Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے  بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاک فوج اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی کامیاب حکمت عملی ،سید عاصم منیر پھر ہیرو ٹھہرے
    معرکہ حق میں شاہینوں کی فتح سے پاکستان کی طاقت کو دنیا نے مان لیا،بیرونی توازن قائم
    ملک کے داخلی مسائل کو بھی حل کرنے کی ضرورت،کرپشن کے خلاف جہاد کرنا ہوگا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    عالمی طاقتوں کے کھیل میں پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمت عملی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ سفارتی حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان نے بعض امور میں واضح اور اصولی موقف اپنایا ہے مثلاً فلسطین کے مسئلے، بین الاقوامی تنازعات میں بیرونی طاقتوں کے مابین توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کسی ایک بلاک کی زبان نہ بولنا پڑے،اس وقت پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے، مہنگائی اور مالیاتی خسارے سمیت بہت سے داخلی مسائل درپیش ہیں، بیرونی طاقتیں زیادہ تر معاشی استحکام دیکھ کر اعتماد کرتی ہیں،بدعنوانی، معاشرتی و سیاسی عدم استحکام اور داخلی سیکورٹی کے مسائل سفارتی موقف کو متاثر کرتے ہیں، پاکستان کو اکثر انسانی حقوق، سیاسی آزادی وغیرہ کے معاملات میں عالمی تنقید کا سامنا رہتا ہے، بعض اوقات حکومتی تبدیلیاں یا سیاسی کشمکش کے باعث سفارتی پالیسیاں مستقل نہیں رہتیں ،جس سے بیرونی پارٹنرز میں اعتماد کم ہو جاتا ہے، پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی بنیادی طور پر فعال متوازن اور اصولی ہے، عالمی سطح پر ایک ایسا کھلا اور بات کرنے والا ملک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو صرف ردعمل نہیں دیتا بلکہ معاملات کو حتمی شکل دیتا ہے، اس حکمت عملی نے اسے کچھ معاشی فوائد، علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بہتر تعلقات اور عالمی فورمز میں زیادہ سنی جانے والی آواز دی ہے، یاد رہے کامیابی کا دارومدار صرف سفارتی باتوں پر نہیں داخلی استحکام معاشی، سیاسی، سکیورٹی، شفافیت اور حکومت کی صلاحیت، پالیسیوں کا تسلسل، مواصلاتی حکمت عملی، ڈپلومیسی کے ذریعے تاثر کو منظم کرنا شامل ہے،داخلی صورت حال میں ملک کے تمام اداروں کو جن میں سول بیوروکریسی، بیوروکریٹ، اعلیٰ پولیس افسران، اقرباءپروری کرنے والے وفاقی اور صوبائی وزراء کرپشن میں ملوث مختلف سول ادارے لینڈ مافیا کے پشت پناہ، سول انتظامیہ اور دیگر اپنا قبلہ درست کریں اور سفارتی حکمت عملی پر عمل کریں، اپنے ذاتی مفادات کو ملک پر قربان کریں، عوام بھی بھرپور ساتھ دیں تو وطن عزیز کا دنیا میں اہم کردار مزید مستحکم ہو سکتا ہے، علم اور عمل کے سفر پر گامزن ہو جائیں، موجودہ سفارتی حکمت عملی نے پاکستان کو طاقتور اور ایک ذمہ دار ملک بنا دیا ہے،بلاشبہ پاکستان کی موجودہ بین الاقوامی سفارتی حکمت عملی میں پاک فوج جملہ اداروں اور وفاقی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کا کردار انتہائی اہم رہا ہے

  • اسلامی اتحادعوامی  خواہش، لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا کیوں نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلامی اتحادعوامی خواہش، لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا کیوں نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے موجودہ عالمی دنیا کو دیکھا جائے تو مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم بنیادی طور پر اپنی بقاء، طاقت اور معاشی مفادات کے لیے پالیسیاں بناتے ہیں۔اسلام بطور دین ہمیں حق اور انصاف، مظلوم کی حمایت اور باہمی اتحاد کا درس دیتا ہے۔ لیکن مسلم ممالک کی حکومتیں ہمیشہ ان اصولوں پر نہیں چلتیں ان کی سیاست اکثر بین الاقوامی تعلقات، طاقت کے توازن معیشت اور اپنی کرسی بچانے پر مبنی ہوتی ہے۔ اس لیے جب اسلامی جنگ یا اسلامی اتحاد کی بات کی جاتی ہے تو عملی طور پر وہ زیادہ نعرہ ہی رہتا ہے تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ عرب اسرائیل جنگوں میں بھی عرب ممالک متحد ہو کر نہیں لڑ سکے کشمیر یا فلسطین جیسے مسائل پر بھی مسلم دنیا کا موقف تو ہے لیکن عملی اتحاد اور حقیقی قربانی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ کئی بار مسلم ممالک آپس میں ہی جنگوں میں الجھے ہیں جس کی مثالیں موجود ہیں۔

    آج کی جنگیں مفادات کی جنگیں ہیں مسلم ممالک کی عوام میں درد، محبت اور دینی غیرت اب بھی زندہ ہے لیکن حکومتوں کی سطح پر زیادہ تر فیصلے سیاسی و معاشی مصلحتوں کے تابع ہیں۔ زیادہ تر مسلم ممالک میں حکمران اپنی کرسی اور اقتدار بچانے کو اولین ترجیح دیتے ہیں قومی مفادات کو اسلامی اتحاد پر فوقیت دیتے ہیں۔ بہت سے ممالک عالمی طاقتوں مثلاً امریکہ، روس، چین وغیرہ پر انحصار کرتے ہیں جس کی وجہ سے آزاد فیصلے نہیں کر پاتے۔ شیعہ، سنی صوفی، وہابی وغیرہ تقسیمیں اکثر سیاسی رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ بڑے ممالک جیسے ایران اور سعودیہ عرب اپنے اپنے بلاکس بنانے میں لگے رہتے ہیں جس کا نتیجہ دشمنی اسلامی بھائی چارے پر غالب آ جاتی ہے۔ ترکی، ایران، عرب ممالک اور برصغیر کے اپنے اپنے قومی ایجنڈے ہیں ہر ملک اپنی زبان نسل اور جغرافیے کو ترجیح دیتا ہے جس کی وجہ سے (اُمتِ واحدہ) کا تصور عملی طور پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ مسلم دنیا میں بے شمار وسائل ہیں تیل، گیس، مدنیات، افرادی قوت مگر ان کا استعمال بکھرا ہوا ہے۔ امیر مسلم ممالک غریب مسلم ممالک کی سنجیدگی سے مدد نہیں کرتے مسلم دنیا میں سوچنے اور سوال کرنے کی روایت کمزور ہو چکی ہے۔ زیادہ تر زور جذباتی نعروں پر ہے عملی منصوبہ بندی اور سائنسی ترقی پر نہیں۔ نتیجہ یہ کہ عالمی سطح پر فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں تو ان کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ اکثر مسلم ممالک ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسلامی اتحاد اسلامی ممالک کی عوام کی خواہش تو ہے لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا نہیں۔ جب تک قیادتیں اپنے ذاتی مفادات کو اُمت کے مفاد پر قربان نہیں کریں گی اتحاد محض تقریروں اور قراردادوں تک محدود رہے گا۔

  • مالیاتی تعلیم: خوشحال معاشرے کی بنیاد،تحریر:عمر افضل

    مالیاتی تعلیم: خوشحال معاشرے کی بنیاد،تحریر:عمر افضل

    "کیا واقعی اچھی ڈگری اور اچھی نوکری ہی کامیابی کی ضمانت ہیں؟”
    ہمارے معاشرے میں بچپن سے یہی سوچ ذہنوں میں بٹھا دی جاتی ہے کہ امتحان میں اچھے نمبر لاؤ، ڈگری حاصل کرو اور پھر ایک اچھی نوکری کے ذریعے "بڑے آدمی” بن جاؤ۔ لیکن حقیقت اس سوچ سے کہیں مختلف ہے۔ آج بہترین ڈگری رکھنے والے نوجوان بھی بے روزگاری کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور نوکری مل بھی جائے تو وہ مالی آزادی دینے سے قاصر ہے۔
    "معروف کتاب Rich Dad Poor Dad کے مصنف رابرٹ کیوساکی کے مطابق: ‘غریب اور متوسط طبقہ پیسے کے لیے کام کرتا ہے، جبکہ امیر طبقہ پیسے کو اپنے لیے کام پر لگاتا ہے’۔” یہی بنیادی فرق ہمارے معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارا تعلیمی نظام، جو نوآبادیاتی دور کی باقیات میں سے ہے، طلبہ کو صرف ملازمت کا غلام بناتا ہے، مگر یہ نہیں سکھاتا کہ پیسے کو کس طرح اپنے لیے کام پر لگایا جائے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں رٹنے کا رجحان عام ہے، طلبہ کو صرف وہ معلومات یاد کرائی جاتی ہیں جن کی بدولت وہ امتحان میں کامیاب ہوسکیں، مگر عملی زندگی کے مسائل حل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ناکام رہتے ہیں۔ یونیورسٹیاں ڈگریاں تو بانٹ رہی ہیں، لیکن وہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند نوجوان پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔ اکنامک سروے 2024 کے مطابق، ملک کی 26 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کی عمر کے درمیان ہے، لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد کے پاس ایسے عملی ہنر موجود نہیں جو مارکیٹ کی ضرورت ہیں۔ اگر یہ نوجوان مالیاتی شعور اور ہنر سے لیس ہوں، تو ملکی معیشت کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

    اگر ہم عملی تربیت کی مثال دیکھنا چاہیں تو پشتون معاشرے کو دیکھ سکتے ہیں، جہاں بچے صرف اسکول نہیں جاتے بلکہ بچپن ہی سے اپنے والد کے ساتھ دکان یا کاروبار میں ہاتھ بٹاتے ہیں، اور یہی تربیت انہیں محنت کی عادت، مالی نظم و ضبط اور کاروباری ہنر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے خود بھی روزگار کماتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرزِ فکر کو ہم سنگاپور اور جرمنی جیسے ممالک کے تعلیمی ماڈلز میں بھی دیکھتے ہیں، جہاں نوجوانوں کو شروع ہی سے عملی ہنر سکھائے جاتے ہیں۔ دنیا کی بڑی معیشتیں اسی سوچ کے تحت آگے بڑھی ہیں کہ نوجوان صرف نوکری کے خواہاں نہ ہوں بلکہ دوسروں کے لیے بھی نوکریاں پیدا کرنے والے ہوں۔

    ہمارے تعلیمی اداروں کو نوکری کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے ذہن تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات اہم ہیں
    بچوں کو بچت، بجٹ سازی اور سرمایہ کاری کے بنیادی اصول سکھائے جائیں۔
    رٹے کے بجائے پروجیکٹ بیسڈ لرننگ متعارف کرائی جائے، مثلاً چھوٹے کاروباری منصوبے شروع کروائے جائیں۔
    اساتذہ کو مالیاتی اور کاروباری تعلیم سکھانے کی خصوصی تربیت دی جائے۔
    ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کو چاہیے کہ مالیاتی تعلیم کو پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے نصاب میں لازمی شامل کرے۔

    بحیثیت والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ بچوں کو صرف ڈگری کے پیچھے دوڑانے کے بجائے انہیں اعتماد، تخلیقی صلاحیت اور خطرہ مول لینے کا حوصلہ دینا ہوگا۔ نوکری ایک ذریعہ ہے، حتمی مقصد نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ممکن ہے جب نوجوان روزگار پیدا کرنے والے اور مالی طور پر آزاد ہوں۔
    یہی وہ راستہ ہے ،جو پورے معاشرے کو خوشحالی اور معاشی آزادی کی جانب لے جا سکتا ہے۔اگر آج ہم نے اپنی سوچ اور نصاب کو نہ بدلا، تو آنے والی نسلیں بھی اسی گرداب میں پھنستی جائیں گی۔

  • شہباز شریف کا دورہ قطر ایک جائزہ،تحریر:یوسف صدیقی

    شہباز شریف کا دورہ قطر ایک جائزہ،تحریر:یوسف صدیقی

    انڈیا کو بہت تکلیف ہو رہی ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں آگے بڑھ کر قیادت کیوں کر رہا ہے۔ انڈیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک نیو کلیئر طاقت ہے، جس کے پاس دنیا کی سب سے مضبوط بری، بحری اور فضائی قوت، یعنی پاک افواج، موجود ہے۔ پاکستان کی فوج ہر وقت تیار ہے اور کسی بھی خطرے کے خلاف پہرے پر ہے۔ یہ حقیقت نہ صرف پاکستان کی دفاعی طاقت بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ اور اعتماد کا لازمی حصہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مستحکم ملک کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔

    اسی پس منظر میں وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ قطر دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ نہ صرف قطر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے تھا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے اصولی موقف اور عرب دنیا میں اس کے اثر و رسوخ کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے بعد وزیراعظم نے فوری طور پر دوحہ کا دورہ کیا اور قطری قیادت کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کا عملی مظاہرہ کیا۔ ان کا یہ اقدام عالمی سطح پر پاکستان کے مؤثر کردار اور عرب دنیا میں اہم مقام کا عملی ثبوت ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی دور اندیش قیادت نے عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف قطر کے ساتھ تعلقات مستحکم کیے بلکہ خطے میں امن و استحکام اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اصولوں پر مبنی رہی ہے، اور شہباز شریف کی قیادت میں یہ اصول اور بھی واضح انداز میں عالمی منظرنامے پر سامنے آئے ہیں۔

    پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت کی ہے اور عرب دنیا کے مسائل میں ثالثی اور قیادت کا کردار ادا کیا ہے۔ شہباز شریف کا قطر دورہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور فعال کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف عرب دنیا میں معتبر اور مؤثر حیثیت رکھتا ہے بلکہ ہر وقت امن، انصاف اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داری کو بخوبی سمجھتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی خارجہ پالیسی کی کامیابی بھی واضح طور پر نظر آئی ہے۔ عرب دنیا میں ان کا ذاتی قیادت کا مظاہرہ نہ صرف پاکستان کے اصولی موقف کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج بھی قائم کرتا ہے۔ ان کی دور اندیش قیادت نے پاکستان کو ایک فعال اور دلیرانہ کھلاڑی کے طور پر پیش کیا، جو خطے میں امن اور تعاون کے فروغ کے لیے مصمم ارادے والا ہے۔ شہباز شریف کی دوحہ میں دی گئی تقریر نے عالمی دنیا کو بالعموم اور انڈیا کو بالخصوص ہلا کر رکھ دیا، جبکہ اسرائیل میں بھی پاکستان کے حوالے سے ہلچل پیدا ہو گئی کہ پاکستان عرب ممالک کی سرپرستی اور رہنمائی کے لیے مشرق وسطیٰ میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کامیابی نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان نہ صرف نیو کلیئر اور دفاعی طاقت کے حوالے سے مضبوط ہے، بلکہ عالمی سیاسی و سفارتی میدان میں بھی ایک مؤثر اور قائدانہ حیثیت رکھتا ہے۔

    یہ دورہ اور پاکستان کا ردعمل عالمی سطح پر اس بات کا عملی مظاہرہ ہے کہ ہمارا ملک اصولوں پر مبنی خارجہ پالیسی کے ساتھ عرب دنیا میں اتحاد اور رہنمائی کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف دفاع اور نیو کلیئر طاقت کے حوالے سے مضبوط ہے بلکہ عالمی سیاسی، سفارتی اور اقتصادی میدان میں بھی ایک مؤثر اور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

    مزید برآں، اس دورے نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی اور عالمی سیاست میں اس کی فعال شرکت کو نمایاں کیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان صرف علاقائی محاذ پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اصولی، مستحکم اور قابل اعتماد شریک ہے، جو امن، ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے مستقل کوشاں ہے۔

  • سعودی امداد پر پروپیگنڈا، حقیقت اور جواب،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی امداد پر پروپیگنڈا، حقیقت اور جواب،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں جب مفادات کی سیاست اپنے عروج پر ہے، ایسے وقت میں کچھ رشتے خالص جذبوں اور بے لوث قربانیوں کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ انہی پاکیزہ رشتوں میں پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کا تعلق سب سے نمایاں ہے۔ یہ تعلق محض دو ریاستوں کا نہیں بلکہ دو دلوں کا ہے جو ایمان، اخوت، قربانی اور بھائی چارے کے رشتے سے جُڑے ہوئے ہیں۔تاہم افسوس کا مقام ہے کہ حالیہ دنوں میں کچھ شرپسند عناصر نے سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی امداد پر جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا آغاز کیا ہے تاکہ عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ یہ محض ایک جھوٹی مہم نہیں بلکہ ایک عالمی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلم دنیا کو باہمی اتحاد اور اعتماد سے محروم کرنا ہے۔
    اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے دوران سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کی سیاسی حمایت کی بلکہ مالی اور سفارتی سطح پر بھی بے مثال تعاون فراہم کیا۔ 2005ء کے قیامت خیز زلزلے میں سعودی عرب نے سب سے پہلے ریلیف طیارے پاکستان بھیجے۔ لاکھوں خیمے، ٹنوں ادویات، خوراک اور اربوں روپے کی مالی امداد سعودی عرب کی طرف سے فوری طور پر پہنچائی گئی۔اسی طرح 2010ء کے سیلاب میں جب پاکستان کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا، سعودی عرب نے کھلے دل کے ساتھ امداد فراہم کی۔ سعودی عوام نے اپنے بھائیوں کے لیے زیورات تک عطیہ کیے۔ یہ وہ اخوت ہے جسے کوئی منصف مزاج شخص جھٹلا نہیں سکتا۔

    پاکستان کی معیشت کئی بار شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔ ایسے مواقع پر سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کو سہارا دیا۔ کبھی اربوں ڈالر کے قرضے دیے گئے، کبھی تیل مؤخر ادائیگی پر فراہم کیا گیا، اور کبھی سرمایہ کاری کے دروازے کھولے گئے۔ آج بھی لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار کے ذریعے اپنے گھروں اور ملکی معیشت کا سہارا ہیں۔یہ تعلق محض سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ روحانی بنیادوں پر قائم ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے پاکستانی عوام کا والہانہ تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں۔ حج و عمرہ کے دوران سعودی حکومت کی جانب سے مہمانوں کو جو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں وہ لائقِ تحسین ہیں۔ یہ وہ تعلق ہے جسے کوئی سازش یا پروپیگنڈا کمزور نہیں کر سکتا۔ تاہم اس کے باوجود بدقسمتی سے بعض عناصر سعودی عرب کی نیک نیتی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ گروہ ہیں جو دراصل بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ کبھی فلسطین کے مسئلے پر اختلافات کو ہوا دی جاتی ہے، کبھی ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور اب پاکستان و سعودی عرب کے رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کے عالمی منصوبے کا حصہ ہے۔

    پاکستانی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ سعودی عرب ان کا مخلص بھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر سعودی عرب کے لیے محبت اور عقیدت ہمیشہ قائم رہی ہے۔ یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ پاکستانی میڈیا، اہلِ قلم اور دانشور آگے بڑھیں اور اس جھوٹے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیں۔ سعودی عرب کی خدمات اور قربانیوں کو فراموش کرنا محسن کُشی کے مترادف ہے اور یہ رویہ دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے۔
    آج امتِ مسلمہ فلسطین، کشمیر، افغانستان، عراق اور شام جیسے مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک کا اتحاد پوری امت کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگر یہ رشتہ مضبوط رہا تو دشمن کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔

    آئیے ہم سب اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ دلوں کی دھڑکنوں سے جڑا ہے۔ جب پاکستان مصیبت میں گھرتا ہے تو سعودی عرب کا ہاتھ ہمیشہ بڑھتا ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں گے اور اپنے محسن کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔اے اللہ! پاکستان اور سعودی عرب کے تعلق کو ترقی اور استحکام عطا فرما۔ دونوں ممالک کو ہر سازش اور ہر فتنے سے محفوظ رکھ۔ امتِ مسلمہ کو اتحاد کی لڑی میں پرو دے تاکہ تیرے دین کا پرچم بلند ہو۔ آمین ثم آمین ۔

  • فوجی قربانیوں کا جواب، دہشت گردوں کا خاتمہ قریب ،تحریر:یوسف صدیقی

    فوجی قربانیوں کا جواب، دہشت گردوں کا خاتمہ قریب ،تحریر:یوسف صدیقی

    وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں کا دورہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں جنوبی وزیرستان میں شہید ہونے والے 12 بہادر جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت اور زخمیوں کی عیادت شامل تھی، یہ پاکستان کی قربانیوں اور افواج کے عزم کی ایک ناقابلِ فراموش علامت ہے، اور یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن کے دشمن چاہے داخلی ہوں یا خارجی، ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں، اور قوم کے بہادر جوانوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ فورسز کے آپریشنز میں بھارتی پراکسیز کے 35 دہشت گرد ہلاک اور 12 بہادر جوان شہید ہوئے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام، افواج اور ریاست متحد ہو کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر بلا شبہ اور بلا ابہام واضح کیا کہ دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی یا نرم رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، افغان حکومت کو صاف اور سخت پیغام دیا گیا کہ یا تو پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کریں یا خارجی دہشت گردوں اور بھارتی پراکسیز کو پناہ دینے کا خطرناک کھیل فوراً بند کریں، کیونکہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے میں کسی بھی طرح کے سیاسی کھیل، گمراہ کن بیانیے یا نرم گوشے کو برداشت نہیں کرتی، اور ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر افواج کے جوان اس ایک موقف پر متحد ہیں۔

    پاکستان کیخلاف افغان سرزمین کے استعمال پر آئی ایس پی آر نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے، اور انٹیلی جنس رپورٹس سے تصدیق ہوئی ہے کہ افغان شہری بھی پاکستان مخالف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، جبکہ فتنہ الخوارج کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے، جو پاکستان میں خون کی ہولی کھیلنے اور دہشت پھیلانے کے لیے افغان سرزمین کا بدترین استعمال کر رہا ہے، اور یہ ایک ناقابلِ برداشت حقیقت ہے کہ بھارت نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے بلکہ ان کے کام کو سہولت بھی فراہم کر رہا ہے۔ آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ افغان عبوری حکومت اپنی زمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے، اور علاقے میں موجود ہر بھارتی اسپانسرڈ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔

    یہ ایک تلخ اور ناقابلِ برداشت حقیقت ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ دہشت گردوں اور خوارج کے خونریز ماضی کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں "بھٹکے ہوئے بھائی” کہہ کر پیش کیا، حالانکہ یہ وہی خونریز عناصر ہیں جنہوں نے ہزاروں معصوم پاکستانیوں کا خون بہایا، ملک کو خوف، دہشت اور بدامنی میں دھکیل دیا اور عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا، اور ان کے نرم رویے اور سیاسی جواز کی وجہ سے خوارج اور بھارتی پراکسیز نے طاقت پکڑی، جس کا خمیازہ آج بھی پاکستانی عوام بھگت رہی ہے، اور یہ وقت ہے کہ ان تمام سازشی عناصر کے خلاف فیصلہ کن اور کڑوی کارروائی کی جائے، تاکہ کوئی بھی یہ غلط فہمی نہ رکھ سکے کہ پاکستان میں دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کو کوئی رعایت حاصل ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں، پاکستانی عوام، ریاست اور افواج متحد ہوکر دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہیں، اور یہ واضح پیغام ہر دشمن کے لیے ہے کہ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والوں، داخلی خوارج یا خارجی پراکسیز، چاہے وہ افغان سرزمین سے کارروائی کریں یا بھارتی سرپرستی میں ہوں، ان کے لیے کوئی معافی نہیں، ان کا مکمل خاتمہ ہو گا اور ملک کو ہر قسم کی بدامنی سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا، کیونکہ یہ وقت صرف بیان بازی، ڈھونگ یا سیاسی کھیل کا نہیں بلکہ عمل، قربانی، اور دشمنوں کے خلاف بلا تفریق فیصلہ کن کارروائی کا ہے، اور افواج پاکستان کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

  • سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    رات کے سناٹے میں اچانک شور اٹھا۔ پانی کی بے قابو لہروں نے گلیوں اور گھروں کو روند ڈالا۔ سانس لینے کا موقع تک نہ ملا؛ لمحوں میں بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ وہ منظر ایسا تھا جیسے قیامت اتر آئی ہو۔ مائیں اپنے بچوں کو چادر میں لپیٹ کر بھاگ رہی تھیں، مگر پانی کے تیز بہاؤ نے ان کے قدم اکھاڑ دیے۔ بوڑھے کسان اپنی زندگی کی کمائی بچانے کی کوشش کرتے رہے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے کھیت، فصلیں اور مویشی سب سیلاب میں بہہ گئے۔

    علی پور کی گلیاں، جو کل تک زندگی سے بھری تھیں، آج پانی، کیچڑ اور موت کے سناٹے میں ڈوبی ہیں۔ وہ کھیت جہاں فصلیں لہلہاتی تھیں، وہاں اب کھڑا پانی پڑا ہے اور کسان اپنی محنت آنکھوں کے سامنے ڈوبتا دیکھ رہے ہیں۔ جانور، جو کبھی روزگار کا سہارا تھے، کھیتوں میں ڈوب گئے۔ لوگ جانیں بچانے کے لیے دوڑے، لیکن نہ راستہ بچا اور نہ ہی کشتی دستیاب تھی۔ جو کشتیاں ملیں بھی تو وہ کشتی مافیا کے ہاتھ میں تھیں جنہوں نے کرایہ کئی گنا بڑھا دیا تھا۔ غریبوں کی جان بھی یوں نیلام ہو گئی۔ کتنی مائیں اپنے بچوں کو بازوؤں میں اٹھائے مدد کے لیے چیختی رہیں، مگر کشتی والوں نے سننے تک گوارا نہ کیا۔

    جلال پور پیر والا میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔ جب دریا کی لہر بے قابو ہوئی تو لوگ چھتوں پر چڑھ گئے۔ گھروں کے دروازے، کھڑکیاں اور دیواریں پانی نے نوچ لیں۔ بازاروں میں مایوسی کے سوا کچھ نہ رہا۔ وہ گھر جو برسوں کی محنت سے بنے تھے، لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ بچے چیختے رہے، عورتیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی رہیں اور بزرگ زمین پر بیٹھ کر آنکھوں سے آنسو بہاتے رہے۔

    یہ سیلاب صرف ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ ایک سخت حقیقت بھی ہے۔ یہ چیخ کر بتا رہا ہے کہ لاہور کے ایوانوں سے جنوبی پنجاب کے دکھ سمجھے نہیں جا سکتے۔ فیصلے وہاں بیٹھے لوگ کرتے ہیں، جنہیں نہ یہاں کے دریاؤں کا شور سنائی دیتا ہے اور نہ ہی یہاں کے جنازوں کی سسکیاں۔ ہر بار یہی ہوا: پانی آیا، سب کچھ بہا لے گیا، اور پھر سب کچھ بھلا دیا گیا۔ مگر اس بار درد اور تلخ ہے—کیا جنوبی پنجاب کے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے؟

    لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔ خیموں میں بچے بھوک سے بلکتے ہیں، عورتیں خالی برتن لیے کھڑی ہیں، اور مرد لاچارگی میں اپنی ہی زمین کو کوس رہے ہیں۔ پانی اتر بھی جائے گا مگر یہ زخم نسلوں تک رہیں گے۔ ہر بچہ جو آج خالی پیٹ سو رہا ہے، کل بڑا ہو کر پوچھے گا کہ ہمارے ساتھ انصاف کیوں نہیں ہوا؟

    اب وقت صرف تعزیت کا نہیں بلکہ فیصلے کا ہے۔ جنوبی پنجاب کو اس کا حق دیا جانا چاہیے۔ ایک نیا صوبہ بنایا جائے تاکہ فیصلے وہ لوگ کریں جو اس مٹی کے باسی ہیں، جو ان دریاؤں کے کنارے رہتے ہیں، جو ہر سیلاب میں اپنے پیاروں کو دفناتے ہیں۔ یہ الگ صوبہ سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔

    سوال یہی ہے: کتنی اور لاشیں، کتنے اور جنازے، کتنے اور گھر ڈوبیں گے، تب جا کر کوئی مانے گا کہ جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے؟۔۔

  • بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں وقتا فوقتا ریاستی سلامتی کے اداروں اور تنصیبات پر حملے ہوتے رہے ہیں اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ بعض کالعدم تنظیمیں اور عسکریت پسند گروہ ریاستی اداروں کو ٹارگٹ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اپنی نظریاتی یا ریاستی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ حملے زیادہ تر ایسے گروہوں کی طرف سے ہوتے ہیں جو پاکستان کے آئینی اور ریاستی ڈھانچے کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور خطے میں اس کے کردار کی وجہ سے بعض بیرونی قوتیں جس میں بھارت بھی شامل ہے ایسی سرگرمیوں کو ہوا دیتی ہیں تا کے ملک میں عدم استحکام رہے۔ افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کی صورتحال بھی اس میں اثر انداز ہوتی ہے۔ معاشی بحران سیاسی عدم استحکام اور گورننس کے مسائل بھی شدت پسندی کو تقویت دیتے ہیں۔ جب ریاست کے اندرونی مسائل بڑھتے ہیں تو دہشت گرد گروہوں کو اپنے نیٹ ورک پھیلانے کے لیے ماحول سازگار مل جاتا ہے۔ آج کے دور میں دشمن صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑتا بلکہ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا مہم اور اداروں پر حملے کروا کے ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ یہ ریاستی ادارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ اگر عوام کے ذہن میں ان اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے تو پورے نظام پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔

    حال ہی میں ریاستی فورسز نے افغان سرحد کے نزدیک چند خفیہ ٹھکانوں پر کاروائیاں کیں خصوصا باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور دیگر اضلاع میں شدت پسند ہلاک ہوئے ہمارے فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال بلوچستان میں دیکھی جا رہی ہے۔ جعفر ایکسپریس واقعہ بھی ہوا جہاں شدت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بھی بنایا اور شہید بھی کیا۔ فوجی اور سلامتی اداروں کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کہ وہ ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر یہاں سرحدی قربت، پہاڑی جغرافیہ، افغان طالبان کی حمایت اور مقامی نیٹ ورکس کی موجودگی سہولت دیتی ہے۔ بلوچستان علیحدگی پسند گروہ مکران، پنجگور، کیچ، اور کوئٹہ کے اطراف میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ سرحد پر حملے صرف افغانستان سے داخل ہو کر خودکش بم دھماکے، چوکیاں، قافلے، بکتر بند گاڑیاں ٹارگیٹڈ حملے کرتے ہیں۔ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا وار، عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے سرحدی کنٹرول کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی بیس، انٹیلیجنس مانیٹر کا بہتر استعمال کرنا ہوگا۔ فوج، پولیس اور سول انٹیلیجنس اداروں کے درمیان فوری معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ سیاسی شمولیت قبائلی اضلاع میں عوامی نمائندگی بڑھانا ہوگی۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں خصوصی اکنامک، تعلیم، روزگار، اور صحت پر توجہ دینا ہوگی۔ جو عسکریت پسند ہتھیار ڈالنے کو تیار ہوں ان کی معافی اور بھاری پروگرام جیسا کہ سری لنکا نے تامل باغیوں کے بعد کیا کرنا ہوگا۔ علماء اور سول سوسائٹی کو شامل کر کے شدت پسندانہ بیانیے کا علمی و مذہبی توڑ کرنا ہوگا۔ دشمن کے پروپیگنڈا مہم کا جواب موثر اور عوامی رابطہ مہم سے دینا ہوگا۔ سیاسی قوتوں کو قومی سلامتی کے معاملات پر متفق کرنا ہوگا تاکہ شدت پسند درمیان کی خالی جگہ استعمال نہ کر سکیں۔ سفارتی ذرائع سے طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ چین، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور حتی کہ امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف تعاون حاصل کرنا ہوگا۔ پاکستان کے سلامتی اداروں پر حملے زیادہ تر کے پی کے (قبائلی اضلاع) اور بلوچستان میں ہوتے ہیں جہاں جغرافیائی سیاسی اور سماجی محرکات شدت پسندوں کو سہولت دیتے ہیں اس کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔ جبکہ اس میں مضبوط سفارتی پالیسی شامل ہونی چاہیے۔

  • سیلاب کی تباہ کاریاں، 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب کی تباہ کاریاں، 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہیں ہونا بہت بڑا المیہ ہے جس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے

    پاکستان میں ہر سال بارش اور سیلاب آتے ہیں ، دیہات ڈوب جاتے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، اربوں کا نقصان ہوتا ہے

    آخر کیا وجہ بنی کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس رپورٹ پر نہ خود عمل کیا اور نہ ہی عملدرآمد کروایا اور نہ ماہرین واٹر مینجمنٹ سے استفادہ حاصل کیا؟

    وزراء اعلٰی پنجاب سندھ، بلوچستان، کے پی کے، گلگت بلتستان ڈچ رپورٹ منگوا کر اس پر ورک کریں اور ملک سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچائیں

    قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنی سوچ کو بدل لیں۔نیدر لینڈ نے بدلا اور بچ گیا۔ ہم کب بدلیں گے؟ یا ہر سال اگلے سیلاب تک پھر صرف رونا اور انتظار کریں گے؟

    نیدر لینڈز کے ماہرین واٹر مینجمنٹ نے 2022 کے سیلاب کے فورا بعد 16 مئی 2023 میں سیلاب سے متاثرہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے وزٹ کے بعد نیدرلینڈز کے سفارت خانے کی جانب سے پاکستان میں سیلاب پر قابو پانے اور پانی سے متعلقہ آفات کے خطرے کو کم کرنے کے حوالے سے وزارتِ آبی وسائل اور وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے اشتراک سے ورکشاپ منقعد کی تھی جس میں بین الاقوامی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، غیر ملکی مشنز اور پاکستانی حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی تھی جس میں پانی کی بہتر نظم و نسق پر زور دیا گیا تھا۔ ورکشاپ ڈچ رسک ریڈکشن (DRR) ٹیم کے نتائج پر مبنی تھی۔ 2022 کے سیلاب کے بعد، پاکستان نے نیدرلینڈ سے کہا کہ وہ سیلاب اور پانی کے انتظام کے لیے تکنیکی مدد فراہم کرے۔ اس موقع پر ڈچ ماہرین کے تعاون کو سراہتے ہوئے فیڈرل فلڈ کمیشن کے چیئرمین مسٹر احمد کمال نے وزارت آبی وسائل کے ذریعے پاکستان اور ہالینڈ کے درمیان آبی وسائل اور سیلاب کے انتظام پر طویل المدتی تعاون کی تجویز پیش کی تھی۔ ہالینڈ کی سفیر مسز ہینی ڈی وریس نے کہا تھا کہ سیلاب انہیں نیدرلینڈز میں 1953 کے سیلاب کی یاد دلاتا ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام نے ڈچ آبادی کی حمایت کی تھی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے آبی آفات اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے ہالینڈ کی جانب سے جاری تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ساتواں سب سے زیادہ خطرے کا شکار ملک ہے، اور حکومت پاکستان عالمی برادری کے ساتھ شراکت داری کے لیے پرعزم ہے تاکہ ان کے علم اور مہارت سے استفادہ کیا جا سکے، اور مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے کے لیے لچکدار اور موافقت پذیر انفراسٹرکچر بنایا جا سکے۔ پاکستان میں ہر سال بارش اور سیلاب آتے ہیں ، دیہات ڈوب جاتے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ میڈیا چند دن شور مچاتا ہے، حکومت امداد مانگتی ہے، بیرونی ایجنسیاں تھوڑا سا فنڈ دیتی ہیں اور پھر سب کچھ بھول کر ہم اگلے سیلاب کا انتظار کرتے ہیں۔ نہ ڈیم بنائے جاتے ہیں۔ نہ دریاؤں کی صفائی ہوتی ہے۔ نہ حفاظتی بند مضبوط کیے جاتے ہیں۔ نہ کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ بنی ہم نے نیدرلینڈز ماڈل کو کیوں نہیں اپنایا اور نیدر لینڈز کے ماہرین واٹر مینجمنٹ سے استفادہ حاصل کیوں نہیں کیا؟ کیا ہم اپنے ملک کے عوام کو ہر بار کی طرح ایسے ہی سیلابی ریلوں کے رحم و کرم پر چھوڑیں دیں گے؟ ہر سال اربوں کے نقصانات کرتے رہیں گے۔ مگر کوئی پالیسی نہیں اپنائیں گے ماہرین سے استفادہ حاصل نہیں کریں گے؟ نیدرلینڈ نے سیلاب کو شکست دی، پاکستان کب جاگے گا؟ فرق صرف سوچ کا ہے۔ نیدرلینڈ کا تقریباً 26 فیصد رقبہ سطح سمندر سے نیچے ہے۔ تاریخ میں کئی بار یہ ملک تباہ کن سیلابوں سے متاثر ہوا، مگر وہاں کے لوگوں نے اپنی تقدیر کو بدلا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ سب کچھ اللہ کے حوالے ہے اور بس انتظار کیا جائے۔ بلکہ انہوں نے محنت، منصوبہ بندی اور سائنس کا سہارا لیا۔ انہوں نے ڈیم اور بیریئرز بنائے جو سمندر کے پانی کو قابو میں رکھتے ہیں۔ ڈیلٹا ورکس جیسا منصوبہ بنایا جو دنیا کا انجینئرنگ کا عجوبہ مانا جاتا ہے۔سٹروم سرج بیریئرز تیار کیے جو طوفانی پانی کو روک لیتے ہیں۔ پولڈرز سسٹم بنایا جس سے نیچے زمین کو خشک کر کے زراعت کے قابل بنایا۔ اور پھر ڈیجیٹل سسٹمز لگائے جو ہر وقت پانی کی سطح کو مانیٹر کرتے ہیں۔ نیدر لینڈ دنیا کا وہ ملک جس کا ایک تہائی حصہ سمندر کے نیچے ہے، آج سیلاب پر قابو پا کر دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوتا ہے۔ اور ہم، جنہیں اللہ نے بڑے بڑے دریا، زرخیز زمین اور قدرتی وسائل دیے ہیں، آج بھی ہر چند سال بعد پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور بس یہی کہتے ہیں: “یہ اللہ کا عذاب ہے، آزمائش ہے۔ ہم نیدرلینڈ سے چند ایک چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ جیسے ہمیں سمندروں کے بجائے دریاوں کے اوورفلو پر نظر رکھنا ہوگی، اس کے لیے زیادہ محفوظ اور تگڑے بند بنائے جائیں، بیراج اپ گریڈ ہوں، نہروں کے پشتے مضبوط کیے جائیں۔نیدر لینڈز ماڈل کا فلسفہ (پانی کو جگہ دو اور انفراسٹرکچر اور کمیونٹی ساتھ لے کر چلو) پاکستان میں فائدہ دے سکتا ہے، مگر پاکستان کو اپنی مقامی حقیقت (مون سون، بڑے دریا، زیادہ گاد، کمزور ادارے) کو دیکھتے ہوئے مقامی ایڈاپٹیڈ ماڈل بنانا ہوگا۔ جبکہ نیدرلینڈ ماڈل کے تین پہلو قابلِ عمل پہلو ہیں جیسے کہ دریاوں کے ساتھ فلڈ بفر زون بنانا۔ نشیبی علاقوں میں خاص طور سے ایسا کیا جائے کہ شہروں میں بارش کے پانی کی سمارٹ مینجمنٹ۔ برساتی نالوں کی صفائی اور ان کی وسعت بڑھانا، سیوریج کی بہتری، نشیبی جگہوں پر پانی چوس کنوئیں کھودنا تاکہ پانی زیرزمین چلا جائے وغیرہ۔ جبکہ مقامی سطح پر واٹر بورڈ اور واٹر مینجمنٹ کےمضبوط، مستحکم ادارے، ویسے تو پاکستان میں یہ خواب ہی ہے، حب کہ نیدر لینڈ ماڈل کا ایک حصہ اندرون سندھ میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے، تاکہ سمندری پانی کے کٹاؤ میں کمی ہو اور ڈیلٹا بڑھ سکے۔ پاکستان کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر نیدر لینڈ جیسے چھوٹے ملک نے پانی کو دشمن کے بجائے ایک منصوبے کے ذریعے دوست بنا لیا تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ہمیں نئے ڈیمز اور ریزروائرز بنانے چاہییں۔ دریاؤں کے کناروں پر مضبوط حفاظتی بند اور بیریئرز بنانے ہوں گے۔ آبی وسائل کی وزارت میں سیاستدان نہیں بلکہ ماہرین کو شامل کرنا ہوگا۔ دریاؤں کے قریب بے ہنگم آبادی روکنی ہوگی۔ عوام کو سمجھانا ہوگا کہ سیلاب صرف قدرتی آفت نہیں، یہ انسانی غفلت کا نتیجہ بھی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب، وزیر اعلٰی سندھ، وزیر اعلٰی بلوچستان، وزیر اعلٰی خیبر پختون خواہ، وزیر اعلٰی گلگت بلتستان ڈچ ماہرین کی 2023 والی رپورٹ منگوائیں اور اس پر ورک کریں اور ملک کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ جب نیدرلینڈز کے واٹر مینجمنٹ کے ماہرین کی ٹیم آئی اور انھوں نے رپورٹ تیار کی مگر واٹر مینجمنٹ پاکستان نے اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا اور نہ ہی اس پر کوئی پیش رفت ہوئی، اگر اس وقت اس رپورٹ کی روشنی میں عملدرآمد کیا جاتا تو آج جس طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے وہ ہمیں نہیں کرنا پڑتا۔

  • اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ ایک فتنوں سے بھرا دور ہے۔ گناہ عام ہو چکے ہیں، بے حیائی نے ہمارے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں، اور سوشل میڈیا نے ہمارے ہاتھوں سے اخلاقی کنٹرول چھین لیا ہے۔ ہم سب اکثر شکایت کرتے ہیں کہ "ہماری گورنمنٹ ٹھیک نہیں”، "معاشی حالات برے ہیں”، "امن و امان نہیں”، مگر کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم خود کتنے ٹھیک ہیں؟،آج مرد و عورت دن رات سوشل میڈیا پر مصروف ہیں۔ حیا، شرم، اور اسلامی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں نامحرموں سے بات چیت کو فخر سمجھتے ہیں۔ تصاویر، ویڈیوز، اور لائکس کی دوڑ نے ہمیں اخلاقی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ٹک ٹاک، انسٹا گرام، اور دیگر پلیٹ فارمز پر فحاشی عام ہے۔خواتین اپنے جسم کی نمائش کو آزادی کا نام دیتی ہیں۔مرد ان پلیٹ فارمز پر عورتوں کو تماشہ بنا کر تفریح لیتے ہیں۔نکاح مشکل، زنا آسان ہو گیا ہے۔

    ہم پنج وقتہ نماز چھوڑ کر دعا مانگتے ہیں کہ "یا اللہ ہمیں رزق دے”۔ ہم ماں باپ کی نافرمانی کرکے چاہتے ہیں کہ "اللہ ہماری اولاد کو نیک بنا دے”۔ ہم سود، جھوٹ، اور خیانت کے دھندوں میں ملوث ہو کر دعا کرتے ہیں کہ "اللہ ہمارے ملک کو ترقی دے”۔کیا ہم اللہ کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں؟قرآن کہتا ہے:اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے،

    جب ہم ٹیکس چوری کرتے ہیں، رشوت لیتے اور دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں، سفارش پر حق دار کا حق چھینتے ہیں ، تو کیا قصور صرف حکومت کا ہے؟اگر حکومت کرپٹ ہے، تو یاد رکھیں کہ وہ اسی معاشرے سے نکلی ہے۔ معاشرہ ہم ہیں۔ اگر ہم خود کرپٹ ہیں، تو ہمارے حکمران کیسے نیک ہو سکتے ہیں؟ہمیں حکومت بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔سوشل میڈیا پر شرم و حیا کو فروغ دیں،اپنی اولاد کی تربیت قرآن و سنت کے مطابق کریں،حلال کمائی کو ترجیح دیں،سچ بولیں، امانت دار بنیں،اللہ کے احکامات پر عمل کریں ،ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تو نہ نظام بدلے گا، نہ حکومت، نہ حالات۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔آج کا وقت پکار رہا ہے،اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف۔