Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری سکول میں سائنس فیئر 2025 میں شرکت

    سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری سکول میں سائنس فیئر 2025 میں شرکت

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری اسکول (سنٹر آف ایکسیلنس) میں منعقدہ سائنس فیئر 2025 میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے سائنس فیئر کا باقاعدہ افتتاح کیا اور طلباء و طالبات کی جانب سے تیار کردہ کیمسٹری، فزکس اور بائیولوجی کے پراجیکٹس کا تفصیلی معائنہ کیا۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل میں تحقیق، جستجو اور ایجادات کا جذبہ ہی قوموں کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی سرگرمیاں نہ صرف طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہیں بلکہ ان میں اعتماد اور عملی سوچ کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ ایسے تعلیمی پروگراموں کی بھرپور سرپرستی جاری رکھے گی تاکہ سیالکوٹ کے طلباء ملک بھر میں اپنی علمی برتری برقرار رکھ سکیں۔

    تقریب میں پرنسپل شہباز حسن، پروفیسر رانا ظفر اقبال، اراکین بورڈ آف گورننس دانش سکول اعجاز غوری، میڈم زیبا ظہور، میڈم ارم شیرازی، محمد عمران خان لودھی، چوہدری شکیل احمد، ڈائریکٹر ایئرپورٹ سیالکوٹ میاں عتیق، مرزا شکور صاحب، نعمان طیب (وائس پرنسپل سی او ای بوائز)، حسنین عسکری (پروگرام آرگنائزر)، سلمان شیخ (وائس پریذیڈنٹ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس)، اور پروفیسر قاسم (پرنسپل گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول نمبر 2، سیالکوٹ) سمیت معزز شخصیات نے شرکت کی۔

    تقریب کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء میں تعریفی اسناد تقسیم کیں اور ان کے جذبے کو سراہا۔

  • بہاولنگر: ناجائز منافع خوری اور اوورچارجنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم

    بہاولنگر: ناجائز منافع خوری اور اوورچارجنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم

    بہاولنگر( باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد عرفان)ڈپٹی کمشنر بہاولنگر ذوالفقار احمد بھون کی زیر صدارت پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ظہور حسین، مختلف محکموں کے افسران اور تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

    اجلاس میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، مارکیٹ کنٹرول، جرمانوں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح ہدایت جاری کی کہ ناجائز منافع خوری اور اوورچارجنگ کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جائیں تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم ہو سکے۔

  • بدعنوانی و سفارش، خواجہ آصف کی تنقید ، اصلاح کون کرے گا؟

    بدعنوانی و سفارش، خواجہ آصف کی تنقید ، اصلاح کون کرے گا؟

    بدعنوانی و سفارشہ، خواجہ آصف کی تنقید ، اصلاح کون کرے گا؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے 26 اکتوبر 2025 کو ایک ٹویٹ میں سرکاری ملازمتوں میں رائج بدعنوانی اور سفارش کلچر پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے سیالکوٹ کے سردار بیگم ہسپتال کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر بتایا کہ ایک سال میں سیالکوٹ میڈیکل کالج کے 22 پروفیسرز نے لاہور تبادلے کروائے کیونکہ وہاں پرائیویٹ پریکٹس اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔ محکمہ صحت کے افسران سے بات چیت میں انہیں بتایا گیا کہ لاہور میں پوسٹنگ کے لیے سفارشیں، ہڑتالیں اور دباؤ معمول کی بات ہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق یہ کلچر تمام سرکاری اداروں میں پھیل چکا ہے، اور بااثر سیاست دان اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس کی پشت پناہی کرتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے خود اعتراف کیا کہ وہ بھی ماضی میں اس "گناہ” کے مرتکب رہے ہیں۔ انہوں نے فوج اور سول سروسز کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوج میں بھی مرضی کی پوسٹنگ کا رواج ہوتا تو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرحدوں کی حفاظت ممکن نہ رہتی۔ ان کے مطابق فوجی جوانوں نے چار سال میں چار ہزار شہادتیں دیں، مگر وہ سول افسران سے زیادہ تنخواہیں نہیں لیتے اور نہ ہی غیر ملکی پاسپورٹ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حلقے کے ایک پٹواری کی مثال دی جو کینیڈا میں رہائش پذیر ہے اور یورپ میں کاروبار رکھتا ہے، جبکہ اس کے سفارشی اثرورسوخ والے لوگ ہیں۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ اس کلچر کی بیخ کنی ضروری ہے، اور امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قول سے اختتام کیا:
    "Ask not what your country can do for you.ask what you can do for your country.”

    سوال مگر یہ ہے کہ اگر ایک سینئر حکومتی وزیر، جو خود اقتدار اور قانون سازی کے مراکز میں اثر و رسوخ رکھتا ہے، صرف سوشل میڈیا پر تنقید کرتا ہے تو اصلاحی اقدامات کون کرے گا؟ خواجہ آصف کے پاس پالیسی اور قانون سازی کی طاقت ہے، اس کے باوجود وہ محض بیانات تک محدود کیوں ہیں؟ اگر وہ واقعی اس نظام کی خرابی کو محسوس کرتے ہیں تو اصلاح کے لیے عملی اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے؟

    سرکاری ملازمتوں میں سفارش اور دوہری وفاداری کا مسئلہ نیا نہیں۔ خواجہ آصف نے اس سے قبل بھی بیوروکریسی پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے اور کہا تھا کہ آدھے سے زیادہ افسران ملک چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔ جنوری 2025 میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ بائیس ہزار سے زائد سرکاری افسران دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ 2018 میں سپریم کورٹ نے دو سو تیرہ افسران کو دوہری شہریت چھپانے پر نوٹس جاری کیے تھے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سرکاری نظام میں بدعنوانی اور غیر وفاداری کس حد تک سرایت کر چکی ہے۔

    پٹواری نظام، جو زمین کے ریکارڈ کا بنیادی ستون ہے، سب سے زیادہ کرپٹ اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ برطانوی دور سے چلا آ رہا یہ نظام دستی ریکارڈ پر منحصر ہے، جس سے جعلسازی اور رشوت ستانی آسان ہو جاتی ہے۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی ڈیجیٹلائزیشن سے اصلاح کی کوشش ضرور ہوئی ہے مگر رفتار سست ہے۔ آج بھی ضلعی بیوروکریسی نے کئی اہم مواضعات کو اپنے کچن چلانے کے لیے کمپیوٹرائزڈ نہیں ہونے دیا، تاکہ رشوت، سفارش اور مفاد پر مبنی لین دین کا سلسلہ برقرار رہ سکے۔ خواجہ آصف کے بیان کردہ پٹواری کی مثال اس نظام کی انہی خامیوں کی علامت ہے، جہاں سرکاری ملازم بیرونِ ملک کاروبار اور رہائش رکھتے ہیں مگر جواب دہی سے بالاتر ہیں۔

    اگر خواجہ آصف واقعی اصلاح چاہتے ہیں تو ان کے پاس کئی راستے ہیں، دوہری شہریت رکھنے والے سرکاری افسران کے لیے سخت قانون سازی، سفارش کلچر کے خاتمے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، اور پٹواری نظام کی مکمل ڈیجیٹل تبدیلی۔ 2022 میں تجویز دی گئی تھی کہ دوہری شہریت رکھنے والے افسران کو اعلیٰ عہدوں سے روکا جائے — اگر خواجہ آصف واقعی سنجیدہ ہیں تو وہ اس تجویز کو قانون کی شکل دے سکتے ہیں۔ اسی طرح نیب اور ایف آئی اے کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ غیر ملکی مفادات رکھنے والے افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر سکیں۔

    فوج اور سول سروس کے درمیان خواجہ آصف کا تقابلی نکتہ اخلاقی اعتبار سے درست ہےکہ فوجی اپنی جان دیتے ہیں، جبکہ سول افسران اکثر نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر اصلاح کی بات صرف تقریروں اور ٹویٹس تک محدود رہے تو یہ تضاد برقرار رہے گا۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر ایک وزیر، جو اقتدار کا حصہ ہے، عملی اقدامات نہیں اٹھاتا تو پھر اصلاح کون کرے گا؟

    یہ صرف کسی ایک وزیر یا ادارے کا نہیں بلکہ پورے نظام کا امتحان ہے۔ خواجہ آصف کی تنقید ایک آئینہ ہے جو ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ نظام کی خرابیوں کا اعتراف تو سب کرتے ہیں، مگر اصلاح کا بوجھ کوئی نہیں اٹھاتا۔ آخر کب تک ہم یہ سوال دہرائیں گے کہ "ملک ہمارے لیے کیا کرے؟” اب وقت ہے کہ حکمران خود جواب دیں کہ وہ ملک کے لیے کیا کر رہے ہیں۔

  • نو پارکنگ بورڈ کے بغیر لفٹر کے چالان

    نو پارکنگ بورڈ کے بغیر لفٹر کے چالان

    نو پارکنگ بورڈ کے بغیر لفٹر کے چالان
    تحریر: سرمد خان چنگوانی
    📧 Sarmadchangwani1@gmail.com
    ڈیرہ غازی خان شہر جنوبی پنجاب کا ایک اہم اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا علاقہ ہے۔ یہاں کی سڑکیں، بازار، سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے روز بروز مصروف ہوتے جا رہے ہیں۔ مگر اس بڑھتی ہوئی شہری سرگرمی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں سب سے نمایاں مسئلہ ٹریفک پولیس کی جانب سے گاڑیوں کے لفٹر کے ذریعے چالان کا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں "نو پارکنگ” کا کوئی واضح بورڈ موجود نہیں ہوتا۔ شہریوں کے لیے یہ صورتحال نہ صرف پریشانی کا باعث بنتی ہے بلکہ انصاف اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔

    شہر کے مختلف مقامات پر دیکھا گیا ہے کہ ٹریفک پولیس کی لفٹر گاڑیاں اچانک آتی ہیں اور بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وارننگ کے کھڑی گاڑیوں کو اٹھا کر تھانے یا مخصوص پارکنگ یارڈ میں منتقل کر دیتی ہیں۔ بعد ازاں گاڑی کے مالک کو جرمانے کے ساتھ ساتھ لفٹنگ چارجز بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی جگہ پر "نو پارکنگ” کا بورڈ یا کوئی واضح نشانی نصب ہی نہیں کی گئی تو عام شہری کو کیسے معلوم ہوگا کہ یہ جگہ ممنوعہ ہے؟ کیا شہریوں کو سزا دینے سے پہلے ان کو آگاہ کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بنتی؟

    قانون کے مطابق موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 اور ٹریفک پولیس کے جاری کردہ قواعد میں واضح طور پر درج ہے کہ پارکنگ کی ممانعت صرف اسی جگہ قابلِ اطلاق ہوگی جہاں اس کی باقاعدہ نشاندہی کی گئی ہو۔ اگر کسی سڑک یا علاقے میں "نو پارکنگ”کا سائن بورڈ یا نشان نصب نہیں، تو شہری کو یہ علم ہونا ناممکن ہے کہ وہاں گاڑی کھڑی کرنا جرم سمجھا جائے گا۔ قانون کی روح یہی ہے کہ پہلے آگاہی دی جائے، پھر کارروائی کی جائے۔ مگر بدقسمتی سے ڈیرہ غازی خان میں اس اصول پر عملدرآمد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

    کئی شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ان کی گاڑیاں بازاروں یا دفاتر کے قریب اس وقت لفٹ کر لی گئیں جب وہ چند منٹ کے لیے کوئی کام نمٹانے گئے تھے۔ جب وہ واپس آئے تو نہ گاڑی موجود تھی، نہ کوئی نوٹس، اور بعد میں پتا چلا کہ چالان بھی ہو چکا ہے۔ بعض اوقات تو وہ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں برسوں سے لوگ اپنی گاڑیاں پارک کرتے آ رہے ہیں۔ اب اچانک اگر وہاں لفٹر کارروائی شروع کر دے تو عوام کو بغیر اطلاع کے سزا دینا انصاف کے منافی ہے۔

    یہ بھی قابلِ غور ہے کہ”نو پارکنگ” کے بورڈ صرف لگانا کافی نہیں ہوتا بلکہ انہیں نمایاں اور واضح مقام پر نصب کیا جانا ضروری ہے۔ اکثر جگہوں پر بورڈ ایسے لگائے جاتے ہیں جو درختوں، دکانوں کے سائن بورڈز یا بجلی کے کھمبوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں، جس کے باعث وہ عام نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ اس طرح شہری نادانستہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ پارکنگ سے سڑکوں پر رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، ٹریفک جام لگتا ہے اور ہنگامی سروسز متاثر ہوتی ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک درست مؤقف ہے، مگر اس کے لیے شہریوں کو شریکِ سفر بنایا جائے، ان کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ انہیں قائل کیا جائے۔ اگر شہر میں باقاعدہ پارکنگ پلان تیار کیا جائے، پارکنگ ایریاز مخصوص کیے جائیں، اور "نو پارکنگ” کی واضح نشاندہی کی جائے تو عوام خود بخود تعاون کریں گے۔

    ڈیرہ غازی خان میں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ پہلے شہری سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ پارکنگ کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں، سڑکوں کے کنارے واضح نشانات لگائے جائیں، اور ٹریفک پولیس کو پابند کیا جائے کہ وہ صرف اُن گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے جو واقعی ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہی ہوں۔ عوام پر جرمانے عائد کرنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان کو قانون کے بارے میں تعلیم دی جائے۔

    یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ٹریفک قوانین عوام کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں، عوام کو تکلیف پہنچانے کے لیے نہیں۔ اگر قانون پر عملدرآمد شفاف، غیرجانبدار اور واضح طریقے سے کیا جائے تو عوام اس کا احترام کریں گے۔ لیکن اگر کسی شہری کو بغیر اطلاع کے سزا دی جائے تو اس سے نہ صرف عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

    ڈیرہ غازی خان کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ٹریفک نظام میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کرے۔ شہریوں کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے، بورڈز کو واضح اور یکساں معیار کے مطابق لگایا جائے، اور جہاں بورڈ موجود نہیں وہاں لفٹر کارروائی فوری طور پر روک دی جائے۔ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی، شفافیت اور انصاف ہی وہ راستہ ہے جس سے ٹریفک کا نظام بہتر ہو سکتا ہے اور شہری اداروں پر اعتماد بحال رہتا ہے۔

  • سیالکوٹ: باغی ٹی وی میں نئے نمائندوں کی شمولیت، مثبت اور عوامی خدمت پر مبنی صحافت کے نئے عزم کا آغاز

    سیالکوٹ: باغی ٹی وی میں نئے نمائندوں کی شمولیت، مثبت اور عوامی خدمت پر مبنی صحافت کے نئے عزم کا آغاز

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ،ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو)سیالکوٹ میں باغی ٹی وی کی ٹیم میں نئے نمائندوں کی شمولیت کے ساتھ مثبت اور ذمہ دار صحافت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا۔ ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو نے سٹی رپورٹر محمد جمال اور نامہ نگار محمد طلحہ کو خوش آمدید کہا اور انہیں باغی ٹی وی کا لوگو پیش کرتے ہوئے دلی مبارکباد دی۔

    اس موقع پر مدثر رتو نے کہا کہ باغی ٹی وی نے ہمیشہ سچائی، عوامی مسائل اور مثبت صحافت کو اپنی ترجیح بنایا ہے، اور اب نئی ٹیم کے ساتھ یہ عزم مزید مضبوط ہو گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحافت صرف خبر پہنچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کا مؤثر ہتھیار ہے۔

    تقریب میں شہر کے عوامی و سماجی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے عہد کیا کہ وہ غیرجانبداری، سچائی اور عوامی خدمت کو اپنے پیشہ ورانہ اصولوں کا حصہ بناتے ہوئے صحافت کو بہتر سمت میں لے جائیں گے۔

    ملاقات خوشگوار اور پرجوش ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس نے باغی ٹی وی کے اس عزم کو ایک بار پھر تازہ کر دیا کہ وہ "سچ کی آواز، عوام کے ساتھ” کے مشن پر ہمیشہ قائم رہے گا۔

  • اوکاڑہ: دھی رانی پروگرام کے تحت 155 بچیوں کی اجتماعی شادی

    اوکاڑہ: دھی رانی پروگرام کے تحت 155 بچیوں کی اجتماعی شادی

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی نامہ نگار ملک ظفر)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے دھی رانی پروگرام کے تیسرے مرحلے کے تحت اوکاڑہ کے جناح اسٹیڈیم میں 155 بچیوں کی اجتماعی شادی کی پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں صوبائی وزیر برائے سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی، جب کہ ایم این اے چوہدری ریاض الحق جج، لیگی رہنما محمد اجمل، ضلعی انتظامیہ کے افسران، دیگر محکموں کے نمائندگان اور دلہنوں کے اہلِ خانہ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے متوسط گھرانوں کی بچیوں کے لیے 2 لاکھ روپے مالیت کے سلامی کارڈز کا تحفہ دیا گیا۔ شادی شدہ جوڑوں اور ان کے والدین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس فلاحی اقدام پر اظہارِ تشکر کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعائیں کیں۔

    صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ دھی رانی پروگرام نے پنجاب کی ہزاروں بیٹیوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق گراس روٹ لیول تک متوسط گھرانوں کی بیٹیوں کو حکومتی ثمرات پہنچ رہے ہیں، اور اگلے سال دھی رانی پروگرام کے تحت مزید 5 ہزار اجتماعی شادیاں کروائی جائیں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھ دی ہے، آج پنجاب کی ہزاروں بیٹیوں کی آنکھوں میں خوشیاں اور والدین کے دلوں میں شکرگزاری ہے۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی بیٹیوں کی شادیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت پنجاب تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔

    سہیل شوکت بٹ نے کہا کہ بحیثیت صوبائی وزیر، پنجاب کی بیٹیوں کی خدمت ان کے لیے روحانی اطمینان کا باعث ہے، اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ماں ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے ثابت کر دیا ہے کہ وہ واقعی پنجاب کی بیٹیوں کی محافظ ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی خدمت کا یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔

  • گوجرانوالہ: جینم کینسر ہسپتال میں ورلڈ میموگرافی ڈے کی مناسبت سے آگاہی واک اور سیمینار کا انعقاد

    گوجرانوالہ: جینم کینسر ہسپتال میں ورلڈ میموگرافی ڈے کی مناسبت سے آگاہی واک اور سیمینار کا انعقاد

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)جینم کینسر ہسپتال جو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا ذیلی ادارہ ہے، میں ورلڈ میموگرافی ڈے کے موقع پر خواتین میں چھاتی کے کینسر سے بچاؤ، تشخیص اور آگاہی سے متعلق سیمینار اور واک کا اہتمام کیا گیا۔

    تقریب سے کنسلٹنٹ انکالوجسٹ ڈاکٹر بتول شفیق، ہیڈ آف آنکالوجی ڈاکٹر محسن رضا، سابق ڈائریکٹر جینم ہسپتال ڈاکٹر سہیل مراد، ڈائریکٹر جینم کینسر ہسپتال ڈاکٹر عاصمہ سہیل، دیگر ماہر ڈاکٹرز، سائنس دانوں اور شہریوں نے شرکت کی۔ واک جینم کینسر ہسپتال سے شروع ہو کر سیالکوٹ روڈ پر اختتام پذیر ہوئی، جس میں شرکاء نے آگاہی بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

    ڈاکٹر بتول شفیق نے کہا کہ اکتوبر کا مہینہ دنیا بھر میں چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 2022 کے اعدادوشمار کے مطابق ہر 100 کینسر مریضوں میں سے 16.5 فیصد خواتین کو چھاتی کا کینسر لاحق ہوتا ہے۔ روزانہ 20 سے 25 منٹ تیز واک کینسر کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ہے۔

    ڈاکٹر عاصمہ سہیل نے بتایا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت 21 کینسر سینٹرز ملک بھر میں کام کر رہے ہیں، جہاں 70 سے 80 فیصد کینسر مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت تشخیص سے کینسر کا علاج ممکن ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 2.3 ملین خواتین چھاتی کے کینسر کا شکار ہوتی ہیں، جبکہ ایشیائی ممالک میں پاکستان اس مرض کی بلند ترین شرح رکھنے والا ملک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کینسر سے بچاؤ کے لیے تازہ پھل، سبزیاں، سادہ اور متوازن غذا اپنائیں، فاسٹ فوڈ، بڑا گوشت اور مرغن کھانوں سے پرہیز کریں۔ خواتین 20 سال کی عمر کے بعد اپنی چھاتی کا خود معائنہ کریں اور 40 سال کے بعد سالانہ میموگرافی ٹیسٹ ضرور کروائیں۔

    ڈاکٹر عاصمہ سہیل نے مزید کہا کہ کینسر کی پہلی، دوسری اور تیسری اسٹیج میں علاج ممکن ہے، لہٰذا کسی بھی گلٹی یا جسمانی تبدیلی کی صورت میں فوری معائنہ کروائیں۔ حاملہ خواتین بھی کینسر کا علاج کرا سکتی ہیں۔ کینسر سے گھبرانے کے بجائے احتیاطی تدابیر اپنانا ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ "ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ کینسر کے خلاف آگاہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔” سیمینار کے اختتام پر شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیے گئے۔

  • سیالکوٹ: 900 سال قدیم شوالہ تیجا سنگھ مندر کی بحالی شروع، رمیش سنگھ اروڑا

    سیالکوٹ: 900 سال قدیم شوالہ تیجا سنگھ مندر کی بحالی شروع، رمیش سنگھ اروڑا

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی نامہ نگار محمد طلحہ)صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور پنجاب سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات پر سیالکوٹ کے 900 سال قدیم شوالہ تیجا سنگھ مندر کو بحال کیا جا رہا ہے۔ والڈ سٹی اتھارٹی کی ٹیم جلد ہی مندر کا دورہ کرے گی اور بحالی کے عمل کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔

    یہ بات انہوں نے شوالہ تیجا سنگھ مندر میں دیوالی گرانٹ کے چیکس اور تحائف تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ جاوید، ڈپٹی سیکرٹری اقلیتی امور و انسانی حقوق عمر حیات، اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ رانا صفدر شبیر، ڈی ایس پی طارق ٹھڈی، پنڈت جشپال، حکیم رتن لال، سردار جسکرن سنگھ سدھو، ذیشان جاوید، سائیں داس، روی کمار اور ہندو کمیونٹی کے دیگر افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ہندو برادری نے تقریب کے دوران مذہبی رسومات بھی ادا کیں۔

    سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ شوالہ تیجا سنگھ مندر کے ساتھ ساتھ پورن بھگت کے کھوہ کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور ان کے تہواروں کے موقع پر وزیراعلیٰ، کابینہ اراکین اور سرکاری افسران بھی شریک ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت تمام مذاہب اور طبقات کو برابر مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ملک کی ترقی میں سب اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ پاکستان کے آئین کے مطابق تمام اقلیتوں کو برابر کا شہری تسلیم کیا گیا ہے، اور قائدِاعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کی اپنی تاریخی تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام افراد برابر کے شہری ہیں اور اپنی عبادتگاہوں میں مکمل آزادی رکھتے ہیں۔

    رمیش سنگھ اروڑا نے بھارت کی مذہبی تنگ نظری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیکولر ازم کے دعویدار بھارت نے کرتارپور راہداری کو پانچ ماہ سے بند کر رکھا ہے، جب کہ پاکستان نے تمام سکھ یاتریوں کے لیے اپنے مقدس مقامات کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں سکھوں کے مقدس مقام "بابے دی بیری” کی بحالی میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کا کلیدی کردار ہے، جس پر سکھ کمیونٹی ان کی شکر گزار ہے۔

  • پسرور: بغیر ہیلمٹ و نمبر پلیٹ موٹرسائیکل سواروں کے خلاف ٹریفک پولیس کا بڑا ایکشن

    پسرور: بغیر ہیلمٹ و نمبر پلیٹ موٹرسائیکل سواروں کے خلاف ٹریفک پولیس کا بڑا ایکشن

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی نامہ نگار مدثر رتو)پسرور میں ٹریفک پولیس نے شہریوں کی حفاظت اور سہولت کے لیے اہم کارروائی کا آغاز کر دیا۔ انچارج ٹریفک انسپکٹر ملک ذیشان حسین نے ڈی ایس پی صدر عدنان قاسم کی زیرِ قیادت متعدد بار شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ موٹرسائیکل پر نمبر پلیٹ لگوائیں اور ہیلمٹ کا استعمال یقینی بنائیں، تاہم شہریوں کی عدم توجہ پر پولیس نے سخت کارروائی شروع کر دی۔

    انسپکٹر ملک ذیشان کے مطابق بغیر ہیلمٹ اور بغیر نمبر پلیٹ موٹرسائیکل سواروں کے خلاف کارروائیوں کے دوران لاکھوں روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ شہریوں کی سہولت کے لیے فری ہیلمٹس بھی تقسیم کیے گئے، مگر بیشتر افراد نے ٹریفک قوانین کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے مطابق “صاف اور محفوظ پنجاب” مہم کے تحت سموگ پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف بھی سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ اب تک 1500 سے زائد شہریوں کے چالان کیے جا چکے ہیں۔

    ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہیلمٹ کا استعمال کریں، موٹرسائیکل پر نمبر پلیٹ لازمی لگوائیں اور خود کو حادثات سے محفوظ رکھیں۔

  • بہاولنگر: صوبائی وزیر بلال یاسین کا دورہ، سیلاب متاثرین میں امدادی اے ٹی ایم کارڈز تقسیم

    بہاولنگر: صوبائی وزیر بلال یاسین کا دورہ، سیلاب متاثرین میں امدادی اے ٹی ایم کارڈز تقسیم

    بہاولنگر (باغی ٹی وی نامہ نگار محمد عرفان)صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے بہاولنگر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر (TTC) میں سیلاب متاثرین کے لیے قائم خصوصی کاؤنٹر کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے متاثرین میں امدادی رقم کے اے ٹی ایم کارڈز تقسیم کیے اور امدادی عمل کی شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    بعد ازاں صوبائی وزیر نے ڈپٹی کمشنر آفس میں ضلعی افسران سے ملاقات کی، جہاں ڈپٹی کمشنر ذوالفقار احمد بھون نے ترقیاتی منصوبوں، سیلاب متاثرین کی بحالی اور عوامی ریلیف سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    بلال یاسین نے کہا کہ پنجاب حکومت وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جا رہے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے ضلع میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

    انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب عوامی خدمت کے مشن پر گامزن ہے اور ہر طبقے کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔