شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے
مسجد نبوی میں وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کے ساتھ ہونے والے نازیبا سلوک کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آیا ہے
سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے بھتیجے شیخ راشد شفیق اس وقت سعودی عرب میں ہیں اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد وہیں ہیں،گزشتہ روز نازیبا واقعہ ہوا تو اسکے بعد شیخ راشد شفیق نے اپنا ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا ہے جس کے بعد سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ شیخ راشد ہی اس واقعے میں ملوث ہیں اور شیخ رشید کے کہنے پر انہوں نے ایسا کیا ہے، کیونکہ گزشتہ روز شیخ رشید نے میڈیا ٹاک میں کہا تھا کہ کہ یہ لوگ حرم جائیں، دیکھئے انکے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے، شیخ رشید بھی کراچی جلسہ کے بعد عمرہ کر کے آئے ہیں،مبینہ اطلاعات کے مطابق باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ لوگوں کو پیسے دے کر یہ کام کروایا گیا اور اس مین عمران خان کے ایک قریبی دوست بھی شامل ہیں
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور شیخ رشید احمد کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں ہونے واقع کی خود نگرانی کرتےرہے ۔ ان کے فخر یہ کلمات سنیے کہتے ہیں ہم ان کو حرم میں نماز ہی نہیں پڑھنے دیں گے ۔👇 لعنتی لوگ, کافرانہ سوچ, یہودی غلام, #توہین_مسجد_نبوی_نامنظورpic.twitter.com/PAmUxNqJ2I
— Raja Muneeb Thakar PMLN (@MuneebThakar) April 29, 2022
شیخ راشد شفیق نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کل جب شام کوشہبازشریف اوران کے ساتھی مدینہ منورہ پہنچے تو ان کی آمد کا سُن کرہرطرف سے آوازیں آنے لگیں کہ پاکستان کو لوٹنے والے اب عمرے کرنے آگئے ہیں پھراس پرعوامی ردعمل بڑھتا گیا اوریہاں تک بڑھ گیا کہ ہرطرف سے آوازیں آنے لگیں کہ دیکھو دیکھو کون آیا ،چورآیا چورآیا یہ حکومتی ٹیم کل اس ردعمل کے بعد نہ تو نمازتراویح ادا کرنے کے لیے آئیں اور نہ ہی روضہ رسول پرحاضری دینے کے لیے آئیں حتیٰ کہ عشا کی نماز بھی ادا نہیں کی ان کے پاس اطلاعات ہیں کہ لوگ مکہ میں ان چوروں کی آمد کا انتظارکررہےہیں اوریہ امکان ہے کہ وہاں بھی پاکستانی ان کا اسی طرح استقبال کریں جس طرح مدینہ میں داخل ہوتے ہوئے کیا، ان کو سرچھپانے کی جگہ نہیں ملے گی
سی سی ٹی وی پر کپڑا ڈال کر تھانے میں "پارٹی”،انکوائری پر ایس ایچ او خاتون اہلکار سمیت معطل
یہ ہے لاہور پولیس، سی سی ٹی وی کے آگے کپڑا ڈال کر تھانے کے اندر پارٹیاں، ڈی آئی جی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہئوے ایس ایچ او کو خاتون اہلکار سمیت معطل کر دیا
واقعہ لاہور کے تھانہ فیصل ٹاؤن میں پیش آیا ،واقعہ کی ویڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تھانے میں لگے سی سی ٹی وی پر کپڑا ڈال دیا گیا ہے، جب سی سی ٹی وی پر کپڑا ڈالا گیا تو ڈی آئی جی مانیٹرنگ آفس نے فوری رپورٹ کی، واقعہ کی انکوائری ہوئی تو ڈی آئی جی اپریشنز ڈاکٹر عابد خان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او فیصل ٹاون یاسر چیمہ کو معطل کر دیا ہے ایس ایچ او کے ساتھ تھانے میں تعینات لیڈی سب انسپکٹر مہوش کو بھی معطل کردیا گیا ہے
تھانے میں پارٹی کیمرہ بنا بڑی رکاوٹ ,
لاہور تھانہ فیصل ٹاون کے ایس ایچ او کو تھانے میں پارٹی کرنا مہنگا پڑگیا ڈی آئی جی آپریشن نے ایس ایچ او فیصل ٹاون یاسر چیمہ کو معطل کردیا pic.twitter.com/tSEMj0oRlf
دوسری جانب تھانے میں لگے کیمرے پر کپڑا ڈالنے پر شہریوں نے بھی تعجب کا اظہار کیا ہے، ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ کون سی پارٹی کر رہے تھے جس میں کیمرے کے اوپر کپڑا ڈالنا پڑا
واقعہ پر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او نے سالگرہ منانے کے لئے کیمرے پر پردہ ڈالا تا ہم دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ایس ایچ او کے ساتھ تھانے میں ایک نام نہاد صحافی موجود ہے ، یہ صحافی ایس ایچ او کا ٹاؤٹ ہے اور تھانے کی حدود میں موجود منشیات کے اڈوں، قحبہ خانوں سے بھتہ لیتا ہے اور پھر پولیس والوں کو بھی حصہ دیتا ہے
جس حوالات میں آج میں ہوں جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔ محسن بیگ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی محسن بیگ کو اسلام آباد کی عدالت میں پیش کیا گیا
اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، اسلام آباد کی صحافی برادری بھی عدالت کے باہر موجود تھی،نیشنل پریس کلب کے صدر انور رضا, سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ,سیکرٹری آر آٸی یو جے طارق ورک سمیت دیگرصحافی موجود تھے، اس موقع پر محسن بیگ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انشإاللہ کھڑا رہوں گا ان کا مقابلہ کروں گا ساری صحافی برادری میرا ساتھ دے رہی ہے ان کا شکرگزار ہوں ،
صحافی محسن بیگ کی عدالت کے باہر گفتگو نیشنل پریس کلب کے صدر انور رضا, سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ,سیکرٹری آر آٸی یو جے طارق ورک سمیت دیگرصحافی موجود رہے انشإاللہ کھڑا رہوں گا ان کا مقابلہ کروں گا ساری صحافی برادری میرا ساتھ دے رہی ہے ان کا شکرگزار ہوں, محسن بیگ#mohsinbaigpic.twitter.com/MaruZOOywF
محسن بیگ کی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں گفتگو کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کی ذلت کے دن آنے والے ہیں۔ جس حوالات میں آج میں ہوں انشاءاللہ جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔
محسن بیگ کا وزیراعظم عمران خان کو پیغام۔عمران خان کی ذلت کے دن آنے والے ہیں۔ جس حوالات میں آج میں ہوں انشاءاللہ جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔ pic.twitter.com/G2onHItfGn
قبل ازیں عدالت نے محسن بیگ کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے، محسن بیگ کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی تھی تا ہم عدالت نے فیصلہ سنایا اور محسن بیگ کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا
محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے نے مراد سعید کی شکایت پر مقدمہ درج کیا جبکہ اسلام آباد پولیس نے الگ سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کا مقدمہ درج کیا تھا اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں محسن بیگ کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں ان کے بیٹے کو بھی نامزد کیا گیا تھا، جس میں دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی تھیں
بیرون ملک بیٹھ کر لاہور میں واراداتیں کروانیوالا افضال کنو لاہور پولیس کے لئے چیلنج
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے،آئے روز چوری ،ڈکیتی، قتل کی وارداتیں عام ہو چکی ہیں،پولیس سب اچھا ہونے کا دعوئ کرتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے،لاہور میں 2012 میں ہونیوالے ایک معمولی تصادم نے درجنوں جانیں لے لیں تا ہم ابھی تک معاملہ ختم نہ ہوا، مقدموں کے مدعی، گواہوں کو سنگین دھمکیوں کے بعد قتل کر دیا گیا،بچ جانے والے بھی خوف و ہراس میں زندگی گزار رہے ہیں اور ملزمان ٹھاٹھ باٹھ میں ،دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں، دس برسوں میں مدعی کو انصاف ملنے کی بجائے نہ صرف والد کی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا ،ملازمت بھی کھونی پڑی بلکہ گولیاں لگنے کی وجہ سے مستقل معذوری بھی جھیلنی پڑی، طویل ترین عرصے میں یعنی ایک دہائی گزرنے کے باوجود ابھی تک ملزمان کی جانب سے نہ صرف دھمکیاں دی جاتی ہیں ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ دھمکیاں دلوائی بھی جاتی ہیں دوسری جانب حالت یہ ہے کہ گینگ کے سرغنہ،شوٹراور درجنوں مقدمات میں پولیس کو مطلوب،دھمکیاں دینے والے سوشل میڈیا پر خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں.
باغی ٹی وی لاہور میں جرائم پیشہ عناصر کے کرتوتوں کو سامنے لا رہا ہے،باغی ٹی وی کی تحقیقات کے مطابق افضال کنو نامی گینگ کا سرغنہ جس کے بیرون ممالک بھی دہشت گرد تنظیموں سے رابطے ہیں نے لاہور میں انت مچا رکھی ہے، افضال کنو لاہور پولیس کو کئی مقدمات میں مطلوب ہے اور اس نے خود کو ایک ویڈیو میں بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، افضال کنو کی فیملی کے افراد بھی جرائم پیشہ ہیں اور اس کے گینگ میں ہی شامل ہیں، افضال کنو گرفتاری کے ڈر سے روپوش ہے اور خفیہ مقام سے اپنے گینگ کے اراکین کو ہدایات دیتا ہے، افضال کنو گینگ لاہور کے اندر قتل، ڈکیتی، بھتہ خوری کیسزمیں ملوث ہے، افضال کنو گینگ کے افراد مسلح ہو کر نہ صرف دن دہاڑے دھمکیاں دیتے ہیں بلکہ معمولی بات پر قتل کرنے میں بھی دیر نہیں کرتے،
باغی ٹی وی کو دستیاب دستاویزات اور معلومات کے مطابق افضال کنو کے والد پرویز عرف پیجی اور بڑے بھائی لال حسین کا ذریعہ معاش بھی چوروں کی سرپرستی اور ریلوے سے ریلوے ملازمین کو گن پوائنٹ پر ہراساں کر کے ریلوے کا مال لوٹنا تھا ۔ اسی لوٹ مار کے دوران پولیس کے ہاتھوں اس کا باپ پرویز عرف پیجا قتل اور اس بھائی لال حسین زخمی ہوا تھا ۔ جس کی خبر روزنامہ خبریں 18 اپریل 2005ء میں شائع ہوئی تھی،۔ اس کے بعد ان چوروں کی سرپرستی اس کے دوسرے بھائی بلال نے لے لی تھی ۔ اور یہ اپنے علاقے کے لوگوں کو تنگ کرتا رہتا تھا جس کی بیشمار ایف آئی آر لاہور کے مختلف تھانوں میں درج ہیں ۔ اس کے دوستوں میں ایک بلال قلچہ تھا جو قتل ہو چکا ہے اس کا بھائی سی آئی اے پولس کے ہاتھوں قتل ہوا تھا جس نے لاہور شہر کے 3 تاجروں کو اغوا کے بعد پیسے لے کر بھی قتل کر دیا تھا ۔ ان ملزمان کی حرکتوں کی وجہ سے پورا علاقہ بہت تنگ تھا ۔ اس دوران افضال کنو کا بھائی بلال اپنی حرکتوں کی وجہ سے ایک کاروباری فیملی کے لڑکے کے ہاتھوں قتل ہوا ۔جس کے بعد افضال کنو نے اپنے دوستوں سے مل کر گینگ بنایا اور کرایہ کے قاتلوں کا کاروبار شروع کیا اور لاہورو دیگر شہروں میں بہت سے لوگوں کو پیسے لے کر قتل کیا۔
13 جنوری 2022 کو ڈی آئی جی آپریشنر لاہور نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایا کہ شادباغ پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 7 خطرناک شوٹر ملزمان کو گرفتارکرلیا، ملزمان افضال عرف کنو جو کہ بیرون ملک ہے کے شوٹر ہیں، "جرائم کے انسداد کے لیے موثر اقدامات اپناتے ہوئے کاروائیاں جاری رکھیں گے” ملزمان کو میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا،
شادباغ پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 7 خطرناک شوٹر ملزمان کو گرفتارکرلیا، ملزمان افضال عرف کنو جو کہ بیرون ملک ہے کے شوٹر ہیں، "جرائم کے انسداد کے لیے موثر اقدامات اپناتے ہوئے کاروائیاں جاری رکھیں گے" ڈی آئی جی آپریشنز@OfficialDPRPP@Lahorepoliceopspic.twitter.com/wrqicPEape
گرفتار ملزمان میں شہباز عزیز بٹ، ساجد علی اور ندیم، ساحر بٹ، نعیم بٹ، شہزاد، اشرف عرف ماموں، عبداللہ عرف گنجا شامل ہیں۔ انہی ملزمان کے انکشاف پر جاوید عرف بابا، فہد عرف گاما، فاروق کرمانوالہ ہوٹل والا، چوہدری اسلم، قدیر گھوڑا، فیضان عرف چیں، زبیر عرف بیری، وقار عرف حاجی گنجا، علی عرف پون، علی عرف سائیکو، ملک احمد، ملک عاصم وغیرہ کی گرفتاری کے لیے پیش رفت جاری ہے۔ اس سے پہلے پولیس مقابلے میں فاروق ڈار، ندیم عرف مٹھا گاڈی، وقاص گجر مارے جا چکے ہیں۔ جبکہ گرفتار ملزمان کے قبضہ سے ناجائز اسلحہ پسٹل اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی، دوران تفتیش ملزمان کا درجنوں واداتوں کا انکشاف کیا اور ملزمان نے بتایا کہ وہ اُجرتی قاتل ہیں اور خطرناک اشتہاری ملزم افضال عرف کنوں کے لیے کام کرتے جو کہ بیرون ملک ہے۔
ملزمان شہباز عزیز بٹ اور ساجد علی اور دیگر شامل ہیں نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے سرغنہ افضال کنو کے کہنے پر بہت سے قتل وغارت کیے۔ 2012ء میں لڑائی کے دوران اپنے ہی دوست بلال قلچے کو قتل اور راہگیر مبین بٹ کو زخمی کیا جو کہ مشہور تاجر زاہد امین کا بیٹا ہے اور اسی کیس میں گواہی دینے اور صلح نہ کرنے کی وجہ سے 2012ء ہی میں ضعیف العمر ہال روڈ کے تاجر زاہد امین جو کہ دبئی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی کرتے تھے کو بہت بے رحمی سے مال روڈ بندو خان کے سامنے ساجد علی، اور رمضان عرف صاحب، فاروق ڈار اور قدیر عرف قدیرا نے افضال کنو کے ساتھ مل کر قتل کیا۔ اسی طرح 2013ء میں ہال روڈ کے مشہور ضعیف العمر تاجر یوسف خان کو بھی قتل کیا۔ اور آپسی رنجش کے باعث رانا شان جو کہ ان کا قریبی دوست تھا اور اس کے ضعیف العمر والد رانا ادریس کو مسجد میں شہید کیا گیا جس کے نشانات ابھی بھی مسجد میں موجود ہیں۔ اسی طرح رانا کاشف جو کہ رانا شان کے قتل کا واحد چشم دید گواہ تھا اس کو فاروق ڈار نے کرمانوالہ ہوٹل میں بلا کر افضال کنو کے کہنے پر بے رحمی کے ساتھ قتل کروایا جس کی ایف آئی آر فاروق ڈار کے خلاف باغبانپورہ تھانہ میں درج ہوئی۔ اور اس کے بھائی اور ضعیف العمر والد پر بھی حملہ کیا گیا کیونکہ وہ اس کیس کے چشم دید گواہ تھے۔ 2018ء میں شان عرف مٹھو مشہور گولے والا جو کہ زاہد امین قتل اور بلال عرف قلچے کے قتل کیس کا بھی واحد چشم دید گواہ تھا اس کو بھی قتل کروا دیا۔ اسی طرح اگست 2020ء میں سبزہ زار کے علاقے میں ساجد نے گلی میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے اور ریکی کر کے فائرنگ سے حافظ فیصل منیر جو کہ یوسف خان قتل کیس کا چشم دید گواہ بھی تھا کو قتل کر دیا ۔
گرفتار ملزم شہباز بٹ کا دوبئی میں مقیم بنگش پٹھان سے بھی تعلق ہے جو قحبہ خانہ چلاتا ہے اور قحبہ خانہ پر کام کرنے والی پاکستانی لڑکیوں کو حراساں کرتے ہیں ۔ ملزمان بھتہ خوری کی خاطر معصوم لوگوں پر فائرنگ کرتے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے۔ ملزمان شہباز بٹ نے لاہور کے مشہور تاجر جونا بٹ جو بلال یسین کا کزن ہے کے قتل کا پلان کر رکھا تھا۔ دوارن تفتیش ملزمان نے مزید انکشاف کیا کہ ملزمان نے ہی فائرنگ کے لیے عابد باکسر کے گھر کی ریکی کی اور ساجد نے کیمرے انسٹال کیے۔
افضال عرف کنو جس کا تعلق فیض باغ مصری شاہ سے ہے جس نے اپنے آپ کو سوشل میڈیا پر مظلوم اور بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی اس کی بے گناہی کے تمام دلائل اور مقدمات کا ریکارڈ پولیس کے پاس موجود ہے، افضال کنو کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں وہ گندی گالیاں دیتے ہوئے کسی کو دھمکیاں دے رہا ہے، سوشل میڈیا پر کہا گیا ہے کہ دھمکیاں عابد باکسر کو دی گئی ہیں تا ہم ابھی تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ دھمکیاں اور گالیاں عابد باکسر کو دی گئیں یا کسی اور کو، اس ویڈیو میں افضال کنو نے اسلحہ بھی ہاتھ بھی پکڑا ہوا ہے.
باغی ٹی وی کو ملنے والی رپورٹس کے مطابق افضال کنو کے غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ بھی تعلقات ہیں،افضال کنو اور اسکی فیملی آجکل روپوش ہے افضال کنوں اور اس کا بھائی چھوٹا بھائی فیضان عرف چیں اور زبیر عرف بیری پنجاب پولس کو بہت سارے سنگین جرائم میں مطلوب ہے ۔
باغی ٹی وی کو موصول رپورٹ کے مطابق افضال کنو نے مبینہ طور پر انکے خلاف کیسز میں گواہی دینے والوں کو قتل کروا دیا ہے یا پھر انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو مدعی ہیں انکے گھروں میں بم دھماکوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں،اور کہا جاتا ہے کہ کنو کے دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات ہیں اسلئے وہ کچھ بھی کروا سکتا ہے، عزت سے جینا ہے تو کیسز سے پیچھے ہٹ جاؤ،
افضال کنو پر درج ایک مقدمے کا عکسافضال کنو کی ایک فائل فوٹو