Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر

    عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر

    عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر
    تحریر:ظفر اقبال ظفر
    ان کا اصل نام چراغ دین ہے۔ آپ برصغیر کے پنجابی حلقوں کے مقبول ترین شاعر تھے۔ ان کی شاعری عوام کے دلوں کی دھڑکنوں کا حصہ ہے۔ وہ اپنی جرأت اظہار اور بے باک صلاحیتوں کی بدولت پنجابی ادبی تاریخ میں صفِ اول کے شاعر تھے۔ انہوں نے جہاں بہت سی ہنگامی صورتحال کی عکاسی کرنے والی نظمیں لکھی ہیں وہاں پائیدار اور لافانی نظمیں بھی تخلیق کی ہیں۔ ہیر رانجھے کی داستان کو اپنے مخصوص انداز میں لکھ کر پنجابی شاعری کے ذخیرے میں بیش قیمت اضافہ کیا۔

    آپ اندرون لاہور چوک مستی میں پیدا ہوئے، تیرہ سال کی عمر میں آپ کا محنتی غریب درزی گھرانہ چوک مستی سے باغبان پورہ منتقل ہو گیا۔ آپ کے والد میراں بخش لوہاری دروازے کے باہر ایک دوکان پر درزی کا کام کرتے تھے ۔ استاد دامن کا ایک بھائی اور ایک بہن تھی جو آپ سے عمر میں بڑے تھے ۔ استاد دامن کا رنگ گورا، گرج دار آواز، سر کے بال استرے سے صاف کروا کے رکھتے ، دوتہی کرتہ نیچے سلوکہ کندھے پہ چادر، سر پر پگڑی نما پٹکا تن زیب رکھتے تھے ۔

    بچپن سے ہی پڑھائی کے شوقین ساندھادیو سماج سکول لاہور سے میٹرک کر کے دیال سنگھ کالج میں داخلہ لیا مگر چھ ماہ بعد ہی والد کی بیماری اور گھریلوحالات کے پیش نظرتعلیم جاری نہ رکھ سکے، قرآن پاک حفظ کیا ، والد کی خواہش و کوشش تھی کہ ان کا بیٹا ان کی زندگی میںہی سلائی کا سارا ہنر سیکھ کر روزی روٹی کمانے کے قابل ہو جائے ، والد کی تکمیل خواہش اور ضروریات زندگی کے وسائل بڑھانے کے لیے آپ نے استاد وہاب نامی ٹیلر کی شاگردی میں کوٹ پتلون ، اچکن ، شلوار، قیمض بنانے میں کمال مہارت حاصل کی، اُس وقت شلوار قمیض کی سلائی دس آنے ہوتی تھی مگر استاد دامن دس روپے لیتے تھے کیونکہ وہ نلکی کے دھاگے کی بجائے کپڑے کے اندر سے دھاگہ نکال کر سوٹ سلائی کرتے تھے جس کی وجہ سے سلائی نظر نہیں آتی تھی ۔ آزادی کی بڑی بڑی تحریکوں کے راہنما لیڈرآپ سے اپنے کپڑے سلواتے تھے۔

    آپ نے اپنے دور میں تجویز خطی کے بڑے شاعر باؤ ہمدم کی شاگردی میں اپنے خیالوں کو شاعری میں مزید نکھارا، مگر استاد دامن پیدائشی شاعر تھے انہوں نے دس برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کر دئیے ۔آپ کے والد میراں بخش خود صوفیانہ شاعری کے دیوانے تھے جنہیں ہیر وارث شاہ اور فضل شاہ کی سوہنی زبانی یاد تھی جبکہ استاد دامن بھی ہیر وارث شاہ کی بحر میں لکھتے۔ پہلا مشاعرہ پندرہ سالہ عمر میں باغبان پورہ لاہور میں پڑھا جس کی صدارت استاد دامن سے اپنے کپڑے سلوانے والے کانگرس رہنما میاں افتخار الدین نے کی ۔اس موقع پر سردار گیانی گرمکھ سنگھ مسافر نے صدر مشاعرہ سے کہا کہ استاد دامن نے بہت کمال شعر پڑھے ہیں ۔

    انہیں سو روپیہ انعام دیا جائے پہلے مشاعرہ میںہی نامور استاد شاعروں میں اپنا آپ منوانا اور انعام پانا استاد دامن کے فن شاعری کا قد بتاتا ہے ۔ آپ نے عطا اللہ شاہ بخاری ؒ جیسے لوگوں کی موجودگی میں سیاسی ،سماجی اور مذہبی جلسوں میں اپنے کلام پڑھے اور عوام کے دلوں کی آواز بن کر اُبھرتے چلے گئے ۔ پنجابی کے علاوہ کسی اور زبان میں شعر نہیں کہے جبکہ وہ فارسی، عربی، روسی، اردو، ہندی، انگلش اور سنسکرت زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے۔ استاد دامن نے شاعری کی فنی خوبیوں پر قدرت رکھنے کی بدولت اہل علم و فن سے استاد کا خطاب حاصل کیا ۔ استاد دامن غریبوں، مظلوموں ،مزدروں، کسانوں جیسے پسے ہوئے طبقوںکے لیے آواز اُٹھانے اور استحصالی طبقوں کی مزحمت کرنے والے بااثر شاعرتھے ۔

    میرے ہنجواں دا پانی پی پی کے

    ہری بھری اے بنجر زمین ہو جائے

    ایدے منہ تے سرکھی چاہی دی اے

    میرے لہو توں پاوئیں رنگین ہو جائے

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہ گوئی تھی، وہ موقعوں کی مناسبت سے چند لمحوں میں اشعار کی مالا پرو دیتے تھے، آزادی کے کچھ عرصے بعد انہوں نے دہلی میں منعقد مشاعرے میں شرکت کر کے یہ نظم پڑھی۔

    ایناں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا

    ہوئے تسی وی او ہوئے ایسی وی آں

    کج امید اے زندگی مل جائے گی

    موئے تسی وی او موئے اسی وی آں

    جیوندی جان ای موت دے منہ اندر

    ڈھوئے تسی وی او ڈھوئے اسی وی آں

    جاگن والیا رج کے لٹیا اے

    سوئے تسی وی او سوئے اسی وی آں

    لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے

    روئے تسی وی او روئے اسی وی آں

    انسانی جان پر آزادی کے نام سے ٹوٹنے والی قیامت کے شکار حاضرین مشاعرہ بے اختیار رونے لگے، مشاعرے میںموجودبھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھی آبدیدہ ہو گئے ، انہوں نے استاد دامن کو آزادی کا شاعر کے خطاب سے نوازتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقل طور پر بھارت میں قیام پذیر ہو جائیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ میرا وطن پاکستان ہے ، میں لاہور میں ہی رہو ں گا، بیشک جیل میں ہی کیوں نہ رہوں، 1962میں بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو لاہور آئے۔

    ائرپورٹ پر اترے تو انہوں نے پاکستانی گورنر اختر حسین سے کہا کہ میں استاد دامن سے ملنا چاہتا ہوں مگر ادب کی دولت سے ناآشنا گورنر اختر حسین نے اپنے لوگوں سے پوچھا کہ کون ہے استاد دامن؟اس درویش سے ناواقف حکمرانوں کی موجودگی کے باوجود اس محب وطن شاعر نے ساری زندگی غربت و افلاس میں گزارنے کے باوجود پاکستان کے ہی گیت گائے، اس پاک دھرتی کو نفرتوں بے ایمانیوں عیاریوں سے پاک کرنے کے لیے عوام میںاپنی شاعری کے زریعے انسانی حقوق کی صدائیں بلند کیں اور امن و محبت کے پھول نچھاور کرتے رہے اور ساتھ ساتھ اُن برائیوں کی بھی مزاحمت کرتے رہے جو عوامی مفاد کے نقصان میں تھیں، استاد دامن نے حکمرانوں کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بھرپور تنقید کے ساتھ عوامی شعور کو بیدا ر کیا، عوامی حقوق کے کھوکھلے نعروں اور ملکی زوال پہ لکھتے ہیں ۔

    کھائی جاؤ کھائی جاؤ بھیت کنھے کھولنے

    وچوں وچ کھائی جاؤ اُتوں رولا پائی جاؤ

    انا مارے انی نوں کسن وجے تھمی نوں

    جنی تواتھوں انی پیندی اُنی انی پائی جاؤ

    کھائی جاؤ بھئی کھائی جاؤ بھیت کنھے کھولنا

    لڑکی والوں پر رسم و رواج اور بارات کے کھانے کا بوجھ ڈالنے کی مخالفت رکھنے والے استاد دامن نے1949میں ایک قطرین نامی لڑکی سے سادگی و پوشیدگی میںشادی کی جس سے ایک بیٹا بھی تھا جو پیدائش کے بعد مر گیا اور بیوی کے پیٹ میں رسولی تھی جس کا علاج کروایا مگر وہ بچ نہ سکی۔ استاد دامن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ کوئی بھی انسان تنہائی کی زندگی نہیں گزارنا چاہتا مگر حالات و واقعات اسے اکیلے پن پر مجبور کر دیتے ہیں، میری پہلی شادی قدرت کو منظور نہ تھی اور دوسری شادی میرے نزدیک سودے بازی ہے۔ 1977کے فسادات میں ان کی دُکان کو آگ لگا دی گئی جس کے سبب مشکل مالی بحران کا شکار ہو کر باغبان پورہ سے بادشاہی مسجد کے قریب ٹیکسالی گیٹ میں واقع اُس حجرے میں منتقل ہو گئے جس میں اکبر بادشاہ کے زمانے میں حضرت شاہ حسین ؒبھی مقیم رہے، پھر تادم مرگ یہی حجرہ استاد دامن کا مسکن رہا ۔

    دامن دی بیٹھک نامی اس حجرے میںہند و پاک کے نامور ادیب ، گلوکار، اداکار اور سیاسی وسماجی احباب شاعر فیض احمد فیض، صوفی تبسم، حبیب جالب، امجد اسلام امجد، منو بھائی، ملکہ ترنم نور جہاں، ادکار محمد علی اور فلمسٹار علاؤ الدین جیسی عام و خاص قد آورشخصیات سیاسی ادبی فکری گفتگو کے لیے آیا کرتیں جن کے لیے استاد دامن مختلف ذائقہ دار خوراکیں اپنے ہاتھوں سے بنا کر پیش کیا کرتے، ٹیکسالی گیٹ کے اس حجرے میں استاد دامن 1950سے لیکر 1984تک رہائش پذیر رہے، یہیں سے ہی استاد دامن نے عوام کے حالات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر حکومتی بیماریوں کی نشاندہی کی، استاد دامن کے سارے اشعار اپنی تاثیر کی وجہ سے ضرب المثل کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔

    استاد دامن نے زندگی اور معاشرے کا مطالعہ کھلی آنکھوں سے کیا، ان کے تجربات کی سلطنت انتہائی وسیع تھی، وہ کمال خوش اصلوبی سے عمومی سطح کے تجربوں کو بیان کرتے، دانائی کے موتی بکھیرتے چلے جاتے، ایک سچا شاعر ادیب ہر دور میں اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتا ہوا انجام کے خطرے سے بے خوف رہتا ہے ۔ استاد دامن کے بقول بڑے لکھاری کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کی غلامی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے ۔ استاد دامن کے شعور میں جوں جوں پختگی آتی گئی اُن کا ذہن دنیا سماج کائنات کے مسائل پر سفر کرتا گیا، وہ پسے ہوئے غریبوں پہ گزرنے والے حالات یوں بیان کرتے ہیں کہ

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ساڈے ہتھاں دیاں ریکھاں

    پیراں نال میٹن والیو

    او دو دو ہتھی

    دولتاں نوں اج سمیٹن والیو

    او لٹے پٹے ہویاں دی

    صف نوں سمیٹن والیو

    کر لووکوٹھیاں وچ چاننے

    کھو کے غریباں دا نور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    استاد دامن نے جرمن کمپنی جان ولیم ٹیلر سے سلائی کٹائی کا ڈپلومہ حاصل کر کے باغبان پورہ لاہور میں دامن ٹیلرنگ ہاؤس نامی اپنی دوکان کھولی، یہ درزی خانہ استاد دامن کی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی تھا مگر روحانی خوشی شاعری سے ہی حاصل ہوتی اور دیکھتے ہی دیکھتے استاد دامن کا درزی خانہ شاعری کا شوق رکھنے والوں کے لیے ایک درس گاہ کا روپ دھار گیا۔

    استاد دامن کی قلمی شخصیت پرفیض احمد فیض کہتے ہیں کہ میں پنجابی شاعری اس لیے نہیں کرتا کہ پنجابی میں شاہ حسین ؒ ، وارث شاہؒ اور بلھے شاہؒ کے بعد استاد دامن جیسے شاعر موجود ہیں اس کے علاوہ فیض صاحب نے استاد دامن کو پنجابی شاعری کا حبیب جالب بھی کہا۔ قیام پاکستان کے وقت جب شرپسندوں نے استاد دامن کی دُکان لائبریری اور کتابوں کو آگ لگا دی تھی جس میں ان کی ذاتی تحریریں اور ہیر کا مسودہ بھی شامل تھا جل کر راکھ ہو گئے تو انہوں نے اپنی قلمی کاوشیں کاغذ کے ٹکڑوں پہ لکھنے کی بجائے عوام کو سونپنی شروع کر دیں

    اسٹیجاں تے ہوئیے سکندر ہوئی دا اے

    اسٹیجوں اتر کے قلندر ہوئی دا اے

    الجھے جے دامن حکومت کسے نال

    بس اینا ای ہوندا اندر ہوئی دا اے

    ایوبی بھٹو اور ضیا دور میں قید کاٹنے والے استاد دامن نے بھٹو دور میں بھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقیدی نظمیں لکھیں جب ایک طرف بھارت سے سو سال جنگ کرنے کی بات کرنے والے بھٹو صاحب اندرا گاندھی سے ملنے شملہ گئے تو اس پر استاد دامن نے بھٹو صاحب کو مخاطب کر کے یہ نظم لکھی

    ایہہ کیہ کری جانا ایں ایہہ کہ کری جانا ایں

    کدی چین جانا ایں کدی روس جانا ایں

    کدی شملے جانا ایں کدی مری جانا ایں

    جتھے جانا ایں بن کے جلوس جانا ایں

    دھسا دھس جانا دھسا دھوس جانا ایں

    لائی کھیس جانا اے کھچی دری جانا ایں

    ایہہ کی کری جانا ایں ایہہ کی کری جانا ایں

    یہ نظم جب بہت مشہور ہو گئی تو استاد دامن کو جیل میں ڈال دیا گیا، فیض صاحب کو یقین ہی نہ آئے کہ کوئی شخص استاد دامن کو جیل میں ڈال سکتا ہے ، استاد دامن پر جھوٹا الزام لگا کر مقدمہ بنایا گیا کہ ان کے پاس سے ریوالور بم برآمد ہوئے ہیں، جب مجسٹریٹ نے ان کو یہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ میرے حجرے کا تو دروازہ چھوٹا تھا ورنہ وہاں سے تو ٹینک نکلنے چاہیئں تھے جس پر استاد دامن نے یہ نظم لکھی کہ

    چوکی تھانے حوالات کچہریاں نیں

    کتھے کتھے جا کے میرے کم نکلے

    نکلے کوئی میدان وچ نکل سکدا اے

    سینہ ٹھوک کے تے جم جم نکلے

    نکلے پر کوئی مینوں دبا سکدا اے

    پاویں کوئی لے کے دم خم نکلے

    تے دامن شاعر دے قبضے وچ ویکھیا جے

    دو ۔ ریوالور تے دستی بم نکلے

    استاد دامن کی مشہور زمانہ کتاب دامن دے موتی ان کی باکمال شاعری کا لطف اندوز مجموعہ ہے جو اپنے پڑھنے والوں کو ان کے دور کے حالات و واقعات سے ملوانے کا سچا آئینہ ہے ۔ استاد دامن فیض اور جالب کے چاہنے والوں میں سے تھے۔

    80 کی دہائی میں جب ان کے منہ بولے بیٹے فلمسٹار علاؤدین کا انتقال ہوا تو استاد دامن کی جیسے اپنی روح پرواز کر گئی ہو۔ کبھی بستر کبھی اسپتال کبھی گھر، کمزور پڑتی صحت کے ان ایام میںکچھ ہی عرصے بعد فیض احمد فیض صاحب بھی خالق حقیقی سے جا ملے، استاد دامن چاہنے والوں کے روکنے کے باوجود اپنے قلمی یار کے جنازے میں شریک ہوئے، جہاں لوگوں نے پہلی بار استاد دامن کو دھاڑیں مار کر روتے ہوئے دیکھا، ایسے معلوم ہوتا تھاگویا تقسیم ہند سے لیکر آج تک ٹوٹنے والی ساری قیامتوں کی اذیت فیض صاحب کے رخصت ہونے کے بعد ہی ان تک آئی ہے، فیض صاحب کا انتقال 20 نومبر 1984کو ہوا اور اُسی شام استاد دامن کی ہمت بھی جواب دے گئی، ایسے ٹوٹے کہ صرف تیرہ دن بعد ہی بروز سوموار3 دسمبر 1984کو فیض صاحب کے پیچھے ان کی رُوح بھی آسمانی سفر پہ روانہ ہو گئی۔ استاد دامن کی وصیت کے مطابق قبرستان مادھو لال حسینؒ مین گیٹ لاہور میں شاہ حسین ؒ کے مزار کے سائے میں دفن کیا گیا۔

    ماری سرسری نظر جہان اندر

    تے زندگی ورق اُتھلیا میں

    دامن ملیا نہ کوئی رفیق مینوں

    ماری کفن دی بُکل تے چلیا میں

  • منڈی بہاؤالدین: عثمان علی گجر کی عمرہ ادائیگی پر مبارکباد، دوستوں اور اہل خانہ کی نیک تمنائیں

    منڈی بہاؤالدین: عثمان علی گجر کی عمرہ ادائیگی پر مبارکباد، دوستوں اور اہل خانہ کی نیک تمنائیں

    منڈی بہاؤالدین ،باغی ٹی وی( نامہ نگار افنان طالب) "جسے چاہا در پہ بلا لیا، جسے چاہا اپنا بنا لیا، یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔”

    اللہ تعالیٰ کے خصوصی کرم اور فضل سے افنان چاندی کے قریبی دوست عثمان علی گجر نے عمرہ کی سعادت حاصل کرلی۔ یہ ایک بابرکت سفر ہے جو صرف خوش نصیبوں کے حصے میں آتا ہے۔

    عمرہ کی سعادت حاصل کرنا کسی بھی مسلمان کے لیے روحانی سکون اور اللہ کے قرب کا ذریعہ ہوتا ہے۔ دوست احباب اور اہل خانہ نے عثمان علی گجر کو اس عظیم سعادت پر دلی مبارکباد دی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کا یہ سفر قبول فرمائے، انہیں مزید خوشیوں اور ترقیوں سے نوازے، اور دین و دنیا کی کامیابیاں عطا کرے۔

    ہم دعا گو ہیں کہ رب ذوالجلال آپ پر اپنا خصوصی کرم فرمائے، زندگی میں برکتیں اور آسانیاں پیدا کرے اور ہمیشہ اپنی رحمتوں کا سایہ قائم رکھے۔ (آمین)

  • اوکاڑہ یونیورسٹی میں بین الاقوامی کانفرنس، تعلیمی اصلاحات اور تحقیق پر تبادلہ خیال

    اوکاڑہ یونیورسٹی میں بین الاقوامی کانفرنس، تعلیمی اصلاحات اور تحقیق پر تبادلہ خیال

    اوکاڑہ،باغی ٹی وی (نامہ نگارملک ظفر) یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں بین الاقوامی کانفرنس، تعلیمی اصلاحات اور تحقیق پر تبادلہ خیال

    اوکاڑہ یونیورسٹی کے شعبہ ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ اسیسمنٹ کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے اسکالرز، محققین اور مقررین نے بھرپور شرکت کی۔

    کانفرنس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے کی، جبکہ چیف آرگنائزر شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر طاہر خان فاروقی تھے۔ مختلف ممالک سے آئے ماہرین نے تعلیمی پالیسیوں، نصاب میں اصلاحات اور جدید تعلیمی رجحانات پر تبادلہ خیال کیا۔

    افتتاحی خطاب میں پروفیسر سجاد مبین نے تعلیمی نظام میں مساوی مواقع، نصاب کی بہتری اور اساتذہ کی تربیت پر زور دیا۔ پروفیسر منور سلطانہ نے تعلیمی انصاف اور اجتماعی فیصلہ سازی کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر زینن بنت مصطفیٰ نے جنوبی ایشیا میں تعلیمی تحقیق کے رجحانات پر بات کی۔

    کانفرنس کے اختتام پر طلبہ اور محققین کو تحقیق کے فروغ اور بین الاقوامی تعلیمی اشتراک پر زور دیا گیا۔ تقریب کے دوران شرکاء میں شیلڈز اور اسناد بھی تقسیم کی گئیں، جبکہ باہمی روابط بڑھانے کے لیے قوالی نائٹ کا اہتمام کیا گیا۔

  • حافظ آباد: کسانوں کا احتجاج، گندم کی سرکاری خریداری اور نرخ 4 ہزار مقرر کرنے کا مطالبہ

    حافظ آباد: کسانوں کا احتجاج، گندم کی سرکاری خریداری اور نرخ 4 ہزار مقرر کرنے کا مطالبہ

    حافظ آباد،باغی ٹی وی(خبرنگارشمائلہ) کسانوں کا حکومت کے خلاف احتجاج، گندم کی خریداری اور قیمت میں اضافے کا مطالبہ

    حافظ آباد میں کسان بورڈ کے زیر اہتمام ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں ضلع بھر سے کسانوں نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت نائب صدر کسان بورڈ امان اللہ چٹھہ، تحصیل پنڈی بھٹیاں کے چیئرمین شاہ نواز ہنجرا اور صدر کسان بورڈ حافظ آباد ملک شوکت علی پھلروان نے کی۔

    کسانوں نے حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر گندم کی خود خریداری کا اعلان کرے اور اس کی کم از کم قیمت 4 ہزار روپے فی من مقرر کی جائے۔

    کسان رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ ملک بھر میں پھیلا دیا جائے گا اور شہروں میں زرعی مصنوعات کی سپلائی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

  • اوکاڑہ: حضرت کرمانوالہ سرکار کے عرس کی تقریبات، سخت سیکیورٹی انتظامات

    اوکاڑہ: حضرت کرمانوالہ سرکار کے عرس کی تقریبات، سخت سیکیورٹی انتظامات

    اوکاڑہ،باغی ٹی وی (نامہ نگارملک ظفر) حضرت کرمانوالہ سرکار کے سالانہ عرس کی تقریبات کا آغاز، فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    اوکاڑہ میں حضرت اسماعیل شاہ بخاری المعروف کرمانوالہ سرکار کے 58 ویں سالانہ عرس مبارک کی تین روزہ تقریبات کا آغاز ہوگیا۔ زائرین کی بڑی تعداد نہ صرف ملک بھر سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی شرکت کے لیے پہنچ رہی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں، جن میں 600 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر راشد ہدایت نے دربار کرمانوالہ شریف کا دورہ کر کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور کنٹرول روم کا معائنہ بھی کیا۔

    ڈی پی او نے ہدایات جاری کیں کہ زائرین کی مکمل چیکنگ تین مقامات پر یقینی بنائی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: پولیس کی کارروائیاں، منشیات اور اسلحہ برآمد، متعدد گرفتار

    سیالکوٹ: پولیس کی کارروائیاں، منشیات اور اسلحہ برآمد، متعدد گرفتار

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہدریاض) مختلف علاقوں میں پولیس کارروائیاں، منشیات اور اسلحہ برآمد، متعدد گرفتار

    سیالکوٹ پولیس نے مختلف تھانوں کی حدود میں کارروائیاں کرتے ہوئے منشیات، اسلحہ اور شراب برآمد کر کے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    تھانہ حاجی پورہ کے علاقے میں دوران گشت عامر سے رائفل اور دو گولیاں برآمد ہوئیں، جبکہ تھانہ نیکاپورہ میں معظم سے 1 کلو 360 گرام چرس پکڑی گئی۔ تھانہ مراد پور کی حدود میں شہباز سے 2 کلو 260 گرام چرس برآمد کی گئی۔

    تھانہ اگوکی کے علاقے میں یاسر کے قبضے سے 10 لیٹر شراب، جبکہ تھانہ موترہ میں شکیل، سفیان اور اسرار سے 11 لیٹر شراب برآمد ہوئی۔ رانا امتیاز سے 2 کلو 440 گرام چرس، تھانہ صدر پسرور میں ندیم سے 5 لیٹر شراب اور تھانہ سبز پیر میں سرور احمد سے پستول اور تین گولیاں برآمد کر کے مقدمات درج کر لیے گئے۔

    پولیس نے تمام ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

  • سندھ میں 19 ہزار گھوسٹ اساتذہ بے نقاب، خزانے کو 11 ارب کا نقصان

    سندھ میں 19 ہزار گھوسٹ اساتذہ بے نقاب، خزانے کو 11 ارب کا نقصان

    کراچی(باغی ٹی وی)سندھ میں 19 ہزار اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہیں لینے میں ملوث نکلے، جس سے صوبائی خزانے کو سالانہ 11 ارب 40 کروڑ روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کی مانیٹرنگ ٹیموں نے انکشاف کیا ہے کہ 5 ہزار اساتذہ برسوں سے غیر حاضر ہیں اور ان کے گھوسٹ ایمپلائی ہونے کا خدشہ ہے۔

    محکمہ تعلیم نے 5 ہزار مستقل غیر حاضر اساتذہ کو برطرف کرنے کے نوٹس جاری کر دیے جبکہ دیگر غیر حاضر اساتذہ کو بھی تادیبی کارروائی کا سامنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق ان غیر حاضر اساتذہ میں سے کئی کی تنخواہ ایک لاکھ روپے سے زائد ہے، جو انہیں بغیر کام کیے دی جارہی تھی۔

    دوسری جانب آئی بی اے ٹیسٹ پاس کرنے والے 28 ہزار امیدواروں کو بھرتی کیے جانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ سندھ میں 2025 تک بڑے پیمانے پر اساتذہ ریٹائر ہونے والے ہیں، جس سے ویٹنگ لسٹ میں شامل امیدواروں کو تقرری کے مواقع مل سکتے ہیں۔

    محکمہ تعلیم نے سکولوں میں اساتذہ کی حاضری کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ تنخواہیں صرف حاضر اساتذہ کو جاری کی جائیں اور گھوسٹ ملازمین کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق حکومت سندھ جلد ہی تمام غیر حاضر اساتذہ کو فارغ کر کے نئی بھرتیوں کا اعلان کرے گی تاکہ سرکاری سکولوں میں تدریسی عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔

  • ملک بھر میں طوفانی بارشیں، مختلف حادثات میں 9 جاں بحق، متعدد زخمی

    ملک بھر میں طوفانی بارشیں، مختلف حادثات میں 9 جاں بحق، متعدد زخمی

    باغی ٹی وی:ملک بھر میں شدید بارشوں اور برفباری کے باعث پیش آنے والے بارش کے باعث مختلف حادثات میں 2 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق جبکہ خاتون اور متعدد زخمی ہوگئے۔ شدید موسم کے باعث کئی علاقوں میں نظام زندگی درہم برہم ہوگیا، رابطہ سڑکیں بند اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں موسلا دھار بارش کے باعث ایک کچے مکان کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں دو کمسن بہن بھائی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کی والدہ اور دو دیگر بچے زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    آزاد کشمیر کے علاقے وادی نیلم میں برفانی تودہ گرنے سے تین افراد دب کر جاں بحق ہوگئے۔ شدید برفباری کے باعث علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مزید برفانی تودے گرنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    اٹک میں مسلسل بارشوں کے بعد سڑک پر پھسلن پیدا ہو گئی، جس کے باعث ایک مسافر بس بے قابو ہو کر کھائی میں جا گری۔ حادثے کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ نو مسافر زخمی ہو گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا۔

    پشاور کے علاقے کوہاٹ روڈ پر شدید بارش کے باعث ایک مکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں چار بچے زخمی ہوگئے۔ مقامی افراد اور ریسکیو اہلکاروں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں انجام دیں اور زخمی بچوں کو ہسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    گلیات میں ہونے والی برفباری کے بعد سڑکوں پر شدید پھسلن پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم درجنوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی شدید بارشیں اور آندھی کا سلسلہ جاری رہا۔ چمن میں تیز آندھی کے باعث گھروں کی دیواریں اور بجلی کے کئی کھمبےگر گئے، جس سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    پنجاب کے مختلف شہروں شیخوپورہ، فاروق آباد، رینالہ خورد، کلورکوٹ، شرقپور شریف اور دیگر علاقوں میں شدید بارش کے باعث جل تھل ایک ہوگیا۔ نشیبی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

    ملک بھر میں وقفے وقفے سے بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز تک مزید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر، پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات تیز

    ڈیرہ غازی خان: کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر، پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات تیز

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواد اکبر) ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں دو لاکھ 15 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کر دیا گیا ہے۔ کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے زیادہ سے زیادہ رقبے پر کپاس کی بروقت کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے متعلقہ محکموں اور کاروباری افراد کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔

    ڈویژنل کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے کپاس کی کاشت کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر زراعت توسیع مہر عابد حسین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے 31 مارچ تک کپاس کی کاشت مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

    کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ نہری پانی کی فراہمی، معیاری بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جعلی بیج، کھاد اور پیسٹی سائیڈ کی تیاری، ترسیل اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    اجلاس میں ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد، مختلف محکموں کے افسران، کھاد، بیج اور زرعی ادویات کے کاروباری افراد بھی شریک تھے۔

  • اوچ شریف: بڑھتے حادثات، ریسکیو 1122 کی کارکردگی اور حفاظتی اقدامات پر غور

    اوچ شریف: بڑھتے حادثات، ریسکیو 1122 کی کارکردگی اور حفاظتی اقدامات پر غور

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ریسکیو 1122 اوچ شریف انچارج محمد اکرم نے پریس کلب اوچ شریف اینڈ پی سی ڈیجیٹل میڈیا کے صدر میاں محمد عامر صدیقی، جنرل سیکرٹری حبیب خان اور دیگر عہدیداران خواجہ سہیل عباس شفیق انجم صفدر حسین سے خصوصی ملاقات کی۔

    ریسکیو انچارج محمد اکرم نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر باقر حسین کی ہدایات کے تحت ریسکیو 1122 اپنی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے دن رات مصروف عمل ہے۔ اس وقت اوچ شریف مرکز میں 16 اسٹاف ممبرز، 2 ایمبولینسز اور 6 کوالیفائیڈ ڈسپنسرز دستیاب ہیں جو ہر قسم کی ایمرجنسی میں عوام کو بروقت امداد فراہم کر رہے ہیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ روزانہ 8 سے 10 ایمرجنسی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں زیادہ تر ٹریفک حادثات شامل ہیں۔ قومی شاہراہ، جلال پور ایکسپریس روڈ، پنجند روڈ اور ککس موڑ جیسے مقامات حادثات کے ہاٹ اسپاٹ بن چکے ہیں، جہاں روزانہ قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

    ریسکیو انچارج کے مطابق ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں تیز رفتاری، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، ہیلمٹ اور حفاظتی تدابیر کا عدم استعمال اور روڈ سیفٹی کے بنیادی اصولوں کی کمی شامل ہیں۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر باقر حسین نے ہدایت دی ہے کہ ریسکیو 1122 کی تمام ٹیمیں الرٹ رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی کارروائیاں انجام دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی مہم شروع کی جائے گی، تاکہ شہریوں کو روڈ سیفٹی کے اصولوں پر عمل کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔

    اوچ شریف پریس کلب کے صدر میاں محمد عامر صدیقی اور جنرل سیکرٹری حبیب خان نے ریسکیو 1122 کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے وسائل میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہری ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں، ہیلمٹ کا استعمال یقینی بنائیں اور حفاظتی تدابیر اپنائیں تو حادثات کی شرح میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

    ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا شہری روڈ سیفٹی کے اصولوں پر عمل کریں گے، یا مزید قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہیں گی؟