Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • میہڑ: بدامنی کے خلاف بیوپاریوں کا احتجاجی مظاہرہ

    میہڑ: بدامنی کے خلاف بیوپاریوں کا احتجاجی مظاہرہ

    میہڑ (باغی ٹی وی ،نامہ نگارمنظور علی جوئیہ) شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، لوٹ مار اور ڈکیتیوں کے خلاف سبزی منڈی یونین کے بیوپاریوں نے اربیلو کلہوڑو، نثار میمن اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور شدید نعرے بازی کی۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ شہر میں لوٹ مار، ڈکیتیاں اور چوریاں روز کا معمول بن چکی ہیں، جبکہ پولیس عوام کے تحفظ کی ذمہ داری چھوڑ کر آرام کی نیند سو رہی ہے۔

    مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ میہڑ شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی کا فوری نوٹس لے کر امن و امان کی بحالی یقینی بنائی جائے، بصورت دیگر پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

  • ڈیرہ غازی خان: جشن میلاد النبیﷺ اور شیلڈ تقسیم تقریب کا انعقاد

    ڈیرہ غازی خان: جشن میلاد النبیﷺ اور شیلڈ تقسیم تقریب کا انعقاد

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) پاکستان صحافی اتحاد (پی ایس ای) کی جانب سے جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تاجدار ختم نبوت ﷺ شیلڈ تقسیم کی تقریب اقبال ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کی صدارت پی ایس ای کے مرکزی صدر ظفر اقبال کھوکھر نے کی، جبکہ چیئرمین سوشل فورم محمد فاروق خان نے نگرانی کے فرائض سرانجام دیے اور سرپرستی سردار محمد اسلم خان چانڈیہ ایڈووکیٹ نے کی۔

    تقریب کے دوران مختلف مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ محمد فاروق خان نے کہا کہ "انشاءاللہ ہم ہر سال پی ایس ای کے پلیٹ فارم سے آقائے مدنیﷺ کا میلاد مناتے رہیں گے۔ ہمارے لیے پیارے آقا محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنی جان بھی قربان ہے۔”

    تقریب کے دوران درود و سلام اور نعت مقبول پیش کی گئی۔ سردار اسلم خان چانڈیہ نے اپنے دل موہ لینے والے بیان سے شرکاء کے دلوں کو مدینہ منورہ کی گلیوں میں پہنچا دیا۔ آخر میں پی ایس ای کی جانب سے شیلڈ وصول کرنے والے شرکاء کو مبارکباد دی گئی۔

    پی ایس ای کے مرکزی صدر ظفر اقبال کھوکھر نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ "آج کے بعد ہر سال پی ایس ای جشن عید میلاد النبی ﷺ بھی منائے گی اور اس موقع پر شیلڈز بھی تقسیم کی جائیں گی۔ اس اعزازی ایوارڈ کا نام ‘تاجدار ختم نبوتﷺ ‘ ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ پی ایس ای نہ صرف صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے بلکہ امن اور بھائی چارے کو فروغ دینے پر بھی زور دیتی ہے۔

    تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر بلال لودھی نے اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا کرائی۔

  • لیہ: تیز رفتار بس کی ٹریکٹر ٹرالی کوٹکر، 3 افراد جاں بحق، 15 زخمی

    لیہ: تیز رفتار بس کی ٹریکٹر ٹرالی کوٹکر، 3 افراد جاں بحق، 15 زخمی

    لیہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگار) تیز رفتار بس ٹریکٹر ٹرالی کوٹکر، 3 افراد جاں بحق، 15 زخمی

    تفصیل کے مطابق راولپنڈی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی رانا جہانزیب ٹرانسپورٹ کی بس کو لیہ میں خوفناک حادثہ پیش آیا۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب تیز رفتار بس کوٹ ادو روڈ پر کوٹھی قریشی کے نزدیک ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق، حادثے میں 3 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 15 افراد شدید زخمی ہوئے۔ ریسکیو 1122 لیہ کی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی اور انہیں قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

  • پاکستان میں آئی پی پیز کا کردار،ہوشربا انکشافات منظرعام پر آگئے

    پاکستان میں آئی پی پیز کا کردار،ہوشربا انکشافات منظرعام پر آگئے

    باغی ٹی وی:ایک رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے کردار پر حیرت انگیز حقائق سامنے آئے ہیں، جنہوں نے ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ ذرائع کے مطابق، کچھ آئی پی پیز نے غلط کنٹریکٹس کے ذریعے بغیر بجلی پیدا کیے اربوں روپے کی ادائیگیاں حکومت پاکستان سے وصول کیں۔ جس کا خمیازہ حکومت پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    غلط کنٹریکٹس اور مہنگی بجلی کی پیداوار
    اطلاعات کے مطابق آئی پی پیز نے حکومت پاکستان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں سنگین خامیاں چھوڑیں، جس کا خمیازہ ملک کو بھگتنا پڑا۔ بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں اسی صلاحیت کے ونڈ پاور پلانٹس چار گنا زیادہ مہنگے لگائے گئے، جسے اوور انوائسنگ کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    امپورٹڈ فیول پر انحصار اور کوئلے کے ذخائر کی نظراندازی
    پاکستان میں کوئلے کے وسیع ذخائر کے باوجود، آئی پی پیز نے مقامی وسائل پر انحصار کرنے کے بجائے بجلی پیدا کرنے کے لیے ہائی سپیڈ ڈیزل اور درآمدی کوئلے جیسے مہنگے امپورٹڈ فیول کا استعمال کیا، جس کی وجہ سے بجلی کی پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آئی پی پیز نے امپورٹڈ فیول کی ضرورت سے زیادہ درآمد کی، مگر اس کے باوجود اتنی بجلی پیدا نہیں کی جتنی کا دعویٰ کیا گیا تھا، اور حکومت سے اربوں روپے کی سبسڈی بھی وصول کی۔

    فارنزک آڈٹ سے گریز اور دیکھ بھال کے اخراجات میں دھوکہ دہی
    حکومت پاکستان کی بار بار درخواستوں کے باوجود، آئی پی پیز نے اپنے پلانٹس کا فرنزک آڈٹ کروانے سے انکار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی پی پیز نے پلانٹس کی دیکھ بھال کے نام پر اربوں روپے حکومت سے وصول کیے، جبکہ حقیقت میں پلانٹس پر دیکھ بھال کے لیے خرچ کی گئی رقم اس کا ایک چوتھائی بھی نہیں تھی۔

    حکومت پاکستان کا بوجھ اور معاہدوں میں خرابیاں
    ایک حیران کن انکشاف یہ بھی ہے کہ حکومت پاکستان نے نہ صرف ابتدائی طور پر آئی پی پیز لگانے کے اخراجات برداشت کیے، بلکہ انشورنس اور ٹیکس ڈیوٹی کے شعبے میں بھی مالکان کو سہولیات فراہم کیں۔ تمام اخراجات حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کے باوجود، معاہدے کی مدت ختم ہونے پر پلانٹس حکومت پاکستان کی ملکیت میں نہیں آئیں گے۔

    ذرائع کے مطابق، آئی پی پیز کے بیشتر مالکان لوکل ہیں، لیکن معاہدے جان بوجھ کر کچھ فارنرز کے نام پر کیے گئے تاکہ ان پر مزید کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔

    ملکی معیشت پر اثرات اور ماہرین کی آراء
    توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز کو بھاری ادائیگیاں کرنے کی وجہ سے حکومت پاکستان دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ آئی پی پیز نے اپنی لاگت سے سینکڑوں گنا منافع کما لیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے۔

    آئی پی پیز کی اجارہ داری اور حکومت کے نقصانات
    پاکستان میں زیادہ تر آئی پی پیز پر چند بااثر خاندانوں کی اجارہ داری ہے، جس کی وجہ سے یہ نظام شدید طور پر متاثر ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ آئی پی پیز رضا کارانہ طور پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کر کے قیمتوں میں کمی کرنے پر آمادہ ہیں، لیکن اس کے باوجود آئی پی پیز کی ملی بھگت سے حکومت پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

    ان ہوشربا انکشافات کے بعد عوام اور ماہرین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت فوری طور پر ان معاہدوں پر نظرثانی کرے اور ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات اٹھائے تاکہ بجلی کی پیداوار سستی ہو اور معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

  • ادویات پر 18 فیصد  سیلز ٹیکس، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، مریض پریشان

    ادویات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، مریض پریشان

    لاہور(باغی ٹی وی رپورٹ)حکومت کا ادویات پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ مریضوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ مریضوں کو اپنی دوائیں خریدنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ادویات پر 18 فیصد تک جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) لگانے کے بعد متعدد ضروری ادویات کی قیمتوں میں حیرت انگیز اضافہ ہو گیا ہے، جس نے عام عوام اور خاص طور پر مریضوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو کم از کم ادویات جیسی بنیادی ضروریات پر ٹیکس عائد نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کا براہِ راست اثر ان کی صحت اور زندگیوں پر پڑ رہا ہے۔

    لاہور کے میڈیکل اسٹور مالکان کے مطابق، حکومت نے جِلدی بیماریوں کی ادویات، طاقت بڑھانے والی دوائیں، ملٹی وٹامنز، کیلشیم سپلیمنٹس، ملک پاوڈر، شوگر کی تشخیصی اسٹرپس اور ہربل ادویات پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگا دیا ہے۔ ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر بوڑھے افراد، شوگر کے مریض، بچوں اور کمزور افراد ہو رہے ہیں۔

    ایک میڈیکل اسٹور مالک کا کہنا تھا: "پہلے مریض ہفتوں کی دوا خریدنے آتے تھے، مگر اب وہ چند دنوں کی ادویات ہی خریدنے پر مجبور ہیں، کیونکہ قیمتوں میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے کہ مریضوں کے لیے تمام مہینے کی ادویات لینا ممکن نہیں رہا۔” خاص طور پر شوگر کے مریض، جو اپنی حالت کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل دوا اور شوگر اسٹرپس پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے اس نئے ٹیکس نے مزید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

    ڈرگ پاکستان لائرز فورم کے صدر نور مہر کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہربل، ہومیوپیتھک ادویات، وٹامنز اور فوڈ سپلیمنٹس پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگانا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ڈرگ ایکٹ کے تحت یہ اقدام غیر قانونی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ادویات بنیادی صحت کی ضروریات میں شامل ہیں اور ان پر ٹیکس عائد کرنا عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ ڈرگ ایکٹ کے مطابق ان ادویات پر ٹیکس نہیں لگ سکتا، حکومت کو فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔”

    ادویات پر بڑھتے ہوئے ٹیکس اور قیمتوں میں اضافے نے مریضوں اور ان کے لواحقین کو سخت غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ بہت سے مریض جو اپنی بیماریوں کی وجہ سے پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار تھے، اب ان کے لیے ادویات خریدنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ ایک مریض کے لواحقین نے کہا: "حکومت کو صحت جیسی بنیادی ضروریات پر ٹیکس نہیں لگانا چاہیے، اس کا بوجھ ہم جیسے عام لوگوں پر پڑتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں۔”

    مریضوں، میڈیکل اسٹور مالکان اور ماہرین کا متفقہ مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر ادویات پر عائد کیے گئے 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت اور علاج معالجہ عوام کا بنیادی حق ہے، اور ادویات پر ٹیکس عائد کر کے حکومت عوام کو مزید مشکلات میں مبتلا کر رہی ہے۔ عوام کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد اس ٹیکس کو ختم کرے تاکہ مریضوں کو مزید پریشانی سے بچایا جا سکے۔

  • میرپورخاص:ناموس رسالتﷺ پر حملے، تاجر برادری کا شدید احتجاج،وزیر تعلیم کی برطرفی  کامطالبہ

    میرپورخاص:ناموس رسالتﷺ پر حملے، تاجر برادری کا شدید احتجاج،وزیر تعلیم کی برطرفی کامطالبہ

    میرپورخاص (باغی ٹی وی،نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ )ناموس رسالتﷺ پر حملے، تاجر برادری کا شدید احتجاج،وزیر تعلیم کو برطرف کرنے کامطالبہ

    تفصیل کے مطابق مرکزی انجمن تاجران میرپورخاص سندھ کے صدر عبدالجبار خان نے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کے حوالے سے میرپورخاص پولیس کی شاندار کارروائی کی تعریف کی اور سندھ حکومت کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اجلاس میں تاجروں، وکلاء اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل عمرکوٹ کے ایک مقامی شہری نے مبینہ طور پر ناموس رسالتﷺ کی توہین کی، جس پر میرپورخاص پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو گرفتار کیا۔ یہ کارروائی علاقے کے عوام اور تاجروں کی جانب سے قابل تعریف قرار دی گئی۔ پولیس کی اس اقدام کو ایک قابل فخر عمل سمجھا جا رہا تھا، جس نے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔

    تاہم سندھ حکومت نے اس واقعے کے بعد میرپورخاص پولیس کے اعلیٰ افسران اور اہلکاروں کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا جس پر تاجروں، مقامی رہنماؤں اور عوام نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عبدالجبار خان نے کہا کہ”ناموس رسالتﷺ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ سندھ حکومت کا فیصلہ غیر منصفانہ اور عوامی جذبات کے منافی ہے۔ ہم پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہیں، جنہوں نے ناموس رسالتﷺ کی حفاظت کے لیے فوری کارروائی کی، لیکن حکومت کے اس فیصلے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔”

    عبدالجبار خان نے واضح کیا کہ "اگر ہمارے ایمان سے کھیلنے کی کوشش کی گئی تو ہمیں حضرت عمر فاروقؓ کا انصاف اور قانون یاد ہے۔ ہم کسی بھی قیمت پر ناموس رسالتﷺ پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس معاملے میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔”

    اپنی تقریر کے دوران عبدالجبار خان نے ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو صاحب نے ناموس رسالتﷺ کا پرچم بلند کیا تھا، مگر آج کے حکمرانوں نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ "بدقسمتی سے آج ایسے لوگ اقتدار میں آ چکے ہیں جو مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں،

    عبدالجبار خان نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم کو فوری طور پر وزارت سے برطرف کیا جائے اور پولیس افسران کی برطرفی کا فیصلہ واپس لیا جائے، تاکہ انصاف کی بالادستی قائم رہے۔

    اس موقع پر مرکزی انجمن تاجران کی لیگل ایڈ کمیٹی کے صدر ایڈووکیٹ دلاور حسین پنھور نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا”یہ واقعہ کسی خاص مسلک یا جماعت کا نہیں ہے، یہ ایمان کا معاملہ ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اپنے فیصلے کو واپس لے کر ایک نئی تاریخ رقم کرے۔ ہم مختلف مسالک اور تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ناموس رسالتﷺ کے معاملے میں ہم سب ایک قوم ہیں۔”

    رنگ روڈ کے صدر محبوب الہی کھوکھر اور شعبہ تعلیم کے صدر روشن عالم سموں نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی تاجروں نے اپنے حقوق کے لیے ہڑتالیں کی ہیں، تو انہوں نے اپنے کاروبار بند کیے ہیں، مگر ناموس رسالتﷺ کے لیے ہم اپنی جان، مال اور روزگار سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    اس موقع پر تاجر برادری کی مختلف ذیلی ایسوسی ایشنز کے نمائندے بھی موجود تھے جنہوں نے سندھ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اتحاد اور یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت فوراً اپنے فیصلے کو واپس لے، پولیس افسران کو بحال کرے اور ناموس رسالتﷺ کی حرمت کو یقینی بنائے۔ اس معاملے پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو سخت احتجاج کیا جائے گا۔

  • اوچ شریف: تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا کامیاب انعقاد

    اوچ شریف: تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا کامیاب انعقاد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگارحبیب خان) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام موضع رسول پور میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا کامیاب انعقاد ہوا۔ اس اہم کانفرنس میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جن میں علماء، طلباء، اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔

    کانفرنس میں مختلف نامور علماء کرام نے ختم نبوت کے موضوع پر پراثر اور مدلل خطابات کیے۔ مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اپنے خطاب میں ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور نوجوانوں کو اس حوالے سے آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شہنشاہ خطابت حضرت مولانا سید ابوبکر شاہ نے ختم نبوت کے پیغام کو معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے بنیاد قرار دیا۔

    اجتماع کی صدارت حضرت مولانا رشید احمد عباسی نے کی، جنہوں نے اتحاد امت پر زور دیا اور دین کی حفاظت کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر شعراء کرام نے بھی نعتیہ کلام پیش کیا، جس سے محفل میں روحانی رنگ بھر گیا۔

    شرکاء نے ختم نبوت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا عزم کیا اور اس پیغام کو مزید آگے بڑھانے کا عہد کیا۔ کانفرنس میں یہ بات زور دی گئی کہ مسلمانوں کو اپنے عقائد کی حفاظت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اتحاد کو بھی فروغ دینا چاہیے۔

    یہ اجتماع 32 سال سے جاری ہے اور اس سال بھی لوگوں میں دینی بیداری اور اتحاد کی فضاء پیدا کرنے میں کامیاب رہا۔

  • اوچ شریف:پٹرولنگ پولیس کی شاندار کارروائی، اشتہاری ملزم گرفتار

    اوچ شریف:پٹرولنگ پولیس کی شاندار کارروائی، اشتہاری ملزم گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) پٹرولنگ پولیس خیر پور ڈاھا نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران مطلوب بی کیٹگری کے اشتہاری ملزم محمد جنید کو گرفتار کر لیا۔ سب انسپکٹر محمد جاوید اور اے ایس آئی محمد ساجد کی سربراہی میں ناکہ بندی کے دوران ملزم کی شناخت ہوئی اور اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، محمد جنید کئی سنگین جرائم میں ملوث تھا اور اس کی گرفتاری علاقے میں موجود دیگر جرائم پیشہ افراد کے لیے انتباہ ہے۔ سب انسپکٹر محمد جاوید نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد علاقے میں امن و امان برقرار رکھنا اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

    علاقے کے عوام نے پولیس کی اس کارروائی کو سراہا اور کہا کہ اس سے ان کی حفاظت میں مزید بہتری آئے گی۔ پولیس نے شہریوں کو بھی تاکید کی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی ایسی ناکہ بندیاں جاری رہیں گی تاکہ جرائم کا سدباب کیا جا سکے اور عوام کو ایک محفوظ معاشرہ فراہم کیا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان:4 ماہ سے پریس کلب سیل، صحافیوں پر جھوٹے مقدمات، ظلم کا سلسلہ جاری

    ڈیرہ غازی خان:4 ماہ سے پریس کلب سیل، صحافیوں پر جھوٹے مقدمات، ظلم کا سلسلہ جاری

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر)4 ماہ سے پریس کلب سیل، صحافیوں پر جھوٹے مقدمات، ظلم کا سلسلہ جاری

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان پریس کلب کے صدر، شیر افگن بزدار نے کہا ہے کہ ضلع میں صحافیوں کو سنگین حالات کا سامنا ہے، جہاں ضلعی پریس کلب گزشتہ چار ماہ سے سیل ہے اور ورکنگ جرنلسٹس کو جھوٹے مقدمات اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کو ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹبیلیٹی (ٹی ڈی ای اے) کے تعاون سے ہونے والی ایک اہم نشست میں کہی، جس کا مقصد صحافیوں کی حفاظت اور حقوق کے حوالے سے درپیش مسائل پر بات چیت کرنا تھا۔

    شیر افگن بزدار نے کہا کہ صحافیوں کے پاس ڈائیلاگ اور پیشہ ورانہ تبادلہ خیال کے لیے پریس کلب کا پلیٹ فارم ہوتا ہے، لیکن اس کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے، اور صحافیوں کو ریاست مخالف الزامات کے تحت مقدمات میں پھنسایا گیا، گرفتار کیا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کو نہ صرف یہ کہ سرکاری اداروں کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہے بلکہ میڈیا ہاؤسز بھی صحافیوں کو کوئی تنخواہ یا اعزازیہ نہیں دیتے، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ "صحافی مار کھاتے ہیں، جیل جاتے ہیں، لیکن کوئی ادارہ یا تنظیم ان کی مدد کے لیے آواز نہیں اٹھاتی،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

    نشست کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں سینئر صحافی سید ریاض نے حکومت اور صحافتی اداروں کے درمیان بہتر رابطے نہ ہونے کو صحافیوں کی مشکلات کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

    سینئر صحافی بشیر احمد چوہان نے کہا کہ صحافیوں کی آپس کی تقسیم کی ایک بڑی وجہ ان کی سیاسی وابستگیاں یا کاروباری مفادات ہیں، جو ان کے اتحاد کو متاثر کرتے ہیں۔

    ایک اور صحافی نے کہا کہ علاقائی صحافیوں کی حفاظت کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے اور ریجنل سطح پر ایک نیٹ ورک بنانے کی تجویز دی تاکہ ہر علاقے کے صحافیوں کی نمائندگی ہو اور ان کے مسائل کو مقامی سطح پر ہی حل کیا جا سکے۔

    اس تقریب کا انعقاد ٹی ڈی ای اے کے سیف میڈیا پروگرام کا حصہ تھا، جس کا مقصد مقامی پریس کلبز اور صحافی یونینز کے تعاون سے صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور ان کی سکیورٹی و پروٹیکشن کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت صحافیوں کی اجتماعی ایڈووکیسی کو مضبوط بنانے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے سیمینار، ورکشاپس، اور کانفرنسز منعقد کی جائیں گی۔

    تقریب میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے سینئر رہنما ناصر زیدی نے صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی اقدامات اور ٹی ڈی ای اے کے کردار کو سراہا، اور زور دیا کہ تمام صحافتی تنظیموں کو مل کر اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔

  • سیالکوٹ: مضبوط وسیلہ ویلفیئر آرگنائزیشن کی حلف برداری تقریب کا انعقاد

    سیالکوٹ: مضبوط وسیلہ ویلفیئر آرگنائزیشن کی حلف برداری تقریب کا انعقاد

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)مضبوط وسیلہ ویلفیئر آرگنائزیشن (رجسٹرڈ) کے نئے عہدیداروں کی حلف برداری تقریب سال 2024 کے لیے ریسٹ ہاؤس ضلع کچہری میں منعقد کی گئی۔ اس تقریب کا انعقاد چیئرپرسن میڈم آنسہ زوبیہ باجوہ کی ہدایت پر اور صدر زاہد شریف کی زیرِ صدارت کیا گیا، جبکہ نائب صدر محمد اعجاز غوری اور جنرل سیکرٹری محمد شہباز باجوہ بھی شریک تھے۔

    تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ انعم بابر مہمانِ خصوصی تھیں، جنہوں نے تمام نئے عہدیداروں سے حلف لیا۔ دیگر معزز مہمانوں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف بی آر آصف چوہدری، صدر انجمن پٹوارہاں محمد آصف اعوان، ضلعی چیئرمین پاکستان گروپ آف جرنلسٹس چوہدری طارق محمود لالی، سینئر وائس چیئرمین ایم عرفان سلہریا، نائب صدر شیخ ظہیرالدین بابر، عمران قیصر میئو، اور سٹی نائب صدر میاں عمران شہزاد شامل تھے۔ تقریب میں سیاسی و سماجی رہنما چوہدری آفتاب احمد باجوہ نے بھی خصوصی شرکت کی۔

    تقریب کے دوران نئے عہدیداروں اور ممبران نے مہمانانِ گرامی کا پروقار استقبال کیا اور انہیں گلدستے پیش کیے۔ حلف برداری تقریب کی میزبانی میڈم عائشہ نوید نے کی۔ تمام عہدیداروں اور ممبران کو خصوصی کارڈز اور بہترین خدمات پر تعریفی سرٹیفکیٹس دیے گئے۔ تقریب کے آخر میں ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا بھی کی گئی۔