Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔

    طلاق ایک تلخ حقیقت ہے لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہےکہ اس فیصلے کا سارا بوجھ صرف عورت کے حصے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔اور تو اور ستم ظریفی دیکھیں کہ طلاق کی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں، انگلیاں ہمیشہ عورت پر ہی اٹھتی ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مرد نے کیا کیا؟ یا مرد کے وہ کیا رویے تھے جنھوں نے بات یہاں تک پہنچائی؟

    مرد سے سوال کرنا جیسے معاشرے میں منع ہے۔

    طلاق کے بعد مرد کے لیے نئی زندگی شروع کرنا آسان بنا دیا جاتا ہے، جبکہ عورت کو قدم قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ ناکام ہوگئی ہے۔ اسے ایک اچھی بیوی، ایک اچھی ساتھی نہ بن پانے کے طعنے دیے جاتے ہیں، گویا رشتہ نبھانے کی ساری ذمہ داری صرف اسی کی تھی۔

    یہ رویہ نہ صرف عورت کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اسے سماجی طور پر بھی تنہا کردیتا ہے۔

    ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ طلاق کسی کے لیے، کسی بھی طرح خوشی کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے جس کے بعد ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ مزید اس انسان کو ملامت کیا جائے۔۔۔ جب اسے بار بار ملامت کیا جائے تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوکر خود کو ایک ناکام انسان ہی سمجھنے لگتا ہے اور کئی زندگیاں اس ڈپریشن کی نذر ہوگئی ۔۔

    ہمارے معاشرے کا یہ ایک تلخ پہلو ہے کہ طلاق کا سارا ملبہ اور سماجی بدنامی صرف عورت کے حصے میں آتی
    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ رشتہ دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسکے ختم ہونے کی ذمہ داری بھی کسی ایک پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ عورت کو اس کے ماضی کے بجائے اس کی ہمت اور شخصیت سے پہچانیں، نہ کہ کسی ایک لفظ سے جو اس کی زندگی کا کل اثاثہ نہیں۔

  • وقارِ پاکستان: عسکری و سفارتی ہم آہنگی کا ثمر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وقارِ پاکستان: عسکری و سفارتی ہم آہنگی کا ثمر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اندرونی کمزوریاں، بیرونی کامیابیاں ، سمت کا تعین ضروری
    حکمرانی کا کڑا امتحان: دعووں سے آگے بڑھنے کا وقت

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان: عالمی وقار سے عوامی بہبود تک، ایک سنجیدہ جائزہ
    حالیہ برسوں میں پاکستان کے عالمی وقار میں جو بہتری دیکھنے میں آئی ہے، وہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور مختلف عالمی معاملات میں اس کی شرکت اور مؤثر سفارت کاری کو سراہا جا رہا ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا بڑا سہرا پاکستان کی عسکری قیادت اور وزارتِ خارجہ کو جاتا ہے، جنہوں نے نہایت تدبر اور حکمت عملی سے عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کا دفاع کیا اور اس کے وقار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    تاہم، کسی بھی ملک کی اصل ترقی کا پیمانہ اس کی داخلی صورتحال ہوتی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں—پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان—میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم ہیں۔ یہ تنوع جمہوریت کی خوبصورتی تو ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام صوبائی اور وفاقی حکومتیں باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کریں۔ صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف جیسے شعبے وہ بنیاد ہیں جن پر ایک مضبوط معاشرہ استوار ہوتا ہے۔

    بدقسمتی سے، ہمارے ہاں اکثر پالیسیوں سے زیادہ بیانات پر زور دیا جاتا ہے، اور عملی اقدامات میں تسلسل کی کمی نظر آتی ہے۔ ترقی کے لیے محض اعلانات کافی نہیں ہوتے بلکہ ٹھوس حکمت عملی، مستقل مزاجی اور نتائج پر مبنی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔ عوام اب نعروں سے آگے بڑھ چکے ہیں؛ وہ عملی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنائے۔

    بیوروکریسی، جو ریاستی نظام کا ایک اہم ستون ہے، اس سے بھی عوام کی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ایک فعال، ایماندار اور وقت کا پابند سرکاری نظام ہی عوامی مسائل کے حل کو ممکن بنا سکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی اداروں میں تاخیر، غیر سنجیدگی اور روایتی سستی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کی ادارہ جاتی مضبوطی اور وقت کی سخت پابندی میں پوشیدہ ہے۔

    عوامی اعتماد کسی بھی ریاست کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ جب شہریوں کو یہ یقین ہو کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جا رہا ہے، تو وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکمران اور ادارے اپنی کارکردگی سے عوام کا اعتماد بحال کریں۔
    پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں کی زرخیز زمینیں، معدنی ذخائر اور نوجوان آبادی وہ سرمایہ ہیں جو ملک کو ترقی کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ان وسائل کا مؤثر استعمال کیا جائے اور شفافیت، میرٹ اور دیانتداری کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے۔

    پاکستان ایک عظیم صلاحیتوں کا حامل ملک ہے، جس کے پاس آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والے وقار کو داخلی استحکام اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔ اگر حکومت، بیوروکریسی اور عوام سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو خلوص اور دیانتداری سے ادا کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ترقی یافتہ اقوام کی صف میں نمایاں مقام حاصل کر لے گا۔

  • گوجرخان کا معاشی قبرستان جہاں غریب کی چتا پر ترقی کے چراغ جلیں گے،تحریر :   قمرشہزاد مغل

    گوجرخان کا معاشی قبرستان جہاں غریب کی چتا پر ترقی کے چراغ جلیں گے،تحریر : قمرشہزاد مغل

    تاریخ لکھے گی کہ گوجرخان میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جب ترقی کے نام پر غریبوں کی بستیوں کو اجاڑا گیا اور شہر کے بڑے کہلانے والے تماشہ دیکھتے رہے۔ تم نے شہر تو چمکا لیا، مگر انسانیت کا جنازہ نکال دیا۔گوجرخان کی تاریخ میں ستم ظریفی کی ایک نئی داستان رقم ہو چکی ہے۔ وہ شہر جو کبھی اپنی زندہ دلی اور تجارتی گہما گہمی سے پہچانا جاتا تھا، آج اپنوں ہی کی بے حسی اور سفید ہاتھیوں کی لوٹ مار کا نوحہ پڑھ رہا ہے۔ بیس سال پہلے پچاس کھوکھوں کی لیز سے شروع ہونے والا سفر، تین سو سے زائد کھوکھوں میں سینکڑوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کر کے اختتام پذیر ہوا۔ یہ صرف کھوکھوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ متوسط طبقے کی معیشت کا وہ قتلِ عمد ہے جس کے پیچھے دہائیوں کی کرپشن، نااہلی اور اقربا پروری کا ہاتھ ہے۔ انڈر پاسز کے شاندار منصوبے اپنی جگہ، لیکن کیا ترقی کا راستہ ہمیشہ غریب کی ہڈیوں سے گزر کر ہی بنتا ہے؟ کھوکھا بازار کی مسماری نے جہاں سینکڑوں چھوٹے تاجروں کو سڑک پر لا کھڑا کیا، وہیں اب اگلا نشانہ وہ تین ہزار رکشہ ڈرائیور ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر رزقِ حلال کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

    گوجرخان کی بلدیہ، جسے ہم سفید ہاتھی کہیں تو غلط نہ ہوگا، برسوں سے ان رکشہ والوں سے انٹری فیس کے نام پر 10 روپے سے شروع ہونے والی اب 50 روپے کی پرچی وصول کر رہی ہے۔پورے پنجاب میں کہیں بھی یہ بھتہ نما پرچی اتنی مہنگی نہیں، مگر گوجرخان وہ واحد لاوارث تحصیل ہے جہاں رکشہ ڈرائیور سے رقم تو لی جاتی ہے، مگر اسے سر چھپانے کے لیے ایک فٹ کا اسٹینڈ تک میسر نہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کروڑوں روپے کا ریونیو آخر جا کہاں رہا ہے؟ وہ کون سے پیٹ ہیں جو غریب کی دہاڑی سے بھرے جا رہے ہیں؟ بلدیہ گوجرخان نے آج تک ان محنت کشوں کو کوئی متبادل جگہ کیوں نہیں دی؟ کیا اس ادارے کی ذمہ داری صرف وصولی تک محدود ہے؟ ستم تو یہ ہے کہ پہلے 50 کھوکھوں کی آڑ میں سینکڑوں غیر قانونی ڈھانچے کھڑے کروا کر جیبیں بھری گئیں، اور جب حساب کا وقت آیا تو بوجھ اس ریڑھی والے اور کھوکھے والے پر ڈال دیا گیا جس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے ان پالیسی میکروں پر بھروسہ کیا۔گوجرخان میں الٹی گنگا بہتی ہے۔

    یہاں پہلے کیری ڈبہ کار اسٹینڈز کو ختم کیا گیا، متبادل جگہ کا لالی پاپ دیا گیا، مگر وہ وعدہ وفا نہ ہوا۔ اب باری رکشہ والوں کی ہے۔ انڈر پاس بنے گا، سڑکیں چمکیں گی، مگر ان سڑکوں پر چلنے والا وہ محنت کش کہاں جائے گا جس کا ذریعہ معاش چھین لیا گیا؟ اس معاشی قتلِ عام کے ذمہ دار صرف سرکاری افسران نہیں، بلکہ گوجرخان کے وہ سفید کالر شرفاء، وہ نام نہاد کھڑپینچ اور سماجی شخصیات بھی ہیں جو فوٹو سیشن میں تو پیش پیش رہتی ہیں، مگر جب شہر کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہو تو ان کی زبانوں پر قفل لگ جاتے ہیں۔ مقامی سیاست دانوں سے لے کر مالشی پالشی ٹاوٹوں تک سب نے مل کر اس شہر کو بیروزگاری کی دلدل میں دھکیلا ہے۔ موجودہ کمر توڑ مہنگائی کے دور میں، جہاں ایک وقت کی روٹی خواب بنتی جا رہی ہے، وہاں ہزاروں خاندانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا کسی المیے سے کم نہیں۔ یہ انتظامیہ اور پالیسی ساز یاد رکھیں کہ جب غربت اور فاقہ کشی حد سے بڑھتی ہے، تو وہ صرف بے بسی نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسے لاوے کی شکل اختیار کر لیتی ہے جو ہر نظام کو بہا لے جاتا ہے۔

    گوجرخان کے متوسط طبقے کی آہیں ان ایوانوں کو ضرور ہلا دیں گی جہاں بیٹھ کر غریب کے رزق پر شب خون مارنے کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ترقی ضرور لائیے، مگر انسانوں کو مار کر نہیں۔ انڈر پاسز ضروری ہیں، مگر ان سے پہلے ان ہاتھوں کو روزگار دینا ضروری ہے جو اس شہر کا پہیہ چلاتے ہیں۔ ورنہ تاریخ گوجرخان کے ان مسیحاؤں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جنہوں نے شہر کو چمکانے کے چکر میں اس کے بیٹوں کو اندھیروں کے حوالے کر دیا۔

  • نازک سیزفائر، گہری بداعتمادی ایران امریکہ مذاکرات کس موڑ پر کھڑے ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نازک سیزفائر، گہری بداعتمادی ایران امریکہ مذاکرات کس موڑ پر کھڑے ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بالواسطہ سفارتکاری یا تعطل؟ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی کشمکش

    پاکستان بطور ثالث عالمی امن کی امید یا ایک اور سفارتی امتحان؟

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    ایران امریکہ کشیدگی نازک سیزفائر اور غیر یقینی سفارتکاری،عالمی سیاست اس وقت ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی وقتی سیزفائر کی صورت میں تو تھمتی دکھائی دیتی ہے، تاہم یہ خاموشی کسی پائیدار امن کی ضامن نہیں بلکہ ایک عارضی توقف کا منظر پیش کرتی ہے۔ بظاہر مذاکرات کا در کھلا ہے، مگر باہمی بداعتمادی اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ ہر پیش رفت ایک نئے تعطل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

    واشنگٹن کی خواہش ہے کہ معاملات کو براہِ راست مذاکرات کے ذریعے جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے، جبکہ تہران اس کے برعکس بالواسطہ سفارتکاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ تضاد محض حکمتِ عملی کا فرق نہیں بلکہ اعتماد کے شدید بحران کی عکاسی ہے۔ ایران کو اندیشہ ہے کہ براہِ راست مکالمہ اسے بین الاقوامی دباؤ کے سامنے کمزور کر سکتا ہے، جبکہ امریکہ اسے سفارتی عمل میں تاخیر اور پیچیدگی کا باعث سمجھتا ہے۔ اس پیچیدہ منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بطور ثالث، اسلام آباد دونوں فریقین کے درمیان ایک محتاط توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جو نہ صرف اس کی سفارتی صلاحیتوں کا امتحان ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی اہمیت میں اضافے کا بھی مظہر ہے۔ تاہم، یہ عمل کسی آسان سفارتکاری کا تقاضا نہیں کرتا، کیونکہ دونوں اطراف اپنے اپنے اصولی مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔ مزید برآں، امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ایسے بنیادی نکات ہیں جنہیں ایران اپنی خودمختاری کے منافی قرار دیتا ہے۔ جب تک ان امور پر کسی حد تک لچک پیدا نہیں کی جاتی، مذاکرات کی رفتار سست اور غیر مؤثر رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

    موجودہ حالات میں ایک دیرپا اور قابلِ اعتماد امن کا قیام فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا، تاہم اسے یکسر خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر فریقین تحمل، تدبر اور سفارتی فراست کا مظاہرہ کریں، اور ثالثی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے، تو کسی حد تک پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ نازک سیزفائر کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن پر بھی مرتب ہوں گے۔ بالآخر، یہ تنازع محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی آزمائش کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ حکمت، برداشت اور باہمی اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔

  • نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن، ایک نازک توازن. تجزیہ: شہزاد قریشی

    نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن، ایک نازک توازن. تجزیہ: شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں فضا میں بارود کی بو تو ہے، مگر گولیاں ابھی پوری طرح چل نہیں رہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ صورتحال کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہی ہے: نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن۔

    یہ ایک عجیب اور پیچیدہ کیفیت ہے۔ ایک طرف بیانات کی سختی، پابندیوں کا دباؤ، اور خطے میں طاقت کے مظاہرے جاری ہیں، تو دوسری طرف پسِ پردہ سفارتکاری بھی خاموشی سے اپنا کام کر رہی ہے۔ دونوں ممالک بظاہر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ کھلی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔

    امریکہ، جو پہلے ہی عالمی سطح پر کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے، ایک نئی بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دوسری جانب ایران، جس کی معیشت پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، ایک طویل اور تباہ کن جنگ کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی کے باوجود ایک غیر مرئی حد قائم ہے جسے عبور کرنے سے دونوں فریق گریز کر رہے ہیں۔

    یہ صورتحال دراصل “کنٹرولڈ ٹینشن” کی مثال ہے—یعنی کشیدگی کو اس حد تک برقرار رکھا جائے کہ سیاسی اور سفارتی مقاصد حاصل کیے جا سکیں، مگر وہ جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ اس کھیل میں پراکسیز، سفارتی دباؤ، اور عالمی ثالثی سب اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    دنیا کی بے چینی بھی اسی تضاد کا نتیجہ ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی نازک حالت میں ہے، توانائی کی منڈیاں غیر یقینی کا شکار ہیں، اور کسی بھی لمحے ایک چھوٹا سا واقعہ بڑے بحران میں بدل سکتا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے عالمی برادری کو مسلسل اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اصل جنگ میدان میں نہیں بلکہ سفارتی میزوں پر لڑی جا رہی ہے۔ دباؤ، مذاکرات، اور مفادات کا یہ پیچیدہ جال ایک ایسے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہے جو بظاہر مستحکم دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے نہایت کمزور ہے۔

    آنے والے دنوں میں یہ توازن برقرار بھی رہ سکتا ہے اور کسی اچانک واقعے سے ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ تاہم موجودہ شواہد یہی بتاتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کے کنارے کھڑے ہو کر بھی اس میں چھلانگ لگانے سے گریزاں ہیں۔
    یہی اس دور کی سب سے بڑی حقیقت ہے:
    جنگ کا خطرہ موجود ہے، مگر امن کی کوشش بھی جاری ہے—اور دنیا اسی درمیانی کیفیت میں سانس لے رہی ہے۔

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی قیادت کا مثبت کردار عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششیں رنگ لے آئیں

    ایران امریکہ معاملات آخری مرحلے میں، سیز فائر مستقل امن کی طرف اہم پیش رفت

    تجزیہ شہزاد قریشی
    سیز فائر میں توسیع محض ایک سفارتی قدم نہیں بلکہ ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ ایسے نازک وقت میں جب خطہ شدید کشیدگی کا شکار تھا، پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔ خصوصاً عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی حکمتِ عملی، تحمل اور مسلسل سفارتی رابطوں نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جو واقعی قابلِ ستائش ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی حمایت بھی ایک مثبت اور عملی قدم ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب تصادم کے بجائے استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی اور عالمی ممالک کی مشترکہ کوششیں بھی اس پیش رفت میں شامل رہی ہیں، جنہوں نے ماحول کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور زمینی حقائق یہی اشارہ دیتے ہیں کہ دونوں فریق کسی نہ کسی قابلِ قبول حل کے قریب پہنچ چکے ہیں، اور معمولی نکات پر اتفاق رائے بھی جلد ہو سکتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ سیز فائر نہ صرف ایک عارضی سکون بلکہ ایک مستقل امن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

    بلاشبہ، یہ ایک اجتماعی کامیابی ہے جس میں پاکستان، امریکہ اور دیگر تمام شامل ممالک کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ پیش رفت ایک جامع معاہدے کی شکل اختیار کر لے گی، جو خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا۔

  • یک دل و یک جان سعودی عرب اور پاکستان،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    یک دل و یک جان سعودی عرب اور پاکستان،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    عالمی سیاست کے پیچیدہ اور بدلتے ہوئے منظرنامے میں کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں جو محض سفارتی یا مفاداتی بنیادوں پر قائم نہیں ہوتے بلکہ ان کی جڑیں تاریخ، عقیدے،مذہب اور مشترکہ اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق بھی اسی نوعیت کا ایک لازوال رشتہ ہے ایک ایسا رشتہ جسے بجا طور پر ’’ یک دل و یک جان ‘‘ کہا جاتا ہے۔

    ہر آن، ہر لمحہ اور ہردم بدلتے حالات کے تناظر میں دنیا اس بات کا مشاہدہ کررہی ہے کہ واقعتا سعودی عرب اور پاکستان’’ یک دل ویک جان ‘‘ ہیں ۔ امریکہ کے حملوں کی آڑ میں ایران نے سعودی عرب کی تیل اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو ایسے حساس وقت میں جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا وہاں کور کمانڈر کانفرنس میں بھی سعودی عرب کے ساتھ بھر پورطریقے سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا ۔ یہ اظہار یکجہتی نہ صرف ایک بروقت اقدام تھا بلکہ ایک ایسی ذمہ دار ا نہ ا ور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کا بھی عکاس ہے جس کی بنیاد سعودی عرب کے ساتھ بے لوث محبت پر رکھی گئی ہے ۔ یہ یکجہتی محض رسمی بیان نہیں بلکہ اس امر کا واضح اعلان تھا کہ سعودی عرب کی سلامتی پر خطرات کے منڈلاتے سائے کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے ۔ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ پاکستان کی متوازن اور مدبرانہ خارجہ پالیسی کی عکاسی بھی تھا اور اس امر کا اظہار بھی تھا کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے ۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ کور کمانڈر کانفرنس میں سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی محض رسمی بیان نہ رہا بلکہ چند ہی دن بعد دنیا نے اس وقت اسے حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا جب پاکستان کے شاصہین صفت لڑاکا طیارے سعودی سرزمین پر اترے اور فضائوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہ محض ایک عسکری سرگرمی نہ تھی بلکہ ایک بھرپور پیغام تھا۔۔۔۔اتحاد کا۔۔۔۔ اعتماد کا ۔۔۔۔اور مشترکہ دفاع کا۔ یہ لمحہ دراصل اس دیرینہ رفاقت کا عملی اظہار تھا جو آزمائش کی ہر گھڑی میں سرخرو رہی ہے۔یہ طیارے جن میں JF-17 تھنڈر اور F-16 جیسے جدید شاہکار شامل ہیں صرف دھات اور مشینری کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری مہارت، خودانحصاری اور دفاعی خودداری کے جیتے جاگتے مظاہر ہیں۔ جب یہ شاہین فضائوں میں پرواز کرتے ہوئے سعودی عرب پہنچے تو ہر پاکستانی کا دل فخر وانبساط سے بھر گیا ۔ اب الحمد للہ پاک فوج کے چنیدہ اور تربیت یافتہ دستے سعودی عرب میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی موجودگی کسی جارحیت کی علامت نہیں بلکہ امن، تربیت اور دفاعی ہم آہنگی کا استعارہ ہے۔ یہ شاہین صفت جوان اپنی مہارت، نظم و ضبط اور تجربے کے ذریعے سعودی افواج کے ساتھ ایک ایسی ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں جو کسی بھی ممکنہ خطرے کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو سکتی ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ کنگ عبدالعزیز جیسے اسٹریٹجک ایئر بیس کا انتخاب خود اس تعاون کی سنجیدگی اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خلیجی خطے کے قریب واقع یہ ائیر بیس دفاعی اعتبار سے کلیدی حیثیت بھی رکھتا ہے اور عالمی سطح پر بھی ایک اہم عسکری مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں پاکستانی طیاروں کی موجودگی دراصل ایک واضح اعلان ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں یک دل اور یک جان ہیں اور دونوں ممالک کسی بھی چیلنج کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ عسکری اشتراک صرف ہتھیاروں اور مشقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط نظریاتی اور جذباتی رشتہ بھی کارفرما ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ پر استوار ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب نے ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھا ہے یہی جذبہ آج بھی ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا رہا ہے۔ آج جب دنیا طاقت کے توازن کی نئی صف بندیوں میں مصروف ہے پاکستان کا یہ اقدام سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بھی کرتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور عسکری اعتبار سے مضبوط ومستحکم ریاست ہونے کا تاثر بھی اجاگر کرتا ہے۔دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے باہمی تعلقات سے دنیا کو یہ پیغام مل چکا ہے کہ آل سعود خادم الحرمین ہیں تو پاکستان کو اللہ نے محافظ الحرمین کا اعزاز بخشا ہے ۔

    دوسری طرف سعودی عرب نے بھی ہمیشہ پاکستان کا سچااور مخلص دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ خوشی ہو یا غم سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ رہا ہے ۔ آج اگر پاکستان دنیا میں سربلند ہے تو سعودی عرب کی بدولت ہے کہ جس کے تعاون سے پاکستان ایک مضبوط عسکری قوت اور ملک بنا ہے ۔ اس وقت پاکستان معاشی اعتبار سے مشکلات کا شکار ہوا تو سب سے پہلے سعودی عرب ہی پاکستان کے ساتھ تعاون کیلئے آگے بڑھا دو ارب ڈالر امداد دی اور تین ارب ڈالر قرضے روول اوور کئے ۔

    مذہبی ، سفارتی ، دفاعی اور عسکری تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک نہایت اہم ستون ہے۔ 1960 ء کی دہائی سے ہی پاکستان نے سعودی عرب کی فوجی تربیت اور دفاعی صلاحیتوں میں معاونت فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ پاکستانی فوجی ماہرین اور ٹرینرز سعودی عرب میں تعینات رہے جہاں انہوں نے سعودی افواج کو جدید جنگی مہارتوں سے آراستہ کیا۔ 1982 ء میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ ہوا جس کے تحت پاکستان نے سعودی عرب کی سرزمین کے دفاع کی ذمہ داری قبول کی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں تعینات رہی، جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    1990 ء کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی مظاہرہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ دونوں ممالک کا تعلق محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات میں بھی جھلکتا ہے۔
    حالیہ برسوں میں مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصا امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع نے خطے کو ایک نازک صورتحال سے دوچار کر دیا تھا۔ ایسے حساس موقع پر پاکستان نے نہایت دانشمندانہ اور متوازن پالیسی اپنائی تاہم سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کو برقرار رکھا۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی سعودی موقف کی حمایت کی اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بھی فعال کردار ادا کیا۔ یہ ایک نازک توازن تھا، جس میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی پختگی اور بصیرت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

    سیاسی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی قابلِ رشک ہے۔ عالمی فورمز پر بھی پاکستان اور سعودی عرب اکثر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ہو یا امتِ مسلمہ کو درپیش دیگر چیلنجز سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کو اہمیت دی ہے ۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ بھی اسی دیرینہ تعلق کا تسلسل ہے ۔ وزیراعظم نے سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    آج جب دنیا مختلف سیاسی اور معاشی بحرانوں سے گزر رہی ہے، ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کا ’’ یک دل، یک جان ‘‘ کا رشتہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال ہے یہ تعلق نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے استحکام، اتحاد اور امید کی علامت ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض دو ممالک کا تعلق نہیں بلکہ دو دلوں کی دھڑکن، دو قوموں کی امید اور ایک امت کی مشترکہ طاقت کا مظہر ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو ہر آزمائش میں سرخرو ہو کر ابھرتا ہے۔

  • تبصرہ کتب،حجیت ِ حدیث یعنی شریعتِ اسلامیہ میں حدیثِ رسول ﷺ کا مقام ومرتبہ

    تبصرہ کتب،حجیت ِ حدیث یعنی شریعتِ اسلامیہ میں حدیثِ رسول ﷺ کا مقام ومرتبہ

    اسلامی علوم میں سب سے اہم اور بنیادی حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے۔ قرآنِ کریم شریعتِ اسلامیہ کی اساس ہے تو حدیثِ رسول ﷺ اس کی شرح، وضاحت اور عملی تفسیر ہے ۔ انہی دو سرچشموں سے امتِ مسلمہ کا دینی و اخلاقی نظام تشکیل پاتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب "جیتِ حدیث” میں نامور محدث و محقق شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبد الستار حماد نے نہایت مدلل، علمی اور تحقیقی انداز میں سنتِ رسول ﷺ کی حجیت، اہمیت اور استنادی حیثیت کو ثابت کیا ہے۔یہ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے پہلے باب میں ’’ حدیث کی استنادی حیثیت قرآن و سنت اور عملِ صحابہ کی روشنی میں ‘‘ پر گفتگو کی گئی ہے ۔ شیخ الحدیث ابو حماد حافظ عبدالستار حماد نے حدیثِ نبوی ﷺ کی حیثیت کو قرآنِ مجید کے ساتھ تعلق کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ صاحب کتاب نے عملِ صحابہ رضی اللہ عنہ کی روشنی میں مدلل انداز میں بتایا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہر معاملے میں حدیثِ رسول ﷺ کو فیصلہ کن حجت مانا۔ وہ قرآن کے بعد سنت کو ہی قانون و شریعت کا دوسرا بنیادی ماخذ سمجھتے تھے۔کتاب کا دوسرا حصہ ’’ فتنہ انکارِ حدیث ،اسباب، شبہات و مغالطات کا مدلل جواب‘‘ پر مشتمل ہے ۔ یہ باب آج کے فکری و اعتقادی انتشار کے پس منظر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے انکارِ حدیث کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ اس فتنہ کی جڑیں ابتدا میں خارجی اور معتزلی فکر میں پائی جاتی ہیں۔اس باب میں انھوں نے انکارِ حدیث کے اہم شبہات جیسے:حدیث انسانی یادداشت کا نتیجہ ہے، وحی نہیں، قرآن کافی ہے، منصب رسالت سے بے اعتنائی ، سنت کی ضرورت نہیں، محدثین نے حدیث بعد میں جمع کی اور منکرین حدیث کی خود ساختہ اصطلاح ’’ مرکزملت ‘‘ کا نہایت علمی و عقلی تجزیہ کرتے ہوئے دلائلِ قرآن و سنت، تاریخِ حدیث اور علمِ رجال کی روشنی میں مکمل اور مدلل رد کیا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ حدیث دراصل وحیِ غیر متلو ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے قلب پر نازل فرمایا۔اس باب میں منکرین کے دس اعتراضات کے مدلل جوابات بھی دیے گئے ہیں ۔انھوں نے مثالوں کے ذریعے واضح کیا ہے کہ اگر سنت کو نظر انداز کر دیا جائے تو قرآنِ کریم کی بہت سی آیات کا عملی فہم ممکن ہی نہیں رہتا مثلاً نماز، زکوٰۃ، حج، نکاح، طلاق اور حدود کے احکام۔حقیقت یہ ہے کہ شیخ عبد الستار حماد کا اسلوب واضح، مدلل، اور اعتدال پر مبنی ہے ایک طرف یہ کتاب حدیث کے علمی مقام کو سمجھنے کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف فتنہ انکارِ حدیث کا توڑ بھی ہے ۔مختصر یہ کہ "حجیت ِ حدیث ” ایک ایسی جامع، مدلل اور ایمان افروز تصنیف ہے جو علمِ حدیث کے دفاع میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ کتاب صرف محدثین اور طلبہ کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس مسلمان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ سنتِ رسول ﷺ شریعت کا زندہ اور لازمی حصہ ہے۔کتاب میں جہاں عقلی استدلال موجود ہے، وہاں نقلی دلائل کی روشنی میں ایمان افروز تاثر بھی نمایاں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہر نکتے کو قرآن، حدیث اور آثارِ سلف سے مضبوط کیا گیا ہے۔ہر صفحے پر علمی وقار، ترتیب اور تحقیقی توازن جھلکتا ہے۔جبکہ دارالسلام نے حسبِ روایت اس کتاب کو نہایت معیاری طباعت، دیدہ زیب سرورق اور مستند حوالہ جاتی انداز میں شائع کیا ہے۔اس بیش قیمت علمی کتاب کی قیمت 250روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور سے حاصل کی جاسکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • ایران جوہری تنازع: اصل کشمکش یورینیم پر، آبنائے ہرمز ثانوی دباؤ کا ہتھیار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    ایران جوہری تنازع: اصل کشمکش یورینیم پر، آبنائے ہرمز ثانوی دباؤ کا ہتھیار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی کشیدگی: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اعتماد کا بحران
    ممکنہ معاہدہ یا قیاس آرائیاں؟ آنے والے دن عالمی سیاست کے لیے فیصلہ کن مرحلہ
    تجزیہ شہزاد قریشی
    مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سطحی خبروں سے ہٹ کر اصل محرکات کا جائزہ لیا جائے۔ بظاہر توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے اور جس کے بارے میں وقتاً فوقتاً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ایران اسے بند یا کھول کر عالمی دباؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ جتنا نمایاں دکھائی دیتا ہے، اتنا سادہ نہیں۔ اس راستے کی کسی بھی ممکنہ بندش یا کشیدگی کا فوری ردعمل عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کی جانب سے سامنے آتا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ مکمل طور پر ایران کے یکطرفہ کنٹرول میں نہیں رہتا۔

    اصل اور بنیادی تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ ایران کی حکمت عملی اس کے سیکیورٹی خدشات کے گرد گھومتی ہے، خاص طور پر اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ اقدامات کے تناظر میں۔ ایران یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ یورینیم افزودگی کے معاملے میں مکمل لچک دکھاتا ہے یا کسی سخت معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو اس کی دفاعی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ میں سیاسی تبدیلیاں—مثلاً انتخابات—اس کی پالیسیوں کو مزید غیر یقینی بنا سکتی ہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود رکھا جائے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہے اور ایٹمی پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ یہی بنیادی تضاد کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
    اس تناظر میں مختلف تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ آنے والے دن—خاص طور پر منگل، بدھ اور جمعرات—اہم ثابت ہو سکتے ہیں اور کسی ممکنہ پیش رفت یا معاہدے کی صورت سامنے آ سکتی ہے۔ بعض اطلاعات میں یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پس پردہ سفارتکاری کے نتیجے میں کوئی فریم ورک تیار ہو رہا ہے، جس میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو اعلیٰ سطحی امریکی شخصیات، حتیٰ کہ صدر، مختصر دورے پر آ کر اس کی توثیق کر سکتے ہیں۔

    تاہم تاریخی اور سفارتی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو ایسے بڑے معاہدے عموماً طویل مذاکرات کے بعد طے پاتے ہیں اور ان کے لیے مخصوص سفارتی مراکز کا انتخاب کیا جاتا ہے، جیسا کہ Joint Comprehensive Plan of Action کے دوران دیکھا گیا۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اگرچہ پیش رفت ممکن ہے، لیکن چند دنوں میں کسی حتمی اور بڑے معاہدے تک پہنچنا ایک مشکل اور کم امکان والا عمل ہے۔ پاکستان یا کسی اور ملک کا کردار ثالثی یا سہولت کاری تک ہو سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ بحران کی جڑیں گہری اسٹریٹیجک بے اعتمادی میں پیوست ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک اہم دباؤ کا ذریعہ ضرور ہے، مگر اصل فیصلہ کن عنصر ایران کا جوہری پروگرام اور اس پر عالمی طاقتوں کا ردعمل ہے۔ آنے والے دن اہم ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن کسی بھی نتیجے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے محتاط اور حقیقت پسندانہ تجزیہ ہی زیادہ مناسب ہوگا۔

  • مسلم ممالک کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر: راشد عمر اولکھ ایڈووکیٹ

    مسلم ممالک کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر: راشد عمر اولکھ ایڈووکیٹ

    نظریات یا مفادات، مذاکرات کار یا ثالث ؟ عالمی شطرنج کے کھیل میں مسلم ممالک کہاں کھڑے ہیں؟

    عالمی سیاست کے ایوانوں میں دوستیوں کے نعرے بہت بلند ہوتے ہیں، مگر تاریخ کی گرد جھاڑیں تو ایک ہی سچ نمایاں ہوتا ہے: ریاستیں جذبات، مذہبی نظریات سے نہیں، مفادات سے چلتی ہیں۔ یہاں تعلقات کی بنیاد نہ نظریاتی ہم آہنگی ہوتی ہے، نہ مذہبی قربت—بلکہ سرد حساب کتاب اور قومی مفاد کا بے رحم تقاضا ہوتا ہے۔

    مسلم دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی تلخ مگر واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تعین میں کبھی ابہام کا شکار نہیں ہوتیں، وہیں وقت کی مسلم ریاستیں اکثر جذباتی بیانیوں، وقتی نعروں اور غیر مستقل اتحادوں میں الجھ کر اپنے طویل المدتی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں۔

    سرد جنگ کے ہنگاموں میں United States اور Soviet Union کی کشمکش نے دنیا کو دو بلاکس میں تقسیم کر رکھا تھا۔ Soviet–Afghan War میں پاکستان کو فرنٹ لائن ریاست بنایا گیا۔ اس وقت دوستی کے چرچے تھے، تعاون کے وعدے تھے، اور مشترکہ جدوجہد کا بیانیہ تھا۔ مگر یہ سب کسی اصولی رفاقت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ مفادات کا عارضی اشتراک تھا۔

    پاکستان نے بھی اس موقع کو ایک اسٹریٹجک موقع کے طور پر استعمال کیا، مگر جیسے ہی Collapse of the Soviet Union ہوا، تعلقات کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔ پاکستان پر عالمی پابندیاں، نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ، بداعتمادی اور فاصلے—یہی اس “دوستی” کا انجام تھا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل کچھ نہیں ہوتا، سوائے مفادات کے۔

    ایران کی داستان بھی اسی اصول کی ایک اور شکل ہے۔ ایران جو کبھی امریکہ کا قریبی اتحادی تھا، Iranian Revolution کے بعد یکسر مخالف سمت میں کھڑا ہو گیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے نہ صرف اپنی خارجہ پالیسی بدلی بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد ہی تبدیل کر دی۔ یہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ نئے ریاستی مفاد کا تعین تھا—خودمختاری، اثر و رسوخ اور مزاحمت۔

    ترکی اگرچہ نیٹو امریکہ اتحاد کا حصہ بنا مگر اس سب کے باوجود کمال دانشمندی سے ترکی نے نیٹو رکن ہونے کے باوجود اپنی پالیسی کو کسی ایک بلاک تک محدود نہیں رکھا۔ شام کے بحران میں اس کی مداخلت، روس کے ساتھ تعلقات، اور مغرب کے ساتھ توازن—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ کامیاب ریاستیں لچکدار ہوتی ہیں، وابستہ نہیں۔

    دوسری طرف شام، عراق، یمن اور لیبیا وہ بدنصیب خطے ہیں جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات نے ریاستی ڈھانچوں کو کمزور کر کے انہیں جنگی میدان بنا دیا۔ عراق جنگ کے بعد عراق کا بکھرنا، شام کی خانہ جنگی کا عالمی شطرنج میں بدل جانا، اور یمن کی خاموش تباہی—یہ سب اس امر کی دلیل ہیں کہ جب ریاست کمزور ہو جائے تو اس کے فیصلے اس کے اپنے نہیں رہتے۔

    یہ تمام مثالیں ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہیں: کیا مسلم دنیا ہمیشہ دوسروں کے کھیل کا حصہ بنی رہے گی؟
    اگر پاکستان، ایران، سعودی عرب، مصر ترکی اور قطر اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک مشترکہ تزویراتی بلاک تشکیل دیں تو یہ عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ توانائی کے ذخائر، جغرافیائی اہمیت، عسکری صلاحیت اور افرادی قوت—یہ سب عناصر اگر یکجا ہو جائیں تو ایک نئی طاقت ابھر سکتی ہے۔
    مگر اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ وہی پرانی بیماریاں ہیں: فرقہ واریت، باہمی عدم اعتماد اور قلیل المدتی سوچ۔

    حالیہ عالمی کشیدگی، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کے تناظر میں پاکستان نے جس فعال سفارتی کردار کا مظاہرہ کیا، وہ محض روایتی بیان بازی نہیں بلکہ ایک نئی حکمت عملی کی جھلک ہے۔
    وزیراعظم شہباز شریف کی مسلسل سفارتی کاوشیں، روزانہ کی بنیاد پر رابطے، اور سعودی عرب ، قطر اور پھر ترکی کے اہم دورے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان محض ایک ردعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ ایک "فعال ثالث” کے طور پر ابھر رہا ہے۔
    اسی تسلسل میں ہمارے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب کا فوری طور پر ایران کا دورہ ایک غیر معمولی تزویراتی اشارہ تھا—یہ پیغام کہ پاکستان نہ صرف خطے کی حساسیت کو سمجھتا ہے بلکہ فوری اور مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ وہ کردار جس کو ادا کرنے کی اس سے توقع کی جا سکتی ہے۔
    اگرچہ عالمی سفارت کاری میں “کریڈٹ” اکثر طاقتور ریاستیں لے جاتی ہیں، مگر یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کشیدگی میں کمی، رابطوں کی بحالی اور جنگ بندی کی فضا پیدا کرنے میں پاکستان کی خاموش مگر مسلسل کوششیں ایک اہم عنصر بن رہی ہیں۔ اعتماد بحال ہو رہا ہے، مسلم ممالک کے درمیان بہترین تعلقات اور کوآرڈینیشن اپنا رنگ جما رہی ہے۔

    یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع موجود ہے:
    وہ مسلم دنیا میں محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک "پل (bridge) اور ممکنہ "قائدانہ کردار” ادا کر سکتا ہے۔
    اگر مجوزہ اسلامی بلاک حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو پاکستان کی حیثیت محض ایک رکن کی نہیں ہوگی بلکہ ایک ایسے ملک کی ہوگی جو:
    مختلف بلاکس (ایران-سعودی، ترکی-عرب) کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے
    ایٹمی طاقت ہونے کے باعث دفاعی اعتماد فراہم کر سکتا ہے
    چین، امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان سفارتی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے
    یہ کردار پاکستان کو اس پوزیشن پر لا سکتا ہے جہاں وہ نہ صرف اتحاد کا حصہ ہو بلکہ اس کی سمت متعین کرنے والوں میں شامل ہو۔ اور یہ کوئی معمولی بات یا عمومی پیش رفت نہیں۔
    بین الاقوامی سیاست شطرنج کی ایک بساط ہے۔ یہاں یا تو آپ چال چلتے ہیں، یا آپ پر چال چلی جاتی ہے۔
    مسلم دنیا نے طویل عرصہ مہرے کا کردار ادا کیا ہے، مگر حالات بدل رہے ہیں۔
    اگر ریاستیں اپنے مفادات کو سمجھتے ہوئے اجتماعی حکمت عملی اپنائیں، اور پاکستان جیسے ممالک ثالثی سے قیادت تک کا سفر طے کریں، تو ایک نیا عالمی توازن جنم لے سکتا ہے۔
    اور موجودہ عالمی حالات میں، جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اگر ریاستیں اپنے انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کر اجتماعی حکمتِ عملی اپنائیں تو ایک نیا اور زیادہ متوازن عالمی نظم تشکیل پا سکتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان اپنی عسکری صلاحیت اور اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کے ذریعے سیکیورٹی اور علاقائی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی مالی طاقت اور سرمایہ کاری کی استعداد سے اس بلاک کو معاشی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ترکی اپنی جغرافیائی اہمیت، دفاعی صنعت اور جنگی تجربے کے ساتھ عملی عسکری و سفارتی وزن بڑھا سکتا ہے، قطر اپنے توانائی کے وسیع وسائل اور ثالثی کی مؤثر پالیسی کے ذریعے مالی و سفارتی معاونت فراہم کر سکتا ہے، جبکہ مصر اپنی تاریخی، آبادیاتی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث عرب و افریقی دنیا کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح ایران اپنی تزویراتی گہرائی اور علاقائی اثر و رسوخ کے ذریعے اس خطے کی جیو اسٹریٹجک تکمیل کا حصہ بن سکتا ہے۔ اگر یہ تمام عوامل ایک مربوط اور ادارہ جاتی تعاون کے فریم ورک میں یکجا ہو جائیں تو یہ اتحاد محض علامتی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک عملی اور مؤثر تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
    یہ صرف ایک امکان نہیں—یہ ایک موقع ہے۔
    سوال اب بھی وہی ہے:
    کیا مسلم دنیا اس موقع کو پہچان پائے گی؟
    تاریخ کا اگلا باب اسی جواب کا منتظر ہے۔
    اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔
    نقشِ کہن مٹ رہا ہے، نئی تقدیر کے ہاتھ میں
    وقت کے ماتھے پہ لکھا اب ترا اعجاز ہے۔