Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • صدیوں پرانا کھیل کبڈی ،تحریر: عدیل الر حمان الہ آبادی

    صدیوں پرانا کھیل کبڈی ،تحریر: عدیل الر حمان الہ آبادی

    کبڈی صدیوں پرانا کھیل ہے جو جنوبی ایشیاء کے ہر ملک میں کھیلا جاتا ہے ربع صدی پہلے تک پاکستان اور خاص طور پر یہ جنوبی پنجاب میں یہ کھیل مقبول تھااور شہہ زور اپنے فن اور قوت کے اظہار کیلئے اس کھیل کو اولین ترجیح قرار دیتے تھے۔یہ کھیل کھلے میدان میں کھیلا جاتا ہے کبڈی کے میدان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے درمیان میں ایک حد فاصل قائم کی جاتی ہے میدان کا ایک حصہ ایک ٹیم کو جبکہ دوسرا حصہ ڈوسری ٹیم کیلئے مختص کیا جاتا ہے ہر ٹیم کے دو کھلاڑی مد مقا بل ہوتے ہیں جن میں پکڑنے والے کھلاڑی کو جاپھی اور دوسرے کو ساہی کہا جاتا ہے اس کبڈی کے میچ میں صرف دو کھلاڑی مد مقابل ہوتے ہیں۔

    کبڈی واقعی ایک دلچسپ کھیل ہے۔اس کے کھلاڑی کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لیے بھی خود ہی فکر مند رہ کر بچاؤ کا طریقہ سوچنا پڑتاہے۔ یہ کھیل ہر موسم میں کھیلا جاتا ہے۔ گرمی اور برسا ت کے موسم میں شام کے وقت یہ کھیل بہت لطف دیتا ہے۔ جب دوڑتے ہوئے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بدن کولگتی ہے تو طبیعت میں فرحت پیدا ہوتی ہے۔کبڈی کے کھیل کے لیے کسی خاص سازوسامان یا اہتمام کی ضرورنہیں ہوتی۔ دیہاتی بچے اور نوجوان پچھلے پہر کسی کھلے میدان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ کھیل میں حصہ لینے والے برابر کھلاڑیوں کی دو ٹولیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ درمیان میں ایک ایک لکیر کھینچی جاتی ہے اسے ”پالا” کہا جاتا ہے۔ اس لکیر کے دونوں سروں پر اینٹیں یا کچھ نشان رکھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ کھیل شروع ہو جاتا ہے۔دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اس درمیانی لکیر کے دونوں طرف دائرہ بناتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ٹیم کا ایک کھلاڑی لکیر سے اندر آکر کبڈی کبڈی کہتا ہوا مخالف ٹیم کی طرف جاتا ہے اور کوشش کرتاہے کہ کسی کھلاڑی کو چھو کر ایک سانس ہی میں واپس آجائے۔ راستہ میں کہیں دم نہ ٹوٹے۔ اس طرف کے کھلاڑی یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اسے پکڑ لے اور ایک ہی سانس میں اسے واپس جانے نہ دے۔جب سانس ٹو ٹ جاتا ہے تو کھلاڑی ہار جاتا ہے۔ کھیل کی زبان میں کہاجاتا ہے کہ یہ کھلاڑی مر گیا ہے۔ اگر وہ واپس آجائے تو پھر جس کھلاڑی کو اس نے چھوا تھا، مرا ہوا کھلاڑی کہتے ہیں۔ جس ٹیم کے سارے کھلاڑی پہلے مر جائیں وہ ٹیم ہار جاتی ہے۔ مرا ہوا کھلاڑی کھیل میں واپس حصہ نہیں لے سکتا جب تک مخالف ٹیم کا کوئی کھلاڑی مر نہ جائے۔آج کل اس کھیل کے میں کافی اصلاح کردی گئی ہے۔ ا ب اس میں کھلاڑی مرتے نہیں بلکہ ہار جیت کا فیصلہ پوائنٹس کے ذریعے کرتے ہیں۔ جس ٹیم کے پوائنٹس زیادہ ہوتے ہیں وہ ٹیم جیت جاتی ہے۔ اسکے علاوہ کچھ لوگ لمبی کبڈی بھی کھیلتے ہیں۔ اس میں کھلاڑی مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو چھو کر ایک ہی سانس میں واپس آجاتا ہے۔ مخالف ٹیم اسے پکڑنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ اس سے دور بھاگتی ہے تاکہ وہ انہیں چھو نہ لے۔شہری نوجوان کافی مد ت تک اس کھیل کا مذاق اڑاتے رہے۔ اسے گنواروں کا کھیل کہتے رہے لیکن جب تک محکمہ تعلیم نے اس کھیل کواپنایا اور اسکول کے دوسرے کھیلوں کے ساتھ اس کے بھی باقاعدہ مقابلے شروع ہوئے تو شہری نوجوانوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کردیا۔ ا ب یہ کھیل دیہا ت اور شہر میں یکساں دلچسپی سے کھیلا جاتاہے۔کبڈی کا کھیل پرانے زمانے کی لڑائیوں کا سماں پیش کرتا ہے۔ اس دورمیں جنگ لڑنے کا یہی انداز تھا۔ ایک جواں مرد میدان میں اترتا تھا اوراپنے حریف کو للکارتا تھا۔ دس ت بدس ت لڑائی شروع ہو جاتی۔ کبڈی کے کھیل میں جسمانی طاقت کو بہت دخل ہے۔ مضبوط ہاتھ پاؤں، چوڑا چکلا سینا، ورزشی جسم، تیز دوڑنا، سانس روکنے کی مشق اور ہارجیت کا فیصلہ،یہ سب کبڈی کے اچھے کھلاڑیوں کی خصوصیا ت ہیں۔اس کھیل سے مقابلہ کرنے کی مشق ہوتی ہے۔ سینہ اور پھیپھڑوں کو تقویت ملتی ہے۔ پسینہ آنے سے بدن کھل جاتا ہے۔ پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔انہی خصوصیا ت کو مدنظر رکھتے ہوئے کبڈی کا کھیل انسانی جسم کے لیے بہت ہی فائدہ مند ہے۔

    کھیل کے آغاز پر ایک ٹیم کا ساہی حد فاصل سے بھاگتا ہوا دوسری ٹیم کے جاپھی کھلاڑی کی طرف لپکتا ہے جاپھی اسے پکڑتا ہے اگر ساہی جاپھی کی گرفت سے نکل کر واپس حد فاصل کو عبور کر لے تو ساہی ٹیم کو ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے اگر ساہی اپنے آپ کو جاپھی کی گرفت سے نہ چھڑاسکے تو جاپھی ٹیم پوائنٹ حاصل کر لیتی ہے دونوں ٹیموں کے کھلاڑی باری باری ایک دوسرے کے مقابل آتے رہتے ہیں آخری کھلاڑی تک جوٹیم زیادہ نمبر لے وہ کامیاب قرار دی جاتی ہے۔اس بین الاقوامی کھیل کو وہ سہولیات میسر نہیں جو کرکٹ اور ہاکی کے کھلاڑیوں کو حکومت کی طرف سے دی جاتی ہیں حالانکہ یہ کھیل اتنی مقبولیت حاصل کرچکاہے کہ اب اس میں خواتین کی ٹیمیں بھی شامل ہو کر مردوں کے شانہ با شانہ حصہ لے رہی ہیں عوامی شخصیات اور حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث یہ کھیل روبہ انحطاط ہے۔

    جنوبی پنجاب میں ثقافتی میلے جو میں گندم کی فصل کی کٹائ کے بعد منعقد ہوتے ہیں ان میلوں پر بھی کبڈی کے شور سے میدان سجایا جاتا ہے ان میں دنیا بھر کے کبڈی کے پلیئرز حصہ لیتے ہیں انکی بھر پھور حوصلہ افزائ کی جاتی ہے۔
    اس زوال پذیر کھیل کے فروغ اور اس کو زندہ رکھنے کیلئے میلسی کے نواحی گاؤں الہ آباد میں آج سے بیس سال قبل کبڈی میچ کا آغاز ہوا جو تاحال جاری ہے پورے پنجاب میں الہ آباد واحد گاؤں ہے یہاں کبڈی کلب کا قیام عمل میں لایا گیاجس کے تحت ہر جمعہ کو میچ کا انعقاد ہوتا ہے اس کے منتظمین جو اپنے دور کے کبڈی کے مشہور کھلاڑی تھے ان میں حافظ عبدالرحمن،ماسٹر حفیظ احمد،سابق کونسلر غلام شبیر اور ملک محمد صادق ٹھوٹھہ شامل ہیں جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس سلسے کو جاری رکھا ہوا ہے کلب کے منتظمین کھلاڑیوں کے انعامات اور دیگر اخراجات اپنی جیب سے پورا کرتے ہیں ان مقابلوں میں بین الاضلاعی کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔کبڈی گراؤنڈ نہر فدہ اور کرم پور وہاڑی روڈ کے درمیان واقع ہے نہر کا کنارہ اسٹیڈیم کا کام دیتا ہے ہر جمعہ کو قرب و جوار اور دور دراز کے شائقین جمع ہوتے ہیں اور میلے کا سماں ہوتا ہے قابل افسوس بات یہ ہے کہ یہ تفریحی پروگرام صرف دیہی سطح پر محدود ہے اگر حکومتی ادارے اور محکمہ سپورٹس اسکی سر پرستی کرے تو اچھی کار کردگی کے حامل کھلاڑی ملکی سطح پر اپنا نام پیدا کر سکتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ ہمارے دیہاتی کھلاڑی بہتر آب و ہوا میں پروان چڑھنے کے باعث زیادہ تنومند اور طاقت ور ہوتے ہیں اگر انکی صحیح خطوط پر تربیت ہو تو وہ کھیل کے میدان میں بہت آگے جا سکتے ہیں۔

  • 24واں تھیٹر فیسٹیول ٗ الحمراء کا عظیم کارنامہ ثابت ہوا!: تحریر:صبح صادق

    24واں تھیٹر فیسٹیول ٗ الحمراء کا عظیم کارنامہ ثابت ہوا!: تحریر:صبح صادق

    الحمراء کے 24واں سات روز تھیٹر فیسٹیول ٗڈرامہ کی روایت کو تقویت ملی ہے۔
    تھیٹر فیسٹیول ٗوزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کلچر دوست پالیسیوں کا عکا س تھا۔ سربراہ الحمراء
    محکمہ اطلاعات وثقافت کی مکمل سرپرستی میں اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو ٗ سیکرٹری اطلاعات راجہ جہانگیر انور کی خصوصی توجہ حوصلہ کا باعث ہے۔ذوالفقار علی زلفی
    الحمراء ہی وہ جگہ ہے جہاں تھیٹر کی روایت کو تقویت مل سکتی ہے۔عالمی شہرہ آفاق آرٹسٹ قوی خان
    الحمراء کے بھاگ دوڑ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو خود ایک آرٹسٹ ہے۔قوی خان
    پاکستان میں آرٹ کا روح رواں الحمراء ہے۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی
    24ویں سات روزالحمراء تھیٹر فیسٹیول کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ذوالفقار علی زلفی
    دنیا بھر میں الحمراء،اس کے پروگرامز کو چاہنے اور پسند کرنے والوں،اپنی ٹیم اور دیگر سٹیک ہولڈر کا مشکور ہوں۔
    فیسٹیول میں ٗجنون،داستان حضرت انسان، میڈاعشق وی تو، ہور دا ہور،سانوری،لپڑا۔مریا ہوا کتا،دیوانہ بکار خیش ہشیار پیش کئے گئے،درجنو ں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکاری دیکھنے کو ملی۔
    فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔

    الحمراء ایک آرٹ لونگ کمپلیکس ہے۔آپ جب بھی الحمراء آئیں جہاں آپ کو عوام اور آرٹ ”گیٹ ٹو گیڈر “(GETTOGETHER)نظر آئیں گے۔نئے سال کی آمد پر یہاں ادبی وثقافتی سرگرمیاں روز پڑگئیں۔فروری کا مہینہ تھیٹر کی روایت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوا۔جب لاہور آرٹس کونسل نے 24واں سات روز الحمراء تھیٹر فیسٹیول سجایا۔اس فیسٹیول کو ہزاروں کی تعدا د میں لوگوں نے دیکھا بلکہ الحمراء کی سوشل میڈیا حکمت عملی کے باعث تو یہ تعدار لاکھوں میں پہنچ گئی۔پاکستان بھر کے میڈیا نے اس فیسٹیول کو کامیاب بنانے کے لئے الحمراء کا بھرپور ساتھ نبھایا۔شام 6بجتے ہی لوگ الحمراء ہال نمبر دو کے باہر اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے۔کوویڈ نے انسانی معاشرہ کو تھوڈا زیادہ ہی DISCIPLINED بنا دیا ہے۔داخلی دروازے پر لوگ قطار در قطار کھڑے اپنا کوویڈ ویکیسی نیشن کارڈ دیکھاتے،اور ایک سیٹ چھوڑ کر اپنی اپنی جگہوں پر اطمینا ن سے بیٹھ جاتے۔
    الحمراء کے اس فیسٹیول سے تھیٹر کی روایت پھر توانائی پکڑ گئی ہے، اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ اس فیسٹیول کو سجانے کے پس پردہ محنت اور لگن کاایک طویل عمل پنہاں ہے۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقارعلی زلفی نے اپنا تجرنہ بھرپور انداز میں استعمال کیا۔اسے تھیٹر گروپس کو اس فیسٹیول میں شامل کیا گیا جن کے پاس بامعنی کہانیاں اور با صلاحیت ادارکار تھے۔اس فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں دُنیا کے نامور اداکار قوی خان مہمان خصوصی تھے۔انھوں نے اپنے خیالات کو اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الحمراء ہی وہ جگہ ہے جہاں تھیٹر کی روایت کو تقویت مل سکتی ہے، انھوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ الحمراء کے بھاگ دوڑ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو خود ایک آرٹسٹ ہے۔قوی خان کے یہ جملے الحمراء انتظامیہ کے لئے حوصلہ کا باعث ہیں۔ الحمراء کے تمام پروگرامز کوحکومت پنجاب کا مکمل تعاو ن حاصل ہوتا ہے،وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ثقافت دوست پالیسوں کی بدولت صوبہ پنجاب کی اقدار کو احسن انداز میں اجاگر کیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو،سیکرٹری اطلاعات وثقافت راجہ جہانگیر انور کی خصوصی دل چسپی الحمراء کی انتظامیہ کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔وگ الحمراء آنا کیوں پسند کرتے ہیں۔جس جگہ پر انسان کو عزت دی جائے انسان وہی پر ہی تو جانا پسند کرتا ہے۔ سو الحمراء لوگوں کو بہت عزت دیتا ہے، انھیں اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے،یہاں ان کے ساتھ عزت و احترام پیش آیا جاتا ہے۔یہی وجہ رہی کے فیسٹیول کے ساتوں روز الحمراء کا ہال نمبر دو لوگوں سے بھرا رہا۔گزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی تو اپنی ہر گفتگو میں برملا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ الحمراء آپ سب کا ہے،جس کسی کے پاس بھی ٹیلنٹ ہے وہ آئے اور اس عظیم پلیٹ فارم کا حصہ بنے۔بلاشبہ مواقعے فراہم کرنے میں الحمراء کا کردار قابل تقلیدہے۔مستنداور معتبر آرٹسٹ کا اپنی نظر سے آرٹسٹوں کا کام دیکھانا اور اسے پسند کرنا حقیقت میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔الحمراء کے 24ویں سات روز تھیٹر فیسٹیول کو پاکستان کے آرٹسٹوں نے خود آکر دیکھا اور الحمراء کے پلیٹ فارم کی تعریف کی۔

    فیسٹیول کے پہلے روز عکس تھیٹر نے اپنا ڈرامہ جنون پیش کیا،ڈرامہ افضال نبی نے تحریر کیا جس میں کوویڈ کا شکار بیوی سے شوہر کی لازوال محبت کو شائقین فن کے سامنے پیش کیا گیا۔ڈرامہ میں افضال نبی،سفیرہ راجپوت،ظہیر تاج،محمد اعظم،ندا منیر،کرن منیز،رائے علی،رضا اور محمد نظام نے اپنا کردار نبھایا۔ڈرامہ کی حاض بات افضال نبی کا شوہر کا رول تھا جس میں انھوں نے اپنی اداکاری سے ہال میں بیٹھے سینکڑوں حاضرین کو اپنے سحر میں باندھے رکھا۔فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔فیسٹیول کے دوسرے روز غیور تھیٹر نے اپنا ڈرامہ ”داستان حضرت انسان“ پیش کیا۔ڈرامے کے نہایت شاندار تھے،ڈرامہ میں اپنی احسن روایات سے دور ہوتے انسان کو دیکھایا گیا،لالچ،فریب،جھوٹی شان و شوکت کے لئے تگ ودو کرنے کی دوڑ میں انسان کو اپنے رنگ روپ چھوڑ کر انسانیت سے گرتے دیکھایا گیا۔جودیکھنے والوں کے لئے سبق آموز بھی تھی اور توجہ طلب تھی۔ ڈرامہ ہلکے پھلکے کامیڈی کے انداز میں سماجی رویوں کا عکاس تھا، اداکاروں کے زبردست اداکاری متاثر کن تھی۔ڈرامہ کو عارف متین نے تحریر کیا جبکہ حمزہ غیور اختر کی ہدایات تھیں۔نوجوان آرٹسٹوں مرزا عمیراور حمزہ غیور ڈرامہ کے اداکار تھے۔ذوالفقارعلی زلفی نے اپنے پیغام میں کہاکہ فیسٹیو ل دیکھنے والے معاشرتی بہتری میں اپنا فعال کردار ادا کریں،تھیٹر کی روایت الحمراء کی کاوشوں کی بدولت زندہ ہے،فیسٹیول دیکھنے والوں کو تادیر یاد رہے گا۔اس فیسٹیول کے بعد الحمراء نے یہ بات ثابت کی دی ہے کہ ہمارے ہاں اچھا ڈرامہ آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا، اچھی کہانی لکھنے والے بھی موجو د ہیں اور اس کہانی پر پرفارم کرنے کا ہنر جاننے والے بھی۔لاہور آرٹس کونسل الحمراء نہ صرف ڈرامہ بلکہ فنون لطیفہ کی تمام اصنا ف میں پینری فراہم کرنے والا ادارہ بن چکا ہے۔آج ہمیں جو ہر سو فن و ثقافت کے شعبے میں ترو تازگی نظر آتی ہے اس میں کسی نہ کسی صورت الحمراء کا رول ضرور ہے۔ الحمراء تھیٹر فیسٹیول کے تیسرے روز سلامت پروڈکشن کا پنجابی ڈرامہ ”ہور دا ہور“ پیش کیا گیا۔یہ ڈرامہ سعادت حسن منٹو کے ریڈیائی ڈرامہ ”تلون“ سے ماخوذ تھا۔جسے تنویر حسن نے تحریر کیا۔ڈرامہ کی کہانی تین رومانیوں کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔دیکھنے والا ڈرامہ کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا یہی ڈرامہ کا اصل ہوتا ہے۔مزیدکہا جائے تو یہ ڈرامہ عشق کی راہ و رسم اور اس راہ میں دی جانے والی قربانیوں سے عبارت تھا،کہانی دل چسپ مراحل سے گزرتی ہوئی اختتام پذیر ہوتی ہے۔ڈرامہ دیکھنے والے ہر داد ٗ دینے والے سین پر بڑھ چڑ ھ کر داد دیتے رہے۔کہانی میں انسانی جذبات نمایاں تھے۔نامور آرٹسٹوں ذیشان حیدر،عثمان چوہدری،شیزاخان نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

    ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کی تھیٹر فیسٹیول میں توجہ بڑھ رہی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ تھیٹر فیسٹیول کے تمام ڈرامے کہانی میں معتبر،زبان وبیاں میں معیاری اور عمدہ اسلوب کے حامل تھے۔فیسٹیول دیکھنے والے شائقین بہت باذوق تھے جب بھی کسی بھی ڈرامہ کا کلائمکس آتا،شائقین اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوکر داد دیتے رہے جس سے اداکاروں کو حوصلہ ملتا۔یہ فیسٹیول زبان و ادب کی خدمات میں بھی اہم پیش رفت تھا،آج کی نوجوان نسل کو اپنی زبان سے قربت پیدا کا ذریعہ بھی۔ فیسٹیول کے چوتھے روز کریٹو پروڈکشن نے عظیم صوفی شاعر خواجہ فرید کی کافی ”میڈا عشق وی تو“ پرمبنی اپنا ڈرامہ پیش کیا۔ڈرامہ رفقہ کاشف نے تحریر کیا تھا۔جبکہ زوہیب حیدر نے ڈائریکٹر کیا۔شاندار کہانی اور اداکاری کے سبب ڈرامہ دیکھنے والوں کو مدتوں یاد رہے گا۔نامور آرٹسٹوں اقرا پریت،عثمان ریحان،عمر قریشی،انیق احمد،بلال احمد، اویس، ڈاکٹر تبسم،علی حید ر،عمران ارمانی،عابد علی نے ڈرامہ کے کردار تھے۔

    ہر ڈرامہ تھیٹر فیسٹیول کے وقار میں اضافہ کا باعث تھا۔اس حوالے سے تمام تھیٹر گروپس بلاشبہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔الحمراء آرٹس کونسل ڈرامہ دیکھنے والوں کو ایسا موقع باربار فراہم کرتا رہے گا۔الحمرا کے پروگرامز کی کامیابی یہاں کی تجربہ کار ٹیم کے سر جاتی ہے۔فیسٹیول کے پانچویں روز نورتن کا ڈرامہ سانور ی پیش کیا گیا۔ٹھنڈے پانیوں کے دیس کے سب ٹائٹل کے ساتھ ڈرامہ سانوری کے لکھاری اور ڈائریکٹر شاہد پاشا تھے۔نامور آرٹسٹوں سہیل طارق،سمیرا سہیل،فرح فاروقی،جاوید حسین،منصور بھٹی،شاہ رلعلی،ارسلان لوہار،راؤ محسن کریم،عدیل جاوید،ماروی،عمران ساحل اور نشا ملک ڈرامے کے اہم کردار تھے۔کہانی میں چولستان کے لوگوں کو مختلف مسائل کا دلیری سے مقابلہ کرتے دیکھایا گیا ہے۔فیسٹیول کے چھٹے روز اجوکاء تھیٹر نے اپنا ڈرامہ لپڑا۔مریا ہوا کتا پیش کیا۔جبکہ فیسٹیول کے آخری روز آزادتھیٹر نے اپنا ڈرامہ دیوانہ بکار خیش ہشیار پیش کیا۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی اختتامی تقریر میں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکار کو سراہا اور کہا کہ ہمارا نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہے،الحمرا ء انکے ٹیلنٹ کو جلا بخش رہا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ تھیٹر کی روایت کو تقویت دینا ہماری ذمہ داری تھی جو پوری کی،پورے تھیٹر فیسٹیول میں سماجی مسائل اور انکے معاشرتی حل کو موضو ع بنایا گیا جو خدمت کے درجے میں آتا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ میں دنیا بھر میں الحمراء،اس کے پروگرامز کو چاہنے اور پسند کرنے والوں،اپنی ٹیم اور دیگر سٹیک ہولڈر کا مشکور ہوں۔فیسٹیول کو الحمراء سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کے لاکھوں لوگوں نے دیکھا اور پسند کیا۔یہ الحمراء انتظامیہ کا اثاثہ ہے۔الحمراء جلد تازہ جذبوں کے ساتھ مزید پروگرام پیش کرئے گا۔

  • پاکستان ریلوے کے پنشنرز اور مشکلات ،تحریر: محمد انور بھٹی

    پاکستان ریلوے کے پنشنرز اور مشکلات ،تحریر: محمد انور بھٹی

    پیارے ملک پاکستان میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریٹائرڈ ملازمین پنشنرز کیلئے اس آسما ن کو چھوتی مہنگائی کے دور میں حکومت وقت کی طرف سے کچھ آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ وہ اپنی زندگی اور بڑھاپے کے یہ ایام جو کہ آرام اور سکون کے ساتھ گزارنے کیلئے ہوتے ہیں کو آسان اور سہل طریقے سے گزار سکیں ۔
    پینشن حاصل کرنے والے ملازمین اپنی زندگی کے قیمتی سال مُلک اور قوم کی خدمت میں صرف کردیتے ہیں۔ خواں وہ کسی شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں ۔ وہ بڑی محنت ۔ لگن اور جانفشانی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ جب وہ اپنی جوانی اپنے محکموں پر قربان کرکےبڑھاپے کی دہلیز کو چھوتے ہیں تو ریٹائرڈ ہوتے ہیں ۔

    اس دورانِ باقی کئی اقسام کے مسائل کے ساتھ ساتھ بڑے مالی مشکلات کا سامنا درپیش ہوتا ہے۔ایک طرف اولاد جوانی میں قدم رکھ چکی ہوتی ۔جہاں بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے ہوتے ہیں اور بیٹوں کے سر پر سہرے سجانے کے ساتھ ساتھ سر پر چھت نہ ہونے کے سبب خاندان کیلئے رہائش جیسے مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے ۔جبکہ ریٹائر منٹ کے بعد تنخواہ بھی آدھی رہ جاتی ہے اخراجات کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے چلےجاتے ہیں آج مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ جس کے سبب یوں تو ملک کے تمام پنشنرز سخت مالی مشکلات کا شکار ہیں ۔

    مگر میں یہاں پر سرِدست پاکستان ریلوے کے پنشنرز بیواؤں اور ان کے یتیم بچوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ کیوں کہ حکومت وقت کی طرف سے محکمہ ریلوے کے پنشنرز بیواؤں اور یتیم بچوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا سلوک اور برتاؤ رواں رکھا جارہاہے۔بلکہ ان ریٹائرڈ ملازمین کے حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اس معاملے میں حکمران طبقہ کی بے حسی اپنی آخری حدود کراس کر چکی ہے۔پاکستان ریلوے کے ملازمین اپنی سروس مکمل کرکے ریٹائرڈ ہوکر دو دو سال سے اپنے گھروں کو جاچکے ہیں ۔ مگر فنڈ کی کمی کا بہانہ بناکر تا حال اُنکو اُنکی گریجویٹی اور باقی مراعات سے محروم رکھا جارہا ہے جو کہ اُن کا بنیادی حق ہے۔اسی طرح سروس کے دوران یا بعد از ریٹائرمنٹ جو ملازم وفات پاچکے ہیں ۔ ظلم کی یہ حد ہے کہ اُن کی بیواؤں اور یتیم بچوں کو بھی اُ ن ملنے والی ہر سہولت سے محروم رکھا جارہا ہے۔اُ ن کے تمام کیسسز دفتروں کی نظر ہوئے پڑے ہیں ۔ اُن بیواؤں اور اُ ن کے یتیم بچوں کی داد اور فریاد سننے والاکوئی نہیں ہے ۔ آخر وہ جائیں تو کہاں جائیں ،

    اسی طرح پچھلے دوسال سے بیواؤں کو ملنے والا بہبود فنڈ ، میرج گرانڈ فنڈ،فیئر ویل گرانٹ اور باقی تمام دوسرے فنڈ تعطل کا شکار ہیں ۔پاکستان ریلوے سے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین ، بیوائیں اور ان کے یتیم بچے بے سرو سامانی اور کمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ جبکہ ان کی داد رسی کرنے والے اور فریاد سننے والے بے حسی کی چادر لپیٹ کر سوئے ہوئے ہیں ۔ اور سب اچھا ہے کے راگ الانپ رہے ہیں۔

    پنشن اتنی قلیل ہے کہ وہ بمشکل دس پندرہ روز سے زیادہ کا ساتھ نہیں دیتی ہے دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اس منہ زور مہنگائی کے آگے گورنمنٹ کے وہ ملازمین جو کہ سولہ اور سترہ اسکیل سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں وہ بھی پہلی تاریخ تک نہ جانے کتنی بار اُنگلیوں پر دن گنتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔تو پھر اندازہ کیجئےگا جن بوڑھے ضعیفوں اور بیواؤں کو پنشن بارہ سے پندرہ ہزار ملتی ہوگی تو ذرا سوچئے نہ جانے ان کے گھروں کے چولہے کیسے جلتے ہونگے ۔ وہ کس قدر اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے ۔ اُن کے بچوں کی زندگی کیسی ہوگی۔ کیا اُن کو کھانے کے لیے گوشت،مرغی یاپھر چائے، انڈا اوراور پراٹھا میسر آتا ہوگا۔ تو پھر بتائیے گا جب اِن غریبوں کے بچونکومتوازن غذا اور آسودہ ماحول میسر نا آپائے گا تو اُن کی جوانی کیسے پروان چڑھے گی ۔اِنکی جسمانی اور دماغی کیفیت کیسی ہوگی۔ تو وہ بچے کس طرح سے ملک وقوم کے معمار بن پائیں گے۔

    یہ تمام صورت احوال حالات وواقعات تو اپنی جگہ پر موجود تھے ۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ پچھلے چند ماہ سے ریلوے کے ریٹائرڈ پنشنرز کو ایک اور گھمبیر مشکل کا سامنہ درپیش ہے کہ اب ریلوے پنشنرز کو اُن کی ماہانہ ملنے والی پنشن بھی بروقت ادا نہیں کی جارہی ہے۔ اور یہ معاملہ صرف اور صرف ریلوے کے پنشنرز کو درپیش ہے۔ جوکہ سب اچھا ہے کا راگ الانپنے والوں کے چہرے پر زور دار طمانچہ ہے۔

    آخر یہ کس کی ذمہ داری ہے کس کے فرائض منسبی میں شامل ہے کیا اس کے ذمہ دار ی موجودہ حکمرانوں پر نہیں ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا حل تلاش کریں ۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مہنگائی کے تناسب سے انکی پنشن میں خاطر خواں اضافہ کیا جاتا ان ضعیفوں اور لاچار بزرگوں کی صحت اور علاج ومعالجہ کی مد میں کوئی خاطر خوان اقدامات اُٹھائے جاتے۔ نا کہ ان کو عمر کے اس حصے میں دھکے کھانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اس کو ریل کے پنشنرز کے ساتھ ظلم اور ناانصافی اور سوتیلی ماں والا برتاؤ نا کہا جائے تو پھر اس کو کیا نام دیا جائے۔بجائے اس کے کہ اُن کو اُنکی پنشن ٹائم پر ادا کی جائے اس کہ جگہ نت نئے بہانے بناکر اُن کی روز مرہ زندگی کو عذاب بنایا جارہا ہے ۔

    میری ارباب اختیار سے جوکہ ان کے مسائل اور مصائب سے آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ جنہوں نے اِن ضعیفوں ،لاچار ،بیواؤں اور یتیموں کی مشکلات پریشانیوں سے نظریں چرا کر بیٹھے ہوئے ہیں ان سے اپیل ہے کہ خدارا اپنی آنکھیں کھولئیے ان کی مشکلات اور پریشانیوں سے قطعہ نظر نہ فرمائیں ۔ یہ بہت مظلوم اور لاچار ہیں ۔
    لہذا ان کے درد اور دکھ کا احساس کریں اِ ن ریلوے ملازمین ، بیواؤں اور یتیموں کے تمام واجب الادا بقایا واجبات عزت اور وقار کے ساتھ بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اِ نکو ملنے والی پیشن کو بھی مقررہ تاریخ پر ادائیگی کے لئیے یقینی بنایا جائے۔تاکہ وہ اس کمپرسی اور مایوس کن زندگی سے باہر آسکیں ۔

    اور یاد رکھنا ان ان کے ساتھ یہی رویے رواں رکھے جاتے رہےتو جو مجھے نظر آرہا مجھے ایک ہی صورت حال بنتی دکھائی دے رہی ہے کہ وہ مایوس اور بد دل ہوکر احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے ۔ اور ایسے میں جب یہ ضعیف العمر بوڑھے ،بیوائیں اور یتیم بچے اپنے جائز حقوق کے حصول کی خاطر جب ریلوے اسٹیشنوں اور ریلوے ٹریک پر دھرنا دے کر بیٹھ جانے پر مجبور ہوجائیں گے تو پھر ناتو ارباب اختیار کے پاس اور نا ہی حکومت وقت کے پاس ایسی طاقت اور قوت ہوگی جو کہ انہیں وہاں سے اُٹھا پائے گی۔کیونکہ یہ پھر روزانہ گھٹ گھٹ کر مرجانے کی بجائے ایک ہی بار مرجانے کو ترجیح دیں گے۔اس سے پہلے کہ حالات اس نہج پر پہنچ جائیں ۔ حکومت وقت اور ارباب اختیار کو پہلی فرصت میں اس طرف اپنی توجہ مبذول کر لینی چاہئے ابھی بھی وقت ہے ایسا نا ہوکہ وقت گزر جائے ۔ حالات بگڑ جائیں ۔ پھر ناتو بانس رہے گا اور ناہی بانسری اور ناہی کوئی سب ٹھیک ہے کی بانسری بجانے والا بچے گا۔
    لفظوں کو بیچتا ہوں پیالے خرید لو
    شب کا سفر ہے کچھ تو اُجالے خرید لو
    مجھ سے نہ امیرِ شہر کا ہوگا احترام
    میری زباں کے لئے تالے خرید لو

  • "فاروق اعظم کی کتاب کشمیر”ازقلم:-محمد عبداللہ گِل

    "فاروق اعظم کی کتاب کشمیر”ازقلم:-محمد عبداللہ گِل

    تحریک آزادی کشمیر قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے اعلان جہاد کے بعد اب تک جاری ھے۔تقریبا 73 سالوں سے جاری اس تحریک کے متعلق نوجوان نسل کو حقائق کا علم نہیں ھے زیادہ سے زیادہ اگر کسی کو بہت ہی شوق ھے تو اسے کسی ایک جماعت کے کردار کے متعلق علم ہو گا۔لیکن تحریک آزادی کشمیر میں مختلف سیاسی اور مذہبی حلقوں کا کردار ھے۔اس کے علاوہ کشمیر کی جغرافياui اہمیت کیا ھے اور بھارت نے اس وادی پر قبضہ کیوں کیا ھے اس کے متعلق علم کسی کو نہیں ھے۔اور تو اور اس پب جی دور کی نسل کو یہ بھی نہیں پتہ ہو گا کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں پاکستان کیا کردار ادا کر رہا ھے۔اور پاکستان میں جلسے جلوس کشمیر کے لیے کیوں ھے۔اس کے بارے ہماری نوجوان نسل کو ذرہ برابر علم نہیں ھے اور نہ ہی حکومت پاکستان نے کبھی اس کے متعلق سوچا ھے۔اگر ایسے ہی چلتا رہا تو ایک وقت آئے گا کہ کشمیر بھی کفار لے جائے گے آہستہ آہستہ وہ اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیاب ہو جائے گے اور ہمارا نوجوان،اقبال کا شاہین پب جی اور فحاشی کے اڈوں میں ہی گھرا رہے گا۔اس حوالے سے چونکہ ڈاکومنٹری بنانے کی ضرورت ہےہمارے پاکستان میں کشمیر و فلسطین کے حوالے سے ادبی کام کی ضرورت ھے۔تحریک کشمیر کے حوالے سے فاروق اعظم بھائی نے کتاب کو شائع کروایا۔اس ہفتہ میں ان کی کتاب "کشمیر” کا مطالعہ کیا انھوں نے کشمیر کی جغرافیائی،تاریخی،سیاسی معلومات کو عام فہم زبان میں کتابی شکل دی ھے۔

    فاروق اعظم بھائی کی کتاب "کشمیر” کمال کا شاہکار ہے۔انھوں نے اعلئ انداز سے تحریک آزادی کشمیر اور اس کی تاریخ کو تفصیل سے بیان کیا۔آج کا المیہ یہ ھے کہ نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر کا پتہ ہی نہیں ھے۔اس لیے کالجز کے طلباء کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ کشمیر کی تاریخ اور تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے لازوال قربانیاں دینے والوں کو پہچان سکے۔فاروق اعظم بھائی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے سادہ الفاظ میں کشمیر کی تاریخ کو عام فہم بنا کر کتابی شکل دے دی ھے۔میرے خیال سے آج کا جو اہم مسلہ ھے کہ ہر سیاسی اور حکومتی جماعت کشمیر کی تحریک میں اپنے کردار کو پیش کرتی ھے کہ ہم نے کشمیر کے لیے یہ کیا وہ کام کیا۔اس مسئلے کو بھی فاروق اعظم بھائی نے اپنی کتاب میں حل کر دیا ھے انھوں نے باقاعدہ سرخیوں کی شکل میں ہر سیاسی جماعت ،ہر مذہبی جماعت کا تحریک کشمیر میں کردار کو واضح کر دیا ھے۔اس کے علاوہ وہاں کی عسکری جدوجہد کو بھی اپنی کتاب میں قلمبند کیا ھے۔اس کے علاوہ ان عسکری جماعتوں کے قائدین کا بھی مختصر تعارف تحریر کیا ھے۔اس کے علاوہ 1993 میں قائم کردہ آل پارٹیز حریت کانفرنس اور اس کے مختلف دھڑوں کے متعلق بھی لکھا ھے جس کا مجھے علم نہیں تھا اس کتاب کے مطالعے سے پہلے۔مصنف نے اپنی کتاب میں حوالہ جات کو بنیاد بنایا ھے جس میں مختلف کشمیری مصنفین،بین الاقوامی مصنفین کی کتب کے حوالہ جات لکھے ہیں۔اس کتاب کے مطالعہ کے بعد میں اس مقام پر پہنچا ہوں کہ اس کتاب کو کشمیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایکٹوسٹس کو پڑھنا چاہئے تاکہ وہ بحث و مباحثہ میں حوالہ جات دے سکے۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ایسے نوجوان مصنفین کی پشت پناہی کرے تاکہ ان کا حوصلہ بلند ہو اور یہ ملک و ملت کی قلم کے ذریعے خدمت کر سکے۔اس وقت کشمیر کے حوالے سے پاکستان میں مخلتف ڈاکومنٹری کو بناتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ ان لوگوں کو آگے لایا جائے جن کی یہ ڈومین ھے۔اب کشمیر کے حوالے سے ڈاکومنٹری بناتے ہوئے اگر ساحر علی بگا اور آئمہ بیگ کو بلایا جائے جو کہ پوپ سنگر ہیں انھوں نے خاک راہنمائی کرنی ھے

  • سب کی جستجو آگے بڑھنا ؟ تحریر:عبد الوحید

    سب کی جستجو آگے بڑھنا ؟ تحریر:عبد الوحید

    ہر کوئی زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہتا ہے چاہے وہ کھیل کا میدان ہو ، کاروبار کا میدان ہو ، تعلیم کا میدان ہو یا چاہے کوئی بھی میدان ہو ہر ایک آگے بڑھنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ۔ سب اپنی زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں ۔ تاہم ایک طالب علم کے کامیاب ہونے کا مطلب بہتر گریڈ اور مجموعی ترقی حاصل کرنا ہے۔ کامیاب مطالعاتی حکمت عملی پر موثر طریقے سے عمل کرتے ہیں اپنی آخری تاریخ کا بہتر انتظام کرتے ہیں اور اپنی عادات کو اس طرح بہتر بناتے ہیں جس سے انہیں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔ اگرچہ تمام طلبا کا سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے لیکن کچھ ثابت شدہ طریقے زیادہ کامیاب ہونے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    کامیابی زندگی میں ٹھوکر کھانے کے مناسب حصے کے بعد آتی ہے۔ کلید یہ ہے کہ مایوس نہ ہوں اور صیح وقت پر ضروری تبدیلیاں کریں۔ اس وقت تک ایک طالب علم تعلیمی فضیلت کے حصول کے لیے پرعزم ہے؛ وہ کامیاب ہونے کا پابند ہے۔اگر آپ زندگی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تواچھی طرح سے خود ڈھالنا چاہیے۔ آپ کو جو کچھ کرنا ہے اور کب کرنا ہے اس کا منصوبہ بنائیں۔ اس سے آپ تمام حالات سے صیح معنوں میں آگاہ رہ سکیں گے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کاغذ پر منصوبہ بناتے ہیں یا اپنے کمپیوٹر پر۔ زیادہ اہم بات اس پر عمل کرنا ہے۔ آخری تاریخ، امتحانات، ذاتی اور کام سے متعلق واقعات کے ساتھ اس منصوبہ ساز میں تمام اہم معلومات شامل کریں۔آپ اپنی زندگی کو جتنا ہموار کریں گے، اتنا ہی آپ چیزوں کو موثر طریقے سے سنبھالنے کے بارے میں وضاحت حاصل کر سکیں گے۔ طلباء کے لئے سخت تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اوسط گریڈ حاصل کرنا عام بات ہے۔ جبکہ کچھ دوسرے لوگ جو کم وقت کی سرمایہ کاری کرتے ہیں انہیں بہت بہتر نتائج ملتے ہیں۔ ایک کامیاب طالب علم بننے کی کلید ہوشیار تعلیم حاصل کرنا ہے نہ کہ مشکل۔اس حقیقت سے قطع نظر کہ یہ ایک مکمل اکائی ہے، صرف ایک باب ہے یا صرف ایک موضوع ہے، اسے بار بار گھسیٹنے کے بجائے اسے سمجھنے پر توجہ مرکوز کریں۔ اس سے چیزوں کو بہتر طریقے سے واضح کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ، باقاعدگی سے مطالعہ کرنے کا نقطہ بنائیں اور کبھی کبھار نہیں۔ آپ کو مطالعاتی مواد کا جائزہ لینے اور اسے صیح طور پر نافذ کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ اگر آپ کسی تکنیکی موضوع سے نمٹ رہے ہیں تو کچھ سوالات کی مشق کریں اور ہوشیار کا مطالعہ کریں۔کسی نہ کسی طریقے سے کسی بھی قسم کی خلل ہمیشہ آپ کی زندگی میں ظاہر ہوگا۔ آپ کو اپنی تعلیم پر گہری توجہ مرکوز کرنے کا ایک نقطہ بنانا چاہئے تاکہ سیکھنا بہت زیادہ موثر ہو۔کسی بھی ایسی چیز سے چھٹکارا حاصل کریں جو آپ کی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھیں۔ ایک مقصد کے ساتھ اتنا مضبوط کام کریں کہ آپ کا عزم متاثر نہ ہو جو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
    آپ کی ذہنیت آپ کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلیاں لائے گی اور آپ کو دوسرے طلباء کے مقابلے میں نمایاں کرے گی۔ ایک اور انتہائی اہم بات پر یقین کرنا ہے۔آپ کو اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہونا چاہئے اور اپنے آپ کا بہترین ورژن بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایک بار جب آپ اس ذہنیت میں آجائیں گے تو آپ کو بہت جلد تیز رفتار ترقی کا تجربہ ہوگا ہم سب میں الگ الگ صلاحیتیں ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کا دوسروں سے موازنہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ ہم سب مختلف انداز میں تخلیق کیے گئے ہیں۔

    کامیاب طلباء اپنی صلاحیتوں کا موثر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ دوسروں کو نقل نہ کرنے کا نقطہ بنائیں۔ اپنا راستہ بنائیں اور اس پر چلنے کے لئے کافی پراعتماد رہیں۔

  • "خاک میں مل گئے نگینے لوگ "تحریر : تابش عباسی

    "خاک میں مل گئے نگینے لوگ "تحریر : تابش عباسی

    بابا اشفاق احمد کہا کرتے تھے کہ ” پتر سب نے ہی مر جانا ، اگر ژندہ رہنا تو اس نے جو لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا” -یوں تو میں دنیا میں ہر روز ہی کئی لوگ پیدا ہوتے ہیں اور کئی مرتے ہیں پر چند ایک ہی ایسے ہوتے ہیں جن کے آنے کی خوشی اور جانے کا غم سب کو ہی ہوتا ہے ۔29 جنوری 2022 کا دن بھی ایک ایسا ہی دن تھا ، جو کہ آزاد کشمیر و ضلع کوٹلی کی عوام کے لیے بالعموم اور کھوئیرٹہ کی عوام کے لیے بالخصوص ایک ایسے نقصان اور دکھ کی خبر لے کر آیا جس کا ازالہ شاید کئی عشروں تک ممکن نہ ہو –

    کھوئیرٹہ کے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے والے راجہ اقبال سکندر خان کی وفات کی خبر جہاں جہاں بھی پہنچی ، لوگوں کو سوگوار ہی کرتی گئی ۔
    دنیا میں بہت کم لوگ ہی ایسے پیدا ہوتے ہیں جو سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوں اور عاجزی و انکساری کی اعلی مثال بھی ہوں – راجہ اقبال سکندر خان ( المعروف پہاجی) بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھے –

    ان کی تربیت ہی ایسے گھرانے میں ہوئی تھی جہاں عاجزی و انکساری ، مہمان نوازی اور دوسروں کی مدد کا جزبہ گویا بچپن سے ہی بچوں کی تربیت میں شامل ہوتا تھا -جاگیردار گھرانے کے سپوت ہونے کے باوجود راجہ اقبال سکندر خان صاحب اس بات پر کامل یقین رکھتے تھے کہ اگر دنیا میں اور لوگوں میں ہمیشہ زندہ رہنا ہے تو اس کے لیے مال و دولت یا زمینوں کی نہیں ، بلکہ اعلی اخلاق کی ضرورت ہے –

    خواہ آپ کے دوست و ہمدرد ہوں یا سیاسی مخالفین ، سب اس بات پر اتفاق کرتے نظر آتے ہیں کہ مرحوم کی وفات کے بعد ایسا خلا بن چکا ہے جو شاید کبھی بھی پر نہ ہو۔
    1975 میں جب حکومت پاکستان نے کشمیر ڈویلپمنٹ کوآپریٹو بینک بنایا تو آپ اس میں افسر منتخب ہوئے پر یہ بینک 1977 میں حکومت پاکستان میں تبدیلی کے ساتھ ہی بند ہو گیا -اس کے بعد سال 1979 میں راجہ اقبال سکندر خان مرحوم نے سیاسی میدان میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا – 1979 میں آزاد کشمیر کے بلدیاتی انتخابات میں ممبر ضلع کونسل کا الیکشن لڑ کر ممبر منتخب ہوئے-

    1983 کا الیکشن اس حوالے سے یادگار رہا کہ اس میں راجہ محمد نثار خان صاحب آپ کے مخالف لڑے پر کامیابی نے پھر راجہ اقبال سکندر خان صاحب کے قدم چومے – تیسرا الیکشن 1987 ، جبکہ چوتھا 1992 میں لڑا اور جیت کر چیئرمین ضلع کونسل بنے -1996 تک آپ چیئرمین ضلع کونسل رہے اور یہ آخری موقع تھا جب کہ آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے -آزاد کشمیر کی سیاست میں یونیورسٹی کا درجہ رکھنے والے مرحوم سردار سکندر حیات خان بھی راجہ اقبال سکندر خان صاحب کی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔ اس کا عملی ثبوت 2006 میں دیکھنے کو ملا ، جب سردار سکندر حیات خان صاحب نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا ٹکٹ لا کر راجہ اقبال سکندر خان صاحب کو گھر دیا ، مگر راجہ اقبال سکندر خان صاحب نے 2006 کے عام انتخابات کے لیے ٹکٹ راجہ نثار علی خان صاحب کو دیا اور ان کی بھرپور حمایت بھی کی –
    جب پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت آزاد کشمیر میں بنی تو راجہ اقبال سکندر خان کا نام اس حکومت کے اہم ترین لوگوں میں ہوتا تھا -مگر چند ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر اور عوام علاقہ کے بھرپور اصرار پر 2021 کے عام انتخابات میں راجہ اقبال سکندر خان صاحب نے اپنے چھوٹے بیٹے ایڈوکیٹ راجہ شاداب سکندر خان کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑایا –
    آپ کے ایک فرزند راجہ شہریار سکندر خان اس وقت آزاد کشمیر پولیس میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں ۔
    آپ کی اولاد میں موجود عاجزی و انکساری آپ کی تربیت اور اعلی اخلاق کی بہترین مثال ہے ۔

    راقم کی راجہ اقبال سکندر خان صاحب سے دو ملاقاتیں ہوئیں ۔ ان ملاقاتوں میں پل کا کردار میرے دوست و بھائی ایڈوکیٹ راجہ تیمور علی خان صاحب (یہ راجہ اقبال سکندر خان صاحب کے بھتیجے اور راجہ قیصر صاحب کے فرزند ہیں) کا تھا ۔ جامعہ میرپور میں یونیورسٹی فیلو ہونے کی وجہ سے راجہ تیمور صاحب کے ساتھ کھوئیرٹہ جانے کا موقع ملا – پر راجہ اقبال سکندر خان صاحب سے ملاقات کر کے کبھی ایسا نہیں لگا کہ کسی روایتی "جاگیردار” کے پاس بیٹھا ہوں یا پھر یہ کہنا بھی مناسب ہو گا کہ مرحوم راجہ اقبال سکندر خان صاحب پیدا جاگیردار گھرانے میں ہوئے تھے پر درویشی کے اعلی درجے پر فائز تھے –
    اللہ تعالیٰ سے دعا کہ اللہ تعالیٰ راجہ اقبال سکندر خان صاحب کی بخشش فرمائیں ، اور مرحوم کی انے والی تمام منازل آسان فرمائیں – اللہ تعالیٰ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائیں

  • ٹکٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹکٹ۔۔۔۔۔تحریر:یاسرشہزاد تنولی

    ٹکٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹکٹ۔۔۔۔۔تحریر:یاسرشہزاد تنولی

    صوبہ pkp میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی شیڈول کا اعلان ہوتے ہی گلی محلوں اور بازاروں کیساتھ ڈراٸنگ رومز کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوگٸی ہیں۔ایک طرف پارٹی ٹکٹ کے امیدوار مخصوص آستانوں کا طواف جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف آذاد امیدواروں کی فوج مظفر اپنی پھرتیاں جاری رکھے ہوۓ ہے۔ملک کی معروف پارٹی کا نعرہ ہے "ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”۔آنیوالے بلدیاتی الیکشن کے دوران پارٹی کا نعرہ متاثر ہوتا دکھاٸی دے رہا ہے۔اب ہر گھر سے بھٹو کی بجاۓ امیدوار نکلے گا تم کس کس امیدوار کو روکو گۓ؟

    ایک زمانے میں پنجابی کا گیت بہت مقبول ہوا تھا جس کے بول کچھ اسطرح کے تھے "کنے کنے جانڑیں بلو دے گھر۔لینڑ بڑاٶ ٹکٹ کٹاٶ”۔ٹکٹ کی اہمیت کا اندازہ اس گانے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔بلو کے گھر تک جانے کیلیے اگر ٹکٹ کی شرط پوری کرنا ضروری ہے تو پھر سیاست میں ٹکٹ کی اہمیت کو کیونکر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ٹکٹ چاہے بمبینو سینما گھر کا ہو یا خیبر میل کا۔ ہواٸی جہاز کا ٹکٹ ہو یا میٹرو بس کا۔۔ٹکٹ کے بغیر زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی۔خط وکتابت کیلیے بھی ٹکٹ کا ہونا لازم ہے ۔ ٹکٹ جس رنگ اور شکل میں بھی ہو اپنی پہچان خود رکھتا ہے لیکن سیاسی ٹکٹ کی الگ ہی حیثیت ہے۔ کٸی امیدواروں کی تو ٹکٹوں نے نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور جب تک پارٹی کا ثکٹ تعویذ بنا کر انکے گلے میں نہیں لٹکایا جاتا اسوقت تک انکی بے چینی دور نہیں ہوسکتی۔اس سے پہلے ٹکٹوں کی تقسیم اتنی مشکل نہیں ہوا کرتی تھی لیکن جس طرح زمانے کے طور طریقے بدلے ہیں اسی طرح سیاست کے اندازورواج بھی بدل گۓ ہیں۔

    پہلے مرحلے کے انتخابات میں پی ٹی آٸی کے ٹکٹ ہولڈروں کو منہ کی کھانی پڑی جس میں دیگر پارٹیوں کے ٹکٹ ہولڈر بھی شامل تھے۔ریل گاڑی کا ٹکٹ منزل مقصود تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے لیکن بے وفا دوست کی طرح پارٹی ٹکٹ کا کوٸی بھروسہ نہیں ہوتا ۔بہت سے سیاسی شہزادوں کے گلے میں پارٹی ٹکٹ ہونے کے باوجود انہیں عبرتناک شکست سے دوچار ہوتے اور پچھتاوے کے آنسو روتے دیکھا گیا ہے لیکن پھر بھی پارٹی ٹکٹ کے متوالوں کا جنون کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔مسلم لیگ ن۔جمیعت علما اسلام اور پی ٹی آٸی کے ٹکٹ کیلیے مارے مارے پھرنے والے امیدواروں کے حوصلوں کو سلام پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔سیاسی عاملوں کے آستانوں پر حاضری در حاضری کے باوجود دلی مرادیں پوری ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔

    پی ٹی آٸی نے تو پہلے مرحلے کے الیکشن میں عبرتناک شکست کی چوٹ کھانے کے بعد اگلے مرحلے کیلیے نیا لاٸحہ عمل مرتب کیا ہے جس کے تحت پارٹی رہنماوں کے قریبی رشتہ داروں کو ٹکٹ دینے کی بجائے پیدل سفر کا پروانہ جاری کیا گیا ہے جسکے نتیجے میں کچھ امیدوار اعصابی دباٶ کا شکار ہوچکے ہیں اور انہوں نے شیروانیوں کے آرڈر بھی منسوخ کردٸیے ہیں۔مسلم لیگ اور جمیعت کے درمیان اتحاد کی صورت میں ٹکٹ کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ایسی صورت میں پی ٹی آٸی کو پہلے مرحلے کے انتخابات سے بھی ذیادہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ابھی ٹکٹوں کی بولی کا مرحلہ بھی باقی ہے۔اس سلسلے میں بولی دہندگان اپنی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں۔دوسری طرف آذاد امیدواروں کی فوج مظفر بھی لنگوٹ کس کر میدان میں اتر چکی ہے۔ٹکٹ کے جھمیلوں سے بے نیاز آذاد امیدواروں کی پھرتیاں الیکشن کی رُت کو چار چاند لگانے میں اہم کردار ادا کرینگی اور اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ بعض آذاد امیدوار بھی بازی پلٹ سکتے ہیں۔ایسی صورت میں ٹکٹ ہولڈر لگنے والے زخم کے اوپر ٹکٹ کی پٹی باندھ کر طویل عرصے تک اسے چاٹتے رہینگے

  • ایک خطرناک بیماری .تحریر: لعل ڈنو شنبانی

    ایک خطرناک بیماری .تحریر: لعل ڈنو شنبانی

    دنیا میں بہت سی بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ کئی بیماریاں جسمانی و نفسیاتی ہیں تو کئی بیماریاں روحانی ہیں۔ کچھ بیماریاں بہت ہی قدیم ہیں تو کچھ جدید ،شاید جو جدید ہیں وہ بھی قدیم ہی ہیں پر انسان نے ان کی تشخیص ابھی کی۔ہر بیماری کی کوئی نہ کوئی وجہ بھی ہوتی اور اس کا علاج بھی ہوتا ہے۔

    ان بیماریوں سے ایک قدیم اور خطرناک بیماری حسد بھی ہے۔جس کو حسد ہوجائے اسے حاسد کہتے ہیں جس پر حسد ہوجائے اسے محسود کہتے ہیں۔ حسد کو قدیم ترین بیماری کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا،یہ بیماری انسان کی تخلیق سے بھی پہلے کا ہے،ابلیس کو بھی مردود بنانے کی وجہ بھی یہی بیماری بنی۔یہ ایسا وائرس ہے جو ہر نفس سے چمٹنے کی کوشش کرتی ہے۔اسی نے قابیل کے ہاتھوں ہابیل کو قتل کروایا۔ اس نے برداران یوسف کو سیدنا یوسف کو کنوے میں ڈالنے کی ترغیب دی۔اسی بیماری کی وجہ سے بہت سے یہودی و نصاریٰ اسلام سے آج تک دور ہیں۔

    اس بیماری کی بہت سی وجوہات ہیں پہلی بڑی وجہ اللہ تعالی کے عادل ہونے پر یقین نہ کرنا ہے کیوں کہ تمام عطائیں اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے ہیں چاہے کسی کو کم عطا کرے کسی کو زیادہ کسی کو کچھ عطا کرے تو کسی کو کچھ۔کسی سے عطا کرنے کے بعد واپس اٹھالے سب اس مالک حقیقی کی مرضی سے ہی ہوتا ہے۔حاسد جب حسد کرتا ہے تو اللہ کی عدل و رضا کا انکار کر بیٹھتا ہے کیوں کہ جو اس کے پاس ہے وہ بھی اللہ کی رضا ہے اور جو دوسرے کے پاس ہے وہ بھی اللہ ہی کی رضا سے ہے۔

    حسد کی بہت سے اقسام ہیں۔مختصرا ذکر کیا جائے تو تین ہیں۔ اول یہ کہ میرے پاس نہیں فلاں کے پاس کیوں ہے۔دوئم یہ کہ فلاں سے چھین کر یہ بھی میرا ہی ہو۔سوئم فلاں کے پاس سے بھی چھین جائے پھر بیشک مجھ سے بھی چلا ہی جائے۔حسد کی ہر ایک قسم بہت ہی بھیانک اور خطرناک ہے مگر تیسری قسم شرمناک بھی ہے۔

    حسد کی تیسری قسم پر ایک مثال بھی دی جاتی ہے کہ ایک درویش شخص دریا کے کنارے ایک ٹانگ پر اپنی مراد و مقصد کے حصول کے لیے اللہ کے سامنے دعائیں مانگ رہا تھا پھر ایک دوسرا شخص بھی بالکل اسی طرح ایک ٹانگ پر کھڑا ہوکر دعائیں مانگنے لگ جاتا ہے اسی طرح اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیج دیا جاتا ہے کہ وہ جاکر ان اشخاص کی مرادیں پوری کردے۔ فرشتہ جب پہلے شخص کی طرف آتا ہے تو وہ شخص اسے اپنی حاجت بتاتا ہے اور فرشتہ اس کی تکمیل کرتا ہے جب فرشتہ دوسرے شخص سے پوچھتا ہے کہ تجھے کیا طلب ہے تو وہ کہتا ہے میری فقط اتنی سی حاجت ہے کہ جو اس نے مانگا ہے وہ اسے نہ ملے۔

    فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ ایمان اور حسد ایک دل میں نہیں رہ سکتے۔اس مرض کا مریض خود بھی اندر سے جل کر کھوکھلا ہوتا ہے تو کبھی دوسرے کا نقصان بھی کرتا ہے کبھی حسد دشمنی تک کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور کئی گھر اجڑ جاتے ہیں۔

    حسد سے بچنے کی ہر طرح کوشش کرنی چاہیے یہ بندے کو محنت سے بھی دور کرتا ہے اور بندہ غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔اس سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آخرت اور موت کو کثرت سے یاد کرنی چاہیے

  • سانحہ مری اور ہم بطور قوم  ،ازقلم محمد عبداللہ گِل

    سانحہ مری اور ہم بطور قوم ،ازقلم محمد عبداللہ گِل

    وطن عزیز پاکستان کو رب تعالی نے بے پناہ خوبصورتی کے شاہکار سے نوازہ ھے جن میں خوبصورتی کا اعلی۔نمونہ اور ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ملکہ کوہسار مری بھی ھے۔عام حالات میں انتظامیہ نے اقدامات کیے ہوتے ہیں اور مکمل کوشش ہوتی ھے کہ سیاحوں کو سہولیات فراہم کی جائے۔لیکن سردیوں میں جب برفباری ہوتی ھے تو اس دلکش منظر سے ہر کوئی محظوظ ہونے مری کا رخ کر لیتا ھے جس سے مری کے داخلی اور خارجی راستوں پر رش ہو جاتا ھے۔سیاحوں کے کثیر تعداد اور انتظامیہ کے تیار نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک بلاک ہوئی۔اور ٹریفک کے بندش کے بعد درجہ حرارت بھی منفی تھا اور دس سال کی ریکارڈ برفباری کی وجہ سیاحوں کے لیے اپنی زندگیوں کا بچانا تقریبا نا ممکن ہو گیا تھا۔ایسے حالات میں 22 سے زائد افراد کی موت ہوئی جس میں 4 سال کے بچے میں شامل جن کے لیے ماں باپ نے سہانے خواب دیکھے ہوئے تھے اور جوان بیٹے بھی شامل جو ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا تھے اور وہ بھی شامل جو بچوں کے بچپن کے راجا تھے۔انتظامیہ نے بروقت انتظامات نہیں کیے اور اس نااہلی کی وجہ سے 22 افراد کی موت ہوئی۔جب 22 فرد اس جہان فانی سے چلے گئے تب حکومت کو بھی ہوش آیا اور آپریشن کیا گیا۔لیکن یہاں غم اور دکھ کی بات یہ ھے کہ جیسا کے سیاحوں سے معلوم ہوا کہ جب ٹریفک بند ہو گئی تو سیاحوں نے ہوٹل کا رخ کیا تو ان کو بتایا گیا کہ 1 کمرے کی قیمت 50 ہزار روپے ہیں،اگر کسی نے قضائے حاجت سے فارغ ہونا گے تو اس کو بھی پورا کمرہ بک کروانا پڑے گا اسی طرح وہاں کی تاجر برادری نے اشیا خورد نوش کی قیمتوں کو بھی آسمانوں پر پہنچا دیا مثال کے طور پر ابلا ہوا انڈا جو ویسے 20 سے 30 کا ملتا ھے مری میں 500 کا کر دیا گیا تھا۔ہائے افسوس صد افسوس!

    یہ جناح کا پاکستان ھے وہ پاکستان جس کے بننے کے لیے نے آبا نے اپنی ہر شے کو قربان کر دیا تھا آج ان کے ورثا اپنے بھائیوں کی زندگی میں بچانے میں ناکام ہو گئے بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔
    اس لیے تو کسی نے یوں کہا
    گنوا دی ہم نے آبا سے جو میراث پائی تھی
    ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
    مری کے لوگوں نے انسانیت کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ہمارے اندر آج بطور قوم حمیت کا جذبہ ختم ہو چکا ھے۔
    قارئین! ادھر نوٹ کرنے والی بات یہ بھی کہ مشکل کی اس گھڑی میں بھی افواج پاکستان نے اپنی خدمات کو پیش کیا اور سڑکوں کو کھولا اور ٹریفک کی روانی کو ممکن بنایا۔یہ وہی فوج ھے جو دنیا بھر کی افواج میں سے کم بجٹ پر چل رہی ھے۔یہ وہی فوج ھے جو غداروں کے طعنے بھی سنتی ھے اور مفی درجہ حرارت میں کبھی سیاچن کے گلیشیرز پر ملک کی سرحد کی حفاظت کرتی ھے تو کبھی پورے پاکستان جس جگہ بھی آفت آئے تو افواج پاکستان کے جوان ہی اپنی جانوں پر کھیل کر اس ملک کی اندرونی اور بیرونی آفات سے حفاظت کرتی ھے۔اسی طرح یہاں پنجاب پولیس کو بھی سلام ھے کہ وہاں کے ڈی ایس پی مری جناب اجمل سٹی صاحب کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے مسلسل 48 گھنٹوں میں اپنی خدمات کو سرانجام دیا اور خود اترے اور لوگوں کی مدد کی۔اسی طرح میجر جنرل واجد عزیز صاحب کو بھی سلام ھے کہ انھوں نے افواج پاکستان کا لوہا ایک بار دوبارہ منایا اور 1 لاکھ سیاحوں کو بحفاظت مقامات تک پہنچایا۔میجر جنرل واجد عزیز کا کہنا تھا؛-

    "جتنا مرضی درجہ حرارت کم ہو جائے اس وقت آپریشن جاری رہے گا جب تک آخری سیاح بھی محفوظ مقام تک نہیں پہنچ جاتا”
    اگر سیاسی جماعتوں کی بات کرے تو سیاسی جماعتوں نے سوائے سیاہ ست کرنے کے عملی کام کچھ نہیں کیا۔نون لیگ کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا مری حلقہ ھے انھوں نے وہاں جا کر ایک ٹکے کی مدد نہیں کی۔اگر وہاں موجود تھے تو محب وطن پاکستانی تحریک اللہ اکبر کے کارکنان،الخدمت فاؤنڈیشن کے کارکنان جنھوں نے وہاں جا کر لوگوں کی مدد کی۔تحریک اللہ اکبر اسلام آباد نے انتظامیہ کے تعاون سے سب سے زیادہ خدمت کا کام کیا اور امدادی کیمپ اور امدادی سامان کو پہنچایا۔اس پر مجھے یاد آیا
    ” جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں ”
    اسی لیے ہماری سیاسی پارٹیوں کو سیاست کرنے کی بجائے عوام کو ریلیف دینے کی طرف دھیان دینا چاہیے اسی طرح مری کے مقامی عوام کو کوئی ہوش کے ناخن لینے چاہئے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    "جس نے ایک جان کو بچایا اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا”
    آج ملک پاکستان غم سے دوچار ہیں تو ہمیں بطور قوم اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہے اور اپنی اخلاقی اقدار کو بلند تر کرنا ھے
    پاکستان زندہ باد

    @Gill_Pak12

  • ہمسفر زندگی ہے، تحریر:ڈاکٹر انعم خان

    ہمسفر زندگی ہے، تحریر:ڈاکٹر انعم خان

    محبت کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے
    انسانی فطرت سے ہی انسان انسان سے مانوس ہوتا ہے
    انسانی فطرت سے ہی دوسرے انسان کیلئے احساس پیدا ہوتا ہے
    اور جب یہ احساس دونوں طرف سے ہوتا ہے تو اسے محبت کہا جاتا ہے
    محبت ہمیشہ دو (رفیقوں) دوستوں کے درمیان ہوتی ہے اور دو رفیق بنے تو محبت کہلاتی ہے
    ایسا دوست (رفیق) جسکے ساتھ گہری محبت ہو اور مرنا جینا ایک ساتھ ہوجائے ہمسفر کہلاتا ہے.
    یہ ہم سفر اپنے آس پاس کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہوتا ہے
    ایسا ہمسفر جسے اپنے سے بڑھ کر اپنے دوست کی فکر رہے
    خوشی و غمی میں داد و تحسین و حوصلہ جیسی نعمت کو تقسیم کرتا رہے اور اسی طرح ایسا حوصلہ اسے اپنے ہمسفر کی طرف سے واپس ملتا رہے تو ناکامی کو اس دوران کوئی جگہ نہیں مل سکتی
    ایسی صورت میں کہ جب ناکامی سر پہ ہو اور ہمسفر اسے حوصلہ دے دے تو یہ ناکامی بھی کامیابی کا سا سکون عطاء کر دیتی ہے.
    یہ ایک حقیقت ہے کہ جس چیز کو جتنا تقسیم کیا جائے وہ چیز قدرت کی طرف سے اس کیلئے اتنی ہی زیادہ بڑھا دی جاتی ہے.

    محبت تو انسانی فطرت ہے
    لیکن نفرت کرنا انسان کو سکھایا جاتا ہے یا پھر وہ خود سیکھتا ہے
    اگر نفرت سیکھتا ہے تو وہ بھی کسی اپنے قریبی شخص سے ہی سیکھتا ہے جس کے ساتھ انسان کا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا صحبت اختیار کرنا ہوتا ہے.
    انسان جیسا بھی ہو صحبت اسے بدل دیتی ہے
    اگر انسان برا ہے تو اچھوں کی صحبت اسے اچھا کر دیتی ہے اور اگر انسان اچھا ہے اور برے لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اس اچھے انسان کو برا بننے سے کوئی نہیں روک سکتا.
    اچھی صحبت اختیار کرنے پر بزرگان دین نے بہت زور دیا ہے.
    اور اس کی سیکنڑوں مثالیں اہل علم نے قلم بند کی ہیں
    جس میں سب سے بڑی مثال فرعون کی دی گئی ہے
    اہل علم فرماتے ہیں کہ فرعون پر ایک وقت ایسا آیا کہ جب فرعون کو اپنے ضمیر نے جھنجوڑا تو وہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام پہ ایمان لانے کیلئے رضامند ہوگیا.
    لیکن چونکہ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا تو اس نے اپنے مشیر (ہامان) جسکی صحبت اختیار کرکے وہ فرعون بنا تھا سے مشورہ کیا کہ میں حضرت موسیٰ پہ ایمان لانا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں.
    ہامان نے جب یہ بات سنی تو اس نے فرعون کی خوشامد کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی سچے ہیں یہ بات ہر شخص جانتا ہے
    اب اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ میں جھوٹا تھا اور موسیٰ سچے ہیں تو جو آپ کے سنے سجدہ ریز ہوتے تھے وہی آپکو برا بھلا کہیں گے اور دشمن بھی بن جائیں گے.

    ہامان (جو فرعون کا ہمسفر) تھا کے اس مشورے کے بعد فرعون نے ایمان لانے کا ارادہ ترک کردیا اور اللہ نے فرعون کو قیامت تک کے آنے والے انسانوں کیلئے نصیحت کے طورپہ پیش کردیا.
    اہل علم کا یہ گمان ہے کہ اگر فرعون کو مخلص مشورہ دیا جاتا تو وہ ایمان لے آتا.
    لیکن اسے بری صحبت نے ہلاک کیا.
    انسان جس قدر بھی جتنا بھی کسی کو ناپسند کرتا ہو یا ہر ایک سے نفرت کا عادی ہو
    پھر بھی فطرتی طورپہ اس شخص کی زندگی میں کوئی ایسا شخص ضرور ہوتا ہے جس کے سامنے محبت میں وہ اپنا سر تسلیم خم کردیتا ہے.
    انسان کی یہ محبت ماں باپ بہن بھائی اور رشتہ داروں کے بعد منتقل ہوتی ہے دوست میں اور یہ ایک نیا رشتہ جڑتا ہے انسان کی زندگی کے ساتھ
    اور اگر دوست مخلص ہو تو سارے رشتے یہاں آکے ماند پڑجاتے ہیں
    انسان اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں اپنی دوست کی رائے کو مقدم رکھتا ہے
    اسے ہی ہمسفر کہتے ہیں
    ہمسفر ماں باپ بہن بھائی دوست یا پھر بیوی میں سے ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے
    جسے جدید دور کی تعلیم میں رول ماڈلز بھی کہا جاتا ہے
    یعنی انسان کسی ایک کا تابع ہوجاتا ہے اور پھر اسکے مشورے کے بغیر کوئی قدم بھی نہیں اٹھا سکتا.

    @Dr_Anam_