Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مجھے اڑان بھرنی ہے،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    مجھے اڑان بھرنی ہے،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "مبارک ہو!” یہ الفاظ سماعتوں کو کتنے بھلے لگتے ہیں۔ جب کوئی لیڈی ڈاکٹر کسی باپ کو بتاتی ہے کہ "مبارک ہو آپ کے گھر میں رحمت آئی ہے۔ خاص طور پر اس والد کی بات کروں گی جہاں شدت سے بیٹی کی پیدائش کا انتظار کیا جا رہا ہو۔ گھر کو سجایا جاتا ہے ہر طرف خوشیاں منائی جاتی ہیں طرح طرح کے پکوان بنتے ہیں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں۔ یہ اس گھر کا منظر ہے جہاں واقعی بیٹی کو رحمت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں باپ سوچتا ہے کہ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ رزق کے دروازے کھلتے ہیں لیکن اسی دور میں اب بھی زمانہ جاہلیت جیسے لوگ بھی موجود ہیں جو بیٹی کی پیدائش پر بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں اسے برا بھلا کہتے ہیں اس کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں نا کہ ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح ہر مرد بھی مکمل طور پر بہترین باپ نہیں ہوتا۔ کئی باپ اپنی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں لیکن کئی باپ اپنی بیٹیوں کو اپنی زندگی کی بہار سمجھتے ہیں۔ آج ہم اس باپ کے بارے میں بات کریں گے جو اپنی بیٹی کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے اس کی ہر خواہش اس کی زبان پر آنے سے پہلے پوری کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی تو اپنی بیٹی کی محبت میں کسی کی بیٹی کو ذلیل کرنے سے کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔ اپنی بیٹی کی محبت اس کے باقی تمام رشتوں پر خاوی آ جاتی ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے اسے اچھے سے اچھا کھلائے پلائے بہترین تعلیمی ادارے میں داخل کرواتا ہے۔

    "بابا جان! اسکول کا ٹرپ جا رہا ہے مجھے کچھ پیسے اور آپ کی اجازت چاہیے۔” سارے زمانے کی معصومیت لیے بیٹی باپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
    "کوئی ضرورت نہیں کہیں جانے کی لڑکی ہو گھر پر بیٹھو۔ حالات دیکھے ہیں باہر کے۔” بیٹی کے لیے فکر مند ماں فوراً سے باپ بیٹی کے مکالمے میں زبردستی آ جاتی ہے حالانکہ اس کی رائے نہ کسی نے مانگی اور نہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔
    "تم تو چپ ہی رہو۔ میری بیٹی تو شہزادی ہے اور وہ ضرور جائے گی۔” بیٹی کی محبت میں چور چور باپ کسی اور کی بیٹی کو ہمیشہ اس کی اوقات یاد دلانے سے باز نہیں آتا۔ وہ محبت کیوں نہ کرے آخر وہ اس کا خون ہے اور خون کی محبت تو لازم ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ میاں بیوی کا رشتہ اس زمین کا وہ پہلا رشتہ تھا جسے رب کائنات نے تخلیق کیا تھا اس رشتے کے سبب اولاد پیدا ہوتی ہے کتنے خون کے رشتے تخلیق ہوتے ہیں۔ آپس میں بہن بھائیوں کی محبت والدین کی وجہ سے چچا پھوپھو ماموں خالہ دادا دادی نانا نانی سب سے خون کا رشتہ بن جاتا ہے مگر میاں بیوی کا رشتہ بیک وقت بہت مضبوط اور کمزور ہوتا ہے جو نکاح کے دو بول سے جڑ جاتا ہے اور طلاق کے دو بول سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتا ہے لیکن یہ رشتہ خون کا نہ ہونے کے باوجود اگلی نسل کو کئی خون کے رشتے دے جاتا ہے۔ وقت گزرتا جاتا ہے ننھی پری جو گھر کے آنگن میں اچھلتی کودتی تھی وہ جو گھر بھر کی رونق ہے۔ کبھی باپ کو شکایت لگا کر بھائیوں کی پٹائی کرواتی ہے تو کبھی ضد کر کے سہیلیوں کے ساتھ باہر گھومنے جاتی ہے۔
    "آپ اس کی ہر بات نہ مانا کریں عادتیں خراب ہو جائیں گی۔ کل کو شادی بھی تو کرنی ہے کون پوری کرے گا اس کی ہر خواہش آپ کی طرح۔” ماں کے دل کا ڈر اس کی زبان پر آ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ خواہشات بس باپ کے آنگن تک ہی پوری ہوتی ہیں بلکہ کبھی کبھی اسی آنگن میں خواہشات دم توڑ دیتی ہیں پھر انہیں یہ باپ خود ہی مار کر دفنا دیتے ہیں۔ ماں کی بات ہر اکثر باپ کی لاڈلی کو غصہ آ جاتا ہے۔
    "بابا جان! مجھے لگتا ہے یہ میری سوتیلی امی ہیں۔ کبھی مجھے خوش نہیں دیکھ سکتیں۔” باپ کی محبت کے حمار میں قید ایک بیٹی اکثر وسوسوں میں الجھی ماں کو ایسے ہی سمجھتی ہے۔

    "تم فکر نہ کرو میری بیٹی شہزادی ہے اور میں اس کے لیے شہزادہ کی تلاش ہی کروں گا۔ جو آزادی اسے اپنے باپ کے گھر میں ہے ویسے ہی آگے ملے گی میری بیٹی ہے بہت خوش قسمت رہے گی۔” ایک باپ کا غرور اپنی بیٹی کو لے کر ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
    "ہاں! جیسے میرے باپ نے شہزادہ تلاش کیا تھا جس کے گھر میں مجھے سب آزادی ہے۔” ایک ماں کا خاموش احتجاج۔
    "بہت ہی ناشکری عورت ہو تم کیا کمی ہے تمھیں اس گھر میں؟ کھانا پینا، اچھا پہننا اوڑھنا تم جیسی عورتیں ہی ناشکری ہوتی ہیں بس میری بیٹی سے مقابلہ کرنا ہے تمھیں۔”
    "میری بھی بیٹی ہے وہ اور اس کی بھلائی ہی چاہتی ہوں میں۔” درد سے چور نڈھال لہجے میں جواب آتا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

    یہ کہانی سب کو کچھ کچھ اپنی لگے گی۔ یہ کہانی اکثر گھروں کی ہو سکتی ہے۔ جس میں اکثر ماں ظالم اور باپ محبت کرنے والا نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی بیٹی ماں کے محتاط رویوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے کیونکہ باپ کے تحفظ اور محبت بھری باہوں میں محفوظ بیٹی وہ نہیں دیکھ پاتی جو ماں کا تجربہ اسے دکھانا چاہ رہا ہوتا ہے۔ وقت کا پہیہ چلتا جاتا ہے اور پھر وہ وقت آتا ہے جب بیٹی کی زندگی کے سب اہم فیصلے کا وقت آتا ہے۔ اس کی شادی کا وقت اس کے جیون ساتھی تلاش کرنے کا وقت وہ باپ جو ساری زندگی بیٹی کی ہر خواہش پوری کرتا ہے۔ اس کی مرضی کی تعلیم یہاں تک کہ لباس بھی وہ بیٹی اپنی پسند سے پہنتی ہے اور باپ اپنی پر اعتماد بیٹی کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔
    "بابا جان! مجھے یہاں شادی نہیں کرنی مجھے کوئی اور پسند ہے آپ ایک بار اس سے مل تو لیں۔”
    "کیا؟ تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے۔ اس لیے تمھیں پڑھایا لکھایا تمھارے اتنے لاڈ اٹھائے۔ اس دن کے لیے کہ تم میرے سامنے آ کر یہ سب کہو۔” محبت کا محل پاش پاش ہو گیا۔
    "آپ ایک بار مل تو لیں کہہ تو رہی ہے اگر آپ کو مناسب نہ لگا تو ٹھیک ہے جہاں آپ کہیں گے وہ وہیں راضی ہو جائے گی۔” ماں عورت ہوتی ہے نا وہ بیٹی کے احساسات کو سمجھتی ہے۔ اس وقت بیٹی کو پتہ چلتا ہے کہ ماں بھی مجھ سے محبت کرتی تھی۔
    "یہ ہے تمھاری تربیت؟ میں نے تمھارے بھروسے پر اپنی اولاد کو چھوڑا یہ نتیجہ نکلا یہ صلح ملا مجھے۔” طاقت ور کا سارا غصہ ہمیشہ کمزور پر ہی نکلتا ہے۔
    "بابا جان! پسند کے نکاح کا حق تو مجھے میرے دین نے دیا ہے۔” بیٹی نے اپنے حق کے لیے دلیل دینے کی کوشش کی۔
    "مجھے دین نہ سکھاؤ میں تمھارا باپ ہوں تم میری ماں نہیں اور اسی دین نے مجھے تمھارا ولی بنایا ہے۔ میں نے تمھیں پیدا کیا ہے اس لیے میں ہی تم پر حق رکھتا ہوں جہاں چاہوں گا جس سے چاہوں گا شادی کروں گا۔” دو ٹوک جواب آتا ہے۔
    "مجھے نہیں کرنی آپ کی پسند سے شادی۔” اسے لگا یہاں بھی ہمیشہ کی طرح باپ اس کی ضد مان لے گا۔ میں سوچتی ہوں بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے والے والدین زندگی کی سب سے بڑی خواہش کا حق چھین لیتے ہیں۔ یہاں بھی وہی بات آ گئی نا کہ اولاد والدین کی غلام نہیں وہ تو دراصل اللہ کی غلام ہے۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "غیر شادی شدہ کا نکاح اس سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح بغیر اجازت کے نہ کیا جائے۔(صحیح بخآری:4843)

    ہم خود کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن دین اسلام کی صرف ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جو ہمیں فائدہ دیتی ہیں ہم دین کے مطابق کہاں چلتے ہیں؟ ہم تو خاندانی روایات کے مطابق چلتے ہیں۔ ہم تو سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے لیکن ہم جس نبی کے امتی ہیں آئیے ہم ان کے دربار میں چلتے ہیں۔ دربار رسالت میں سب خاموش بیٹھے ہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتوں کو، نصیحتوں کو ایسے سن رہے ہیں گویا ہل گئے تو کہیں کندھوں پر بیٹھے فرضی پرندے اڑ ہی نا جائیں کہ اچانک سے ایک لڑکی فریادی بن کر آتی ہے۔ ماحول میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے وہ فریاد کرتی ہے۔ "یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرا نکاح میرے گھر والوں نے میری مرضی کے بغیر کر دیا ہے۔” نکاح تو دو اجنبیوں کے درمیان ایجاب وقبول کا معاملہ ہے۔ دو محبت کرنے والوں کے درمیان دل کی رضا سے مضبوط رشتہ ہے۔ جب کوئی دل سے راضی نا ہو تو کیسا رشتہ؟ یہ رشتہ کاغذی نہیں، کاغذ تو اس دور کے تقاضوں کے لیے ہے۔ اصل بات تو گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے ساتھ دل کے ایجاب وقبول کا نام نکاح ہے۔ دو محبت کرنے والوں کے درمیان حلال اور پاکیزہ تعلق جس میں رب خود موجود ہوتا ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لڑکی کی فریاد کو سنا اور فرمایا: "یہ لڑکی چاہے تو نکاح باقی رکھے اور چاہے تو فسخ کر دے۔”(ابوداؤد: 2096)
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مطعون کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی کی شادی ولی بن کر اس کے چچا جو کہ میرے ماموں بھی تھے سیدنا قدامہ رضی اللّٰہ عنہا نے مجھ سے کروا دی۔ نکاح سے پہلے لڑکی سے مشورہ نہیں کیا اسے میرے ساتھ نکاح کرنا پسند نہ تھا۔ وہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ عنہا سے نکاح کرنا چاہتی تھی آخر قدامہ رضی اللّٰہ عنہا نے اس کا نکاح مغیرہ سے کر دیا۔”(سنن ابن ماجہ:1878)

    "بابا جان! آپ ایک بار اس سے مل تو لیں بہت اچھے خاندان کا ہے یونیورسٹی میں میرے ساتھ ہی پڑھتا ہے۔”
    "کیا اچھے خاندان کا ہے؟ یونیورسٹی پڑھنے آتا ہے یا لڑکیوں کے ساتھ چکر چلانے۔ بس میں نے کہہ دیا۔” وہ بھی اپنے باپ کی بیٹی تھی۔ ضدی تو وہ بھی تھی۔ ٹھیک ہے دو دن بھوکی رہوں گی تو خود ہی بابا جان مان جائیں گے۔ ایک دن گزر گیا بابا جان نے اسے اپنے کمرے میں بلایا وہ خوش تھی یا پھر اسے خوش فہمی تھی کہ وہ مان جائیں گے۔

    "دیکھو بیٹا! میں آپ کی بات مان لیتا مگر لوگ کیا کہیں گے کہ لڑکی کو یونیورسٹی بھیجا تو اس نے یہ کام کیا میری عزت آپ کے ہاتھوں میں ہے چاہو تو پیروں تلے روند دو چاہو تو بلند کر دو۔” دل بند ہو گیا بیٹی ہار گئی اس کی خوشی ہار گئی باپ کی جھوٹی عزت جیت گئی۔ یہاں سے دو طرح کے رویے سامنے آتے ہیں ایک وہ بیٹی جو ہار جائے ایک وہ بیٹی جو بھاگ جائے۔ سوچتے رہیے گا کہ ہار جانے میں اور بھاگ جانے میں قصور کس ہے ہے؟ ہارنے والی بیٹی نے باپ کو تو جتا دیا مگر ساری زندگی کے لیے تکلیف کو اپنے دامن میں بھر لیا۔ بھاگ جانے والی نے بھی کیا پایا نہ دل کی سچی خوشی نہ باپ کی دعائیں۔ دونوں صورتوں میں ہار بیٹی کی ہی ہے۔ میں یہ بات سمجھنے سے آج تک قاصر ہوں کہ زندگی جن دو لوگوں نے گزارنی ہوتی ہے ان کی رائے کی بجائے پورے خاندان سے رائے لی جاتی ہے۔ ان کی ملاقات نہیں کروائی جاتی باقی پورا خاندان اکثر ملتا جلتا رہتا ہے۔ جب اسلام نے عورت کو اپنی پسند کے نکاح کا حق دیا ہے تو ولی کھلے دل کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتا؟ کیوں ہر بار ناپسندیدہ شخص کے ساتھ ہی صبر و شکر والی زندگی کی تلقین کی جاتی ہے؟ کیوں ہر بار یہ کہا جاتا ہے کہ شکر کرو تمھارا شوہر تو لاکھوں سے اچھا ہے ورنہ تو آدمی نشہ کرتے ہیں مارتے پیٹتے ہیں۔
    کیا ہوا جو ذہنی آہنگی نہیں وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    کیا ہوا جو وہ تمھیں سمجھتا نہیں روٹی تو کما کر لاتا ہے نا۔
    کیا ہوا جو تمھارا دوست نہیں تمھاری ضرورتیں تو پوری کرتا ہے۔
    کیا ہوا جو محبت کا اظہار نہیں کرتا ساری ذمہ داریاں تو نبھاتا ہے۔ کیا ہوا اگر وہ دوسری شادی کرنے لگا ہے یہ حق تو اسے ہمارے دین نے دیا ہے۔
    سوال یہ ہے کہ اسی دین اسلام نے عورت کو بھی حقوق دیئے ہیں۔
    سے بھی حق ہے اپنی اڑان بھرنے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے پر پھیلانے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے پسندیدہ شحض کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنی مرضی سے سانس لینے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کا۔۔۔۔۔سوچتے رہیے ۔۔۔۔۔
    ہمیشہ مثبت رہیے دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹیے اللہ پاک آپ کی زندگی کو آسانیوں سے بھر دے گا۔ ان شاءاللہ!

  • خاموش زخم، زندہ جدوجہد،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش زخم، زندہ جدوجہد،تحریر: اقصیٰ جبار

    5 اگست 2019—دنیا کے لیے ایک معمول کا دن، لیکن کشمیریوں کے لیے تاریخ کا ایک اور زخم، ایک اور سانحہ۔ اس روز بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت، آرٹیکل 370 اور 35A، کو ختم کر کے نہ صرف کشمیریوں کے آئینی و سیاسی حقوق سلب کیے بلکہ ان کی شناخت اور مستقبل پر بھی حملہ کیا۔ یہ دن کشمیریوں کے لیے یومِ سیاہ تھا، اور دنیا کے لیے ایک آزمایش—جسے وہ آج تک نہیں نبھا سکی۔

    کشمیر کی وادی، جو کبھی "جنتِ نظیر” کہلاتی تھی، آج فوجی محاصرے، لاک ڈاؤن، اور گولیوں کی آوازوں میں گھری ہوئی ہے۔ 5 اگست کے بعد وہاں جو کچھ ہوا وہ کسی فلمی منظرنامے سے کم نہ تھا—موبائل نیٹ ورک بند، انٹرنیٹ سروس معطل، اخبارات خاموش، ٹی وی اسکرینیں سیاہ، اور لاکھوں لوگ خوف کے سائے میں مقید۔ یہ سب کچھ ایک ایسی جمہوریت کے ہاتھوں ہو رہا تھا جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا اقدام نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے منافی تھا بلکہ اس کے اپنے آئین اور وفاقی ڈھانچے کے بھی خلاف تھا۔ جموں و کشمیر، جو اقوامِ متحدہ کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے، اس کی حیثیت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کرنا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ عالمی برادری اس سب پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ انسانیت، حقوق، آزادی—سب صرف الفاظ بن کر رہ گئے ہیں، جب مظلوم مسلمان ہو۔

    یومِ استحصال ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کشمیر صرف جغرافیہ کا مسئلہ نہیں، یہ ایک قوم کی شناخت، وقار اور خودارادیت کی لڑائی ہے۔ آج بھارت آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ غیر ریاستی باشندوں کو زمینیں دی جا رہی ہیں، ڈومیسائل جاری کیے جا رہے ہیں، اور کشمیریوں کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹا کر اسے ایک ہندو اکثریتی خطہ بنا دیا جائے۔

    اس سارے منظرنامے میں پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، لیکن اب صرف بیانات، تقاریر یا قراردادیں کافی نہیں۔ پاکستان کو سفارتی محاذ پر مزید جارحانہ اور نتیجہ خیز اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو عالمی ضمیر پر دستک دینے کے لیے ایک منظم، مسلسل اور بلند سطح کی سفارتی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے سامنے یہ واضح کرنا ہو گا کہ کشمیر محض دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے۔

    داخلی طور پر بھی پاکستان کو سمجھنا ہو گا کہ ایک مستحکم، خوشحال اور متحد پاکستان ہی کشمیریوں کے لیے اصل امید ہو سکتا ہے۔ جب ہم خود آپس میں تقسیم ہوں گے، معیشت کمزور ہو گی، ادارے بکھرے ہوں گے، تو ہماری آواز عالمی سطح پر سنجیدگی سے نہیں سنی جائے گی۔

    کشمیر کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ گولیاں ان کے حوصلے کو نہیں مار سکتیں، قید ان کی سوچ کو قید نہیں کر سکتی، اور لاک ڈاؤن ان کے جذبے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ ہر شہید نوجوان، ہر آنسو بہاتی ماں، ہر زخمی بچہ اس جدوجہد کا زندہ استعارہ ہے۔

    5 اگست کو یومِ استحصال کے طور پر منانا صرف رسمِ احتجاج نہیں، بلکہ یہ ہمیں یہ یاد دلانے کا دن ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا فرض ہے، کہ خاموشی جرم ہے، اور کہ کشمیریوں کا خون ہم پر قرض ہے۔جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا، یہ زخم رستا رہے گا—خاموش، لیکن گواہ؛ اور جدوجہد جاری رہے گی—زخمی، لیکن زندہ۔

  • کیا مسائل کا حل خود کشی ہے .تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    کیا مسائل کا حل خود کشی ہے .تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ہمارے معاشرے میں اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ہزاروں کیس ایسے ملیں گے جنہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔اپنی ہی زندگی کو اپنے ہی ہاتھوں سے ختم کرنے کے پیچھے کیا مسائل ہو سکتے ہیں ۔آج کل نوجوان نسل جس میں بالکل برداشت ختم ہو گئی ہے ۔محبت اور عشق کے پیچھے اپنے جانوں کو ہی اپنے ہاتھوں سے ختم کر رہے ہیں ۔دوسری بڑی وجہ گھریلو مسائل بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر خاص کر نوجوان نسل مسائل کے حل کے لیے واحد خودکشی کا راستہ اپنانا شروع ہو گئے ہیں ۔کیا ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں کا دست بازو نہیں بن سکتا جو گھریلو مسائل بے روزگاری تنگ دستی کی وجہ سے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر رہے ہیں۔خدارا اپنے ارد گرد نظر رکھیں ایسے لوگوں کا دست بازو بنے ۔

    گزشتہ دنوں ہمارے شہر پیرمحل میں بھی ایک ایسے نوجوان نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔جس کا تعلق غریب گھرانے سے تھا۔اس نوجوان کا نام عدنان تھا جو فٹ بال کا پلیئر تھا جو گھریلو مسائل کا شکار تھا اس کے قریبی دوستوں سے پتہ چلا کہ وہ فٹ بال کھیلنا چاہتا تھا لیکن گھر والے اس کو کام کرنے پر فورس کرتے تھے ۔ظاہری بات ہے کہ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا اچھے کام پر لگ جائے روزگار کمانا شروع کر دے ۔لیکن عدنان کافی دنوں سے ڈپریشن کا شکار تھا ۔بس اس نے زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔جب اس کی موت کی خبر سنی تو یقین جانیے کہ رونگٹے کھڑے ہو گئے اور دل بہت افسردہ تھا ۔کہ ہمارے نوجوانوں کو کیا ہو گیا ہے ۔کیا مسائل کا حل خودکشی ہی رہ گئی ہے کیا اس کے بغیر مسائل کو شکست نہیں دی جا سکتی ۔بحیثیت مسلمان ہمیں بھی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے ۔اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں مزہ تو تب ہے اگر دوسروں کے لیے جیا جائے ۔

    اسلام میں خود کشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خودکشی کرنے والے کا نماز جنازہ بھی نہیں پڑھایا ۔
    "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمايا: جس نے اپنے آپ كو پہاڑ سے گرا كر قتل كيا تو وہ جہنم كى آگ ميں ہميشہ كے ليے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پي كر اپنے آپ كو قتل كيا تو جہنم كى آگ ميں زہر ہاتھ ميں پكڑ كر اسے ہميشہ پيتا رہے گا، اور جس نے كسى لوہے كے ہتھيار كے ساتھ اپنے آپ كو قتل كيا تو وہ ہتھيار اس كے ہاتھ ميں ہو گا اور ہميشہ وہ اسے جہنم كى آگ ميں اپنے پيٹ ميں مارتا رہے گا۔

    ناامیدی اور امید ایک ساتھ جڑے دو راستے ہیں، جس میں سے امید کا انتخاب خدا کے وہ بندے کرتے ہیں جنہیں اس پر بھروسہ ہوتا ہے۔ زندگی کا سفر چاہے کتنا ہی دشوار ہو ان کی آخرت سنور جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ناامیدی میں خودکشی کا حرام راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ نا تو زندگی کو صحیح طور گزار پاتے ہیں بلکہ اپنی آ خرت بھی تباہ و برباد کر دیتے ہیں ۔
    ان معمولی پیار،عشق اور محبت کی باتوں اور گھریلو مسائل کو سر پر سوار کرکے زندگی کے مقصد کو بھلا دینا سب سے بڑی ناکامی ہے۔
    زندگی خدا کا دیا ہو انمول تحفہ ہے جس کی قدر نا کرنا خدا کی قدرت سے منحرف ہونا ہے۔ میری تو والدین سے صرف اتنی گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی خوشیوں کا خیال رکھیں۔

  • مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل روشن، آئندہ وزیر اعظم ہونگی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل روشن، آئندہ وزیر اعظم ہونگی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز اور حمزہ شہباز کو ذمہ داریاں دی جائیں تو مسلم لیگ ن مزیدمقبول ہوجائے گی
    بلاول بھٹو کو مزید کام کرنے کی ضرورت،پی ٹی آئی عمران سے شروع ہوکر عمران پر ختم
    فضل الرحمان کا مستقبل صرف اتحاد،جماعت اسلامی آمدہ الیکشن میں نمایاں کردار اداکریگی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بھارت اور پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا اگر تجزیہ کیا جائے تو بھارت کا آئندہ کا مستقبل راہول گاندھی ہے تاہم کانگریس اپنی تنظیمی کمزوریوں پر قابو پا لے اور اتحاد مضبوط بنا لے تو بھارت کے آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار راہول گاندھی بن سکتے ہیں تاہم نریندر مودی کا کرشمہ ابھی تک موجود ہے بھارتی اپوزیشن کو متحد رہنے کی ضرورت ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز پارٹی میں واضح قیادت کا رول ادا کر رہی ہیں امکان ہے کہ مستقبل قریب میں مریم نواز کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے، وہ پارٹی کے اندر ایک مضبوط امیدوار برائے وزیر اعظم ہو سکتی ہیں اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کو تنطیم سازی کی ضرورت ہے، ڈویژن اور ضلعی سطح پر کارکنوں اور دیگر مقامی ن لیگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت اگر مریم نواز اور حمزہ شہباز پر خصوصی توجہ دے تو دونوں ن لیگ کی قیادت اور دیگر امور احسن طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں حمزہ شہباز تنظیمی معاملات میں مہارت رکھتے ہیں خاص طور پر پنجاب کی سیاست میں تا دم تحریر ن لیگ میں کوئی دھڑے بندی نہیں نواز شریف کی قیادت میں یہ جماعت متحد ہے، بلاول بھٹو زرداری سندھ میں پارٹی پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں اگر پی پی پی پنجاب اور کے پی کے میں دوبارہ جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے تو بلاول بھٹو کی گفتگو اور ویژن نوجوانوں کے لئے پرکشش ہے، بلاول بھٹو کو عملی سیاست میں مزید تجربے اور مقامی حمایت کی ضرورت ہے

    پی ٹی آئی عمران خان سے شروع ہو کر عمران خان پر ہی ختم ہوتی ہے مستقبل میں اس سیاسی جماعت کی قیادت کون کرے گا یہ ایک سوالیہ نشان ہے عمران خان دوسری سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کی طرح بڑھاپے کی طرف گامزن ہیں ملک کی مذہبی جماعتوں کو لیکر اگر تجزیہ کیا جائے تو جماعت اسلامی قدیم ترین مذہبی و سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے کراچی اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات میں اچھا خاصا اثر دکھایا ہے کراچی میں خاص طور پر نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقے میں جماعت اسلامی کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے جماعت اسلامی کا مستقبل مکمل طور پر اس کی عملی قیادت اور عوام سے رابطہ کی بنیاد پر طے ہو گا آمدہ قومی انتخابات میں جماعت اسلامی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے،

    جمعیت علمائےاسلام مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے اس جماعت کا مستقبل کئی عوامل پر منحصر ہے جن میں سیاسی اتحاد عوامی تائید اس جماعت کا مکمل انحصار مولانا فضل الرحمان کی شخصیت پر ہے اگر نئی قیادت نہ ابھری تو مستقبل میں یہ جماعت کمزور ہو سکتی ہے ملک کی دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں کا بھی مستقبل کمزور نظر آتا ہے تاہم ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مستقبل شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن ہونا چاہیے الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے یہ ادارہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھتا ہے

  • کرکٹ اور گھوٹکی کے کفیل بھائی،تحریر: ریاض سہیل

    کرکٹ اور گھوٹکی کے کفیل بھائی،تحریر: ریاض سہیل

    ورلڈ کپ میں ہر بیٹسمین زیادہ سے زیادہ رنز اسکور کرنےاور بالر زیادہ سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہوتا ہے- لیکن کفیل بھائی بغیر وکٹ حاصل کیے اور رنز بنائے شہرت اور مقبولیت کی کئی وکٹیں اور سینچریاں مکمل کر چکے ہیں۔

    انہوں نے کبھی بھی ملکی یا غیر ملکی میچوں میں حصہ نہیں لیا لیکن اس کے باوجود پاکستان میں بڑے کرکٹر کے طور پر مشہور ہیں-

    مقبولیت اور شہرت کا انہیں اس حد تک جنون تھا کہ اسے حاصل کرنےکے لئے اور کوئی چارہ نہ پاکر انہوں نے ٹرکوں، بسوں اور عمارتوں پر اپنا نام لکھنا شروع کردیا-

    ’ کفیل بھائی لیفٹ آرم اسپن بالر-‘ اس آئیڈیا نے انہیں مشہور کردیا- گھوٹکی کے رہنے والے کفیل بھائی پانچ جماعت پاس ہیں- ان کے والد خلیل پاکستانی قیام پاکستان کے وقت بھارت کے صوبے یوپی سے ہجرت کرکے گھوٹکی میں آکر آباد ہوئے- انہیں پاکستانی کا لقب قائداعظم محمد علی جناح نے دیا تھا- وہ گھوٹکی کے مشہور سیاسی اور سماجی کارکن رہے ہیں-

    والد کی مقبولیت نے کفیل بھائی کو بھی شہرت کی جانب راغب کیا – اس جذبۂ شہرت کی تسکین کے لئے انہوں نے کرکٹ کھیلنا شروع کیا- اور کھیل کے حوالے سے علاقے میں شہرت حاصل کی-

    ان کا خواب تھا کہ وہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوکر ملکی اور غیر ملکی سطح پر اپنا نام روشن کریں- مگر نچلی سطح سے تعلق رکھنے والے کفیل کا یہ خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا-

    دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی بھی نہ توکرکٹ سلیکشن بورڈ سے رابطہ کیا اور نہ ہی کبھی ٹرائل دیا- ان کا خیال تھا کہ ایک غریب آدمی کے لئے قومی معاملات میں بہت ہی کم گنجائش ہوتی ہے-

    اس لئے انہوں نے کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کا ارادہ ترک کردیا اور کرکٹ کے میدان میں بلے کے شاٹ مارنےکے بجائے شاہراہوں پر قلم اور برش سے شہرت کے شاٹ مارنے شروع کردیے۔

    وہ قومی شاہراہ پر واقع اپنے شہر گھوٹکی آنے جانے والے ہر ٹرک ڈرائیور سے درخواست کرتے کہ ٹرک کے پیچھے اسے اپنا نام لکھنے کی اجازت دی جائے۔ ان کی سادگی سے متاثر ہوکر ٹرک ڈرائیور اس پرجوش نوجوان کو ایسا کرنے کی اجازت دے دیتے تھے- بعض اوقات وہ اپنے نام لکھنے کے عوض ٹرک پر پینٹگ کرنے کےلئے بھی تیار ہو جاتے۔

    مسلسل میل جول اور تعلق کی وجہ سے ٹرک ڈرائیوروں کے ساتھ ان کی اچھی خاصی دوستی بھی ہو گئی- اور وہ پینٹگ کے دوران ملک کے چاروں صوبوں کی سیر بھی کر آئے۔ پشاور سے لاہور اور پھر کراچی تک یا سکھر سے کوئٹہ تک ہائی ویز یا اندرونی علاقوں کی سڑکوں پر دوڑنے والے ہر ٹرک کے پیچھےآج کفیل بھائی کا نام روزانہ ہزاروں نظروں کا مرکز بنتا ہے اور لوگوں کے دلوں اور دماغ میں مقبولیت کے اسکور بڑھاتا رہتا ہے-

    بسوں، ٹرکوں، گھروں اور سرکاری عمارات پر رنگ کا کام کرنے والے کفیل بھائی کا کہنا ہے کہ وہ کوئی بھی لکھائی شروع کرنے سے پہلے اپنا نام لکھتے تھے، بعد میں دوسرا کام کرتے تھے۔ اس وجہ سے کئی بار ان کی پٹائی ہوئی اور انہیں ڈانٹ ڈپٹ بھی برداشت کرنی پڑی-

    کفیل بھائی کرکٹ کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ایک آرٹسٹ بھی سمجھتے ہیں- اورکلاسیکی آرٹسٹوں کی طرح آج بھی اپنے کام کا معاوضہ منہ سے مانگ کر نہیں لیتے۔ جو جتنے پیسے دیتا ہے وہ رکھ لیتے ہیں- ان کا کہنا ہے کہ ’اگر میں اپنے کام کے منہ مانگا دام لونگا تو میرے فن کی قدرو قیمت نہیں رہےگی۔‘

    روڈ پر دوڑنے والی گاڑیوں پر اپنے نام کے جھنڈے گاڑنے کے بعد کفیل بھائی کو اپنا نام ہوا میں اڑانے کا شوق جاگ اٹھا- ایک بار وزیر اعظم بینظیر بھٹو بذریعہ ہیلی کاپٹر گھوٹکی آئیں تو کفیل بھائی ہیلی کاپٹر پر اپنا نام لکھنے کے لئے ہیلی پیڈ پہنچ گئے-

    ابھی کفیل بھائی ’اپنی کارروائی‘ کرنے کے لئے تیاری ہی کر رہے تھے کہ سیکیورٹی عملے نے انہیں دھر لیا- انہوں نے سیکیورٹی عملے سے بہت منت سماجت کی کہ اسے نام لکھنے کی اجازت دی جائے- لیکن عملہ نے ان کی بات نہ مانی-

    کفیل بھائی کے بضد رہنے پر عملے نے پکڑ کر ان کی اچھی خاصی مرمت کر کے چھوڑ دیا- او!ر اس طرح سے کفیل بھائی کا نام ہوا میں اڑنے سے رہ گیا–

    کفیل بھائی کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ ایک بار پاکستان ٹیلی ویژن کے مقبول ذہنی آزمائش کے پروگرام نیلام گھر میں سامعین سے جب پوچھا گیا کہ گھوٹکی کس وجہ سے مشہور ہے تو کئی شرکا نے جواب دینے کے لئےاپنے ہاتھ اٹھائے- ان سب کا ایک ہی جواب تھا- ’کفیل بھائی۔‘

    ٹرکوں، بسوں، تھانے کے گیٹوں اور شہر کی مختلف عمارات پر’ کفیل بھائی لیفٹ آرم، رائٹ آرم اسپن بالر‘ کرکٹ کا نامور آل رائونڈر، کرکٹ کا بے تاج بادشاہ، جیسے جملے لکھنے والے کفیل بھائی نے ایک سال قبل اپنے بڑے بھائی پرویز احمد کے انتقال کے بعد پینٹنگ چھوڑ دی ہے-

    گھر کے معاشی حالات نے کفیل بھائی آل رائونڈر کو کلین بولڈ کردیا ہے- انہوں نے پینٹنگ اور شہرت کے دھندے ترک کر کےکرسیوں کی نیٹنگ شروع کردی ہے–

    انوکھے انداز سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے کفیل نے اپنا کوئی شاگرد نہیں بنایا- انکا کہنا ہےکہ ’اگر میں شاگرد بناتا تو میرا نام ختم ہو جاتا-‘ اور یہ بات وہ کسی طور پر برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے-

    بچوں جیسی معصومیت رکھنے والے کفیل کو کسی سے پیار نہیں ہوا- ان کا کہنا ہے کہ ان کو صرف کرکٹ سے محبت ہے- کرکٹ ان کی محبوبہ ہے- بغیر جیون ساتھی کے زندگی گذارنے والے کفیل بھائی کیلئے رشتے تو کئی آئے لیکن اسے قسمت کی ستم ظریفی کہئے یا کچھ اور، وہ کسی کو نہیں بھائے۔

    سانولی رنگت مناسب قد رکھنے والے اپنے مقصد سے جنون کی حد تک انسیت اور لگاؤ رکھنے والے کفیل شادی کے بارے میں کہتے ہیں: ’لڑکی والے میرا رنگ اور مشغلہ دیکھ کر لوٹ جاتے تھے۔‘ اور یوں آج چالیس سال کی عمر ہونے کے باوجود ان کی شادی نہیں ہو پائی-

    فقیر صفت کفیل بھائی لوگوں سے مصافحہ کرتے وقت ان کا ہاتھ چومتے ہیں- ان کو غصہ اس وقت آتا ہے جب ان کو کوئی ہاتھ چومنے نہیں دیتا- کفیل بھائی بتاتے ہیں کہ ایک بار وفاقی وزیر انور سیف اللہ گھوٹکی آئے تو وہ ان سے ملنے کے لئے اسٹیج پر پہنچ گئے اور وزیر کا ہاتھ چومنے کی کوشش کی جس پر اسٹیج پر براجمان سردار صاحبان ناراض ہو گئے اور انہیں جھاڑ دیا- تب سے انہیں سرداروں سے نفرت ہو گئی ہے-

    وزیر اعلی سندھ علی محمد مہر کے آبائی ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے کفیل بھائی کو خواہ سردار، وزیر اور بیوروکریسی قدر کی نظر سے نہ دیکھتی ہو لیکن گھوٹکی کے باسیوں کے لئے وہ احترام اور محبت کے قابل شخص ہیں- وہ کفیل بھائی سے مل کر خوشی محسوس کرتے اور سمجھتے کہ وہ گھوٹکی کی پہچان ہیں۔

    کرکٹ کی پِچ سے تو کفیل بھائی ریٹائر ہو چکے ہیں لیکن زندگی کی پِچ پر وہ گھریلو مسائل کی وکٹ حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں-

    کرکٹ اور پینٹگ کے ذریعے لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کے خواہشمند کفیل نے اب دونوں کام چھوڑ دیے ہیں- لیکن ان کی زندگی، لگن اور مستقل مزاجی کی وجہ سے سبق آموز بن گئی ہے کہ معمولی کام کرکے بھی غیر معمولی شہرت حاصل کی جا سکتی ہے-

    ۲۰۱۲ کی تحریر بی بی سی ڈاٹ کام سے

  • یادِ مادرِ ملت،تحریر: اقصیٰ جبار

    یادِ مادرِ ملت،تحریر: اقصیٰ جبار

    قومی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں صرف یاد کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اُن کے کردار کو سمجھنا اور اُن کی اقدار کو اپنانا وقت کی ضرورت بن جاتا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح کا شمار انہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آج ان کا 133واں یومِ ولادت ہے، مگر ہماری قومی یادداشت میں ان کی جو جگہ ہونی چاہیے، وہ کہیں دھندلی دکھائی دیتی ہے۔ جس قوم کی بنیاد میں خواتین کا خون، عزم اور کردار شامل ہو، وہی قوم آج ان عظیم خواتین کو صرف ایک تصویر یا رسمی تقریب تک محدود کر کے بھول چکی ہے۔

    محترمہ فاطمہ جناح محض قائداعظم محمد علی جناح کی بہن نہ تھیں، وہ ان کے مشن کی رازدار، ہم قدم اور نظریاتی رفیق تھیں۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں جب برصغیر کی مسلمان خواتین گھروں تک محدود تھیں، سیاست، تعلیم اور سماجی خدمات کے میدان میں قدم رکھا۔ اُنہوں نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ 1923 میں کلکتہ سے ڈینٹل سرجری میں سند لے کر پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ مگر جب انہیں اندازہ ہوا کہ بھائی کی سیاسی جدوجہد ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے، تو انہوں نے اپنے کلینک کو خیرباد کہہ کر خود کو مکمل طور پر تحریکِ پاکستان کے لیے وقف کر دیا۔

    ان کی جدوجہد کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ خاموش مزاحمت کا استعارہ تھیں۔ جلسوں میں خواتین کو منظم کرنے، سیاسی شعور بیدار کرنے اور قائداعظم کے پیغام کو عام کرنے کے لیے انہوں نے جو کردار ادا کیا، وہ کسی مرد سیاسی رہنما سے کم نہ تھا۔ فاطمہ جناح نے ثابت کیا کہ قیادت خون کے رشتوں کی نہیں، کردار اور بصیرت کی محتاج ہوتی ہے۔ قائداعظم کی بیماری کے دنوں میں وہ نہ صرف ذاتی طور پر ان کی خدمت کرتی رہیں بلکہ سیاسی معاملات میں بھی ان کی معاون رہیں۔

    قیام پاکستان کے بعد اُن کے کردار کا دوسرا پہلو سامنے آیا۔ انہوں نے خود کو صرف قومی یادداشت کا حصہ بننے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے سیاست میں دوبارہ قدم رکھا۔ 1965 میں جب انہوں نے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تو گویا وہ جمہوریت کے لیے علمِ بغاوت بلند کر رہی تھیں۔ اگرچہ یہ انتخاب سرکاری سرپرستی میں دھاندلی کا شکار ہو گیا، لیکن عوامی سطح پر انہیں جو مقبولیت ملی، وہ ایک نئی تاریخ رقم کر گئی۔ اس انتخاب نے صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی نئی سوچ پیدا کی کہ ایک باوقار، تعلیم یافتہ، اصول پسند اور محب وطن خاتون ملک کی قیادت کر سکتی ہے۔

    قوم نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں "مادرِ ملت” کا خطاب دیا، جو محض ایک رسمی اعزاز نہ تھا بلکہ ایک نظریاتی سچائی کا اظہار تھا۔ انہوں نے خواتین کو محض مظلوم یا محدود کردار تک نہیں رکھا، بلکہ ان میں شعور، خود داری اور خود اعتمادی پیدا کی۔ ان کی تقریریں، تحریریں اور عوامی بیانات آج بھی خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کا لباس، لہجہ اور طرزِ فکر خالصتاً مشرقی اور اسلامی اقدار کا نمائندہ تھا، جس میں جدید تعلیم کی روشنی اور سیاسی فہم کی گہرائی نمایاں تھی۔

    9 جولائی 1967 کو ان کی وفات ایک ایسا باب ہے جو آج بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ان کی موت کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کی وفات طبعی نہیں بلکہ مشکوک حالات میں ہوئی، اور حکومتِ وقت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر کے مزید شکوک پیدا کیے۔ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ عوام ان سے کتنی محبت رکھتے تھے، اور ان کی رحلت کو صرف ایک سیاسی سانحہ نہیں بلکہ قومی زوال کی علامت سمجھتے تھے۔

    یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ آج کی نسل محترمہ فاطمہ جناح کے کردار اور قربانی سے واقف نہیں۔ ہماری درسی کتب میں ان کا ذکر محض ایک سطر پر محیط ہے، اور میڈیا میں بھی ان کا نام صرف مخصوص ایام میں لیا جاتا ہے۔ یہ ہماری اجتماعی غفلت کی علامت ہے۔ ایک قوم جو اپنے رہنماؤں کو بھول جائے، وہ سمت کھو بیٹھتی ہے۔ فاطمہ جناح محض ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ ایک نظریہ تھیں — وہ نظریہ جو جمہوریت، انصاف، وقار اور قربانی پر مبنی تھا۔

    آج اگر ہم واقعی مادرِ ملت کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو یہ خراج محض خطبوں یا تصویری حوالوں میں محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فکر، عمل اور آگہی میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ان کے افکار کو اپنی سماجی اور سیاسی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ خواتین کو وہی اعتماد، وہی شعور اور وہی آزادی دینی ہوگی جس کا خواب فاطمہ جناح نے دیکھا تھا۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ان کے کردار کو نمایاں کیا جائے، میڈیا پر ان کے افکار کو روشناس کرایا جائے، اور نئی نسل کو بتایا جائے کہ ایک عورت بھی پوری قوم کی رہنما بن سکتی ہے — بشرطیکہ وہ صداقت، استقامت اور نظریاتی وفاداری کا پیکر ہو۔

  • خاموش تبدیلی کا سفر،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش تبدیلی کا سفر،تحریر: اقصیٰ جبار

    ہم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ معاشرہ بگڑ چکا ہے، لوگ خود غرض ہو گئے ہیں، رشتے بے معنی ہو چکے ہیں، تعلیم صرف ڈگری کی حد تک رہ گئی ہے، عبادات رسم بن چکی ہیں، اور محبت ایک سودا بن کر رہ گئی ہے۔ یہ تمام مشاہدات کسی حد تک درست بھی ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم ان باتوں کو دہرا کر آخر حاصل کیا کرتے ہیں؟ کیا یہ مسلسل دہرانا دراصل ہماری اپنی بے بسی اور داخلی مایوسی کا اظہار نہیں بن چکا؟

    درحقیقت تبدیلی کبھی شور و غوغا سے نہیں آتی۔ وہ ایک خاموش، مسلسل، اور اندرونی سفر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ تاریخ کے بڑے انقلابات نعروں یا ہتھیاروں سے نہیں، نظریات، کردار اور حسنِ عمل سے وجود میں آئے۔ ہمیں یہ سوچنے کی اشد ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو بہتر بنا لیں، تو کیا معاشرہ ویسا ہی بگڑا ہوا رہے گا جیسا ہمیں دکھائی دیتا ہے؟ شاید نہیں۔

    اگر ایک چراغ جلایا جائے تو اندھیرے کو چیرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ہر شخص اپنی ذات کے اندھیروں کو پہچان کر اُن سے نبرد آزما ہو، تو مجموعی ماحول خودبخود روشن ہونے لگتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم روشنی پیدا کرنے کے بجائے صرف اندھیروں پر گفتگو کرنے کو "شعور” سمجھ بیٹھے ہیں۔

    ہم دوسروں کی غلطیوں، لغزشوں، اور کمزوریوں پر بڑی روانی سے بولتے ہیں، مگر کیا کبھی خود پر سوال اٹھایا؟ کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہم دوسروں کو معاف کرنے کے بجائے، ان کی ایک خطا کو ان کی مکمل شناخت کیوں بنا لیتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ خود احتسابی کا راستہ سب سے مشکل مگر سب سے مؤثر ہوتا ہے۔

    تبدیلی کی پہلی اینٹ اپنے اندر جھانکنے سے رکھی جاتی ہے۔ خاموشی سے، بغیر کسی اعلان کے، اپنی سوچ، اپنے عمل اور اپنے رویے کا محاسبہ کیے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔ یہ مان لینا ہی پہلا قدم ہے کہ ہم سب سیکھنے کے عمل میں ہیں، کوئی کامل نہیں۔ جب ہم خود میں بہتری کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسروں کو بھی بہتر دیکھنے کی امید جاگنے لگتی ہے۔

    کسی کو نصیحت کرنے سے پہلے اُس کی حالت کو سمجھنا سیکھنا چاہیے۔ ہر انسان ایک مکمل کہانی ہے، ایک مکمل جہان — جسے سمجھے بغیر دی جانے والی کوئی بھی نصیحت، چاہے وہ کتنی ہی سچ کیوں نہ ہو، بے اثر ہو جاتی ہے۔ اصلاح کے سب سے مؤثر ذرائع خلوصِ دل، نرم گفتگو، اور حسنِ سلوک ہیں۔

    عبدالستار ایدھی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ نہ کوئی نعرہ، نہ کوئی طعنہ — صرف کردار کی روشنی۔ ان کے خاموش عمل نے ہزاروں زندگیاں بدل ڈالیں۔ ایسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صرف الفاظ کافی نہیں، بلکہ عمل ہی اصل ترجمان ہوتا ہے۔

    آج کے بچے کل کے رہنما ہیں۔ مگر یہ رہنمائی صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ ماحول، رویوں، اور مشاہدات سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نئی نسل ایماندار، بااخلاق اور نرم خو ہو، تو ہمیں خود اپنی زندگیوں میں سادگی، احترام اور دیانت داری کو اپنا معمول بنانا ہوگا۔

    سوشل میڈیا کے شور میں ہمیں لگتا ہے کہ صرف بڑی باتیں اور وائرل جملے ہی تبدیلی لا سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا عمل، جیسے کسی غم زدہ دل کی خاموش دلجوئی، کسی تھکے چہرے پر مسکراہٹ، یا کسی الجھے ذہن کے لیے ایک مثبت لفظ — یہ سب تبدیلی کی وہ چنگاریاں ہیں جو اگر بھڑک اٹھیں تو انقلاب بن سکتی ہیں۔

    ہمیں ایسے کرداروں کی ضرورت ہے جو چیخے نہ، صرف جئیں؛ جو نصیحت نہ کریں، مگر زندگی میں ایسی سادگی، نرمی، اور سچائی لے آئیں کہ لوگ ان کو دیکھ کر خود اپنی اصلاح کا سفر شروع کر دیں۔

    ہمیں اپنے رویّوں، لہجوں، گفتگو اور سوچ کے زاویوں پر نظرثانی کرنی ہو گی۔ اصلاح کا راستہ بلاشبہ طویل اور مشکل ہے، مگر یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، جہاں محبت الزام سے بالاتر ہو، رشتے مفاد سے آزاد ہوں، اور اخلاق کسی رسم کا محتاج نہ ہو۔

    آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہو گا کہ:
    "اصلاح ایک آواز نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے۔”
    اگر ہم اسے خاموشی سے اپنا لیں تو تنقید کے بغیر بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

  • ناکامی کا خوف ،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ناکامی کا خوف ،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ہم ایک ایسی دُنیا اور معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ناکامی کا خوف اس قدر شدید ہے کہ انسان اپنے اندر قدرتی صلاحیتوں کو دیکھنے کی بجائے خوف کے سیایہ میں زندگی بسر کر رہا ہے۔

    ہمارے معاشرے میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے ناکام ہونا نہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ناکامی کا خوف اور کامیابی کا دباؤ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ناکامی کا تصور اس قدر منفی اور محدود ہے کہ ناکامی کا لفظ سنتے ہی ہم حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ بچپن ہی سے ہمارے ذہنوں اور دلوں میں ناکامی کا ڈر اس قدر انڈیل دیا جاتا ہے کہ ہم ناکامی کے خوف سے ساری زندگی باہر ہی نکل پاتے ہیں۔ ناکامی کے لفظ کے ساتھ جُڑی شرمندگی اور نفرت ہمیں مجبور کردیتی ہے کہ ہم کامیابی کے لیے جستجو کرنے ہی کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔

    کچھ لوگوں کو ناکامی کا نہیں ناکافی کا خوف مار دیتا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ناکامی کا خوف ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے ڈر ہر انسان کو ہر بڑا مشکل اور کھٹن کام کرنے کے آغاز میں لگتا ہے۔ نامعلوم کا خوف ان جانے راستے کی پریشانی ناکامی کا ڈر اور سب سے بڑا خوف اپنے اندر کے خوف پر فتح ناکام لوگ اس ڈر سے ڈر جاتے ہیں اور فاتح اپنے اندر کے ڈر پر قابو پالیتے ہیں۔

  • آگ لگے بستی میں، ہم ہیں اپنی مستی میں،تحریر:ملک سلمان

    آگ لگے بستی میں، ہم ہیں اپنی مستی میں،تحریر:ملک سلمان

    ایک اوورسیز پاکستانی ملنے آئے تو کہنے لگے کہ”پنڈ وسیا نئیں، اُچکے پہلے آگئے“ کے مترادف ابھی آئی فون 17مارکیٹ میں نہیں آیا اور فلاں سرکاری صاحب نے ڈیمانڈ کردی ہے کہ آپکا کام ہوجائے گا لیکن ستمبر میں لانچ ہونے والے آئی فون کے نئے ماڈل کے دو موبائل سب سے پہلے اسے ملنے چاہئیں۔میرے لیے یہ کوئی حیرانی والی بات نہیں تھی کیونکہ سرکاری افسران کی ایسی ڈیمانڈ روٹین ہے۔اس حوالے سے گذشتہ سال میں نے ایک کالم بھی لکھا تھا۔
    حفیظ سینٹر لاہور میں ایک دوست کی موبائل شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا تو وہ ٹیلیفونک کال پر کسی کے ترلے کررہا تھا کہ سر ایسا نہیں ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اس وقت ڈالر ریٹ کم تھا اس دفعہ آپ کا شکوہ دور ہوجاتا ہے۔دکاندار نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے سپیکر فون اوپن کردیا۔ دوسری طرف موجود شخص کہہ رہا تھا کہ فلاں لاہور پوسٹڈ ہے تو تم اسکو زیادہ ریٹ دیتے ہو، اس نے اچھی پوسٹنگ کروا لی تو وہ مجھ سے بڑا افسر نہیں ہوگیا۔ میرا دوست جواباً صفائیاں پیش کرتے ہوئے نہیں نہیں سر ایسی بات نہیں آپ کے ساتھ تو دس سال کا تعلق ہے کبھی ریٹ میں فرق نہیں کیا۔ کال ختم ہوئی تو اس نے نمبر دکھایا تو سنئیر پولیس آفیسر کی کال تھی۔

    دکاندار کا کہنا تھا کہ یہ روز کا مسئلہ ہے چند دن قبل ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو شکوہ کررہے تھے کہ تم پولیس والوں کو زیادہ ریٹ دیتے ہو، یاد رکھنا دکان ہم ہی سیل کرتے ہیں پولیس والے نہیں۔مذید انکشاف کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر، اے ایس پی لیول کے افسران ماہانہ پانچ سے سات جبکہ اے ڈی سی آر، ایس پی، ڈی پی او، ڈی سی، ڈی جی، آرپی او، کمشنر اور سیکرٹری لیول کے افسران بسا اوقات ایک مہینے میں پچاس سے زائد باکس پیک آئی فون بیچنے کیلئے اپنے قابل اعتبار ہول سیل ڈیلر سے رابطہ کرتے ہیں لیکن ایک بات پر حیرت ہے کہ ان کے اندر کی غربت وہیں کی وہیں رہتی ہے اور چار سے پانچ ہزار کیلئے بھی دکان بند کروانے کی دھمکیاں لگاتے ہیں۔کرپٹ افسران گفٹ ملے آئی فون ہول سیل میں بیچتے ہیں تو ایماندار افسران کیلئے سرکاری تنخواہ میں گزارے لائک انڈرائیڈ لینا بھی مشکل ہے۔

    پاکستان شدید معاشی مسائل کا شکار ہے لیکن”آگ لگے بسی میں ہم ہیں اپنی مستی میں“ کے مصداق بیوروکریسی اپنی لوٹ مار میں مصروف ہے۔ پہلے پہل سول بیوروکریسی میں اچھے پڑھے لکھے اور خاندانی لوگ آیاکرتے تھے، عام سرکاری ملازمین کی نسبت سی ایس ایس اور پی ایم ایس افسران کا رویہ اور کردار قابل تقلید و تعریف ہوتا تھا۔ نئے افسران کی اکثریت سیلفی سٹار اور ٹک ٹاکرز بنے ہوئے ہیں۔وقار و سائستگی خواتین آفیسرز کی پہچان ہوتی تھی جبکہ نئی خواتین آفیسرز خاص طور پر پولیس کی خواتین ماڈلنگ میں ٹی وی اینکرز اور فلم سٹارز کو مات دے رہی ہیں۔

    وزراء اور چیف منسٹر کے درباری بنے ”باس از آلویز رائٹ اور یس باس“ کی تسبیح کرتے افسران جی حضوری کے چیمپئین ہونے کی وجہ سے ہر حکومت میں ”فٹ“ ہو جاتے ہیں اور نہ صرف من چاہی پوسٹنگ لیتے ہیں بلکہ فیصلہ سازوں کی آنکھ کا تارہ بن کر صوبے اور ڈیپارٹمنٹ کے لئے ”اچھے افسران“سلیکٹ کرنے کی ٹھیکیداری بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ ”یو آر مائی انسپائریشن“ کے نعرے لگاتے چاپلوس اور ”کنسیپٹ کلئیر“ افسران کو”ملٹی ٹاسک اچیور اور ڈوئیر“ کا نام دے کر حکمرانوں کے دربار میں پیش کرکے اہم پوزیشن دلوائی جاتی ہیں۔ اہم کام نکلوانے کیلئے چھوٹے افسران کو بڑی سیٹوں پر تعنیات کیا جاتا ہے۔ اگر کسی آفیسر کو ایمانداری کا بخار ہو تو بخار اتارنے کیلئے او ایس ڈی کردیا جاتاہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ دیانت دار افسران ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ ایماندار افسران کی اہم جگہوں پر یہ کہہ کر تقرری نہیں کی جاتی کہ”اسکو افسری نہیں آتی اسے رہنے دو“۔ ”بندہ کمپیٹنٹ ہے لیکن زیادہ ایماندار ہے سسٹم کے ساتھ چلنے والا نہیں“۔

    افسران نے بیوروکریسی کا مطلب ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔انکی نت نئی اوچھی حرکتوں سے بیوروکریٹ گالی بنتا جارہا ہے۔ شدید کرپٹ افسران کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ کال رسیو نہیں کرتے کہ کہیں کسی سفارشی کال پر مفت میں کام نہ کرنا پڑ جائے۔ باس اور طاقتور کے سامنے لیٹ جاتے ہیں جبکہ عام لوگوں کے سامنے انتہائی سخت گیر۔صرف اسی کو اپنے دفتر میں ویلکم کرنا پسند کرتے ہیں جو آتے ہوئے تحائف لاتا ہو اور امراء کے گھروں میں اس لیے حاضری لگواتے ہیں کہ ان کے ڈرائنگ روم سے کونسی قیمتی چیز دیکھ کہ کہہ سکیں کہ ابھی کل ہی انٹرنیٹ پر دیکھی لیکن اس لیے آرڈر نہیں کی کہ آن لائن چیز سہی نہیں ملتی، تب تک تعریف کرتے رہتے ہیں جب تک میزبان یہ نہ کہہ دے کہ یہ چیز اٹھا کر صاحب کی گاڑی میں رکھ دو۔
    نئے افسران اپنے جیسی بچگانہ فہم و فراست کے جوانوں کے ساتھ رات گئے والی محافل میں مگن ہوتے ہیں اور وہاں یہ انتہائی تفاخر سے بتا رہے ہوتے ہیں کہ تیرا دوست اے سی /اے ایس پی لگ گیا ہے جو مرضی کرے۔ واقعی جو مرضی کرتے پھر رہے ہیں بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں میں مارا ماری کررہے ہوتے ہیں۔
    افسران کے”کنسیپٹ کلئیر“ ہیں اور مائنڈ سیٹ ہے کہ پیسا ہی سب کچھ ہے اس لیے دونوں ہاتھوں سے اور جھولیاں بھر بھر کے سمیٹنا ہے۔
    اس سے قبل کہ بیوروکریٹ شہرت کی لت میں پاگل ہوجائیں، قوم کے پیسے سے سرکاری افسران کی ذاتی تشہیر اور شخصیت پرستی کو فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں کیونکہ اس غلط روایت سے سرکاری افسران سارا دن نت نئے اشتہارات بنانے اور دکھانے کے سوا کچھ نہ کرتے اور نہ سوچتے ہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • ملاوٹ کی لعنت، گدھے کا گوشت ،کیا یہی تربیت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملاوٹ کی لعنت، گدھے کا گوشت ،کیا یہی تربیت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور کے بعد اسلام آباد میں گدھے کا گوشت برآمد ، شہریوں کو گدھے کا بالٹی گوشت اور تکے کھلانے کا قومی فریضہ سرانجام دینے والوں کو محکمہ فوڈ اتھارٹی نے پکڑ لیا۔ ملاوٹ تو ایک الگ موضوع ہے اب گدھے اور کتوں کاگوشت برآمد ہونے لگا۔ کیا خوبصورت تربیت کی ہے ہمارے منبرو محراب ۔ نام نہاد پیر خانوں ،گدی نشینوں نے اپنے مریدوں کی ، ہم ترقی پذیر نہیں ہم زوال پذیر قوم بنتے جا رہے ہیں۔ قرآن پاک میں ایسی قوموں پر قہر نازل ہوئے۔ بھلا ہو پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز جس نے ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف جہاد شروع کیا ہے یہ جہاد سے کم نہیں ،مخلوق خدا کو ملاوٹ شدہ خوراک ادویات ،دودھ اور دیگر روز مرہ استعمال کی چیزوں پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں نہ سیاست نظر آتی ہے اور نہ جمہوریت تاہم سیاسی گلیاروں میں ہیرو بننے کا شوق پروٹوکول ہوٹر بجانے والی گاڑیاں آگے پیچھے گھومیں ،اسی تک سیاست اور جمہوریت رہ گئی ہے۔ سیاست نے کاروباری روپ دھار لیا۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے قوم بالخصوص نوجوان طبقے سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی گئی ۔شخصیت پرستی کی راہ ہموار کی گئی۔ جمہوریت کے دور حکومت اور آمریت کے دور حکومت میں ہرایک قوم کا نجات دہندہ کہلواتا رہا

    میری عمر بیت گئی کس سے نجات دہندہ کہلواتے رہے ۔ پھر قوم کاہیرو تعلیم ، صحت اور مفاد عامہ کا کوئی معیار مقرر نہیں کر سکے۔ جاگیر داروں اور سرمایہ داروں نے قوم کو یرغمال بنایا۔ عقل اور شعور کے دشمنوں نے قوم کو تقسیم در تقسیم کیا۔ جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا پر عاشقان عمران کو کہتے سنا جا سکتا ہے ہمیں عمران چاہیئے پاکستان نہیں یہ شرک کی انتہا اور شخصیت پرستی کی حدکراس کرنے والی باتیں ہیں۔بلاشبہ وہ ایک سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں دوسری جماعتوں کی طرح ،ملکی وفاء اور قومی سلامتی کے درمیان کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ قومی سلامتی کے ادارے ریاست کی سلامتی ، خود مختاری اور داخلی وخارجی خطرات سے حفاظت کے لئے کام کرتے ہیں ان پر سیاسی جماعتوں کو حملہ آور نہیں ہونا چاہیئے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بنیاد ہیں ،ہماری سیاسی جماعتوں کی اس سلسلے میں کارکردگی ملی جلی ہے۔ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں اندرونی اصلاحات ، شفافیت ، میرٹ اور دیگر معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص اقربا پروری ، خوراک ، ادویات ،دودھ ، دیگر روز مرہ کی استعمال ہونے والی چیزوں میں ملاوٹ کی وجہ سے ہمارے خون میں ملاوٹ پھیل چکی ہے ۔ شاید اسی وجہ سے باتوں میں بھی ملاوٹ ، سو ہر کام میں ملاوٹ ہی نظر آتی ہے۔