Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • زندیقِ قادیان کے نئے وار

    زندیقِ قادیان کے نئے وار

    زندیق قادیان کے نئے وار
    از قلم غنی محمود قصوری
    نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر نبی ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع بھی ہے اور عقیدہ بھی جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے
    مسلمانوں کا جذبہ جہاد کسی سے چھپا نہیں جس سے غیر مسلم بہت تنگ تھے، سو کسی نا کسی ہر دور میں غیر مسلموں نے اس جذبے کو ختم کرنا چاہا اور مسلمانوں کو ان کے اصل دین سے دور کرنے کی تدبیریں کیں جس کی راہ میں ہمیشہ علمائے حق نے اپنی جانوں تک کی قربانیاں دے کر لوگوں کو فتنوں سے آگاہ فرمایا "خاص طور پہ علمائے کرام نے ختم نبوت پر دن رات ایک کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی ”

    1857 کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں میں اصل دین اسلام سے دوری پیدا کرنے اور راہ جہاد سے فرار کروانے کیلئے برصغیر پر قابض انگریز بے ایمان نے ایک فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں کھڑا کیا جو انگریز سرکار کا پالتو تھا اور ضلع کچہری سیالکوٹ میں منشی تھا

    مرزا غلام احمد قادیانی زندیق 13 فروری 1835 کو بھارتی پنجاب کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے گاؤں قادیان میں پیدا ہوا جس نے پہلے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر 1888 کو آخری نبی ہونے کا دعویٰ کیااور آخر کار اس زندیق نے 23 مارچ 1889 کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لے کر جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی اور خود کو آخری نبی ظاہر کرکے لوگوں کو اپنے خودساختہ احمدی،قادیانی دین کی دعوت دی جس میں انگریز سرکار نے اس کی معاونت کی اور اسے مالی معاونت بھی فراہم کی

    مزرا زندیق مر گیا تو اس کے بعد مزید زندیق اس کے جانشین بنتے گئے ،یہ سلسلہ چلتا رہا اور آخر کار پاکستان معرض وجود میں آ گیا،اس وقت تک قادیانی بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے تھے اور پاکستان کیساتھ پوری دنیا میں پھیل چکے تھے،یہ زندیق اپنے دین کی تبلیغ کرتے اور پاکستان میں اعلی عہدوں پہ فائز ہوتے گئے اور دین اسلام سے سادہ لوح لوگوں کو دور کرتے چلے گئے

    علمائے حق اور غیور مسلمانوں و سیاستدانوں نے اس فتنے کی سرکوبی کے لئے ان کی تبلیغ کو ختم کرنے کی خاطر اور ان کو غیر مسلم قرار دینے کیلئے 7 ستمبر 1974 کو متفقہ طور پہ قرار داد منظور کی
    آئین پاکستان کی شق 106 (2) اور 260 (3) میں اس کا اندارج کیا اور ان کو ان کی اصل اوقات دکھلائی ، بالآخر 26 اپریل 1984 کو حکومت پاکستان نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا اور ایک نئی فوجداری دفعہ 298/C کا اضافہ کیا جس کی رو سے قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اور اپنے مذہب کو اسلامی شعائر سے تشبیہہ نہیں دے سکتے

    1993 میں SCMR 1718 کی رو سے کوئی قادیانی خود کو نا تو مسلمان کہلوا سکتا ہے نا ہی اپنے قادیانی مذہب کی تبلیغ کر سکتا ہے اور کوئی قادیانی ایسا کرتا ثابت ہوا تو وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C اور 298-C کے تحت سزائے موت کا مرتکب ہو گیا

    جب سے یہ آرڈیننس جاری ہوا تب سے قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ میں رکاوٹ محسوس ہونے لگی اور ان زندیقوں نے اپنا طریقہ کار بدلا اور سادا لوح مسلمانوں کو پیسے و عورتوں کا لالچ دے کر اپنی تبلیغ شروع کی،وقت بدلتا گیا علمائے کرام اور غیور مسلمان ان زندیقوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر ان کی گندی تبلیغ آگے بند باندھ کر کھڑے رہے

    اب ان زندیقوں نے ڈیجیٹل دور کا سہارا لیا اور اپنے جعلی دین کی تبلیغ کرنے اور دین اسلام کو بدنام کرنے کی خاطر سوشل میڈیا پر لوگوں کو ورغلانا شروع کر دیا،گذشتہ دنوں معروف سوشل ویب سائٹ ٹک ٹاک پر کام کرنے والی ایک غیر مسلم لڑکی کا انٹرویو سامنے آیا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ وہ ایک غیر مسلم ہے اور ٹک ٹاک پہ کافی مشہور بھی ہے

    اس کی مشہوری کا فائدہ اٹھا کر قادیانیوں نے اسے تحفے تحائف دے کر اس کی ٹک ٹاک آئی ڈی کا نام مسلمان عورت کے نام سے رکھوایا اور اسے مالی سپورٹ کرتے ہوئے اس سے فحش ویڈیوز بنوائیں اور قادیانیت کی تبلیغ کا کام بھی لیا،اس جیسی کئی وارداتیں سامنے آ چکی ہیں ،نیز یہ لوگ سکول و کالج و یونیورسٹی سے ہی لوگوں میں پیسے،عہدے اور عورت کا لالچ بھرتے ہیں اور لوگوں کو قادیانی بنا رہے ہیں

    ان زندیقوں کا مقصد مملکت خداداد پاکستان میں قادیانیت کو فروغ دے کر تمام عہدوں تک رسائی حاصل کرنا ہے تاکہ غیر مسلم ممالک کے پاکستان بارے نظریات کو عملی جامع پہنایا جا سکے

    یہ سلسلہ گذشتہ چند سالوں سے قادیانیوں نے اپنایا ہوا ہے جس کے نتائج بڑے خطرناک نکل سکتے ہیں اس لئے ان زندیقوں کے خلاف فوری سخت ترین کارروائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو ان کے مذموم عزائم سے باز رکھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو بچایا جا سکے

    اس وقت دنیا بھر میں قادیانیوں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے جو اپنے مذہب کی تبلیغ کی خاطر پوری دنیا میں سرعام پیسے،عورت،عہدے کا لالچ دے کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ہمیں بطور سچے مسلمان ان کے مذموم عزائم کو عملی زندگی کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی روکنا ہو گا کیونکہ ایک مسلمان کے نزدیک عقیدہ ختم نبوت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی حرمت پر
    خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

    ان شاءاللہ ان زندیقوں کا مقابلہ ہر محاذ پر کرینگے

  • سیالکوٹ:ملکھانوالہ پل سمبڑیال نہر سے تیرتی ہوئی لاش برآمد

    سیالکوٹ:ملکھانوالہ پل سمبڑیال نہر سے تیرتی ہوئی لاش برآمد

    سیالکوٹ، باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض سے)ملکھانوالہ پل سمبڑیال نہر سے تیرتی ہوئی لاش برآمد

    تفصیل کت مطابق ملکھانوالہ پل سمبڑیال کینال میں لاش تیرنے کی اطلاع پر ریسکیو کی کارروائی،ریسکیو نے لاش کو نکال کر نہرکنارےرکھ دیا اورپولیس کواطلاع دی

    پولیس نے موقع نہرسے برآمد نامعلوم لاش کے متعلق تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ24سالہ شعیب رائے پور کے رہائشی کی گمشدگی کی اطلاع تھانہ سمبڑیال میں درج کروائی گئی تھی

    بعدازاں لواحقین کی جانب سے لاش کی شناخت پر قانونی کارروائی کے پولیس نے لاش ورثاء کے حوالے کردی.

  • ڈیرہ غازی خان:یوٹیلٹی سٹور گھنٹہ گھر پرسستے آٹے کاحصول شہریوں کیلئے وبال جان بن گیا

    ڈیرہ غازی خان:یوٹیلٹی سٹور گھنٹہ گھر پرسستے آٹے کاحصول شہریوں کیلئے وبال جان بن گیا

    ڈیرہ غازی خان، باغی ٹی وی (نیوز رپورٹر شاہد خان)یوٹیلٹی سٹور گھنٹہ گھر پرسستے آٹے کاحصول شہریوں کیلئے وبال جان بن گیا

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان گھنٹہ گھر یوٹیلٹی سٹور پر آنے والا رمضان پیکج آٹا لوگوں کے لیے وبال جان بن گیا ،مرد اور خواتین یوٹیلٹی سٹور پر آٹے کے 10کلو گرام ایک تھیلے کے لیے روڈ پر لمبی قطاریں لگا کر ذلیل ہو رہے ہوتے ہیں

    بزرگ خواتین کا بھی کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا ان کو بھی قطار میں کھڑا کر ذلیل کیا جاتا ہے اسٹور کیپر جو اٹا دیتےوقت اپنے آپ کو وقت کا جلاد سمجھتے ہیں وہ بزرگ خواتین کو بھی دھکے دینے سے باز نہیں آتے ،یوٹیلٹی سٹور پر خواتین کی عزت اور احترام کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا

    یہاں پرآٹے کے لیے عورتوں کی تذلیل کی جاتی ہے روڈ پر لمبی قطاریں لگوائی جاتی ہیں روڈ پر بٹھایا جاتا ہے بزرگ خواتین کو دھکے مارے جاتے ہیں عورتوں کی عزت اور پردے کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتادوسری جانب مرد بیچاروں کو لمبی قطاریں لگوا کر علیحدہ سے ذلیل کیا جاتا ہے

    رعائتی آٹاکے ساتھ یوٹیلٹی سٹورزوالےشہریوں کو زبردستی ایسی اشیاء بھی خریدنے پر مجبورکرتے ہیں جن کی انہیں ضرورت بھی نہیں ہوتی یا جن کے پاس اضافی اشیاء خریدنے کے کیلئے رقم نہیں ہوتی انہیں آٹا نہیں دیاجاتا،اس غریب شہری کی تذلیل کرکے دھکے دیکر باہر نکال دیا جاتا ہے،

    روڈ پر لمبے قطاروں کی وجہ سے شہریوں کو بھی بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے .

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سےنوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے

  • منڈی بہاؤالدین:گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سویہ میں سالانہ نتائج کی پروقار تقریب

    منڈی بہاؤالدین:گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سویہ میں سالانہ نتائج کی پروقار تقریب

    منڈی بہاؤالدین باغی ٹی وی ( افنان طالب نامہ نگار ) گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سویہ ضلع منڈی بہاوالدین میں سالانہ نتائج کی پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں طلبہ کےساتھ ساتھ والدین اور علاقہ کی معروف شخصیات حاجی محمد ریاض سابق چیئرمین یوسی سویہ ‘ ماسڑ مظفر حسین امریکہ اور دیگر معززین نے بھرپور شرکت کی اور تقریب کی رونق کو دو بالا کیا

    تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قران پاک سے کیا گیا بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا ،رئیس مدرسہ یاسر عرفات رانجھا اساتذہ کرام اور مہمانوں نے پوزیشن ہولڈر بچوں میں انعامات تقسیم کیے۔

    نقابت کے فرائض عبدالرحمن اور عامر فاروق نے سر انجام دئیے،آخر میں رئیس مدرسہ یاسر عرفات رانجھا نے اپنے خطاب میں تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے قیمتی لمحات میں سے بچوں کی خوشی کے لیے وقت نکالا اور نتائج کی تقریب میں شرکت کی۔

    انھوں نے والدین اور طلبہ کو یہ خوشخبری سنائی کہ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سویہ میں نئے سیشن کا آغاز یکم اپریل2024 سے کیا جا رہا ہے والدین اور طلباء سے کہا کہ بچوں کو نئے سیشن کے لیے سکول بھیجیں۔

    آخر میں امت مسلمہ ملک وقوم کی ترقی و خوشحالی اور سکول کی فلاح و بہبود کے لیے دعائیں کی گئیں۔

  • منڈی بہاؤالدین :پتنگ بازی ایک خونی کھیل ،ٹریفک پولیس نے شہریوں کو حفاظتی آگاہی دی

    منڈی بہاؤالدین :پتنگ بازی ایک خونی کھیل ،ٹریفک پولیس نے شہریوں کو حفاظتی آگاہی دی

    منڈی بہاؤالدین، باغی ٹی وی ( افنان طالب نامہ نگار وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف اور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے احکامات پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رضا صفدر کاظمی کی زیر نگرانی شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنانے کیلئے ٹریفک پولیس ایجوکیشن یونٹ مصروف عمل

    پتنگ بازی ایک خونی کھیل جسکے پیش نظر ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر نے دیگر سٹاف کے ہمراہ شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے شاہراوں پر موجود موٹر سائیکل سوار کو اس حوالے سے نہ صرف آگاہی دی بلکہ انکے سفر کو محفوظ بنانے کیلئے انکے موٹر سائیکلوں پر حفاظتی وائرز لگائی اور ہیلمٹ کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کی

    انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل سوار حفاظتی وائر کے استعمال کو یقینی بنائیں جبکہ منڈی بہاؤالدین پولیس کی جانب سے ضلع بھر میں شہریوں کے موٹر سائیکل پر حفاظتی وائر لگانے کا سلسلہ جاری ہے

    نیز لائن لین ،ہیلمیٹ اور لائسنس کی آگاہی کے حوالے سے پمفلٹ تقسیم کئے گئے اور بریف کیا گیا

  • ٹھٹھہ :پولیس کی کارروائی،رہزنی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ملزم ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    ٹھٹھہ :پولیس کی کارروائی،رہزنی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ملزم ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (نامہ نگاربلاول سموں) جرائم پیشہ عناصرکے خلاف کارروائیاں جاری رکھتے ہوئی ٹھٹہ پولیس کی اہم کامیابی،رہزنی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ملزم ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار،جرائم میں استعمال کی گئی پسٹل اور چھینا ہوا موبائل فون بھی برآمد،

    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ گھارو سب انسپکٹر محمد انور شر بمعہ اسٹاف نے دوران گشت خفیہ اطلاع ملنے پر شاہین فارم سیم نالی بابڑا اسٹاپ کے قریب پہنچے تو پولیس اور ملزمان میں فائرنگ کے تبادلے میں 1 ملزم زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا جس کی شناخت نور محمد ولد محمد عمر سومرو رہائشی تحصیل شاہ کریم ضلع ٹنڈو محمد خان ہوئی۔

    ابتداعی تفتیش کے دوران ملزم نے موٹر سائیکل رابری ، رہزنی، ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے، جس کا کریمنل ریکارڈ طلب کیا جارہا ہے۔

    گرفتار کریمنل کے قبضے سے جرائم میں استعمال کی گئی پسٹل برآمد اور رابری کے دوران چھینا ہوا موبائل فون بھی برآمد ہوئاہے۔
    کیس کی مزید تفتیش جاری ہے

  • جھل مگسی:اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے تاجر ڈاکوؤں کے نشانے پر آگئے،پولیس تحفظ دینے میں ناکام

    جھل مگسی:اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے تاجر ڈاکوؤں کے نشانے پر آگئے،پولیس تحفظ دینے میں ناکام

    جھل مگسی،باغی ٹی وی (نامہ نگار رحمت اللہ بلوچ )اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے تاجر ڈاکوؤں کے نشانے پر آگئے،پولیس تحفظ دینے میں ناکام ،
    بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں اقلیتی برادری کے خلاف جرائم میں اضافہ پر سماجی حلقوں میں شدید تشویش حکام بالا سے گنداواہ سے عوامی سماجی حلقوں نے اقلیتی برادری کو لوٹنے والے ملزمان کی گرفتاری اور اقلیتیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔

    عوامی وسماجی حلقوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گنداواہ کے اقلیت عدم تحفظ کی شکار ہیں 11 دسمبر 2023 کو اقلیتی تاجر انند رام کو گنداواہ بازار میں ان کی دکان میں گھس کر مسلح افراد نے تشدد کرکے 4 لاکھ 30 ہزار نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے ،پھر 27 جنوری 2024 کو اقلیتی برادری کے جیولر نریش کمار اپنی دکان میں بیٹھے ہوئے تھے مسلح افراد نے دکان میں گھس کر اسلحہ کی زور پر تشدد کرکے 8 لاکھ 80 ہزار نقدی 400 سو تولہ چاندی قیمتی موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے ان واقعات میں ملوث افراد کی تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی

    گنداواہ پولیس نے لوٹ مار کرنے والے ملزمان کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی اور اب تک ملزمانوں کا سراغ لگانے میں بھی گنداواہ پولیس نا کام رہی ہے،

    ذرائع کے مطابق 27 اور 28 مارچ کو اقلیتی برادری کے کم سن ایک بچے اور بچی کو اغوا ٕ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کو شہریوں کی مداخلت پر چھوڑ دیا گیا گنداواہ انتظامیہ ایسے ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنائے تاکہ اقلیتی برادری کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بھی بند ہوکیونکہ اس وقت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی خوف ہراس میں زندگی بسر کررہے ہیں

    گنداواہ عوامی وسماجی حلقوں نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے اوراقلیتیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔تاکہ وہ آزادی سے بے خوف وخطراپنے معمولات زندگی بسرکرسکیں

  • گوجرانوالہ: عدالت نے 9 مئی کے کیسز میں 51 مجرموں کو 5، 5 سال قید کی سزا سنا دی

    گوجرانوالہ: عدالت نے 9 مئی کے کیسز میں 51 مجرموں کو 5، 5 سال قید کی سزا سنا دی

    گوجرانوالہ ،باغی ٹی وی (نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) انسداد دہشت گردی عدالت کی جج نے نو مئی کو حساس تنصیبات پر حملے، جلاؤ گھیراؤ کے مقدمہ میں گرفتار51 ملزمان کو پانچ پانچ سال قید کی سزا کا حکم سنا دیا ہے۔انسداد دہشت گردی عدالت کی جج نے کیس کی سما عت سینٹرل جیل میں کی

    فاضل جج نے نو مئی کے واقعات میں گرفتار تمام 51 ملزمان کو مختلف دفعات کے تحت پانچ پانچ سال کی سزا کا حکم سنایا۔تین دفعات کے تحت 5,5سال قید 10 ہزارجرمانہ ،پانچ دفعات روڈبلاک،املاک کونقصان،موب جمع ہوناسمیت 1,1سال ،8دفعات میں51مجرمان کو20بیس سال قیدکی سزا
    عامر حسین،شہریار،امجد عباس ،محمدامجد،عمر شہزاد،کتب شاہ،عمران،محمد شیر،سعد علی ،محمد روشن،امجد علی ،قدیر احمد،محمد عبداللہ،منشور،محمد ابو بکر، عبدالمتین ،فیضان علی ،محمد فاروق ،جہانگیر،امداد اللہ مفیضان قیصر ،ارسلان اظہر،محمد شاہد،بابر رشید ،اصف اقبال،محمد عمر،عثمان ظفر،عبدالغفور،امتیاز حسین ،مقصود افضل،مکرم مصطفی ،سلمان ،اعجاز احمد ،محمد قاسم ،حق نواز ،ذیشان اسلم ،ماجد علی ،محمد عرفان ،احمد سعید،شعیب احمد،محمد ایاز،محمد عبداللہ،حکیم اللہ ،محمد سفیان ،محمدسلیم ،احسن محمود ،،عظمت اللہ ،عادل محمود ،شیراز،احسان اللہ شامل ہیں

    جبکہ سینٹرل جیل کی سیکورٹی ہا ئی الرٹ کر دی گئی تھی، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ واضح رہے نو مئی کو پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے احتجاج کے دوران حساس تنصیبات پر حملے کئے گئے تھے۔

    مظاہرین کے حملے میں ایک ایس پی سمیت پو لیس کے دس اہلکا ر زخمی اور ایک شہری قتل ہوا تھا، مظاہرین کی جانب سے چار گا ڑیاں بھی توڑی گئی تھیں۔

    نو مئی کو تھا نہ کینٹ پو لیس نے ایس ایچ او مدثر بٹ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا، پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہو لڈرز سمیت 23 نامزد اور تین سے چار سو نامعلوم افراد کیخلا ف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نو مئی کا مقدمہ زیر سما عت رہا، اس دوران پولیس نے مقدمہ میں ملوث 51 ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

    دہشت گردی عدالت پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما ؤں شاہ محمود قریشی ،مراد سعید،علی امین گنڈا پور سمیت متعدد رہنما ئوں کی جائیداد قرقی کا حکم بھی دے چکی ہے، مقدمہ میں نامزد پی ٹی آئی کے متعدد رہنما عدالتوں سے عبوری ضما نتوں پر ہیں۔

  • لنڈی کوتل :ڈی ایچ کیو ہسپتال میں آوارہ کتوں کا راج،بیشرکتے خطرناک جلدی بیماریوں میں مبتلا

    لنڈی کوتل :ڈی ایچ کیو ہسپتال میں آوارہ کتوں کا راج،بیشرکتے خطرناک جلدی بیماریوں میں مبتلا

    لنڈی کوتل،باغی ٹی وی (نصیب شاہ شینواری)ڈی ایچ کیوہسپتال میں آوارہ کتوں کے ڈیرے،بیشترکتے جلد کے موذی امراض میں مبتلا،خطرناک بیماریاں انسانوں کو منتقل ہونے کا خطرہ

    ضلع خیبر کے تحصیل لنڈی کوتل میں ڈی ایچ کیو ہسپتال لنڈی کوتل میں آوارہ کتوں نے ڈیرے ڈال کر ہسپتال کو اپنا مسکن بنالیا ہے۔ کچھ دن پہلے مذکورہ ہسپتال کے ڈی ایچ او اور ایم ایس ڈاکٹر ظفر کو ہسپتال میں آوارہ کتوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی۔ انھوں نے آوارہ کتوں کو ہسپتال سے نکالنے کا وعدہ کیا لیکن 20 بیس دن بعد بھی یہی کتے ہسپتال میں اٹکھیلیاں کرتے نظرآرہے ہیں۔

    لنڈی کوتل کے ایک فلاحی رہنما اختر علی شینواری نے میڈیا کو بتایا کہ ہسپتال کی موجودہ انتظامیہ ہسپتال کی حالت بہتر بنانے اور مریضوں کو سہولیات دینے میں ناکام ہے ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق ایم ایس ڈاکٹر شیرانی کو واپس اسی ہسپتال میں تعینات کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا مذکورہ ہسپتال میں گردوں کےڈائلیسزمشین اور دل کے مریضوں کے وارڈ میں موجودمشینری بھی غیر فعال ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ان مشینوں اور وارڈز کو فعال کیا جائے اور ہسپتال میں مریضو ں کو زیادہ صحت کی سہولیات دی جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈ اکٹرز کی حاضری کی بھی یقینی بنائی جائے اور ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی کو بھی پورا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ معمولی کیسز کے مریضوں اور زخمیوں کو پشاور ہسپتال ریفر کیا جاتا ہے۔

    ایک سماجی رہنما اسرار شینواری نے مذکورہ ہسپتال کے حوالے سے کہا کہ یہاں زیادہ ترڈاکٹرز و دیگر ہیلتھ سٹاف غیر حاضر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہسپتال آنے والےمریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ ہسپتال میں تعینات ڈاکٹرز و دیگر عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے اور غیر حاضر عملہ کے حلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

    مذکورہ ہسپتال میں سٹاف کی غیرحاضری کے حوالے سے ایک سرکاری محکمے کے اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے۔ نام نہ بتانے کی شرط پر اہلکار نے کہا کہ مذکورہ ہسپتال میں کچھ اہلکاروں نے ماہانہ طور پر ڈیوٹی کا پلان بنایا ہے ، وہ 15 دن ڈیوٹی کرتے ہیں اور 15 دن غیر حاضر ہوتے ہیں۔ اہلکار نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ہسپتال کے کچھ ڈاکٹرز سرکاری اپریشن تھیٹر کو 24 گھنٹے پرائیویٹ پریکٹس کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلہ کو متعلقہ انتظامی افسران کے ساتھ بھی زیر بحث لاچکے ہیں ، مقامی مشران، سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لنڈی کوتل کے سرکاری ہسپتال میں غیر حاضر عملہ کے خلاف فوری طور پرایکشن لیا جائے اور ہسپتال میں غریب مریضوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔

  • سیالکوٹ:سمبڑیال شہر کے اکلوتےمنی چلڈرن پارک پرکرکٹراور آوارہ لڑکے قابض،بچے اورخواتین خوف شکار

    سیالکوٹ:سمبڑیال شہر کے اکلوتےمنی چلڈرن پارک پرکرکٹراور آوارہ لڑکے قابض،بچے اورخواتین خوف شکار

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہد ریاض سے) تحصیل سمبڑیال شہرکا اکلوتا منی چلڈرن پارک کرکٹرزاورآوارہ لڑکوں کے نرغے میں آچکا ہےمعصوم بچے اور خواتین گیند لگنے اور آوارہ لڑکوں کی وجہ سے خوف وہراس کا شکار۔

    تفصیلات کے مطابق اندرون شہر بابوغلام نبی روڈ پر واقع سمبڑیال شہرکا اکلوتا منی چلڈرن پارک جو معصوم بچوں کی واحد تفریح گاہ کےطورپرجاناجاتاہے جس پرعرصہ دراز سے کرکٹرزاورآوارہ گرد لڑکوں نے قبضہ جمارکھا ہے۔کرکٹرزاور آوارہ لڑکوں نے چلڈرن پارک کے ساتھ اسلامیہ ہائی سکول کی وسیع گراونڈ کو چھوڑ کرچلڈرن پارک میں جھولوں کے آگے ٹف ٹائل کی عارضی وکٹیں بناکر کرکٹ کھیلنے،ٹائم پاس کرنے اور سگریٹ نوشی وغیرہ کے لیے چلڈرن پارک کواپنامسکن بنارکھا ہے۔

    روزانہ کی بنیادپر اکثر اوقات کرکٹ کھیلنے کے دوران بچوں کے آنے جانے کے خلل کو روکنے کے لیے گیٹ کے اندر سے کنڈی لگاکربچوں کا پارک میں داخلہ بند کردیاجاتا ہے۔جس پر پارک میں آنے والے بچے اورفیملیاں گیٹ کو بنداورپارک کی حدود میں آوارہ اورکرکٹ کھیلنے والوں کے قبضے کو دیکھ کرمایوس ہوکرواپس چلے جاتے ہیں۔

    شہریوں کااسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال سے اصلاح احوال کے لیے فوری نوٹس کا مطالبہ۔ یادرہے کہ چند سال قبل عوامی دباؤواسرارپر سمبڑیال انتظامیہ کی طرف سے لاکھوں روپے کے فنڈ سے نئے جھولے،خوبصورت بینچ،قیمتی پودے اور خوبصورت لائٹیں بھی لگائی گئی تھیں،جن کویہاں پر آنے والے آوارہ گرد لڑکوں اور کرکٹ کھیلنے والے منچلوں نے روزانہ کی بنیاد پر لائٹوں اورپودوں کوتوڑنے سمیت اجارہ داری قائم کرتے ہوئے انتظامیہ کی طرف سے شہریوں کے لیے رکھے گئے بینچز اور بچوں کے لیے لگائے گئے جھولوں کو نقصان پہنچاکرناکارہ کرکے چلڈرن پارک کوویران کردیاتھا۔

    اب سمبڑیال انتظامیہ کی جانب سے اس منی چلڈرن پارک کو ایک مرتبہ پھر ازسرنوخوبصورت کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال فوری طورپر نوٹس لیتے ہوئے چلڈرن پارک میں آنے والے آوارہ گرد لوگوں،سگریٹ نوشی اورکرکٹ کھیلنے پرپابندی کے ساتھ ساتھ چلڈرن پارک میں بغیر فیملی لڑکوں کے داخلے کے لیے عمر کی حد پرپابندی لگائی جائے اوراس پابندی اوراس پرقانونی کارروائی کے نمایاں بورڈ آویزاں کروائے جائیں تاکہ بچے اور خواتین بغیر کسی خوف وہراس کے چلڈرن پارک میں خوشگواروقت گزارکرلطف اندوزہوسکیں اور پارک کےپودے،جھولے اورلائٹیں بھی محفوظ رہ سکیں۔