Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں،
    کیا مقدمہ درج کرنے سے انصاف مکمل ہوگیا،سخت احتساب کرنا ہوگا
    راولپنڈی کے بڑے کہاں سو گئے،فون کال لینا بھی گوارا نہیں کرتے
    نازیبا ویڈیو کس کو دی گئیں معاملے کی تہہ تک جانا ہوگا کیاشہیدوں کے شہر کی خواتین معاف کریں گی؟
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بلوچستان کے ایک سردار کی عدالت کے فیصلے پر خاتون کے بارے میں ابھی سینہ کوبی کر رہے تھے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے 30 کلومیٹر شہر گوجرخان جس کو شہیدوں اور غازیوں کا درجہ حاصل ہے وہاں کی سینکڑوں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والے پولیس اہلکار اور ایک ٹیچر کو بلیک میل کرنے والے پولیس اہلکار کی دو ایف آئی آرز سامنے آنے پر سر شرم سے جھک گیا پنجاب اور بالخصوص راولپنڈی پولیس کے اعلی افسران جو کسی نہ کسی اعلی شخصیت کی سفارش پر تعینات ہیں ایک سوالیہ نشان ہے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان بلا شبہ پولیس اور عوام کے درمیان دوستی کا رشتہ بنانے کے لیے لاتعداد اقدامات کر رہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز بھی روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کر رہی ہے حیرانگی اس بات پر ہے کہ جس ہسپتال میں یہ شرمناک واقعہ ہوا اس ہسپتال میں 32 سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں کہا جاتا ہے کہ 26 کیمرے عرصہ دراز سے خراب ہیں اور چھ عدد کیمرے ٹھیک ہیں ضلعی ہیلتھ افسران پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ وہ کس قدر ذمہ دار ہیں اور اپنی وزیراعلی کے حکم پر وہ کس قدر عمل کرتے ہیں،

    مقامی پولیس کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے دو پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے شام کو جیل بھیج دیا تفتیش کرتے کہ وہ اہلکار عورتوں کی نازیبا ویڈیو بنا کر اتنی بڑی تعداد میں کس کو دیتا تھا؟ کوشش کے باوجود کہ آر پی او راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کا اس سلسلے میں موقف لیا جائے لیکن دونوں ذمہ داران افسران فون کال ہی کسی کی نہیں سنتے تاہم نہ جانے راولپنڈی کو کس کی نظر کھا گئی جرائم کے حوالے سے بھی راولپنڈی کی خبریں اعلی پولیس افسران کے لیے سوالیہ نشان ہیں؟ اگر گوجرخان کے اس شرمناک واقعہ کو لے کر ایف آئی اے سائبر کرائم وزیراعلی پنجاب سپریم کورٹ آف پاکستان دیگر ذمہ داران ریاست کو نوٹس لینا چاہیے اس تحصیل کی ماؤں نے ملک و قوم کی خاطر اپنے بیٹوں کو شہید کروایا اور شہید ہو رہے ہیں کیا اس کا صلہ یہ ہے کہ اس تحصیل کی ماؤں بیٹیوں کی نازیبا ویڈیو بنائی جائیں؟ وہ بھی ایک سرکاری ہسپتال میں جو علاج معالجہ کے لیے دور دراز دیہات سے گوجرخان شہر کے سرکاری ہسپتال کا رخ کرتی ہیں.

    افسوس صد افسوس اس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے انکوائری متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی اور متعلقہ ضلع کے ڈاکٹرز کی زیر نگرانی نہیں ہونی چاہیے سی ایم پنجاب انکوائری ٹیم دوسرے اضلاع کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے ڈاکٹرز کی تشکیل دے کر صاف اور شفاف انکوائری کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں محکمہ پولیس راولپنڈی کے اعلی افسران اور محکمہ ہیلتھ کے افسران کہ اس دلخراش واقعہ کو لے کر بقول شاعر
    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں
    نظر سے گرتے رہتے ہیں عبادت ہوتی رہتی ہے

  • ادب کی بےنصیب نسل — ادب کا بچھڑتا رشتہ.تحریر: اقصیٰ جبار

    ادب کی بےنصیب نسل — ادب کا بچھڑتا رشتہ.تحریر: اقصیٰ جبار

    ہم ایک ایسی نسل میں سانس لے رہے ہیں جس نے نئی دنیا کو خوش آمدید تو کہا، لیکن اس راستے میں سب سے پہلے جس چیز کو پیچھے چھوڑا، وہ "ادب” تھا۔ یہ وہی نوجوان نسل ہے جو دنیا بھر کی خبریں اور معلومات ایک کلک پر حاصل کر لیتی ہے، مگر غالب، فیض اور اقبال جیسے نام اس کے لیے بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ جسے نئے گانوں کے بول تو یاد ہیں، لیکن "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” جیسے الفاظ اجنبی لگتے ہیں۔

    ادب کو زندگی سے یوں الگ کر دیا گیا ہے جیسے وہ کسی پرانے وقت کی چیز ہو۔ اب نہ وہ کلاس میں گفتگو کا حصہ ہے، نہ گھروں میں کتابوں کی مہک باقی ہے، نہ شام کی چائے کے ساتھ افسانوں اور نظموں کی باتیں ہوتی ہیں۔ زبان کی خوبصورتی، احساس کی گہرائی اور سوچ کی نرمی اب تیز رفتار ویڈیوز میں کہیں کھو چکی ہے۔

    حالانکہ ادب صرف لفظوں کا کھیل نہیں۔ یہ ہماری تہذیب، ہماری پہچان، اور ہمارے شعور کا آئینہ ہے۔ جب ادب سے رشتہ کمزور ہوتا ہے تو صرف لفظ نہیں، بلکہ سوچ، احساس اور اخلاق بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔

    افسوس یہ ہے کہ جو نسل خود کو "ڈیجیٹل دور” کی نمائندہ کہتی ہے، وہ اپنی زبان، اپنی شاعری، اور اپنے قصے کہانیوں سے ناآشنا ہے۔ اب بچے قاعدہ پڑھنے کے بجائے موبائل ایپ سے زبان سیکھتے ہیں، اور جوان میر و غالب کو "پرانی باتیں” کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مشاعرے خاموش ہو چکے ہیں، کتابیں صرف امتحان کے دنوں میں کھلتی ہیں، اور جہاں کبھی ادبی محفلیں ہوتی تھیں، اب وہاں ڈانس ویڈیوز اور وی لاگز کا راج ہے۔

    ادب صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ہمیں خود کو اور دوسروں کو سمجھنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ منٹو کو پڑھیں تو ایک تلخ سچائی آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ اقبال کو سمجھیں تو ایک جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی تحریریں انسان کو اپنے دل میں جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ادب ہمیں اچھا انسان بننے کا ہنر سکھاتا ہے۔

    آج طالب علم کے لیے ادب ایک اضافی بوجھ بن چکا ہے۔ وہ بحث، سوال اور سوچ کے عمل سے دور ہو چکے ہیں۔ اب علم کا مطلب صرف نمبر لینا ہے، نہ کہ سمجھ پیدا کرنا۔ لطیفے، میمز اور کلپس نے گہرے خیال کی جگہ لے لی ہے۔ یہ صرف زبان کا نقصان نہیں، یہ سوچ کی سطحیت، احساس کا ختم ہونا، اور ذہنی زوال کی علامت ہے۔

    جب انسان کتاب سے رشتہ توڑتا ہے، تو سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب وہ شاعری سے دور ہوتا ہے، تو دل سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اور جب وہ کہانیاں نہیں پڑھتا، تو زندگی کو صرف اوپر سے دیکھتا ہے، اس کی گہرائی اسے نظر نہیں آتی۔

    ادب ہمیں سوچنا، محسوس کرنا، اور بہتر انداز سے جینے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ادب کو نصاب کا بوجھ نہ بنائیں، بلکہ دل سے جینے کا ذریعہ بنائیں۔ بچوں کو کہانیاں سنائیں، ان سے بات کریں، ان کی رائے سنیں۔ گفتگو اور سوال کی فضا پیدا کریں، تاکہ لفظ صرف لفظ نہ رہیں، بلکہ احساس بنیں، روشنی بنیں، تربیت بنیں۔

    یہ خوشی کی بات ہے کہ آج بھی کچھ نوجوان ایسے ہیں جو چپکے چپکے فیض کے اشعار پڑھتے ہیں، کچھ آن لائن بلاگز میں اردو افسانے لکھتے ہیں، اور کچھ ریختہ جیسے پلیٹ فارم پر ادب کی شمع روشن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں انہی چراغوں کو ہوا دینی ہے۔

    ادب ہمیشہ زندہ رہے گا…
    اگر ہم زندہ دل، زندہ دماغ، اور زندہ ضمیر کے ساتھ اسے پڑھیں گے، لکھیں گے اور محسوس کریں گے۔

    ورنہ وہ وقت دور نہیں جب لکھنے والے تو شاید بچ جائیں —
    لیکن پڑھنے والے ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے۔

  • ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جھوٹ،فریب،افواہ سیاست ٹھہری،معاشرہ کیسے سدھرے گا؟
    ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی حکمرانی ،انصاف سیاست کے معیارات،ہم کہاں کھڑے ہیں؟
    بڑھتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،منبر ومحراب بھی خاموش،محاسبہ کون کریگا؟
    وڈیروں کی ذاتی جیلیں،سوشل میڈیا ایٹم بم بن چکا،انصاف نہ قانون،عام عوام کہاں جائیں
    تجزیہ ، شہزاد قریشی
    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے ،افواہ شر پسندوں کا بڑا ہتھیار، افواہ جھوٹ کی وہ منزل ہے جہاں سچ کی ایک نہیں چلتی اور بے بسی سچ کا مقدر بن جاتی ہے، افواہ جو تباہی پھیلاتی ہے، وہ ایٹم بم سے بھی ممکن نہیں، دنیا بھر کے اہل سیاست افواہ سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ملکی سیاست میں افواہ پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، آج کل یہ فریضہ سوشل میڈیا سرانجام دے رہا ہے ،عوام کو گمراہ ، ملک میں انتشار پیدا کرنے اپنے ہی ملک کی عسکری قیادت جملہ اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے کون سا قومی فریضہ ،کون سی قومی خدمت ہو رہی ہے؟ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن جیسا کردار ادا کرے، اپنی کہو اور دوسروں کی سنو بہتان تراشی سے کام نہ لیا جائے ،صحیح اور صاف راستہ ایک ہی ہے جو حکومت کر رہا ہے وہ انصاف سے حکومت کرے ،حزب اختلاف پرامن حزب اختلاف کے فرائض سرانجام دے باقی سب غلط ہے اور غلطیوں پر فخریہ اعادہ احمق لوگ کرتے ہیں، ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے عمر بیت گئی ،معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کے خلاف دھرنا دیکھا نہ لانگ مارچ نہ منبر و محراب نے اپنی ذمہ داری سمجھی، بحیثیت مسلمان ہماری ایمانداری نیکی تقوی دیانت داری پاکیزگی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے مدرسوں میں معصوم بچوں کو مار دیا جاتا ہے، جاگیرداروں اور وڈیروں نے اپنی عدالتیں اپنی جیلیں بنا رکھی ہیں کیا یہ قانون کی حکمرانی ہے، سوشل میڈیا اس گند کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتا؟ پی ٹی آئی کے اندرون اور بیرون ملک سوشل میڈیا کا نشانہ پاک فوج جملہ ادارے، نواز شریف اور مریم نواز ہی کیوں ہیں؟ کیا وہ ان معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے سے قاصر ہیں؟ حکمران سیاسی جماعتیں علمائےکرام، گدی نشین، پیر خانے اور عوام اپنا محاسبہ کریں تو ملک افراتفری نفسا نفسی سے باہر نکل سکتا ہے، ہوس زر نے انسانوں کو انسانیت سے دور کر دیا ہے ، سول بیوروکریسی ، انتظامیہ، پولیس کے اعلیٰ افسران سمیت ملک کے تمام ادارے اپنا اپنا محاسبہ کریں، تب ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا، امریکہ اور مغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل میں ہے، قانون کی حکمرانی، انصاف، ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے، ملکی سیاست میں بھڑکوں دھمکیوں اور ہلڑ بازی کا شدت اختیار کرتا رجحان بے سبب نہیں اس سے معاشرتی نظام تنزلی کا شکار ہوتا ہے ،خدارا !بس کیجیے معاشرے کو سدھارنے پر توجہ دی جائے

  • "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "آج کے دن میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔”(سورہ المائدہ:3)
    دین مکمل، شریعت کا ہر حکم مکمل، قانونِ الٰہی مکمل، بنوت مکمل، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر آ کر ختم الانبیاء کی مہر لگ گئی تو نبوت بھی مکمل ہو گئی۔ اب جو دین اسلام میں نئی بات گھڑے گا نیا قانون لائے گا وہ جھنمی ہو گا۔
    سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ: رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:” سب سے بہترین بات اللّٰہ کی کتاب ہے، سب سے بہترین ہدایت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور سب سے بد ترین کام دین میں نئے امور (بدعت) ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے "(صحیح مسلم:867)
    اللّٰہ رب العزت نے ہم سب کو آزاد پیدا کیا ہے خواہ وہ مرد ہے یا عورت، ہم سب اللّٰہ کے غلام ہیں اس کے بندے ہیں۔ مرد عورت کا قوام ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے قوام ہوتا کیا ہے؟ قوام کا مطلب حاکم ہرگز نہیں ہے بلکہ قوام وہ ہوتا ہے جو خاندان کی ذمہ داریاں اٹھاتا ہے۔ جو معاشی طور پر گھر اور گھر والوں کا خیال رکھتا ہے۔ یہ ذمہ داری اللّٰہ نے مرد پر ڈالی ہے۔ وہ جذباتی طور پر مضبوط ہوتا ہے اس لیے عورت کا خیال رکھنے والا ہوتا ہے۔ اللہ نے اس کو ایک درجہ بلند رکھا اس لیے کہ وہ ہر اچھے برے حالات میں اپنے خاندان کا محافظ ہوتا ہے لیکن ہوا کیا؟ آج کے مرد نے قوام کا مطلب خود کو عورت کا مالک سمجھ لیا ہے جب کہ مالک تو اللّٰہ سبحان و تعالیٰ ہے کیونکہ جو خالق ہوتا ہے ملکیت بھی اسی کی ہوتی ہے۔ کوئی انسان کسی انسان کے اوپر اپنی ملکیت نہیں رکھتا۔ ہر انسان کی پیدائش اس دنیا میں انفرادی طور پر ہوئی اس کی خوبیاں اس کی خامیاں اسی انسان کی ذاتی ہوتی ہیں۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی پھر ہم ہر کسی کے اعمال کے ٹھیکدار کیوں بن جاتے ہیں؟ سوشل میڈیا کے دور میں کتنا آسان ہو گیا ہے نا کسی کو بھی جنتی یا جھنمی قرار دینا۔ ایسا لگتا ہے ہر شخص دوسرے کے اعمال کا ذمہ دار بن گیا ہے۔ شریعت کے قانون کے مطابق انسان کا اختیار نہیں کہ وہ کسی کو جنتی یا جھنمی کہے لیکن ہم سب تو اتنے دیندار بن گئے ہیں کہ باقی سب کو بے دین تصور کرنے لگے ہیں۔ کئی جگہوں پر دیکھا جا سکتا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں عورت اپنے گھر کے مردوں سے بھی محفوظ نہیں، اسے آزادی رائے نہیں وہ اپنا موقف کسی کے سامنے رکھنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ آئیے لمحے بھر کو اس ماضی میں چلتے ہیں۔

    جہاں درحقیقت عورت کو کوئی مقام حاصل نہ تھا۔
    جہاں اسے رائے کی آزادی نہ تھی۔
    جہاں شوہر اپنی بیوی کو نہ بساتے تھے نہ آزاد کرتے تھے۔
    جہاں بیٹی کی پیدائش پر والد منہ چھپاتا پھرتا تھا۔
    جہاں عورت کو صرف تفریح کا سامان سمجھا جاتا تھا۔
    جہاں عورت کے بیوہ ہونے پر اس کے لیے زندگی کے دروازے بند کر دیئے جاتے تھے۔
    جہاں بغیر نکاح کے ایک مرد کئی عورتوں کو اپنے ساتھ رکھنے کا اختیار رکھتا تھا۔
    جہاں عورت کی کوئی مرضی نہ تھی۔
    جہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ناجانے کیا کیا ظلم ہوتے تھے عورت پر۔۔

    پھر حرا سے ایک روشنی پھوٹتی ہے ایک پاکیزہ فرشتہ دنیا کے سب سے پاکیزہ انسان کے پاس آتا ہے اور اس کا سینہ بھینچتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ رب نے اسے اپنا رسول چن لیا ہے۔ اب دین اسلام کی برکات سے سب انسانوں کو ان کا حق ملے گا۔ اب کوئی کسی کا غلام نہ رہے گا سب انسان آزاد ہیں وہ صرف خالق و مالک کے غلام ہوں گے۔ آج کی ماڈرن عورت کیا جانے آزادی کیا ہوتی ہے؟ آزادی تو وہ تھی جو بریرہ کو ملی تھی۔ یہ اس دور کی بات ہے۔
    جہاں عورت کو تعلیم دینے کا حق نہیں تھا۔
    جہاں بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا۔
    جہاں اسے وراثت سے دستبردار کر دیا جاتا تھا۔
    جہاں اپنی پسند اور مرضی سے نکاح کرنے کا کوئی تصور نہ تھا۔
    لیکن دین اسلام نے آتے ہی عورت کو وہ سب حقوق دیے جس نے اسے معاشرے میں ایک الگ حیثیت سے روشناس کروایا۔

    صفحہ زیست میں ماضی کے دریچوں سے گزریں تو یہ کہانی یوں تو بہت پرانی لگتی ہے لیکن اپنے آپ میں ایک جدت لیے ہوئے ہے۔ یہ کہانی ہے ایک محبت کرنے والی خوشحال شادی شدہ جوڑے کی۔ یہ کہانی ہے ایک غلام اور ایک لونڈی کی۔ پتہ ہے غلام اور لونڈی کا کیا تصور ہے اسلام میں؟ جی ہاں! جن کی نہ کوئی مرضی ہوتی تھی نہ رائے نہ پسند یہاں تک کہ وہ سانس لینے میں بھی مالک کی اجازت کے مختاج ہوتے تھے۔ یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو ایک دن غلامی کی زندگی سے آزاد ہو گئی اسے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا نے آزاد کر دیا۔ آزادی کا حمار کیا ہوتا ہے کوئی اس وقت بریرہ سے پوچھتا۔ آج کی ماڈرن عورت کیا جانے آزادی کیا ہوتی ہے؟

    آج کی ماڈرن عورت دوپٹے سے آزادی کو آزادی تصور کرتی ہے۔ کھلے بالوں کو آزادی تصور کرتی ہے۔ گھر کے باہر در در بھٹکنے کو آزادی تصور کرتی ہے لیکن حقیقی آزادی تو وہ تھی جو بریرہ کے پاس تھی۔اسلام کے مطابق ایک غلام اور ایک آزاد اگر چاہیں تو نکاح قائم رکھ سکتے ہیں ورنہ جو آزاد فریق کی مرضی ہو وہی ہو گا۔ بریرہ کو آزادی اتنی پسند آئی کہ وہ دل و جان سے محبت کرنے والے شوہر کی محبت کو فراموش کر گئی۔ وہ اپنی رائے میں، اپنے فیصلوں میں آزاد ہو گئی۔ محبت کرنے والا مغیث گلیوں، بازاروں میں روتا پھرتا تھا۔ وہ ہر ایک سے کہتا پھرتا تھا ایک بار بریرہ کو منا دو، وہ روتا تھا بریرہ ایک بار تو مجھ سے بات کر لے۔ سب سے سفارش کرتے کرتے وہ اپنی سفارش لے کر رحمت العالمین کے دربار میں پہنچ گیا وہ رسول جو دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے مغیث کو یقین تھا وہ میرے لیے بھی رحمت والا فیصلہ کریں گے۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مغیث کی بات سنی اس کی تکلیف اور دکھ کو محسوس کرتے ہوئے بریرہ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ بریرہ دربار رسالت میں پیش ہوتی ہے۔ وہ اب ایک آزاد عورت تھی وہ جانتی تھی۔
    وہ صرف رب کی غلام ہے۔ رب کے احکامات کی غلام ہے۔
    وہ صرف خود آزاد نہیں تھی بلکہ اس کی سوچ بھی آزاد تھی۔
    وہ اپنے حقوق و فرائض کے بارے میں آگاہ تھی جو دین اسلام نے ایک آزاد عورت کو عطا کیے تھے۔
    وہ پہلے غلام تھی مگر اب نہیں تھی۔
    وہ اپنی رائے اپنے فیصلوں میں آزاد تھی۔
    وہ جانتی تھی اب وہ کسی انسان کی غلام نہیں صرف رب کی غلام تھی۔
    دربار رسالت لگا ہوا تھا۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بریرہ کاش تم مغیث کے پاس لوٹ جاتیں۔” مغیث اپنی محبت بھری خوبصورت زندگی کے بارے میں سوچتے ہوئے بریرہ کے جواب کا منتظر تھا۔ شاید اس وقت مغیث کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی ہو گی ضرور اس نے رب کی بارگاہ میں دعا کی ہو گی مگر بریرہ جو آزادی کا مزہ چکھ چکی تھی وہ ایک غلام شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ وہ دنیا جیت لینا چاہتی تھی وہ اپنے خوابوں کو پورا کرنا چاہتی تھی وہ جانتی تھی زندگی ایک بار ملی ہے اسے غلامی کی نظر نہیں کرنا۔ وہ آزادی کی نعمت کو سمجھ چکی تھی۔ روشن خیال اپنے حقوق کو پہچاننے والی بریرہ نے رسول اللّٰہ کی مجلس میں ان کی بات قبول نہیں کی بلکہ الٹا اپنا موقف رکھ ڈالا۔

    "اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ آپ کا حکم ہے یا سفارش؟ اگر حکم ہے تو مان لوں گی کیونکہ بخثیت مسلمان مجھ پر آپ کی اطاعت فرض ہے لیکن اگر سفارش ہے تو نہیں مانوں گی کیونکہ میری زندگی کے بارے میں مجھے رب نے اختیار دیا ہے۔” کیسا مکالمہ چل رہا تھا سرور دو عالم اور ایک عام مسلمان خاتون کے درمیان۔ کیا آج کوئی بیٹی اپنے والد کے سامنے اپنی رائے دے سکتی ہے؟ جی ہاں! دے تو سکتی ہے مگر ایسی آزادی بہت کم بیٹیوں کو میسر ہے۔

    "رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:” میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔” بریرہ کا جواب آتا ہے۔ "پھر مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔”(صحیح بخارہ:5283)
    میں آزاد فضاؤں میں اڑنا چاہتی ہوں، اپنی مرضی سے سانس لینا چاہتی ہوں، اپنی اڑان بھرنا چاہتی ہوں۔ اللہ کی دی ہوئی آزاد زندگی کو صرف اللہ کی غلامی میں گزارنا چاہتی ہوں مجھے کسی انسان کی غلامی قبول نہیں اور مغیث غلام ہے میں اب اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔

    کیا آج کی لبرل عورت کبھی ایسا سوچ سکتی ہے؟ یہ وہی عورت سوچ سکتی ہے جس نے اپنی زندگی کو دین اسلام کے سانچے میں ڈھال لیا ہو۔ بریرہ کی اس بات نے کتنی خواتین کے لیے نئی سوچ کے در کھولے ہیں۔ عورت تب آزاد ہو گی جب وہ خود کو رب کے احکامات کی قید میں رکھے گی۔ بریرہ تو غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو گئی۔ آج اس کہانی کو گزرے صدیاں بیت گئیں سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا آج کی عورت آزاد ہے؟ اپنی گفتار میں، اپنے فیصلوں میں، اپنی سوچ میں، اپنی رائے دینے میں، اپنی پسند سے نکاح کرنے میں؟؟؟ سوچتے رہیے۔۔۔۔۔۔۔مثبت رہیے دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹتے رہیے۔ اللہ پاک آپ کی زندگی کو آسانیوں سے بھر دے۔ آمین!

  • جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے، بالکل، ویسے جیسے پتے شجر سے گرتے ہیں۔ وہ خاموشی سے، آہستہ آہستہ اور بے آواز گرتے ہیں۔ نہ چیختے ہیں، نہ روکتے ہیں، بس خود کو ہوا کے حوالے کر دیتے ہیں، ایک آخری بار شجر کو دیکھتے ہیں اور پھر زمین پر آن گرتے ہیں، جہاں ہر قدم انہیں روندتا ہے۔ ہر جوتی ان کے وجود کو مٹاتی ہے، اور کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ کیوں گرے؟ شجر خاموش رہتا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، جیسے کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔ مگر پتے جانتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جدائی واقعی موت ہوتی ہے—ایسی موت جو جسم سے پہلے روح کو لے جاتی ہے، جو خاموشی سے دل میں اُترتی ہے اور جس کا نہ کفن ہوتا ہے، نہ جنازہ۔

    جدائی ایک بے نشان قبر کی طرح ہے، جہاں نہ کوئی نام ہوتا ہے، نہ تاریخ، نہ دعائیں—صرف تنہائی، اور وہ ہوا کا تھپڑ جو بار بار یاد دلاتا ہے کہ تم اب شجر کا حصہ نہیں رہے۔ تم اب بس زمین پر ایک بوجھ ہو۔ ہر گزرتا لمحہ ایک اور کچلا ہوا احساس ہوتا ہے، ہر گزرنے والا انسان ایک اور لاتعلق نظر۔ پتے سوچتے ہیں، شجر نے روکا کیوں نہیں؟ کیا وہ بے وفا تھا، یا وقت ظالم تھا، یا قسمت ہی ایسی تھی؟ جدائی کا لمحہ ایک قیامت جیسا ہوتا ہے، جیسے کوئی تمہارا آپ تم سے چھین لے۔ شجر کی ہر شاخ گواہ ہوتی ہے اُس لمحے کی جب پتہ الگ ہوا، جب رشتہ ٹوٹا اور ایک کہانی لفظوں کے بغیر، آواز کے بغیر، بس خاموشی کے کفن میں دفن ہو گئی۔

    ہم سب وقت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جیسے ہر پتہ۔ جدائی نے سب کو چھوا ہے—کسی کی ماں، کسی کا دوست، کسی کا پیار، کسی کی امید—سب ہی روندے گئے، جیسے پتے۔ شجر بدلتے رہے، کہانیاں بدلتی رہیں، مگر انجام ہمیشہ ایک ہی رہا: تنہائی، خاموشی، اور مٹی۔

  • "زمین پہ آسمانی کیفیت کا نام محبت ہے”.تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    "زمین پہ آسمانی کیفیت کا نام محبت ہے”.تحریر: ظفر اقبال ظفر

    دل کی آنکھ محبت کے نزول سے ہی کھلتی ہے۔دو دلوں میں احساس و جذبات کا تبادلہ محبت کے سوا ممکن نہیں مگرجو محبت عزت کا نقصان کرئے وہ نفس کی طرف سے زلت کا جال ہے۔پتھر کی طرح جمے جمائے معاشرے میں احساس کی دراڑ ڈالنا بغیر آسمانی چیز کے ممکن نہیں اس زمین پر اگر کوئی چیز آسمانی ہے تو وہ محبت ہے۔آسمانی محبت آسمان والے کی طرف سے پسندیدہ دلوں پر ہی نازل ہوتی ہے جو تقسیم محبت میں اتنے مدہوش ہو جاتے ہیں کہ وہ آسمان سے زیادہ زمین سے محبت کرنے لگتے ہیں ان کی محبت میں شدت و پاکیزگی دیکھ کر آسمان والوں کو بھی ان کی محبت سے محبت ہو جاتی ہے۔

    دنیاوی خواہشات کے گدھے پر سوار ہو کر زندگی کے فاصلے طے کرکے موت کی منزل پر پہنچنے والے آسمانی محبت کی کمائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔محبت ایک انسان تک بھی محدود ہو تو تاثیر رکھتی ہے یہ چھوڑ جانے والے کو بددُعا نہیں دیتی مگربددُعا فقط ہاتھ اُٹھا کر منہ سے نکلے الفاظوں کا مجموعہ تو نہیں ہوتی کہ جو دی جائے تو لگ جائے،دولت بیدار کے لوگ جانتے ہیں کہ محبت کے بددیانت لوگوں کی طرف سے دی گئی بے سکونی بدحالی درد میں قید رُوح صبر میں گرفتار جسم بھی اک بددُعا ہے جو خودبخودلگ جاتی ہے۔

    وہ جو سنجیدہ و مخلص لوگوں کے جذبات کا مزاق اُڑاتے ہیں ان کی محبت و عقیدت پہ طنزیہ قہقہے لگاتے ہیں وہ تنہائی کے بستر پر بے بسی کی بیماری میں جکڑتے ہیں تو آنسوؤں سے باتیں کرنے لگتے ہیں بے قدری کی معافیاں مانگتے ہیں جہاں محبت اپنے مجرموں کا خود احتساب کرتی ہے وہاں اپنے مخلصوں پر نوازشات کی بارش بھی کرتی ہے محبت کا انتخاب غلط ہو سکتا ہے مگر محبت خود کبھی غلط نہیں ہوتی۔

    ناسمجھ لوگوں کی وجہ سے محبت کے بارے میں ناقص رائے قائم نہیں کرنی چاہیے جیسے کسی مزار کے خادمین اپنی ناسمجھی کے تناظر میں صاحب مزار کی محبت میں گرفتار عقیدت مند کو ڈانٹ دیتے ہیں تو اس میں صاحب محبت اور محبت کاکوئی قصور نہیں ہوتا۔سمندر سے بھی گہری محبت کے مستحق ہیں وہ لوگ جو نفرتوں کے خنجر کھا کر بھی محبت کا لنگر تقسیم کرنا نہیں چھوڑتے۔محبت فریب نہیں دیتی نہ کبھی بدلتی ہے لوگ بدل جاتے ہیں،جہاں اکثریت ناقابل اعتبار ہووہاں کچھ محبت کے سفیر بڑے کمال کے کردار رکھتے ہیں جن پر قدرت کے نظارے ناز کرتے ہیں ان اندر کے خوبصورت لوگوں کی ترجمانی کے لیے قدرت باہر کے منظر حسین بنا کر اپنی تعریف کی وجہ پیداکرتی ہے۔جس طرح رُوح پر جسم کے اصول لاگو نہیں ہوتے اسی طرح نفرتیں وجود محبت پہ اثر انداز نہیں ہوتیں۔

    قدرت اسی لیے سب سے قیمتی ہے کہ وہ ہر چیز سے مہنگی ہو کر مفت دستیات رہتی ہے اس مزاج کے انسان نایاب ہوتے ہیں جن کا نہ ملنا مشکل نہ اس کی محبت بوجھ پرسکون خوشگواراحساس سے لبریزجو دنیا کی طرف سے جھوٹی محبت کے دئیے گئے زخموں پر آسمانی محبت کی مرہم رکھتے ہیں تو شفا پورے وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔اگر انسان آسمانی محبت میں گرفتار نہیں تو شہ رگ سے قریب خدا ساری زندگی کے سفروں کے باوجود نہیں ملتا محبت تمہیں تمہارے وجود میں موجود خدا سے ملوانے کا معجزہ کھلی آنکھوں سے دیکھانے کی طاقت رکھتی ہے۔

  • پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ ن صرف امیر مقام،پورا خاندان بھرتی کرلیا،دیکھیں کوئی رہ تو نہیں گیا
    کسی کوبرا لگے یا اچھا ، دنیا میں عزت اور مقام صر ف پاک فوج کو ملا،سیاست صرف گپ شپ تک محدود
    اکثر سیاسی اقتدار میں صرف پروٹو کول انجوائے کرتے رہے ،مریم نواز نے پہلی بار ہی پنجاب کا نقشہ بدل دیا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    پیپلزپارٹی ،پی ٹی آئی ہو یا جمعیت علماء اسلام ، جو کچھ سینٹ کے الیکشن میں ہوا، اس نظام زر میں سیاست نہ جمہوریت، عوام کاکوئی مقدر نہیں، سیاسی گلیاروں میں منڈی کا راج ہے،جمہوریت نہیں ہے،عوام کو اس نرکھ میں سسکنا ا ور سلگنا پڑے گا، ملکی سیاسی جماعتوں میں حاکمیت دولت کی رہے گی، سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے، پہلا اور آخری معیار دولت ٹھہرا، نورا کشتیاں ، مفادات کے تابع ہیں ، امریکہ سے مغربی ممالک اور مغربی ممالک سے مڈ ل ایسٹ تک دنیا ہماری سیاست اور جمہوریت سے مکمل آگاہ ہے، کے پی کے مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی امیر مقام اپنی فیملی میں دیکھیں اگر کوئی باقی رہ گیاہے تو اُسے بھی ٹکٹ یا عہدہ دلوانے میں دیر نہ کریں، لگتا ہے مسلم لیگ ن کے پی کے میں صرف آپ اور آپ کے خاندان تک محدود ہے، امریکہ سے لے کر مغربی ممالک مڈل ایسٹ کسی کو اچھا لگے یا بُرا ان ممالک کا اعتماد پاک فوج اور جملہ اداروں پر ہے ، دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں ایک منظم اور طاقت ور ادارہ فوج اور جملہ ادارے ہیں ، دنیا ہمارے سیاسی گلیاروں اور ہماری جمہوریت سے باخبر ہے،

    عوام ان سیاسی سوداگروں کی باتوں میں آکر ملکی سلامتی کے اداروں کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کرنے سے گریز کریں، ملک میں جمہوریت اورجمہوری روایات فروغ نہ پانے کی وجہ اقتدار کا حصول رہا ہے ، ان دلخراش حالات میں اگر جمہوریت سیاسی گلیاروں میں زندہ ہے تو ہر سیاسی جماعت میں بااصول شخصیات کی بدولت لیکن بااصول شخصیات کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے جو ملک میں جمہوریت ، پارلیمنٹ کی بالادستی ،آئین کی حکمرانی ،ایمانداری اور دیانتداری کا پرچار کرتے ہیں، سیاسی جماعتوں میں موجود جمہوریت ،ایمانداری ،دیانت داری کا پرچار کرنے والے موجودہیں مگر ان کی آواز دب چکی ہے،اس وقت 25 کروڑ عوام سیاسی تماشے دیکھ ر ہےہیں ، نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے پنجا ب میں عوام کی خدمت کی مثال قائم کردی ، مریم نواز کی مقبولیت پنجاب کے نوجوان طلباء اور خواتین میں دیکھی جا سکتی ہے ، مریم نواز کا سیاسی مستقبل اُمید اور امکانات سے بھرپور ہے

  • جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    ہم ایک ایسے سماج میں سانس لے رہے ہیں جہاں نکاح، جو قرآن کی رو سے عبادت ہے، معاشرتی عزت کے "قانون” کے خلاف جائے تو جرم بن جاتا ہے۔ جہاں بیٹی کا مسکرانا گوارا ہے، مگر اس کا فیصلہ کرنا ناقابلِ برداشت۔ جہاں بیٹی کے ہاتھ میں اگر قرآن ہو بھی، تب بھی اس کے حقِ انتخاب پر گولی حلال اور محبت حرام سمجھی جاتی ہے۔

    حالیہ دنوں ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جس میں ایک جوڑے کو، جو مکمل شرعی نکاح کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے تھے، ایک قبائلی غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ انہیں خوشی کی تقریب کے بہانے بلایا گیا، مگر وہ دعوت کھانے کی نہیں تھی، وہ غیرت دکھانے کی تھی۔ قرآن کے سائے میں بندوقوں کے سامنے کھڑے کیے گئے ان دو انسانوں نے موت کو سامنے دیکھا، مگر پیچھے نہیں ہٹے۔ لڑکی کے ہاتھ میں قرآن تھا، اور زبان پر سکوت۔ اس نے بس اتنا کہا: "صرف گولی مارنے کی اجازت ہے۔”

    یہ جملہ فقط ایک جملہ نہیں تھا، یہ پوری صدیوں پر محیط خاموش چیخ تھی—اس چیخ سے بلند، جو مظلوم عورتوں نے آج تک کبھی نہ نکالی۔ لیکن جو نکاح کے دائرے میں اپنی مرضی سے جینا چاہے، اس کے لیے نہ چیخ کا حق ہوتا ہے، نہ رحم کی کوئی گنجائش۔

    ہمیں سوچنا ہوگا:
    اگر نکاح جرم بن جائے،
    اور محبت گناہ،
    تو پھر دین کی کون سی بنیاد سلامت رہے گی؟

    قرآن مجید سورۃ النساء کی تیسری آیت میں واضح ارشاد فرماتا ہے:
    "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم…”
    "نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں۔۔۔”

    یہ آیت دونوں فریقین کے انتخاب کی آزادی کو تسلیم کرتی ہے۔ نہ صرف مرد کو، بلکہ عورت کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ نکاح کے فیصلے میں اپنی پسند کو مقدم رکھے۔ یہ شریعت کا دیا ہوا اختیار ہے، نہ کہ کوئی مغربی نظریہ یا غیر شرعی دعویٰ۔ مگر افسوس، ہمارے قبائل، ہمارے معاشرتی ادارے، اور بعض اوقات ہمارے گھروں کے در و دیوار بھی اس اختیار کو بغاوت سمجھتے ہیں۔

    اصل مسئلہ غیرت نہیں، بلکہ اختیار کا ہے۔ عورت کے فیصلے کو تسلیم کرنا، ایک ایسی برابری ہے جو مردانہ انا کو قبول نہیں۔ اسی لیے جب کوئی عورت اپنی مرضی کا اظہار کرتی ہے، تو یہ "غیرت کے خلاف” گناہ قرار پاتا ہے۔ اور اس گناہ کا کفارہ صرف موت ہے—وہ بھی زندہ گواہیوں کے سامنے۔

    اسلام میں غیرت کا مفہوم عزت، حیاء، اور طہارت سے جڑا ہوا ہے۔ مگر ہم نے اسے بندوق، قتل اور دھمکی سے منسلک کر دیا ہے۔ غیرت اب ایمان کا جزو نہیں رہی، بلکہ مردانگی کے زخم پر رکھی جانے والی پٹی بن چکی ہے۔ جس کی تہذیب، تربیت اور تقویٰ سے کوئی نسبت نہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ صرف ایک بیٹی ماری گئی۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرے میں قرآن کے ساتھ کھڑے ہونے والی کو گولی مار دی جائے، وہاں دین اور ظلم کا فاصلہ کتنا رہ جاتا ہے؟

    یہ قتل ایک لڑکی کا نہیں تھا—یہ قتل تھا اُس حق کا جو دین نے اسے دیا۔ یہ قتل تھا اُس قرآن کی سچائی کا، جسے اس نے اپنا محافظ سمجھا۔ یہ قتل تھا اُس اسلام کا، جس نے لڑکی کو دفن ہونے سے بچایا، مگر ہم نے اُسے نکاح کے بعد دفن کر دیا۔

    آج اگر ہم خاموش رہے، تو کل نہ صرف مزید بیٹیاں مریں گی، بلکہ اسلام کی روح، اس کی تعلیمات، اور اس کا پیغام بھی قاتلوں کی زبان پر رسوا ہوتا رہے گا۔

    وقت آ گیا ہے کہ ہم پگڑی بچانے کی غیرت کے بجائے بیٹی بچانے کی غیرت کو زندہ کریں۔ وقت آ گیا ہے کہ قبیلے کی عدالت کے بجائے قرآن کی عدالت کو مانا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—کیا ہم قرآن کے ساتھ ہیں یا اس کے خلاف؟

    اگر معاشرہ قاتل ہے،
    تو ہمیں گواہ بننا ہوگا—
    اسلام کے، انصاف کے، اور انسانیت کے۔

  • بھٹو شہید کو انصاف مل گیا نواز شریف کو کب ملے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھٹو شہید کو انصاف مل گیا نواز شریف کو کب ملے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کو نام نہاد جمہوری قوتوں نے تین بار گھر بھیجا ،کئی چہرے بے نقاب ہوگئے
    مخالف سیاسی جماعتیں ہر نواز دور میں روڑے اٹکاتی رہیں،اپنوں نے بھی پیٹھ میں چھرا گھونپا
    آج پارلیمنٹ چور،غدار ڈاکو جیسے نعروں کا گھر ،سیاست مسخرے پن کی آخری حدوں کو چھو گئی
    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پارلیمنٹ ہائوس میں کسی زمانے میں مستحکم جمہوریت آئین قانون کی حکمرانی عوامی مسائل پر تقریریں ہوا کرتی تھیں آج اسی پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کو غدار چور ڈاکو کہہ کر ہائوس کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ، مسخرے پن کی حدیں کراس ہوگئیں ،سیاستدانوں نے آئین اور جمہوریت کو تماشابنا کر رکھ دیا ، جمہوریت کے اندر جمہوریت نہیں سیاسی قیادت کی اکثر یت کرپشن اقرباء پروری کا شکار رہی، عوام کی بڑی تعداد سیاسی شعور اور جمہوریت کی اہمیت سے ناآشنا ، اکثر جمہوری حکومتیں شفافیت اور عوامی خدمت کے معیار پر پورا نہیں اتر سکیں، بعض سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، غربت، مہنگائی اوربیروزگاری جیسے مسائل پیدا ہوتے گئے، ملک تین بار مارشل لاء سے بھی گزرا ان تین مارشل لاء کو سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھرپور تعاون رہا اور اپنی ہی سیاسی جماعت کے قائدین کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ،اسکی زندہ مثال نواز شریف ہیں، جنکو تین بار اقتدار سے علیحدہ کیا گیا اس میں ن لیگ سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کا کردار موجود تھا، جمہوریت اور جمہوری حکومت کے خاتمے میں عدلیہ کا کردار رہا جس کو ہم نظریہ ضرورت کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس کی مثال ہمارے سامنے ایک قد آور سیاسی شخصیت بھٹو ہے، جنکی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا گیا، اسی نظریہ ضرورت کا نشانہ نواز شریف کو نام نہاد پانامہ لیکس کے ذریعے بنایا گیا، اس کیس میں آج کے حقیقی آزادی اور جمہوریت کے طلبگار عمران خان نے فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا اور ایک منتخب جمہوری حکومت کو چلتا کرنے پر بھنگڑے ڈالے گئے، عمران خان نے تو مذہب کا بھی استعمال کیا اور معاشرے کو تقسیم کر دیا .

    ملک میں جمہوریت کی ناکامی کسی ایک فریق کی غلطی نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کا نتیجہ ہے جمہوریت صرف ایک نظام حکومت نہیں بلکہ ایک طرز زندگی ہے جسے اپنانا اور فروغ دینا سب کی ذمہ داری ہے سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر کو فروغ دیا جائے آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے انتخابی اصلاحات پر بات کی جائے ملک کے تمام ریاستی اداروں کو آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے، آئینی ترمیم صرف قومی مفادات اور جمہوری طریقے کار کے تحت کی جائیں

  • یاسمین بخاری  سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    یاسمین بخاری سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    گزشتہ دنوں مجھے سعادت حاصل ہوئی کہ میں یاسمین بخاری صاحبہ کے گھر جا کر ان سے ملاقات کر سکوں۔ یہ ملاقات نہ صرف ایک عزت افزائی تھی بلکہ ادب کے ایک نادر خزانے سے بھی روشناس کرانے والی تھی۔ یاسمین بخاری صاحبہ نے مجھے ایک خوبصورت کتاب تحفے میں دی، جو رثائی ادب کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب ان کے استاد زاہد شمسی صاحب کے بہترین کلام پر مشتمل ہے، جو کربلا والوں کی پیاس کو ایک گہرے استعارے کی صورت میں بیان کرتی ہے۔

    یہ کتاب کربلا کے واقعات اور وہاں کے شہداء کی پیاس کو مرکزی موضوع بنا کر ان کی بے مثال جرأت، بہادری، قربانی اور مصائب کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ زاہد شمسی صاحب کا کلام اس کتاب میں ایک ایسا آفاقی پیغام دیتا ہے جو صرف تاریخی حقائق پر مبنی نہیں بلکہ انسانی جذبوں اور ایمانی قربانیوں کی عکاسی کرتا ہے۔کتاب کی ایک خاص بات اس کا عالی نسبی ذکر ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعلق سے کیا گیا ہے۔ اس میں حمد و نعت سے آغاز ہوتا ہے، جو روحانی فضا کو مزید معطر کر دیتا ہے۔ ہر شعر میں عقیدت، محبت اور عزم کی ایسی خوشبو ہے جو قاری کو سیدھا امام حسین علیہ السلام کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔

    کتاب کا ٹائٹل خود یاسمین بخاری صاحبہ نے رکھا ہے، جو کتاب کے موضوع اور مزاج سے بخوبی ہم آہنگ ہے۔ اس کے ساتھ ایک خوبصورت آیل پینٹنگ بھی شامل ہے، جو امام حسین علیہ السلام کے روضے کی شبیہ کو نہایت نفاست اور خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ یہ پینٹنگ کتاب کی روح کو مزید جلا بخشتی ہے۔یاسمین بخاری صاحبہ نے اس کتاب کو اپنے والد، ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے نام منسوب کیا ہے جو قائداعظم کے ذاتی معالج تھے۔ ڈاکٹر ریاض علی شاہ قائداعظم کے آخری لمحات میں بھی ان کے ساتھ ایمبولینس میں موجود رہے۔ یاسمین صاحبہ نے اپنی اس کوشش کو ڈاکٹر صاحب اور ان کے خاندان کے ایصال ثواب کے لیے وقف کیا ہے، جو ایک انتہائی قابل تحسین عمل ہے۔

    یہ ملاقات اور تحفہ میرے لیے ایک قیمتی تجربہ رہا۔ رثائی ادب میں ایسے الفاظ اور احساسات کو دیکھنا جو تاریخ کی تلخیوں کو جذبات کی زبان میں ڈھال سکیں، واقعی ایک نعمت ہے۔ یاسمین بخاری صاحبہ اور ان کے استاد زاہد شمسی صاحب کو ادب کی خدمت پر میری دلی دعا ہے کہ وہ ایسے قیمتی کام جاری رکھیں اور ہماری تہذیب و ثقافت کو مزید روشنی بخشیں۔