Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کراچی سرجانی میں واقع علی محمد مینگل گوٹھ میں 4 ملزمان کی ڈکیتی کے دوران خاتون سے زیادتی کا معاملہ

    کراچی سرجانی میں واقع علی محمد مینگل گوٹھ میں 4 ملزمان کی ڈکیتی کے دوران خاتون سے زیادتی کا معاملہ

    کراچی : اہل محلہ ڈی ائی جی ویسٹ عاصم قائمخانی سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرنے پر مجبور ہوگئے

    کراچی : میں اپنی ذہنی کیفیت بتا نہیں سکتی ہوں ، متاثرہ خاتون

    کراچی : چار رکنی گینگ پولیس اہلکار بنکر گھروں میں داخل ہوئے ، متاثرہ خاتون

    کراچی : ڈکیتی کے دوران مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، بڑی ہمت کر کے میڈیا کے سامنے آئی ہوں ، متاثرہ خاتون

    کراچی : ہماری حکومت کیا کر رہی پہلے مال و دولت لوٹتے تھے ، اب درندے ہماری عزتیں لوٹ رہے ہیں ، متاثرہ خاتون

    کراچی : سات جنوری کو سونا ، 50 ہزار روپے نقدی سمیت دیگر سامان لوٹا ، متاثرہ خاتون

    کراچی : گھر میں ایک ہفتہ بعد شادی ہونی تھی

    کراچی : میرے بچوں کے سامنے مجھے مارا مجھے گالیاں بھی دی گئی ، متاثرہ خاتون

    کراچی : گھر میں گلاس بھی ٹوٹتا ہے تو خوف سے ڈر جاتی ہوں ، متاثرہ خاتون

    کراچی : ملزمان کو پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ جو میرے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو سکے ، متاثرہ خاتون

    کراچی : واقعہ کا مقدمہ سرجانی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے ، پولیس

    کراچی : مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے ، پولیس

    کراچی : ڈی این اے سیمپل بھی لیئے جا چکے ہیں ، پولیس

    کراچی :ڈی ائی جی ویسٹ اپنے ماتحت پولیس افسران کو سیکورٹی کی ناقص صورت حال پر پابند کریں ، اہل محلہ

    کراچی : ائے روز ڈکیتیاں ہورہی ہے پولیس ناکام ہوتی جارہی ہے ، اہل محلہ

    کراچی : اپنے علاقوں کی خود چوکیداری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ، اہل محلہ

    کراچی : ملزمان دندانتے پھر رہے ہیں ، اہل محلہ

  • مودی سرکار کے ہاتھ نہ روکے گئے تو اسکی جنونیت کا خمیازہ اس پورے کرۂ ارض کو بھگتنا پڑیگا

    مودی سرکار کے ہاتھ نہ روکے گئے تو اسکی جنونیت کا خمیازہ اس پورے کرۂ ارض کو بھگتنا پڑیگا

    اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی بھرپور سفارتی کوششوں اور کشمیری عوام کے دنیا بھر میں جاری مظاہروں کے باعث عالمی قیادتوں کو کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم اور تسلسل کے ساتھ گزشتہ دو ماہ سے جاری رکھے گئے کرفیو کے باعث کشمیریوں کیلئے پیدا ہونیوالے روٹی روزگار‘ انکے تحفظ و دفاع کے اور دوسرے روزمرہ کے مسائل سے پوری عالمی برادری کو آگاہی ہوچکی ہے جس کی صدائے بازگشت جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنی گئی اور وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں کشمیر کا کیس بھرپور انداز میں پیش کیا۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر عالمی قیادتوں سے ملاقاتوں کے دوران بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم کے باعث کشمیریوں کی حالت زار سے آگاہ کیا ہے اور باور کرایا کہ یواین سلامتی کونسل کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے اپنی قراردادوں پر عمل نہیں کراسکی جو مایوس کن عالمی رویہ ہے۔ اگر کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم نہ روکے گئے اور بھارتی جارحانہ عزائم کے آگے بند نہ باندھا گیا تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے اس لئے دنیا کو دیرہونے سے پہلے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    بھارت اپنی جنونیت سے بلاشبہ اس پورے کرۂ ارض کیلئے سنگین خطرات پیدا کررہا ہے اس لئے عالمی قیادتوں کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کی خاطر بہرصورت اپنا کردار ادا کرنا اور مصلحتوں کے لبادوں سے باہر نکل کر مسئلہ کشمیر کے یواین قراردادوں کی روشنی میں حل کیلئے عملی اقدامات اٹھانا ہونگے اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔ اگر بھارت کی حکومتی اور عسکری قیادتوں کی جانب سے پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو چیلنج کیا جاتا رہا اور گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو پاکستان کو بھی اپنے تحفظ و دفاع کیلئے کوئی بھی قدم اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے جس کیلئے عساکر پاکستان مکمل چوکس اور تیار ہیں۔

    گزشتہ روز آرمی چیف جنرل باجوہ نے کورکمانڈرز کانفرنس میں جہاں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوام عالم اور جنرل اسمبلی میں کشمیر کا کیس بھرپور انداز میں پیش کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے وہیں بھارت کو یہ ٹھوس پیغام بھی دیا ہے کہ اسکی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا جس کیلئے عساکر پاکستان مکمل تیار اور پرعزم ہیں۔ بھارت کو اب بہرصورت اپنی 27 فروری والی ہزیمت کو پیش نظر رکھ کر پاکستان کیخلاف کوئی قدم اٹھانے کا سوچنا چاہیے۔ اگر اس نے کسی قسم کی حماقت کی تو اس روئے زمین پر اسکی پسپائی اور ہزیمتوں کی داستان سنانے والا بھی کوئی نہیں بچے گا۔

    نوٹ : یہ تحریر نوائے وقت کے 5 اکتوبر کے اخبار کے اداریہ سے لی گئی ہے.

  • مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ، کشمیریوں کا یوم سیاہ ہوگا، تاریخ‌ بدلیں‌ ورنہ تاریخ‌ معاف نہیں کرے گی، خصوصی رپورٹ

    مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ، کشمیریوں کا یوم سیاہ ہوگا، تاریخ‌ بدلیں‌ ورنہ تاریخ‌ معاف نہیں کرے گی، خصوصی رپورٹ

    اسلام آباد (رضی طاہر سے) 27 اکتوبر 1947ء کا دن کشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب بھارت کے نوخیز برہمنی سامراج نے برصغیر کی تقسیم کے مسلمہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے سازش اور منافقت سے کام لیکر غالب مسلم اکثریت کی ریاست جموں و کشمیر پر غاصبانہ تسلط اور قبضہ جمالیا تھا، اس دن کو دنیا بھر کے کشمیری اور پاکستانی عوام یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں، اسی دن جمعیت علمائے اسلام ف کا مذہب کارڈ کھیلتے ہوئے آزادی مارچ کا اعلان تاریخی غلطی ہے، مولانا تاریخ‌ بدلیں‌ ورنہ تاریخ معاف نہیں کرے گی.

    برصغیر کی تقسیم اس اصول کی بنیاد پر ہوئی تھی کہ مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان کے ساتھ شامل ہوں گے اور غیر مسلم اکثریت کے علاقے بھارت کیساتھ، جبکہ ریاستوں کے بارے میں یہ اصول طے پایا تھا کہ انکے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے انکی غالب اکثریت کی ریاست جموں و کشمیر کو جو اپنے جغرافیائی محل و قوع کے لحاظ سے پاکستان کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، بہر صورت پاکستان میں شامل ہونا چاہئے تھا لیکن بھارتی سامراج نے چونکہ پاکستان کے قیام کو دل سے قبول ہی نہیں کیا تھا، 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے مقبوضہ ریاست جموں کشمیر پر ناجائز قبضہ جمالیا.

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی مولانا فضل الرحمن کو تاریخ‌ بدلنے کا مشورہ دیا، انہوں‌ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں وہ باتوں کو سمجھتے ہیں، احتجاج ان کا جمہوری حق ہے اور وہ فیصلوں میں آزاد ہیں لیکن میری ان سے گزارش ہے کہ 27 اکتوبر کا دن احتجاج کے لیے مناسب نہیں، اس پر نظرثانی فرمائیں۔

    آج مقبوضہ کشمیر میں اسلام اور آزادی کی علمبردار قوتیں اپنی آزادی اور حق خودار ادیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بقاء و سالمیت اور تکمیل پاکستان کی جنگ بھی لڑ رہی ہیں۔مجاہدین جموں و کشمیر پاکستان کی شہ رگ کو بھارت سے چھڑانے کیلئے اپنی جان و مال اور عزت و آبرو قربان کر رہے ہیں۔ یہ جنگ کشمیریوں کی نہیں بلکہ پاکستان اور عالم اسلام کے دفاع اور سالمیت کی جنگ ہے۔ ایسے وقت میں مولانا کی مذہب کارڈ کھیلتے ہوئے موجودہ حکومت کے خلاف مہم کو تاریخ میں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جائے گا.

  • سٹیزن پورٹل کے حوالے سے وزیراعظم کو غلط معلومات دی گئیں، سوشل میڈیا صارفین برہم

    سٹیزن پورٹل کے حوالے سے وزیراعظم کو غلط معلومات دی گئیں، سوشل میڈیا صارفین برہم

    اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سٹیزن پورٹل کے حوالے سے وزیراعظم کو گمراہ کن اعداد و شمار دیئے گئے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، ان خیالات کا اظہار سوشل میڈیا صارفین نے سٹیزن پورٹل سے متعلق دی جانیوالی بریفنگ کے بعد کیا، تحریک انصاف کی ٹیم آئی کے کے ایڈمن فرحان خان ورک نے ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ سٹیزن پورٹل والوں نے دوبارہ وزیر اعظم کو جعلی اعداد و شمار دکھا کر بتا دیا ہے کہ 92 فیصد مسائل حل ہوگئے ہیں۔ اسی طرح سب اچھا کی رپورٹ دکھا دکھا کر ملک کا یہ حال کردیا۔

    ایک اور صارف شہباز غوری نے لکھا کہ جب تک ادارے ٹھیک نہیں ہونگے ان میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام لاگو نہیں ہوگا آپ جتنے مرضی پورٹل بنالیں یہ لوگ اتنے چالاک ہیں آپ کو ماموں ہی بنائیں گے جس ادارے کی شکایت کرو وہ فرضی جواب بنا کر ٹرک کی بتی کہ پیچھے لگا دیتا ہے۔

    محمد امین مگسی ایڈووکیٹ نے ٹوئیٹ کے ذریعے بتایا کہ سٹیزن پورٹل مکمل طور ناکام ہوچکی ہے ۔ جن اداروں کے خلاف شکایات کی جاتی تھیں انہیں کے لوگ نچلی سطح پر تعین کئے گئے تھے جو اپنے اداروں کے لوگوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کیلئے ان کے حق میں ہی رپورٹ تیار کیا کرتے تھے۔

    احمد رضا نے ٹوئیٹ میں لکھا کہ 4 مئی 2019 کو ایک شکایت کی تھی ابھی تک کوئی جواب ہی نہیں ملا صرف ایک افسر نے دوسرے کو فارورڈ کر دی.

    ایسے ہی بے شمار سوشل میڈیا صارفین نے شکایات کے انبار لگادئیے. یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان سٹیزن پورٹل کا آغاز گزشتہ سال 28 اکتوبر کو کیا تھا۔ اب تک قریبا 11 لاکھ لوگ اس ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ کرکے پورٹل پر خود کو رجسٹر کروا چکے ہیں.

  • پنجاب میں تحریک انصاف کے وسیم اکرم ”عثمان بزدار“کے بدلنے کے کوئی امکانات نہیں‘ ذرائع

    پنجاب میں تحریک انصاف کے وسیم اکرم ”عثمان بزدار“کے بدلنے کے کوئی امکانات نہیں‘ ذرائع

    اسلام آباد (رضی طاہر سے) پنجاب میں بڑی تبدیلیوں کی خبریں زیرگردش ہیں مگر وزیراعلیٰ پنجاب کے بدلنے کے کوئی امکانات نہیں، باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ابھی پنجاب میں نئی کشمکش شروع نہیں کرنا چاہتے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بدلنے کے عمل کے دوران پارٹی وفاداریاں بدلنے کا سلسلہ بھی عروج پکڑ جاتا ہے اور حالیہ صورتحال کے پیش نظر عمران خان کسی بڑے ایڈونچر سے بچنے کیلئے کوئی ایسی تبدیلی نہیں کریں گے، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس ریفارمز کے حوالے سے خصوصی طور پر وزیراعظم پنجاب کی کارکردگی سے نالاں ہیں،جبکہ ڈینگی کی صورتحال پر بھی سخت برہم ہوئے مگر اس کے باوجود پنجاب میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔

    باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے خود پنجاب کو زیادہ وقت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ تمام تر خامیوں کو دور کرسکیں۔

  • عالمی رہنماوں کے خطابات، دنیا میں‌ کس کو کتنی پذیرائی ملی؟ دیکھئے خصوصی رپورٹ

    عالمی رہنماوں کے خطابات، دنیا میں‌ کس کو کتنی پذیرائی ملی؟ دیکھئے خصوصی رپورٹ

    اسلام آباد (رضی طاہر سے) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماوں کے خطابات دنیا بھر کے میڈیا کی شہ سرخیاں بنے ہوئے ہیں، ایسے میں اقوام متحدہ کے سرکاری یوٹیوب چینل پر بھی دیکھنے والوں کا تانتا بندھا ہے، یوٹیوب پر ابھی تک سب سے زیادہ دیکھا جانے والا خطاب وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان کا ہے، جو8 لاکھ 12 ہزار مرتبہ دیکھا جاچکا ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان ہیں جنہیں‌ 5 لاکھ 50 ہزار مرتبہ دیکھا جاچکا ہے، تیسرے نمبر پر ایران کے صدر حسن روحانی ہیں‌ جن کی تقریر 4 لاکھ 12 ہزار مرتبہ دیکھی گئی.

    اسی طرح بالترتیب ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی گفتگو کو 3 لاکھ 70 ہزار مرتبہ، بنگلہ دیش کی حسینہ واجد کی تقریر 3 لاکھ 40 ہزار جبکہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا کا خطاب 2 لاکھ 25 ہزار مرتبہ دیکھا گیا۔ یہ تمام ویڈیوز یوٹیوب چینل کی ٹرینڈنگ ویڈیوز میں شامل ہیں۔

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب کو 91 ہزار مرتبہ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کو 66 ہزار مرتبہ دیکھا گیا۔ دنیا نے مسلمان رہنمائوں کو زیادہ سنا جب سے سب سے زیادہ پذیرائی وزیراعظم عمران خان کو مل رہی ہے۔

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، کس کے خطاب کا دورانیہ زیادہ، کس کا کم؟ رپورٹ میں‌ پڑھیئے

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، کس کے خطاب کا دورانیہ زیادہ، کس کا کم؟ رپورٹ میں‌ پڑھیئے

    اسلام آباد (رضی طاہر سے) اقوام متحدہ کی 74 ویں جنرل اسمبلی سے دنیا بھر کے صدور، بادشاہوں، وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ نے خطاب کرتے ہوئے اپنے ملک اور قوم کی نمائندگی کی، تاہم اس اجلاس میں طویل ترین تقریر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کی، جو 50 منٹ پر محیط تھی۔

    دوسرے نمبر پر 38 منٹ کی تقریر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی جبکہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے تیسرے نمبر پر 36 منٹ کا خطاب کیا، جبکہ برازیل کے صدر نے اقوام متحدہ کے 33 منٹ لیے۔

    اسی طرح سب سے کم دورانیے کا خطاب رواندا اور یورپی یونین کے صدور نے کیا جو 8 منٹ پر محیط تھا، اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے اپنی گفتگو کو 10 منٹ میں سمیٹا، سعودی عرب کے وزیرخارجہ نے 12 منٹ گفتگو کی۔

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر کی افتتاحی گفتگو 7 منٹ پر محیط تھی۔ جبکہ چیف اقوام متحدہ نے 4 منٹ کے دورانیے میں استقبالیہ کلمات کہے۔

  • کیا عمران خان کشمیر کا بوجھ اٹھا پائیں گے؟ گلف نیوز کی خصوصی رپورٹ

    اسلام آباد (مانیٹڑنگ ڈیسک) پاکستان میں عمران خان کی قیادت میں مسئلہ کشمیر کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، کشمیر نہ صرف عالمی اخبارات کا بنیادی موضوع بنا بلکہ کئی عالمی رہنماوں کے خطابات اور بیانات کا حصہ بن گیا ہے، کشمیر اب تنہا نہیں رہا، ان تاثرات کا اظہار بین الاقوامی نشریاتی ادارے گلف نیوز کی خصوصی رپورٹ میں تجزیہ کار مہر تارڑ نے کیا. رپورٹ میں بتایا کہ 5 اگست کے بعد سے کشمیر میں‌ کرفیو نافذ ہے اور عمران خان نے دنیا کی توجہ کشمیر کی جانب مبذول کرارکھی ہے.

    آج کشمیر بین الاقوامی طور پر ابھر رہا ہے، اور اسکے لئے یورپین ممالک کی عوام بھی آواز اٹھارہی ہے، چین، ترکی، ملائیشیا، برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے رہنماوں نے کشمیر پر اصولی موقف اپناتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے پر زور دیا ہے، کشمیر پر عالمی طور پر آواز اٹھائے جانے کی واحد وجہ عمران خان کا واحد ایجنڈا ہے، کیونکہ وہ صرف کشمیر پر بات کررہے ہیں. جس بہادری کے ساتھ عمران خان نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا اس کی مثال پہلے نہیں ملتی.

    دی گلف نے سوال اٹھایا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ کشمیر کا سفیر کہلائے جانے والے عمران خان کیا اس ذمہ داری کا بوجھ دیر تک اٹھاپائیں گے؟ ابھی تک وہ پر عزم ہیں لیکن آگے امتحانات بہت ہیں۔

  • پچاس دن سے کشمیری عذاب میں‌ہیں، بھارتی کانگریس کا اعتراف

    پچاس دن سے کشمیری عذاب میں‌ہیں، بھارتی کانگریس کا اعتراف

    لاہور (رضی طاہر سے) بھارتی اپوزیشن جماعت اور کئی دہائیوں سے برسراقتدار رہنے والی کانگریس بھی کشمیر کی صورتحال پر مسلسل بات چیت کررہی ہے، 5اگست کے بعد کی صورتحال میں مودی کے جھوٹ ”سب اچھا ہے‘‘کو اپنے آفیشیل ٹوئیٹر پر بے نقاب کردیا۔ کانگریس نے دعوی کیا کہ 50دنوں سے کشمیری عذاب میں زندگی گزار رہے ہیں، کچھ اچھا اور ٹھیک نہیں ہے۔

    کانگریس کے آفیشیل ٹوئیٹر سے کی گئی ٹوئیٹ میں بتایا گیا کہ 50دن سے جموں و کشمیر میں کرفیو ہے، غیر قانونی طور پر زیر حراست رکھنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ عوام 50دنوں سے ریاستی بربریت کا سامنا کررہے ہیں۔

    یاد رہے کہ کانگریس کے رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن ائیرپورٹ پر ہی روک دیا گیا۔مودی سرکار تمام تر غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے میں ناکام ہے۔

  • پانچ ماہ سے رہائی کی اپیل لاہور ہائیکورٹ میں‌ زیر التواء، گردے کے مرض میں‌ مبتلا قیدی انتقال کرگیا

    پانچ ماہ سے رہائی کی اپیل لاہور ہائیکورٹ میں‌ زیر التواء، گردے کے مرض میں‌ مبتلا قیدی انتقال کرگیا

    لاہور (رضی طاہر سے) لاہور ہائیکورٹ نے26ستمبر کو گردوں کے مرض کے شکار سیاسی مقدمے کے قیدی ہمایوں بشیر کی رہائی سے متعلق فیصلہ سنانا تھا، اپیل 5ماہ سے التواء کا شکار تھی، مگر ہمایوں بشیر جاں کی بازی ہار گئے، دو نہیں ایک پاکستان کا خواب چکنا چور، غریب اور امیر کے لئے علیحدہ قانون کی ایک اور بھیانک مثال سامنے آگئی۔

    تفصیلات کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے قیدی ہمایوں بشیر میو ہسپتال میں انتقال کرگئے، انہیں آج صبح نیم مردہ حالت میں جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا، ہمایوں بشیر قید ہونے سے پہلے ہی گردے کے مریض تھے، دوران قید ان کی حالت بگڑ گئی اور ڈائلسسز شروع ہوگئے،لواحقین کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے ان کے ڈائلسسز چل رہے ہیں جبکہ لاہور ہائیکورٹ میں 5ماہ سے ان کے باقاعدہ علاج کیلئے رہائی کی اپیل زیرالتواء ہے، جس پر سماعت26ستمبر کو ہونی تھی مگر ہمایوں بشیر سماعت سے ایک دن قبل ہی جاں بحق ہوگیا۔ اپیل کی سماعت کرنے والے بنچ کے سربراہ جسٹس صداقت علی ہیں ان کے ہمراہ جسٹس شہرام سرور کیس سن رہے ہیں۔ اس کیس کے سلسلے میں 106افراد تاحال جیل میں ہیں۔

    پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری اطلاعات نور اللہ صدیقی نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں بتایا ہے کہ پراسیکیوشن، جیل حکام سمیت ہائیکورٹ کو بھی کئی بار ہمایوں بشیر کی بیماری سے آگاہ کیا، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں، 5ماہ سے اپیل فائلوں میں ہے، انہوں نے سوال اٹھا یا کہ ہم دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگانے والوں سے پوچھتے ہیں کہ ہمایوں بشیر کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک اور ”قانونی بربریت” کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا قانون صرف نوازشریف اور بڑے سیاسی رہنماؤں کیلئے ہے،جو قومی خرچے پر ہسپتالوں میں مہینہ بھر پڑے رہتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ تمام تر مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔