گوجرخان خون کی ہولی دوہرے قتل کو دو ہفتے بیت گئے، پولیس اور سی سی ڈی کی پراسرار خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے
سفید پوشی کا جنازہ نام نہاد سماجی تنظیمیں اور سیاسی پیشوا مصلحت کا شکار، حافظ آباد کے بااثر پٹواری کے سامنے قانون بے بس؟
انصاف کا تقاضا یا بااثر کی لونڈی؟ مقتولین کے ورثاء کی دہائی، کیا گوجرخان میں قانون کی رٹ صرف غریب کے لیے ہے؟ وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل
گوجرخان(قمرشہزاد)گوجرخان کے قلب ریلوے روڈ پر دن دیہاڑے دو تاجر بھائیوں کے بہیمانہ قتل کی لرزہ خیز واردات خون کی ہولی کھیلے ہوئے 14 دن گزرنے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بڑی پیش رفت میں ناکام نظر آتے ہیں۔ مقتول کے کمسن بیٹے نے سرِعام نصیر پٹواری کے بیٹوں معظم اور احسن کو اپنے والد اور چچا کا قاتل نامزد کیا، ایف آئی آر درج ہوئی، لیکن پولیس اور سی سی ڈی حکام کی جانب سے تاحال ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی آفیشل بیان سامنے نہ آنا کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ گوجرخان شہر، جو کہنے کو تو سماجی تنظیموں، صدور اور نام نہاد عوامی نمائندوں سے بھرا پڑا ہے، اس وقت ایک مجرمانہ خاموشی کی لپیٹ میں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کے والد نصیر پٹواری کے سیاسی و انتظامی حلقوں میں گہرے مراسم انصاف کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بن چکے ہیں۔ ہر گلی محلے میں مصلحت کی چادر اوڑھ کر بیٹھنے والے سیاسی نمائندے اور سماج سیوک مقتولین کے لہو پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے یہ تاثر قوی ہو رہا ہے کہ حافظ آباد کے یہ ملزمان قانون سے بالاتر ہیں۔
عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے گردش کر رہا ہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں سنگین وارداتوں کے ملزمان چند ہی دنوں میں اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں، تو کیا گوجرخان کیس کے ملزمان کو کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے؟ کیا سی سی ڈی اور مقامی پولیس اس کیس کو سرد خانے کی نذر کرنے کے لیے فائل پر مٹی ڈالنے کی منتظر ہے؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ کیس گوجرخان پولیس اور بالخصوص سی سی ڈی کے لیے ایک کڑا امتحان ہے کہ آیا وہ اپنی پیشہ ورانہ ساکھ بحال کرتے ہیں یا قانون ایک بار پھر بااثر طبقات کے گھر کی لونڈی ثابت ہوگا۔ اہلیانِ گوجرخان نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ملزمان کو نشانِ عبرت بنایا جائے، ورنہ یہ خاموشی کسی بڑے عوامی لاوے کے پھٹنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، اسلام آباد پولیس گرفتاری کے لئے آئی تو تحریک انصاف کے کارکنان نے پولیس کے ساتھ 20 گھنٹے تک آنکھ مچولی کی اور عمران خان کو گرفتار نہیں ہونے دیا، اس دوران تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان نہ صرف جھوٹ بولتے رہے بلکہ قانون کو ہاتھ میں لیتے رہے، اتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بولے گئے کہ انکو سن سن کو شاید سچ لگنے لگ جائے،
عمران خان کے پاس کسی قسم کی حفاظتی ضمانت نہیں ہے۔ عمران خان کے گرفتاری وارنٹ 6 مارچ کیلئے جاری کیے گئے، پھر 9 مارچ کیلئے جاری کیے گئے اور پھر 13 مارچ تک کیلئے موخر کیے گئے۔ جس کا مطلب ہے کہ اب تک کسی عدالت نے عمران خان کے گرفتاری وارنٹ نہ کینسل کیے ہیں اور نہ ہی انہیں حفاظتی ضمانت دی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کا کہنا کہ وہ حفاظتی ضمانت پر ہیں اس بات کی گواہی ہے کہ وہ قانون کو اپنے پاؤں تلے روند رہے ہیں۔گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا ایک قانونی عمل ہے جس کے خلاف ہٹ دھرمی دکھانا صریحا ایک غیر قانونی حرکت ہے۔
عمران خان اس بات پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان پر 80 کیس ہو چکے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں صرف 30 ایف آئی آریں درج ہوئی ہیں (27 اسلام آباد میں، 2 پنجاب میں اور 1 بلوچستان میں)۔یہ ایف آئی آریں حکومت نے نہیں بلکہ شہریوں کی درخواستوں پر عمران خان کے جرائم کی وجہ سے درج ہوئی ہیں۔ لہذا اس پر بھی عمران خان کو گمراہی پھیلانا بند کرنی ہوگی۔ پولیس اور رینجرز کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے۔ عمران خان کو آنسو گیس کے آلے اور بندوق میں فرق واضح طور پر سمجھنا چاہیئے۔ عمران خان نے پٹرول بموں، پتھراؤ اور خندقوں کے ذریعے اپنے گھر کو جنگجوؤں کا ایک مورچہ بنا لیا ہے۔ پارٹی کی قیادت بھی مان رہی ہے کہ کارکنوں نے پٹرول بموں کا استعمال کیا۔ یاسمین راشد کی بھی آڈیو لیک ہوئی جس میں پٹرول بم کے استعمال کا کہا گیا ہے،
عمران خان نے جن تحریک طالبان پاکستان کے 100 لوگوں کو چھوڑا تھا یہ موصوف بھی انہی میں شامل ہیں۔
عمران خان کے گھر میں کالعدم تنظیم کے ایک کارندے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان غیر قانونی حرکات میں حدوں کو چھو رہے ہیں۔ عمران خان کے حامی اس بات کو خود مان رہے ہیں کہ تربیت یافتہ مجاہدین زمان پارک پہنچ چکے ہیں۔ عمران خان نے مشتعل مظاہرین پر فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیلوں کو اس طرح پیش کیا جیسے وہ سب ان کے گھر پر پھینکے گئے۔ یہ عالمی میڈیا کو بیوقوف بنانے کا صرف ایک حربہ ہے۔ مشتعل مظاہرین نے عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے گرین بیلٹس، بجلی کے انفراسٹرچر اور گاڑیوں کی شدید ترین توڑ پھوڑ کی اور سرکاری اہلکاروں کو بھی زخمی کیا عمران خان خود کو مظلوم دکھانا چاہ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ حکومت کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں عدالت نے وارنٹ جاری کیے تو عمران خان پیش نہ ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیش ہونے کا حکم دیا اسکے باوجود عمران خان عدالت نہ گئے ،عمران خان کے وارنٹ دوبارہ بحال ہوئے تو اگلے روز اسلام آباد پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچ گئی، منگل کی شام تقریبا ساڑھے چار بجے پولیس زمان پارک پہنچی، بکتر بند گاڑی، واٹر کینن، بھاری نفری لیکن تقریبا 20 گھنٹے مسلسل جدوجہد کے باوجود عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکی، کیونکہ عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لئے کارکنان کو ڈھال بنایا ہوا ہے، تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان زمان پارک موجود رہتے ہیں، ممکنہ گرفتاری کی خبر پھیلنے کے بعد کارکنان کی آمد کا سلسلہ بھی بڑھ گیا، پولیس نے رات کو بھی کوشش کی لیکن گرفتاری نہ ہو سکی، صبح بھی کوشش کی گئی لیکن پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس کو آگے نہ بڑھنے دیا، اس دوران دونوں طرف سے آنکھ مچولی ہوتی رہی، پی ٹی آئی کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تو پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس کے شیل اور واٹر کینن کا استعمال کیا، 50 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنکو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، دوسری جانب تحریک انصاف کے کارکنان بھی زخمی ہیں لیکن انکی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہو سکی، فرح حبیب تو یہ بھی دعویٰ کرتے رہے کہ کارکنوں کی موت بھی ہوئی لیکن ابھی تک کوئی لاش سامنے نہیں لائی جا سکی،
پولیس جب زمان پارک پہنچی تو سب سے پہلے عمران خان کے قریبی افراد نے جھوٹ بولا کہ عمران خان زمان پارک نہیں ہیں، بعد ازاں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا عمران خان زمان پارک میں ہی موجود ہیں، عمران خان نے 20 گھنٹے تقریبا کارکنان کو ڈھال بنائے رکھا اور گرفتاری نہین دی، شاید عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت گرفتاری نہ دینے کو بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے، عمران خان کی گرفتاری اگر حکومت نے کرنی ہوتی تو ایک رپورٹ کے مطابق دس منٹ میں عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا تھا، اب ان 20 گھنٹوں میں تحریک انصاف نے لاقانونیت کی انتہا کی ہے، ایک طرف عمران خان کے وارنٹ،اور اس میں رکاوٹیں ڈالی گئیں،پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، پولیس کی املاک کو آگ لگائی گئی، پولیس سے جھوٹ بولا گیا، قانون کو ہاتھ میں لیا گیا، پولیس پر پٹرول بم برسائے گئے، اور اس ساری منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر عمران خان سمیت تحریک انصاف کی دیگر قیادت بھی شریک تھی، کیونکہ آج ہی یاسمین راشد اور صدر مملکت کی ایک آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں یہ ساری باتیں کی گئی ہین کہ زمان پارک میں کیا ہو رہا ہے،پٹرول بم چلانے کا بھی اعتراف اس آڈیو میں ہے، صحافی محسن بلال نے بھی ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پٹرول سے بھرا ہوا ڈرم۔ زمان پارک سے مال روڈ اشارے پر پہنچایا گیا۔ جس کے بعد پولیس اور کارکنان کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ پولیس شیلنگ کرتی رہی اور تحریک انصاف کے کارکنان شیشے کی بوتلوں میں پٹرول بم پھینکتے رہے۔
پٹرول سے بھرا ہوا ڈرم۔ زمان پارک سے مال روڈ اشارے پر پہنچایا گیا۔ جس کے بعد پولیس اور کارکنان کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ پولیس شیلنگ کرتی رہی اور تحریک انصاف کے کارکنان شیشے کی بوتلوں میں پٹرول بم پھینکتے رہے۔ pic.twitter.com/AirY1YLkct
صحافی نوید شیخ کہتے ہیں کہ ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے کپتان کے گھر کے اندر سے کے پی کے سے آئے دہشتگرد سیکورٹی اہلکاروں پر پیڑول بم مار رہے ہیں جبکہ اہلکاروں کے پاس خالی ڈنڈے ہیں ۔
ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے کپتان کے گھر کے اندر سے کے پی کے سے آئے دہشتگرد سیکورٹی اہلکاروں پر پیڑول بم مار رہے ہیں جبکہ اہلکاروں کے پاس خالی ڈنڈے ہیں ۔ pic.twitter.com/xBbL0jMCOz
پولیس کا زمان پارک میں آپریشن جاری تھا تو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جانب سے ہمیشہ کی طرح فیک ویڈیوز اور فیک خبریں وائرل کرنے کی بھی کوشش کی گئی،تاہم سوشل میڈیا پر انکا مسلسل کاؤنٹر کیا جاتا رہا، اسلام آباد پولیس سے لے کر پنجاب حکومت تک سب نے فوری فیک خبروں کو کاؤنٹر کیا اورتحریک انصاف کے پروپگنڈے کو بے نقاب کیا،ان حالات میں جو تحریک انصاف نے ان 20 گھنٹوں میں کیا ایسے میں تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کہلوانے کا کوئی حق نہیں رہا، کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرح کا تشدد نہیں کرتی اور نہ ہی قانون ہاتھ میں لیتی ہے بلکہ سیاسی رہنما تو قانون پر عمل کر کے دوسروں کے لئے مثال قائم کرتے ہیں، ایسے میں قانون پر عمل کرتے ہوئے تحریک انصاف پر سے سیاسی جماعت کا لیبل ختم ہونا چاہئے اور اسے کالعدم قرار دینا چاہئے، پاکستان بڑی مشکل سے دہشت گردی سے نکلا ایسے میں پاکستان کو کسی بھی مشکل میں مزید نہیں دھکیلا جا سکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ قانون کا ہاتھ قانون کے مطابق ہی رکھا جائے کسی قسم کی مزید رعایت تحریک انصاف کو مزید شدت پسندی کی طرف راغب کرے گی،
لاہور سے صحافی نجم ولی خان کہتے ہیں کہ عمران خان غداری اور بغاوت کے لئے بچھائے گئے ٹریپ میں مکمل طور پر آ گئے ہیں۔ ان کی صفوں میں ان کے مخالفین کے ایجنٹوں نے انہیں آج "پوائنٹ آف نو ریٹرن” پر پہنچا دیا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ وہ ہو گا کہ اکبر بگتی، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی مثالیں بھول جائیں گی۔
عمران خان غداری اور بغاوت کے لئے بچھائے گئے ٹریپ میں مکمل طور پر آ گئے ہیں۔ ان کی صفوں میں ان کے مخالفین کے ایجنٹوں نے انہیں آج "پوائنٹ آف نو ریٹرن" پر پہنچا دیا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ وہ ہو گا کہ اکبر بگتی، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی مثالیں بھول جائیں گی۔
نجم ولی خان مزید کہتے ہیں کہ جو عمران خان نیازی اور اس کا گروہ کر رہا ہے وہ اگر گرفتاری کی کوشش پر نوازشریف، اصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، فاروق ستار، الطاف حسین، اسفند یار ولی، آفتاب شیر پاو، سراج الحق، سعد رضوی، محمود خان اچکزئی میں سے کوئی کرتا تو ۔۔۔؟ تو کیا ہوتا؟
ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر احسن اقبال کہتے ہیں کہ عمران نیازی اندھے پیروکاروں کے زور پہ پاکستان کا ہٹلر، پی ٹی آئی نازی پارٹی بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ہٹلر کی گرم تقریروں نے جرمن قوم کو فریب میں مبتلا کیا، جج، صحافی،دانشور اور عوام اس کے جھانسے میں آئے اسے ووٹ دئیے اور اقتدار میں آ کے اسنے جرمن قوم اور دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
ایک ٹویٹر صارف کرن نازنے لکھا کہ خان صاحب جو کرتوت خود کرتے ہیں،وہی دوسروں پر ڈالتے ہیں۔کیاآپکے احکامات پر فورسز نےلبیک والوں کی گھروں کی دیواریں نہیں پھلانگی تھیں؟کیا آپ نے پولیس اور فورسز سےTLP پر سٹریٹ فائر نہیں کروائے تھے؟آپ اتنے بھولے کیوں ہیں؟فورسز کو عوام کے سامنے آپ نے کھڑا نہیں کیا؟
ایک صارف لکھتے ہیں کہ عمران خان معلوم انسانی تاریخ کے وہ پہلے سرخیل ہیں جنہوں نے محاذ آرائی و جنگ کی صف بندی کی ترتیب ہی الٹ کر رکھ دی ہے،پہلے جنگ میں رہنما سب آگے ہوتا تھا اس کے دائیں بائیں وزراء ہوتے تھے،پھر پیچھے گھڑ سوار سپاہی،یہاں منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ پہلی صف سے معذور و بوڑھے لیڈ کر رہے دوسری صف سے خواتین و بچے واویلا کر رہے،تیسری صف میں ہجیڑے کھڑے بدعائیں دے رہے،اور آخری صفوں سے پیچھے اوٹ میں چھپے لیڈر سے احکامات لے کر آگے پہنچاتے وزرا و مشران دکھائی دے رہے.
لاہور سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے پانچ امیدواران نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے۔
پی پی 159 سے محمد رضوان منیر، ، پی پی 167 سے چوہدری عبد الرزاق، پی پی 171 سے عباس بھٹی اور پی پی 172 سے ریاض احمد احسان نے اپنے متعلقہ ریٹرننگ افسران کو اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروادئیے۔ اس موقع حلقے سے سپورٹران کی بڑی تعداد بھی امیدواران کے ساتھ موجود تھی۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل لاہور انجنئیر حارث ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے تمام صوبائی حلقوں سے باکردار اور فعال امیدواروں کا انتخاب کرکے انتخابی میدان میں لارہی ہے۔
پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا کوئی امیدوار ایسا نہیں جس کے کردار پر کوئی داغ ہو۔ قوم کی خدمت پارٹی کا مشن ہے اور اس مقصد کے لیے لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونے والے امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا ان شاءاللہ آئندہ دو روز میں تمام حلقوں سے امیدواران اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیں گے۔
وزیرٹرانسپورٹ سندھ شرجیل میمن نے پنک بس کے نئے روٹ کا افتتاح کردیا
اس موقع پر وزیر سندھ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پنک بس کی تعداد بڑھائی جارہی ہے،پنک بسز کے روٹس بھی بڑھائے گئے ہیں پنک بس سروس صرف خواتین کے لیے ہے، خواتین کو اختیار دینے کے حوالے سے پہلا قدم ہے،خواتین اچھی سہولت سے اسکول ،کالجز اور دیگر مقامات جاسکتی ہیں،خواتین اپنے کام باآسانی بس سروس کے ذریعے انجام دے سکتی ہیں پوری دنیا میں10 سے 12ممالک ہیں جہاں ایسی بس سروسز ہیں ہم سکھر، لاڑکانہ اور باقی اضلاع میں بھی ایسی بس سروس شروع کرنا چاہتے ہیں،یہی ہمارا مقصد ہے اور پیپلزپارٹی کا یہی منشور رہا ہے،سپریم کورٹ فیصلے پر 4ججز نے اعتراض کیا ہے دو سے زائد ججز نے کہا کہ معاملہ سوموٹو نہیں بنتا،پیپلز پارٹی انصاف کی حامی ہے آج تک ذوالفقار علی بھٹو کیس کا فیصلہ نہیں ہوا،ملک میں انصاف کے 2نظام نہیں چل سکتے
شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کا فیصلہ اب تک التو ا میں کیوں ہے ؟خواتین کو اختیار دینے کے حوالے سے پہلا قدم ہے،انتخابات وقت پر ہونے چاہییں مگر صورتحال کومد نظر رکھنا ضروری ہے،عدالتوں میں گارڈز کے ساتھ اسلحہ کے ساتھ جارہا ہے،جو مولا جٹ بنا ہوا ہے ،کوئی اس پر بات نہیں کررہا ہے،ہم نے بھی جیلیں دیکھی ہیں ،ہمیں تو رعایت نہیں ملی،ججز نے کلیئر کہہ دیا کہ کیس کو سننا سپریم کورٹ کا دائرہ کار ہی نہیں انتخابات جب بھی ہوں گے عمران خان نتائج تسلیم نہیں کریں گے عمران خان نے جو بھی روش اپنائی اس نے ملک تباہ کردیا عمران خان کو گرفتار کرنا چاہیے ،عمران خان نے آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں،
متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک ہوئی ہے، ویڈیو وائرل ہو چکی ہے، حریم شاہ نے نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کی تصدیق کی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق حریم شاہ کا کہنا ہے کہ وائرل ویڈیو اصلی ہے اور صندل خٹک یا عائشہ ناز میں سے کسی نے وائرل کی، یہ ویڈیو میرے موبائل سے چوری کی گئی ہے کوئی تیسرا بندہ اس ویڈیو کو لیک نہیں کر سکتا
حریم شاہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ وائرل لیک ویڈیو میرے گھر کی ویڈیو ہے، میری کسی سے دشمنی نہیں، ویڈیو لیک کرنے والوں کیخلاف کاروائی کروں گی، ایف آئی اے میں درخواست دوں گی
واضح رہے کہ حریم شاہ متنازعہ ٹک ٹاکر ہیں، انکی نازیبا ویڈیو کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر بات چیت چل رہی ہے جس کی تصدیق حریم شاہ نے میڈیا رپورٹس کے مطابق خود کی ہے، حریم شاہ کے ماضی میں کافی سیکنڈل سامنے آ چکے ہیں حریم شاہ کو ایک سیاسی جماعت کے رہنما اپنے مفاد کے لئے استعمال کر رہے ہیں
واضح رہے کہ پاکستان کی متنازع اور معروف ٹک ٹاکر اور اداکارہ حریم شاہ نے دعوی کیا تھا کہ شیخ رشید نے میری وجہ سے آج تک شادی نہیں کی۔ایک انٹرویو میں اداکارہ و ٹک ٹاکرحریم شاہ نے داخلہ شیخ رشید احمد کی شادی کے حوالے سے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اب تک شادی میری وجہ سے نہیں کی ہے۔حریم شاہ نے متعدد لوگوں کی ویڈیوز وائرل کرنے کے سوال پر بھی شیخ رشید کا نام لیتے ہوئے کہا کہ متعدد لوگوں کی ویڈیوز اور واٹس ایپ کال سامنے لانے کے بعد مجھے اس لئے جان کا خطرہ نہیں کیوںکہ میرے پیچھے شیخ رشید کا ہاتھ ہے-حریم شاہ نے بتایا کہ شیخ رشید مجھے کہتے ہیں کہ میں پورے پاکستان پر بھاری ہوں، اس لئے میری حفاظت کو انہوں نے اپنی ترجیحات میں رکھا ہوا ہے، اسی وجہ سے انہوں نے شادی نہیں کی۔
شہر قائد کراچی میں ایک طرف پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں تو دوسری جانب فحاشی کے اڈوں پر کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہو رہی، سرجانی ٹاؤن خدا کی بستی حسن بروہی گوٹھ میں خاتون دھڑلے سے مبینہ طور پر قحبہ خانے چلانے میں مصروف ہے اور پولیس کو اسکی مدد حاصل ہے،
سرجانی ٹاؤن خدا کی بستی حسن بروھی گوٹھ میں نائیکہ زویا کھلے عام فحاشی کا اڈہ چلانے میں مصروف ہے، سندھ پولیس کے انویسٹیگیشن افسر سُہیل کی مدد سے زویا نامی خاتون نے علاقے میں فحاشی کا اڈہ چلانا شروع کر دیا ہے،پولیس اہلکار سہیل مبینہ طور پر شہر قائد میں فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی کرتا ہے،خدا کی بستی سرجانی ٹاؤن میں نائیکہ زویا کی مدد سے پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر اڈا قائم کروا رکھا ہے، پولیس اہلکار کے ساتھ شائق بھی اس دھندے میں ملوث ہے، شائق بدنام زمانہ منشیات فروش ہے جس کا کرمنل ریکارڈ بھی موجود ہے،
خدا کی بستی میں قائم فحاشی کے اڈے پر لڑکیوں کو لایا جاتا ہے اور انہیں پانچ سے دس ہزار کے عوض ایک رات کے لئے بھیجا جاتا ہے،منشیات فروش شائق اور زویا نے شادی کر رکھی ہے، اور باقاعدگی سے فحاشی کے اڈے سے ہونیوالی آمدن کا حصہ پولیس اہلکار سہیل کو پہنچایا جاتا ہے،
سرجانی خدا کی بستی کے اہلِ محلّہ اور متصل علاقوں کے مکینوں نے علاقائی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ فحاشی کے اڈے کو ختم کروایا جائے آئی جی سندھ اس حوالہ سے کردار ادار کریں،سرجانی تھانے میں تعینات پولیس افسر آئی او سُہیل کی انکوائری کرائی جائے اور تمام ثبوتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آئی او سُہیل ، نائیکہ زویا ،منشیات فروش شائق خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے
دوسری جانب ضلع ویسٹ پولیس نے مضرصحت گٹکا ماوا سپلائی/فروخت کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔تھانہ پیرآباد پولیس نے اسنیپ چیکنگ کے دوران کاروائی کرکے دو ملزمان کو گرفتار کیا۔ملزمان کو منگھوپیر روڈ جمشید پمپ کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔ملزمان سے چھ کلو سے زائد (95 عدد پڑیاں) تیار گٹکا ماوا اور فروختگی کی نقدی برآمد کی گئی ہے، گرفتار ملزمان کے خلاف سندھ گٹکا ماوا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لئے گئے،گرفتار ملزمان میں واجد ولد گل نواب اور محمد بلال ولد محمد سالار شامل ہیں۔
رینجرز کی مواچھ گوٹھ میں کارروائی ،لیاری گینگ وار کے دو انتہائی مطلوب ملزم گرفتارکر لئے گئے
ترجمان رینجرز کے مطابق ملزم ،قتل اقدام قتل، بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث اور مطلوب تھے ،ملزم نوید عرف چھوٹو سال2005 میں لیاری گینگ وار کے ساجد گولیمار گروپ میں شامل ہوا، ملزم نوروز سال 2019 میں لیاری گینگ وار گروپ کا حصہ بنا ملزم نوید عر ف چھوٹو سیاسی جماعت کے کارکنان اور مخالف گروپ کی 50سے زائد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہیں ملزم سال 2014 میں کراچی آپریشن کے دوران اندرون سندھ ایران میں روپوش ہوگیا تھا ،ملزموں نے سال 2011 اور 2012 میں کلفٹن اور سولجر بازار ست تین تاجروں کواغواء کرکے 20 لاکھ تاوان وصول کیا ملزموں نے 18جنوری کو بھی پرانا گولیمار میں زمین پر قبضے کے لئے ہوائی فائرنگ کرکے علاقے میں خوف وہراس پھیلا تھا ملزموں کے قبضے سے اسلحہ اور ایمونیشن برآمد ،قانونی کارروائی کےلئے پولیس کے حوالے کردیا گیا
دوسری جانب ڈسٹرکٹ سٹی پولیس اور حساس ادارے نے انٹیلیجنس ٹیکنیکل بیسڈ مشترکہ ٹارگٹڈ کارروائی کی اور پولیس کو انتہائی مطلوب لیاری گینگ وار عزیر بلوچ کا قریبی ساتھی گرفتار کر لیا گیا، ملزم کو علاقہ تھانہ کلری کی حدود سے گرفتار کیا گیا. ملزم سے 1 ہینڈ گرینیڈ برآمد کر لیا گیا، ملزم کی شناخت محمد اویس ولد محمد یونس کے نام سے ہوئی ہے. ملزم کا نام ریڈ بک میں بھی شامل ہے. ملزم لیاری گینگ وار عزیر بلوچ گروپ کا اہم کمانڈر ہے, اور عزیر بلوچ کا قریبی ساتھی ہے, کراچی: ملزم انتہائی پیشہ ور ہے اور اس سے قبل کئی مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جا چکا ہے