پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب جمہوریت کو نقصان پہنچا یا اس کا خاتمہ ہوا تو اس جمہوریت میں صرف اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ہی شامل نہیں رہی بلکہ اکثر سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین نے بھی کسی نہ کسی انداز میں کردار ادا کیا ہے سیاسی جماعتوں کی باہمی لڑائیاں اکثر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہیں نتیجہ جمہوریت کا ڈھانچہ اندر سے کمزور ہوا اقتدار کے حصول کے لیے سیاسی رہنما اکثر اصولوں پر سمجھوتا کرتے رہے خود سیاسی جماعتوں نے آمروں کے ساتھ اتحاد کیا یا انہیں جائز قرار دیا تاکہ اپنی سیاسی بقاء کو یقینی بنا سکیں سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری کلچر قائم کرنے میں ناکام رہیں ایوب خان کے مارشل لاء میں کچھ سیاسی رہنماؤں نے حمایت کی ضیاء الحق کے دور میں بھی کئی سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ شامل ہوئیں پرویز مشرف کے دور میں کنگز پارٹی کے نام سے سیاسی اتحاد وجود میں آیا ہر دور میں کچھ نہ کچھ سیاسی عناصر نے آمریت کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا تاریخ گواہ ہے اقتدار کی حوس اور آپسی اختلافات کے باعث جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ تحریک انصاف جمعیت علماء اسلام متحدہ قومی موومنٹ عوامی نیشنل پارٹی کئی سیاسی جماعتوں پر بدعنوانی اور اقرباء پروری کے الزامات لگے ایک دوسرے کے دور حکومت میں قید و بند کی صحبتیں بھی برداشت کیں سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں بھی دیں اور غلطیاں بھی کیں ان سیاسی جماعتوں کا مثبت کردار یہ رہا آئین کی بحالی عوامی نمائندگی آمریت کے خلاف جدوجہد کے ساتھ ساتھ منفی کردار بھی ادا کرتے رہے اسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی کرپشن خاندانی سیاست اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش قصہ مختصر جہاں جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں وہاں جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ بھی کیا پارلیمان کو فعال کرنے کے بجائے زیادہ زور سڑکوں کی سیاست اور دھرنوں پر دیا گیا جس سے جمہوری عمل متاثر ہوا جمہوریت کے نام پر عوام کو گمراہ کیا گیا جمہوریت ہی نہیں جمہوری نظام کو بدنام کیا گیا ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی ٹیم نے سن 1973 کا آئین دیا جو جمہوریت کا بنیادی ستون ہے اس آئین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا بھٹو کے بنائے گئے آئین کا آئینی سوال دو اور دو چار کی طرح بالکل آسان ہے پھر بھی ہمارے سیاسی رہنماؤں سے حل ہونے کا نام نہیں لے رہا تاہم جمہور کی حالت قابل رحم ہے
Author: باغی بلاگز

معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کو سلام ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
قوموں کی تاریخ میں کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے ان کے اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جب ایک قوم اپنے وجود، عقیدے اور نظریے کے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے بے شمار معرکے ہیں جن میں وطن کے بیٹے، ایمان کی حرارت اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر دشمن کے سامنے ڈٹ گئے۔ یہ معرکے صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ نظریاتی، فکری اور سماجی میدانوں میں بھی جاری رہے۔ انہی معرکوں کے نتیجے میں ہمارے پاس وہ گراں قدر سرمایہ شہداءو غازیان ہے، جن کی قربانیاں ہمارے آج اور آنے والے کل کی ضمانت ہیں۔
معرکہ حق” کا مطلب محض ایک جنگ نہیں بلکہ یہ ایک ایسے موقف اور جدوجہد کا نام ہے جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن مرحلہ بن جائے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: ایک حق کا، جس میں قربانی اور استقامت درکار ہے، اور دوسرا باطل کا، جو وقتی سہولت اور ظاہری کامیابی فراہم کرتا ہے۔ معرکہ حق میں شریک ہونے والے افراد محض سپاہی نہیں ہوتے، بلکہ وہ حق کے نمائندے اور باطل کے سامنے جرات واستقامت اور بہادری وشجاعت کا مینار بن جاتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں 1947ءسے لے کر آج تک کئی ایسے مواقع آئے جب غازیوں اور شہیدوں نے اپنی جان، مال اور آسائش کو قربان کر کے قوم کو سربلند کیا۔
1948ءکی جنگِ کشمیر — قیامِ پاکستان کے فوراً بعد، جب کشمیر کے مسلمان بھارتی جارحیت کا شکار ہوئے، پاکستانی افواج اور قبائلی مجاہدین نے معرکہ حق میں شرکت کی اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ 1965ءکی جنگ — جب دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا، لیکن پاکستانی افواج اور عوام نے جس دلیری سے مقابلہ کیا، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ 1971ءکا دفاعی معرکہ — اگرچہ اس کے نتائج قوم کے دلوں کو غمگین کر گئے، لیکن اس معرکے میں ہمارے شہیدوں اور غازیوں کی بہادری آج بھی قابلِ فخر ہے۔ کارگل معرکہ 1999ئ— بلند و بالا پہاڑوں پر لڑنے والے جوانوں نے معرکہ حق کی نئی مثال قائم کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ — 2001ءکے بعد سے پاکستانی افواج، پولیس اور عوام نے جس طرح قربانیاں دیں، وہ ایک طویل مگر لازوال داستان ہے ۔
پاکستان کی تاریخ کا تازہ ترین معرکہ حق 10مئی کو لڑا گیا جس میں پاکستان نے اپنے دشمن بھارت پر شاندار فتح حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ بری، بحری اور فضائی افواج کے جوانوں نے جرا¿ت و بہادری کی ایسی مثال قائم کی جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ اس معرکے میں وطنِ عزیز کے کئی سپوت جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ بے شمار جوان غازیوں کے رتبے پر فائز ہوئے۔بری، بحری اور فضائی افواج نے جس جرا¿ت، حکمتِ عملی اور برق رفتاری کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر میں عسکری مبصرین کو حیران کر دیا۔ عالمی میڈیا نے اس کارروائی کو پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک درخشاں باب قرار دیا۔ بی بی سی، رائٹر اور الجزیرہ جیسے بڑے اداروں نے لکھا کہ پاکستان نے نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی میں مہارت دکھائی بلکہ جارحانہ اقدام کے وقت بھی بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی پاسداری کی۔ امریکی اور یورپی دفاعی ماہرین نے اس کارروائی کو “ Precision Strike” یعنی انتہائی درست اور کامیاب حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تیاری اور افواج کے باہمی تعاون نے دشمن کو غیر متوقع انداز میں پسپا کر دیا۔ عرب میڈیا نے اسے امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ فخر قرار دیا، جبکہ بھارتی دفاعی مبصرین نے بھی یہ تسلیم کیا کہ پاکستان نے اپنی عسکری برتری اور جنگی تیاری کا بھرپور ثبوت پیش کیا ہے۔ مجموعی طور پر 10 مئی کی یہ کارروائی پاکستان کی عسکری صلاحیتوں اور دفاعی عزم کی زندہ مثال ثابت ہوئی، جس نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور طاقتور ملک ہے جو اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔
پاکستان کے دفاع کےلئے جانیں قربان کرنے شہیدوں اور جانیں ہتھیلی پر رکھ دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے غازیوں کی عظیم قربانیوں اور لازوال خدمات کے اعتراف میں اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزراء، معززین اور شہداءکے اہلِ خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور قومی ترانے سے ہوا۔ صدرِ پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداءہماری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں پاکستان کی بقا و سلامتی کی ضمانت ہیں۔ غازیوں کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا جبکہ شہداءکے اہلِ خانہ کو تمغے اور اسناد پیش کی گئیں۔ حاضرین نے کھڑے ہو کر شہداءکو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کا اختتام دعائے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرہ تکبیر سے ہوا، جس سے ماحول جذبہ حب الوطنی سے لبریز ہو گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ غازی اور شہید — امت کی متاعِ گراں قدر ہیں ۔ اسلامی تعلیمات میں شہید کو زندہ قرار دیا گیا ہے، جنہیں اللہ کے ہاں رزق ملتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم شعور نہیں رکھتے” (البقرہ: 154)شہید کا مقام نہ صرف آخرت میں بلند ہے بلکہ دنیا میں بھی اسے اعزاز و افتخار سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح غازی وہ ہے جو معرکہ حق میں شریک ہو کر زندہ واپس آئے۔ غازی کی زندگی، ایمان و عمل کا چلتا پھرتا پیغام ہوتی ہے۔
پاکستان میں شہداءاور غازیوں کو اعزاز دینے کا ایک منظم نظام موجود ہے، جو نہ صرف عسکری سطح پر بلکہ عوامی شعور میں بھی ان کی خدمات کو اجاگر کرتا ہے۔حکومت کی جانب سے شہداءاور غازیوں کو اعزاز دینے کے کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب ایک قوم اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہے تو اس کے اندر باہمی محبت اور اتحاد پیدا ہوتا ہے۔نوجوان نسل میں وطن کے لیے قربانی دینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔دنیا کو یہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان اپنے محافظوں کی قدر جانتا ہے۔معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کی خدمات کو صرف تقریبات یا اعزازات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے تذکرے تعلیمی نصاب میں شامل کیے جائیں — ان کے کارنامے نصاب کا حصہ بنیں تاکہ نئی نسل ان سے واقف ہو۔معرکہ حق کے غازی اور شہید وہ چراغ ہیں جو قوم کے مستقبل کو روشن کرتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے ان کے لیے اعزاز و اکرام نہ صرف ان کی قربانیوں کا اعتراف ہے بلکہ ایک پیغام بھی ہے کہ یہ ملک اپنے محافظوں کو فراموش نہیں کرتا۔ ہمیں بطور قوم یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم اپنے شہداءو غازیوں کی قربانیوں کو صرف یاد ہی نہ رکھیں بلکہ ان کے مشن کو بھی آگے بڑھائیں — تاکہ پاکستان ہمیشہ سر بلند، محفوظ اور باوقار رہے۔
ٹرمپ،پیوٹن ملاقات، نتائج کیا ہوں گے،تجزیہ: شہزاد قریشی
الاسکا میں ٹرمپ اور پوٹن ملاقات ہوئی ہے اس ملاقات کے باوجود کوئی امن معاہدے یا جنگ بندی پر سمجھوتہ نہیں ہوا روس نے کوئی جنگ بندی قبول نہیں کی ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ کے اصل مسائل پر کوئی اثر نہیں ڈالا روسی صدر جنگ بندی کی شرطوں سے منحرف رہا، صرف مذاکرات کا تاثر پیدا کرنے تک محدود رہا تاہم روسی صدر کے لیے پہلی مرتبہ مغربی زمین پر ایسا اعزاز ملا حقیقی طور پر جنگ کا خاتمہ محض ڈپلومیسی سے ممکن نہیں، یوکرائن کی مزاحمت مغربی ممالک کی مدد اور روس یہ اقتصادی دباؤ ہی اسے جلد ممکن بنا سکتے ہیں روس اور یوکرائن کی جنگ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں پورے یورپ اور مغربی اتحادی ممالک کی شمولیت لازمی ہے اس کی چند بڑی وجوہات ہیں،
یورپی سلامتی کا مسئلہ نیٹو کے ممالک روسی جارحیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں یہ مسئلہ صرف امریکی صدر اور روسی صدر کا نہیں ہے
پاکستان میں اور دنیا بھر میں جشن آزادی منایا گیا زندہ قومیں اپنی آزادی کا دن جوش و خروش سے مناتی ہیں اور اپنے محسنوں کو یاد کرتی ہین ثابت کرتی ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں قوم تو زندہ ہے مگر نام نہاد سیاسی جماعتیں جو قومی سیاسی جماعتوں سے اب صوبائی اور علاقائی ہو چکی ہیں اپنے کرتوتوں سے خود تو اجڑ چکی ہیں قوم کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا ہے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے ذاتی اقتدار ذاتی مفادات کی خاطر قوم کو تقسیم کر دیا ملک و قوم کی حفاظت پر معمور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف ماضی اور حال میں افواہیں پھیلائیں نوجوان نسل کے ذہنوں میں قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرکے انکو گمراہ کیا قوم تھوڑا نہیں پورا سوچے اور غور کرے جن سیاسی جماعتوں سے اقتدار چھن جاتا ہے وہ پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف صدائیں بلند کرتے ہیں ماضی حال ان سیاسی جماعتوں کا دیکھ لیں عوام کی لاشیں پانی میں بہتی دیکھ کر سندھ طاس معاہدے پر سینہ کوبی کرنے والے سیاست دانوں نے ڈیم بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی؟ کبھی ان قومی مسائل پر توجہ کیوں نہیں دی؟ نئے جھوٹ اور نئے فریب انکی تقریروں سے آپکو ملیں گے جمہوریت کے نام پر خود تو اجڑے ہیں قوم کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا ہے امریکہ سے لیکر مغربی ممالک میں انکے اعمال کی وجہ سے ان سیاسی جماعتوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی پاک امریکہ تعلقات کی دوبارہ بحالی پاک فوج کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے بھارت بالخصوص مودی کو کون سمجھائے ہماری پاک فوج صرف فوج نہیں انکے اندر جذبہ جہاد ہے اگر دوبارہ کوئی قدم اٹھایا تو بھارت کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا

پاکستان ہمیشہ زندہ باد .تحریر۔ بنت حوا
آج فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ایک بیان نظر سے گزرا جو کہ 14 اگست کے دن کی مناسبت سے پیغام تھا
"پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کا مظہر بھی ہے، مذہبی اقلیتیں آج بھی ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔”فیلڈ مارشل عاصم منیر
اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ پاکستان میں ہر مذہب کے لوگوں کو تحفظ حاصل ہے لیکن یہاں مسلمانوں کو خاص کر اہل تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے کی آزادی نہیں بلکہ اہلِ تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کے پی کے سے لے کر پنجاب تک اربعین واک اور دیگر علامتی اجتماعات پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ ایک طرف داتاصاحب کے عرس مبارک پر ہماری سی ایم صاحبہ کا بیان کہ زائرین کو ہر طرح سکیورٹی فراہم کی جائے اور سبیلیں اور لنگر نیاز دیئے جائیں نے عجیب کیفیت کر دی ،ایک طرف ہماری سی ایم بزرگان دین اللہ کے ولی کے زائرین کے لئے ایسا حکم دے رہی اور دوسری طرف نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زائرین کی علامتی اربعین واک پر پابندی عائد کردی جاتی ہے اور مسافروں کو کھانا اور سبیل اور پانی دینے والوں کو سخت کارروائی کی دھمکی دی جاتی ہےواک کا آغاز کرونا کی وبا کے وقت ہوا اور چہلم امام حسین علیہ السلام پر جو لوگ نجف سے کربلا جانے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ عشق حسین میں یہاں پر ہی پیدل چل کر ضریح عباس،ضریح حسین علیہ السلام پر حاضری دیتے اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں
یہ نہ تو سیاسی جلوس ہوتا اور نہ ہی اس میں بد امنی ہوتی ہے
ہر زائر کے لبوں پر صرف عشق حسین علیہ السلام کےاس طرح کے نعرے ہوتے
"ہے ہماری درسگاہ،کربلا کربلا ”
لبیک یا حسین علیہ السلام
سلام شہنشاہ وفا
جو نہ تو کسی کی دل آزاری کرتے اور نہ ہی کسی کے خلاف بلکہ انسانیت اور وفا کی علامت ہیں لیکن سلام ہے ہماری صوبائی حکومت خاص کر ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی اور ہماری سی ایم صاحبہ پر اور ضلعی انتظامیہ چکوال پر جنھوں نے پیدل چلنے والے افراد کے خلاف دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کیا اور کنٹینر لگا کر رستے بلاک کئے اور ٹریفک بلاک کر دی گئی لیکن وہ بھول گئے کہ ایسے اقدامات سے سفر عشق کے مسافر رکتے نہیں اور زائرین کا سفر رکا نہیں لیکن مریضوں اور دوسرے لوگوں کے لئے زندگی مشکل ضرور بن گئیضلعی انتظامیہ چکوال کی کیا بات ہے 12 سے 15 اگست 144 کا نفاذ ہوتا ہے وہ بھی صرف اربعین واک پر باقی پوری تقریبات کو آزادی تھی خود 144 لگا کر پبلک ایونٹ محفل موسیقی پروگرام ہوتا ہے ،13 اگست کو ہی کریالہ کے مقام پر کبڈی میچ ہوتا ہے 14 اگست کھوکھر زیر کبڈی میچ کا انعقاد ہوتا ہے لیکن نہ تو "انصاف پسند "ڈی پی او چکوال اور نہ ہی ڈی سی صاحبہ کو خلاف ورزی نظر آتی ہے ۔زائرین کے لئے پانی اور کھانا دینے پر پابندی ہوتی ہے اور جگہ جگہ زائرین کو کھانا دینے والوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور ایک زائر کے گھر سے پکی ہوئی دیگیں اٹھا کر اپنے مہمانوں کو کھلادی جاتی ہیں
یہ دوہرا معیار کیوں؟ اگر ہمارے اعلی حکام کو سمجھ لگتی تو اربعین واک سے بہت سے لوگوں کو معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے
لنگر،فروٹ،خشک میوہ جات،پیکٹ والی اشیاء،دودھ دہی غرض ہر طرح کی اشیا خوردو نوش کی خریداری پر فائدہ ہی تھا نقصان نہیں لیکن یہاں دوہرا معیار ہے اس سے نقصان کس کا ہوا ؟حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کے امیج کا کیونکہ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ایک طرف اجتماعات کو آزادی ہے اور دوسری طرف اہل بیت کے نام پر نکلنے والے مسافروں کو رکاوٹوں،کنٹینرز اور مقدمات کا سامنا ہے تو پھر مثبت سوچ نہیں رکھی جا سکتی
اگر ریاست واقعی مذہبی آزادی اور ہم آہنگی چاہتی ہےاور پاکستان کو پر امن،ہم آہنگی،اور یکجہتی کا مرکز دیکھنا چاہتی ہے اسے تمام مسالک،ہر عقیدے کے ساتھ برابری کا رویہ اور یکساں سلوک اپنانا ہوگا بصورتِ دیگر یہ دوہرا معیار نہ صرف عوام کے اعتماد کو کھوکھلا کرے گا بلکہ معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کرے گا اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے گا
پاکستان کو زندہ باد کہنا آسان ہے، مگر اس نعرے کو حقیقت بنانے کے لیے تلخ حقائق کا سامنا کرنا اور انصاف کے ترازو کو برابر رکھنا ناگزیر ہے۔سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

ملکی قومی جماعتیں صوبوں تک محدود کیوں ہوئیں،تجزیہ:شہزاد قریشی
ملکی سیاسی جماعتیں کسی زمانے میں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج وہی جماعتیں صوبوں تک محدود ہو چکی ہیں زیادہ تر جماعتیں یا تو علاقائی سیاسی قوتیں ہیں یا عملا اس مقام تک پہنچ چکی ہیں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی۔ پی ٹی آئی اندرونی بحرانوں کی زد میں ہے یہ جماعت بھی اب پیپلز پارٹی یا ن لیگ کی طرح صوبے تک محدود ہو چکی ہے تمام سیاسی جماعتوں میں دو قسم کے گروپ موجود ہیں ایک مزاحمتی اور ایک مفاہمتی گروپ مفاہمتی گروپ مزاحمتی گروپ پر حاوی ہے۔ جس سیاسی جماعت کو حکومت بنانے میں چھوٹی اور علاقائی مذہبی جماعتوں کا تعاون درکار ہو وہ جماعت قومی جماعت نہیں کہلوا سکتی ان سیاسی جماعتوں کی قومی حیثیت ختم ہو چکی ہے مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی تحریک انصاف روایتی طور پر قومی جماعتیں سمجھی جاتی تھیں ان جماعتوں کا اثر متعدد صوبوں میں رہا ہے مسلم لیگ (ن) پنجاب میں مضبوط تھی نواز شریف کی بار بار حکومتوں کا تختہ الٹ دیا گیا اسکے اثرات ان کی جماعت پر پڑے کسی بھی ن لیگ کی مرکزی قیادت نے (ن) لیگ بطور جماعت کو مقبول کرنے پر توجہ نہیں دی تاہم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے ن لیگ کے ورکروں اور عہدداروں کو پنجاب میں زندہ رکھا آج اس جماعت کی حیثیت یہ ہے کہ قومی سطح پر اسکی حمایت محدود ہوتی جا رہی ہے۔
پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہے کراچی جیسے شہر میں بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کی اکثریت کا جھکاؤ جماعت اسلامی کی طرف دیکھا گیا ہے پی ٹی آئی میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں یہ جماعت بھی اب قومی جماعت کہلوانے کے قابل نہیں رہی قیادت کا فقدان صاف نظر آرہا ہے۔ مذہبی جماعتوں کا حال بھی کچھ اسی طرح ہے اور روایتی قومی جماعتوں کی چنگاری ماند پڑ رہی جمہوری اداروں کی بہت سے قومی اور بین الاقوامی اُتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے جمہوری اداروں کی خود مختاری متاثر ہو رہی ہے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں ناکام آئین اور قانون کی حکمرانی پر عمل نہیں کیا پارلیمنٹ ہاوس میں ایک دوسرے کو غدار ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے نہ سیاسی گلیاروں میں سیاست نظر آتی ہے نہ جمہوریت نہ جمہور کی فکر جمہور کی فکر کا عالم یہ ہے شدید گرمی میں گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ

خدارا!لوگوں کیلئے آسانیاں پیداکریں ،ملک کو اکھاڑہ نہ بنائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی
پاک امریکہ تعلقات ،فیلڈ مارشل کے دوروں سے بھارت پریشان ،اصلی چہرہ دنیا نے دیکھ لیا
سینیٹر اسحاق ڈار کےعالمی رہنمائوں سے مسلسل رابطے،بھارت کو بے نقاب کردیا
پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے نوجوانوں جدید ٹیکنالوجی دینا ہوگی
تجزیہ ،شہزاد قریشی
پاک امریکہ تعلقات اس وقت عروج پر ہیں،بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکے ساتھ امریکی صدر کی ملاقات ،پاک بھارت کشیدگی کے دوران وزیر خارجہ سینیٹراسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کا عالمی دنیا سے مسلسل رابطہ ،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا اور عالمی دنیا میں بھارت کی سفارتی شکست نے بھارت کی مودی حکومت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آچکا ہے، پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل باہمی مفادات اور بدلتے عالمی حالات پر منحصر ہے، اگر دونوں ممالک اعتماد کی بنیاد پر تعلقات کو از سر نو تشکیل دیں اور غیر روایتی شعبوں میں تعاون بڑھائیں تو یہ تعلقات ایک زیادہ متوازن اور پائیدار شکل اختیار کر سکتے ہیں، علاقائی سلامتی میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے ،پاکستان آج بھی جغرافیائی لحاظ سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے،طویل تعلقات کے لئے دونوں ممالک کو پالیسی میں شفافیت اور ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، تعلیم، صحت ،ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے شعبے نئے مواقع فراہم ہو سکتے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سمیت اعلیٰ عہدوں پر تعینات بیورو کریسی کے افسران ،اعلیٰ بیوروکریٹ اور دیگر پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ملک و قوم کو مستحکم بنانے کے لئے پیٹ سے سوچنا بند کرکے دماغ سے سوچنا شروع کردیں ،امریکہ اور مغربی ممالک سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کریں،نوجوان نسل کو جدید تعلیم اور سائنس کی تعلیم دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں، پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم ،عمل اور میرٹ ہے، ایمانداری اور دیانت داری سے ملک وقوم کی خدمت کریں، سچ پوچھئے تو ریاست اب تھک چکی ہے ، اللہ تعالی ٰنے دنیا کے لئے جو فرش بچھایا تھا یہ امن کا فرش ہے ، پاکستان کی سرزمین بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے دنیا بھرکا یہ فرش امن کے لئے بنایا گیا تھا افسوس مٹی کے بنے انسان نے اپنے اقتدار واختیارات کے لئے اسے اکھاڑہ بنا دیا ، پاکستان کا یہ فرش اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے کسی سیاسی جماعت کے اکھاڑے کے لئے نہیں بنایا گیا اس میں بسنے والے انسانوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں
پنجاب کا ثقافتی ڈاکخانہ اور سیاسی تھیٹر
پنجاب آرٹس کونسل کا قیام ایک روشن خیال ثقافتی ادارے کے طور پر ہوا تھا تاکہ پنجاب کی گہری ثقافتی روایات کو محفوظ رکھا جا سکے، فنکاروں کو پروان چڑھایا جائے اور ثقافت کو فروغ دیا جائے۔ لیکن آج اس ادارے کی صورتحال اس کے قیام کی ابتدائی امیدوں سے کہیں مختلف ہے۔ پنجاب آرٹس کونسل ایک ایسا ثقافتی ڈاکخانہ بن چکا ہے جہاں پرانی روایات، سیاسی سازشوں اور ذاتی مفادات نے ادارے کی شان و شوکت کو مدھم کر دیا ہے۔
پنجاب آرٹس کونسل تقریباً پچاس سال پرانا ادارہ ہے، جو کہ پنجاب کی ثقافت کا گہوارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس ادارے نے ابتدا میں پنجاب کے مختلف فنون، ادب، موسیقی اور تھیئٹر کو فروغ دیا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کی حکمرانی سیاسی مفادات کے ہاتھوں میں آ گئی۔ ادارے کے بیساکھی پچاس سال کی عمر اس کے لیے ایک ثقافتی ورثہ کے بجائے ایک بوجھ ثابت ہو رہی ہے۔ابتدائی دور میں ادارے نے کئی بڑے فنکاروں اور ادیبوں کو پروان چڑھایا، مگر جیسے جیسے وقت گزرا، سیاسی مداخلتیں بڑھتی گئیں اور ادارہ اپنی اصل پہچان کھانے لگا۔ مختلف ادوار میں ادارے کے افسران اور ملازمین کی بھرتیاں سیاسی سفارشات اور غیر قانونی طریقوں سے کی گئیں، جس نے ادارے کی سالمیت کو نقصان پہنچایا۔
پنجاب آرٹس کونسل کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی تھئیٹر کا چلنا ہے۔ ادارے کے اندر سیاسی رہنما، مختلف وزارتوں اور دفاتر کے نام نہاد افسران نے قبضہ جما رکھا ہے، جو ادارے کو اپنے ذاتی یا پارٹی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب آرٹس کونسل کی دیواریں اب سیاسی سازشوں، رقعے کی بھرتیوں اور نجی منافع کے لیے میدان بن گئیں۔مثال کے طور پر 2019-2020 کے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے بھرتی سکینڈل نے ادارے کی شہرت کو مٹی میں ملا دیا۔ ایسے معاملات جہاں میرٹ کا تقدس پامال کیا گیا، ادارے کی ثقافتی ساکھ کو شدید دھچکہ پہنچایا۔ اس کے علاوہ، غیر متعلقہ اور نااہل افراد کی ملازمتوں میں بھرتی نے کام کے معیار کو بھی متاثر کیا۔پنجاب آرٹس کونسل میں داخلی چپقلشیں اور ذاتی مفادات کی جنگیں ادارے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔سرکاری حکومتی ادیبوں،فنکاروں اور ادبی رنگیلوں نے پنجاب آرٹس کونسل سے نکلی لاہور آرٹس کونسل میں بھی خوب حکومتی منجن بیچا ایک بار تو منجن کا نام ناروے پڑ گیا جہاں غائبی اور رقعوں کی بھرتی کا سلسلہ لاہور آرٹس کونسل کا خاصہ رہا وہیں محل وقوع نے فیض اور جالب کو روساء سے بغلگیر کیا مگر استاد دامن اور سائیں اختر لہوری روساء کی بیٹھکوں میں سما نہ سکے اور نہ ہی حکومتی دربار انکے الفاظ کی تاب لاسکتے ہیں۔
روایتوں کا امین اوپن ائیر تھئیٹر باغ جناح، پنجاب آرٹس کونسل جہاں کبھی صادقین تو کبھی شاہ ہمدان بھی براجمان رہے وہیں ثمن راۓ کے عہد میں داخل ہوتے ہی اسکے خدوخال بھی سنورتے ہیں شخصی چکی پیستے افسر سانس لیتے ہیں وقت گزرتا ہے تو رقعے کے جعلی سیاسی بھرتیوں کا شور اور اونچا ہوتاہے، جہاں ادارے کے کچھ ذمہ دار افسر اور ملازمین ادارے کی بہتری کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں، وہیں کئی لوگ سیاسی تحفظات کی بنیاد پر ادارے کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں۔مثلاً رضا رضوان جیسے افسران نے کرونا کے دوران ادارے اور ثقافت کو بچانے کی کوشش کی، مگر اندرونی چپقلشوں اور سیاسی رکاوٹوں نے ان کے کام کو مشکل بنا دیا۔ ادارے کے کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لیے ادارے کی بنیادی اقدار کو پامال کرتے رہے، جس سے ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی۔
رانا تنویر ماجد کے دور میں پنجاب آرٹس کونسل نے سیاسی مفادات کو ثقافت پر فوقیت دی۔ انہوں نے ادارے کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کیا اور اپنے افسران کو مکمل آزادی دی کہ وہ ثقافتی سرگرمیوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں۔ اس دوران ادارے میں سیاسی تھئیٹر نے زور پکڑا اور ثقافت کو ایک سیاسی اوزار میں تبدیل کر دیا گیا۔شاہ ہمدان کے دربار کی حمایت میں ادارے نے خود کو سیاسی حلقوں کے حوالے کر دیا، جہاں قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں اور ثقافت کی عزت کو پامال کیا گیا۔ ایسے حالات میں جہاں ادارے کے اندرونی نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، وہاں بیرونی عناصر نے بھی اس ثقافتی ادارے پر حملے تیز کر دیے۔
دوسری جانب پلاک میں بلال کی بہادر مدبر رفیق بینش نے ہمیشہ اپنی عاجزی سے بلال کی سخت گیری پر چہ مے گوئیوں کا جواز ہمیشہ دیا۔پھر جامعہ پنجاب میں غیر قانونی بھرتی کے چھوٹےکلیدی کردار کے بعد رانا تنویر ماجد کا عہد ہمارے سامنے ہے جہاں سیاسی بقاء کے لئے ایندھن کے طور پر رانا تنویر ماجد نے بغیر شرط کی خود کو اور اپنے افسران کو سیاسی تھئیٹر کے مذبح خانے اور ثقافتی سپرمیسی کے لیے پیش کیا۔ساندل بار کے اس سپوت نے اپنی بار کاتو بھرم رکھا ہی مگر دوسری طرف کمیٹی چوک سے بھی وارد خصوصی نشست کو بمعہ افسر بے دریغ ملکہ کوہسار کی کونسل میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی رہائش بطور ریسٹ ہاؤس ہفتوں تک مفت دئیے رکھی اجازت دی اور بدلے میں کیا ملا کہ ہمدان کے پارسا نے ہر موقع پر حیران کن طور سیاسی تھئیٹر کو ثقافت پر فوقیت دی سیاسی زہد زدہ عناصر کو اندھیرے میں رکھا اور فیوض و برکات کا سلسلہ جاری رکھا مگر راناتنویر ماجد حملہ آور ہو کر نجس کیسے ہوا جس نے افسروزاہد کے معاملات پر شاہ ہمدان کے کہنے پر پٹی باندھے رکھی قانون کی دھجیاں دربار ہمدان میں اڑنے دیں البتہ ثقافت کی عصمت دری پر کسی طاہر و زاہد کی عفت دری نہ ہونے دی۔اندر بیٹھےبھیڑیوں کے لیۓ عباسیوں کے میوزیم کو پناہ گاہ بنایا افسر کے لئے تھئیٹر سے سرکاری وظیفے اکٹھے کرنےوالے بلند اقبال عناصر کو تطہیر کے لئے گوشہ طاہر بھیجا۔
پنجاب آرٹس کونسل میں غیر قانونی بھرتیاں اور سیاسی سفارشات کی وجہ سے ادارے میں میرٹ کا نظام مفقود ہو گیا ہے۔ گریڈ بیس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی سفارشات کو جانچنے کے لیے غیر قانونی کمیٹی قائم کی گئی، جس کی سربراہی گریڈ سترہ کے سیکشن افسر کے پاس ہے۔ یہ خود ادارے کی بے توقیری ہے کہ اعلیٰ سطح کے افسروں کو بھی اس نظام کے تابع ہونا پڑتا ہے۔ایسے ماحول میں جہاں ادارے کے اندر بنیادی اصول و ضوابط کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں، وہاں ادارے کی اصل شناخت کھو جاتی ہے۔ ملازمین کی شفاف بھرتیاں نہ ہونا، غیر متعلقہ افسران کا آنا جانا، اور ادارے کے اختیارات کا زوال پنجاب آرٹس کونسل کے زوال کا سبب بن چکا ہے۔
پنجاب آرٹس کونسل کے پچاس سال مکمل ہونے کے باوجود یہ ادارہ آج بھی ایک نامکمل اور مخدوش شکل میں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ زائد العمر اور غیر قانونی بھرتیاں، سیاسی مداخلت اور ادارے میں سیاسی تھئیٹر کا تسلط ہے۔ اس ادارے کو حقیقی معنوں میں ترقی دینے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی مداخلت کو مکمل طور پر ختم کیا جائے اور ادارے کو خودمختاری دی جائے۔ملازمین کی بھرتیاں مکمل میرٹ پر مبنی ہوں، اور غیر قانونی عمل کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔ادارے کے تمام افسران اور ملازمین کو ثقافت کی حقیقی خدمت کا جذبہ دیا جائے، نہ کہ سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جائے۔ثقافتی پروگرامز اور تھیئٹر کو سیاسی اقتدار سے آزاد کیا جائے تاکہ پنجاب کی حقیقی ثقافت کو اجاگر کیا جا سکے۔ادارے کے اندر شفافیت، جوابدہی اور معیار کو بلند کرنے کے لیے جدید اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔
پنجاب آرٹس کونسل آج ایک ایسا ادارہ ہے جو ثقافت کے بجائے سیاسی تھیئٹر کا مرکز بن چکا ہے۔ اس کی اصل پہچان اور ثقافتی عظمت کو بحال کرنے کے لیے سخت اصلاحات اور شفافیت کی اشد ضرورت ہے۔ اگر اس ادارے کو عوام کی حقیقی خدمت کرنی ہے تو سیاسی دخل اندازی کو ختم کرکے اس کی خودمختاری کو یقینی بنایا جانا چاہیے، تب ہی پنجاب کی ثقافت ایک بار پھر روشن اور زندہ ہو سکے گی۔


مریم نواز کا بہترین طرز حکمرانی،عام شہری کی زندگی پر مثبت اثرات.تجزیہ:شہزاد قریشی
سفارشیوں کی بھرتی سے اجتناب برتا جائے،میرٹ عام آدمی کو پسند ہے
ورکروں سمیت پارٹی کا ہر لیڈر مریم نواز کا ساتھ دے تو گڈ گورننس کو مزید چار چاند لگ جائیں
محسن نقوی وزیرداخلہ ،وزیر اعظم نہیں بنیں گے،موجودہ حکومت پانچ سال پورے کریگی
تجزیہ ،شہزاد قریشی
پنجاب میں اچھی حکمرانی کو دیکھیں تو مریم نواز کے طرز حکومت کے عام شہری کی روز مرہ زندگی پر مثبت اثر ات پڑ رہے ہیں، تاہم مسلم لیگ ن سے وابستہ کچھ لوگ پٹواریوں ، تحصیلداروں ، اے سی ،ڈپٹی کمشنرز، کمشنرز، اعلیٰ پولیس افسران اور دیگر محکموں میں میرٹ کی بجائے سفارشی تعیناتی کو ترجیح دیتے ہیں یعنی اقربا پروری جبکہ عام آدمی میرٹ پر خوش نظر آتا ہے،پنجاب کی اکثریت افسران اور اداروں میں تعیناتیاں سیاسی بنیادوں کی بجائے صلاحیت اور کارکردگی کی بنیاد پر تعیناتیاں درست قرار دیتی ہے،جو لوگ میرٹ سے ہٹ کر اپنی مرضی کی تعیناتیاں چاہتے ہیں وہ پاکستان نہ عوام اور نہ ہی اپنی جماعت سے مخلص ہیں ، وزیراعلیٰ پنجاب کو تعلیم ، صحت ، لاء اینڈآرڈر ، پٹوار خانے یعنی محکمہ مال اور زراعت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی اور مسلم لیگ ن کےوہ افراد جو کرپٹ نظام کے حامی ہیں انہیں اپنی جماعت، حکومت اور ملک وقوم کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو دفن کرنا ہوگا، اگر سب مل کر وزیراعلیٰ پنجاب کا ساتھ دیں تو پنجاب میں گڈ گورننس کا تاثر مزید مضبوط ہو گا ، مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا، پنجاب حکومت ایک ٹاسک فورس تشکیل دے جس کی تمام تر توجہ گڈ گورننس پر ہو ،صوبائی وزراء ،بیورو کریسی ، سول انتظامیہ اعلی پولیس افسران پر نظر رکھے، اگر ان افسران پر نظر رکھی جاتی تو کروڑوں روپے کے غبن میں ملوث سیالکوٹ کے ایک ریونیو آفیسر ملوث نہ ہوتے،آج بین الاقوامی سطح پرپنجاب حکومت کا مثبت امیج ،عوامی اعتماد میں اضافہ ، بدعنوانی میں کمی واقع ہوئی ہے ، تھوڑی اور توجہ دینے کی ضرورت ہے ، ملک میں افوا سازی کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ، سوشل میڈیا اور چند نیوز چینلز پر اگلے وزیراعظم کی حیثیت وزیر داخلہ محسن نقوی کی قیاس آرائیاں زیر گردش ہیں ،ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ،وہ وزیر داخلہ ہیں اور ملک کے وزیراعظم شہباز شریف ہیں، آمدہ قومی انتخابات تک یہی مخلوط حکومت کام جاری رکھے گی ملکی سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنے ، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے صدق دل سے کام کریں، اپنا رُخ ملک وقوم کی خدمت کرنے کی طرف موڑ دیں مقبولیت کا یہی ایک راستہ ہے ملک و قوم کی خدمت باقی تمام راستے غلط ہیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں
ایمان اتحاد تنظیم وقت کی اہم ضرورت ۔تحریر: انجینئر علی رضوان چودھری
ہم نے قائد اعظم کے دیگر بہت سے اقوال کے ساتھ ساتھ اس قول پر بھی جتنا عمل کیا ہے اس کا جو نتیجہ ہونا چاہیے تھا وہ آج پاکستانی عوام اس کو بھگت رہی ہے ۔اب تک ہمارے رہنماوں (مذہبی ہوں یا سیاسی)کی اکثریت نے نفرت کے بیچ ہی بوئے ہیں جس کی فصل پک کر اب تیار ہو چکی ہے۔ایمان ،اتحاد ،تنظیم کی افادیت کو سوائے چند ایک رہنماوں کے کوئی اس کو اہمیت نہیں دے رہا ایمان امید ہے ،ایمان امنگ ہے ،ایمان یقین محکم ہے ۔دل قوت ایمان سے اگرمعمور ہو تو انسان ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کر سکتا ہے ۔آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے ، اللہ سبحان تعالی کی رحمت کی امید کہ وہ محنت کی جزا دے گا اور اللہ سبحان تعالی کی سزا کا خوف جو بداعمالی ،سستی سے ناکامی کی صورت میں مل سکتی ہے ۔یہاں یہ نکتہ بھی ہے کہ خوف ہو گا تو مزید محنت ہوگی احتیاط ہو گی ۔اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ (مفہوم حدیث ﷺ ) ایمان کے تین درجے ہیں پہلا یہ کہ اگر کوئی شخص کسی برائی کو ہوتا دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے دوسرا یہ کہ اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے روکے تیسرا یہ کہ اگر ایسا بھی نہ کر سکے تو دل سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے نچلا درجہ ہے ۔آج پھرپاکستان بھر کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں میں قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے ۔ چیونٹی کتنی کمزورہوتی ہے لیکن یہ مل کر اپنے سے کئی گنا بڑے مردہ جھینگر کو آسانی سے گھسیٹ لے جاتی ہیں۔ اس طرح جن لوگوں میں اتحادواتفاق یکسانیت اور یگانگت ہوتی ہے وہ مشکلات کے پتھروں کو اپنی یکجہتی کی ضربوں سے پاش پاش کر دیتے ہیں۔ اتحاد واقعی طاقت ہے۔ اسلام اتحاد کا پیام لایابھائی چارہ کا درس دیا بلکہ اس پر عمل بھی کیا ، اسلام کے ارکان اتحاد کی دعوت دیتے ہیں۔ نماز تمام امتیازات کو مٹا کر اتحاد کا سبق دیتی ہے۔ایک ہی صف میں کھڑے ہو گے محمودو ایاز والا منظر بن جاتا ہے۔حج مسلمانان عالم میں اتحاد عمل کی روح پھونکتا ہے اورتبادلہ خیال کا موقع فراہم کرتا ہے۔ روزہ میں تمام مسلمان ایک وقت سحری و افطاری کرتے ہیں ۔اور نماز تراویح کا ایک ساتھ ادا کرنے سے محلے،گاوں میں اتحاد و تفاق پیدا ہوتا ہے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ ہم میں اتحاد کی کمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ارکان اسلام کو پابندی سے ادا نہیں کرتے ۔ دین اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر اگر دنیا میں دیگر مذاہب اور دیگر تمام مکتب فکر کی بات کریں دیکھیں تو وہاں بھی یہ معلوم ہو گا کہ قومیں اتحاد ہی کی بدولت کامیاب و فتح مند ہوتی ہیں۔ اور دوسری طرف قومی اتحاد کی تباہی میں جو عناصر ہیں ان میں ذاتی فائدہ، مطلب پرستی، اقتدار کی ہوس مال و زر اور قوم پرستی زر پرستی وغیرہ اس فہرست میں شامل ہیں۔ اسلام میں داخل ہونے کے بعد سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی کہلاتے ہیں۔صحابہ نے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کر دیکھایا کہ تم اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک تم دوسرے کے لیے وہی پسند نہ کرو جو اپنے لیے کرتے ہو(مفہوم حدیث) اسلام کی ابتدائی فتوحات میں قومی اتحاد ایک خاص اہمیت کا حامل تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس اتحاد میں کمی واقع ہوتی گئی۔اس کی وجوہات میں دشمنوں کی شازش کے ساتھ ساتھ اپنوں کی مہربانیاں بھی شامل ہیں حتی کہ صورت حال خانہ جنگی تک جا پہنچی ہے۔ خانہ جنگی میں جتنا اپنوں سے نقصان پہنچتا ہے۔ دشمنوں سے نہیں پہنچتا۔ اگر پاکستانی قوم اپنے قائد کے فرمان اتحاد ،ایمان،تنظیم پر ہی عمل کر لیتی تو موجودہ نااتفاقی کی صورت حال کبھی پیدا نہ ہوتی آج ہماری قوم کا نااتفاقی پر اتفاق ہے اور اتحاد پر اختلاف ہے۔تنظیم ،ڈ سپلن اور نظم و ضبط انسانی کر دار کا سرمایہ ہوتا ہے تنظیم میں برداشت کرنا ،صبر کرنا انتظار کرنا وغیرہ کے عناصر ہوتے ہیں ۔اسلامی احکام و فرائض کو دیکھیں تو نظم و ضبط کا حیرت انگیز منظر نظر آتا ہے ۔ نماز کو ہی لیں ،وقت ،ترتیب ،قطار،ایک ساتھ قیام ،رکوع،سجدہ اور سلام وغیرہ ۔دکھ کی بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت میں قطار بنانا،صبر کر کے اپنی باری کا انتظار کرنا ،ڈسپلن و ترتیب سے کام کرنا نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس کے بر عکس ترقی یافتہ ممالک (جن کی اکثریت کی غیر مسلم ہے)میں دیکھیں تو آپ کو ہر کام ترتیب ،ہر شخص میں نظم و ضبط نظر آتا ہے ۔ان کی ترقی کا یہی راز ہے اور ہم ایک آزاد ملک کے باسی ہیں اس لیے ایسی پابندیوں سے آزاد ہیں پھر اس پر فخر بھی ہے اور بے شرمی کی انتہا ہے کہ اس کا احساس بھی نہیں ہے ۔ آپ پاکستان کے موجودہ حالات دیکھ لیں ہر طرف افراتفری ہے ،نفسانفسی ہے ، سارے غیر مسلموں نے مل کر نیٹو فوج بنائی ، کرنسی ایک کی ،اوراتحاد میں جو فائدے ہیں ان کا ثمر بھی اک عرصے سے ان کو مل رہا ہے دنیا پر ان کی حکمرانی ہے ۔ ایمان ،اتحاد ،اتفاق اور تنظیم وغیرہ کی باتیں اب ہماری نصابی کتب میں ہی رہ گئی ہیں ، جسے پڑھ پڑھ کر ہم بور ہو چکے ہیں اورعوام و خواص کے کن پک گئے ہیں ایمان ،اتحاد تنظیم کی باتیں سن سن کر ۔ اس لیے بھی آپ کو مزید بور نہیں کرتے اور اس دعا کے ساتھ کالم کا اختتام کرتے ہیں کہ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اے خدا اے کار ساز تو ہی ہماری قوم و ملک کو ہدایت دے اور ہمارے ملک کی حفاظت فرما ۔اسے تمام آفات سماوی و اراضی سے محفوظ رکھ۔اے ہمارے اللہ ہمارے حکمرانوں ،اپوزیشن اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی قائد اعظم کے اس قول ایمان ،اتحاد اور تنظیم پر عمل کرنے کی تو فیق دے ۔

مجھے اڑان بھرنی ہے،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)
"مبارک ہو!” یہ الفاظ سماعتوں کو کتنے بھلے لگتے ہیں۔ جب کوئی لیڈی ڈاکٹر کسی باپ کو بتاتی ہے کہ "مبارک ہو آپ کے گھر میں رحمت آئی ہے۔ خاص طور پر اس والد کی بات کروں گی جہاں شدت سے بیٹی کی پیدائش کا انتظار کیا جا رہا ہو۔ گھر کو سجایا جاتا ہے ہر طرف خوشیاں منائی جاتی ہیں طرح طرح کے پکوان بنتے ہیں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں۔ یہ اس گھر کا منظر ہے جہاں واقعی بیٹی کو رحمت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں باپ سوچتا ہے کہ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ رزق کے دروازے کھلتے ہیں لیکن اسی دور میں اب بھی زمانہ جاہلیت جیسے لوگ بھی موجود ہیں جو بیٹی کی پیدائش پر بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں اسے برا بھلا کہتے ہیں اس کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں نا کہ ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح ہر مرد بھی مکمل طور پر بہترین باپ نہیں ہوتا۔ کئی باپ اپنی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں لیکن کئی باپ اپنی بیٹیوں کو اپنی زندگی کی بہار سمجھتے ہیں۔ آج ہم اس باپ کے بارے میں بات کریں گے جو اپنی بیٹی کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے اس کی ہر خواہش اس کی زبان پر آنے سے پہلے پوری کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی تو اپنی بیٹی کی محبت میں کسی کی بیٹی کو ذلیل کرنے سے کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔ اپنی بیٹی کی محبت اس کے باقی تمام رشتوں پر خاوی آ جاتی ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے اسے اچھے سے اچھا کھلائے پلائے بہترین تعلیمی ادارے میں داخل کرواتا ہے۔
"بابا جان! اسکول کا ٹرپ جا رہا ہے مجھے کچھ پیسے اور آپ کی اجازت چاہیے۔” سارے زمانے کی معصومیت لیے بیٹی باپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
"کوئی ضرورت نہیں کہیں جانے کی لڑکی ہو گھر پر بیٹھو۔ حالات دیکھے ہیں باہر کے۔” بیٹی کے لیے فکر مند ماں فوراً سے باپ بیٹی کے مکالمے میں زبردستی آ جاتی ہے حالانکہ اس کی رائے نہ کسی نے مانگی اور نہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔
"تم تو چپ ہی رہو۔ میری بیٹی تو شہزادی ہے اور وہ ضرور جائے گی۔” بیٹی کی محبت میں چور چور باپ کسی اور کی بیٹی کو ہمیشہ اس کی اوقات یاد دلانے سے باز نہیں آتا۔ وہ محبت کیوں نہ کرے آخر وہ اس کا خون ہے اور خون کی محبت تو لازم ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ میاں بیوی کا رشتہ اس زمین کا وہ پہلا رشتہ تھا جسے رب کائنات نے تخلیق کیا تھا اس رشتے کے سبب اولاد پیدا ہوتی ہے کتنے خون کے رشتے تخلیق ہوتے ہیں۔ آپس میں بہن بھائیوں کی محبت والدین کی وجہ سے چچا پھوپھو ماموں خالہ دادا دادی نانا نانی سب سے خون کا رشتہ بن جاتا ہے مگر میاں بیوی کا رشتہ بیک وقت بہت مضبوط اور کمزور ہوتا ہے جو نکاح کے دو بول سے جڑ جاتا ہے اور طلاق کے دو بول سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتا ہے لیکن یہ رشتہ خون کا نہ ہونے کے باوجود اگلی نسل کو کئی خون کے رشتے دے جاتا ہے۔ وقت گزرتا جاتا ہے ننھی پری جو گھر کے آنگن میں اچھلتی کودتی تھی وہ جو گھر بھر کی رونق ہے۔ کبھی باپ کو شکایت لگا کر بھائیوں کی پٹائی کرواتی ہے تو کبھی ضد کر کے سہیلیوں کے ساتھ باہر گھومنے جاتی ہے۔
"آپ اس کی ہر بات نہ مانا کریں عادتیں خراب ہو جائیں گی۔ کل کو شادی بھی تو کرنی ہے کون پوری کرے گا اس کی ہر خواہش آپ کی طرح۔” ماں کے دل کا ڈر اس کی زبان پر آ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ خواہشات بس باپ کے آنگن تک ہی پوری ہوتی ہیں بلکہ کبھی کبھی اسی آنگن میں خواہشات دم توڑ دیتی ہیں پھر انہیں یہ باپ خود ہی مار کر دفنا دیتے ہیں۔ ماں کی بات ہر اکثر باپ کی لاڈلی کو غصہ آ جاتا ہے۔
"بابا جان! مجھے لگتا ہے یہ میری سوتیلی امی ہیں۔ کبھی مجھے خوش نہیں دیکھ سکتیں۔” باپ کی محبت کے حمار میں قید ایک بیٹی اکثر وسوسوں میں الجھی ماں کو ایسے ہی سمجھتی ہے۔"تم فکر نہ کرو میری بیٹی شہزادی ہے اور میں اس کے لیے شہزادہ کی تلاش ہی کروں گا۔ جو آزادی اسے اپنے باپ کے گھر میں ہے ویسے ہی آگے ملے گی میری بیٹی ہے بہت خوش قسمت رہے گی۔” ایک باپ کا غرور اپنی بیٹی کو لے کر ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
"ہاں! جیسے میرے باپ نے شہزادہ تلاش کیا تھا جس کے گھر میں مجھے سب آزادی ہے۔” ایک ماں کا خاموش احتجاج۔
"بہت ہی ناشکری عورت ہو تم کیا کمی ہے تمھیں اس گھر میں؟ کھانا پینا، اچھا پہننا اوڑھنا تم جیسی عورتیں ہی ناشکری ہوتی ہیں بس میری بیٹی سے مقابلہ کرنا ہے تمھیں۔”
"میری بھی بیٹی ہے وہ اور اس کی بھلائی ہی چاہتی ہوں میں۔” درد سے چور نڈھال لہجے میں جواب آتا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔یہ کہانی سب کو کچھ کچھ اپنی لگے گی۔ یہ کہانی اکثر گھروں کی ہو سکتی ہے۔ جس میں اکثر ماں ظالم اور باپ محبت کرنے والا نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی بیٹی ماں کے محتاط رویوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے کیونکہ باپ کے تحفظ اور محبت بھری باہوں میں محفوظ بیٹی وہ نہیں دیکھ پاتی جو ماں کا تجربہ اسے دکھانا چاہ رہا ہوتا ہے۔ وقت کا پہیہ چلتا جاتا ہے اور پھر وہ وقت آتا ہے جب بیٹی کی زندگی کے سب اہم فیصلے کا وقت آتا ہے۔ اس کی شادی کا وقت اس کے جیون ساتھی تلاش کرنے کا وقت وہ باپ جو ساری زندگی بیٹی کی ہر خواہش پوری کرتا ہے۔ اس کی مرضی کی تعلیم یہاں تک کہ لباس بھی وہ بیٹی اپنی پسند سے پہنتی ہے اور باپ اپنی پر اعتماد بیٹی کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔
"بابا جان! مجھے یہاں شادی نہیں کرنی مجھے کوئی اور پسند ہے آپ ایک بار اس سے مل تو لیں۔”
"کیا؟ تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے۔ اس لیے تمھیں پڑھایا لکھایا تمھارے اتنے لاڈ اٹھائے۔ اس دن کے لیے کہ تم میرے سامنے آ کر یہ سب کہو۔” محبت کا محل پاش پاش ہو گیا۔
"آپ ایک بار مل تو لیں کہہ تو رہی ہے اگر آپ کو مناسب نہ لگا تو ٹھیک ہے جہاں آپ کہیں گے وہ وہیں راضی ہو جائے گی۔” ماں عورت ہوتی ہے نا وہ بیٹی کے احساسات کو سمجھتی ہے۔ اس وقت بیٹی کو پتہ چلتا ہے کہ ماں بھی مجھ سے محبت کرتی تھی۔
"یہ ہے تمھاری تربیت؟ میں نے تمھارے بھروسے پر اپنی اولاد کو چھوڑا یہ نتیجہ نکلا یہ صلح ملا مجھے۔” طاقت ور کا سارا غصہ ہمیشہ کمزور پر ہی نکلتا ہے۔
"بابا جان! پسند کے نکاح کا حق تو مجھے میرے دین نے دیا ہے۔” بیٹی نے اپنے حق کے لیے دلیل دینے کی کوشش کی۔
"مجھے دین نہ سکھاؤ میں تمھارا باپ ہوں تم میری ماں نہیں اور اسی دین نے مجھے تمھارا ولی بنایا ہے۔ میں نے تمھیں پیدا کیا ہے اس لیے میں ہی تم پر حق رکھتا ہوں جہاں چاہوں گا جس سے چاہوں گا شادی کروں گا۔” دو ٹوک جواب آتا ہے۔
"مجھے نہیں کرنی آپ کی پسند سے شادی۔” اسے لگا یہاں بھی ہمیشہ کی طرح باپ اس کی ضد مان لے گا۔ میں سوچتی ہوں بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے والے والدین زندگی کی سب سے بڑی خواہش کا حق چھین لیتے ہیں۔ یہاں بھی وہی بات آ گئی نا کہ اولاد والدین کی غلام نہیں وہ تو دراصل اللہ کی غلام ہے۔
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "غیر شادی شدہ کا نکاح اس سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح بغیر اجازت کے نہ کیا جائے۔(صحیح بخآری:4843)ہم خود کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن دین اسلام کی صرف ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جو ہمیں فائدہ دیتی ہیں ہم دین کے مطابق کہاں چلتے ہیں؟ ہم تو خاندانی روایات کے مطابق چلتے ہیں۔ ہم تو سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے لیکن ہم جس نبی کے امتی ہیں آئیے ہم ان کے دربار میں چلتے ہیں۔ دربار رسالت میں سب خاموش بیٹھے ہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتوں کو، نصیحتوں کو ایسے سن رہے ہیں گویا ہل گئے تو کہیں کندھوں پر بیٹھے فرضی پرندے اڑ ہی نا جائیں کہ اچانک سے ایک لڑکی فریادی بن کر آتی ہے۔ ماحول میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے وہ فریاد کرتی ہے۔ "یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرا نکاح میرے گھر والوں نے میری مرضی کے بغیر کر دیا ہے۔” نکاح تو دو اجنبیوں کے درمیان ایجاب وقبول کا معاملہ ہے۔ دو محبت کرنے والوں کے درمیان دل کی رضا سے مضبوط رشتہ ہے۔ جب کوئی دل سے راضی نا ہو تو کیسا رشتہ؟ یہ رشتہ کاغذی نہیں، کاغذ تو اس دور کے تقاضوں کے لیے ہے۔ اصل بات تو گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے ساتھ دل کے ایجاب وقبول کا نام نکاح ہے۔ دو محبت کرنے والوں کے درمیان حلال اور پاکیزہ تعلق جس میں رب خود موجود ہوتا ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لڑکی کی فریاد کو سنا اور فرمایا: "یہ لڑکی چاہے تو نکاح باقی رکھے اور چاہے تو فسخ کر دے۔”(ابوداؤد: 2096)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مطعون کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی کی شادی ولی بن کر اس کے چچا جو کہ میرے ماموں بھی تھے سیدنا قدامہ رضی اللّٰہ عنہا نے مجھ سے کروا دی۔ نکاح سے پہلے لڑکی سے مشورہ نہیں کیا اسے میرے ساتھ نکاح کرنا پسند نہ تھا۔ وہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ عنہا سے نکاح کرنا چاہتی تھی آخر قدامہ رضی اللّٰہ عنہا نے اس کا نکاح مغیرہ سے کر دیا۔”(سنن ابن ماجہ:1878)"بابا جان! آپ ایک بار اس سے مل تو لیں بہت اچھے خاندان کا ہے یونیورسٹی میں میرے ساتھ ہی پڑھتا ہے۔”
"کیا اچھے خاندان کا ہے؟ یونیورسٹی پڑھنے آتا ہے یا لڑکیوں کے ساتھ چکر چلانے۔ بس میں نے کہہ دیا۔” وہ بھی اپنے باپ کی بیٹی تھی۔ ضدی تو وہ بھی تھی۔ ٹھیک ہے دو دن بھوکی رہوں گی تو خود ہی بابا جان مان جائیں گے۔ ایک دن گزر گیا بابا جان نے اسے اپنے کمرے میں بلایا وہ خوش تھی یا پھر اسے خوش فہمی تھی کہ وہ مان جائیں گے۔"دیکھو بیٹا! میں آپ کی بات مان لیتا مگر لوگ کیا کہیں گے کہ لڑکی کو یونیورسٹی بھیجا تو اس نے یہ کام کیا میری عزت آپ کے ہاتھوں میں ہے چاہو تو پیروں تلے روند دو چاہو تو بلند کر دو۔” دل بند ہو گیا بیٹی ہار گئی اس کی خوشی ہار گئی باپ کی جھوٹی عزت جیت گئی۔ یہاں سے دو طرح کے رویے سامنے آتے ہیں ایک وہ بیٹی جو ہار جائے ایک وہ بیٹی جو بھاگ جائے۔ سوچتے رہیے گا کہ ہار جانے میں اور بھاگ جانے میں قصور کس ہے ہے؟ ہارنے والی بیٹی نے باپ کو تو جتا دیا مگر ساری زندگی کے لیے تکلیف کو اپنے دامن میں بھر لیا۔ بھاگ جانے والی نے بھی کیا پایا نہ دل کی سچی خوشی نہ باپ کی دعائیں۔ دونوں صورتوں میں ہار بیٹی کی ہی ہے۔ میں یہ بات سمجھنے سے آج تک قاصر ہوں کہ زندگی جن دو لوگوں نے گزارنی ہوتی ہے ان کی رائے کی بجائے پورے خاندان سے رائے لی جاتی ہے۔ ان کی ملاقات نہیں کروائی جاتی باقی پورا خاندان اکثر ملتا جلتا رہتا ہے۔ جب اسلام نے عورت کو اپنی پسند کے نکاح کا حق دیا ہے تو ولی کھلے دل کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتا؟ کیوں ہر بار ناپسندیدہ شخص کے ساتھ ہی صبر و شکر والی زندگی کی تلقین کی جاتی ہے؟ کیوں ہر بار یہ کہا جاتا ہے کہ شکر کرو تمھارا شوہر تو لاکھوں سے اچھا ہے ورنہ تو آدمی نشہ کرتے ہیں مارتے پیٹتے ہیں۔
کیا ہوا جو ذہنی آہنگی نہیں وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
کیا ہوا جو وہ تمھیں سمجھتا نہیں روٹی تو کما کر لاتا ہے نا۔
کیا ہوا جو تمھارا دوست نہیں تمھاری ضرورتیں تو پوری کرتا ہے۔
کیا ہوا جو محبت کا اظہار نہیں کرتا ساری ذمہ داریاں تو نبھاتا ہے۔ کیا ہوا اگر وہ دوسری شادی کرنے لگا ہے یہ حق تو اسے ہمارے دین نے دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اسی دین اسلام نے عورت کو بھی حقوق دیئے ہیں۔
سے بھی حق ہے اپنی اڑان بھرنے کا۔
اسے بھی حق ہے اپنے پر پھیلانے کا۔
اسے بھی حق ہے اپنے پسندیدہ شحض کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔
اسے بھی حق ہے اپنی مرضی سے سانس لینے کا۔
اسے بھی حق ہے اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کا۔۔۔۔۔سوچتے رہیے ۔۔۔۔۔
ہمیشہ مثبت رہیے دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹیے اللہ پاک آپ کی زندگی کو آسانیوں سے بھر دے گا۔ ان شاءاللہ!







