Baaghi TV

Author: Baaghi Reporter

  • سعودی عرب نے پاکستان کیلئے3 ارب ڈالر ڈپازٹ میں توسیع کردی

    سعودی عرب نے پاکستان کیلئے3 ارب ڈالر ڈپازٹ میں توسیع کردی

    کراچی: سعودی حکومت نے پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں مزید مزید ایک سال کے لیے توسیع کردی۔اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ (ایس ایف ڈی) نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کے لیے ڈپازٹ کروائے گئے 3 ارب ڈالر کے فنڈ کی مدت میں توسیع کردی، ڈپازٹس کی معیاد ایک سال بڑھانا پاک سعودی مضبوط خصوصی تعلقات کا عکاس ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان کےخصوصی حکم پر مدت میں توسیع کی گئی ڈیپازٹ مد ت میں توسیع سعودی عرب کی پاکستان کو فراہم کی جانے والی مدد کا تسلسل ہے، ڈیپازٹ مدت میں توسیع کا مقصد بینک میں غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو بڑھانا ہے،ڈیپازٹ مدت میں توسیع کا مقصد پاکستان کی مشکل میں مدد کرنا بھی ہے سعودی مدد نے پاکستان کے پائیدار اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا،

     

    ایک ہفتے میں زرمبادلہ کےذخائر32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرزمزید کم ہوگئے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان سے محبت کی دل سے قدر کرتے ہیں سعودی عرب نے ایک بار پھر بڑے بھائی کا کردار ادا کیا سعودی عرب نے پاکستان سے اپنی بے مثال محبت کا ثبوت دیا ، سعودی عرب کے اقدام سے پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی،پاکستان کی معاشی خود انحصاری اولین قومی ایجنڈا ہے سیاسی استحکام اور میثاق معیشت وقت کی ضرورت ہے،

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی اس حوالے سے سعودی ولی عہد سے بات ہوئی تھی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور دونوں ممالک کے مابین کئی شعبوں میں تعاون کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔یاد رہے کہ نومبر 2021 میں سعودی فنڈ برائے ترقی ایس ایف ڈی اور اسٹیٹ بینک کے درمیان 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

    بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں خواجہ سراؤں کو شامل کرنے کی منظوری

  • گرین بیلٹ شعلوں کی زد میں:کون ذمہ دار اور کون واپس لوٹائےگا سرسبزاسلام آباد

    گرین بیلٹ شعلوں کی زد میں:کون ذمہ دار اور کون واپس لوٹائےگا سرسبزاسلام آباد

    اسلام آباد:گرین بیلٹ شعلوں کی زد میں:کون ذمہ دار اور کون واپس لوٹائے گا سرسبزاسلام آباد،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے بدھ کی شام تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کی سڑکوں پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے کا سلسلہ جاری رہا۔

    اسی حوالے سے سنیئر صحافی انصار عباسی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج سے پہلے ہر طرف سرسبزہ ہی تھا مگراحتجاج کے کہیں سرسبزہ نظر نہیں آرہا تھا ،

    مرکزی شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹانے کے بعد تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد اسلام آباد میں داخل ہوگئی اور بڑی تعداد میں لوگ ڈی چوک بھی پہنچ گئے تھے، تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے شرکاء نے گزشتہ روز اسلام آباد کے اندر آگ لگائی، جلاؤ گھیراؤ کیا، پولیس اہلکاروں پر بھی تشدد کیا گیا،اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق مظاہرین کے پتھراو سے پولیس اور رینجرز کے مزید07 جوان زخمی ہوئے، علاج معالجہ کے لئے ہسپتال منتقل کر دیئے گئے، کل 27 افسران و جوان آج زخمی ہوئے جن میں 18 پولیس، ایف سی اور 09 جوان رینجر کے شامل ہیں۔

    تحریک انصاف کے کارکنوں کے اسلام آباد میں داخلے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہوئیں جن میں ریڈ زون کے قریب واقع علاقے بلیو ایریا کے گرین بیلٹ میں درختوں میں لانگ مارچ میں شریک شرپسند عناصر کی جانب سے لگائی جانے والی آگ کے سبب درختوں کو جلتا ہوا دکھایا گیا ہے ،ڈی چوک کے آس پاس بھی گرین بیلٹ میں آگ لگانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے کارکن اسلام آباد کے گرین بیلٹ میں درختوں کو آگ لگا رہے ہیں

    ایک صارف امین مگسی کا کہنا تھا کہ تھوڑے سے اسلامی ٹچ کے بعد اسلام آباد میں پھنگ کے سبھی حرام پودے جلا دیئے گئے. اگر یہ اسلامی ٹچ مقدار میں تھوڑا زیادہ ہوتا تو پورا اسلام آباد جل کر راکھ ہو جاتا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ روز جو مناظر دیکھنے کو ملے یہ کسی سیاسی جماعت کے کارکنان کے نہیں ہو سکتے، اسلام آباد میں جلاؤ گھیراؤ کے دوران میٹرو سٹیشن کو بھی جلایا گیا، کچھ دکانیں لوٹے جانے کی بھی اطلاعات ہیں،پولیس کو چاہئے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تمام شرپسندوں کو گرفتار کرے اور قرار واقعی سزا دلوائے،

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

  • مجید نظامی کے حقیقی وارث رمیزہ کے خلاف میدان میں آگئے

    مجید نظامی کے حقیقی وارث رمیزہ کے خلاف میدان میں آگئے

    روز نامہ نوائے وقت کے ایڈیٹر مجید نظامی مرحوم کی لے پالک بیٹی رمیزہ کے خلاف مجید نظامی مرحوم کے حقیقی وارث میدان آ گئے.

    مجید نظامی مرحوم کے حقیقی بھتیجے احمد کمال نظامی نے نوائے وقت کے ڈیکلریشنز کو حقیقی وارث کے طور پر لاہور کی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے بانی نوائے وقت حمید نظامی مرحوم ‘مجید نظامی مرحوم کے بھتیجے اور تحریک پاکستان کے کارکن بشیر نظامی مرحوم کے بیٹے کی حیثیت سے احمد کمال نظامی نے رمیزہ زوجہ اویس زکریا عزیز کی حیثیت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ مجید نظامی مرحوم کی حقیقی بیٹی نہیں ہے.

    ان کے والد کا نام میاں عارف تھا ‘جبکہ ان کی والدہ کا نام غزالہ بی بی ہے ‘ ان کے دو بھائی اور ایک بہن بھی ہے احمد کمال نظامی نے سینئر سول جج لاہور کی عدالت میں رمیزہ کے علاوہ 28فریقین کو عدالت سے نوٹسز جاری کروائے ہیں جن میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد ‘ڈی جی پی آر ڈپٹی کمشنر لاہور ‘ کراچی ‘اسلام آباد ‘ملتان اور کوئٹہ کو بھی نوٹسز جاری کئے گئے ہیں.

    سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کئے گئے ہیں ‘اس کے علاوہ احمد کمال نظامی نوائے وقت گروپ آف کمپنیز کے شیئرز کو بھی چیلنج کیا ہے کہ رمیزہ مجید نظامی مرحوم کی وارث کے طور پر ان شیئرز کی حق ملکیت کی حقدار قرار نہیں دی جا سکتی’انہوں نے اپنے کیس میں عدالت سے استد عا کی ہے کہ کیس کا حتمی فیصلہ ہونے تک نوائے وقت کے اثاثہ جات ‘ سرمایہ کاری ‘شیئرز ڈیکلریشنز وغیرہ کیساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے اور انہیں اسی حالت میں بر قرار رکھا جائے.

    انہوں نے عدالت سے یہ بھی تقاضا کیا ہے کہ مجید نظامی مرحوم چونکہ صحافت کے شعبہ میں انتہائی اہم شخصیت تھے اس لئے ان کو مختلف ادوار میں ملنے والے سول ایوارڈ ‘نشان امتیاز ‘ستارہ امتیاز اور ستارہ پاکستان وغیرہ بھی ان کے حقیقی وارثوں کو دئیے جائیں ‘دعوے میں نوائے وقت کی تینوں کمپنیوں کے شیئرز کا تذاکرہ کیا گیا ہے ‘جس کے تحت رمیزہ بھی کئی شیئرز کو اپنی ملکیت ظاہر کر رہی ہے ‘احمد کمال نظامی نے اپنے کیس کے حوالے سے ایک سٹام پیپر کا بھی ذکر کیا ہے کہ جس میں ان کے مطابق مجید نظامی مرحوم نے خود امریکہ کا ویزہ حاصل کرنے کےلئے ایک سٹام پیپر میں اعتراف کیا تھا کہ رمیزہ ان کی لے پالک بیٹی ہے ‘ اس سٹام پیپر کے گواہان میں معروف قانون دان مقبول باٹا ایڈووکیٹ اور حمید نظامی مرحوم کے صاحبزادے اور معروف صحافی عارف نظامی کے دستخظ موجود ہےں’واضح رہے کہ مجید نظامی مرحوم کے تین بھائی حمید نظامی مرحوم ‘خلیل نظامی مرحوم اور بشیر نظامی مرحوم تھے جبکہ دو بہنیں طلعت اکبر مرحومہ اور سردار بی بی مرحومہ تھیں.

    حمید نظامی مرحوم اور بشیر نظامی مرحوم ‘مجید نظامی مرحوم سے بڑے جبکہ خلیل نظامی مرحوم ان کے چھوٹے بھائی تھے ۔