Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: پولیس کا  کریک ڈاؤن، 502 بوتلیں ولائتی شراب برآمد،ملزم گرفتار

    سیالکوٹ: پولیس کا کریک ڈاؤن، 502 بوتلیں ولائتی شراب برآمد،ملزم گرفتار

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض ) پولیس کا کریک ڈاؤن، 502 بوتلیں ولائتی شراب برآمد،ملزم گرفتار

    تفصیل کے مطابق سیالکوٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات کی ایک بڑی چین کو توڑ دیا اور 502 بوتلیں ولائتی شراب برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان پولیس کے مطابق سیالکوٹ میں منشیات فروشوں کے خلاف جاری مہم کے دوران یہ بڑی کامیابی حاصل کی گئی۔

    ترجمان پولیس کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ فیصل شہزاد کی خصوصی ہدایات پر پولیس کی جانب سے منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیزی سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایس ایچ او تھانہ صدر سیالکوٹ انسپکٹر میاں عبدالرزاق اور سب انسپکٹر محمد یاسر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے رنگپور کے رہائشی ملزم مبشر ولد پرویز کو گرفتار کر لیا۔ ملزم کے قبضے سے 502 بوتلیں ولائتی شراب برآمد کی گئیں۔

    پولیس کے مطابق دوران تفتیش ملزم مبشر نے اعتراف کیا کہ وہ ضلع سیالکوٹ کے مختلف علاقوں میں منشیات سپلائی کرتا تھا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ منشیات کی سپلائی چین میں ملوث دیگر افراد تک پہنچا جا سکے۔

    ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ پولیس شہر کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے صرف چھوٹے موٹے نشئیوں کے بجائے اس مکروہ دھندے میں ملوث بڑے نیٹ ورکس اور منشیات کے اصل سرغنہ کو پکڑنے پر توجہ دے رہی ہے۔ شہر سے منشیات کے مکمل خاتمے تک یہ مہم جاری رہے گی۔

  • چولستان: جھگیوں میں آگ لگنے سےماں  چار معصوم بچوں سمیت جھلس کر جاں بحق

    چولستان: جھگیوں میں آگ لگنے سےماں چار معصوم بچوں سمیت جھلس کر جاں بحق

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )بہاولپور میں صحرائے چولستان کے علاقے ٹوبہ قاسم والا میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا ہےجہاں جھگیوں میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں ایک ماں اور اس کے چار معصوم بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔

    پولیس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ خاتون چائے بنانے میں مصروف تھی کہ چولہے سے اٹھنے والی چنگاری جھگی میں جاگری۔ جھگیوں کی تعمیر میں گنے کی فصل کی خشک باقیات استعمال کی گئی تھیں، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے جھونپڑیاں شعلوں کی لپیٹ میں آگئیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں ایک سے چار سال کے درمیان تھیں، جو حادثے کے وقت اپنی ماں کے ساتھ جھگی میں موجود تھے۔ آگ نے انہیں سنبھلنے کا موقع تک نہ دیا اور وہ شدید جھلسنے کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ کسی ممکنہ غفلت یا مجرمانہ غفلت کے پہلو کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔

    چولستان کے صحرائی علاقے میں بسنے والے غریب خاندان انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں بنیادی سہولیات کی کمی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔

  • امیر حمزہ بابا شینواری کی عالمی اور ملکی سیاست پر گہری نظر

    امیر حمزہ بابا شینواری کی عالمی اور ملکی سیاست پر گہری نظر

    امیر حمزہ بابا شینواری کی عالمی اور ملکی سیاست پر گہری نظر(امیر حمزہ بابا شینواری نےتحریکِ پاکستان میں بھی مکمل طور پر حصہ لیا)
    تحریر:نصیب شاہ شنواری
    لنڈی کوتل تحصیل کے مشہور اور ممتاز پشتو شاعر اور ادیب امیر حمزہ بابا شینواری کو "پشتو غزل کے بابا” کا لقب دیا گیا ہے اور لوگ انہیں پشتو زبان کے شاعر اور ادیب کے طور پر جانتے ہیں تو دوسری طرف وہ عالمی اور ملکی سیاست پر بھی گہری سوچ، فکر اور نظر رکھتے تھے۔

    امیر حمزہ بابا کے اردو میں خطوط پر مشتمل کتاب "خطوطِ حمزہ بابا” کا میں نے مطالعہ کیا۔ اس کتاب میں تقریباً 304 خطوط شامل ہیں جو انہوں نے اردو زبان میں اپنے دوست سید انیس شاہ جیلانی کو لکھے تھے۔

    ان خطوط میں سے ایک خط 1972 میں جون مہینے کی 26 تاریخ کو "مجذوب” (یہ نام حمزہ بابا نے انیس شاہ جیلانی کے لیے استعمال کیا) کوبھیجا گیا تھا۔ اس خط میں امیر حمزہ بابا نے اپنے دوست کے لیے کئی اہم باتیں لکھی ہیں خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم موضوع پر بات کی ہے۔

    امیر حمزہ بابا اپنے دوست کو لکھتے ہیں کہ "میں نے تحریکِ پاکستان میں مکمل طور پر حصہ لیا تھا لیکن پاکستان تو اسلام کے نام پر بنا تھا، مگر اس ملک میں وہی انگریزوں کے سپورٹرز اقتدار میں آ گئے۔”

    حمزہ بابا مزید لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ انہیں اس ملک کے کمزور ہونے پر شدید رنج و غم محسوس ہوتا ہے اور اگر پاکستان محفوظ نہ رہا تو افغانستان بھی بھارت کے پنجوں سے نہیں بچ سکے گا۔

    اگر حمزہ بابا کی اس بات پر غور کیا جائے، تو یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ افغانستان کے لیے پاکستان کا وجود انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ دو مسلمان ہمسایہ ممالک ہیں اور ان کے درمیان مضبوط سیاسی اور اقتصادی تعلقات ہونے چاہئیں۔

    حمزہ بابا کے اس خط سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ افغانستان اور پشتونوں سے محبت کرتے تھے اسی طرح وہ پاکستان سے بھی محبت کرتے تھے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے وہ خود کہتے ہیں کہ انہوں نے تحریکِ پاکستان میں مکمل طور پر حصہ لیا تھا۔

    آج جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں 5 مارچ 2025 ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد بند ہے، جس کی وجہ سے دونوں طرف عام عوام اور مسافر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    سرحد کی بندش کے سبب پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت بھی معطل ہے، جس سے دونوں ممالک کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچ رہا ہے۔

    طورخم میں کسٹم ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے میڈیا کو بتایا کہ طورخم سرحد کے ذریعے روزانہ تقریباً 3 ملین ڈالر کی دو طرفہ تجارت ہوتی ہے۔ اس حساب سے بارڈر کی بندش کے باعث پاکستان کو اب تک 36 ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور اگر سرحد مزید دنوں تک بند رہی، تو یہ نقصان مزید بڑھ جائے گا۔

    پاکستانی حکام کے مطابق 21 فروری جمعہ کے دن افغان سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک متنازعہ چیک پوسٹ پر تعمیراتی کام شروع کیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں سرحد کو آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند کر دیا گیا اور آج بارہواں دن بھی طورخم کراسنگ پوائنٹ بند ہے۔

    اگر ہم حمزہ بابا کے پاکستان اور افغانستان کے وجود اور ان کے باہمی تعلقات پر کیے گئے تبصرے پر غور کریں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

    اگر پاکستان مضبوط ہوگا تو یہ افغانستان کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔اسی طرح اگر افغانستان اقتصادی طور پر مستحکم ہوگا تو یہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور ملکی خوشحالی و امن کے لیے بھی بہتر ہوگا۔

    موجودہ وقت میں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ تنازعہ جاری ہے، تو دونوں حکومتوں اور سیکیورٹی حکام کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔

    اگر دونوں ممالک اس تنازعے کو حل نہ کر سکے اور آپس میں فائرنگ جاری رہی، تو خدا نہ کرے، یہ ایک بڑی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ اور اگر جنگ چھڑ گئی تو سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوگا کیونکہ افغانستان گذشتہ چار دہائیوں سے جنگوں کا شکار رہا ہے، جس نے اس کے سیاسی، اقتصادی اور عام شہریوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

  • چنیوٹ:اتحادعلمائےدیوبند کی بنوں دھماکے کی مذمت، دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

    چنیوٹ:اتحادعلمائےدیوبند کی بنوں دھماکے کی مذمت، دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

    چنیوٹ، باغی ٹی وی (نامہ نگار) اتحاد علمائے دیوبندکے قائدین نے بنوں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے معصوم اور بے گناہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اتحاد کے امیر مولانا قاری عبد الحمید حامد، جنرل سیکرٹری مولانا سیف اللّٰہ خالد، ایم پی اے مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا توصیف احمد، مولانا محمد مغیرہ، مولانا فیض اللّٰہ خان، مولانا محمد ہارون، مولانا فیض احمد سلیمی، مولانا ملک طاہر حسین، پیر عابد علی نقشبندی، مولانا محمد عمیر صفدر، مفتی لعل جوہر، مولانا ضیاء الحق چنیوٹی، حافظ محمد رضوان، قاری محمد کامران حیدر و دیگر نے کہا کہ دہشت گردوں نے ایک بار پھر وحشیانہ کارروائی کے ذریعے کئی گھروں کے چراغ گل کر دیے۔

    انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں پر حملے کرنے والے نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کے بھی دشمن ہیں۔ ملک میں آئے دن دہشت گردی کے بڑھتے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی جا چکی ہے۔ ریاستی اداروں کو محض بیانات دینے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

    قائدین نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کے حقیقی سدباب کے لیے ٹھوس حکمت عملی اپنائی جائے اور مجرموں سمیت ان کے سہولت کاروں کو فوری کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللّٰہ تعالی شہداء کی قربانیوں کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، زخمیوں کو صحت کاملہ عطا کرے اور لواحقین کو صبر جمیل نصیب فرمائے۔

  • گھوٹکی : ڈاکوؤں کے خلاف پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن جاری، متعدد ٹھکانے مسمار

    گھوٹکی : ڈاکوؤں کے خلاف پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن جاری، متعدد ٹھکانے مسمار

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ڈی آئی جی سکھر کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کے احکامات پر ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو اور رینجرز کے ونگ کمانڈر کی نگرانی میں شر گینگز اور ماچھی گینگز کے اغواء کاروں/ڈاکوؤں کے خلاف پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن جاری ہے۔

    آج رمضان المبارک کے مہینے میں بھی سب ڈویژن رونتی کے تھانہ شہید دین محمد لغاری کی حدود میں شر گینگ، یاسین ماچھی گینگ، کمال ماچھی گینگ اور دیگر گینگز کے خلاف پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن جاری ہے۔ پولیس اور رینجرز اور اغواء کاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    پولیس کو ڈاکوؤں/اغواء کاروں کے ٹھکانوں سے ہتھیار اور بھاری تعداد میں گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس اور رینجرز کی جانب سے شر گینگز اور ماچھی گینگ کا گھیرا تنگ کر کے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے 20 سے زائد شر گینگ، ماچھی گینگ بشمول یاسین ماچھی، کمال ماچھی سمیت دیگر کے ٹھکانوں کو مسمار کر دیا گیا۔

    پولیس اور رینجرز کی جانب سے کچہ ایریا میں ڈاکوؤں/اغواء کاروں کے ٹھکانوں کا گھیرا تنگ کر کے سخت سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ یہ آپریشن علاقے میں ضلع کشمور سمیت دیگر اضلاع کے مغویان کی بازیابی تک جاری رہے گا۔

  • حافظ آباد : رمضان المبارک میں مہنگائی کا راج، سرکاری نرخ نامے محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گئے

    حافظ آباد : رمضان المبارک میں مہنگائی کا راج، سرکاری نرخ نامے محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گئے

    حافظ آباد (خبر نگارشمائلہ) رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی حافظ آباد میں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ ضلع بھر میں سرکاری نرخ نامے پر گوشت، سبزی اور پھل دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    دنیا بھر میں مذہبی تہواروں کے موقع پر اشیاء کی قیمتوں میں کمی آتی ہے، لیکن پاکستان میں صورتحال بالکل برعکس ہے۔ رمضان المبارک سے قبل ہی اشیاء کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں اور رمضان کے پہلے 20 دنوں میں یہ آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ خاص طور پر پھل، سبزی، گوشت، دودھ، دہی، انڈے اور کھجور جیسی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

    ضلع میں پرائس مجسٹریٹس تو موجود ہیں، لیکن گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی رٹ صرف پریس ریلیز اور فوٹو سیشن تک محدود رہ گئی ہے۔ دکانداروں کو جرمانے کرتے وقت فوٹو شوٹ تو کر لیا جاتا ہے، لیکن بعد میں انہیں کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے۔

    ایسا کوئی میکنزم نہیں ہے جس کے تحت دکانداروں کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔ دکاندار ہول سیلرز کو اور ہول سیلرز اوپن مارکیٹ کے ریٹس کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ جس کی وجہ سے شہریوں کو سرکاری نرخ نامے سے زائد قیمتوں پر اشیاء خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

    گائے اور بھینس کے گوشت کا سرکاری نرخ 800 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، لیکن مارکیٹ میں یہ 1000 سے 1100 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ قصاب صفائی کے نام پر 200 گرام تک گوشت کم تولتے ہیں۔ بکرے کے گوشت کا سرکاری نرخ 1600 روپے فی کلو ہے، لیکن یہ 2000 سے 2200 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔

    انڈے 220 روپے درجن سے بڑھ کر 278 روپے درجن ہو گئے ہیں، جبکہ مارکیٹ میں یہ 300 روپے درجن تک فروخت ہو رہے ہیں۔ مرغی کے گوشت کا سرکاری نرخ 593 روپے فی کلو ہے، لیکن مارکیٹ میں یہ 750 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی نرخ نامے جاری کرنے کی بجائے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

  • حافظ آباد : ریل بازار سیل، تاجروں کا احتجاج، رمضان میں کاروبار ٹھپ

    حافظ آباد : ریل بازار سیل، تاجروں کا احتجاج، رمضان میں کاروبار ٹھپ

    حافظ آباد ،باغی ٹی وی (خبرنگارشمائلہ) ریل بازار سیل، تاجروں کا احتجاج، رمضان میں کاروبار ٹھپ

    حافظ آباد میں میونسپل کمیٹی نے ریل بازار کو سیل کر دیا ہے، جس سے تاجروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی نے انہیں وارننگ دیے بغیر دکانوں کے آگے چھپر نہ لگانے اور شٹر رنگ نہ کرنے پر ان کی دکانیں سیل کر دی ہیں۔

    ریل بازار کے دکانداروں نے اس اقدام کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ان کے چھپر اتار لیے گئے اور اب دکانیں سیل کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کا کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا ہے اور رمضان المبارک میں ان کے بچوں کا رزق خطرے میں پڑ گیا ہے۔

    ریل بازار اور انجمن تاجران نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ میونسپل کمیٹی کی اس غیر قانونی کارروائی کا نوٹس لیں اور انہیں فوری طور پر ریلیف فراہم کریں۔ تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں چھپر بنانے کے لیے مناسب وقت دیا جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔

    اس حوالے سے میونسپل کمیٹی کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کا مؤقف معلوم نہیں ہو سکا۔

    اس واقعے پر شہریوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں تاجروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے اور تاجروں کو انصاف فراہم کرے۔

  • اوچ شریف: زمین کے تنازعہ نے نوجوان کی جان لے لی

    اوچ شریف: زمین کے تنازعہ نے نوجوان کی جان لے لی

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے مامون آباد میں زمین کے تنازع نے خونی رنگ اختیار کر لیا۔ سگے بھائیوں کے درمیان جائیداد کی تقسیم پر ہونے والے جھگڑے میں فائرنگ سے 25 سالہ نوجوان محمد اظہر جان کی بازی ہار گیا۔

    تفصیلات کے مطابق منظور عالم، ایاز عالم اور محبوب عالم پر الزام ہے کہ انہوں نے بیرونی افراد کی مدد سے فائرنگ کروا کر اپنے بھتیجے محمد اظہر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں مقتول شدید زخمی ہوا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مقتول کے اہل خانہ غم اور غصے کی حالت میں ہیں۔ پولیس نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے اور مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • حافظ آباد:پنڈی بھٹیاں میں رمضان نگران پیکیج میں 500 روپے کی غیر قانونی کٹوتی کا انکشاف

    حافظ آباد:پنڈی بھٹیاں میں رمضان نگران پیکیج میں 500 روپے کی غیر قانونی کٹوتی کا انکشاف

    حافظ آباد،باغی ٹی وی (خبرنگارشمائلہ) پنڈی بھٹیاں میں رمضان نگران پیکیج میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے مستحق افراد کو راشن کی بجائے 10 ہزار روپے نقد ادا کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بعض عناصر اس سرکاری امداد میں غیر قانونی کٹوتی کر رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اردو بازار سٹی، پنڈی بھٹیاں میں واقع کھوکھر کمیونیکیشن ایچ بی ایل کنیکٹ کے آپریٹرز جاوید حسین کھوکھر اور محمد قاسم علی کھوکھر اس پیکیج میں بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ یہ افراد ہر مستحق فرد کے 10 ہزار روپے میں سے 500 روپے ناجائز طور پر کاٹ رہے ہیں، جو کہ ایک کھلی دھاندلی ہے۔

    مقامی افراد نے اس سنگین معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستحقین کو ان کا پورا حق مل سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو رمضان نگران پیکیج کے اصل مقصد کو شدید نقصان پہنچے گا اور غریب عوام مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔

    ویڈیو دیکھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں
    https://x.com/BaaghiTV/status/1897128471614382273

    اہل علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، متعلقہ بینکنگ حکام اور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ کھوکھر کمیونیکیشن ایچ بی ایل کنیکٹ کے ان آپریٹرز کے خلاف تحقیقات کرکے غیر قانونی کٹوتی کو روکا جائے اور عوام کو پورا حق دلایا جائے۔

  • ننکانہ صاحب میں ڈاکو راج، چاول فیکٹری میں کروڑوں کی ڈکیتی، پولیس بے خبر

    ننکانہ صاحب میں ڈاکو راج، چاول فیکٹری میں کروڑوں کی ڈکیتی، پولیس بے خبر

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی رپورٹ) ڈاکوؤں کی دیدہ دلیری عروج پر پہنچ گئی، قصبہ بچیکی میں مسلح ملزمان نے چاول کی فیکٹری پر دھاوا بول کر کروڑوں روپے مالیت کا سامان لوٹ لیا۔ واردات کے دوران 22 ڈاکوؤں نے سیکیورٹی عملے کو یرغمال بنائے رکھا اور سات گھنٹے تک دندناتے رہے، مگر پولیس کو خبر تک نہ ہوئی۔

    رات کی تاریکی میں چاول فیکٹری پر 22 مسلح ڈاکوؤں نے دھاوا بول دیا۔ سیکیورٹی گارڈز نے مزاحمت کی تو ملزمان نے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور زدوکوب کرکے بے بس کردیا۔ ڈاکو باآسانی فیکٹری میں داخل ہوئے اور وہاں موجود نقدی، قیمتی سامان اور مال لوٹ کر فرار ہوگئے۔

    ملزمان فیکٹری سے 22 تولے کے طلائی زیورات، 35 لاکھ روپے نقدی، لاکھوں روپے مالیت کی چاول کی بوریاں اور 2 ٹرانسفارمر لے اڑے۔ واردات کے بعد ملزمان فرار ہوگئے جبکہ پولیس کو کوئی خبر نہ ہوئی۔

    واردات کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا، تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔ متاثرہ فیکٹری کے مالک نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کرکے لوٹی گئی رقم اور سامان واپس دلایا جائے۔

    علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، شہریوں نے بڑھتی ہوئی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی ناکامی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی طرح بے بس رہے تو کاروباری طبقہ سخت نقصان اٹھائے گا اور علاقے میں جرائم کا گراف مزید بڑھ جائے گا۔ شہریوں نے حکومت سے فوری کارروائی اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کا مطالبہ کیا ہے۔