Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: بوائز سکول میں سیکیورٹی اور سول ڈیفنس کی فرضی مشق

    اوکاڑہ: بوائز سکول میں سیکیورٹی اور سول ڈیفنس کی فرضی مشق

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) گورنمنٹ ایم سی بوائز ہائی سکول میں سیکیورٹی اور سول ڈیفنس کے حوالے سے ایک جامع فرضی مشق کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد طلبہ اور اساتذہ کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا تھا۔ اس اہم تربیتی پروگرام میں محکمہ سول ڈیفنس، مقامی پولیس، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے بھرپور شرکت کی۔ مشقوں کے دوران ماہرین نے طلبہ کو عملی طور پر یہ سکھایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران بروقت رسپانس کیسے دیا جاتا ہے تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ ان فرضی مشقوں کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں میں تحفظ کے احساس کو اجاگر کرنا اور طلبہ میں درست ردعمل کی صلاحیت پیدا کرنا تھا۔

    مشق کے دوران مختلف ممکنہ خطرات بشمول سیکیورٹی تھریٹ، دہشت گردی کی کوشش اور اچانک آگ لگنے جیسے واقعات کا فرضی منظر نامہ تیار کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے طلبہ کو عمارت سے محفوظ طریقے سے نکلنے (ایویکویشن)، کسی زخمی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے اور آگ بجھانے والے آلات کے درست استعمال کے بارے میں تفصیلی آگہی فراہم کی۔ ماہرین نے زور دیا کہ ایسی صورتحال میں سب سے اہم چیز گھبراہٹ پر قابو پانا ہے، کیونکہ خوفزدہ ہونے کے بجائے نظم و ضبط اور طے شدہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ہی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

    اس موقع پر سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کھچی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ہر شہری بالخصوص طلبہ کے لیے سول ڈیفنس کی بنیادی تربیت حاصل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی مشقوں سے نہ صرف طلبہ کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ وہ نامساعد حالات میں بھی اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے صورتحال کا مقابلہ کرنے کے قابل بنتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس طرح کے تربیتی سیشنز دیگر تعلیمی اداروں میں بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ معاشرے کے ہر طبقے کو حفاظتی اقدامات سے روشناس کرایا جا سکے۔

  • ننکانہ صاحب:وفاقی محتسب کی شکایات سماعت، 45 شہریوں کو ریلیف

    ننکانہ صاحب:وفاقی محتسب کی شکایات سماعت، 45 شہریوں کو ریلیف

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی/نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈپٹی رجسٹرار وفاقی محتسب فیصل آباد زون یاسر شبیر ملک نے ایس ای لیسکو آفس ننکانہ صاحب میں وفاقی محکموں سے متعلق عوامی شکایات کی سماعت کی، جہاں مجموعی طور پر 45 درخواست گزاروں کے مسائل سن کر انہیں ریلیف فراہم کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق کھلی کچہری کے دوران لیسکو سے متعلق 29، سوئی گیس کے حوالے سے 10 جبکہ نادرا، پاسپورٹ آفس اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت دیگر وفاقی محکموں سے متعلق شکایات زیر سماعت آئیں۔ ڈپٹی رجسٹرار نے تمام فریقین کا مؤقف تفصیل سے سنا اور موقع پر ہی متعدد شکایات کے ازالے کے احکامات جاری کیے، جس سے درخواست گزاروں کو فوری ریلیف ملا۔

    اس موقع پر یاسر شبیر ملک نے وفاقی محکموں کے افسران اور نمائندگان کو ہدایت کی کہ وہ دفاتر میں آنے والے سائلین کے ساتھ خوش اسلوبی اور احترام سے پیش آئیں اور عوامی مسائل کے بروقت حل کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت نہ صرف سرکاری فریضہ ہے بلکہ ایک نیکی بھی ہے جسے پوری دیانت داری سے انجام دیا جانا چاہیے۔

    ڈپٹی رجسٹرار نے مزید بتایا کہ وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کی ہدایات کے تحت دور دراز علاقوں میں خود جا کر عوامی شکایات سننے کا مقصد یہ ہے کہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر آسان، شفاف اور فوری انصاف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام وفاقی محکموں سے متعلق اپنی شکایات بلامعاوضہ اور نہایت آسان طریقے سے وفاقی محتسب کے پاس درج کروا سکتے ہیں، جن پر کم ترین وقت میں شفاف انداز میں کارروائی کر کے ریلیف دیا جاتا ہے۔

    کھلی کچہری میں شریک شہریوں نے وفاقی محتسب کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے عوام دوست اقدامات سے سرکاری اداروں پر اعتماد بحال ہوگا اور عوامی مسائل کے حل میں نمایاں بہتری آئے گی۔

  • ڈیرہ غازی خان: رکشہ پرچی کے نام پر مبینہ بدسلوکی، میونسپل کارپوریشن کے رویّے پر سوالات اٹھ گئے

    ڈیرہ غازی خان: رکشہ پرچی کے نام پر مبینہ بدسلوکی، میونسپل کارپوریشن کے رویّے پر سوالات اٹھ گئے

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی/نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈیرہ غازی خان میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے رکشہ پرچی کے نظام کے تحت رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، غنڈہ گردی اور لڑائی جھگڑا معمول بن گیا ہے، جس کے باعث غریب رکشہ ڈرائیور شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق پرچی عملے کا رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ معمولی باتوں پر تلخ کلامی کرتے ہوئے بات ہاتھا پائی تک پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔

    رکشہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری کر کے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتے ہیں، تاہم میونسپل کارپوریشن کے عملے کی جانب سے آئے روز ہراساں کیا جانا ان کے لیے باعثِ اذیت بن چکا ہے۔ ڈرائیوروں کے مطابق پرچی کے عملے کا رویہ توہین آمیز ہوتا ہے، سوال کرنے یا وضاحت مانگنے پر بدتمیزی کی جاتی ہے اور بعض اوقات بلاجواز دباؤ بھی ڈالا جاتا ہے۔

    متاثرہ رکشہ ڈرائیوروں نے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رکشہ پرچی کے نظام کا فوری نوٹس لیا جائے، اسے شفاف اور منظم بنایا جائے اور عملے کو سختی سے پابند کیا جائے کہ وہ عوام کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو غریب طبقہ مزید مسائل کا شکار ہو جائے گا۔

    عوامی حلقوں نے بھی میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ ناروا سلوک بند کرایا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال خراب نہ ہو اور محنت کش طبقہ سکھ کا سانس لے سکے۔

  • سیالکوٹ: فائر سیفٹی کے سخت اقدامات، بلند و بالا عمارتوں اور مارکیٹوں کا جامع آڈٹ شروع

    سیالکوٹ: فائر سیفٹی کے سخت اقدامات، بلند و بالا عمارتوں اور مارکیٹوں کا جامع آڈٹ شروع

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی/بیوروچیف مدثر رتو)فائر سیفٹی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد ہی انسانی جانوں کے تحفظ کی ضامن ہے، یہ بات ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 انجینئر نوید اقبال نے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے محفوظ پنجاب ویژن کے تحت اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر کی خصوصی ہدایات پر ضلع سیالکوٹ میں بلند و بالا عمارتوں، کمرشل پلازوں، بازاروں اور مارکیٹوں کو آگ لگنے کے واقعات سے محفوظ بنانے کے لیے فائر سیفٹی آڈٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی جانب سے یہ اقدامات ان کی زیر نگرانی کیے جا رہے ہیں، جبکہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صباء اصغر نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی یونٹس کا بھی سیفٹی آڈٹ کیا جائے گا، خصوصاً وہ فیکٹریاں جہاں بوائلر نصب ہیں، ان کا معائنہ ڈی او انڈسٹری اور ریسکیو 1122 مشترکہ طور پر کریں گے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے قبل حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ریسکیو 1122 نے عوام کی جان و مال کے تحفظ، ایمرجنسی کی صورت میں مؤثر رسپانس، آگ لگنے کی صورت میں محفوظ انخلاء اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے کے لیے فرضی مشقوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ یہ مشقیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے خصوصی احکامات کی روشنی میں کی جا رہی ہیں، جن کے تحت بڑے شاپنگ مالز، کمرشل مراکز اور مارکیٹوں کا فائر سیفٹی آڈٹ بھی جاری ہے۔

    اس حوالے سے چاروں تحصیلوں کے انچارجز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنی تحصیلوں میں موجود تمام کمرشل اور بلند و بالا عمارتوں میں روزانہ کی بنیاد پر فرضی مشقوں کا انعقاد یقینی بنائیں۔ اسی سلسلے میں آج سیالکوٹ کچہری روڈ پر واقع عبداللہ ٹریڈ سینٹر میں فائر سیفٹی کی فرضی مشق کی گئی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کا کہنا تھا کہ ان فرضی مشقوں کا بنیادی مقصد آگ لگنے کی صورت میں دستیاب آلات، محکمانہ تیاری، مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور فوری ردعمل کا عملی جائزہ لینا ہے، تاکہ حالیہ دنوں کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات جیسے سانحات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔

  • کندھ کوٹ میں میونسپل کمیٹی کی نااہلی، وارڈ نمبر 12 بنیادی سہولیات سے محروم

    کندھ کوٹ میں میونسپل کمیٹی کی نااہلی، وارڈ نمبر 12 بنیادی سہولیات سے محروم

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی ،نامہ نگارمختیاراحمداعوان)کندھ کوٹ میں میونسپل کمیٹی کی ناقص کارکردگی، مبینہ کرپشن اور بدانتظامی کے باعث شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ وارڈ نمبر 12 سب سے زیادہ متاثر نظر آ رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ کی نااہلی، ٹاؤن میونسپل آفیسر (ٹی ایم او) کی عدم توجہی اور ترقیاتی کاموں کی نگرانی پر مامور وائس چیئرمین شیر محمد سھریانی کی مبینہ غفلت کے باعث وارڈ نمبر 12 میں تمام ترقیاتی منصوبے عملی طور پر ٹھپ ہو چکے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ وارڈ نمبر 12 کی گلیاں، نالیاں اور آمد و رفت کے روڈز کئی برسوں سے تعمیر اور مرمت سے محروم ہیں۔ ہر سال ترقیاتی بجٹ مختص کیے جانے کے باوجود زمینی سطح پر کسی قسم کا عملی کام نظر نہیں آتا، جبکہ علاقہ مکینوں کا الزام ہے کہ یہ ترقیاتی فنڈز مبینہ طور پر ہڑپ کیے جا رہے ہیں۔ رہائشیوں کے مطابق موجودہ مالی سال میں بھی ترقیاتی فنڈز صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں اور فیلڈ میں کسی قسم کی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔

    شہر کی اہم شاہراہیں بالخصوص گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول روڈ شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہیں، جہاں جگہ جگہ گڑھے، ٹوٹا ہوا اسفالٹ اور جمع شدہ گندا پانی شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ وارڈ نمبر 12 کی بیشتر گلیاں کیچڑ، گندے پانی اور ٹوٹے پھوٹے راستوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، جس کے باعث بزرگوں، خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث معمولی بارش میں بھی گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے، جس سے ملیریا، ڈینگی اور دیگر وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وائس چیئرمین شیر محمد سھریانی کی نگرانی میں ہونے والے ترقیاتی منصوبوں میں یا تو ناقص میٹریل استعمال کیا گیا یا پھر کام سرے سے شروع ہی نہیں کیا گیا، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں منصوبے مکمل ظاہر کر دیے گئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق یہ صورتحال میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ میں جاری مبینہ کرپشن اور بدانتظامی کی واضح مثال ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا اعتماد بلدیاتی نظام سے اٹھتا جا رہا ہے۔

    شہریوں اور سیاسی و سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ، ٹی ایم او اور وائس چیئرمین کے کردار کی فوری، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وارڈ نمبر 12 سمیت دیگر علاقوں کے ترقیاتی بجٹ کا مکمل آڈٹ کر کے مبینہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے اور بلدیاتی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔

  • رینالہ خورد: مہنگائی اور موبائل فونز نے کھیلوں کے گراؤنڈز ویران کر دیے، سابق قومی کھلاڑی علیم اللہ چودھری کا اظہار تشویش

    رینالہ خورد: مہنگائی اور موبائل فونز نے کھیلوں کے گراؤنڈز ویران کر دیے، سابق قومی کھلاڑی علیم اللہ چودھری کا اظہار تشویش

    رینالہ خورد (سٹی رپورٹر) ہاکی کے سابق قومی کھلاڑی اور اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور کے گولڈ میڈلسٹ علیم اللہ چودھری نے کہا ہے کہ مہنگائی اور موبائل فونز نے پاکستان کے کھیلوں کے گراؤنڈز کو ویران کر دیا ہے اور نوجوان نسل کھیلوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی نسلوں کو برائیوں اور بے راہ روی سے بچانے کے لیے کھیلوں کی طرف راغب کریں۔

    تفصیلات کے مطابق علیم اللہ چودھری نے ایک خصوصی ملاقات میں کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان ہاکی، کرکٹ، سکوائش سمیت کئی کھیلوں میں ورلڈ چیمپین تھا اور دنیا کے افق پر چمکتے ستارے کی مانند تھا، لیکن آہستہ آہستہ کھیلوں کی سرگرمیاں گراؤنڈز میں ماند پڑنے لگیں اور وہ ویران ہو گئے۔

    علیم اللہ چودھری نے واضح کیا کہ کھیلوں کے خاتمے اور گراؤنڈز کے ویران ہونے میں سب سے بڑا کردار مہنگائی کا ہے، جس کے باعث نوجوان کھلاڑی ہاکی، کرکٹ اور دیگر کھیلوں کا سامان خریدنے سے محروم رہے۔ مزید برآں، موبائل فونز نے نوجوانوں کی توجہ کھیلوں سے ہٹا دی، کیونکہ نوجوان اب اپنے ہاتھوں میں موبائل فونز لیے گراؤنڈز کا رخ کرنا چھوڑ چکے ہیں۔

    سابق قومی کھلاڑی نے کہا کہ ایک بار پھر کھیلوں کے گراؤنڈز کو آباد کرنے کے لیے حکومت کو ہاکی، کرکٹ، فٹبال، سکوائش سمیت دیگر کھیلوں کا سامان سستا کرنا ہوگا اور والدین کو اپنے بچوں کو موبائل فونز سے دور رکھ کر کھیلوں کی طرف راغب کرنا چاہیے تاکہ نوجوان صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں اور پاکستان کے کھیلوں کا پرانا جلال دوبارہ بحال ہو۔

  • اوچ شریف:سیلاب متاثرین کے چھوٹے کاروباری افراد کو نقد مالی امداد فراہم

    اوچ شریف:سیلاب متاثرین کے چھوٹے کاروباری افراد کو نقد مالی امداد فراہم

    اوچ شریف (باغی ٹی وی/نامہ نگار حبیب خان)ایل پی پی (لودھراں پائلٹ پروجیکٹ) نے کونسرن ورلڈ وائیڈ کے اشتراک اور FCDO (برطانیہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے) کی مالی معاونت سے ضلع بہاول پور کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں معاشی بحالی کا ایک مؤثر پروگرام شروع کر دیا۔

    اس پروگرام کے تحت سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہونے والے 30 مستحق چھوٹے کاروباری افراد میں نقد مالی امداد تقسیم کی گئی تاکہ وہ اپنے روزگار کے ذرائع کو دوبارہ فعال بنا سکیں اور معاشی طور پر خود کفیل ہو سکیں۔

    تقریب کے موقع پر ایل پی پی کے نمائندگان نے بتایا کہ حالیہ سیلاب نے ہزاروں خاندانوں کو معاشی بدحالی سے دوچار کر دیا تھا، جس میں چھوٹے تاجر اور خود روزگار افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ نقد امداد کا یہ اقدام متاثرین کو فوری سہارا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں خود کفالت کی راہ پر گامزن کرنے کی عملی کوشش ہے۔

    امداد حاصل کرنے والے افراد نے ایل پی پی، کونسرن ورلڈ وائیڈ اور FCDO کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس مالی معاونت سے نہ صرف ان کے کاروبار دوبارہ شروع ہوں گے بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے معاشی استحکام اور نئی امید بھی پیدا ہوگی۔

    اداروں کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں انسانی ہمدردی اور پائیدار ترقی کے منصوبے آئندہ بھی جاری رہیں گے تاکہ متاثرہ آبادی کو باعزت روزگار، بہتر مستقبل اور خود انحصاری کی جانب لے جایا جا سکے۔

  • احمدپور شرقیہ: باراتی بس گرڈ اسٹیشن کے قریب الٹ گئی، 3 خواتین زخمی

    احمدپور شرقیہ: باراتی بس گرڈ اسٹیشن کے قریب الٹ گئی، 3 خواتین زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی/نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے مبارک پور کے قریب گرڈ اسٹیشن کے پاس باراتیوں کی بس حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں تین خواتین زخمی ہو گئیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق بارات والی بس چوک بھٹہ احمد پور شرقیہ سے مبارک پور کی جانب جا رہی تھی کہ اچانک ڈرائیور کے مطابق اسٹیئرنگ لاک ہو گیا، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر سڑک پر الٹ گئی۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والی خواتین میں زرینہ بی بی زوجہ محمد صادق، عمر 38 سال، شامل ہیں، جنہیں دائیں ٹانگ میں فریکچر کا شبہ ہے۔ انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا۔

    دیگر زخمیوں میں نسیم بی بی زوجہ عبدالرحمن، عمر 50 سال، اور رضیہ بی بی زوجہ محمد یعقوب، عمر 35 سال شامل ہیں، جنہیں معمولی خراشیں اور پٹھوں میں درد کی شکایت تھی۔ دونوں خواتین کو موقع پر ہی فرسٹ ایڈ فراہم کی گئی اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو عملہ حادثے کے بعد طویل وقت تک جائے وقوعہ پر موجود رہا اور بس کو سڑک سے ہٹا کر ٹریفک کی روانی بحال کروائی۔ خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم واقعے نے باراتیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔

  • اوکاڑہ،رینالہ خورد: پولٹری فارم کی عمارت گرنے سے ایک مزدور جاں بحق، 5 زخمی

    اوکاڑہ،رینالہ خورد: پولٹری فارم کی عمارت گرنے سے ایک مزدور جاں بحق، 5 زخمی

    اوکاڑہ،رینالہ خورد (نامہ نگار+سٹی رپورٹر) اوکاڑہ کے علاقے شیر گڑھ روڈ پر واقع ایک پولٹری فارم کی عمارت مرمتی کام کے دوران اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر ایک مزدور جاں بحق جبکہ 5 مزدور شدید زخمی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق پولٹری فارم کی عمارت پر مرمت کا کام جاری تھا کہ اچانک عمارت زمین بوس ہو گئی، جس کے باعث وہاں کام کرنے والے 6 مزدور ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ظفر اقبال 22 ریسکیو اہلکاروں اور جدید مشینری کے ہمراہ فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ اس دوران اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد اور پولیس کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کی نگرانی میں ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس کے دوران ملبے تلے دبے تمام مزدوروں کو باہر نکالا گیا۔ حادثے میں 35 سالہ مزدور شاہد موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ زخمی ہونے والوں میں 28 سالہ شعیب، 42 سالہ عباس، 32 سالہ عرفان، 55 سالہ اکرم اور 30 سالہ رمضان شامل ہیں۔

    ریسکیو ٹیم نے زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جس کے بعد ضروری کارروائی مکمل کرتے ہوئے جاں بحق مزدور کی لاش اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر ریسکیو ٹیم بروقت موقع پر نہ پہنچتی تو جانی نقصان مزید بڑھ سکتا تھا۔ شہریوں نے ریسکیو اہلکاروں کی فوری کارروائی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • کندھ کوٹ: امدادی رقوم کی ادائیگی، بینک اسلامی اور ہینڈز این جی او پر سنگین الزامات

    کندھ کوٹ: امدادی رقوم کی ادائیگی، بینک اسلامی اور ہینڈز این جی او پر سنگین الزامات

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی،نامہ نگار)کندھ کوٹ میں واقع بینک اسلامی کی ایک برانچ اور معروف فلاحی ادارے HANDS NGO کے خلاف امدادی رقوم کی ادائیگی کے عمل میں مبینہ رشوت خوری، بدانتظامی اور مستحق افراد کے استحصال سے متعلق نہایت تشویشناک شکایات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد شہری حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امدادی اقساط کے حصول کے لیے بینک آنے والے مستحق خواتین اور مردوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بینک اسلامی کی متعلقہ برانچ کے باہر موجود مبینہ ایجنٹوں کے ذریعے رقم ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہی ان کی امدادی رقم جاری کی جاتی ہے۔ متاثرین کے مطابق غریب اور نادار افراد صبح سویرے سے شام تک طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں انہیں نہ صرف شدید ذہنی اذیت بلکہ توہین آمیز رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کے حصول کے لیے آنے والے مستحق افراد سے مختلف بہانوں کے تحت پیسے طلب کیے جاتے ہیں، جو فلاحی نظام کی روح کے سراسر منافی اور کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔ شکایات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض افراد کو ادائیگی کے بغیر بار بار واپس بھیج دیا جاتا ہے جبکہ رشوت دینے والوں کو فوری سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

    صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ اور سنگین شکل اختیار کر گئی جب اس معاملے پر دونوں اداروں نے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دی۔ بینک اسلامی کے عملے کا مؤقف ہے کہ بینک کے باہر موجود مبینہ ایجنٹوں کا تعلق HANDS NGO سے ہے اور بینک انتظامیہ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ دوسری جانب HANDS NGO کی انتظامیہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ افراد بینک انتظامیہ کے مقرر کردہ ہیں اور این جی او کا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔

    دونوں اداروں کی جانب سے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے باعث غریب اور مستحق عوام شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف فلاحی اداروں اور بینکاری نظام کی ساکھ پر سنگین سوالیہ نشان ہے بلکہ مستحق افراد کے بنیادی حق پر کھلا ڈاکا بھی ہے۔

    شہریوں اور متاثرہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ اعلیٰ حکام اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں، بینک اسلامی اور HANDS NGO کے کردار کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور اگر کسی بھی ادارے یا فرد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو ان کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    عوام کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کا مقصد غریب اور مستحق افراد کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ انہیں مزید مشکلات، ذلت اور استحصال کا شکار بنانا۔ اگر ایسے اقدامات کو روکا نہ گیا تو فلاحی نظام سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔