Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ صاحب: میونسپل کمیٹی میں مالیوں و دیگر ملازمین کیلئے اعزازیہ کی تقریب، 31 ملازمین میں فی کس 10 ہزار روپے تقسیم

    ننکانہ صاحب: میونسپل کمیٹی میں مالیوں و دیگر ملازمین کیلئے اعزازیہ کی تقریب، 31 ملازمین میں فی کس 10 ہزار روپے تقسیم

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)میونسپل کمیٹی ننکانہ صاحب کے دفتر میں مالیوں اور دیگر ملازمین کو اعزازیہ دینے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راو اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل شاہد کھوکھر نے خصوصی شرکت کی۔

    تقریب میں ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر، ایکسین ہائی وے اور چیف آفیسر بلدیہ بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو نے ملازمین سے ملاقات کی اور شہر کی خوبصورتی اور صفائی کے لیے بہترین کارکردگی دکھانے پر ان کی حوصلہ افزائی کی۔

    ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران نے مجموعی طور پر 31 ملازمین میں فی کس 10 ہزار روپے اعزازیہ تقسیم کیا۔ یہ اعزازیہ گرین بیلٹس، پبلک پارکس کی بحالی اور سٹریٹ لائٹس کی بہتری پر نمایاں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو دیا گیا۔

    اس موقع پر افسران نے کہا کہ ننکانہ صاحب کی بیوٹیفکیشن کو یقینی بنانے کے لیے ملازمین دن رات محنت کر رہے ہیں۔ گرین بیلٹس اور پبلک پارکس کی بحالی پر مامور ملازمین روزانہ 14 گھنٹے سے زائد کام کر رہے ہیں، جبکہ شہر کو خوبصورت بنانے کے لیے کام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے۔

  • پسرور: ڈی ایس پی مدثر صدیق کا موٹر سائیکل سواروں کے لیے اہم پیغام

    پسرور: ڈی ایس پی مدثر صدیق کا موٹر سائیکل سواروں کے لیے اہم پیغام

    پسرور (نامہ نگار وقاص اسلم)ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) مدثر صدیق نے موٹر سائیکل سواروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر صورت ہیلمٹ کا استعمال یقینی بنائیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ ہیلمٹ صرف چالان سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی قیمتی جان کی حفاظت کے لیے معیاری اور اچھی کوالٹی کا استعمال کیا جائے۔

    ڈی ایس پی مدثر صدیق کا کہنا تھا کہ معیاری ہیلمٹ سر پر شدید چوٹ اور حادثات کے سنگین خطرات سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی حفاظت کو بھی ترجیح دیں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ جن موٹر سائیکل سواروں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہے، وہ فوری طور پر اپنا لائسنس بنوائیں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت پیش کریں۔
    یہ پیغام ٹریفک حادثات میں اضافے کے پیش نظر جاری کیا گیا ہے، جو اکثر ہیلمٹ نہ پہننے اور قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ پولیس کی جانب سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی یہ کوشش قابل تحسین ہے۔

  • جاز نیٹ ورک کی لوٹ مار؟ گرتا معیار، بڑھتے نرخ اور پی ٹی اے کا غیر مؤثر کردار

    جاز نیٹ ورک کی لوٹ مار؟ گرتا معیار، بڑھتے نرخ اور پی ٹی اے کا غیر مؤثر کردار

    جاز نیٹ ورک کی لوٹ مار؟ گرتا معیار، بڑھتے نرخ اور پی ٹی اے کا غیر مؤثر کردار
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفےٰبڈانی
    پاکستان کی سب سے بڑی سیلولر کمپنی جاز (موبی لنک) اس وقت ملک بھر میں صارفین کی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق نیٹ ورک سروس کے معیار میں مسلسل گراوٹ، پیکیجز کی آسمان کو چھوتی قیمتیں اور غیر مجاز کٹوتیوں نے صارفین کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک صارف نے حال ہی میں شکایت کی کہ جاز کا ویکلی فریڈم پیکیج، جو ابتدا میں 350 روپے میں متعارف کرایا گیا تھا، اب بڑھ کر 700 روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اس کے برعکس سروس کا معیار دن بدن مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک فرد کی شکایت نہیں بلکہ ملک بھر میں لاکھوں صارفین اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس آرٹیکل میں جاز نیٹ ورک کی مجموعی صورتحال، صارفین کی شکایات، ریگولیٹری اداروں کے کردار اور ممکنہ حل کا جائزہ مختلف مستند ذرائع کی بنیاد پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی رپورٹس کے مطابق جاز 2025 میں بھی سب سے زیادہ شکایات موصول کرنے والی ٹیلی کام کمپنی رہی ہے۔ ستمبر 2025 میں ملک بھر سے ٹیلی کام سیکٹر کے حوالے سے تقریباً 5000 شکایات ریکارڈ کی گئیں، جن میں سے 1522 شکایات صرف جاز کے خلاف تھیں، جو مجموعی شکایات کا تقریباً ایک تہائی بنتی ہیں۔ اکتوبر 2025 میں جاز کے خلاف شکایات کی تعداد بڑھ کر 1619 ہو گئی، جبکہ جنوری 2025 کی رپورٹ میں جاز کے خلاف 5070 شکایات سامنے آئیں، جو تمام آپریٹرز میں سب سے زیادہ تھیں۔

    ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی شکایات میں نیٹ ورک ڈاؤن ہونا، سگنلز کی کمی، انٹرنیٹ کی انتہائی سست رفتار اور کال ڈراپس جیسے مسائل نمایاں ہیں۔ اسلام آباد کے ایک صارف کے مطابق کئی علاقوں میں جاز کے سگنلز مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر نیٹ ورکس نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاز کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں صارفین اسے بدترین سروس فراہم کرنے والی کمپنی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نہ کالز درست طریقے سے ملتی ہیں، نہ انٹرنیٹ قابلِ استعمال رہتا ہے اور نہ ہی کسٹمر کیئر تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔

    ٹرسٹ پائلٹ جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی جاز کی ریٹنگ محض ایک اسٹار تک محدود ہے، جہاں صارفین نے غیر مجاز سبسکرپشنز اور بیلنس چوری کی متعدد شکایات درج کر رکھی ہیں۔ ریڈٹ پر ایک صارف نے انکشاف کیا کہ اس کے نمبر پر بغیر اجازت ایک سروس ایکٹیو کی گئی اور بیلنس کاٹ لیا گیا۔ یہ شکایات صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ دیہی علاقوں سے بھی نیٹ ورک کی خراب صورتحال کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اوپن سگنل کی فروری 2025 کی رپورٹ کے مطابق جاز نے نومبر 2024 میں اپنا 3G نیٹ ورک بند کیا، جو “4G فار آل” منصوبے کا حصہ تھا، تاہم اس فیصلے کے بعد سروس میں بہتری کے بجائے صارفین کے مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    سروس کے معیار میں گراوٹ کے ساتھ ساتھ جاز کے پیکیجز کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے صارفین کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ دسمبر 2025 تک ویکلی فریڈم پیکیج کی قیمت ٹیکس سمیت 565 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس میں 50 جی بی ڈیٹا، 1000 جاز منٹس، 300 دیگر نیٹ ورک منٹس اور 1000 ایس ایم ایس شامل ہیں۔ بعض ذرائع میں اس قیمت کو 547 روپے بھی بتایا گیا ہے، تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ یہی پیکیج چند برس قبل کہیں کم قیمت پر زیادہ ڈیٹا کے ساتھ دستیاب تھا۔ ایک صارف کے مطابق جاز کا ہفتہ وار پیکیج جو ابتدا میں 200 روپے میں 12 جی بی دیتا فراہم کرتا تھا، اب 350 روپے میں صرف 6 جی بی تک محدود ہو چکا ہے۔

    آڈٹ جنرل آف پاکستان کی 2024-25 کی رپورٹ میں ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق جاز نے مالی سال 2023-24 کے دوران صارفین سے پی ٹی اے کی منظور شدہ قیمتوں سے زائد 6.58 ارب روپے وصول کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اضافی وصولی 9 مختلف پیکیجز میں کی گئی، جن میں ہفتہ وار اور ماہانہ بنڈلز شامل تھے۔ مثال کے طور پر ایک پیکیج جس کی منظور شدہ قیمت 955 روپے تھی، اسے 1043 روپے میں فروخت کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس عمل کو کھلی لوٹ مار قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

    غیر مجاز کٹوتیوں کے حوالے سے بھی صارفین کی شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس سے بیلنس خودبخود کٹ جاتا ہے، جبکہ انہیں کسی قسم کی سروس ایکٹیویشن کا علم تک نہیں ہوتا۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے اس نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس کے بعد بعض صارفین نے جاز کے بائیکاٹ کی بھی اپیلیں شروع کر دی ہیں۔

    اس تمام صورتحال میں پی ٹی اے کا کردار بھی تنقید کی زد میں ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری ادارہ کمپنیوں کی مبینہ لوٹ مار کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ اگرچہ پی ٹی اے نے 2025 میں سروس کے معیار پر جاز پر 30 ملین روپے جرمانہ عائد کیا اور کوالٹی آف سروس سروے کے ذریعے بہتری کی ہدایات جاری کیں، تاہم قیمتوں میں اضافے کو آپریٹرز کی بڑھتی لاگت کے تناظر میں جائز قرار دیا گیا۔ سینیٹ پینل نے 2024 میں ٹیلی کام پیکیجز میں 19 فیصد اضافے پر سوالات ضرور اٹھائے، مگر اس کے باوجود کوئی ٹھوس اور فیصلہ کن اقدام سامنے نہیں آ سکا۔ جاز نے بھی اوورچارجنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام قیمتوں میں اضافہ پی ٹی اے کی منظوری سے کیا گیا۔

    مجموعی طور پر جاز نیٹ ورک کی گرتی ہوئی سروس، بڑھتے ہوئے نرخ اور غیر مجاز کٹوتیوں نے صارفین کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ ریگولیٹری اداروں کی کمزور نگرانی عوامی بے چینی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اگر اداروں میں مؤثر چیک اینڈ بیلنس اور جواب طلبی کا نظام موجود ہوتا تو شاید صارفین کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ حکومت اور متعلقہ ریگولیٹرز کو فوری اور عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیوں کو قواعد و ضوابط کا پابند بنانا ہوگا، قیمتوں پر مؤثر کنٹرول اور سروس کے معیار میں بہتری کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے اور صارفین کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: کرسمس کے موقع پر ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کے مثالی صفائی انتظامات، بین المذاہب ہم آہنگی کا عملی مظاہرہ

    ڈیرہ غازی خان: کرسمس کے موقع پر ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کے مثالی صفائی انتظامات، بین المذاہب ہم آہنگی کا عملی مظاہرہ

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر):ڈیرہ غازی خان میں 25 دسمبر کو مسیحی برادری کے مذہبی تہوار کرسمس ڈے کے موقع پر ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کی جانب سے سینٹ اینتھونی یونائیٹڈ چرچ اور مسیحی قبرستان میں صفائی و ستھرائی کے مثالی انتظامات کیے گئے۔

    چرچ، اس کے اطراف اور آنے جانے والے راستوں پر مکمل صفائی کے ساتھ پانی کا چھڑکاؤ اور چونا ڈالا گیا، تاکہ عبادات کے لیے آنے والے شہریوں کو کسی قسم کی دشواری یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور پرامن ماحول میں مذہبی رسومات ادا کی جا سکیں۔

    بین المذاہب ہم آہنگی اور غیر مسلم برادری سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر سینٹ اینتھونی یونائیٹڈ چرچ میں ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کے افسران بالا کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ منیجر توفیق عادل، تحصیل منیجر عمر مجتبیٰ لغاری، پی آر او جواد اکبر بھٹی، سپروائزر ملک جمشید، ملک سراج اور ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کے ورکرز نے مسیحی برادری کے ہمراہ کرسمس کیک کاٹ کر خوشیوں میں شرکت کی۔

    اس موقع پر چرچ کے منتظمین اور مسیحی برادری کے نمائندوں نے ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کی ٹیم اور ضلعی انتظامیہ کا بھرپور شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں رواداری، ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دیتے ہیں۔

  • ننکانہ صاحب: ایل ڈبلیو ایم سی میں نوکریاں فروخت ہونے کا انکشاف، غریب ورکرز کا استحصال اور جبری برطرفیوں پر دہائیاں

    ننکانہ صاحب: ایل ڈبلیو ایم سی میں نوکریاں فروخت ہونے کا انکشاف، غریب ورکرز کا استحصال اور جبری برطرفیوں پر دہائیاں

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی ،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز): ایل ڈبلیو ایم سی میں نوکریاں فروخت ہونے کا انکشاف، غریب ورکرز کا استحصال اور جبری برطرفیوں پر دہائیاں

    لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) ضلع ننکانہ صاحب میں مبینہ طور پر روزگار کی فراہمی کے بجائے نوکریوں کی خرید و فروخت کا کاروبار شروع ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں دورانِ ڈیوٹی بغیر کسی نوٹس کے ورکرز کی برطرفیاں اور غریب ملازمین سے رشوت طلبی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ شہری محمد یعقوب نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب کو دی گئی اپنی تحریری درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اسے اور اس کے بیٹے کو چالیس ہزار روپے رشوت کے عوض بھرتی کیا گیا تھا، تاہم ایک سال کی بلا تعطل ملازمت کے بعد اب کسی بھی شکایت یا وجہ کے بغیر انہیں نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق کمپنی میں بھرتیوں کے نام پر سنگین بے ضابطگیوں، اقربا پروری اور رشوت ستانی کا بازار گرم ہے، جہاں غریب اور محنت کش طبقے کو بلیک میل کر کے ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔

    متاثرہ ورکرز نے انکشاف کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے سرکاری گاڑیوں اور رکشوں کی مرمت کا خرچہ بھی ورکرز کی جیب سے کروانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور مطالبہ تسلیم نہ کرنے کی صورت میں نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ محمد یعقوب کا کہنا ہے کہ معمولی تنخواہ لینے والا مزدور طبقہ پہلے ہی شدید مہنگائی اور مالی مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں رکشوں کی مرمت کا اضافی مالی بوجھ ڈالنا ظلم کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں اور ملازمت ختم ہونے سے ان کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ متاثرہ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب سے اپیل کی ہے کہ ایل ڈبلیو ایم سی میں ہونے والی غیر قانونی بھرتیوں، مبینہ کرپشن اور ورکرز کی جبری برطرفیوں کے خلاف فوری طور پر شفاف انکوائری کا حکم دیا جائے تاکہ ذمہ داران کا تعین ہو سکے اور غریب محنت کشوں کو انصاف مل سکے۔

  • اوکاڑہ: وزیراعلیٰ پنجاب کے فلیگ شپ پروگرام کا پانچواں مرحلہ، 80 خصوصی افراد میں معاون آلات تقسیم

    اوکاڑہ: وزیراعلیٰ پنجاب کے فلیگ شپ پروگرام کا پانچواں مرحلہ، 80 خصوصی افراد میں معاون آلات تقسیم

    اوکاڑہ (نامہ نگار: ملک ظفر)خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے فلیگ شپ پروگرام کے پانچویں مرحلے کے تحت سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام معاون آلات کی تقسیم کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔

    تقریب میں ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید اور رکن پنجاب اسمبلی میاں محمد منیر نے 80 خصوصی افراد میں مختلف معاون آلات تقسیم کیے۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر محمد اشتیاق خان نے حکومتِ پنجاب کے خصوصی افراد کے لیے جاری عوامی فلاحی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    فلاحی پروگرام کے تحت خصوصی افراد میں الیکٹرک اور مینول وہیل چیئرز، آلہ سماعت، بیساکھیاں اور دیگر ضروری معاون آلات فراہم کیے گئے، جس پر خصوصی افراد اور ان کے اہلِ خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے دلی تشکر کا اظہار کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے شاندار ویژن کے تحت ضلع بھر کے دور دراز علاقوں تک خصوصی افراد کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے سرکاری محکموں کے شانہ بشانہ کردار ادا کرے۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ خصوصی افراد کی دیکھ بھال ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق ان کی سپورٹ کے لیے مزید عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

    اس موقع پر ایم پی اے میاں محمد منیر نے کہا کہ معاون آلات کی فراہمی سے خصوصی افراد کی روزمرہ زندگی میں نمایاں آسانی پیدا ہوگی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ فلاح و بہبود کے منصوبوں کے ذریعے خصوصی افراد کی بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

  • میرپورماتھیلو:ریاست کہاں ہے؟ جروار تھانے پر قبائلی قبضے کے دعوے، دھرنے اور احتجاج جاری

    میرپورماتھیلو:ریاست کہاں ہے؟ جروار تھانے پر قبائلی قبضے کے دعوے، دھرنے اور احتجاج جاری

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار: مشتاق علی لغاری):جروار تھانے پر بالادستی کے دعوؤں نے علاقے کی صورتحال کو تشویشناک حد تک کشیدہ بنا دیا ہے، جہاں بوزدار اور گبول برادری آمنے سامنے آ گئی ہیں اور دونوں جانب سے تھانے پر اپنی اپنی “حکومت” قائم ہونے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ اس غیر معمولی صورتحال نے نہ صرف پولیس کی غیر جانبداری بلکہ ریاستی رٹ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    علاقائی ذرائع کے مطابق، بوزدار برادری کا مؤقف ہے کہ جروار تھانے پر ان کا اثر و رسوخ تسلیم کیا جائے، جبکہ گبول برادری بھی یہی دعویٰ کر رہی ہے کہ تھانے کا کنٹرول ان کے پاس ہونا چاہیے۔ اس کشمکش نے علاقے میں بے چینی کو جنم دے دیا ہے اور عوام میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ آیا تھانے قانون کے ماتحت ہیں یا قبائلی جاگیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں؟ اگر ہر برادری اپنی مرضی کا نظام نافذ کرے گی تو قانون کی حکمرانی کہاں باقی رہے گی؟

    دوسری جانب، گاؤں میر خان گبول کے رہائشیوں، سیاسی و سماجی کارکنوں نے جروار کے مین چوک پر کئی گھنٹوں سے دھرنا دے رکھا ہے۔ مظاہرین کا واضح اور دوٹوک مؤقف ہے کہ جب تک متعلقہ پولیس اہلکار دھرنے کی جگہ پر آ کر عوام سے معافی نہیں مانگتے، اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

    دھرنے کے باعث جروار مین چوک پر ٹریفک مکمل طور پر جام ہو چکی ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں معطل اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ حالات میں مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    علاقے کے باشعور شہریوں، وکلا اور سماجی حلقوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی، ایس ایس پی گھوٹکی اور ضلعی انتظامیہ سے فوری اور سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مداخلت نہ کی گئی تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

    عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ تھانے کو ہر قسم کے قبائلی اور سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر کے قانون کی بالادستی قائم کی جائے، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ریاستی رٹ پر اٹھنے والے سوالات کا عملی جواب دیا جا سکے۔

  • تحصیل بار شاہ کوٹ انتخابات مکمل، محمد اعتصام بلال ملک ایڈووکیٹ بلا مقابلہ ایگزیکٹو ممبر منتخب

    ننکانہ صاحب (نامہ نگار، احسان اللہ ایاز)تحصیل بار شاہ کوٹ کے سالانہ انتخابات کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئے، جن میں محمد اعتصام بلال ملک ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کو بلا مقابلہ ایگزیکٹو ممبر منتخب کر لیا گیا۔ ان کی بلا مقابلہ کامیابی کو وکلاء برادری کے بھرپور اعتماد اور اتحاد کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

    انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد بار کے سینئر وکلاء، عہدیداران اور ممبران نے محمد اعتصام بلال ملک ایڈووکیٹ کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وکلاء کا کہنا تھا کہ محمد اعتصام بلال ملک ایک باصلاحیت، محنتی اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے وکیل ہیں، جو وکلاء برادری کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    مبارکباد دینے والوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نومنتخب ایگزیکٹو ممبر قانون و انصاف کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے وکلاء برادری کے وقار میں مزید اضافہ کریں گے اور تحصیل بار شاہ کوٹ کو ایک فعال اور مضبوط پلیٹ فارم بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔

    محمد اعتصام بلال ملک ایڈووکیٹ کی بلا مقابلہ کامیابی کو تحصیل بار شاہ کوٹ میں اتفاقِ رائے، اتحاد اور مثبت جمہوری روایات کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ننکانہ صاحب: ڈی پی او آفس میں یومِ قائد کی پروقار تقریب، قائداعظم کو خراجِ تحسین

    ننکانہ صاحب: ڈی پی او آفس میں یومِ قائد کی پروقار تقریب، قائداعظم کو خراجِ تحسین

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈی پی او ننکانہ فراز احمد کی ہدایت پر ڈی پی او دفتر میں یومِ قائد کے موقع پر ایک پروقار اور باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ان کی جدوجہد و قربانیوں کو یاد کرنا تھا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن حنا نیک بخت نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بدولت آج ہم ایک آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں اور ان کی قائدانہ صلاحیتیں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یومِ قائد منانے کا مقصد محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ اپنے عظیم قائد کی قربانیوں اور افکار کو یاد رکھنا ہے۔

    تقریب میں ڈی ایس پی لیگل محمد نعیم، حرا ایجوکیشن سسٹم کے طلباء و طالبات، پولیس افسران اور ملازمان نے شرکت کی۔ طلباء و طالبات نے قومی ترانہ، ملی نغمے پیش کیے اور قائداعظم کو شاندار انداز میں سلامی دی۔ شرکاء نے قائداعظم کی زندگی، جدوجہد اور پاکستان کے قیام میں ان کے کردار پر اظہارِ خیال کیا۔

    ایس پی انویسٹی گیشن نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی کی قدر ان مظلوموں سے پوچھی جائے جو آج غزہ اور کشمیر میں ظلم و جبر کا شکار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں بطور قوم ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے قائد کے فرمودات کو مشعلِ راہ بنانا چاہیے۔

    تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جبکہ ایس پی انویسٹی گیشن اور دیگر شرکاء نے مل کر کیک کاٹا۔ بعد ازاں ڈی پی او فراز احمد نے تقریب میں شریک طلباء و طالبات میں تحائف بھی تقسیم کیے۔

  • اوچ شریف:احمد پور شرقیہ میں آوارہ کتوں کا حملہ، نایاب نسل کی 6 بکریاں ہلاک، انتظامیہ پر سوالات

    اوچ شریف:احمد پور شرقیہ میں آوارہ کتوں کا حملہ، نایاب نسل کی 6 بکریاں ہلاک، انتظامیہ پر سوالات

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقوں موضع لاڑ، بستی سیری والا اور ضیا نگر واپڈا کے اطراف آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی یلغار نے ضلعی و بلدیاتی انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رات کی تاریکی میں آوارہ کتوں کے ایک غول نے قیمتی اور نایاب نسل کی بکریوں پر حملہ کرتے ہوئے چھ بکریوں کو ہلاک جبکہ ایک کو شدید زخمی کر دیا۔

    متاثرہ شہری جام سیف اللہ لاڑ کے مطابق ہلاک ہونے والی بکریاں نایاب نسل سے تھیں جن کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے بنتی ہے۔ یہی مویشی اس کے خاندان کا واحد ذریعہ معاش تھے، جو انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث لمحوں میں تباہ ہو گئے۔ متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کے خلاف متعدد بار شکایات کی گئیں مگر کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔

    علاقہ مکینوں کے مطابق موضع لاڑ، بستی سیری والا، ضیا نگر اور گردونواح میں آوارہ کتوں کا مسئلہ طویل عرصے سے موجود ہے۔ رات کے وقت گھروں سے باہر نکلنا خطرناک ہو چکا ہے جبکہ بچے، خواتین اور بزرگ شدید خوف میں مبتلا ہیں۔ اس سے قبل بھی مویشی آوارہ کتوں کا نشانہ بنتے رہے، مگر مسئلے کے مستقل حل کے لیے کوئی عملی اقدام نہ اٹھایا گیا۔

    متاثرہ شہری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے اور آوارہ کتوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر مؤثر کریک ڈاؤن شروع کیا جائے۔

    سماجی حلقوں اور علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے انسانی سانحے کا خدشہ ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ ضلعی و بلدیاتی اداروں پر عائد ہوگی۔