Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ ہردور میں امن معاہدے لایا،عمل نہ دارد !
    ٹرمپ منصوبے کا یہ مطلب نہیں،پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا
    پاکستان میں کئی مقبول لیڈر اقتدار میں آئے،قوم کیلئے صرف نواز شریف فکرمند
    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    موجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل، فلسطین 20 نکاتی منصوبہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، ٹرمپ سے قبل بھی، بل کلنٹن، بش اور اوباما نے بھی اپنے اپنے ادوار میں امن معاہدے دنیا میں پیش کئے، 1993 میں اوسلو معاہدہ، پھر بش دور میں امریکہ، یورپی یونین ،روس اور اقوام متحدہ نے پیش کیا اوباما دور میں مذاکرات متعدد بار ہوئے، اب امریکی صدر ٹرمپ نے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس منصوبے کا مستقبل کیا ہوگا یہ ایک سوالیہ نشان ہے، تاہم یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا یا کرنے جا رہا ہے، پاکستان دیگر اسلامی ممالک کی طرح اسرائیل، فلسطین امن معاہدے میں شامل ہیں،

    پاکستان میں اس وقت سیاسی لیڈرشپ کا فقدان ہے، سیاسی جماعتوں میں موجود علاقائی سیاستدان مسخرے پن کی حدوں کو کراس کر رہے ہیں،جمہوریت آئین اور قانون کی بالادستی کب تھی کس کا کیا کردار رہا، اس سلسلے میں پاکستان سمیت ایک عالم گواہ ہے،کیا انہی سیاست دانوں کی وجہ سے آئین کا قتل عام نہیں ہوا؟ کیا آئین کے قتل عام میں ملوث یہ سیاستدان نہیں تھے؟ کہا جاتا ہے کہ عمران خان مقبول لیڈر ہے چلیے مان لیا عمران خان مقبول لیڈر ہیں، کیا وہ جس کشتی میں سوار ہو کر وزیراعظم ہاؤس پہنچے تھے، اس کشتی کے ملاح کون تھے؟ جمہور کے مسائل کا کسی کو ادراک ہے، نہ تھا، نہ ہے، کس طرح اقتدار حاصل کیا جائے اور کیسے کیا جائے اقتدار کی فکر سب کو ہے اس ملک کو اس عوام کی فکر کسی کو نہیں،سوچیے اور غور کیجئے،

    نواز شریف ملکی سیاسی تاریخ میں ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں، جنہوں نے ملکی دفاع مضبوط کرنے کے بعد 2013 اور 2017 جب وزیراعظم بنے تو ان کی توجہ کا مرکز معاشی ترقی تھی آج کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار گواہ ہیں، ان کے خلاف پانامہ سے قبل جلاوطنی، عدالتی مقدمات اور نااہلی جیسے مقدمات انہی سیاستدانوں کے سامنے بنائے گئے، خدا کی پناہ اعلیٰ ججوں کا ایک گروپ بھی اس سازش میں ملوث نہیں تھا؟ بحیثیت قوم ہم نے اپنے سیاسی لیڈرشپ کی قدر نہیں کی، جس کا خمیازہ آج ملک و قوم دونوں بھگت رہے ہیں، جمہوریت آئین اور قانون کی بالادستی کی آڑ لیکر سیاستدانوں کی اکثریت نے عوام اور اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے، آج کی بین الاقوامی سیاسی شطرنج کھیلے جانے والی گیم میں پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، ملکی معیشت کو سنبھالنا ایک چیلنج ہے، پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وفاقی وزیر خارجہ کی سیاسی حکمت عملی درست راستوں پر چل رہی ہے،

    پاک فوج کسی ایک فرد کا نام نہیں پاک فوج اور جملہ اداروں کو اس ملک کی سرحدوں کی فکر تھی اور یہ جاری ہے، تاہم ہم نے بحیثیت قوم، سیاسی جماعتوں نے اپنے قائدین سے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا،،بقول شاعر ،،
    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں
    کون سا داغ نکال کر دل سے ثبت سرےدیوان کریں

  • جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    گزشتہ چند برسوں میں ہمارے معاشرے میں یہ رجحان شدت سے بڑھا ہے کہ جیسے ہی کوئی بڑا جرم رونما ہوتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا اسے اپنی اولین ترجیح بنا لیتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کے طوفان برپا ہو جاتے ہیں، اخبارات کی سرخیاں سنسنی خیز انداز میں لکھی جاتی ہیں اور سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے ساتھ تصویریں اور ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔ بظاہر یہ اطلاع رسانی کا عمل ہے مگر اصل میں یہ ایک ایسا طرزِ عمل ہے جو معاشرتی اقدار، نفسیات اور قانون پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

    جب کسی شہر یا علاقے میں جرم ہوتا ہے اور اسے بار بار نشر یا شیئر کیا جاتا ہے تو عوام میں غیر یقینی اور خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ عام آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جرم ہر جگہ ہے اور وہ کسی وقت بھی نشانہ بن سکتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر معاشرے کو غیر محفوظ بنا کر پیش کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑا نقصان یہ ہے کہ میڈیا اکثر مجرم کے نام، تصویر اور تفصیلات ایسے انداز میں پیش کرتا ہے جیسے وہ کوئی غیر معمولی شخصیت ہو۔ اس عمل سے نادانستہ طور پر مجرم کو شہرت ملتی ہے۔ بعض اوقات لوگ جرم سے زیادہ مجرم کی جرأت یا "کارنامے” کو یاد رکھنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے تاثر سے دوسرے افراد کو بھی یہ ترغیب ملتی ہے کہ وہ اسی راستے پر چلیں تاکہ انہیں بھی پہچان مل سکے۔

    جرائم کی خبر دیتے ہوئے بعض اوقات میڈیا اس حد تک تفصیل بیان کرتا ہے کہ مجرم کے طریقۂ واردات کی مکمل کہانی سامنے آ جاتی ہے۔ اس سے وہ افراد جو جرم کی طرف میلان رکھتے ہیں، انہیں عملی "رہنمائی” مل جاتی ہے۔ یہ رجحان بالخصوص بینک ڈکیتی، اغوا یا انٹرنیٹ فراڈ جیسے جرائم میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس سب کے ساتھ ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ جرائم کی مسلسل تشہیر نوجوان نسل پر نہایت برا اثر ڈالتی ہے۔ جب وہ روزانہ قتل، چوری، ڈاکہ یا زیادتی جیسے واقعات دیکھتے اور سنتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں یہ تاثر بیٹھنے لگتا ہے کہ یہ سب "عام” باتیں ہیں۔ یوں جرائم کے خلاف حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے اور برائی کے خلاف اجتماعی ردِ عمل دھندلا جاتا ہے۔

    میڈیا کا کام حقیقت بیان کرنا ہے، لیکن خبر کو اس انداز میں پیش کرنا کہ وہ خوف و ہراس یا سنسنی پھیلائے، صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔ ایک ذمہ دار میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کی اطلاع دے مگر اس کو تفریح یا ڈرامے کا رنگ نہ دے۔ بدقسمتی سے آج زیادہ تر میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا چینلز ریٹنگ اور ویوز کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خبر کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے غیر ضروری تفصیلات اور جذباتی تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں صحافتی اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داری پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ میڈیا کو اپنی زبان، الفاظ اور انداز پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ سخت الفاظ، ڈرامائی بیانات اور خوفناک تصاویر استعمال کرنے سے خبر ایک "تفریحی پیکیج” بن جاتی ہے۔ صحافتی اصول یہ کہتے ہیں کہ جرم کی خبر سادہ، مؤثر اور غیر جانبدار انداز میں دی جائے۔

    ریاست پر لازم ہے کہ وہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے لیے ایک واضح ضابطۂ اخلاق مرتب کرے۔ ایسا ضابطہ جو بتائے کہ کون سی معلومات عوام تک پہنچانی ضروری ہیں اور کون سی معلومات جرم کو بڑھا سکتی ہیں۔ صرف ضابطہ بنا دینا کافی نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ اداروں کو سختی کے ساتھ نگرانی کرنی ہوگی تاکہ میڈیا ریٹنگ کی خاطر قانون کی خلاف ورزی نہ کرے۔ اگر کوئی چینل یا پلیٹ فارم جرم کی غیر ضروری تشہیر کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

    اگر جرم کی خبر دینی ہی ہے تو اسے اس طرح پیش کیا جائے کہ عوام کو اس سے سبق ملے۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے میں ڈکیتی ہوئی ہے تو اس کے ساتھ عوام کو حفاظتی تدابیر سے بھی آگاہ کیا جائے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کے طریقۂ واردات پر نہیں بلکہ اس کے اسباب پر بات کرے۔ مثلاً بے روزگاری، غربت، منشیات یا سماجی ناانصافی جیسے عوامل پر روشنی ڈالی جائے تاکہ اصل بیماری کا علاج ہو سکے۔ جرائم کی خبر کے ساتھ عوامی شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ جرم سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور اگر جرم ہو جائے تو کس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا جائے۔

    آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جرم کی خبر دینا ایک صحافتی ضرورت ہے، مگر اس خبر کو اس انداز میں پھیلانا کہ معاشرہ خوف زدہ ہو یا مجرم ہیرو بن جائے، نہایت خطرناک ہے۔ خبر کا مقصد عوامی شعور بیدار کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ریٹنگ بڑھانا یا سنسنی خیزی پھیلانا۔ اگر میڈیا اور ریاست دونوں اپنی ذمہ داری پوری کریں تو جرائم کی تشہیر کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور خبر کو معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

  • صارف کے حقوق اور موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار،تحریر:یوسف صدیقی

    صارف کے حقوق اور موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار،تحریر:یوسف صدیقی

    صارف کے حقوق آج کے جدید دور میں نہایت اہم موضوع بن چکے ہیں۔ موبائل فون اور ڈیجیٹل خدمات ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ چاہے تعلیم حاصل کرنا ہو، کاروبار کرنا ہو یا روزمرہ کے امور انجام دینا ہوں، موبائل سروسز کے بغیر زندگی تقریباً نامکمل ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر موبائل کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے حقوق کی پامالی اور غیر ضروری چارجز کے ذریعے لوٹ مار کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

    صارف کے حقوق صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہیں۔ ایک صارف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شفاف قیمتوں پر معیاری خدمات حاصل کرے، اسے مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی یا اضافی چارجز سے بچایا جائے۔ پاکستان میں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، مگر عملی طور پر شکایات کا فوری حل اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ یہی کمزوری موبائل کمپنیوں کے لیے صارف سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

    موبائل سروسز میں لوٹ مار کی کئی شکلیں عام ہیں۔ اکثر کمپنیاں صارف کو پیکج کے فوائد بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں، جبکہ اصل میں وہ خدمات محدود یا اضافی چارجز کے تحت دستیاب ہوتی ہیں۔ صارفین کی معلومات کا غلط استعمال بھی عام ہوتا ہے، جیسے غیر ضروری اشتہارات بھیجنا یا ڈیٹا کی نجی معلومات فروخت کرنا۔ شکایات کے حل میں تاخیر اور غیر سنجیدگی صارف کے حق کی پامالی میں شامل ہے۔

    گذشتہ چند سالوں میں پاکستان میں متعدد صارفین نے موبائل کمپنیوں کے خلاف شکایات درج کروائی ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی صارف نے ڈیٹا پیکج خریدا، لیکن اس کا ایک حصہ غیر متوقع اضافی چارجز کے ساتھ وصول کیا گیا۔ ایسے معاملات میں صارف کو نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ کمپنی پر اعتماد بھی ختم ہوا۔ عالمی سطح پر بھی مثالیں موجود ہیں جہاں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قوانین موجود ہیں اور کمپنیاں مجبور ہیں کہ وہ شفاف اور ذمہ دار رہیں۔

    پاکستان میں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے Consumer Protection Act اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) موجود ہیں، جو صارفین کی شکایات سننے اور حل کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ تاہم، عملی طور پر شکایات کا فوری اور مؤثر حل اکثر ممکن نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے صارفین کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو چاہیے کہ وہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائیں اور موبائل کمپنیوں کو صارف کے حقوق پامال کرنے سے روکیں۔

    صارفین کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ وہ آگاہ اور بااختیار ہوں تاکہ informed choices کر سکیں۔ موبائل کمپنیوں کی شفافیت یقینی بنانا اور غیر ضروری یا چھپے ہوئے چارجز ختم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو شکایات کے فوری حل کے نظام کو مضبوط بنانا چاہیے اور صارفین کی کمیونٹی، فورمز اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کا تبادلہ اور کمپنیوں کی نگرانی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ قانونی چارہ جوئی کے عمل کو آسان اور سستا بنایا جائے تاکہ ہر صارف اپنے حقوق کے لیے آسانی سے اقدام کر سکے۔

    صارف کے حقوق کا تحفظ صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ جب صارف اپنے حقوق سے باخبر ہوگا تو موبائل کمپنیاں مجبور ہوں گی کہ وہ شفاف اور ذمہ دار سروس فراہم کریں۔ لوٹ مار اور دھوکہ دہی کے خلاف جدوجہد صرف صارف کی تعلیم اور آگاہی سے ممکن ہے۔ ہر صارف کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے اور شفاف خدمات کا مطالبہ کرے۔ موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار روکنا صرف ایک ادارے یا قانون کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ پوری معاشرتی ذمہ داری ہے جس میں حکومت، ادارے اور صارف سب مل کر اپنا کردار ادا کریں۔

  • غزہ امن منصوبہ، آزادی کا وعدہ یا اسرائیلی مفاد کی چال؟تحریر:عتیق گورایا

    غزہ امن منصوبہ، آزادی کا وعدہ یا اسرائیلی مفاد کی چال؟تحریر:عتیق گورایا

    امریکہ کی جانب سے پیش کیا گیا نیا غزہ امن منصوبہ خطے میں ایک نئی بحث کا سبب بن چکا ہے۔ یہ منصوبہ 21 نکات پر مشتمل ہے جس میں یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی بے دخلی، عبوری حکومت کے قیام اور اسرائیلی انخلاء جیسے نکات شامل ہیں۔ بظاہر یہ ایک مثبت پیش رفت دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اندر ایسی شقیں موجود ہیں جو فلسطینی عوام کے لیے خدشات پیدا کر رہی ہیں۔

    منصوبے کے مطابق معاہدے کے ابتدائی 48 گھنٹوں میں یرغمالیوں اور مرنے والوں کی باقیات واپس کی جائیں گی۔ یہ اقدام انسانی ہمدردی کے طور پر پیش کیا گیا ہے مگر حقیقت میں یہ فلسطینیوں پر فوری دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ اگر بڑے معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو یہ صرف وقتی خاموشی ہوگی جس کے بعد اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔منصوبہ کہتا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کر کے اقتدار سے الگ کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو کون پر کرے گا؟ موجودہ حالات میں کوئی بھی جماعت فوری طور پر عوامی سطح پر متبادل کے طور پر قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ یہ خلا مزید انتشار اور غیر ریاستی عناصر کے ابھرنے کا سبب بن سکتا ہے۔منصوبے میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹک حکومت قائم کرنے کی تجویز بھی ہے جو بین الاقوامی نگرانی میں کام کرے گی۔ اس حکومت کو تعلیمی، عدالتی اور انتظامی ڈھانچوں کو چلانے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اگر یہ حکومت مقامی نمائندگی کے بغیر قائم ہوئی تو اسے عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہیں ہو سکے گی۔ خطرہ یہ ہے کہ یہ عبوری مرحلہ طویل المدتی ہو جائے اور فلسطینی خودمختاری ایک خواب بن کر رہ جائے۔

    اسرائیل نے غزہ سے انخلاء پر آمادگی ظاہر کی ہے مگر شرط یہ ہے کہ متبادل سیکیورٹی فورسز تعینات ہوں۔ یہ شرط منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری ہے، کیونکہ اگر متبادل فورسز کی تیاری میں تاخیر ہوئی تو اسرائیل دوبارہ اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔منصوبے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ امن قبول کرنے والے حماس ارکان کو معافی یا محفوظ راستہ دیا جائے۔ بظاہر یہ مفاہمت کی کوشش ہے مگر متاثرین اور فلسطینی عوام کے لیے یہ اقدام ناانصافی محسوس ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں داخلی تقسیم اور مزید اختلافات پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔منصوبے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو وہ ہے جو اسرائیل کو عبوری مرحلے کے دوران غیر معمولی سیکیورٹی اختیارات دیتا ہے۔ اگر فلسطینی انتظامیہ مطلوبہ شرائط پوری نہ کر سکی تو اسرائیل کو ریاست کے قیام کے وعدے سے دستبردار ہونے کا اختیار ہوگا۔ اس طرح فلسطینی ریاست کا قیام محض ایک مشروط وعدہ بن جاتا ہے۔

    ایک اور پہلو جو سامنے آیا ہے وہ ہے “غزہ ریویرا” منصوبہ، جس کے تحت غزہ کو دوبارہ تعمیر کر کے ایک ساحلی اور سیاحتی مرکز بنانے کی بات کی گئی ہے۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر آبادی کی عبوری یا مستقل نقل مکانی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ناقدین اس کو نسلی صفایا اور آبادیاتی انجینیئرنگ سے تعبیر کر رہے ہیں۔یہ منصوبہ بظاہر امن کا خاکہ پیش کرتا ہے مگر اس کے اندر ایسے کئی خطرناک پہلو موجود ہیں جو فلسطینی خودمختاری کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ عوامی نمائندگی، شفاف وقت بندی اور واضح قانونی ضمانتوں کے بغیر نافذ ہوا تو یہ اسرائیلی مفاد کا اوزار بن کر رہ جائے گا۔ فلسطینی عوام کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے حقِ خود ارادیت کو کسی بھی بین الاقوامی منصوبے میں بنیادی شرط کے طور پر منوائیں۔

  • اکیلا مجاہد بمقابلہ پوری فوج ، اسرائیلی طاقت کا بھانڈا پھوٹ گیا ،تحریر:عتیق گورایا

    اکیلا مجاہد بمقابلہ پوری فوج ، اسرائیلی طاقت کا بھانڈا پھوٹ گیا ،تحریر:عتیق گورایا

    فلسطینی مزاحمت کا ایک واقعہ جو دنیا کو بتا گیا کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ایمان اور قربانی میں ہے

    مغربی میڈیا اسرائیلی فوج کو دنیا کی ناقابل شکست قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایک ایسی فوج جو ٹیکنالوجی، اسلحے اور تربیت میں بے مثال ہے۔ لیکن فلسطینی سرزمین پر جب حقیقت کھلتی ہے تو یہ تمام دعوے ریت کی دیوار کی طرح گر جاتے ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کے سامنے اسرائیلی فوج کی کمزوریاں نہ صرف نمایاں ہوتی ہیں بلکہ ان کی بزدلی پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو جاتی ہے۔

    یہ بات سب سے زیادہ اس وقت آشکار ہوئی جب ایک اکیلا فلسطینی فائٹر اسرائیلی فورس کے مقابل کھڑا ہو گیا۔ یہ نوجوان نہ کسی بکتر بند گاڑی پر سوار تھا، نہ ہی جدید ہتھیاروں سے لیس بلکہ ایک کلاشنکوف جو شاید AMD-65 ہے جو کہ ہنگری کی بنائی ہوئی AKM کی ہی ایک شکل ہے اور شاید ایک AGS-17 گرنیڈ لانچر ہے جو روسی تیار کردہ ہے اور گاڑی وغیرہ پر نصب ہوتا ہے۔ اس کے پاس صرف ایمان، غیرت اور عزم کا سرمایہ تھا۔ اسرائیلی فوج کے پیدل دستے بار بار اس پر ٹوٹ پڑے، لیکن وہ انہیں ناکام بناتا رہا۔ آخرکار جب فوجی دستے بے بس ہو گئے تو انہوں نے ایک ڈرون کے ذریعے اسے نشانہ بنایا۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی علامت تھا کہ اسرائیلی فوج کو دو بدو مقابلے کا حوصلہ نہیں، وہ صرف فاصلے سے وار کر سکتی ہے۔

    اسی مزاحمت کی روح کو فلسطین کے عظیم شاعر محمود درویش نے اپنے کلام میں بیان کیا:
    «أُحِبُّكَ يا وَطَنِي فَإِنَّ مَسْمَعِي وَمَنْظَرِي
    لَوْلَا الدِّمَاءُ لَمَا تَمَّ الطَّهَارَةُ وَالجِدُّ»
    محمود درويش، قصيدة: على هذه الأرض ما يستحق الحياة
    یہی وہ خون ہے جو فلسطینی مزاحمت کی بنیاد ہے۔ اسرائیلی فوج صرف نہتے شہریوں کے خلاف طاقت دکھاتی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں شہید ہونے والے بیشتر فلسطینی فضائی بمباری کا نشانہ بنتے ہیں، زمینی لڑائی میں نہیں۔ یہ اعداد و شمار خود ان کے خوف کو ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوج براہِ راست لڑائی کا سامنا کرنے کے قابل نہیں۔ اور فلسطینی مزاحمت کار بھی اکثر و بیشتر بلکہ 99 فیصد فضائی کارروائی میں ہی شہید ہوئے ہیں۔
    7 اکتوبر اس بزدلی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جب اسرائیلی فوج چھ گھنٹے تک ردعمل نہ دے سکی۔ ان کی حکمتِ عملی محض فضائی حملوں پر مبنی تھی، اور جب زمین پر سامنا کرنا پڑا تو ان کے سپاہی لڑکھڑا گئے اور پسپا ہو گئے۔ طاقتور فوج کا یہ پروپیگنڈا محض ایک فریب ہے جو سرمایہ اور میڈیا کے زور پر دنیا کو دکھایا جاتا ہے۔
    اسی حقیقت کو محمود درویش نے غزہ کے بارے میں کچھ یوں کہا:
    «غَزَّةُ بَعِيدَةٌ عَنْ أَقَارِبِهَا وَقَرِيبَةٌ مِنْ أَعْدَائِهَا
    لِأَنَّهُ مَتَى تَفَجَّرَتْ غَزَّةُ صَارَتْ جَزِيرَةً وَلا تَكْفُّ الانْفِجَارَاتُ»
    — محمود درويش،
    ترجمہ: "غزہ اپنے رشتہ داروں سے دور مگر دشمنوں کے قریب ہے، کیونکہ جب غزہ پھٹتا ہے تو ایک ایسا جزیرہ بن جاتا ہےجس کے دھماکے تھمنے کا نام نہیں لیتے”

    یہ اشعار اس حقیقت کا عکس ہیں کہ فلسطین کی سرزمین پر جب بھی ایک دلیر مجاہد کھڑا ہوتا ہے، تو وہ پوری دنیا کو ہلا دیتا ہے۔ اس اکیلے مجاہد کی قربانی محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک عہد ہے کہ مزاحمت کبھی ختم نہیں ہو گی۔
    وہ اکیلا مجاہد دراصل پوری قوم کی مزاحمت کا چہرہ ہے۔ اس نے دنیا کو بتا دیا کہ ٹیکنالوجی اور اسلحہ محض کھوکھلے دعوے ہیں، اصل طاقت ایمان، قربانی اور سچائی ہے۔ اسرائیلی فوج جب بھی کسی بہادر اور سچے حریف کا سامنا کرتی ہے تو اس کے مصنوعی دعوے اور پروپیگنڈا ریت کی طرح بکھر جاتے ہیں۔یہی وہ پیغام ہے جو فلسطین کی ہر گلی، ہر بچہ اور ہر شہید دنیا کو سناتا ہے: ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، مزاحمت کی روشنی اسے آخرکار شکست دے کر رہتی ہے۔

  • بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام عالم اس وقت جدید ٹیکنالوجی کی طرف رواں دواں ہے۔ پاکستان نے اگر بھارت سے جنگ جیتی جہاں پاک فوج کا کردار تھا وہاں جدید ٹیکنالوجی بھی شامل تھی۔ جس کی وجہ سے پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر اپنے آپ کو منوایا۔ لیکن حیران کن حد تک یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ہے۔ آخر یہ پاکستان، جمہوریت اور عوام سے کس چیز کا بدلہ لینا چاہتی ہے۔ برطانوی راج میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا کلیکٹر کے پاس انتظامی عدالتی اور پولیس تینوں طرح کے اختیارات تھے۔ مقصد یہ تھا کہ نو آبادیاتی نظام آسانی سے چل سکے رعایہ پر قابو رکھا جائے اور بغاوتوں کو دبایا جا سکے۔ آزادی کے بعد پاکستان میں یہ نظام جاری رہا لیکن بعد میں 2001 میں پولیس آرڈر اور لوکل گورنمنٹ اصلاحات کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کردار ختم کر دیا گیا اور عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کیا گیا۔ انگریز کا نظام بنیادی طور پر عوامی نمائندگی نہیں کرتا تھا بلکہ نو آبادیاتی کنٹرول کے لیے بنایا گیا تھا۔ پاکستان کے کچھ بیوروکریٹ یہ سمجھتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کو دوبارہ عدالتی اختیار ملیں لیکن وکلا کی ایک بڑی تعداد اور عدلیہ کی اکثریت اس کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ برطانیہ سمیت زیادہ تر جمہوری ممالک نے انتظامیہ اور عدلیہ کو مکمل طور پر الگ کر دیا ہے وہاں پولیس، میئر یا منتخب مقامی حکومت کے ماتحت ہے نہ کہ کسی بیوروکریٹ یا مجسٹریٹ کے۔ چیک اینڈ بیلنس کا مضبوط ڈھانچہ برطانیہ سمیت دیگر جمہوری ممالک میں بنایا گیا مجسٹریٹی نظام نو آبادیاتی اور غیر جمہوری تھا۔ پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے اداروں کی علیحدگی شفاف، احتساب اور مقامی حکومت کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا نہ کہ پرانا غلامی والا ڈھانچہ واپس لانا۔ نظام کی ساخت سے زیادہ عمل درآمد اور نیت کا ہے اگر پولیس اور عدلیہ کو آزاد اور جواب دے بنایا جائے تو مجسٹریٹی نظام کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

    حیرت انگیز طور پر 2024 میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کا مجسٹریٹی نظام ختم کرنے کا بل دونوں ایوانوں سے پاس ہونے کے باوجود ایوان صدر جاتے ہوئے گم کر دیا گیا جس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے۔ پارلیمنٹ ممبران قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران کو باز پرس کرنی چاہیے کہ وہ بل کہاں گیا۔ سن 1973 کے متفقہ آئین میں بھی مجسٹریٹی نظام ختم کرنے پر اتفاق ہوا مگر ہر دور میں بیوروکریسی رکاوٹیں ڈالتی رہی۔ بیوروکریسی اخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کو اور اس قوم کو جس میں ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل ہیں دوبارہ غلامی کے دور میں کیوں جانا چاہتی ہے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر تمام محکموں کی سربراہی ان کے پاس ہے اور ان محکموں کا جو حال ہے وہ ارکانِ پارلیمنٹ کو بھی معلوم ہے۔ آذاد کشمیر میں آج حالات خراب ہیں وہاں مجسٹریٹی نظام پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ سابقہ فاٹا میں ڈی سی جج ہوا کرتا تھا اور پولیس بھی تھی مگر وہاں کی آگ فوج نے اپنے خون سے بجھائی۔ سوال یہ ہے کہ مجسٹریٹی نظام وہاں کیا کرتا رہا؟ بلوچستان کا زیادہ تر علاقہ ڈی سی کے مکمل کنٹرول میں ہے مگر حالات سب کے سامنے ہیں وہاں بھی اگر پاک فوج نہ ہو تو سوچیے کہ پھر کیا ہو۔ وفاقی دارالحکومت میں بھی مجسٹریٹی نظام ہے ذرا غور سے سوچیے کہ اسلام آباد کے کیا حالات ہیں زیادہ پیچھے جائیں تو اسی مجسٹریٹی نظام کے دور میں امریکی سفارت خانے پر ایک ہجوم چڑھ دوڑا اور یہ واقعہ سن 1979 کا ہے اور 1989 کا حملہ اسی مجسٹریٹی نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سندھ اور پنجاب میں امن و امان بہت بہتر ہے کیونکہ پولیس اپنا کام کر رہی ہے اور عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے کہ بیوروکریسی کا ایک گروپ مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو ایک آذاد مملکت کے شایانِ شان نہیں ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ پولیس کو پروفیشنل بنائیں۔ پاکستان کے قریبی ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کے تمام بڑے شہروں میں مجسٹریٹی نظام ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ بیوروکریسی کا گروپ اب پنجاب اور سندھ میں حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا ہے ذمہ داران ریاست پنجاب اور صوبہ سندھ کی حکومت اس سنگین مسئلے پر خصوصی توجہ دے۔

  • پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان ایک ایسا انمول تحفہ ہے، جو لاکھوں جانوں کی قربانیوں، بے شمار جدوجہد اور ایمان کی طاقت کے بعد ہمیں نصیب ہوا۔ یہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کے خوابوں، درد اور امیدوں کا مجموعہ ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے اتحاد، ایمان اور لازوال قربانیوں کے ذریعے یہ عظیم وطن حاصل کیا۔ آزادی کا حصول ایک لمحے کی خوشی تھی، لیکن اصل فریضہ اس کی حفاظت، ترقی اور بقاء تھا۔ یہ بھاری ذمہ داری بانیانِ پاکستان کے بعد پاک فوج کے سپرد ہوئی، جس نے ہر دور میں یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی سلامتی اور امن کے لیے قربانی سب سے عظیم عبادت ہے۔ آج بھی پاک فوج نہ صرف وطن کی ڈھال ہے بلکہ قوم کی امید، عوام کا اعتماد اور ہر مشکل وقت میں سہارا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے بعد سے خطے کے حالات کبھی آسان نہیں رہے۔ بھارت کی جارحیت، داخلی سازشیں اور بیرونی دباؤ ہمیشہ پاکستان کے لیے چیلنج رہے ہیں۔ 1948 میں کشمیر کے محاذ پر قربانیاں ہوں، 1965 کی جنگ میں دشمن کو ناکامی کا سامنا، 1971 کے سانحات یا کارگل کی برفانی چوٹیوں پر جانوں کی قربانیاں—ہر موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی حفاظت ان کے ایمان اور غیرت کا حصہ ہے۔ ان معرکوں نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ایک چھوٹا سا ملک بھی مضبوط عزم، بلند حوصلے اور غیرت مند فوج کے ذریعے بڑے دشمن کو ناکام بنا سکتا ہے۔

    گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی نے پاکستان کی جان کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ ہزاروں معصوم شہری شہید ہوئے، مساجد، بازار، اسکول اور عوامی مقامات دہشت گردی کا شکار بنے۔ لیکن ان نازک حالات میں پاک فوج نے آپریشن راہِ راست، ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے تاریخی اقدامات کیے۔ ان آپریشنز میں فوج نے اپنی جانیں قربان کیں، خون دیا، لیکن کبھی ہمت نہ ہاری۔ آج پاکستان میں قائم امن انہی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جن کے بغیر نہ تو امن قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی قوم ترقی کر سکتی ہے۔

    پاک فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ عوام کی خدمت میں بھی ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ 2005 کے زلزلے میں فوج کے جوان سب سے پہلے ملبے تلے دبے انسانوں کو نکالنے پہنچے، سیلابوں کے دوران لاکھوں متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریلیف کیمپ قائم کیے اور بنیادی سہولیات فراہم کیں۔ کورونا وبا کے دوران بھی فوج نے عوام کی رہنمائی کی، ویکسینیشن مراکز قائم کیے اور طبی سہولیات فراہم کر کے عوام کا سہارا بنی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام پاک فوج کو صرف ایک عسکری ادارہ نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کا محافظ، اپنا سہارا اور اپنا رہنما سمجھتی ہے۔

    پاکستان آرمی نے ملکی ترقی اور قومی یکجہتی کے منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوجی اسکول، کالجز، میڈیکل ہسپتال، سڑکیں، پل اور دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبے—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج دفاع تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی استحکام میں بھی شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ فاٹا، بلوچستان اور دیگر محروم علاقوں میں فوج نے تعلیمی ادارے قائم کیے، روزگار کے مواقع پیدا کیے اور ترقی کی راہیں کھولی ہیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف عوام کی محرومیاں کم کیں بلکہ قومی یکجہتی کو بھی مضبوط کیا۔

    پاک فوج کی اصل طاقت جدید اسلحہ یا ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ ایمان، قربانی اور جذبۂ ایثار ہے جو ہر فوجی کے دل میں رچا بسا ہے۔ یہی جذبہ ایک فوجی کو سرد ترین چوٹیوں پر راتیں گزارنے، ریگستانی سرحدوں پر دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کھڑا رہنے، اور اپنی جان وطن کی خاطر قربان کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ شہید کی ماں کی آنکھوں میں درد اور فخر، زخمی فوجی کا حوصلہ اور وطن کے لیے جان دینے کا جذبہ—یہ سب پاک فوج کو دنیا کی بہترین افواج میں شامل کرتے ہیں۔

    دنیا آج ہائبرڈ وار، سائبر حملوں، جعلی پروپیگنڈے اور نئی جنگی سازشوں کا سامنا کر رہی ہے اور پاکستان بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں۔ مگر پاک فوج اپنی اعلیٰ تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور شاندار حکمت عملی کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کر رہی ہے۔ نیا عسکری سازوسامان، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک، سائبر سیکیورٹی اقدامات اور خطے میں اسٹریٹجک حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    فوج اور عوام کا تعلق ایک جسم اور روح کی مانند ہے۔ فوج عوام کے اعتماد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی اور عوام فوج کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ جب جوان دشمن کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے پیچھے کروڑوں عوام کی دعائیں، محبت اور امیدیں ہوتی ہیں۔ یہی رشتہ پاکستان کو ناقابلِ شکست بناتا ہے اور ہر بحران میں اسے سہارا دیتا ہے۔

    پاک فوج کی قربانیاں، ایمان اور خدمات صرف فوجی تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے دل میں رہنے والے جذبے کا نام ہیں۔ ہر شہید، ہر زخمی، ہر جوان جس نے سرحدوں پر دن رات محنت کی، قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی دی—یہ سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وطن کی محبت اور خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔

    پاکستان کی بقا، ترقی اور امن کا راز پاک فوج کی مضبوطی اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے۔ یہ ادارہ ہر لمحہ چوکس، قربانی کے لیے تیار اور خدمتِ خلق میں سرگرم ہے۔ پاک فوج کے جوانوں کا ایثار، بہادری اور ایمان ایک روشن مثال ہے کہ وطن کی حفاظت سب سے مقدس فریضہ ہے۔ جب تک پاک فوج ہے، پاکستان محفوظ ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔

  • پاکستان اور سعودی عرب: امتِ مسلمہ کا فولادی حصار،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اور سعودی عرب: امتِ مسلمہ کا فولادی حصار،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دنیا کی سیاست کے افق پر ایک نیا سورج طلوع ہوا ہے۔ مشرق و مغرب کی صف بندیاں بدل رہی ہیں، طاقت کے مراکز نئی کروٹیں لے رہے ہیں، اور ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ یہ معاہدہ محض الفاظ۔۔۔۔۔ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک فولادی ڈھال، ایک روشن مینار اور ایک ایسا پیمان ہے جو دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کافی ہے۔
    پاکستان اور سعودی عرب کے رشتے کوئی معمولی سفارتی تعلقات نہیں، یہ دو دلوں کی دھڑکن، دو روحوں کا امتزاج اور ایمان کی خوشبو میں بسا ہوا وہ تعلق ہے جس کی جڑیں قیامِ پاکستان کے دن سے ہی لہلہانے لگیں۔ سعودی عرب ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کر کے اس کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ہر کڑے امتحان میں ریاض نے اسلام آباد کا ہاتھ تھاما۔ چاہے 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کا خون آشام منظرنامہ ہو، یا 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پابندیوں کا کڑا طوفان، سعودی عرب نے ہمیشہ بھائی بن کر ساتھ دیا ہے۔

    ادھر پاکستان نے بھی ہر لمحہ یہ ثابت کیا کہ حرمین شریفین کی حفاظت اس کے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستانی سپاہی جب مکہ اور مدینہ کے ذکر پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لیتے ہیں تو دنیا جان لیتی ہے کہ یہ تعلق سود و زیاں کا نہیں، بلکہ عقیدت ،محبت اور ایمان کا رشتہ ہے۔
    آج جب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے عزائم بڑھ رہے ہیں اور عالمی طاقتیں اپنے پنجے گاڑنے کے لیے سرگرم ہیں، ایسے وقت میں پاکستان اور سعودی عرب کا ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ایک تاریخ ساز اعلان ہے۔ یہ صرف عسکری معاہدہ نہیں، بلکہ پوری مسلم امہ کے اجتماعی دفاع کی صدا ہے، ایک ایسی صدا جس کے پیچھے کروڑوں دلوں کی دعائیں اور جذبے شامل ہیں۔
    پاکستان اپنی ناقابلِ تسخیر فوج، ایٹمی قوت اور بے مثال جنگی تجربات کے ساتھ سعودی عرب کے لیے فولاد کا بازو ہے۔ اور سعودی عرب اپنی تیل کی دولت، مالی طاقت اور عالمی اثرورسوخ کے ساتھ پاکستان کے لیے معاشی سہارا اور سفارتی پشت پناہ ہے۔ یہ دو بازو جب ملتے ہیں تو امتِ مسلمہ کا ایک فولادی حصار تشکیل پاتا ہے جسے توڑنا کسی طاقت کے بس میں نہیں۔
    قارئین! ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ (7 مئی تا 10 مئی) میں پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ صرف دفاع نہیں بلکہ جارح دشمن کو اس کی سرزمین پر جا کر جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی مہارت اور شجاعت سے بھارت کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ یہ کامیابی محض عسکری کارنامہ نہیں بلکہ ایک اعلان تھا کہ پاکستان خطے کی ناقابلِ تسخیر قوت ہے۔
    اس شاندار فتح کے پیچھے فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی حکمتِ عملی، جرآت مندانہ فیصلے اور آپریشنل ہم آہنگی کارفرما تھی۔ ان کی قیادت نے پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کو ایک لڑی میں پرو دیا اور دشمن کی چالوں کو ملیامیٹ کر دیا۔ یہی بصیرت سعودی عرب کے ساتھ اس دفاعی معاہدے کے پس منظر میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
    یہ معاہدہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں، بلکہ ایران، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی دعوتِ فکر ہے کہ آئیں، امتِ مسلمہ ایک مشترکہ سلامتی کے پلیٹ فارم پر جمع ہو۔ اگر ہم نے اس اتحاد کو مضبوط کر لیا تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں توڑ نہیں سکتی۔
    گزشتہ برسوں میں دنیا پاکستان کو صرف دہشت گردی کی لپیٹ میں گھرا ہوا اور معاشی بحرانوں کی دلدل میں پھنستا ہوا ملک کے طور پر دیکھتی تھی، مگر آج وہی دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار، باوقار اور خودمختار ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ سب فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی متوازن قیادت کا ثمر ہے جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ صرف عسکری اتحاد نہیں بلکہ ایک روشن مستقبل کا عہد ہے۔ یہ اتحاد معیشت، سیاست اور ٹیکنالوجی میں بھی نئے دروازے کھولے گا۔ سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، تعلیمی تبادلے امت کے رشتے کو مزید گہرا کریں گے، اور مشترکہ منصوبے دنیا کو یہ باور کرائیں گے کہ مسلم امہ صرف خواب دیکھنے والی قوم نہیں بلکہ خواب کو حقیقت بنانے کی قوت بھی رکھتی ہے۔

    آخر میں، میں اپنے قارئین سے یہ کہنا چاہوں گا کہ دفاع صرف بارود اور توپ کے گولوں میں نہیں ہوتا۔ اصل دفاع اس اتحاد میں ہے جو دلوں کو جوڑ دے، قوموں کو قریب کر دے اور ایمان کی ڈور میں باندھ دے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ امت کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ کرن اندھیروں کو چیر کر روشنی لاتی ہے، یہ کرن امت کو پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم ایک ہیں تو کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔
    یقین جانیے، آنے والے دنوں میں یہ اتحاد صرف خطے کے نہیں بلکہ پوری دنیا کے سیاسی اور عسکری نقشے کو بدل دے گاان شاء اللہ۔ پاکستان اور سعودی عرب — یہ دو بھائی دراصل ایک ہی بدن کی دو سانسیں ہیں، ایک ہی چراغ کی دو لوئیں ہیں، اور ان کا یہ دفاعی پیمان امتِ مسلمہ کے فولادی حصار کی ضمانت ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ  کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی رہنمائی اور وژن کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کر رہا ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قیادت میں پنجاب کے مختلف شہروں میں ورثہ بحالی کے منصوبے عالمی معیار کے مطابق شروع کیے گئے ہیں، جو نہ صرف ثقافتی شناخت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ سیاحت اور تحقیق کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔

    حال ہی میں ہڑپہ میوزیم میں چار نئی گیلریوں کو ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی نگرانی میں اسٹیبلش کیا گیا۔ جس کا افتتاح جلد متوقع ہے یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی عملی مثال ہے، جس میں وادی سندھ کی تاریخ کو جدید تقاضوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اسی طرح شیخوپورہ قلعہ، ہرن منار، قلعہ روہتاس اور ٹیکسلا جیسے منصوبے بھی ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے زیر انتظام جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ماضی کی حفاظت اور مستقبل کے لیے ایک روشن ورثے کی بنیاد ہیں۔

    ان منصوبوں میں بھیرہ قدیم شہر کا تحفظ اور ترقی ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے مطابق بھیرہ کے منصوبے میں قدیم فصیل، تاریخی دروازوں، مساجد اور شہری ڈھانچوں کی بحالی شامل ہے۔ وزٹروں کے لیے سہولیات، شہری ماحول کی بہتری اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت اس منصوبے کو پائیدار اور عوام دوست بناتی ہے۔ سابق ڈائریکٹر محمد حسن کے مطابق بھیرہ کا تحفظ ایک زندہ تہذیب کو بحال کرنے کی کاوش ہے، جبکہ ملک مقصود نے کہا کہ تاریخی ڈھانچوں کی بحالی سے مقامی کمیونٹی براہِ راست فائدہ اٹھائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ورثہ کو ثقافتی فخر اور ٹورزم ڈویلپمنٹ سے جوڑنے پر زور دیا ہے، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایات کی روشنی میں بھیرہ سمیت تمام منصوبے عالمی معیار کے مطابق تیار کیے جا رہے ہیں۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب آرکیالوجی کی کوششوں سے نہ صرف ورثہ محفوظ ہو رہا ہے بلکہ سیاحت، روزگار اور عالمی شناخت کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔

    یہ تمام کاوشیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے وژن کی تکمیل اور ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قائدانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہیں، جو پنجاب کو ثقافتی فخر اور سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کے عزم پر مبنی ہیں۔

  • امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے

    فوجی اور سیاسی قیادت کا متفقہ موقف پیش کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بہت سے اتار چڑھاؤ سامنے آتے ہیں۔ خارجہ محاذ کی اگر بات کی جائے تو پاکستانی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا۔ ملکی صورتحال اور امریکہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ تاہم پاکستان اب اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں پر پاکستان کو امریکہ کے ساتھ دوستی کو بڑھانے میں اپنے مفادات کو سامنے رکھنا ہوگا اور امریکہ کو بھی برابری کی سطح پر نہ سہی لیکن ایک خود مختار ملک کے طور پر پاکستان کی خود مختاری کا پاس رکھنا ہوگا یہ دونوں ملکوں کے مفاد کے لیے بہتر ہوگا۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہو رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ملاقات سے قبل پاکستان اور امریکہ نے تجارتی معاہدہ طے کیا ہے جس میں امریکہ پاکستان کے تیل ذخائر کو دریافت کرنے کا معاہدہ ہے۔ پاکستان نے امریکی کمپنیوں کو کان کنی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے۔ ملاقات کے دوران پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ساتھ ہونا ایک اہم اشارہ ہے یعنی پاکستان کا یہ پیغام اس کی فوجی اور سیاسی قیادت ایک متفقہ موقف پیش کرنا چاہتی ہے۔

    یہ تمام عوامل مل کر اشارہ دیتے ہیں کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔ اپنے تعلقات امریکہ کے ساتھ اور اسے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر ایک زیادہ فعال اور متوازن مقام دلوانا چاہتا ہے۔ اگر ملاقات نتیجہ خیز ہو اور امریکہ پاکستان کے توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی شبوں میں سرمایہ کاری کرے تو اس سے روزگار کے مواقعے پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ بہتر تعاون پاکستان کو بین الاقوامی انسداد دہشت گردی نیٹ ورکس کو ٹرانس نیشنل سطح پر نشانے پر لینے میں مدد دے سکتا ہے۔ انٹیلیجنس شیئرنگ بڑھ سکتی ہے مالی معاونت مل سکتی ہے تو پاکستان داخلی سلامتی کو تقویت مل سکتی ہے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان ممکنہ طور پر امریکی گیم پلان کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ چین، بھارت، امریکہ توازن میں خود کو ایک مفید شرکت دار ثابت کرے۔ اگر امریکہ پاکستان کو ایک اہم شریک سمجھے تو پاکستان کو علاقائی سیاست میں وزن ملے گا بھارت اس ملاقات کو چین، امریکہ، پاکستان کی تاثیر میں دیکھے گا اور ممکن ہے کہ وہ سخت رد عمل دے یا بین الاقوامی فورمز پر پاکستان پر تنقید کرے۔

    پاکستان کی معیشت پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے ہے۔ سرمایہ کاری حالات شفاف نہیں ہیں کچھ علاقوں میں سکیورٹی مسائل ہیں جن پر توجہ ضروری ہے۔ موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر عوامی یا سیاسی اپوزیشن حلقے یہ کہیں کہ اس طرح کی نتیجہ خیز ملاقاتوں میں قومی مفادات قربان کیے جائیں تو اندرونی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ ملاقات خود پاکستان کے لیے گیم چینجر بن جائے گی مگر اس میں اتنی قابلیت ضرور ہے کہ اگر موثر حکمت عملی، شفافیت، سیاسی حوصلہ، دیر پا منصوبہ بندی شامل ہو تو اس کے بہت اہم مثبت اثرات ہو سکتے ہیں۔ اگر پاکستان یہ چاہے کہ اس ملاقات کا بہتر فائدہ ہو اسے چاہیے کہ امریکی معاہدوں کی شرائط کو اچھی طرح سمجھے اپنی خود مختاری کو یقینی بنائے۔ داخلی اصلاحات، قانونی شفافیت، صوبائی مساوات اور سکیورٹی حکمت عملی کو بہتر کرے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری محفوظ ہو اور عوام کو فائدہ پہنچے۔ علاقائی تعلقات کا خیال رکھے تاکہ یہ دکھایا جائے کہ پاکستان صرف امریکہ کا ہی اتحادی نہیں بلکہ ایک خود مختار ملک جو علاقائی استحکام کا خواہش مند ہے۔