Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کی عمر دیکھتے ہوئے بغور جائزہ لیا جائے تو ان سیاسی جماعتوں کا مستقبل سامنے آ جاتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیں اس جماعت کی ممکنہ نئی قیادت مریم نواز اور حمزہ شہباز نظر آ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیں۔ مریم نواز مستقبل میں پارٹی کی اصل جانشین سمجھی جا رہی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری عمر اور بیماری کے باعث زیادہ متحرک نہیں رہے۔ پیپلزپارٹی کی ممکنہ نئی قیادت بلاول بھٹو زرداری پارٹی کو نوجوان قیادت دینے کی کوشش میں ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف ابھی تک عمران خان کی حد تک مقبول ہے لیکن عمران خان کی عمر اور قانونی مسائل ان کی سیاست پر اثر ڈال رہے ہیں۔ ممکنہ بظاہر نئی قیادت عمران خان کی پارٹی میں کوئی واضح جانشین نظر نہیں آرہا۔ کچھ نام زیر بحث ہیں جیسے شاہ محمود قریشی لیکن وہ بھی عمر رسیدہ ہے۔ مجموعی طور پر اگر ان تین سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا بغور جائزہ لیا جائے تو نون لیگ کی بھاگ دوڑ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے ہاتھ میں آئے گی۔ پیپلزپارٹی کو بلاول بھٹو زرداری آگے لے کر چلیں گے۔ پی ٹی آئی کا مستقبل سب سے زیادہ غیر یقینی ہے۔ کیونکہ عمران خان کی جماعت میں کوئی ایک شخصیت عمران خان کی طرح سب پر بھاری نہیں دکھائی دیتی۔

    اگر مریم نواز کامیاب سیاست کرتی ہیں تو مسلم لیگ ن مستحکم رہے گی ورنہ ن لیگ کا اثر صرف پنجاب تک محدود ہو جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی مکمل کمان سنبھالیں گے سندھ میں مضبوط رہیں گے لیکن پنجاب میں مشکل ہوگی۔ اگر بلاول بھٹو نے نوجوان ووٹر کو اپنی طرف متوجہ کیا تو پارٹی قومی سطح پر دوبارہ ابھر سکتی ہے۔ بصورت دیگر پیپلزپارٹی صرف سندھ تک محدود رہ جائے گی۔ عمران خان عمر اور صحت کے مسائل کے باعث پس منظر میں جا سکتے ہیں پارٹی کو قیادت کے خلا کا سامنا ہوگا۔ کچھ نوجوان آگے آ سکتے ہیں مگر کوئی بھی عمران خان جیسی مقبولیت نہیں رکھتا۔ اگر عمران خان کو متبادل قیادت نہیں ملی تو پارٹی تقسیم یا کمزور ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی نیا کرشماتی لیڈر ابھرا تو پی ٹی آئی ایک بار پھر مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم ن لیگ کا مستقبل مریم نواز کے ساتھ جڑا ہے۔ پیپلز پارٹی کا مستقبل بلاول بھٹو کے ساتھ جڑا ہے۔ پی ٹی آئی کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ ان تینوں بڑی سیاسی جماعتوں سے وابستہ جن کو عرف عام میں مرکزی قیادت کہا جاتا ہے ان میں اکثریت عمر رسیدہ ہیں۔ مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز کو نوجوان سیاسی قیادت پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ ان تینوں سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ جڑا ہے۔ کچھ ایسی صورتحال سے پاکستان کی مذہبی جماعتیں بھی گزر رہی ہیں۔

  • تبصرہ کتب،دور نبوت کے بچے

    تبصرہ کتب،دور نبوت کے بچے

    ” دور نبوت کے بچے “ یہ دس کتابوں پر مشتمل حسین و معنوی سیٹ ہے ، جسے فور کلر اور معیاری طباعت کے ساتھ دارالسلام انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے، یہ بچوں کی تربیت و کردار سازی میں ایک بے مثال علمی و دینی خزانہ ہے۔ یہ کتابیں نہ صرف بچوں کے دل و دماغ کو ایمان کی گہرائیوں سے روشناس کراتی ہیں بلکہ انہیں اسلامی اخلاق و ایمان کے ساتھ مضبوط کردار اپنانے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں بچوں کی تربیت کو نہایت اہم مقام حاصل ہے کیونکہ بچے آئندہ نسل کے معمار ہوتے ہیں جبکہ بچوں کی تربیت میں اسلامی اصلاحی اور اخلاقی کتابیں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ دور نبوت کے بچے اسی سلسلہ کی خوبصورت کڑی ہے یہ خوبصورت سیٹ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری اشفاق احمد خاں کی کاوش ہے ۔ دارالسلام انٹرنیشنل کی اس پرفضا کاوش میں دس مندرج ذیل ہستیاں شامل ہیں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنھما۔ یہ دونوں شہزادے رسول اللہ ﷺ کے نواسے،جگر گوشہ فاطمہ بتول ، باغ نبوت کے پھول اور نوجوانان جنت کے سردار ہیں ،سیدنا عبداللہ بن عباس ہیں جنھو ں نے رسول مقبول ﷺ کے زیر سایہ بچپن گزارا ،انھیں بچپن ہی سے علم سے خاص شغف تھا ، سفر وحضر میں آپ ﷺ کے ساتھ رہے ۔مزاج میں سنجیدگی تھی اس لیے رسول مقبول ﷺ نے ان کے لیے علم وحکمت کی دعا کی تھی اور یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ اسے مفسر قرآن اور دین میں سمجھ والا بنا دے ۔ کتاب میں سیدنا عبداللہ بن زبیر کا تذکرہ شامل ہے جو عظیم شاہسوار تھے اور شجاعت وفراست میں بے مثال تھے ۔ ، عبداللہ بن جعفر دور نبوت کے وہ عظیم بچے ہیں جنھیں سخاوت کا دریا کیا گیا ہے وہ اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرتے تھے ، عبداللہ بن عمر مطیع اعظم ہیں انھیں رسول ﷺ سے شدید محبت تھی ، یہ محبت ہمارے آج کے بچوں کےلئے مشعل راہ ہے ، عبداللہ عمرو ہیں وہ عظیم خاندان کے چشم وچراغ تھے ، ان کو وراثت میں عقل مندی ، بہادری اور فصاحت وبلاغت کی صفات ملیں اور وہ ہر وقت جنت کے متلاشی رہتے تھے ، سعید بن عاص ایک ایسے انوکھے سخے ہیں جنھیں رسول ﷺ نے مستقبل کا معزز آدمی قرار دیا تھا وہ جمعہ کی رات اپنے غلام کو دیناروں کی تھیلیاں دے کر کوفہ کی مسجد میں بھیجتے ۔ غلام وہ تھیلیاں لے جاکر نمازیوں کے سامنے رکھ دیتا ، ضرورت مند اس میں سے اپنی ضرورت کے دینار خود اٹھا لیتے ۔ پھر کتاب میں اسامہ بن زید کا تذکرہ شامل ہے جو وفا کا پیکر تھے ۔ وہ غلام کے بیٹے تھے لیکن ان کی خوش بختی کا کیا کہنا کہ انھیں دنیا کے بہترین رہبر ملے اور اس کےلئے محبت ، شفقت اور تربیت کے خزانوں کے منہ کھل گئے وہ وفا کا پیکر تھے جنھوں نے رسول ﷺ سے وفا نبھائی ۔ ، خادم خاص رسول مقبول ﷺ انس بن مالک رضی اللہ عنہ محض آٹھ سال کے تھے یہ کھیلنے کودنے کی عمر تھی خوش قسمتی سے وہ رہبر اعظم محمد ﷺ کے خادم خاص بن گئے ۔آغوش نبوت میں تربیت حاصل کرنے والے ان بچوں کے کمالات، بچوں کو اخلاقی و روحانی فضیلت کی طرف مائل کرتے ہے ۔ یہ کتابیں ان کی معصوم ذہانت میں نیکی، تقویٰ، صبر اور قربانی کی اعلیٰ اقدار بٹھاتی ہیں، جو ہماری دینی و معاشرتی ترقی کی بنیاد ہیں۔ دارالسلام انٹرنیشنل کی اشاعت نے اس مجموعے کو قوتِ بیان، فصاحت اور آسانی سے قابلِ فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ ہر کتاب ایک ایسا منبع ہے جو بچوں کے دلوں میں اللہ اور رسول ﷺ کی محبت جگانے کے ساتھ ساتھ انہیں اچھے معاشرتی کردار کی تربیت بھی فراہم کرتی ہے، جو اسلام کے روشن چہرے کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ یہ کتابیں والدین، اساتذہ اور مربیوں کے لیے بہترین وسائل ہیں، جن کی مدد سے بچے زندگی کی سختیوں کا مقابلہ کرنے، حق و سچ کا ساتھ دینے، اور فضائل و نیکیاں اپنانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں بچوں کی شخصیت سازی پر زور دیتے ہوئے، یہ سیٹ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق بچوں میں ایمان کی جڑیں مضبوط کرتا ہے اور انہیں صداقت، عزم، اور محبت کے سنہرے اصولوں سے روشناس کرواتا ہے۔ کرے گا ۔ دیدہ زیب سرورق ، چہار کلر طباعت کی حامل یہ کتابیں دیکھنے میں جتنی خوبصورت ہیں تعلیم وتربیت کے اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہیں ۔دس کتابوں پر مشتمل سیٹ کی رعایتی قیمت1870 روپے ہے ۔یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ042-37324034 پر دستیاب ہے ۔مرکز ایف ایٹ اسلام آباد 051-2281513 ، دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796655پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

  • چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    چین، روس اور بھارت کے حوالے سے جو نیا بلاک یا اقتصادی و سیاسی اتحاد کی بات ہو رہی ہے وہ اکثر (BRICS) یا اس سے آگے بڑھنے والے اقدامات کے تناظر میں سمجھا جا رہا ہے یا سمجھا جاتا ہے۔ یہ بلاک امریکہ اور ڈالر کو کمزور نہیں کر پائے گا ڈالر عالمی ریزرو کرنسی ہے۔ تقریبا 60 فیصد سے زائد غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ڈالر میں رکھے جاتے ہیں۔ عالمی تیل و گیس کی زیادہ تر تجارت ڈالر میں ہوتی ہے۔ امریکہ کی مالیاتی منڈیاں شفاف اور مستحکم سمجھی جاتی ہیں جس سے سرمایہ کار ڈالر پر بھروسہ کرتے ہیں۔ روس پر مغربی پابندیوں نے اسے چین پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک مشترکہ کرنسی یا مالیاتی نظام بنانے کے لیے اعتماد ادارہ جاتی ڈھانچہ اور سیاسی یکجہتی کی ضرورت ہے جو اس وقت کمزور ہے۔ امریکہ کے پاس فوجی طاقت۔ ٹیکنالوجی۔ اور عالمی اداروں آئی ایم ایف۔ ورلڈ بینک پر اثر و رسوخ ہے۔ اگرچہ کچھ ممالک ڈالر کے متبادل پر کام کر رہے ہیں لیکن عالمی سطح پر اس کی فوری گنجائش نہیں ہے۔ روس اور چین کے درمیان توانائی کے معاہدے ڈالر کے بجائے اپنی کرنسیوں میں ہو رہے ہیں لیکن یہ سب ابھی جزوی ہے عالمی نہیں۔ امریکہ اور ڈالر کی جڑیں بہت گہری ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ عالمی نظام میں وقت کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے شگاف آ رہے ہیں۔ چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب ہے نہ یہ ڈالر کو کمزور کر سکتے ہیں نہ امریکہ کی عالمی برتری کو چیلنج۔ داخلی تضادات اور اعتماد کی کمی انہیں کبھی متحد نہیں ہونے دے گی۔

  • پانی کی شاخوں پر لٹکتے خواب.تحریر: اقصیٰ جبار

    پانی کی شاخوں پر لٹکتے خواب.تحریر: اقصیٰ جبار

    یہ زمین ہمیشہ سے پانی کی مہربانیوں سے زندہ رہی ہے۔ دریاؤں کی روانی نے دھرتی کو زرخیز کیا، کھیتوں کو سنہری خوشبو بخشی اور بستیوں میں زندگی کے چراغ جلائے۔ مگر کبھی کبھی یہی پانی جلال میں آ کر سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بادلوں نے زمین کو پھر آزمایا۔ بوندوں نے پہلی بار دھوکہ نہیں دیا، لیکن جب یہ بوندیں ریلوں میں ڈھلیں تو بستیاں ان کے حصار میں آ گئیں، اور خواب پانی کی شاخوں پر جھولتے رہ گئے۔

    یہ منظر نیا نہیں۔ ہم ہر سال یہی تماشہ دیکھتے ہیں۔ سیلاب آتا ہے، زندگیاں بہا لے جاتا ہے، اور پیچھے چھوٹی چھوٹی امیدوں کی مٹی رہ جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم کب بدلیں گے؟ پانی تو اپنا راستہ لے گا، یہ قدرت کا قانون ہے۔ لیکن انسان کے حصے میں تدبیر ہے، منصوبہ بندی ہے۔ جن قوموں نے پانی کو رحمت بنایا، انہوں نے مضبوط بند باندھے، ذخائر بنائے، اور آنے والے دنوں کے لیے تیاری کی۔ ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اپنے خواب سیاست کے دھارے میں بہا دیے۔ ڈیم کے فیصلے میزوں پر سوتے رہے اور دریاؤں نے بستیاں جگا دیں۔

    اکثر کہا جاتا ہے کہ بھارت سے آنے والا پانی تباہی کا سبب ہے۔ یہ جزوی سچ ہے، لیکن کیا یہ پوری کہانی ہے؟ نہیں۔ اگر ہمارے پاس بڑے ذخائر ہوتے، چھوٹے ڈیمز کی قطاریں ہوتیں، اگر ہم نے اپنے حصے کا کام کر لیا ہوتا، تو یہ پانی ہماری زمین کی پیاس بجھاتا، ہمارے مستقبل کو روشن کرتا۔ مگر ہم نے وقت کو کھو دیا، اور اب پانی ہماری کوتاہیوں کا ماتم کر رہا ہے۔

    یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، فیصلہ سازی کا ہے۔ ہمیں پانی سے دشمنی ختم کرنی ہوگی۔ یہ وہ دشمن نہیں جس سے جنگ جیتی جا سکے، یہ وہ دوست ہے جس سے تعلق نبھانا سیکھنا ہوگا۔ اگر ہم نے آج بھی دیر کی، تو آنے والے برسوں میں یہ سوال اور کڑا ہوگا:
    “ہم نے پانی کو دوست کیوں نہ بنایا؟”

    پانی کی یہ یلغار ہمارے لیے سبق ہے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ قدرت سے لڑا نہیں جا سکتا، اس کے ساتھ جیا جا سکتا ہے۔ اگر آج ہم نے چھوٹے بڑے ذخائر، واٹر مینجمنٹ، اور قومی اتفاقِ رائے پر کام نہ کیا تو خواب یونہی پانی کی شاخوں پر لٹکتے رہیں گے۔

  • بھارتی آبی جارحیت،سیلاب ،خدمت انسانیت ،تحریر:قرۃ العین ملک

    بھارتی آبی جارحیت،سیلاب ،خدمت انسانیت ،تحریر:قرۃ العین ملک

    ستم رسیدہ دریاؤں کے کنارے آج ایک بار پھر آہ و بکا کی صدائیں بلند ہیں، جہاں لہراتی موجوں نے بستیاں نگل لیں، مویشی بہا دیے، اور انسانوں کو بے سر و سامانی کی تصویر بنا دیا۔ پنجاب کے زرخیز میدان ہوں یا خیبر پختونخوا کے سرسبز وادیوں کے دہانے، رواں سال کا سیلاب ایک قہر بن کر ٹوٹا، اور اس قہر کو بڑھاوا دینے میں بھارتی آبی جارحیت نے بھی کسی کسر کو باقی نہ رکھا۔بھارت کی جانب سے بنا پیشگی اطلاع کے اضافی پانی چھوڑنے کے باعث دریاؤں کا پاٹ تو جیسے صدیوں کی قید سے آزاد ہوا، اور اس طغیانی نے پنجاب کے درجنوں اضلاع کو نگل لیا۔ بین الاقوامی آبی معاہدات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کیے گئے اس عمل کو ماحولیاتی دہشت گردی سے کم نہیں کہا جا سکتا۔ بھارت کی یہ آبی یلغار نہ صرف فصلوں کو تباہ کر گئی بلکہ دیہی معیشت کی کمر بھی توڑ گئی۔

    ایسے ناگہانی حالات میں جہاں ریاستی مشینری اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود متاثرین کی مکمل داد رسی کرنے سے قاصر دکھائی دی، وہیں افواج پاکستان کا متاثرہ اضلاع میں ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے،سیلاب متاثرین کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے،کھانا تقسیم کیاجا رہا ہے،تو دوسری جانب پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اپنے رضاکاروں کے ذریعے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے عین مرکز میں، امداد کے ہاتھ تھامے، یہ کارواں متاثرین کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرا،مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر نہ صرف پنجاب کے 25 متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں کو منظم کیا گیا بلکہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور سندھ کے علاقوں میں بھی بھرپور ریلیف آپریشن جاری ہے۔لاہورموہلنوال کی خیمہ بستی، جہاں تین ہزار سے زائد متاثرین مقیم ہیں، وہاں مسلم ویمن لیگ کی سیکرٹری جنرل عفت سعید نے دورہ کر کے نہ صرف متاثرین سے ملاقات کی بلکہ خود کھانا تقسیم کیا۔ پکی پکائی خوراک کی فراہمی، بچوں کے لیے دودھ اور خشک راشن، خواتین کے لیے ملبوسات اور جوتوں کی تقسیم، سب کچھ ایک منظم نظم کے تحت جاری ہے۔

    لاہور، سیالکوٹ، ننکانہ، چنیوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اوکاڑہ، قصور، فیصل آباد اور تاندلیانوالہ کے نواحی علاقوں میں جہاں پانی نے زندگی کو مفلوج کر دیا تھا، وہاں مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان نے کشتیوں کے ذریعے خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی متاثرین تک پہنچائیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور پاک فوج کے افسران کی موجودگی میں متاثرہ دیہاتوں میں ریلیف کے مناظر جذبۂ خدمت کی سچی تصویر پیش کرتے ہیں۔سیلاب صرف انسانوں کا امتحان نہیں تھا، مال مویشی بھی اس افتاد کا شکار ہوئے۔ مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت خلق نے متاثرہ علاقوں میں جانوروں کے لیے چارہ، سیلج اور دیگر خوراک کی تقسیم کو یقینی بنایا۔ شفیق الرحمان وڑائچ اور حمید الحسن گجر کی قیادت میں گنڈا سنگھ والا، تلوار چیک پوسٹ اور نواحی دیہات میں دو ہزار سے زائد جانوروں کے لیے خوراک پہنچائی گئی۔باجوڑ، بونیر، مینگورہ، صوابی، سوات اور شانگلہ میں مرکزی مسلم لیگ کی مقامی قیادت نے سینکڑوں بیوہ خواتین اور متاثرہ خاندانوں میں خشک راشن، بستر اور برتن تقسیم کیے۔ عبدالغفار منصور کی قیادت میں سوات کے ڈاگ میلہ گراؤنڈ میں گھر کا سامان بانٹا گیا، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ مشن صرف وقتی ریلیف کا نہیں، بلکہ مکمل بحالی کا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کسی سیاسی تشہیر کے بغیر، نہایت سادگی اور خدمت کے جذبے کے تحت جاری ہے۔ مرکزی ترجمان تابش قیوم نے قصور میں 22 سیلاب زدہ دیہاتوں کا دورہ کر کے نہ صرف کھانا تقسیم کیا بلکہ امدادی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں مزید بہتری کی ہدایت بھی جاری کی۔سیلاب ایک قدرتی آفت سہی، مگر اس کے اثرات انسانی کوتاہی، ناقص حکومتی منصوبہ بندی اور ہمسایہ ملک کی بدنیتی سے کہیں زیادہ گھمبیر ہو جاتے ہیں۔ ہمیں نہ صرف اپنی آبی پالیسی پر نظرثانی کرنی ہے بلکہ انسانی خدمت کو محض حکومتی فریضہ سمجھنے کے بجائے اجتماعی قومی ذمہ داری کے طور پر اپنانا ہوگا،مرکزی مسلم لیگ کی خدمات اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ جب نیت نیک ہو اور ارادے مضبوط، تو ایک سیاسی جماعت بھی بحران میں امید کا چراغ روشن کر سکتی ہے،مرکزی مسلم لیگ نے جس غیر معمولی انداز میں سیلاب متاثرین کی مدد کی، وہ ہماری قومی تاریخ میں ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ اس وقت جب قوم کو یکجہتی، ہمدردی اور عملی خدمت کی اشد ضرورت ہے، ایسے اقدامات قوم کی اجتماعی روح کو بیدار کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوں گے۔

  • ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم،تحریر:نور فاطمہ

    ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم،تحریر:نور فاطمہ

    ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم، کڑوے ضرور ہیں مگر منافق نہیں ہیں ہم

    زندگی میں سب کو خوش رکھنا اور ہر ایک کی پسند پر پورا اترنا ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ دنیا کو دکھانے کے لیے میٹھے بول بولتے ہیں، چاہے دل میں کچھ اور ہو۔ جبکہ کچھ لوگ سچ بولنے کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان کی بات کسی کو بری لگے۔ یہ بلاگ انہی لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنی بات صاف، سچی، اور دل سے کہتے ہیں ، اور اسی لیے اکثر "کڑوے” کہلائے جاتے ہیں۔سچ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ یہ دل کو چبھنے والا، کانوں کو ناگوار، اور ذہن کو جھنجھوڑنے والا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی سچ وہ آئینہ ہے جس میں ہم خود کو دیکھ سکتے ہیں، جیسا کہ ہم واقعی ہیں۔جو لوگ سچ بولتے ہیں، وہ اکثر دوسروں کی نظروں میں "کڑوے” بن جاتے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں چاپلوسی نہیں ہوتی، لیکن ان کے دل میں کوئی کھوٹ بھی نہیں ہوتا۔ وہ جیسا محسوس کرتے ہیں، ویسا ہی کہتے ہیں اور یہی چیز انہیں منافقوں سے الگ کرتی ہے۔

    منافقت بظاہر نرم خوئی، شائستگی، اور میٹھی باتوں کا لبادہ اوڑھے ہوتی ہے، لیکن اندر سے یہ ایک زہر ہے۔ منافق لوگ ہر کسی کے سامنے ایک نیا چہرہ رکھتے ہیں، ہر کسی کی پسند کے مطابق ڈھل جاتے ہیں، لیکن دل میں ان کا کچھ اور ہی ارادہ ہوتا ہے۔ایسے لوگ وقتی طور پر پسند کیے جاتے ہیں، لیکن جب اصلیت سامنے آتی ہے تو اعتماد ایک بار ٹوٹنے کے بعد دوبارہ جڑتا نہیں۔وہ لوگ جو ہر وقت دوسروں کو خوش کرنے کے بجائے سچ کا ساتھ دیتے ہیں، وہ معاشرے کا اصل آئینہ ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں وہ باتیں بتاتے ہیں جو شاید ہم سننا نہ چاہیں، لیکن ان باتوں سے ہم بہتر انسان بن سکتے ہیں۔یہ لوگ وفادار دوست، سچے رشتہ دار، اور مخلص ساتھی ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں وقتی طور پر تلخ ضرور لگتی ہیں، لیکن ان کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد دل آزاری نہیں، بلکہ اصلاح ہوتا ہے۔

    زندگی ایک سٹیج نہیں کہ جہاں ہر وقت اداکاری کی جائے۔ اگر ہم اپنی اصلیت چھوڑ کر دوسروں کی پسند کے مطابق خود کو ڈھالنے لگیں، تو ہم اپنی انفرادیت کھو بیٹھتے ہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے کہ ہم کیسا انسان بننا چاہتے ہیں،وہ جو سب کو خوش کر کے اپنا اصل کھو دے؟یا وہ جو سچ بول کر دلوں میں اپنی جگہ بنائے، چاہے وہ جگہ سب کے دل میں نہ ہو؟”کڑوے ضرور ہیں، مگر منافق نہیں ہیں” یہ جملہ ان تمام لوگوں کی ترجمانی کرتا ہے جو سچائی کے راستے پر چلتے ہیں، چاہے وہ راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔اگر آپ بھی سچ بولتے ہیں، اپنی بات صاف طریقے سے رکھتے ہیں، اور لوگوں کی خوشنودی کے لیے خود کو نہیں بدلتے ، تو آپ اکیلے نہیں، یہ دنیا شاید آپ کو فوری طور پر نہ سمجھے، لیکن وقت گواہی دے گا کہ سچ کی جڑیں گہری ہوتی ہیں، اور منافقت کی عمارت دیرپا نہیں ہوتی۔

  • پنجاب ڈوب رہا ہے،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    پنجاب ڈوب رہا ہے،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    پنجاب یعنی پانچ دلیر دریاؤں کی وسیع القلب سرزمین ۔۔۔ بہادر سپوتوں کی سرسبز و شاداب سرزمین جس کے پکی ہوئی فصلوں سے لہلہاتے میدان دریا برد ہو کر آج کسی سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ آہ۔۔میرا پنجاب ڈوب رہا ہے!

    ہمارے دیس میں عجیب صورتحال ہے ۔ کہ ہم صرف "ڈھنگ ٹپاؤ” پالیسی پہ چلتے ہیں۔ پہلے سے نہ کوئی تیاری کی جاتی ہے۔ نہ ہی کوئی لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے۔ اور جب پانی سر سے گزرنے لگتا ہے۔ تو بھاگ ڈور شروع ہو جاتی ہے۔دنیا میں اس وقت تیزی سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پاکستان تیزی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے شکار ممالک کی فہرست میں اول درجہ بندی میں شامل ہے۔ امسال بھی پاکستان میں ریکارڈ ساز گرم ترین خشک موسم ء گرما رہا۔ اور جب مون سون کا سیزن شروع ہوا ہے۔ تو پچھلے تمام رکارڈ توڑ رہا ہے۔ PDMA کی اب تک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سال2025ء میں پچھلے سال کی نسبت 73٪ زیادہ مون سون کی بارشیں ہوئیں ہیں۔ جس سے پیاسے دریا یکدم بپھر گئے۔ اور پنجاب کو شدید ترین جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ پنجاب کو 39 سال بعد ایسی شدید ترین سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے قریباً 1800 سے زائد دیہات زیر آب ہیں۔ اور 15 لاکھ افراد متاثر و بے گھر ہو چکے ہیں۔ جو زرعی املاک و لائیو سٹاک کو نقصان پہنچا ہے ۔ اس کا تو ابھی کوئی اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔ کھڑی فصلیں بہہ چکی ہیں۔ کسانوں کی محنت و جمع پونجی سیلاب کی نظر ہو چکی ہے۔ اور صورتحال مزید بدترین ہو رہی ہے۔ دریائے راوی ، ستلج اور چناب نے لاہور سے ملتان تک پورے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اب صورتحال یہ ہے۔ کہ شہری علاقوں کو بچانے کے لئیے دریاؤں کے پل اور بند اڑائے جا رہے ہیں۔ جھنگ شہر کو بچانے کے لئیے دریائے چناب کا ریلوے بند اڑایا جا چکا ہے۔ چناب پہ ہی قادر آباد ہیڈ ورکس پل اور ریواز پل کو پانی کا دباؤ کم کرنے کے لئیے کنٹرولڈ بموں سے توڑا گیا ہے۔ ہر آبی گزرگاہ و دریا میں گنجائش سے زائد پانی نے تباہی مچا رکھی ہے۔ 1939 میں بنائے گئے تریموں میں 8 لاکھ کیوسک پانی کے ریلے کی گنجائش ہے۔ جبکہ 9 لاکھ کیوسک سے اوپر کا ریلہ متوقع ہے۔

    پہلے کے۔پی۔کے میں یکدم سیلابی صورتحال، اب پنجاب میں سیلاب کی تباہی مچی ہوئی ہے۔ اور اس کے بعد سندھ میں بھی خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق سندھ میں سیلاب سے 50 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ کہ جب زرعی پیداوار کے لئیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تو خشک سالی کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور جب بارشیں ہوتی ہیں۔ تو سیلاب سب بہا لے جاتا ہے۔ ہر سال یہی پانی، سیلاب کی صورت تباہی مچا کر سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔ جبکہ درست حکمت ء عملی سے اسے زرعی و توانائی کی پیداوار کے لئیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

    مانا کہ آفات قدرتی ہوتی ہیں۔ مگر اپنے عمل کو بھی مدنظر رکھنا لازم ہے۔ یہاں اگر یہ کہا جائے کہ بھارت نے پانی جان بوجھ کے چھوڑا ۔ تو یہ ایک بے جا منطق ہو گی۔ کیونکہ دریاؤں کے قدرتی راستے ہوتے ہیں۔ انہی راستوں سے گزر کے اضافی پانی سمندر برد ہوتا ہے۔پنجاب میں سیلابی تباہی کی ایک بڑی وجہ آبی گزرگاہوں پہ تجاوزات بھی بنی ہیں۔ جو عام لوگوں نے نہیں بلکہ بڑے نام اس عمل میں شریک نظر آتے ہیں۔ سب سے پہلے تو دریاؤں کے کناروں پہ موجود جنگلات کو ختم کیا گیا۔ پھر دریائی کی زمین پہ ہی قبضہ کر کے بیچ دی گئی۔ دریا چند سال خشک کیا ہوئے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ بس اب یہ چھوٹے موٹے چھپڑ (جوہر) بن جائیں گے۔ سو اس کی زمین دل فریب ناموں کے ساتھ رہائشی سوسائٹیاں بنا کر اندھا دھن فروخت کرنی شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ دریائی گزرگاہوں پہ باقاعدہ رہائشی آبادیاں بنا کر ایک طرح سے کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کر دیں ۔ اس کی واضح مثال لاہور میں راوی کی زمین پہ بنائی گئی کالونیاں ہیں۔ مقام ء افسوس تو یہ ہے ۔ کہ ان سوسائٹیوں کے مالکان میں کئی سیاستدان اور حکومتی نام آتے ہیں۔ کوئی بھی حکومت اس عمل سے لاعلم نہ تھی، نہ ہے۔ چونکہ نام اپنے ہی نکلتے ہیں ۔ تو ہر حکومت خاموش ہے۔
    یہ لوگ یہ اصول بھول گئے ۔ کہ دریا اپنا راستہ نہیں بھولا کرتا۔ وہ واپس پلٹتا ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ دریاوں نے اپنا حق واپس لے لیا۔ اور اب ان رہائشی سوسائٹیوں کے مالکان غائب ہیں۔ یا پھر ان سوسائٹیوں کو بچانے کے لئیے پانی کا رخ موڑا جا رہا ہے جس سے اس پاس کے گاؤں تباہ ہو رہے ہیں۔

    ناقص پالیسیوں کا المیہ یہ ہے ۔کہ ایک طرف ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے ۔ تو دوسری طرف پاکستان کو پانی کی قلت کا شدید ترین خطرہ لاحق ہے ۔ یہاں تک کہ پاکستان کو 2030ء تک پانی کی قلت کا شکار ملک (واٹر اسیکئر اسٹیٹ) قرار دیئے جانے کا امکان ہے۔ ضرورت کے مطابق ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اپنی بارش کا صرف 10٪ حصہ محفوظ کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان میں پانی محفوظ کرنے کی گنجائش قریباً 30 دن ہے۔ جبکہ عالمی قوانین کے مطابق کسی ملک کے پاس کم از کم 120 دن کا پانی ذخیرہ ہونا چاہئیے۔
    پاکستان میں ذخیرہ شدہ پانی سالانہ دریا کے بہاؤ کا صرف 15% ہے، جو کہ عالمی اوسط 40% کے بالکل برعکس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان کو 10 ڈیمز کی فوری ضرورت ہے۔ اگر یہ ڈیمز موجود ہوں۔ تو دریائی پانی کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ جسے زرعی و بجلی بنانے کے مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور سیلابی تباہی سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
    اس وقت 5 ڈیمز زیر ء تعمیر ہیں۔ نئے ڈیمز کی تعمیر میں تمام صوبوں کو پانی کی منصفانہ تقسیم پہ اعتماد میں لے کے فوری کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز دریا کی زمین پہ قائم تجاوزات کو ختم کیا جائے۔ اور جو اس ناجائز کام میں ملوث ہے ۔ اس کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔یہ وقت سیاست اور مصلحت کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا ہے۔ اگر آج پانی بچانے اور سیلابی تباہی کو روکنے کے لئیے فیصلہ کن اقدام نہ اٹھائے۔ تو ملک خشک سالی میں پیاسا اور بارش میں ڈوبتا رہے گا۔ صورتحال کوئی بھی ہو پس غریب طبقہ جاتا ہے۔
    ؂
    محسن غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں
    ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے!!

    اللہ رب العزت میرے وطن کے ہر باسی کی حفاظت فرمائے۔
    آمین.

  • بھارت کا چین ،روس کی جانب جھکاؤ،پاکستان کیلئے خطرہ ؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت کا چین ،روس کی جانب جھکاؤ،پاکستان کیلئے خطرہ ؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    تینوں ممالک کا اتحاد ہوگیا تو اسلام آباد کو خارجہ پالیسی بدلنا ہوگی
    خلیجی ممالک ،ترکیہ سے تعلقات مضبوط،چین سے روایتی دوستی نبھانا ہوگی
    ملکی مفادات،معیشت اور دفاع کو سامنے رکھنا ہوگا،آئی ایم ایف کا اعتماد بھی ضروری
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    اگر چین اور بھارت واقعی زیادہ قریب آجاتے ہیں جو تاریخی سرحدی تنازعات کی وجہ سے آسان نہیں، تو یہ بڑی تبدیلی ہوگی جبکہ چین پاکستان کے ساتھ بھی کھڑا ہے تاہم اگر بھارت اور چین کے تعلقات بہتر ہوجائیں ، وہ روس کے ساتھ بھی ایک بلاک میں آجائیں تو پاکستان کے لئے سفارتی دباؤ بڑھ سکتا ہے،کیوں کہ روایتی اتحادی چین اور کبھی کبھار روس بھارت سے بھی تعلقات مضبوط کریں گے، ایسے منظر نامے میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ توازن کے ساتھ چلانا ہوگا، مثلاً خلیجی ممالک میں ترکیہ حتی ٰکہ مغربی طاقتوں سے تعلقات کو بہتر کرنا، امریکہ کے لئے یہ صورت حال چیلنج ہوگی کیونکہ اگر روس، چین، بھارت ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں تو یہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کو مضبوط کرے گا ، اگر بھارت چین کے قریب ہو جائے تو یہ امریکی پالیسی کو جھٹکا لگے گا، اگر ایسا ہوا تو پھر امریکہ پاکستان اور دیگر خطے کے ممالک کو زیادہ اہمیت دینے لگے گا تاکہ وہ چین، روس، بھارت بلاک کے مقابلے میں توازن قائم کرے، تاہم چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات ایک بڑا چیلنج ہے، عالمی تبصرہ نگاروں کے مطابق چین اور بھارت کا سرحدی تنازع ان کو ایک دوسرے کے قریب آنے سے روک سکتا ہے، اگر چین روس اور بھارت واقعی ایک بلاک بن جاتے ہیں تو پاکستان کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اُس کا قریبی اتحادی چین بھارت سے بھی قریبی تعلق سمجھے گا، جس سے پاکستان کو اپنی پالیسی میں نئے توازن کی ضرورت پڑے گی، امریکہ کے لئے یہ ایک بڑی جیو پوٹینیکل شکست ہوگی،کیوں کہ بھارت کو وہ چین کے لئے استعمال کرتا رہا ہے اور بھارت ہوتا رہا ہے، عالمی بدلتی ہوتی صورت حال کے پیش نظر ملکی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ صورت حال میں اسٹیبلشمنٹ قومی سیاسی جماعتوں کو ملکی مفادات، جن میں دفاع، معیشت کو سامنے رکھتے ہوئے کانفرنس کرنی چاہیے، پاکستان کی ایسی پالیسی ہونی چاہیے آئی ایم ایف سپورٹ جاری رہے۔ چینی سرمایہ کاری برقرار رہے، پاکستان کی ایک عالمی بلاک تک محدود نہ ہو، چین کے عسکری و اقتصادی تعلقات برقرار رکھے جائیں، امریکہ اور نیٹو کے کے ساتھ تعلقات و دیگر امور جاری رہیں ، نئی بلاک پالیسی سے بچتے ہوئے اپنی پالیسی ایسے رکھے جس سے ملکی مفادات برقرار رہیں

  • انسانیت کے خدمت گار.تحریر:عتیق گورایا، فیصل آباد

    انسانیت کے خدمت گار.تحریر:عتیق گورایا، فیصل آباد

    سنہ 2005ء میں زلزلہ آیا تو پاکستان بھر سے خدمت خلق کے پروانے دیوانہ وار مشکل ترین راستوں کو عبور کرتے ، جہاں تک گاڑیوں سے رسائی ممکن ہوتی سفر جاری رہتا اور جہاں گاڑیاں ساتھ چلنے سے انکاری ہوجاتیں وہاں یہ محبان قوم و ملت قدموں کا سہارا لیتے اور سامان کو کندھوں پر ، گدھوں اور خچروں پر لاد کر دوردراز کے علاقوں میں پہنچ کر ریلیف اور خدمت کے کاموں میں مصروف ہوجاتے۔خدمت خلق میں ایسے تجربہ کار ہوئے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھی خدمت انسانیت سے پیچھے نہ ہٹ سکے ۔معین راہی کی غزل کا کیا خوب صورت مطلع ہے کہ
    خاک کو کندن بنانا آگیا
    وقت کی بھٹی میں تپنا آگیا

    اورپھر آج جب بارشوں نے اپنا زور دکھایا ، بدلتے موسم نے عندیہ دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر اس خطہ پر بھی شدید پڑے گا اور گزشتہ سارے ریکارڈ ایک طرح سے بارشوں اور سیلاب کے ٹوٹ جائیں گے تو یہی خدمت گار پھر سے میدان میں موجودہیں۔ میدان سیاست میں دو جماعتیں ایسی ہیں جنھوں نے خدمت کے میدان میں اپنا آپ منوایا ہے ایک جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن اور دوسری پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی خدمت خلق ہے ۔گلگت بلتستان اورخیبرپختونخواہ کے علاقوں بونیر،باجوڑ، مینگورہ،شانگلہ اور دیگر علاقوں میں سیلاب اپنی تباہی کے ساتھ ساتھ بھاری پتھر بھی لے آیااور یہ پتھر اس قدر وزنی ہیں کہ بھاری مشینری سے ہی انھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ممکن ہے اور اب تک کی معلومات کے مطابق شاید یہ ابھی ممکن نہیں ہوسکا کیوں کہ راستوں کی بندش کے ساتھ ساتھ بارش کی گاہے گاہے آمد نے اسے مشکل بنادیاہے ۔ جب دیگرجماعتیں حتٰی کہ حکمران قیادت بھی جمع تفریق میں لگی ہوئی تھی یہ الخدمت فائونڈیشن (جماعت اسلامی )اور خدمت خلق (پاکستان مرکزی مسلم لیگ) والے اپنے اپنے علاقوں سے نکلے اور تباہ شدہ راستوں سے ہوتے ہوئے بونیر، باجوڑ، شانگلہ اور مینگورہ سمیت دیگر علاقوں میں جاپہنچے ۔

    دامے درمے سخنے جو ہوسکا پہلے ہاتھ ساتھ لے گئے ، زخمیوں کو نکالااورمرہم لگایا، لاشوں کو نکالااور دفنایا،لواحقین کو سینے سے لگایا ، بھوکوں کو کھانا کھلایا اور پیاسوں کے لیے پانی کا بندوبست کیا۔ پھر جب ذرا وقت تھما تو محسوس ہوا کہ وسائل کم ہے اور مسائل زیادہ ہیں ۔پھر تو پاکستان بھر نے ریلیف کے کام میں اپنا آپ کھپا دیا۔راشن اس قدر پہنچا کہ خدمت میں مصروف تنظیموں کو کہنا پڑا کہ خوراک کی نہیں اب بھاری مشینری، خیموں اور ادویات کی ضرورت ہے تاکہ قیام کا عارضی بندوبست کیا جاسکے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور جماعت اسلامی سمیت دیگر تنظیموں کی ماہر اور تجربہ کار میڈیکل ٹیموں نے میڈیکل کیمپ لگانے شروع کیے اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر پھیلتی وبائوں پر قابو پانے کی کوشش کی۔ کراچی سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی ٹیم فیصل ندیم اور ندیم اعوان کی معیت میں پہنچی اور خدمت میں جُت گئی اور ان کے خیبرپختونخواہ میں موجودگی کے وقت میں ہی کراچی میں بارش نے اپنا زور دکھا کر کراچی کو پانی میں ڈبو دیا لیکن یہ خدمت کے شیدائی اپنے گھروں کو پانی میں ڈوبا ہوا جان کر بھی ٹس سے مس نہ ہوئے ۔پاکستان بھر سے امدادی قافلے ابھی بھی جانب منزل رواں دواں ہیں کہ مسلمان کا شیوہ نہیں کہ اپنے بھائی کو تکلیف میں اکیلا چھوڑے۔صرف اہل فیصل آباد کی طرف سے ہی محمد احسن تارڑ جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے 1200سے زائد متاثرہ خاندانوں کے راشن پیک ، کپڑے،جوتے ، برتن اور ادویات وغیرہ تقسیم کی ہیں جب کہ اس سے قبل بھی فیصل آبادی ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ کی معیت میں خشک راشن جس میں چاول ، چینی ، اچار، دالیں ،چنے ، چائے ، گھی ، آٹا اور مچھردانیاں تقسیم کرچکے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی دیگر شہروں کی ٹیمیں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہمہ وقت مصروف ہیں ۔

    ابھی اہل پاکستان کے پی کے میں آئی اس آفت سے نبرد آزما تھے کہ راوی، ستلج اور چناب بپھر چکے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ ندی نالوں میں بھی جولانی لے آئے۔ شہراقبال مسلسل بارش کے باعث ڈوبا تو شہرسے گزرتے قدیمی نالوں میں پانی نے اپنا آپ اس طرح سے دکھایا کہ تادم تحریر سیالکوٹ سیلاب زدہ ہے ، شکرگڑھ ، نارووال ، وزیرآباف اور پسرور بھی سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں ۔ دیہاتوں کے دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور رہائشی گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ ریسکیو1122، پولیس اور دیگر حکومتی ادارے بھی اپنے اقدامات میں مصروف ہیں اور مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار بھی ان اداروں کے ساتھ مل کر خدمت میں مصروف ہیں۔ دریائے چناب میں تاریخ کا بلند ترین سیلاب ہے جو اپنے ساتھ بے شمار مصائب ومشکلات بھی لارہا ہے۔ بارشوں کے لمبے دورانیے نے ایک مشکل صورت حال پیدا کی ہوئی تھی اور اس صورتحال میںبھارتی آبی جارحیت نے مزید تباہی مچائی۔اس پانی کی غیر متوقع اور بے پناہ مقدار نے فصلوں کو تباہ کر دیا اور ہزاروں خاندانوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کر دیاہے۔

    یہ سیلاب ہمارے لیے ایک سنگین سبق ہے اگر ہم سمجھ سکیں کہ ہمیں آئندہ اس طرح کی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ماہرین ماحولیات کے مطابق ڈیمز کی تعمیر، پانی کے ذخائر میں اضافہ اور دریااؤں کے اطراف میں مضبوط حفاظتی دیواریں بنانا ضروری ہے ۔اس کے ساتھ ہی جدیدearly warning systemکا قیام بھی ناگزیر ہے تاکہ عوام کو وقت پر آگاہ کیا جا سکے کیوں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ سیلاب اور اسی جیسی دیگر آفات اب کئی سال تک ہمارے ساتھ رہیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلی پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کرے تاکہ پاکستان ان قدرتی آفات سے کم سے کم متاثر ہو۔

  • سیلاب،ہاؤسنگ سوسائٹیاں ڈوبیں، ذمہ دار کون، تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب،ہاؤسنگ سوسائٹیاں ڈوبیں، ذمہ دار کون، تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں لینڈ مافیا کا طاقتور ہونا ایک پیچیدہ مسلہ ہے جس کے پیچھے کئی تاریخی سماجی معاشی اور سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔ اس کے زمین کا ریکارڈ (پٹواری سسٹم) پرانا ناقص اور آسانی سے چھیڑ چھاڑ کے قابل ہے۔ عدالتوں میں زمین کے مقدمات دہائیوں تک چلتے ہیں جس کا فائدہ لینڈ مافیا کو ہوتا ہے۔ پولیس اور بیوروکریسی اکثر سیاسی دباؤ یا مالی فائدے کے تحت ان مافیاز کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ بہت سے لینڈ مافیا گروہ سیاسی جماعتوں اور بااثر لوگوں کے ساتھ براہ راست جڑے ہوتے ہیں سیاستدان ان کو تحفظ دیتے ہیں اور بدلے میں لینڈ مافیا انتخابی سپورٹ یا پیسہ فراہم کرتا ہے۔ شہروں میں رہائشی زمین کی مانگ بہت زیادہ ہے لینڈ مافیا خالی زمینوں پر قبضہ کر کے یا جعلی ہاوسنگ سکیمیں بنا کر کروڑوں روپے کماتا ہے۔ حکومت کی طرف سے سستی رہائش کے منصوبے نہ ہونے کے باعث لوگ ان مافیاز کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ رجسٹریشن۔ ریونیو۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی منظوری وغیرہ میں کرپشن عام جعلی کاغذات ڈبل فروخت اور جعلی سوسائٹیز بنا کر عام لوگوں کو لوٹنا آسان ہو گیا ہے۔ لینڈ مافیا کے پاس اپنے گن مین اور غنڈے ہوتے ہیں جو زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ عام ادمی ان کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا اور اکثر انصاف کے حصول کے بجائے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے سب سے بڑے ذرائع میں جائیداد اور زمین آتی ہے سٹے بازی اور بلیک منی زمین میں لگائی جاتی ہے اس سے مافیا کو مزید طاقت ملتی ہے۔ لینڈ مافیا ملک میں اس قدر پاور فل ہوا ہے کیونکہ ریاستی ادارے کمزور ہیں سیاسی پشت پناہی موجود ہے۔ عوام کے لیے ہاوسنگ کے متبادل محدود ہیں اور کرپشن نے ان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ حالیہ لاہور کی راوی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملک میں ایک ملک ریاض نہیں کتنے ہی ملک ریاض پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں پائے جاتے ہیں۔ ان لینڈ مافیا نے بڑے بڑے سیاست دانوں بیوروکریٹس اعلی پولیس افسران اور دیگر کو نہ صرف قیمتی ترین پلاٹوں سے نوازا بلکہ ان میں کئی ایسے ہیں جن کو بڑے بڑے فارم ہاؤس تیار کر کے دیے ہیں۔ اس کے پیچھے لینڈ مافیا کا مقصد صرف ان لوگوں کی زبان بندی ہے تاکہ وہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر سکیں۔ ذمہ داران ریاست کو چاہیے کہ اب اس لینڈ مافیا کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ایسا ادارہ قائم کرے جسے ریاست کیساتھ محبت ہو نہ کہ ان مافیا کے ساتھ۔جو حالیہ ایشو راوی ہاؤسنگ سوسائٹی والا سیلاب کی وجہ سے سامنے آیا جس کے باعث راوی کے اندر اور باہر کی بستیاں پانی میں ڈوب گئیں اس کے مین کردار 2019 اور 2020 میں عمران خان کی حکومت تھی اور سابق وزیراعلی پرویز الہی اور ان کا بیٹا مونس الہی ان کرداروں نے ان کو اجازت دی تھی بعد ازاں جب حکومت چینج ہوئی تو حمزہ شہباز نے آ کر اس پروجیکٹ کو روکا اور غلط قرار دیا اب سوال یہ ہے کہ جن کرداروں نے کروڑوں اربوں روپے کھائے اور مفادات اٹھائے ان کو نظر انداز کر دیا گیا اور سی ایم مریم نواز جن کی حکومت کو ابھی ایک سال ہوا ہے ان کو موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس تمام معاملے کی مکمل تحقیقات ہوں اور جنہوں نے مفادات اٹھائے کروڑوں اربوں روپے اس ہاوسنگ سکیم کی مد میں لیے ان کو قوم کے سامنے لایا جائے