Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ:کمشنر گوجرانوالہ کا وزیر آباد اور سمبڑیال کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ

    سیالکوٹ:کمشنر گوجرانوالہ کا وزیر آباد اور سمبڑیال کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیورو چیف شاہد ریاض) کمشنر گوجرانوالہ سید نوید حیدر شیرازی نے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ محمد طارق قریشی اور ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین کے ہمراہ وزیر آباد اور سمبڑیال کا دورہ کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر کیے گئے اس دورے کے دوران کمشنر نے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت جاری مختلف ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔

    کمشنر نے زیر تعمیر شیر شاہ سوری پارک، منی پارک، قائد اعظم ڈویژنل پبلک سکول کیمپس سمیت سڑکوں کی بحالی کے منصوبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر وزیر آباد رب نواز چدھڑ اور اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال احسن ممتاز نے کمشنر کو جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    کمشنر سید نوید حیدر شیرازی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ضلع سیالکوٹ کی 119 دیہی یونین کونسلوں میں صفائی کے معیاری انتظامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 1190 سینٹری ورکرز کی بھرتی کی گئی ہے اور 357 لوڈر رکشے فراہم کیے گئے ہیں، جو گھر گھر جا کر کچرا اکٹھا کریں گے۔ اب تک 15 یونین کونسلوں میں صفائی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

    کمشنر نے بعد ازاں سمبڑیال میں یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی کے زیر تعمیر کیمپس کا بھی معائنہ کیا۔ یہ میگا پراجیکٹ 17 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوگا، جس میں عمارت کی تعمیر پر 5 ارب روپے خرچ ہوں گے اور کام کی تکمیل 46 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

    اولڈ جی ٹی روڈ پر 12 کنال رقبے پر واقع ڈمپنگ سائٹ کو ختم کر کے وہاں شیر شاہ سوری پارک بنایا جا رہا ہے، جہاں مٹی کی بھرائی مکمل ہو چکی ہے اور اب گھاس اور پودے لگانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ پارک میں بچوں کے لیے جھولے، بنچز اور واک کے لیے ٹریک بھی بنایا جا رہا ہے۔

    کمشنر نے وزیر آباد سیالکوٹ روڈ کا معائنہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت پنجاب کے سڑکوں کی بحالی کے پروگرام کے تحت اس میگا پراجیکٹ پر کام اسی ماہ شروع ہو جائے گا۔

  • سیالکوٹ: ایک سال سے لاپتہ 23 سالہ لڑکی لائبہ لاہور سے بازیاب

    سیالکوٹ: ایک سال سے لاپتہ 23 سالہ لڑکی لائبہ لاہور سے بازیاب

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیورو چیف شاہد ریاض)بڈیانہ پولیس نے ایک سال سے لاپتہ 23 سالہ لڑکی لائبہ کو لاہور کے علاقے ساندہ سے بازیاب کر لیا۔ لائبہ، جو تھانہ بڈیانہ کے علاقے کالووالی کی رہائشی تھی، 8 اکتوبر 2023 کو اچانک غائب ہو گئی تھی۔ اس کے اغوا کا مقدمہ اس کی دادی کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج ہوا تھا، تاہم ابتدائی تفتیش میں لڑکی کی بازیابی ممکن نہ ہوسکی۔

    پولیس کے سابق ایس ایچ او لڑکی کو بازیاب کرانے میں ناکام رہے، جس کے بعد ڈی پی او سیالکوٹ رانا عمر فاروق نے ایس پی انوسٹی گیشن غلام عباس اور ڈی ایس پی پسرور سرفراز رانجھا کی نگرانی میں تھانہ بڈیانہ کے ایس ایچ او انسپکٹر غازی عرفان اشرف کو اس کیس کی ذمہ داری سونپی۔

    پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے لائبہ کی تلاش کا آغاز کیا۔ پہلے اس کا پتہ فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ سے چلا، تاہم جب پولیس وہاں پہنچی تو مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ لائبہ لاہور کے علاقے ساندہ میں موجود ہے۔ پولیس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ساندہ میں چھاپہ مارا اور لائبہ کو بازیاب کر لیا۔

    پولیس کے ترجمان کے مطابق لائبہ کے والدین وفات پا چکے تھے، جس کے بعد وہ یہاں سے فرار ہو گئی تھی۔ پولیس کی کامیاب کارروائی کے بعد لائبہ کو بازیاب کر کے تحفظ میں لے لیا گیا ہے۔

  • خیرپور: بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ پر تاریخی جلسہ، ہزاروں کارکنوں کی شرکت

    خیرپور: بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ پر تاریخی جلسہ، ہزاروں کارکنوں کی شرکت

    خیرپور (مشتاق علی لغاری کی رپورٹ) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے موقع پر خیرپور میں منعقدہ ایک عظیم الشان جلسہ نے نئی تاریخ رقم کردی۔ جلسے میں ہزاروں جیالوں نے شرکت کی اور جلسہ گاہ "بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم” کے نعروں سے گونج اٹھا۔ سابق ایم این اے و ضلعی صدر نواب علی وسان کی جانب سے منعقدہ اس تاریخی جلسے میں چیئرمین بلاول بھٹو کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا، جب کہ شاندار آتش بازی نے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔

    جلسہ میں صوبائی سیکرٹری اطلاعات عاجز دھامرہ کی شرکت کے ساتھ، نامور فنکاروں نے اپنے سریلے قومی گیتوں سے محفل کو مزید رنگین کر دیا۔ قدیمی اور تاریخی پھول باغ خیرپور عوام سے بھر گیا، جہاں جیالے بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کی خوشی میں رقص کرتے رہے۔ پیپلزپارٹی کے جھنڈوں اور برقی قمقموں نے جلسہ گاہ کو خوبصورتی سے سجا دیا۔

    نواب علی وسان اور عاجز دھامرہ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاق کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر سندھ کے ساتھ زیادتیاں بند نہ کی گئیں، تو عوامی عدالت میں جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سندھ کے پانی یا حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو "دمادم مست قلندر” ہوگا۔

    عاجز دھامرہ نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے وزارت خارجہ کے دور میں پاکستان کا عالمی امیج بہتر ہوا ہے اور ان کی قیادت اب ملک کے لئے ناگزیر بن چکی ہے۔ جلسے میں ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم کے طور پر دیکھنے کی خواہش ملک بھر میں پائی جاتی ہے۔

    انہوں نے 9 مئی کے واقعات اور عمران خان کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا باب ختم ہو چکا ہے اور اب پیپلزپارٹی ہی وہ جماعت ہے جو ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آج کا جلسہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پیپلزپارٹی وفاق کی علامت ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے ہر ممکن جدوجہد کر رہی ہے۔

    جلسہ سے انجمن تاجران کے صدر لالا غفار شیخ، علی شیر مکول، میڈم شازیہ شاہ، سردار زاہد پھلپھوٹہ، عبداللطیف شیخ، منیر حسین منگی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

  • میہڑ:دیرینہ تنازع پر مسلح افراد کا حملہ، 4 افراد شدید زخمی، ہسپتال منتقل

    میہڑ:دیرینہ تنازع پر مسلح افراد کا حملہ، 4 افراد شدید زخمی، ہسپتال منتقل

    میہڑ (باغی ٹی وی نامہ نگارمنظورعلی جوئیہ)اے سیکشن تھانہ کی حدود میں دیرینہ تنازعے کے باعث مسلح افراد کی فائرنگ سے 4 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کھوسہ برادری کے دو گروپ عدالت سے واپسی پر ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔

    تفصیل کے مطابق اےسیکشن تھانہ کی حدود میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں گاؤں نثار کھوسہ کے مکین، محمد نواز کھوسو، مختیار کھوسو، امتیاز کھوسو اور محمد حسن کھوسو کو فائرنگ کے نتیجے میں گولیاں لگیں، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کے لئے تحصیل ہسپتال میہڑ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں طبی امداد فراہم کرنے کے بعد دادوہسپتال ریفر کر دیا۔

    پولیس نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ درج کر کے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لئے کارروائی شروع کر دی ہے۔ حملہ آوروں کی تعداد 8 بتائی جارہی ہے، جن کے خلاف اے سیکشن تھانہ میہڑ میں ابتدائی رپورٹ درج کرلی گئی ہے۔

    پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے اور علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ مزید کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

  • سندھ کے عظیم حکمران سلطان جام نظام الدین سموں کی 516ویں برسی منائی گئی

    سندھ کے عظیم حکمران سلطان جام نظام الدین سموں کی 516ویں برسی منائی گئی

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی نامہ نگاربلاول سموں کی رپورٹ) سندھ کے عظیم حکمران سلطان جام نظام الدین سموں کی 516ویں برسی منائی گئی

    سندھ کے نامور حکمران سلطان جام نظام الدین سموں کی 516 ویں برسی کل مکلی کے تاریخی قبرستان میں منائی گئی۔ اس موقع پر عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے صدر بلاول سموں، جنرل سیکریٹری محمد عمر سرائی، نائب صدر عبید اللہ جماری کی قیادت میں ایک وفد نے جام نظام الدین کے مزار پر حاضری دی۔ وفد نے مزار پر چادر چڑھائی اور دعا کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول سموں نے کہا کہ سلطان جام نظام الدین کا دور حکومت سندھ کی تاریخ کا ایک سنہرا دور تھا، جو خوشحالی، امن اور آزادی کا عکاس تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جام نظام الدین کے 48 سالہ حکمرانی کے دور میں سندھ کی سلطنت گجرات، کشمیر، سرحد، بلوچستان اور پنجاب تک پھیلی ہوئی تھی، جہاں لوگ امن و انصاف سے بہرہ ور تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں سندھ میں نہریں کھدوائی گئیں اور لاکھوں ایکڑ زمین آباد کی گئی، جس سے سندھ کی زراعت کو فروغ ملا۔

    بلاول سموں نے موجودہ حکمرانوں کو سلطان جام نظام الدین کی حکمرانی سے سبق سیکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کی خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اس موقع پر عوامی پریس کلب کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے جن میں ریاض خاصخیلی، زاہد امیر جوکھیو، مختیار چانڈیو، عدنان سموں، مظہر جکھڑ، اکرم سرائی شامل تھے۔

    سلطان جام نظام الدین سموں کی تاریخی حیثیت اور حکمرانی

    سلطان جام نظام الدین سموں سندھ کے معروف سموں خاندان کے حکمران تھے، جنہوں نے 15ویں صدی عیسوی میں سندھ پر حکومت کی۔ ان کا دور حکومت تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ دور نہ صرف سیاسی استحکام بلکہ سماجی اور معاشی ترقی کا بھی زمانہ تھا۔

    جام نظام الدین کا حکمرانی کا دور (1461-1509) 48 سال تک محیط رہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک مضبوط اور مقبول حکمران تھے۔ ان کی حکومت کے دوران سندھ ایک خودمختار اور آزاد ریاست رہی، جس کی حدود کشمیر، گجرات، بلوچستان اور پنجاب تک وسیع تھیں۔ اس دور میں سندھ کی سلطنت نے زراعت، تجارت اور فنون میں بے مثال ترقی کی، جس سے خطے کی معاشی حالت بہتر ہوئی اور عوام خوشحال تھے۔

    جام نظام الدین نے نہری نظام کو بہتر بنانے کے لیے کئی نہریں کھدوائیں، جنہوں نے سندھ کی زراعت میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں۔ ان کے دور میں لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کیا گیا، جس کی بدولت خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور عوام کی ضروریات پوری ہوئیں۔

    ان کے دور میں امن و امان کا قیام بھی قابل ذکر تھا۔ سلطان جام نظام الدین کی قیادت میں سندھ کی سرحدوں کو مضبوط بنایا گیا اور کسی بھی غیر ملکی طاقت کو سندھ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں ہوئی۔ ان کے عدالتی نظام میں انصاف کا بول بالا تھا اور عوام کے درمیان یکجہتی اور رواداری کو فروغ دیا گیا۔

    جام نظام الدین سموں کو عوام دوست حکمران سمجھا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی سلطنت میں خوشحالی، عزت اور امن کو فروغ دیا۔ ان کی حکمرانی کا طرز آج بھی سندھ کے لوگوں کے لیے ایک مثالی نظام سمجھا جاتا ہے۔

    ثقافتی ورثہ: جام نظام الدین کے دور حکومت میں سندھ کے لوگوں نے فنون لطیفہ اور ثقافت میں بھی اہم پیش رفت کی۔ مکلی کے تاریخی قبرستان میں جام نظام الدین سمیت کئی دیگر حکمرانوں اور عظیم شخصیات کی قبریں موجود ہیں، جو سندھ کے عظیم تاریخی ورثے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مکلی کا یہ قبرستان نہ صرف سندھ کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے بلکہ یہ عالمی ثقافتی ورثے میں بھی شامل ہے۔

    جام نظام الدین کی یادگار: آج بھی جام نظام الدین کی برسی ہر سال ٹھٹھہ میں مکلی کے قبرستان میں منائی جاتی ہے، جہاں سندھ کے مختلف علاقوں سے لوگ ان کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آتے ہیں۔

  • بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولیات میں اضافے کے لئے وفاقی محتسب کا کردار

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولیات میں اضافے کے لئے وفاقی محتسب کا کردار

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولیات میں اضافے کے لئے وفاقی محتسب کا کردار
    تحریر: ضیاء الحق سرحدی ،پشاور

    بیرون ملک مقیم پاکستانی وطن عزیز کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کے ارسال کردہ اربوں ڈالر پاکستان کے معاشی استحکام میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ چنانچہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد حل کرنے کے لئے وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں ”کمشنر شکایات برائے اوورسیز پاکستانیز” کا الگ سے ایک دفتر قائم کیا گیا ہے۔ اور وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نہ صرف خود اس کی نگرانی کرتے ہیں بلکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لئے انہوں نے کئی نئے اقدامات اٹھائے اور نئی پالیسیاں ترتیب دیں جس کے نتیجے میں گزشتہ دو برسوں کے دوران اوورسیز پاکستانیوں اور وفاقی محتسب میں فاصلہ کم ہوا اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے مسائل کے حل کے لئے وفاقی محتسب سے مسلسل رجوع کر رہے ہیں۔ رواں سال میں جنوری سے اب تک 621 اوورسیز پاکستانیوں کے پاسپورٹ کے مسائل حل کرائے گئے۔

    بیرونی ممالک میں مقیم 117سے زائد پاکستانیوں کے POC,NICOP اور شناختی کارڈز کے سلسلے میں نادرا کو احکامات جاری کر کے ان پر عملدرآمد کرایا گیا۔ لیبیا اور دیگر ممالک میں قید پاکستانیوں کو اپنے سفارتخانوں کے ذریعے رہائی دلوائی گئی۔ بیرونی ممالک سے پاکستان آنے والے پاکستانیوں کا ایئرپورٹس پر گمشدہ سامان برآمد کراکے انہیں واپس دلایا گیا نیز ایئرلائنز کی طرف سے مسافروں کو فلائٹ منسوخ ہونے یا اس کے اوقات تبدیل ہونے کی اطلاع نہ دینے کے باعث ٹکٹ کی رقوم واپس کرائی گئیں۔ اسی طرح وفاقی محکموں اور اداروں کے خلاف اوورسیز پاکستانیوں کی دیگر کئی شکایات کا ازالہ کیا گیا۔

    حال ہی میں وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے تمام پاکستانی ایمبیسیز کو ہدایات کی ہیں کہ وفاقی حکومت کے اداروں کے خلاف اوورسیز پاکستانیوں کی جن شکایات کو ایک ماہ سے اوپر کا عرصہ ہو گیا ہے اور وہ بوجوہ حل نہیں ہو سکیں وہ تمام شکایات وفاقی محتسب آفس بھجوا دی جائیں تا کہ ہمارے انوسٹی گیشن آفیسر انہیں جلد از جلد حل کرنے کی راہ نکالیں۔

    پروٹیکٹر اسٹیمپ، مڈل ایسٹ اور دیگر ممالک میں روزگار کے سلسلے میں جانے والے پاکستانیوں کا ایک اہم مسئلہ تھا اور پاسپورٹ پر پروٹیکٹر اسٹیمپ چسپاں نہ ہونے کی صورت میں کئی افراد کو ایئرپورٹس سے واپس جانا پڑتا تھا اور ان کی ٹکٹ کے پیسے بھی ضائع ہو جاتے تھے۔اس سلسلے میں وفاقی محتسب آفس کی انسپیکشن ٹیموں کی رپورٹوں اور وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کی مسلسل کاوشوں سے اب بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائیمنٹ نے یکم جنوری 2024ء سے اس مسئلے کو ای پروٹیکٹر کے ذریعے حل کر دیا ہے اور ورک ویزا پر باہر جانے والے افراد گھر بیٹھے ہی کسی بھی وقت بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائیمنٹ سے دو گھنٹے میں آن لائن پروٹیکٹر اسٹیمپ لگوا سکتے ہیں نیز ایئرپورٹس پر بھی یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

    جنوری 2024 ء سے اب تک 14,339افراد اس سہولت سے مستفید ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ”ہیگ کنونیشن 1961 ء” میں پاکستان کی شمولیت اور دستاویزات کی اپاسٹائل تصدیق (Apostile Attestation of documents)بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا دیرینہ مطالبہ تھا اور وفاقی محتسب کا”دفتر سہولیاتی کمشنر برائے اوورسیز پاکستانیز” اس سلسلے میں وزارت خارجہ سے مسلسل رابطے میں تھا۔ اب 17مئی 2024 ء سے ہیگ کنونیشن 1961 ء کے 112ممبر ممالک میں پاکستان بھی شامل ہو گیا ہے اور دستاویزات کی اپاسٹائل تصدیق کا سلسلہ وزارت خارجہ کے دفتر اسلام آباد کے علاوہ فی الحال اس کے لاہور اور کراچی کے رابطہ دفاتر میں بھی شروع کر دیا گیا ہے جس سے بیرونی ممالک میں مقیم اور بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو خاصی سہولتیں میسر آ گئی ہیں۔ وزارت خارجہ کی طرف سے فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اب تک 30 ہزار پاکستانی اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں اور ایک لاکھ کے قریب دستاویزات کی اپاسٹائل (Apostile) کے ذریعے تصدیق ہو چکی ہے۔

    وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کی ہدایات کی روشنی میں گزشتہ دو برسوں کے دوران وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں قائم ”دفتر کمشنر شکایات برائے اوورسیز پاکستانیز” کو مزید مستحکم کیا گیا تا کہ وفاقی وزارتوں اور وفاقی حکومت کے محکموں کے تحت اداروں سے متعلق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے انفرادی اور اجتماعی مسائل جلد از جلد حل کئے جا سکیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم قدم یہ بھی اٹھایا گیا کہ جنوری 2024سے ”شکایات کمشنر برائے اوورسیز پاکستانیز” کے دفتر میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے براہ راست موصول ہونے والی شکایات کوComplaint Management Information System(CMIS) پر منتقل کیا گیا جس کے نتیجے میں نظام کار میں مزید شفافیت آئی اور پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال موصول ہونے والی (2)شکایات میں 155 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا جو میرٹ اور قانون کے مطابق مفت اور جلد انصاف فراہم کرنے کے سلسلے میں وفاقی محتسب کی مثبت کارکردگی پر عوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

    اسی طرح وفاقی محتسب کی طرف سے پاکستان کے آٹھ بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے ڈیپارچر لاؤنجز میں قائم کئے گئے ”یکجا سہولیاتی مراکز”(One Window Facilitation Desks) کی کارکردگی میں بھی خاصی بہتری لائی گئی ہے جہاں بیرونی ممالک میں جانے والے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل موقع پر ہی حل کرنے کے لئے متعلقہ 12 اداروں کے نمائندے ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے موجود ہوتے ہیں۔ سینئر ایڈوائزروں پر مشتمل معائنہ ٹیمیں سال میں دو مرتبہ ہر ایئرپورٹ اور ”یکجا سہولیاتی مراکز” کا دورہ کر کے ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ انہیں مزید فعال اور کارآمد بنانے کے لئے اپنی رپورٹیں وفاقی محتسب کو پیش کرتی ہیں جن کی روشنی میں وفاقی محتسب کی طرف سے متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کئے جاتے ہیں تا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو بیرون ملک جاتے وقت زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    حال ہی میں بین الاقوامی آمد کے لاؤنجز(International Arrival Lounges) میں بھی نادرا اور OPF کے کاؤنٹر بن گئے ہیں تا کہ باہر سے آنے والے پاکستانی ان سے موقع پر ہی استفادہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ ایجنسیوں کے ذمہ دار افسران سے میٹنگز بھی کی جاتی ہیں اور وفاقی محتسب کے شکایات کمشنر برائے اوورسیز پاکستانیز کے دفتر کی طرف سے ایئرپورٹس پر قائم ”یکجا سہولیاتی مراکز” سے ہر ماہ مفصل رپورٹیں بھی حاصل کی جاتی

  • اوچ شریف:کپاس چنوائی کیلئے جانے والی ٹرالی کو حادثہ ، 6 افراد زخمی

    اوچ شریف:کپاس چنوائی کیلئے جانے والی ٹرالی کو حادثہ ، 6 افراد زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے مضافاتی علاقے بستی مقبول آرائیں میں تیز رفتاری کے باعث کپاس کی چنائی کے لیے جانے والی خواتین سے بھری ہوئی ایک ٹرالی الٹ گئی، جس سے 2 مرد اور 4 خواتین شدید زخمی ہو گئیں۔ یہ افسوسناک واقعہ بکھری چوک کے قریب پیش آیا۔

    حادثے کے وقت ٹرالی میں 30 افراد سوار تھے، جن میں زیادہ تر کا تعلق قریبی دیہات سے تھا۔ ٹرالی کے الٹنے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ زخمیوں میں ٹرالی کا ڈرائیور بھی شامل ہے، جس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    تمام زخمیوں کو ریسکیو ٹیموں کی جانب سے فوری طبی امداد کے بعد قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حادثے کی وجہ بظاہر تیز رفتاری بتائی جا رہی ہے۔

  • ڈاکٹر ذاکر نائیک کا دورہ پاکستان , شیخ فارق نائیک بھی ساتھ ہوں گے

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کا دورہ پاکستان , شیخ فارق نائیک بھی ساتھ ہوں گے

    باغی ٹی وی رپورٹ: معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے شیخ فارق نائیک کے ہمراہ رواں سال پاکستان کا دورہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان سماجی رابطوں کی ویب سائٹ "ایکس” پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے آفیشل اکاؤنٹ سے کیا گیا۔

    پوسٹ کے مطابق ڈاکٹر ذاکر نائیک اور شیخ فارق نائیک کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے دعوت دی گئی ہے، جس پر وہ کراچی، لاہور، اور اسلام آباد میں عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔

    جاری کردہ شیڈول کے مطابق ڈاکٹر ذاکر نائیک 5 اور 6 اکتوبر کو کراچی، 12 اور 13 اکتوبر کو لاہور جبکہ 19 اور 20 اکتوبر کو اسلام آباد میں خطاب کریں گے۔ ان کے خطابات مذہبی ٹی وی چینل "پیس ٹی وی” پر براہ راست نشر کیے جائیں گے۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اس سے قبل پاکستانی یوٹیوبر نادر علی کے پوڈکاسٹ میں پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 2020 میں ان کا پاکستان آنے کا ارادہ تھا لیکن کورونا وباء کی وجہ سے یہ دورہ ملتوی کرنا پڑا۔ اب وہ دوبارہ پاکستان کے دورے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

  • سیالکوٹ: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شہری زخمی، پولیس الرٹ،ڈی پی او ہسپتال پہنچ گئے

    سیالکوٹ: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شہری زخمی، پولیس الرٹ،ڈی پی او ہسپتال پہنچ گئے

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہدریاض) سیالکوٹ کے علاقے کوٹلی لوہاراں میں نامعلوم ڈاکوؤں نے ایک شہری کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق دو ڈاکو موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آئے اور ایک گھر میں ڈکیتی کی کوشش کی۔ گھر والے جب مزاحمت کرنے آئے تو ڈاکوؤں نے ان پر فائرنگ کردی جس سے 64 سالہ ملک سرور شدید زخمی ہوگئے۔

    واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او سیالکوٹ رانا عمر فاروق نے فوری طور پر علامہ اقبال ہسپتال پہنچ کر زخمی کو دیکھا اور ان کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا۔ ڈی پی او نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ضلع بھر میں ناکہ بندی کے احکامات جاری کردیے ہیں اور خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • ٹھٹھہ: پولیس اہلکاروں کے مسائل پر ایس ایس پی کا اردلی روم، متعدد افسران کو سزائیں

    ٹھٹھہ: پولیس اہلکاروں کے مسائل پر ایس ایس پی کا اردلی روم، متعدد افسران کو سزائیں

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگاربلاول سموں) ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کی قیادت میں پولیس اہلکاروں کے مسائل کو سننے اور ان کا حل نکالنے کے لیے دفتر میں اردلی روم کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پولیس اہلکاروں کے زیر التوا شوکاز نوٹسز اور محکمانہ کاروائیوں پر قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلے کیے گئے۔

    ایس ایس پی ٹھٹھہ نے دوران اردلی روم پولیس اہلکاروں کے سسپنشن، شوکاز اور دیگر مسائل پر احکامات جاری کیے۔ 20 پولیس اہلکاروں کو غیر حاضری، ڈیوٹی میں غفلت، مس کنڈکٹ اور منظم جرائم کی سرپرستی میں ملوث ہونے پر مختلف سزائیں دی گئیں، جن میں معطلی اور انکوائریز شامل ہیں۔

    ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان نے ڈسٹرکٹ پولیس کے افسران اور جوانوں کو ہدایت کی کہ آئندہ سے ہر بدھ کو پولیس اہلکاروں کے چھٹی، ٹرانسفر، اور ویلفیئر کے مسائل حل کرنے کے لیے دفتر میں اردلی روم کا باقاعدہ انعقاد کیا جائے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تمام اہلکار اپنی ڈیوٹی دیانتداری، محنت اور لگن سے انجام دیں اور عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں، تاکہ پولیس اور عوام کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہو سکیں۔