Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • "تمہارا وجود ہماری زندگی” تحریر: عائشہ اسحاق

    "تمہارا وجود ہماری زندگی” تحریر: عائشہ اسحاق

    ہر طرف مارا ماری قتل و غارت اور بربریت کے زمانے میں ایسے خاموش جانداروں کا بھی کھلے عام قتل زور و شور سے جاری ہے جن سے نہ صرف ہماری بلکہ ہماری نسلوں کی بھی سانسیں جڑی ہے دنیا بھر میں جہاں لوگوں نے بنجر خطے بھی اپنی لگن اور پرخلوص کاوشوں سے سر سبز اور شاداب بنا ڈالے یہاں قدرتی وسائل سے مالا مال زرخیز خطہ بد قسمتی سے بد کردار لا لچی افسران کے ہوس کی بھینٹ چڑھ کر بنجر ہوتا جا رہا ہے اور افسوس اس بات کا زیادہ ہے کہ لوگ اپنی خاموش تباہی کو دیکھ کر بھی ان دیکھا کر رہے ھیں ۔ ایلیٹ کلاس اور حکمرانوں کے لیے محض پاکستان پیسے بنانے کی مشین کے سوا کچھ بھی نہیں اربوں قرض پاکستان کی فلاح کے نام پر لیا جاتا ہے جو ان کے ذاتی عیاشیوں کی نظر ہو جاتا ہے اسی طرح درختوں کو بےدردی سے کاٹ کر یہی طبقہ فیکٹریاں پلازے ہوٹلز بنانے میں مصروف ہے یہ وہ طبقہ ہے جو خود نہ صرف پرسکون پرفضا ماحول میں سکونت اختیار کیے ہوتا ہے بلکہ ان کے اہل خانہ بیرون ملک رہائش زیادہ تر اختیار رکھتے ہیں انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ پاکستانی عوام جیے یا مرے ،خیر چھوڑئیے اس طبقے کی سیاہ کاریاں گنواتے بات بہت طویل ہو جاتی ہے میرا یہاں لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ تو انسان کے اپنے بھی فرض ہوتے ہیں شعور کی کمی اور لاپرواہی اپ کی اور انے والی نسلوں کی تباہی کا باعث بن رہی ہے اس بے حس ظالم طبقے کو فیکٹریاں ہوٹلز پلازے اور ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے سے روکا جائے کم از کم اتنا فرض تو ادا کیجیے کہ جن سے اپ کی سانسوں کا دارومدار جڑا ہے ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کم از کم ہر فرد ذاتی طور پر ایک ایک درخت بھی لگائے تو آئیں ممکن ہے کہ فضا میں پھیلا زہر ختم ہو سکے۔

    یہی گھناؤنا سلسلہ شمالی علاقہ جات میں بھی جاری ہے سیاحت کے نام پر درختوں کا کاٹنا موسمی تبدیلیوں کی بڑی وجہ بن رہا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیر ز بہت تیزی سے پگھل رہے ہیں جو نہایت خطرناک صورتحال ھے۔ نہ جانے اس حقیقت سے غافل لوگ کب اس بات کو سمجھیں گے کہ درختوں کا وجود ھماری زندگی ھے اپ اپنے تھوڑے سے لالچ کی خاطر ان بڑے مگر مچھوں کے بے حس عزائم کو کامیاب بنا رہے ہیں اور اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

  • نئے صوبے مضبوط وفاق اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک قدم،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نئے صوبے مضبوط وفاق اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک قدم،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نئے صوبے مضبوط وفاق اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک قدم

    ریاستیں رقبے سے نہیں، مؤثر حکمرانی سے مضبوط ہوتی ہیں

    بدلتے حالات نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات کا تقاضا کرتے ہیں

    پاکستان کو مضبوط وفاق کے لیے مضبوط انتظامی اکائیوں کی ضرورت ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ریاستوں کی مضبوطی کا تعلق صرف ان کے رقبے یا آبادی سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کس حد تک مؤثر، منصفانہ اور قریب ترین سطح پر حکمرانی فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی انتظامی اکائیوں میں اضافہ کیا تاکہ عوامی مسائل کا حل زیادہ تیزی اور بہتر انداز میں ممکن بنایا جا سکے۔
    پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد یہ موضوع دوبارہ قومی مکالمے کا حصہ بن گیا ہے۔ اس بحث کو جذبات یا سیاسی مفادات کے بجائے قومی ضرورت، انتظامی بہتری اور عوامی فلاح کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ آبادی میں مسلسل اضافہ، شہری آبادی کے پھیلاؤ، ترقیاتی ضروریات اور انتظامی پیچیدگیوں نے موجودہ صوبائی ڈھانچے پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔ ایک ہی صوبے کے بعض دور دراز علاقوں کے عوام آج بھی یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچتی۔ جب فیصلہ سازی عوام کے قریب آتی ہے تو مسائل کے حل کی رفتار بھی بڑھتی ہے اور ترقی کے ثمرات زیادہ منصفانہ انداز میں تقسیم ہوتے ہیں۔
    دنیا کے کئی ممالک اس کی عملی مثال ہیں۔ وہاں انتظامی وحدتوں میں اضافے نے قومی یکجہتی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ وفاقی نظام کو مزید مستحکم کیا۔ مقامی شناختوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں آئینی اور انتظامی دائرے میں جگہ دینا دراصل قومی وحدت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتا ہے، کیونکہ محرومیوں کا احساس کم ہوتا ہے اور عوام خود کو ریاستی نظام کا زیادہ مؤثر حصہ محسوس کرتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی اگر نئے صوبوں کا قیام آئینی تقاضوں، قومی اتفاقِ رائے اور انتظامی ضرورت کے تحت کیا جاتا ہے تو یہ وفاق کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے وسائل کی بہتر تقسیم، ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی، عوامی نمائندگی میں اضافہ اور مقامی مسائل کے فوری حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
    اصل سوال یہ نہیں کہ صوبوں کی تعداد کتنی ہونی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام عوام کی ضروریات کو پوری طرح پورا کر رہا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو اصلاحات پر سنجیدہ غور و فکر وقت کی ضرورت ہے۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے نظام کو بہتر بنانے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ نئے صوبوں کی بحث بھی اسی قومی ارتقا اور بہتر حکمرانی کی تلاش کا ایک اہم باب ہے، جسے تعصب سے نہیں بلکہ تدبر، بصیرت اور قومی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

  • آگ بجھانے والے کہاں ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    آگ بجھانے والے کہاں ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    احتجاج، اشتعال اور قومی ذمہ داری کا امتحان

    احتجاج، اشتعال اور سیاسی قیادت کی خاموشی قومی بحران اور ذمہ داری سے گریز

    جب سیاست مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی چنے ریاست، احتجاج اور قیادت کا امتحان

    تجزیہ شہزاد قریشی

    تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشروں کو بحرانوں، انتشار اور داخلی کشمکش کا سامنا ہوتا ہے تو ذمہ دار قیادتیں آگ پر تیل نہیں بلکہ پانی ڈالتی ہیں۔ قومی زندگی کے نازک اور حساس لمحات میں سیاسی و مذہبی قوتوں کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ جذبات کو بھڑکانے کے بجائے تدبر، حکمت اور تحمل کا راستہ اختیار کریں۔ بدقسمتی سے آج آزاد کشمیر سے لے کر لندن کی سڑکوں تک جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں وہ قومی بصیرت اور اجتماعی دانش کم دکھائی دے رہی ہے جس کی ایک ذمہ دار قوم کو ضرورت ہوتی ہے۔

    اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہے، احتجاج بھی ایک بنیادی سیاسی حق ہے، لیکن جب احتجاج کی فضا الزام تراشی، اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کے خلاف غیر مہذب اور غیر ذمہ دارانہ زبان کے استعمال میں تبدیل ہو جائے تو اس کے اثرات محض سیاسی نہیں رہتے بلکہ قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کے تشخص کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

    افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے مواقع پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے جس متوازن اور مدبرانہ کردار کی توقع کی جاتی ہے، وہ نمایاں نظر نہیں آتا۔ قومی مفاد کا تقاضا تھا کہ تمام جماعتیں اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر کشیدگی میں کمی، برداشت کے فروغ اور مکالمے کی فضا قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرتیں۔ لیکن عملی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اکثر سیاسی قوتیں قومی مفاد کے بجائے اپنے سیاسی بیانیے، انتخابی مفادات اور اقتدار کی سیاست کو ترجیح دے رہی ہیں۔

    دنیا کی مہذب جمہوریتوں میں سیاسی قیادتیں بحران کے لمحوں میں ریاستی استحکام کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ وہ اپنے کارکنوں اور حامیوں کو قانون کے دائرے میں رہنے، اداروں کے احترام اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی تلقین کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض حلقوں کی جانب سے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر قومی اداروں کے خلاف ایسی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو نہ صرف سیاسی شائستگی کے منافی ہے بلکہ قومی مفادات کے بھی خلاف ہے۔

    یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہر ادارہ تنقید سے بالاتر نہیں، لیکن تعمیری تنقید اور کردار کشی میں واضح فرق موجود ہے۔ جب تنقید کا مقصد اصلاح کے بجائے نفرت، تقسیم اور تصادم کو فروغ دینا بن جائے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اور مذہبی قیادتیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔ انہیں جذباتی نعروں کے بجائے مفاہمت، برداشت اور قومی وحدت کا پیغام دینا چاہیے۔ اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنا اور نوجوان نسل کو مثبت سیاسی شعور دینا ہی ایک مہذب اور مستحکم معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

    تاریخ ہمیشہ ان قوتوں کو عزت اور احترام دیتی ہے جو بحران کے لمحوں میں قوم کو جوڑنے کا کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ نفرت، اشتعال اور تقسیم کی سیاست وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر قوموں کے مستقبل کو کمزور کر دیتی ہے۔ آج کا سوال یہی ہے کہ کیا ہماری سیاسی اور مذہبی قیادتیں تاریخ کے اس اہم موڑ پر آگ بجھانے والوں میں شمار ہوں گی یا پھر تماشائی بن کر حالات کی شدت میں اضافہ کرتی رہیں گی؟ وقت اس سوال کا جواب ضرور دے گا۔

  • کشمیری سیاسی قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے،تحریر:بینا علی

    کشمیری سیاسی قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے،تحریر:بینا علی

    "کشمیری سیاسی قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے”بہت طویل انتظار کے بعد نیٹ سروسز بحال ہوئی پہلے تو بے یقینی کی کیفیت رہی اور جب حالاتِ حاضرہ منظرِ عام پہ آئے تو دل جیسے کسی نے چیر کے رکھ دیا ہو۔ آنکھیں نم ہو گئیں، سانس رُک گئی۔ دل چیخ اٹھا کہ یہ کیا ہو گیا؟ یہ وہ منظر نہیں تھا جس کے لیے ہم نے تقریباً دو ماہ انتظار کیا تھا۔جب یہ تحریک شروع ہوئی تو یہ کچھ جائز مطالبات اور عوام الناس کے بنیادی حقوق کی تحریک تھی جس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کے باوجود اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ روٹی اور عزت کی بات کرنے والوں کو ریاست کا دشمن بنا دیا گیا۔ بارہا یہ باور کروایا گیا کہ اس کا پاکستان مخالف بیانیے سے کوئی تعلق نہیں ہے عوام کے بنیادی حقوق کی تحریک ہے، مگر کسی نے نہ سنا۔بار بار اس بات کو مسترد کردیا گیا اور الزامات اپنی ہی کشمیری سیاسی قیادت کی طرف سے تھوپے گئے۔ اپنوں نے ہی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ اپنوں نے ہی اپنے گھر میں آگ لگائی۔بلا وجہ اس معاملے کو طول دے کر ریاست کی عوام کو فوج کے بالمقابل کھڑا کر دیا گیا اور اس میں سب سے اہم کردار ہماری کشمیری قیادت کا ہے جن میں سیاسی بصیرت نام کی کوئی چیز نہیں جو وادی کو جوان لہو سے رنگنے میں سر فہرست ہیں۔ کرسی کی ہوس نے وادی کو خون سے رنگ دیا۔ اقتدار کے لیے جوانوں کی لاشیں بچھا دیں۔ ان کی سیاسی نابالغی نے پوری قوم کو دہشت اور نفرت کی بھٹی میں جھونک دیا۔بڑی بڑی جنگیں اور معاملات مذاکرات سے حل ہوئے ہیں اور یہ کون سا ایسا معاملہ تھا جو تصفیہ طلب نہ تھا ۔ ایک میز، چند باتیں، اور کتنے گھر بچ سکتے تھے۔ کتنی مائیں بچ سکتی تھیں۔ مگر ضد اور انا جیت گئی۔مفاہمت کی سیاست کو نظر انداز کیا گیا۔

    اب بھی ہٹ دھرمی کی انتہا ہے کہ وادی جوانوں کے خون سے رنگی جا رہی ہے اور انہیں جلسے، الیکشن، سلیکشن کی پڑی ہے۔ قبریں ابھی تازہ ہیں اور انہیں ووٹوں کی فکر ہے۔ جنازوں پر سیاست ہو رہی ہے۔ لاشوں پر تقریں ہو رہی ہیں۔اہم معاملے پہ کوئی توجہ ہی نہیں ۔ خون کسی ریاست کے جوان کا ہو یا کسی رینجر کا گودیں ماؤں کی اجڑتی ہیں ۔ ہر لاش کے پیچھے ایک ماں کی چیخ ہے۔ ہر جنازے کے ساتھ ایک بیوی کا اجڑا سہاگ ہے۔ ہر خبر کے ساتھ ایک بچے کا یتیم ہونا لکھا ہے۔جوان لاشے باپ کے کاندھے جھکا دیتے ہیں ۔ باپ جب بیٹے کا جنازہ اٹھاتا ہے تو ان ضمیر فروشوں کو کیا پتہ کتنی اذیت ہوتی ہے۔ کمر ٹوٹ جاتی ہے، امید دفن ہو جاتی ہے۔ بچے یتیم ہوتے ہیں اور عورتوں کے سہاگ اجڑتے ہیں۔ گھر ویران ہو گئے۔ چولہے بجھ گئے۔ بچپن دفن ہو گیا۔ آنگنوں میں صرف ماتم رہ گیا۔بہت ظلم اور بے جا طوالت سے معاملے کو خراب کیا گیا ۔ زخموں پر نمک چھڑکا گیا۔ وقت ضائع کر کے خون بہایا گیا۔ بات چیت کے دروازے بند کر کے بندوق کے دہانے کھول دیے گئے۔خدارا اب بس کر دیں یہ خون کی ہولی دل کمزور پڑ گئے ہیں ۔ اب اور برداشت نہیں ہوتا۔ اب اور لاشیں نہیں دیکھ سکتے۔ اب اور مائیں نہیں رُلا سکتے۔ خدارا رحم کرو۔ خون بہانا بند کرو۔
    "راولاکوٹ ہم شرمندہ ہیں ۔ ”
    ہم تمہارے درد میں شریک نہ بن سکے۔ ہم تمہارے لیے آواز نہ بن سکے۔ ہم تمہارے زخموں کا مرہم نہ بن سکے۔ ہمیں معاف کر دینا۔
    حالات کا تقاضا ہے کہ کشمیری قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے ۔ تاریخ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہر قطرہ خون تمہارا تعاقب کرے گا۔ ہر یتیم کی آہ تمہارا پیچھا کرے گی۔

  • شانِ علی المرتضی ،تحریر:ماریہ خان

    شانِ علی المرتضی ،تحریر:ماریہ خان

    خاموش ہے تو دین کی پہچان علی ہے
    گر بولے تو لگتا ہے قرآن علی ہے
    شان علی المرتضی علیہ السلام کی عظمت و شان قطعی الثبوت ہے – حضرت علی ابن ابی طالب (ض) پیغمبر اسلام حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا زاد بھائی، داماد اور چوتھے خلیفہ راشد تھے – آپ کعبہ میں پیدا ہوے، اور اپنی بے مثال شجاعت اور علم کے باعث اسلامی تاریخ میں ایک بلند مقام رکھتے ہیں –
    * شجرہ نسب ۔
    حضرت علی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو ہاشم سے تھا، والد ابو طالب ( اصل نام عبد مناف) بنو ہاشم کے سردار اور کعبہ کے متولی تھے – اور والدہ فاطمہ بنت اسد،
    * نسب نامہ ۔ علی ابن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی
    * ابتدائی زندگی اور اسلام ۔
    روایات کے مطابق آپ 13 رجب کو تقریباً (599ء یا 600ء) مکہ مکرمہ میں میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوے،
    * تربیت۔
    چونکہ آپکے والد مالی مشکلات کا شکار تھے، اس لیے آپکی پرورش خود نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر ہوئی
    * قبول اسلام ۔
    آپ نے کم عمری میں ہی اسلام قبول کیا، اور سب پہلے اسلام قبول کرنے والے بچوں میں آپکا شمار ہوتا ہے ۔

    فارسی زبان میں ایک شعر ہے ؎

    علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
    ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی !
    اس کا اُردو میں مطلب ہے:
    ” علی پاک میرے امام ہیں ، اور میں علی پاک کا غلام ہوں ۔
    میری ایک نہیں ، ہزار قیمتی جانیں بھی نامِ علی پر فِدا ۔ "علی پاک کا امام ہونا ، اور میرا غلام ہونا ، کسی شرف سے کم نہیں ؛ یہ میرے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ۔
    یہاں اس کے دو مطلب لیے جاسکتے ہیں ۔
    پہلا یہ کہ:
    مولاعلی کی غلامی اتنی عظیم تھی کہ جب مجھے میسر آئی تو میری جان گرامی ( قیمتی اور بیش بہا ) ہوگئی ۔
    اب میرا جی چاہتا ہے کہ ایسی قیمتی ایک جان نہیں ، ہزاروں جانیں بھی ہوں تو اس سرکار کے نام پر قربان کردوں ۔
    دوسرا یہ کہ:
    علی پاک کےنام پر ایک جان سے نہیں ، ہزار قیمتی جانوں سے قربان ۔۔۔۔ مجھے آپ کی غلامی کی صورت میں رب تعالیٰ نے کتنی بڑی دولت عطا فرمائی !!
    علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
    ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی
    حضرت علی المرتضی علیہ السلام وہ خوبصورت ہستی ہیں ۔کہہ انکی شان میں جتنا بھی لکھا جائے بہت کم ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ انمول ہیرا جسکو شیر خدا کا لقب ملا ۔انکی جرآت بہادری شجاعت دلیری کی داستانیں کسی بھی مسلمان سے چھپی نہیں ہیں ۔رسول اللہ اور انکے گھرانے سے محبت و عشق رکھنے والے اس اہمیت بخوبی آگاہ ہیں ۔
    یہ وہ شیر وہ جرآت مند ہستی ہے غدیر میں اللہ کے رسول (ص) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ بلند کر کے ارشاد فرمایا ۔
    «مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ» ایک صحیح حدیث ہے جو پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے غدیر خم کے مقام پر حضرت علی بن ابی طالب کے بارے میں فرمائی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ "جس کا میں دوست، مددگار اور سردار ہوں، علی بھی اس کے دوست، مددگار اور سردار ہیں۔”
    18 ذی الحج جس دن حضور نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالٰی علیہم اجمعین کے ھجوم میں سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللّٰہ تعالٰی وجہہ الکریم کا ھاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا ۔:۔
    مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ.
    ’’جس کا میں مولا ھوں اُس کا علی مولا ھیں‘‘
    یہ اعلانِ ولایتِ علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ تھا جس کا اطلاق قیامت تک جملہ اھلِ ایمان پر ھوتا ھے اور جس سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ھوتا ھے کہ جو ولایتِ علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا منکر ھے وہ ولایتِ محمدیﷺ کا منکر ھے
    اس مسئلہ پر بعض لوگ بوجہِ جہالت متردّد رھتے ھیں اور بعض لوگ بوجہِ عناد و تعصّب
    یہ تردّد اور انکار اُمّت میں تفرقہ و انتشار میں اضافہ کا باعث بن رھا ھے ۔
    ایک اور روائیت میں یہاں بیان کرنا چاہوں گی ۔
    ایک دفعہ رسول اللہ (ص) مجلس میں بیٹھے تھے ۔اور دوسری طرف غلام علی ایک جنگل میں مصیبت میں پھنس گئے… ایک آدمی انکا سر قلم کرنے لگتا ہے تو انکی زبان بے اختیار اللہ اس کے رسول کی مدد کے لیے التجا ء جاری ہو جاتی… وہ ظالم جیسے ہی تلوار اٹھا کر گردن پر رکھتا ہے… اور تلوار چلا نے سے پہلے ہی کوئی نقاب پوش آتا ہے اور اس ظالم کا سر دھڑ سے الگ کر دیتا ہے… غلام علی یہ ماجرا دیکھ رہے اور حیران ہو رہے ہیں کہہ گھوڑے پر یہ نقاب پوش اس گھنے ویران جنگل میں اچانک کیسے میری مدد کو پہنچ گئے ۔۔۔
    خیر وہ آدمی رسول اللہ (ص) کے پاس تشریف لے جاتا ہے اور سارا ماجرا بیان کرتا ہے ۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہہ اے اللہ کے بندے وہ شیر خدا حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔تو نے خود ہی تو مدد کے لیے اپنے رب کے آگے فریاد کی تھی ۔۔

    اور آج بھی ہم اپنی ہر مشکل پریشانی محمد و آل محمد کے وسیلے سے ۔علی اولاد علی کے وسیلے سے اپنے رب سے تمام تر پریشانیوں اور مشکلات کا حل مانگتے ہیں ۔ یہ وہ اللہ کے پیارے ہیں ۔جن کے دور حکومت میں انسانیت، بھائی چارہ، بچوں پر شفقت، بزرگوں کا احترام تھا ۔کسی یتیم کا مال کھایا نہیں جاتا تھا ۔ حضرت علی اور حضرت عمر کے دور خلافت میں بیت المال سے غریبوں کی مدد ہوتی تھی… ایک وقت ایسا بھی آیا… مدد کرنے والے ہزاروں تھے ۔بیت المال کا خزانہ بھرا تھا مگر مدد لینے والا کوئی مستحق نہیں تھا ۔
    رب تعالیٰ سے دعا ہے کہہ وہ ہم تمام امت مسلمہ کو اپنے رسول (ص) محمد و آل محمد اور علی المرتضی و الاد علی اور ان کے گھرانوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے ۔اور روز قیامت انکا سایہ شفقت ہمیں نصیب ہو ۔ تاکہ ہم دیا و آخرت میں سرخرو ہو سکیں ۔

  • ہم اور سسٹین ایبلٹی،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    ہم اور سسٹین ایبلٹی،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    دنیا کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ انسان اپنی ترقی پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اس ترقی کے نتائج سے خوفزدہ بھی ہے۔ ایک طرف فلک بوس عمارتیں، جدید صنعتیں، مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار ترقی کا سفر جاری ہے، تو دوسری طرف درخت کم ہو رہے ہیں، دریا سکڑ رہے ہیں، زیرِ زمین پانی نیچے جا رہا ہے، موسم بے ترتیب ہو چکے ہیں اور بارشیں رحمت کے بجائے بعض اوقات زحمت کا روپ دھار لیتی ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس نے دنیا کو ایک نئے تصور کی طرف متوجہ کیا ہے، جسے "سسٹین ایبلٹی” یا "پائیداری” کہا جاتا ہے۔
    سسٹین ایبلٹی دراصل ایک سوچ، ایک ذمہ داری اور ایک طرزِ زندگی کا نام ہے۔ اس کا مطلب صرف ماحول کو صاف رکھنا نہیں بلکہ قدرتی وسائل کو اس انداز سے استعمال کرنا ہے کہ ہماری ضروریات بھی پوری ہوں اور آنے والی نسلوں کے حقوق بھی محفوظ رہیں۔ افسوس کہ ہم نے ترقی کو صرف سڑکوں، عمارتوں اور کارخانوں تک محدود کر دیا، جبکہ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں انسان اور قدرت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔
    پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کر رہے ہیں، حالانکہ عالمی آلودگی میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کبھی شدید گرمی، کبھی بے وقت بارشیں، کبھی خشک سالی اور کبھی تباہ کن سیلاب ہماری معیشت، زراعت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ حالات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم نے قدرت کے ساتھ انصاف کیا ہے؟
    حالیہ مون سون بارشوں نے ایک بار پھر ہماری تیاریوں کا امتحان لیا۔ چند گھنٹوں کی بارش نے کئی شہروں کو پانی میں ڈبو دیا، سڑکیں تالاب بن گئیں، نکاسی آب کے نظام کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ گئیں اور شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا بارش قصوروار ہے؟ ہرگز نہیں۔ بارش تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، مگر ناقص منصوبہ بندی، بے ہنگم تعمیرات اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر قبضے اس رحمت کو زحمت میں بدل دیتے ہیں۔
    اگر ہم سسٹین ایبلٹی کے اصول اپنالیں تو بارش کا یہی پانی ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے، زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے کے لیے ری چارج ویل بنائے جا سکتے ہیں، شہروں میں ایسے فرش اور کھلے مقامات بنائے جا سکتے ہیں جہاں پانی آسانی سے زمین میں جذب ہو، اور نکاسی آب کا ایسا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو ہر بارش کے بعد شہریوں کو پریشانی سے بچائے۔
    دیہی پاکستان میں سسٹین ایبلٹی کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ کسان پانی کی کمی، زمین کی زرخیزی میں کمی اور موسمی بے یقینی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ اگر ہم بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، جدید آبپاشی کے نظام، شجرکاری اور پانی کے دانشمندانہ استعمال کو فروغ دیں تو زرعی شعبہ نہ صرف مضبوط ہوگا بلکہ غذائی تحفظ بھی بہتر ہوگا۔ پانی کا ہر قطرہ مستقبل کی معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
    افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم روزانہ سینکڑوں لیٹر پانی ضائع کرتے ہیں، بجلی کا غیر ضروری استعمال کرتے ہیں، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال جاری رکھتے ہیں اور درخت کاٹنے کو ترقی سمجھتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ قدرت کبھی بھی انسان کی بے احتیاطی کو ہمیشہ برداشت نہیں کرتی۔ آج اگر ہم ماحول کا خیال نہیں رکھیں گے تو کل ماحول ہماری زندگیوں کو مشکل بنا دے گا۔
    اسلام نے بھی ہمیں پائیدار زندگی کا درس دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اسراف سے روکا گیا ہے اور رسول اکرم ﷺ نے پانی کے استعمال میں بھی اعتدال کی تعلیم دی، خواہ پانی بہتے دریا سے ہی کیوں نہ لیا جا رہا ہو۔ یہ تعلیمات آج کے جدید تصورِ سسٹین ایبلٹی سے مکمل ہم آہنگ ہیں اور ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ ماحول کی حفاظت دراصل ایک اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔
    میڈیا، تعلیمی ادارے، صنعتیں، مقامی حکومتیں اور ہر شہری اس تبدیلی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ہر شخص سال میں ایک درخت لگائے، بارش کے پانی کو محفوظ کرے، بجلی اور پانی کی بچت کرے، کوڑا مناسب جگہ پر پھینکے اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائے تو یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ایک بڑے قومی انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
    ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ سسٹین ایبلٹی صرف ماحولیات کا موضوع نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت، زراعت، صحت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ جو قومیں آج قدرتی وسائل کی حفاظت کر رہی ہیں، وہی کل ترقی یافتہ اور خوشحال ہوں گی۔ جو قومیں قدرت کو نظر انداز کریں گی، انہیں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحرانوں کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ترقی کی دوڑ میں قدرت کو اپنا ساتھی بنائیں، اس کا مخالف نہیں۔ بارش کو نعمت سمجھ کر محفوظ کریں، درختوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، پانی کے ہر قطرے کی قدر کریں اور اپنے شہروں و دیہات کو پائیدار ترقی کی مثال بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، سرسبز، خوشحال اور محفوظ پاکستان کی طرف جاتا ہے۔
    آئیے! آج یہ عہد کریں کہ ہم صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی جئیں گے، کیونکہ سسٹین ایبلٹی صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ہماری بقا، ہماری ذمہ داری اور ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے

  • کھوسہ ہاؤس اقتدار سے بالاتر ایک سیاسی و قبائلی طاقت،تحریر: جواد اکبر بھٹی

    کھوسہ ہاؤس اقتدار سے بالاتر ایک سیاسی و قبائلی طاقت،تحریر: جواد اکبر بھٹی

    پاکستانی سیاست میں کچھ شخصیات اور خاندان ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت کا پیمانہ صرف اقتدار نہیں ہوتا بلکہ ان کا اثر و رسوخ، عوامی روابط، سیاسی بصیرت اور قبائلی وقار انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ کھوسہ خاندان بھی انہی چند خانوادوں میں شامل ہے جنہوں نے دہائیوں تک جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ قومی سیاست میں اپنی ایک الگ شناخت برقرار رکھی۔

    سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم کا شمار ملک کے سینئر ترین سیاسی و قبائلی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں وفاداری، ثابت قدمی اور اصول پسندی کی ایسی مثال قائم کی جسے آج بھی احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مشکل ترین دور میں جب بہت سے سیاسی چہرے راستے بدل رہے تھے، سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے رہے اور سیاسی استقامت کی ایک روشن مثال بنے۔

    گزشتہ چند برسوں سے کھوسہ خاندان براہِ راست حکومتی ایوانوں میں نمایاں کردار ادا نہیں کر رہا تھا، جس کے باعث بعض سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ شاید کھوسہ خاندان کا سیاسی سورج غروب ہو چکا ہے۔ تاہم سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے انتقال کے بعد کھوسہ ہاؤس میں ملک بھر کی سیاسی، قبائلی اور مذہبی قیادت کی غیر معمولی آمد نے اس تاثر کو یکسر غلط ثابت کر دیا۔ اور بلکہ چار ماہ گزرنے کے بعد تک یہ سلسلہ نہ تھم سکا۔

    سابق وزیراعظم و چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، سردار عبد الرحمن کھیتران، ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ، سجادہ نشین دربار فرید خوجہ معین الدین محبوب کوریجہ، خواجہ عامر کوریجہ، چیئرمین رویت ہال کمیٹی مولانا عبد الخبیر آزاد، مخدوم احمد محمود خان، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری اور مختلف صوبوں کے گورنرز، وفاقی و صوبائی وزراء، قبائلی عمائدین اور سیاسی شخصیات کی مسلسل آمد نے واضح کر دیا کہ کھوسہ خاندان آج بھی قومی سطح پر ایک بااثر اور قابلِ احترام سیاسی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ بلوچستان سے خیبر پختونخوا، سندھ سے کشمیر تک مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا کھوسہ ہاؤس کا رخ کرنا دراصل سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی شخصیت اور خدمات کا اعتراف تھا۔

    سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کا اصل اثاثہ ان کے وسیع سیاسی تعلقات، عوامی خدمت اور رواداری پر مبنی سیاست تھی، جو آج بھی ان کے خاندان کی سیاسی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ ان کے فرزندان اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کھوسہ ہاؤس آج بھی جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایک اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

    خصوصاً سردار دوست محمد خان کھوسہ اپنی منفرد شخصیت، وسیع حلقۂ احباب اور سیاسی بردباری کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ کھوسہ ہاؤس مسلسل مختلف لیڈران کے آنے میں سردار دوست محمد خان کھوسہ کا بھی اہم کردار رہا۔ ان کی سیاست ذاتی مفادات کے بجائے انسانی تعلقات، رواداری اور خدمت کے اصولوں پر استوار نظر آتی ہے۔ وہ ان سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جو اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بناتے بلکہ سیاسی عمل کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے صرف ان کی جماعت تک محدود نہیں بلکہ مختلف سیاسی مکاتبِ فکر میں بھی موجود ہیں۔

    کھوسہ خاندان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اصل سیاسی قوت صرف وزارتوں اور عہدوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ بعض شخصیات اور خاندان اپنے کردار، عوامی اعتماد اور تاریخی خدمات کی وجہ سے ایک ادارے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ کھوسہ ہاؤس بھی ایسے ہی سیاسی مراکز میں شامل ہے جس کی اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید نمایاں ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

    سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور عوامی خدمت کی روایت آج بھی زندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

    "شخصیات رخصت ہو جاتی ہیں، مگر کردار اور خدمات تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔”

  • کسی کام میں تسلسل قائم رکھنا ہی اصل کامیابی  ـتحریر نور فاطمہ

    کسی کام میں تسلسل قائم رکھنا ہی اصل کامیابی ـتحریر نور فاطمہ

    کامیابی کا راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں اور بڑے جوش کے ساتھ آغاز بھی کرتے ہیں۔ لیکن کچھ ہی دنوں یا ہفتوں بعد وہ جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اور کام ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ چھوٹے قدم روز اٹھاتے ہیں، رکاوٹوں کے باوجود نہیں رکتے، وہی آخر میں منزل تک پہنچتے ہیں۔ اسی کا نام تسلسل ہے۔

    تسلسل کا مطلب ہے کسی ایک کام کو وقفے وقفے سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ کرتے رہنا۔ یہ کوئی بہت بڑا قدم نہیں مانگتا۔ یہ روزانہ کا تھوڑا سا عمل مانگتا ہے۔ ایک مصنف روز ایک صفحہ لکھے تو ایک سال میں 365 صفحے کی کتاب بن جاتی ہے۔ ایک طالبعلم روز 30 منٹ پڑھے تو سال کے آخر میں وہ سب سے آگے ہوتا ہے۔ ایک کاروباری شخص روز ایک نیا گاہک سے بات کرے تو سال بھر میں اس کا نیٹ ورک بہت بڑا بن جاتا ہے۔ بڑی کامیابیاں دراصل چھوٹے تسلسلوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی وہ ذہین ترین نہیں تھے، بلکہ سب سے زیادہ مستقل مزاج تھے۔ تھامس ایڈیسن نے بلب بنانے کے لیے ہزاروں بار ناکامی کے بعد بھی تجربہ کرنا نہیں چھوڑا۔ وہ کہتے تھے "میں ناکام نہیں ہوا، میں نے صرف 10 ہزار طریقے دریافت کیے ہیں جو کام نہیں کرتے۔” یہ تسلسل ہی تھا جس نے انہیں کامیاب بنایا۔ اسی طرح کوئی کھلاڑی ایک دن میں چیمپئن نہیں بنتا۔ وہ روز گر کر اٹھتا ہے، روز پریکٹس کرتا ہے، تب جا کر اس کے ہاتھ میں میڈل آتا ہے۔

    تسلسل کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ عادت بن جاتا ہے۔ جب آپ کوئی کام روز کرتے ہیں تو دماغ اسے معمول سمجھنے لگتا ہے۔ پھر اس کے لیے اضافی محنت یا حوصلے کی ضرورت نہیں رہتی۔ جیسے دانت صاف کرنا، نماز پڑھنا۔ شروع میں مشکل لگتا ہے، پھر یہ خودکار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ 21 سے 66 دن تک کسی کام کو مسلسل کریں تو وہ آپ کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

    لیکن تسلسل قائم رکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ "کامل بننے کا انتظار” ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ جب وقت ملے گا، جب موڈ ہوگا، جب سب بہتر ہوگا تب شروع کریں گے۔ اور یہ "تب” کبھی نہیں آتا۔ کامیاب لوگ کامل حالات کا انتظار نہیں کرتے۔ وہ کم وسائل، کم وقت اور کم موڈ کے ساتھ بھی شروع کر دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ 50 فیصد محنت روزانہ، 100 فیصد محنت کبھی کبھار سے بہتر ہے۔

    یاد رکھیں، دریا بھی ایک ایک قطرے سے بنتا ہے۔ پہاڑ بھی ایک ایک پتھر سے اونچا ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی چاہتے ہیں تو بڑی چھلانگ لگانے کے بجائے روز کا ایک چھوٹا قدم منتخب کریں اور اسے کبھی مت چھوڑیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ٹیلنٹ، موقع اور قسمت سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن ان سب پر بھاری تسلسل ہے۔ کیونکہ تسلسل رکھنے والا شخص ہار ماننا سیکھتا ہی نہیں۔ اور جو ہار ماننا نہیں جانتا، ایک دن دنیا اسے کامیاب مان لیتی ہے۔

  • تبصرہ کتب،سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

    تبصرہ کتب،سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

    خلیفہ اول کے شرف وفضل ، خلافت اور تاریخی کارناموں کا دلنشین اور مستند تذکرہ

    تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    زیر تبصرہ کتاب ’’ سیرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘‘ میں سیرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘‘ کے تابندہ نقوش کو نہایت مدلل، رواں اور دل نشیں انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اسلوب اور تحقیقی اعتبار سے سیرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پر لکھی جانے والی کتب میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز العمری کی یہ کتاب ایک نیا اضافہ ہے ۔ ڈاکٹر عبدالعزیز العمری کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ وہ 1958ء سعودی عرب کے شہر بریدہ میں پیدا ہوئے تاہم ڈاکٹر صاحب کا اصل اور قابل فخر تعارف یہ ہے کہ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مبارک نسل میں سے ہیں اس لیے وہ اپنے نام کے ساتھ ’’ العمری ‘‘ لکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالعزیز عصرِ حاضر کے معروف محقق، سیرت نگار اور اسلامی علوم کے ممتاز اہلِ علم ہیں۔ انہوں نے قرآن، حدیث، تاریخِ اسلام اور سیرتِ نبویﷺ کے میدان میں قابلِ قدر علمی خدمات انجام دی ہیں، جس کی بدولت ان کی تصانیف علمی حلقوں اور عام قارئین میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی قابل قدر تالیف ’’ سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘‘ دارالسلام انٹرنیشنل نے خوبصورت اور جاذب نظر ٹائٹل کے ساتھ شائع کی ہے ۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی ہے جبکہ دارالسلام انٹر نیشنل کے سینئر ریسرچ سکالر حافظ صداقت اکرام نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ کتاب کا ترجمہ رواں اور شستہ ہے ۔ صرف صحیح اور مستند روایات کو ہی بنیاد بنایا ہے ۔ کتاب کا آغاز سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نسب، اخلاق و کردار اور نمایاں اوصاف سے ہوتا ہے، پھر اسلام قبول کرنے کی سعادت، رسول اکرم ﷺ سے بے مثال محبت، دعوت و تبلیغ، ہجرت، غارِ ثور، غزوات میں شرکت، خلافت، فتنۂ ارتداد کے خلاف استقامت، قرآنِ کریم کی جمع و تدوین، عدل و انصاف، حسنِ انتظام اور دیگر تاریخی و ایمانی موضوعات کو تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ فہرستِ مضامین ہی اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ کتاب نے سیرتِ صدیقی کے تقریباً ہر اہم گوشے کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے۔
    اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ کردار سازی کا ایک مؤثر نصاب بھی ہے۔ صداقت، وفاداری، شجاعت، حلم، سخاوت، عبادت، زہد، علم، قیادت، عدل اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل جیسے اوصاف کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عملی زندگی کے آئینے میں پیش کیا گیا ہے۔ یوں قاری محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ اسے اپنی شخصیت سنوارنے اور اپنی عملی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ عبارت میں غیر ضروری پیچیدگی نہیں، اسلوب میں روانی اور اندازِ بیان میں علمی وقار کے ساتھ ادبی لطافت بھی نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب مدارس کے طلبہ، جامعات کے محققین، خطباء ، ائمہ، اساتذہ اور عام قارئین سبھی کے لیے یکساں مفید ہے۔ ہر باب قاری کو اگلے باب کی طرف متوجہ کرتا ہے اور مطالعہ کسی بوجھ کے بجائے ایک خوشگوار علمی سفر بن جاتا ہے۔ آج کے دور میں جبکہ مسلم معاشرہ فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور قیادت کے بحران سے دوچار ہے، ایسی کتابیں محض تاریخی سرمایہ نہیں بلکہ اصلاحِ احوال اور تعمیرِ کردار کا مؤثر ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے جو خلافتِ راشدہ کے پہلے خلیفہ کی عظیم شخصیت کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا چاہتا ہے اور اپنی زندگی میں صداقت، اخلاص، ایثار اور وفاداری جیسی صدیقی صفات کو اپنانے کا خواہاں ہے۔ موجودہ دور میں جب معاشرہ اخلاقی انحطاط، سیاسی انتشار، قیادت کے بحران، بدعنوانی، وعدہ خلافی، مفاد پرستی اور عدل و دیانت کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، اس تناظر میں "سیرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ کتاب صرف عوام ہی نہیں بلکہ حکمرانوں، اربابِ اقتدار، منتظمین، علماء ، اساتذہ اور نوجوان نسل کے لیے بھی ایک عملی رہنما ہے جو ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ریاست کی حقیقی مضبوطی طاقت، دولت یا اقتدار سے نہیں بلکہ صداقت، عدل، امانت، دیانت، مشاورت، جواب دہی اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے قائم ہوتی ہے۔256صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 1400روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شور روم ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج ذیل نمبر 042-37324034پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

  • "پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار”.تحریر:قرۃالعین خالد

    "پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار”.تحریر:قرۃالعین خالد

    پائیدار ترقی کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم ایک ایسا مستقبل بنائیں جو معاشی اور معاشرتی طور پر مضبوط اور دیر پا ہو۔ معاشرے میں خواتین کل آبادی کا پچاس فیصد حصہ ہیں اگر ہم اپنی آدھی آبادی کے ہنر، ان سوچ اور ان کی کاروباری صلاحیتوں کو نظر انداز کر دیں گے تو ہم کبھی بھی اپنی پوری معاشی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتے۔ جب خواتین کو کاروبار کرنے، تعلیم اور فیصلہ سازی میں برابری کے مواقع ملتے ہیں تو اس کا سیدھا سیدھا فائدہ خاندان، معاشرے اور ملکی معیشت کو ہی جاتا ہے۔ جب کوئی خاتون تاجر ہو یا ملازمت پیشہ ہو تو وہ معاشی طور پر خود کفیل ہوتی ہے۔ اس کی یہ ترقی صرف اپنے گھر تک محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ لہذا پائیدار ترقی کے لیے خواتین کا کردار صرف اہم نہیں بلکہ بے حد ضروری ہے۔

    خواتین پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔خواتین گھر کی مینجر ہوتی ہیں۔ گھر کا بجڈ بنانا، کچن کے انتظامات کو دیکھنا، روزمرہ کے مسائل کے انتظامات کی بھاگ دوڑ زیادہ تر انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس لیے وہ روز مرہ زندگی میں بڑی بڑی تبدیلیاں بھی لا سکتی ہیں اگر ہم گھریلو سطح پر دیکھیں تو محدود وسائل میں بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور یہ سب کام خواتین ہی کر سکتی ہیں۔ ہم اکثر خواتین کو فور گرانٹڈ لیتے ہیں جبکہ خواتین اگر کسی کام کا ارادہ کر لیں تو اسے پورا کر کے رہتی ہیں۔ گھر کی مینجر ہونے کی حیثیت سے وہ پانی کی بچت کرنے میں اپنا کردار ادا سکتی ہیں جیسے کچن میں برتن دھوتے وقت، کپڑے دھوتے وقت، صفائی کے دوران پانی کو ضائع ہونے سے بچا سکتی ہیں۔ جیسے سبزی دھوتے وقت وہی پانی بعد میں پودوں میں ڈال کر پانی کے ضیاء کو روکا جا سکتا ہے۔ ایک بہت اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گی خواتین کچرے کا بہترین استعمال کر سکتی ہیں۔ جیسے کہ ویسٹج مٹیریل جو گیلا کچرا ہوتا ہے پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں کی صورت میں ان کو الگ ٹوکری میں رکھیں اور جو سوکھا کچرا ہے جیسے پلاسٹک باٹلز، کاغذ وغیرہ اس کو الگ ٹوکری میں رکھیں۔ پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے پودوں کے لیے بہترین اور قدرتی کھاد کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ خواتین پلاسٹک کا بائیکاٹ کرتے ہوئے خریداری کے لیے پلاسٹک کی تھیلیوں کی جگہ کپڑوں کے تھیلے استعمال کرنا شروع کر دیں تو ماحول بہت بہتر ہو سکتا ہے۔ وہ بجلی کی بچت پر توجہ دے سکتی ہیں۔ دن کے وقت مصنوعی روشنی کی بجائے قدرتی روشنی یعنی سورج کی روشنی پر کام چلایا جا سکتا ہے۔ ضرورت نہ ہونے پر پنکھے، بلب اور استری کو فورا بند کر دیا جائے۔ ایک بہت اہم نقطہ خواتین کے کردار کے حوالے سے کہ جو نئی نسل کی تربیت اور سماجی شعور ایک ماں اپنی اولاد میں پیدا کر سکتی ہے یہ کام کوئی اور اتنے احسن طریقے سے نہیں کر سکتا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے تو مائیں اپنے بچوں میں بچپن سے ہی یہ شعور ڈال سکتی ہیں کہ وہ بجلی اور پانی کو ضائع نہ کریں۔ کوڑا باہر نہ پھینکیں، درختوں سے محبت کرنا پودوں سے محبت کرنا سکھا سکتی ہیں۔ پھر ایک خاتون کا کردار اپنے گھر تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول اور اپنی کمیونٹی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خواتین اپنے محلے سہیلیوں اور فیملی سرکل میں ماحول دوست عادتوں پر بات چیت کر سکتی ہیں۔ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلا سکتی ہیں۔ جیسے ہم محتلف محفلوں میں بیٹھتے ہیں ہم بس ادھر اُدھر کی باتوں میں وقت کو ضائع کرتے ہیں تو اس سے بہتر ہے کہ ہم کسی ایسے موضوع پہ بات کریں جو کہ نفع مند ہو پھر پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار اس حوالے سے بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پائیدار فیشن اور دستکاریوں کے لحاظ سے کپڑوں کی پائیداری کا استعمال کر سکتی ہیں اور فیشن انڈسٹری جو کہ آلودگی پھیلانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اس سے بچا جا سکتا ہے۔ خواتین کپڑوں کو ضائع کرنے کی بجائے اسے ری سائیکل کر سکتی ہیں۔ پرانے کپڑوں سے نئی اشیاء تخلیق کر سکتی ہیں۔ جسے کشن کور، بیڈ شیٹس یا تھیلے وغیرہ بنا کر ان کو جدت دی جا سکتی کے۔ اگر کوئی خاتون اپنا چھوٹا کاروبار یا ہینڈ میڈ کام کرتی ہیں تو وہ کیمیکلز اور پلاسٹک کی بجائے ماحول دوست اور آرگینک مواد استعمال کر کے آلودگی کو کم کر سکتی ہے۔ پائیدار ترقی کے حوالے سے خواتین ایک اور جگہ اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں گھروں میں کچن گارڈن اور شجرکاری کو فروغ دے سکتی ہیں۔ خواتین اپنے گھر کے صحن، بالکنی یا چھت پر چھوٹے پیمانے پر پودے اور سبزیاں اگا سکتی ہیں۔ چھوٹے گملوں میں ٹماٹر، مرچیں، دھنیا وغیرہ، جنہیں ہم کچن گارڈن کہتے ہیں یہ نہ صرف گھر کے ماحول کو خوشگوار بناتا ہے بلکہ ہوا کو صاف رکھنے اور درجہ حرارت کو کم کرنے میں بھی بہت زیادہ مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

    خواتین ہمارے معاشرے کا ایسا حصہ ہیں جو صرف ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا طبقہ نہیں بلکہ وہ اس مسئلے کا سب سے بڑا حال بھی ہیں۔ اگر ہم اپنی خواتین کو ماحولیاتی مسائل کی درست تربیت اور شعور دیں گے تو وہ پورے خاندان اور آنے والی نسلوں کو ماحول دوست بنا دیتی بنا دے گی۔ ان شاءاللہ! ایک خاتون جب اپنے گھر کی اشیاء کو زیرو ویسٹ یعنی کم سے کم کچڑا اور ذیادہ بچت کی طرف لے جاتی ہے تو وہ براہ راست پائیدار ترقی کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں گھریلو خاتون کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی خواتین کو آگہی نہیں دی تو کل بہترین معاشرہ کیسے بنے گا؟ ایک عورت کے علم و شعور سے صرف ایک گھرانہ نہیں بلکہ پورا معاشرہ مستفیض ہوتا ہے۔ پڑھی لکھی باشعور ماں ایک بہترین معاشرہ تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن بخثیت معاشرہ ہم عورت کی صلاحیتوں کو صرف چند لوگوں تک محدود کر دیتے ہیں۔ جبکہ رب العزت نے جب انسان کی صلاحیتوں تخلیق کی تھیں تو اس نے مرد اور عورت کو الگ الگ نہیں رکھا تھا۔ صنفی فرق سے الگ ہو کر سوچیں کہ جس کے پاس جو صلاحیت ہے اس کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے معاشرے کے لیے نفع مند بننا ہے تو ہم اپنی آبادی کے پچاس فیصد حصے کو نہ فراموش کر سکتے ہیں نہ پس پشت ڈال سکتے ہیں۔ لہذا اپنی سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور جیو اور جینے دو کے فارمولے کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔