہی جرات انہیں عام اینکرز سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کے مداح صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت دنیا بھر میں موجود ہیں، جو ان کی تجزیاتی صلاحیتوں اور بے باک انداز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہے، مگر اس اختلاف کو مہذب دائرے میں رکھنا ہی اصل شعور کی علامت ہے۔ مبشر لقمان جیسے صحافیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہمیں بطور معاشرہ برداشت، احترام اور مثبت مکالمے کو فروغ دینا ہوگا،کیونکہ یہی ایک صحت مند میڈیا اور مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فیض رحمان

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فیض رحمان

    حالیہ دنوں میں ایران کے سینئر اور نسبتاً اعتدال پسند رہنما علی لاریجانی کا قتل مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک انتہائی اہم اور تشویشناک موڑ ہے۔ علی لاریجانی کا شمار ان عالمی اور علاقائی رہنماؤں میں ہوتا تھا جو تنازعات کو سفارتکاری اور پرامن بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے حق میں تھے۔ ان کی شہادت نہ صرف ایرانی قوم بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس واقعے نے خطے میں جنگ کے بادلوں کو مزید گہرا کر دیا ہے اور کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔

    اسرائیلی انٹیلی جنس کی رسائی اور عزائم
    اس واقعے کا سب سے تشویشناک پہلو اسرائیل کی ایرانی سیکیورٹی نظام میں گہری رسائی ہے۔ یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اسرائیل کو ایرانی قیادت تک اتنی درست اور بروقت رسائی کیسے حاصل ہے؟ یہ دراصل اسرائیل کی جدید ‘ٹیکنالوجیکل انٹیلی جنس’ اور زمینی سطح پر موجود ‘ہیومن انٹیلی جنس’ (جاسوسی نیٹ ورک) کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ اس دراندازی نے ایرانی سیکیورٹی کی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کی اعلیٰ قیادت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

    دوسری جانب، اس حملے سے اسرائیل کے جنگی عزائم بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ یہ کارروائی واضح کرتی ہے کہ اسرائیل خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید بھڑکانے اور ایک وسیع تر جنگ کی طرف دھکیلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازعے کو طویل کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور اسے جلد از جلد سمیٹنے کی خواہش مند ہیں۔

    ایران کا غیر مرکزی (Decentralized) دفاعی نظام
    ان تمام تر نقصانات اور ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگز کے باوجود، یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ ایران کی جنگی صلاحیت مفلوج ہو چکی ہے۔ ایران کے پاس متبادل قیادت کا ایک انتہائی مؤثر اور خودکار نظام موجود ہے۔ ان کے سیکیورٹی اور عسکری ڈھانچے میں قیادت کی کئی تہیں (Layers) بنائی گئی ہیں، جو کسی بھی اہم رہنما کی شہادت کی صورت میں فوری طور پر ان کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہیں۔

    مزید برآں، ایرانی جنگی مشینری کسی ایک مرکز کی محتاج نہیں ہے۔
    ملک بھر میں تقریباً 33 آزاد یونٹس (Independent Units) موجود ہیں جو ایک طے شدہ حکمت عملی (Playbook) کے تحت ‘آٹو پائلٹ’ موڈ پر کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کے خلا کے باوجود ان کی جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار ہے۔ یہ جنگ روایتی طرز کی نہیں بلکہ ایک ‘غیر متناسب جنگ’ (Asymmetric Warfare) کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں ایک علاقائی طاقت بڑی عالمی طاقتوں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے خطرات کے پیشِ نظر امریکی صدر کو نیٹو، یورپ اور حتیٰ کہ چین سے بھی مدد کی اپیل کرنی پڑ رہی ہے۔
    اندرونی محاذ: ایران کا اتحاد بمقابلہ امریکی تقسیم

    جنگ کے اندرونی اثرات کا جائزہ لیا جائے تو ایک حیران کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل، ایران میں مذہبی حکومت کے خلاف شدید عوامی مظاہرے جاری تھے۔ تاہم، اس بیرونی حملے نے پوری ایرانی قوم کو بیرونی خطرے کے پیشِ نظر متحد کر دیا ہے۔ اندرونِ ملک اب حکومت کی مخالفت نہ ہونے کے برابر ہے، اور محض بیرونِ ملک مقیم تارکینِ وطن (Diaspora) کی جانب سے ہی تنقید کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    اس کے بالکل برعکس، اس جنگ کے سب سے بڑے حامی، یعنی امریکہ میں شدید اندرونی تقسیم پائی جاتی ہے۔ امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت اس جنگ کے خلاف ہے، اور یہ تقسیم اب وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک پہنچ چکی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) بھی اس جنگ پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، وائٹ ہاؤس کے کاؤنٹر ٹیررزم انٹیلی جنس یونٹ کے ڈائریکٹر کا احتجاجاً استعفیٰ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایک بااثر طبقہ اس جنگ کو "امریکہ کی جنگ نہیں، بلکہ اسرائیل کی جنگ” سمجھتا ہے۔

    مختصراً یہ کہ علی لاریجانی جیسے اہم رہنماؤں کے نقصان کے باوجود، ایران کا بنیادی دفاعی اور عسکری ڈھانچہ بظاہر تباہ نہیں ہوا۔ بیرونی خطرے نے ایران کو اندرونی طور پر مستحکم کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کو شدید اندرونی اختلافات اور بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔

  • آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

    آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا کی سب سے حساس بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز، ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور نیٹو اتحادیوں سے اس اہم راستے کے تحفظ اور کھلے رکھنے کے لیے بھرپور تعاون نہ ملنے پر شکوہ کیا ہے۔ یہ شکوہ محض ایک بیان نہیں بلکہ مغربی اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک اس معاملے پر مکمل یکسو نہیں۔ کچھ یورپی ریاستیں مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی عسکری مہم جوئی سے گریز چاہتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور داخلی سیاسی مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ برطانیہ، جو تاریخی طور پر امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے، اب ایک محتاط توازن قائم کرنے کی کوشش میں نظر آتا ہے—نہ مکمل لاتعلقی، نہ اندھا ساتھ۔

    یہ اختلاف دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے: کیا نیٹو ایک دفاعی اتحاد کے طور پر اپنی اصل روح برقرار رکھے گا یا بدلتے عالمی حالات میں اس کے اندر ترجیحات کی نئی درجہ بندی ہوگی؟ امریکہ کی نظر میں آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، مگر یورپ کے لیے یہ معاملہ صرف سلامتی نہیں بلکہ سفارتکاری اور استحکام کا بھی ہے۔

    مستقبل قریب میں تین ممکنہ راستے ابھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اول، محدود اور علامتی تعاون جس سے اتحاد بھی برقرار رہے اور براہِ راست تصادم سے بھی بچا جا سکے۔ دوم، نیٹو کے اندر واضح تقسیم، جہاں چند ممالک امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوں اور دیگر فاصلے پر رہیں۔ سوم، ایک وسیع تر سفارتی حل جس میں علاقائی طاقتوں کو شامل کر کے کشیدگی کم کی جائے۔اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے،کیا مغرب ایک مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دے پائے گا یا یہ بحران ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد رکھے گا؟ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ عالمی اتحاد دباؤ میں کس حد تک متحد رہ سکتے ہیں۔

  • سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے کی حدیں واضح کرنے لگا

    الزامات، وضاحتیں اور سچ کی تلاش سرکاری طیارے کی بحث نے ذمہ دارانہ صحافت کا سوال کھڑا کر دیا

    سیاسی بیانیے اور سوشل میڈیا کی گرد میں چھپتے حقائق، سرکاری طیارہ بحث نے تحقیق اور تصدیق کی اہمیت بڑھا دی

    رپورٹ شہزاد قریشی

    پروپیگنڈا، حقیقت اور ذمہ دارانہ صحافت، حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے ایک سرکاری طیارے کے بارے میں سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور الزامات گردش کر رہے ہیں۔ ان الزامات کا رخ بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم جب ان دعوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کئی باتیں یا تو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی گئی ہیں یا پھر ان کی بنیاد غیر مصدقہ اطلاعات پر ہے۔حکومت پنجاب کے مطابق جس طیارے کو سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے، وہ کوئی نیا جہاز نہیں بلکہ 2019 ماڈل کا طیارہ ہے، یعنی تقریباً سات سال پرانا۔ اس کے باوجود اسے ایک بالکل نئے اور مہنگے جہاز کے طور پر پیش کرنا حقیقت کے برعکس قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ قواعد و ضوابط کے مطابق حاصل کیا گیا اور اس کی مکمل تکنیکی جانچ اور کارکردگی کے جائزے کا عمل بھی اسی طریقہ کار کا حصہ ہے۔

    اسی تناظر میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ طیارہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا تک کسی نجی یا غیر ضروری سفر کے لیے بھیجا گیا۔ تاہم حکومتی وضاحت کے مطابق یہ پرواز دراصل طیارے کی تکنیکی جانچ اور کارکردگی کی تصدیق کے لیے تھی۔ ایوی ایشن کے معمول کے ضابطوں کے مطابق اس نوعیت کی ٹیسٹ پروازوں کے اخراجات عموماً فروخت کنندہ کمپنی برداشت کرتی ہے، تاکہ طیارے کی حفاظت، کارکردگی اور معیار کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔مزید برآں سوشل میڈیا پر یہ الزام بھی گردش کرتا رہا کہ جنید صفدر اپنی اہلیہ کے ساتھ اسی طیارے میں ویانا گئے۔ حکومتی موقف کے مطابق یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

    واضح رہے کہ بیرون ملک کسی بھی شہری کے سفر کا ریکارڈ امیگریشن نظام میں موجود ہوتا ہے، جس کی باآسانی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اس نوعیت کے الزامات کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھنا مشکل نہیں۔ اس ساری بحث کے دوران ایک اور پہلو بھی سامنے رکھا گیا ہے کہ شریف خاندان کی ایک دیرینہ روایت رہی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں زیادہ تر وقت خاندان کے ساتھ گزارتے ہیں۔ ماضی میں سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اپنی سیاسی مصروفیات کے باوجود اس مہینے کو خاندانی اجتماع اور عبادات کے لیے مخصوص رکھنے کی روایت نبھاتے رہے ہیں۔ اصل سوال یہاں یہ نہیں کہ ایک طیارہ کب خریدا گیا یا وہ کہاں گیا، بلکہ یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی خبر یا دعوے کو بغیر تصدیق کے پھیلانا مناسب ہے؟ جدید دور میں اطلاعات کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ صحافت اور حقائق کی تصدیق کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو پروپیگنڈے کی شکل دینے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر گفتگو کی جائے۔ اگر کسی معاملے میں سوالات ہیں تو انہیں شواہد اور دستاویزات کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے، نہ کہ قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے ذریعے۔ آخرکار جمہوری معاشروں میں شفافیت، احتساب اور ذمہ دارانہ مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو عوامی اعتماد کو مضبوط بناتا ہے اور سیاسی مباحثے کو صحت مند رکھتا ہے.

  • تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے تھے کہ اگر یہ جنگ 2 سے 3 ماہ سے زیادہ طویل ہو گئی تو پاکستان کے لیے اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اب تک 15 دن گزر چکے ہیں اور ابھی تک کسی واضح حل یا قابلِ اعتماد جنگ بندی کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔
    اس پس منظر میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ پاکستانی روپیہ کس طرح ردِعمل دکھائے گا۔

    مختصر مدت (Short Term)
    قریب مدت میں رمضان کے باعث بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بدستور مضبوط ہیں۔ فارن ایکسچینج فارورڈ پریمیم منی مارکیٹ کی سطح سے اوپر ٹریڈ ہو رہے ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زرمبادلہ کی لیکویڈیٹی نسبتاً آرام دہ ہے۔ آئی ایم ایف اور وزارتِ خزانہ کے درمیان رابطوں کی خبریں بھی مجموعی طور پر مثبت ہیں۔
    گزشتہ دو ہفتوں میں برآمدات سے آنے والی رقوم میں کچھ سستی آئی ہے۔ اسی دوران درآمدی ادائیگیوں کو مرحلہ وار کرنے کی ایک شعوری کوشش بھی نظر آ رہی ہے تاکہ کسی بھی دن انٹر بینک مارکیٹ پر غیر معمولی دباؤ نہ پڑے۔ یہ طریقہ کار روپے کی قدر پر غیر ضروری دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں روپیہ ایک محدود دائرے میں رہے گا۔ تاہم دو اہم مالی دباؤ سامنے ہیں:
    عید کے فوراً بعد تیل کی بڑی ادائیگیاں
    ایک ارب ڈالر سے زائد کی یورو بانڈ ادائیگیاں

    درمیانی مدت (Medium Term)
    یہ وہ مرحلہ ہے جہاں صورتحال کافی غیر واضح ہو جاتی ہے۔
    نیا تیل نظام (The New Oil Regime)
    آبنائے ہرمز اب مؤثر طور پر تیل کی قیمتوں کے تعین کا ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ مارکیٹیں اب حقیقی سپلائی میں کمی کے بجائے رکاوٹ کے امکانات کی بنیاد پر تجارت کر رہی ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں ساختی طور پر زیادہ غیر مستحکم ہو گئی ہیں۔ تیل اب محض ایک کموڈیٹی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ کی طرح برتاؤ کر رہا ہے۔
    اس سے ایک نیا معاشی ماحول پیدا ہو رہا ہے:
    توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا خطرہ
    طلب کے معمول کے چکر سے ہٹ کر اچانک اتار چڑھاؤ
    عالمی تجارت کے بہاؤ میں ساختی غیر یقینی صورتحال

    ترسیلاتِ زر کا مسئلہ
    ترسیلاتِ زر نے ہر بحران میں خاموشی سے پاکستان کو سہارا دیا ہے، لیکن اب یہ سہارا پہلے جیسا یقینی نہیں رہا۔ اگر خلیجی معیشتیں سست ہو گئیں تو مزدوروں کی طلب بھی کم ہو جائے گی۔ بیرونِ ملک کم مزدور ہوں گے تو زرِ مبادلہ کی آمد بھی کم ہو گی اور ملک کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ ایک سست رفتار مگر طاقتور خطرہ ہے جو پاکستان کی معاشی سمت کو بدل سکتا ہے۔

    عالمی مالیاتی حالات
    جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھنے کے باعث عالمی مالیاتی حالات سخت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے یورو بانڈ اور CDS پہلے ہی تقریباً 100 بیسس پوائنٹس بڑھ چکے ہیں، جو بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔
    اس سے مارکیٹ سے قرض لینے کی لاگت اور غیر یقینی دونوں بڑھ جاتے ہیں۔ یورو بانڈ یا پانڈا بانڈ مارکیٹ تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری بھی محدود رہ سکتی ہے۔ اس طرح بیرونی مالی وسائل کا زیادہ انحصار حکومتی پالیسی کے اعتماد اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون پر ہو جائے گا۔

    ممکنہ اثرات
    یہ تمام عوامل کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے، مالیاتی دباؤ میں اضافہ اور پالیسی لچک میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جیسے ہی مہنگائی کی توقعات بڑھتی ہیں، شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رہ سکتی ہے۔ اس سے روپے پر دباؤ اور معاشی نمو کی رفتار کمزور ہو سکتی ہے۔ مجموعی اثر خاصا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    بنیادی امکان (Base Case)
    پاکستان کے لیے یہ امکان کم ہے کہ وہ روپے کو سہارا دینے کے لیے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے خرچ کرے۔ اس کے بجائے ایڈجسٹمنٹ درآمدات کو سختی سے منظم کرنے اور بیرونی توازن کو زیادہ پائیدار بنانے کے ذریعے آئے گی۔ روپیہ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتا ہے، لیکن اس مرحلے پر کسی اچانک یا بڑی قدر میں کمی کا امکان کم نظر آتا ہے۔

  • عالمی امن کا سوال اور امریکی قیادت کی ذمہ داری ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی امن کا سوال اور امریکی قیادت کی ذمہ داری ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    جب ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ وائیٹ ہاؤس میں آئے تو ان کی تقاریر اور بیانات میں ایک مرکزی نکتہ بار بار سامنے آیا: دنیا میں جنگوں کو ختم کرنا اور عالمی امن کو فروغ دینا۔ اس اعلان نے بہت سے ممالک اور خطوں میں امید پیدا کی کہ شاید امریکہ اپنی عالمی طاقت اور اثر و رسوخ کو اس بار جنگوں کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے استعمال کرے گا۔ تاہم موجودہ عالمی صورتحال ان توقعات کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
    خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اس وقت شدید کشیدگی اور غیر یقینی حالات سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور اس پورے منظرنامے میں امریکہ کی براہِ راست یا بالواسطہ موجودگی نے خطے کو ایک بار پھر عالمی سیاست کے خطرناک مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے اثرات صرف ان ممالک تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اس کے معاشی، سیاسی اور سماجی اثرات محسوس کر رہی ہے۔

    عالمی معیشت پہلے ہی کئی بحرانوں سے دوچار ہے، اور جنگی ماحول نے ان مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال، سفری خدشات اور سیکیورٹی مسائل نے عام شہری کی زندگی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور توانائی کے بحران کے خدشات دنیا کے مختلف حصوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ان جنگی اور سیاسی کشیدگیوں کے اثرات سب سے زیادہ عام آدمی پر پڑتے ہیں، جو نہ پالیسی سازی میں شریک ہوتا ہے اور نہ ہی جنگ کے فیصلوں میں اس کی کوئی رائے شامل ہوتی ہے۔
    ایسے حالات میں عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔ اگر واقعی عالمی امن کو ترجیح دی جائے تو ضروری ہے کہ جنگی بیانیے کے بجائے سفارت کاری، اعتماد سازی اور مذاکرات کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ دنیا کے کئی خطوں میں جاری تنازعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی اور سفارتی راستوں کو ترجیح دی جائے۔

    آج کا بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اپنے اعلانات اور وعدوں کے مطابق واقعی امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کریں گی یا عالمی سیاست بدستور طاقت کے توازن اور اسٹریٹیجک مفادات کے گرد ہی گھومتی رہے گی۔ اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، بین الاقوامی استحکام اور دنیا کے عام شہری کی زندگی پر اس کے اثرات مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔
    دنیا اس وقت قیادت کی منتظر ہے—ایسی قیادت جو جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دے اور سفارت کاری کو طاقت کے استعمال پر فوقیت دے۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ پائیدار امن ہمیشہ مذاکرات کی میز پر ہی قائم ہوتا ہے، میدانِ جنگ میں نہیں۔