Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ صاحب:سٹیٹ آف دی آرٹ پریس کلب عمارت کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

    ننکانہ صاحب:سٹیٹ آف دی آرٹ پریس کلب عمارت کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی/نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب کے صحافیوں کے لیے خوشخبری، شہر میں پریس کلب کی اسٹیٹ آف دی آرٹ عمارت کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ نے صحافتی تنظیموں کے عہدیدران کے ہمراہ نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔

    سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں ایس پی انویسٹیگیشن حناء نیک بخت، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ماہین فاطمہ، اسسٹنٹ کمشنر ثناء شرافت، صدر پریس کلب ننکانہ صاحب چوہدری افضل حق خاں، جنرل سیکرٹری محمد آصف بھٹی سمیت پریس کلب کے دیگر عہدیدران اور ممبران نے شرکت کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک کی جائے پیدائش ہونے کے باعث عالمی اہمیت کے حامل شہر ننکانہ صاحب میں پریس کلب کی باقاعدہ عمارت نہ ہونے کی وجہ سے صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ پریس کلب کی اپنی عمارت کا قیام صحافی برادری کا دیرینہ مطالبہ اور خواب تھا، جو اب شرمندۂ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔

    مقررین کا کہنا تھا کہ عمارت کی تکمیل کے بعد نہ صرف مقامی صحافیوں کو سہولیات میسر آئیں گی بلکہ سکھوں کے مختلف مذہبی تہواروں اور عالمی تقاریب کی کوریج کے لیے آنے والے ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو بھی آسانی ہوگی۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے صحافیوں کو پریس کلب کی تعمیر کے آغاز پر مبارکباد دیتے ہوئے پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مکمل تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

    تقریب کے اختتام پر پریس کلب ننکانہ صاحب کی جانب سے معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں

  • الیکٹرک سگریٹ، جدید فیشن یا صحت کے لیے خاموش خطرہ؟

    الیکٹرک سگریٹ، جدید فیشن یا صحت کے لیے خاموش خطرہ؟

    الیکٹرک سگریٹ، جدید فیشن یا صحت کے لیے خاموش خطرہ؟
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    آج کے نوجوانوں میں الیکٹرک سگریٹ یا ویپ (Vape) ایک فیشن بن چکا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جدیدیت کا ایسا پہلو ہے جو صحت کے لیے سنگین خطرات رکھتا ہے۔ معاشرتی سطح پر اسے محفوظ متبادل اور سگریٹ چھوڑنے کا آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ماہرین صحت کے مطابق یہ دعویٰ سراسر غلط ہے۔

    الیکٹرک سگریٹ ایک بیٹری سے چلنے والا آلہ ہے جس میں E-liquid استعمال ہوتا ہے، جو گرم ہو کر بھاپ میں تبدیل ہوتی ہے اور سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچتی ہے۔ یہ مائع عموماً نکوٹین، خوشبو دار فلیورز اور دیگر کیمیائی مادوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگرچہ دھواں نہیں نکلتا، مگر بھاپ میں موجود باریک زہریلے ذرات پھیپھڑوں تک پہنچ کر شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

    نکوٹین سب سے خطرناک عنصر ہے، جو نہ صرف جسم بلکہ دماغ کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ کئی الیکٹرک سگریٹس میں نکوٹین کی مقدار عام سگریٹ سے زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل اس کی لت میں پھنس رہی ہے۔ نکوٹین وقتی سکون فراہم کرتی ہے، مگر ذہنی بے چینی، چڑچڑاپن اور ڈپریشن کو فروغ دیتی ہے۔

    پھیپھڑوں پر اثرات کے علاوہ نکوٹین دل اور خون کی نالیوں کو بھی متاثر کرتا ہے، دل کی دھڑکن تیز اور بلڈ پریشر بڑھاتا ہے، جس سے دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نوجوان، جو خود کو صحت مند سمجھتے ہیں، کم عمری میں دل کے مریض بن رہے ہیں۔

    الیکٹرک سگریٹ کے فلیورز بھی خطرناک ہیں۔ اسٹرابری، آم، چاکلیٹ اور منٹ کے نام پر استعمال شدہ کیمیکلز زیادہ حرارت پر فارملڈیہائیڈ جیسے عناصر میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جو کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ نوجوان دماغی نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں، اور نکوٹین یادداشت، توجہ اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، جس سے تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

    منہ اور دانتوں کے لیے بھی یہ نقصان دہ ہے۔ مسلسل استعمال سے منہ خشک رہتا ہے، دانت کمزور ہو جاتے ہیں، مسوڑھوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور سانس کی بدبو مستقل مسئلہ بن جاتی ہے۔ جلد کی رنگت متاثر ہوتی ہے اور قبل از وقت بڑھاپا ظاہر ہو سکتا ہے۔

    الیکٹرک سگریٹ کے پھٹنے کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، خاص طور پر غیر معیاری آلات سے ہاتھ، چہرہ اور جسم کے دیگر حصے جھلسنے کے حادثات ہوتے ہیں۔ یہ آلہ محض صحت ہی نہیں بلکہ جان کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) نوجوانوں اور غیر سگریٹ نوش افراد کو الیکٹرک سگریٹ سے دور رہنے کی سخت ہدایت دیتا ہے۔ کئی ترقی یافتہ ممالک میں اس کی فروخت اور تشہیر پر پابندیاں عائد ہیں، مگر ہمارے ہاں قانون سازی اور آگاہی کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ الیکٹرک سگریٹ ایک جدید فریب ہے، جو نوجوان نسل کو صحت کی تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ حکومت، والدین، تعلیمی ادارے اور میڈیا مل کر مؤثر آگاہی پھیلائیں تاکہ یہ خاموش خطرہ نوجوانوں کی زندگیوں کو متاثر نہ کرے۔ صحت کوئی فیشن نہیں اور زندگی کسی تجربے کا میدان نہیں۔

  • اوکاڑہ: ٹی ایچ کیو ہسپتال رینالہ خورد میں جدید ڈائیلسز سنٹر کا افتتاح

    اوکاڑہ: ٹی ایچ کیو ہسپتال رینالہ خورد میں جدید ڈائیلسز سنٹر کا افتتاح

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) چیف منسٹر ڈائیلسز پروگرام کے تحت ٹی ایچ کیو ہسپتال رینالہ خورد میں جدید ڈائیلسز سنٹر کا افتتاح کر دیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی خواجہ عمران نذیر نے نئے وارڈ کا افتتاح کیا اور مریضوں سے سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔

    افتتاحی تقریب میں ممبر قومی اسمبلی ندیم عباس ربیرہ، ایم پی اے چوہدری جاوید علاؤالدین، ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، اسسٹنٹ کمشنر انعم علی خان، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فواد افتخار، ہسپتال انتظامیہ اور میڈیا نمائندگان بھی موجود تھے۔

    صوبائی وزیر نے ڈائیلسز وارڈ کی بروقت تکمیل پر ڈپٹی کمشنر اور ایم ایس کی کاوشوں کو سراہا اور ہسپتال انتظامیہ کو مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں دس مزید ڈائیلسز مشینیں ہسپتال کو فراہم کی جائیں گی، جس سے مریضوں کو اپنے ہی شہر میں معیاری علاج کی سہولت میسر ہوگی۔

    خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ پنجاب بھر میں جلد ہزاروں نئے ڈاکٹرز، کنسلٹنٹ اور سپیشلسٹ بھرتی کیے جائیں گے، اور ڈاکٹروں کی کارکردگی کے لیے کے پی آئیز بنائے جائیں گے۔ ہسپتالوں میں ایل پی کے ذریعے مریضوں کو تمام ضروری ادویات مفت فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چھوٹے شہروں میں جدید طبی سہولیات کے ذریعے بھی مریضوں کا مکمل علاج ممکن ہوگا، اور وزیراعلیٰ پنجاب کے روڈ میپ پر عملدرآمد سے ہسپتالوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔

  • کندھ کوٹ: ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج

    کندھ کوٹ: ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج

    کندھ کوٹ (نامہ نگار) میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ کے ریٹائرڈ ملازمین نے اپنی واجب الادا تنخواہوں، ڈیفرنس اور نئی مقررہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف پریس کلب کندھ کوٹ کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور میونسپل انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔

    احتجاج کے دوران یعقوب شیخ، سرداران شیخ، مائی منیران شیخ، مائی شانی، نبی بخش شیخ، ماروی شیخ اور غلام شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ریٹائر ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے، مگر تاحال نہ تو ان کی بقایاجات تنخواہیں ادا کی گئی ہیں اور نہ ہی ڈیفرنس اور نئی تنخواہیں جاری کی گئی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ مسلسل میونسپل کمیٹی کے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں مگر عملہ ملنے کو تیار نہیں اور کلرک ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے اور بچے بھوک برداشت کرنے پر مجبور ہیں جبکہ قرض خواہ روزانہ تنگ کر رہے ہیں۔

    مظاہرین نے میونسپل کمیٹی کے چیئرمین میر غلام راشد خان سندرانی، سی ایم او مقصود جتوئی اور دیگر متعلقہ افسران سے فوری طور پر بقایاجات تنخواہیں، ڈیفرنس اور نئی تنخواہیں ادا کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ان کے گھروں کے چولہے جل سکیں۔ بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

  • سیالکوٹ: چیمبر آف کامرس کا برآمدات کے فروغ کیلئے غیر ملکی تجارتی وفود بھیجنے کا اعلان

    سیالکوٹ: چیمبر آف کامرس کا برآمدات کے فروغ کیلئے غیر ملکی تجارتی وفود بھیجنے کا اعلان

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی/بیورو چیف مدثر رتو) سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ڈیپارٹمنٹل کمیٹی برائے فیئر اینڈ ایگزیبیشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں برآمدات کے فروغ، بین الاقوامی تجارتی میلوں میں شرکت اور غیر ملکی مارکیٹس تک رسائی کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس سے صدر سیالکوٹ چیمبر سید احتشام گیلانی، چیئرمین ڈیپارٹمنٹل کمیٹی قیصر بیگ، سینیئر نائب صدر محمد مراد ارشد اور چوہدری رضا منیر نے خصوصی خطاب کیا۔ شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین قیصر بیگ نے کہا کہ سیالکوٹ چیمبر ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور اسی مقصد کے تحت مختلف ممالک میں تجارتی وفود بھیجے جائیں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا، عراق سمیت دیگر ممالک کے سفارت خانوں اور کمرشل قونصلرز سے مسلسل رابطے جاری ہیں، جبکہ بعض ممالک کے سفارت کاروں کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات کیلئے نئی منڈیاں کھلنے کی امید ہے۔

    اجلاس میں کمیٹی ممبران عامر حمید بھٹی، خواجہ عابد، زوہیب بیگ، راجہ ثاقب، ناصر سلیم مرزا، محمد رفیق مغل، محمد اشفاق اور حافظ جنید نے اپنی آراء کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فیئر اینڈ ایگزیبیشن کے تحت بھیجے جانے والے تجارتی وفود میں چھوٹے کاروباری اداروں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ انہیں بھی بڑے برآمد کنندگان کے برابر مواقع میسر آ سکیں۔

    اجلاس کے اختتام پر فیئر اینڈ ایگزیبیشن کمیٹی کے ممبران نے ممتاز بزنس مین قیصر بیگ کو دوبارہ چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور ان کی سابقہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

  • گھوٹکی بائی پاس ، گنے سے لوڈ کھڑی ٹرالیوں کی وجہ سے بند، شدید ٹریفک جام معمول بن گیا

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی بائی پاس پر گنے سے بھری ٹرالیاں کھڑی کیے جانے کے باعث سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں شدید ٹریفک جام پیدا ہو گیا۔ ٹریفک کی طویل بندش کے باعث متعدد ایمرجنسی مریض بروقت اسپتال نہ پہنچ سکے، جبکہ بعض مریض راستے میں ہی دم توڑ گئے، جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق بائی پاس پر ٹرالیاں کھڑی ہونے کے بعد دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنس کر رہ گئیں، جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور موٹر وے پولیس کی جانب سے بروقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

    واضح رہے کہ گھوٹکی بائی پاس ضلع کا سب سے زیادہ مصروف اور حساس ایمرجنسی روٹ تصور کیا جاتا ہے، جہاں لطیف میڈیکل سینٹر، انڈس اسپتال، سٹی میڈیکل سینٹر اور عمران میڈیکل سینٹر سمیت متعدد اہم طبی ادارے قائم ہیں۔ یہ بائی پاس شہر کا مرکزی داخلی راستہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ ہزاروں شہریوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔

    واقعے کے بعد ضلع گھوٹکی کے عوام نے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور بائی پاس کھلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ مجبوری کے تحت شہریوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وقتی طور پر متبادل راستے اختیار کریں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بائی پاس کھلوانا ضلعی انتظامیہ کے دائرہ اختیار سے باہر دکھائی دے رہا ہے، جو ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے۔

  • شہباز شریف کی ارمغان سبحانی کی رہائشگاہ آمد، والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت

    شہباز شریف کی ارمغان سبحانی کی رہائشگاہ آمد، والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ،بیوروچیف مدثر رتو) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی وزیر مملکت چوہدری ارمغان سبحانی کی رہائشگاہ آمد ہوئی۔وزیراعظم نے وزیر مملکت چوہدری ارمغان سبحانی سے ان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا، وزیراعظم نے مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔

    شہباز شریف نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، آمین، انہوں نے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔

    اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی وزیراعظم کے ساتھ موجود تھے۔

  • عباسیہ کینال یا موت کی نہر؟ انتظامی غفلت نے چولستانی باسیوں کی زندگی داؤ پر لگا دی

    عباسیہ کینال یا موت کی نہر؟ انتظامی غفلت نے چولستانی باسیوں کی زندگی داؤ پر لگا دی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف سے گزرنے والی عباسیہ کینال اس وقت ریاستی غفلت اور انتظامی نااہلی کی جیتی جاگتی تصویر بن چکی ہے، جہاں صاف پانی کے بجائے سیوریج کا گندہ نالہ بہہ رہا ہے۔ چولستانی علاقوں کے لیے زندگی کی واحد امید سمجھی جانے والی یہ نہر اب انسانی فضلہ، جانوروں کے گوبر اور زہریلے مادّوں کا ڈھیر بن چکی ہے، جو ہزاروں انسانوں کو خاموش موت کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مختلف مقامات پر گھروں اور غیر قانونی آبادیوں کے سیوریج پائپ براہِ راست نہر میں ڈال دیے گئے ہیں، جبکہ جانوروں کے باڑوں کی غلاظت بھی بلا روک ٹوک اسی پانی میں شامل ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں نہر کا پانی سیاہ اور تعفن زدہ ہو چکا ہے۔

    عینی شاہدین اور طبی ماہرین کے مطابق اس آلودہ پانی کے استعمال سے علاقے میں ہیضہ، یرقان، ٹائیفائیڈ اور آنکھوں کے انفیکشن جیسی مہلک بیماریاں وبائی صورت اختیار کر چکی ہیں، جن سے سب سے زیادہ معصوم بچے اور خواتین متاثر ہو رہی ہیں۔ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سنگین انسانی بحران کے باوجود محکمہ صحت، محکمہ آبپاشی اور محکمہ ماحولیات مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ ہو رہی ہے، جبکہ تاحال نہ تو غیر قانونی پائپ کاٹے گئے اور نہ ہی نہر کی صفائی کا کوئی بندوبست کیا گیا ہے۔

    سماجی و عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال کسی بڑے انسانی سانحے کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور چیف جسٹس ہائی کورٹ سے فوری ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چولستان کے مجبور باسیوں کو صاف پانی کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ شہریوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر سیوریج کے آؤٹ لیٹس بند نہ کیے گئے تو وہ سڑکوں پر نکلنے، دھرنے دینے اور قانونی چارہ جوئی کرنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ اب یہ مسئلہ محض سہولت کا نہیں بلکہ بقا کا سوال بن چکا ہے۔

  • اوچ شریف: ایف آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، بی آئی ایس پی میں بدعنوانی پر متعدد ریٹیلرزگرفتار

    اوچ شریف: ایف آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، بی آئی ایس پی میں بدعنوانی پر متعدد ریٹیلرزگرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی/نامہ نگارحبیب خان) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت غریب اور مستحق خواتین کو دی جانے والی مالی امداد میں مبینہ بدعنوانیوں، غیرقانونی کٹوتیوں اور جعلی لین دین کے خلاف فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اوچ شریف میں بڑا اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں قائم متعدد ریٹیلرز کے مراکز پر بیک وقت چھاپے مارے۔

    کارروائی کے دوران ایف آئی اے نے بڑی تعداد میں مشتبہ بائیومیٹرک ڈیوائسز، اہم ریکارڈ اور نقد رقوم قبضے میں لے لیں، جبکہ متعدد ریٹیلرز اور ان کے اہلکاروں کو حراست میں لے کر مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کو طویل عرصے سے شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ بعض ریٹیلرز مستحق خواتین سے غیرقانونی کٹوتیاں کر رہے ہیں، جعلی بائیومیٹرک کے ذریعے رقوم نکلوا رہے ہیں اور کئی خواتین کو یہ کہہ کر گمراہ کیا جا رہا ہے کہ وہ پروگرام کے لیے نااہل ہو چکی ہیں، حالانکہ ان کے نام پر قسط جاری ہو چکی ہوتی ہے۔ ان شکایات کی روشنی میں ایف آئی اے نے خفیہ نگرانی اور شواہد اکٹھے کرنے کے بعد کارروائی عمل میں لائی۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق بعض ریٹیلرز کے پاس سرکاری قواعد و ضوابط کے برخلاف اضافی بائیومیٹرک ڈیوائسز موجود تھیں، جبکہ کئی مراکز پر خواتین کے شناختی کارڈز کی نقول اور بائیومیٹرک ڈیٹا غیرقانونی طور پر محفوظ کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف قومی ڈیٹا تحفظ قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ غریب اور مستحق خواتین کے معاشی استحصال کے مترادف بھی ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع نے بتایا ہے کہ زیرِ حراست افراد سے تفتیش کے بعد مزید گرفتاریوں اور مقدمات کے اندراج کا قوی امکان ہے، جبکہ اس نیٹ ورک میں شامل دیگر سہولت کاروں اور ممکنہ سرکاری اہلکاروں کے کردار کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے قومی فلاحی منصوبے میں بدعنوانی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب علاقے کی عوام اور سماجی حلقوں نے ایف آئی اے کی اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملوث ریٹیلرز کو نشانِ عبرت بنایا جائے، لوٹی گئی رقوم مستحق خواتین کو واپس دلائی جائیں اور مستقبل میں ایسے مؤثر اقدامات کیے جائیں جن سے اس قومی فلاحی پروگرام کو بدعنوان عناصر سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔

  • ٹھٹھہ:ڈپٹی کمشنر  کی اوپن ڈور پالیسی، شہریوں کے مسائل کے فوری حل کی ہدایات

    ٹھٹھہ:ڈپٹی کمشنر کی اوپن ڈور پالیسی، شہریوں کے مسائل کے فوری حل کی ہدایات

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی/بلاول سموں) ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت کی جانب سے اپنے دفتر میں روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کے مسائل حل کرنے کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اوپن ڈور پالیسی کے تحت انہوں نے مختلف علاقوں سے آنے والے شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے انفرادی و اجتماعی مسائل تفصیل سے سنے۔

    تفصیلات کے مطابق ملاقات کے دوران شہریوں نے زمین، ریونیو، صحت، تعلیم، بلدیاتی امور اور دیگر سرکاری محکموں سے متعلق شکایات اور مسائل ڈپٹی کمشنر کے سامنے رکھے۔ ڈپٹی کمشنر سرمد علی بھاگت نے تمام مسائل کو بغور سنا اور موقع پر ہی متعلقہ محکموں کے افسران کو واضح ہدایات جاری کیں کہ عوامی شکایات کا فوری، شفاف اور قانون کے مطابق ازالہ یقینی بنایا جائے۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کا بروقت حل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کے مشن پر مکمل طور پر کاربند ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور کسی بھی شہری کو غیر ضروری طور پر دفاتر کے چکر نہ لگوائے جائیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ اوپن ڈور پالیسی کا بنیادی مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنا اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ افسران اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں۔