Baaghi TV

Author: اعجاز الحق عثمانی

  • ریاست سب سے پہلے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    ریاست سب سے پہلے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    زمینی جنگ شروع ہونے سے پہلے، ایک جنگ اندر شروع ہو جاتی ہے۔دل اور دماغ کی جنگ۔ دلیل اور جذبات کی جنگ۔ قلم اور تلوار کی جنگ۔ اور جب بیرونی سرحدوں پر توپوں کا شور گونجتا ہے، تب یہ اندرونی جنگ انجام تک پہنچتی ہے۔ ایک طرف حب الوطنی کے جذبات کا طوفان ہوتا ہے، اور دوسری طرف روشن خیالی کے نام پر شکوک و شبہات کی طغیانی۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب دشمن کی توپوں کا منہ ہماری دھرتی کی طرف ہوجائے ، جب وطن کی مٹی کی مہک بارود میں گم ہونے لگے، جب گھر سے دور، بیمار پڑی ماں کے دکھ، ہسپتال میں زندگی اور موت کی آخری جنگ لڑتی بیوی کو چھوڑ کر سپاہی سرحد پر کھڑا ہو۔ تو اُس وقت ریاستی بیانیے پر تنقید کر کے کیا ہم سچ بول رہے ہوتے ہیں، یا دشمن کے جھوٹ کا ترجمہ کر رہے ہوتے ہیں؟
    یہ وقت نہیں کہ ہم اپنی فوج کی کارکردگی پر سوالات اٹھائیں، یہ وقت ہے کہ ہم اپنے مکار دشمن کی حقیقت کو پہچانیں اور اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائے۔ گزشتہ رات ہونے والے حملوں کا مجھ سمیت 90 فی صد پاکستانیوں کو صبح جاگ کر پتہ چلا۔ اگر فوج نہ ہوتی تو ابھی تک ہمارا بھی شاید پتہ نہ ہوتا۔

    بھارت نے اس بار بھی اپنے روایتی چالاک اور بزدل طریقوں کو دوبارہ آزمایاہے۔ اور اس بار وہ ہماری سول سوسائٹی پر حملہ آور ہوا۔ رات کی تاریکی ہمارے مقدس مقامات، مساجد اور مدارس کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔کم ظرف دشمن نے ہمارے شہریوں، عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، اور ان معصوم جانوں کا خون ہماری سرزمین پر بہایا۔یاد رکھیں، ان حملوں کا مقصد سرحدی علاقوں کو متاثر کرنا نہیں تھا، بلکہ پوری قوم کی روح پر ضرب لگانا تھا۔ جب دشمن ہمارے ثقافتی ورثے، ہماری مساجد اور مدارس پر حملہ کرتا ہے، تو وہ صرف ہماری فوجی طاقت کو نہیں، ہماری روایات، ایمان اور تاریخ کو چیلنج کرتا ہے۔ہم اس وقت صرف بھارت سے نہیں لڑ رہے، اس لڑائی کے پیچھے وہی پرانا منصوبہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر بیرونی حملے کو صرف ’ردعمل‘ کے طور پر پیش کرنا۔ اس بار بھی وہی پرانا منظرنامہ ہے، اداکار بھی وہی ہیں پرانے ہیں،مگر سکرپٹ رائٹر زیادہ چالاک ہے۔ اب میز پر بھارت کے ساتھ اسرائیل بھی بیٹھا ہے، اور ان کے سامنے صرف ایک ہدف ہے،پاکستان کو غیر مستحکم کرنا۔

    ایسے میں، اگر کوئی اندر سے اپنے ہی محافظ پر شک کرے، تو وہ شک نہیں، شراکت داری کہلائے گی۔ اس وقت میرا وہی بیانہ ہے، جو میری ریاست کا بیانیہ ہے۔
    ریاست کی بقا کسی ایک ادارے کی نہیں، پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ اختلاف کا وقت امن ہوتا ہے، جنگ میں صرف اتحاد ہوتا ہے۔ جیسے محاذ پر ایک سپاہی اپنی جان کی پروا کیے بغیر مورچے میں بیٹھا ہے، ویسے ہی ہمیں اپنی رائے کی آزادی کو تھوڑی دیر کے لیے ملک کے وقار کے تابع کرنا ہوگا۔ کیونکہ جب توپ کا منہ کھلتا ہے، تب بڑی سے بڑی دلیلوں کا منہ بند ہوجاتا ہے۔

  • کمال گرائمر سکول لاہور برانچ میں سالانہ نتائج  اور تقسیم انعامات کی شاندار تقریب

    کمال گرائمر سکول لاہور برانچ میں سالانہ نتائج اور تقسیم انعامات کی شاندار تقریب

    لاہور (باغی ٹی وی) کمال گرائمر سکول لاہور برانچ میں سالانہ نتائج کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کو شیلڈز اور میڈلز سے نوازا گیا، جبکہ والدین اور معزز مہمانوں نے طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی کی۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسول مقبولﷺ پیش کی گئی۔ اس موقع پر پرنسپل کمال گرائمر سکول فیضان افتخار ہاشمی، ڈائریکٹر کمال گروپ آف انسٹیٹیوٹشنز رمضان علی، پرنسپل سلیم ماڈل سکول سلیم عالم، نوجوان ادیب و معلم اعجازالحق عثمانی، سمیت معزز اساتذہ، والدین اور اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران طلبہ نے مختلف ثقافتی و تربیتی ٹیبلوز اور خاکے پیش کیے، جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔ مہمانان نے کامیاب طلباء کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مستقبل میں مزید محنت کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے ادارے کی تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے کمال گرائمر سکول کا کردار قابلِ ستائش ہے۔

    تقریب میں مہمانانِ گرامی نے پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں شیلڈز اور میڈلز تقسیم کیے۔ والدین اور شرکاء نے تقریب کے بہترین انعقاد پر پرنسپل فیضان افتحار ہاشمی کو مبارکباد پیش کی۔ بہترین نتائج اور تقریب کے انعقاد کو بھی سراہا

  • "بولنا منع ہے!” .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "بولنا منع ہے!” .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    کہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں انصاف و قانون کی تعریف ذرا مختلف ہے۔ یہاں قانون طاقتور کے لیے سہولت، اور کمزور کے لیے سزا ہوتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے، حکومت نے ایک اور کمال کاریگری دکھاتے ہوئے پیکا ایکٹ متعارف کرایا، جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ حکومت جو کہے، وہی سچ ہے، اور جو عام عوام کہے، وہ جھوٹ، پروپیگنڈہ اور فتنہ پروری۔ یعنی اگر آپ کہیے کہ ملک میں سب اچھا نہیں، تو آپ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے،لیکن اگر کوئی سرکاری ترجمان کہے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، تو اس پر چپ چاپ یقین کرلینا ہے۔ کیونکہ بولنا منع ہے۔

    دوسری طرف، حکومت نے ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے یہ سوچا ہے کہ پنجاب میں بھکاریوں پر پابندی لگا دی جائے۔ گویا ملک میں غربت ختم ہو چکی ہے، بس ایک مسئلہ باقی تھا کہ سڑکوں پر بیٹھے یہ لوگ جو بھوک سے مجبور ہو کر ہاتھ پھیلا رہے ہیں، انہیں جیل میں ڈال کر غربت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ یعنی مسئلہ غربت نہیں، بلکہ غربت کا نظر آنا ہے!

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ قوانین بناتے کون ہیں؟ یقیناً وہی لوگ جو خود عوام کے پیسوں پر عیاشیاں کرتے ہیں، ان کے ٹیکسوں سے چلنے والے ایوانوں میں بیٹھ کر ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن بنا دیتی ہیں۔ اگر بھکاریوں پر پابندی لگانی ہے، تو کیا ملک کے وہ "اعلیٰ درجے” کے بھکاری بھی اس میں شامل ہوں گے جو بیرون ملک سے قرضے مانگ کر ملک کو گروی رکھ دیتے ہیں؟ یا یہ قانون صرف عام عوام کے لیے ہے؟

    پیکا ایکٹ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اب صرف وہی خبر معتبر ہوگی جو حکومت کی نظر میں قابلِ قبول ہو۔ اگر آپ نے کچھ ایسا لکھ دیا جو حکمرانوں کے مزاج کے خلاف ہوا، تو سیدھا جیل کی سیر کرنی ہوگی۔ اب اگر کوئی کہے کہ مہنگائی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکی ہے، تو یہ افواہ ہوگی۔ اگر کوئی کہے کہ لوگ فاقے کر رہے ہیں، تو یہ ریاست مخالف بیانیہ ہوگا۔ اور اگر کسی نے لکھ دیا کہ "حکومت نااہل ہے”، تو یہ یقیناً ریاست کے خلاف سازش تصور ہوگا۔یعنی اب عوام کی مرضی کی رائے نہیں چلے گی، صرف حکومت کی پسندیدہ رائے ہی سچ ہوگی۔ اگر سرکاری میڈیا کہے کہ ملک میں سب اچھا ہے، تو آپ کو ماننا پڑے گا۔ اگر حکومتی وزرا بیان دیں کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے، تو آپ کو اپنے خالی ہاتھ اور خالی جیب کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ اور اگر کوئی صحافی یا عام شہری حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے گا، تو وہ ریاست مخالف، ملک دشمن، یا کسی غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والا قرار پائے گا۔

    یہ قانون ایک طرح سے اس خیال کو عملی جامہ پہنا رہا ہے کہ "عوام کو وہی دیکھنا اور سننا چاہیے جو حکومت انہیں دکھانا اور سنوانا چاہتی ہے۔” گویا جمہوریت اب بس ایک دکھاوا ہے، اصل طاقت وہی ہے جو چند طاقتور افراد کے ہاتھ میں ہے۔

    بھکاریوں پر پابندی لگانے کا قانون بھی ایک انوکھا تماشا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اگر سڑکوں پر بیٹھے فقیر نظر نہیں آئیں گے، تو غربت خودبخود ختم ہو جائے گی۔ بھئی، کوئی ان عقل کے اندھوں کو سمجھائے کہ غربت کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے معیشت کو بہتر بنانا پڑتا ہے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے پڑتے ہیں، نہ کہ ان غریبوں کو پولیس کے حوالے کر دینا ہوتا ہے۔

    اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی، تو سب سے پہلے وہ یہ دیکھتی کہ ملک میں لاکھوں لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے چوراہوں پر بھیک منگوانے پر مجبور ہیں۔ ان بچوں کے پاس تعلیم، صحت اور روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں، اس لیے وہ مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے کوئی پالیسی بنانے کے بجائے حکومت نے آسان راستہ اختیار کیا،بھیک مانگنے پر ہی پابندی لگا دو، مسئلہ خود حل ہو جائے گا!

    یہاں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا واقعی یہ قانون پیشہ ور بھکاریوں کے لیے ہے؟ یا پھر اس کے ذریعے ان لوگوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو حقیقتاً مجبور ہیں؟ پاکستان میں کئی ایسے گروہ موجود ہیں جو بھکاریوں کے نام پر مافیا چلا رہے ہیں، بچوں کو اغوا کر کے ان سے زبردستی بھیک منگوائی جاتی ہے۔ لیکن کیا یہ قانون ان مافیاز کے خلاف استعمال ہوگا؟ یا پھر صرف سڑک کنارے بیٹھے اس بوڑھے شخص کے خلاف، جو دو وقت کی روٹی کے لیے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے؟
    اب اگر ہم یہ دیکھیں کہ ہمارے حکمران عوام کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں، تو ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ جب بات اپنی تنخواہوں اور مراعات بڑھانے کی ہو، تو حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر آ جاتی ہے۔ ان کے بل چند منٹوں میں منظور ہو جاتے ہیں، کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ لیکن جب عوام کی فلاح کے لیے کوئی پالیسی بنانے کی بات آتی ہے، تو یہی سیاستدان ایک دوسرے کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہیں جو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، مگر عوام کو کہتے ہیں کہ صبر کرو، قربانی دو، اور حب الوطنی کا ثبوت دو۔ ان کے اپنے گھروں میں دنیا کی ہر سہولت موجود ہے، ان کے بچوں کے لیے بہترین تعلیمی ادارے ہیں، ان کے علاج کے لیے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن عوام کے لیے نہ صحت کی کوئی سہولت ہے، نہ تعلیم، نہ روزگار۔

    یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے کتوں کے لیے بھی خصوصی خوراک درآمد کرواتے ہیں، لیکن عوام کو روٹی بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ جنہیں دو وقت کا کھانا میسر نہیں، انہیں یہ لوگ سمجھاتے ہیں کہ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کم کر دیں۔ سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ غریب ہی کیوں دے؟ حکمران اپنی عیاشیوں میں کمی کیوں نہیں کرتے؟ خیر بات کسی اور طرف چل نکلی ہے۔یہ دونوں قوانین پیکا ایکٹ اور بھکاریوں پر پابندی۔۔۔۔۔۔درحقیقت اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں قوانین بنانے کا مقصد عوام کی زندگی آسان بنانا نہیں، بلکہ ان پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے حکومت نے یہ واضح کر دیا کہ آزادیٔ اظہار صرف طاقتوروں کے لیے ہے، اور بھکاریوں پر پابندی کے قانون کے ذریعے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ غربت کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ غریبوں کو جیل میں ڈال دیا جائے۔

    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بھکاریوں پر پابندی لگانی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں غربت کی وجوہات ختم کیے بغیر صرف بھیک مانگنے پر پابندی لگانا سراسر ظلم ہے۔ اور یہی حال پیکا ایکٹ کا ہے۔ اگر حکومت واقعی صحافت اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کو روکنا چاہتی ہے، تو اسے شفاف نظام بنانا ہوگا، نہ کہ ایسا قانون جس سے سچ بولنے والوں کی زبان بندی کی جائے۔

    لیکن ہوگا تو وہی جو "وہ” چاہیں گے۔ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب تک حکمران عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی طاقت کو مزید مضبوط کرنے میں لگے رہیں گے، تب تک یہی صورتحال رہے گی۔ جو سوال کرے گا، وہ مجرم ٹھہرے گا۔ جو بھوکا ہوگا، وہ قید میں جائے گا۔ اور جو حکمران ہوگا، وہ ہمیشہ دودھ اور شہد کی نہروں میں نہاتا رہے گا۔ یہی ہے پاکستان میں قوانین کا تلخ مگر اصل چہرہ ہے…

  • "ٹرمپ کی واپسی،امریکی سیاست اور عالمی منظرنامے پر اثرات”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "ٹرمپ کی واپسی،امریکی سیاست اور عالمی منظرنامے پر اثرات”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    دنیا کے سیاسی نقشے پر امریکہ کی اہمیت اور اس کے فیصلوں کی گونج کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ جیسی شخصیت دوبارہ امریکی صدارت کی گدی پر بیٹھتی ہے، تو دنیا کے کئی ملکوں کے سیاسی و معاشی نظاموں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ 20 جنوری 2025 کو ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک نئی داستان لکھی جا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان کامیابی اور امن کی ہوگی یا تنازعات اور مشکلات کی؟

    ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی کا بنیادی اصول ان کے معروف نعرے "امریکہ فرسٹ” میں مضمر ہے۔ وہ اپنی مہم میں ہمیشہ یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ امریکہ کو باقی دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں، بلکہ اسے اپنے مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ اسی فلسفے کے تحت انہوں نے 2016 میں صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد کئی عالمی معاہدوں سے امریکہ کو نکال دیا، جن میں پیرس ماحولیاتی معاہدہ اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ شامل تھے۔ یہی فلسفہ ان کے دوسرے دور اقتدار میں بھی غالب نظر آتا ہے۔ ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ وہ امریکہ کی معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدام کریں، چاہے اس سے ماحولیات، انسانی حقوق، یا عالمی تعلقات پر کتنا ہی برا اثر پڑے۔ ان کی پالیسیوں کے مطابق امریکہ کا سب سے بڑا دشمن غیر ملکی مداخلت، امیگریشن، اور صنعتی معیشت پر لگائی گئی قدغنیں ہیں۔ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں ان کی امیگریشن پالیسی نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا اعلان ان کی سب سے متنازع اور پہچانی جانے والی پالیسی تھی۔ یہ دیوار محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں، بلکہ ٹرمپ کی سیاست کا علامتی مظہر تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقریباً دو ہزار میل طویل سرحد پر وہ محض ساڑھے چار سو میل کی دیوار بنا سکے۔ کانگرس اور عدلیہ کی مخالفت نے اس منصوبے کو مکمل طور پر ناکام کر دیا۔ اب دوسرے دور اقتدار میں ٹرمپ اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ساتھ ہی وہ لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

    ٹرمپ کی ماحولیاتی پالیسی کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ صنعتی ترقی کو کسی بھی قیمت پر روکنا نہیں چاہتے۔ پیرس معاہدے سے نکلنے کا ان کا فیصلہ عالمی ماحولیات کے تحفظ کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا تھا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ماحولیات کے حوالے سے عائد کردہ قوانین امریکی معیشت پر غیر ضروری بوجھ ہیں۔ وہ گیس اور تیل کی پیداوار کو بڑھانے اور توانائی کے متبادل ذرائع پر انحصار کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ پالیسی طویل مدت میں امریکہ اور دنیا دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ بڑھتا ہوا ماحولیاتی بحران اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال عالمی معیشت اور ماحول کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تعلقات کا انداز روایتی سفارت کاری سے بالکل مختلف ہے۔ وہ اقوام متحدہ اور نیٹو جیسے اداروں کو غیر ضروری قرار دے چکے ہیں اور چین، روس، اور ایران جیسے ملکوں کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کی پالیسی کا ایک بڑا امتحان مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں ہوگا۔ ایران کے ساتھ تعلقات پہلے ہی خراب ہیں، اور ٹرمپ کی پالیسی انہیں مزید بگاڑ سکتی ہے۔ اسی طرح چین کے ساتھ تجارتی جنگ اور روس کے ساتھ تعلقات کی غیر یقینی صورتحال بھی ان کے لیے ایک چیلنج ہے۔

    ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکی معیشت کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔ ان کے دور میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ دیکھنے کو ملا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیوں کا طویل مدتی اثر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ٹیکس میں کمی،غیر ضروری اخراجات، اور صنعتی قوانین میں نرمی امریکی معیشت کو عارضی طور پر فائدہ پہنچا سکتے ہیں، لیکن قرضوں کا بوجھ بڑھنے اور اقتصادی عدم توازن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ٹرمپ کی سیاست کا ایک تاریک پہلو ان کا انتقامی رویہ ہے۔ 6 جنوری 2021 کو کانگرس پر حملے کے بعد ان کے حامیوں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اب ٹرمپ نےان افراد کو معاف کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے نئے قوانین اور احکامات جاری کر سکتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت امریکی جمہوریت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کی پالیسیاں نہ صرف داخلی بلکہ خارجی سطح پر بھی تنازعات کو ہوا دے سکتی ہیں۔ اگرچہ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا طرز حکمرانی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والے چار سالوں میں ٹرمپ دنیا میں کتنی بڑی تبدیلی لا سکیں گے، لیکن ایک بات طے ہے کہ ان کا دوسرا دور اقتدار امریکہ اور دنیا دونوں کے لیے چیلنجز کا باعث بنے گا

  • "نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن’.تحریر اعجازالحق عثمانی

    "نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن’.تحریر اعجازالحق عثمانی

    پاکستانی سیاست میں جو نظر آتا ہے، وہ حقیقت نہیں ہوتی، اور جو حقیقت ہوتی ہے، وہ نظر نہیں آتی۔ آج کل ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھ کر بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بازی عشق کی بازی ہے، جو ہارے گا، وہ جیتے گا، اور جو جیتے گا، وہ ہارے گا۔
    عمران خان جیل میں ہیں، ان کی جماعت کٹی پھٹی حالت میں ہے، عدالتوں میں مقدمے، پارٹی میں بغاوتیں، اور مخالفین کا دباؤ۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی وہ ملکی سیاست کے سب سے بڑے کھلاڑی ہیں۔ سیاسی میدان میں سب سے زیادہ اسکور اس وقت بھی ان کے بیانیے کا ہی ہے۔چاہے عدالتوں کے فیصلے ان کے خلاف آئیں، چاہے پارٹی پر پابندیاں لگیں، عوام کے دلوں میں ان کی جگہ اب بھی قائم ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی اس مقبولیت کو بچا پائیں گے؟ یا پھر اس کہانی کا انجام وہی ہوگا، جو اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے؟
    دوسری طرف، وہی پرانا کھیل جاری ہے۔ مذاکرات کی خبریں گرم ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بات چیت ہو رہی ہے، کوئی درمیانی راستہ نکالا جا رہا ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ حکومت محض ایک مہرہ ہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوگا۔ جنہیں مذاکرات کرنا ہیں، وہ ٹیبل پر نہیں بیٹھے، اور جو بیٹھے ہیں، وہ اصل فیصلے کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سب کچھ طے شدہ ہے، بس اسکرپٹ پر عمل ہو رہا ہے۔ اور سنا ہے رائیٹر اب سکرپٹ بدلنے لگا ہے۔

    عمران خان جانتے ہیں کہ اگر وہ جیل سے باہر آتے ہیں تو عوام یہ سمجھے گی، کہ یہ کسی معاہدے کا نتیجہ ہے، تو ان کا سارا بیانیہ برباد ہو جائے گا۔ وہ اب تک ایک مزاحمت کار، ایک نظریاتی لیڈر، اور "حقیقی آزادی” کی علامت بن چکے ہیں۔ لیکن اگر یہی شخص ایک دن خاموشی سے باہر آتا ہے، کیسز ختم ہو جاتے ہیں، اور سیاست میں نرمی آ جاتی ہے، تو کیا یہ سب اتفاق ہوگا؟ نہیں! یہ وہی سیاست ہوگی، جو سالہا سال سے چل رہی ہے۔

    لیکن کھیل صرف عمران خان کے گرد نہیں گھوم رہا۔ اسٹیبلشمنٹ بھی ایک امتحان میں ہے۔ اگر عمران خان کو مکمل دیوار سے لگا دیا جاتا ہے، تو ملک میں بے چینی بڑھے گی۔ اگر انہیں کھلی آزادی دی جاتی ہے، تو وہ پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھریں گے۔ اس صورتحال میں درمیانی راستہ نکالنا سب سے ضروری مگر ایک مشکل کام ہے۔ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ عمران خان باہر بھی آ جائیں، لیکن یہ تاثر بھی نہ جائے کہ وہ جیت گئے ہیں۔ دوسری طرف، عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ وہ باہر آئیں، لیکن ایسا نہ لگے کہ وہ کسی ڈیل کے تحت آئے ہیں۔
    یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اور طاقت کا اصل کھیل شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کچھ فیصلے پس پردہ کیے جاتے ہیں، اور عوام کو ایک اور کہانی سنا دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بار یہ کہانی کس کے حق میں لکھی جائے گی؟ کیا عمران خان ایک نئے انداز میں سیاست میں واپسی کریں گے؟ یا یہ ایک اور سبق ہوگا، جو پاکستانی سیاست کی کتاب میں شامل کر دیا جائے گا؟

    یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر واقعی ایک "سیاسی مفاہمت” ہونے جا رہی ہے، تو اس کے پیچھے محرکات کیا ہیں؟ کیا عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے؟ یا پھر پس پردہ کوئی ایسا دباؤ ہے جو ان دونوں کو دوبارہ کسی نہ کسی شکل میں اکٹھا کر رہا ہے؟ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ عمران خان کو دیوار سے لگانے کی حکمتِ عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ عوام کا ردعمل، عدالتی فیصلے، اور بین الاقوامی دباؤ، سب نے مل کر ایک ایسی فضا بنا دی ہے جہاں عمران خان کو سیاست سے مکمل طور پر بے دخل کرنا ممکن نہیں رہا۔ دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ یہ بھی نہیں چاہتی کہ عمران خان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئیں۔

    عمران خان کی سیاست میں ایک چیز واضح ہے کہ وہ ایک مقبول لیڈر ہیں، لیکن ان کی مقبولیت ان کی حکمتِ عملی کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ اگر وہ اپنے حامیوں کو یہ یقین دلا پاتے ہیں کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے باہر آئے ہیں، تو ان کی سیاست مزید مضبوط ہو گی۔ لیکن اگر عوام کو ذرا سا بھی یہ تاثر گیا کہ عمران خان نے کسی ڈیل کے نتیجے میں اپنی مشکلات کم کی ہیں، تو ان کے لیے اپنی موجودہ مقبولیت کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وہ توازن ہے جسے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی یہ ایک نازک موڑ ہے۔ اگر عمران خان بغیر کسی واضح سمجھوتے کے باہر آتے ہیں، تو ان کا بیانیہ مزید مضبوط ہو گا۔ لیکن اگر انہیں کسی شرط کے ساتھ ریلیف دیا جاتا ہے، تو عوام میں یہ تاثر جائے گا کہ یہ بھی وہی پرانی سیاسی بساط ہے، جہاں سب آخر میں ایک ہی میز پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پس پردہ بہت کچھ چل رہا ہے، اور عوام کو صرف اتنا دکھایا جا رہا ہے جتنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر عمران خان واقعی باہر آ جاتے ہیں، تو کیا وہ دوبارہ اُسی انداز میں سیاست کر سکیں گے؟ یا پھر ان کے لیے ایسے حالات بنا دیے جائیں گے جہاں وہ محدود ہو کر رہ جائیں؟ کیا ان کی جماعت کو مکمل طور پر بحال ہونے دیا جائے گا؟ کیا انہیں الیکشن میں آزادانہ حصہ لینے دیا جائے گا؟ یا پھر وہ ایک کنٹرولڈ سیاست کا حصہ بننے پر مجبور ہو جائیں گے؟ یہ تمام سوالات اس وقت پاکستانی سیاست کے گرد گھوم رہے ہیں، لیکن ان کے جوابات آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔

    کھیل جاری ہے، اسکرپٹ پر کام ہو رہا ہے، کردار اپنے اپنے ڈائیلاگ یاد کر رہے ہیں۔ بس پردہ اٹھنے کی دیر ہے، دیکھتے ہیں کہ اس بار پردے پر کون ہیرو بن کر آتا ہے

  • او سب دی ماں تے سرکاری میراثی

    او سب دی ماں تے سرکاری میراثی

    او سب دی ماں تے سرکاری میراثی
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    اقتدار کی کرسی ایک عجیب نشہ ہے جو حکمران کو حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔ مگر اس نشے کو دوام دینے کا سہرا ان سرکاری میراثی نما خوشامدیوں کے سر جاتا ہے، جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے حکمرانوں کے گرد ایسے گھیرا ڈال لیتے ہیں جیسے مکھی شہد پر۔ آج پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے گرد یہی میراثیوں کا ٹولہ واردات ڈالنے میں مصروف ہے، اور عوامی مسائل سے ان کی توجہ ہٹانے اور اپنے مفاد کے لیے اوچھے حربے آزما رہا ہے۔

    مریم نواز کے اقتدار کا آغاز امیدوں اور خوابوں کے ساتھ ہوا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ان سرکاری میراثیوں کی گرفت میں آ چکی ہیں، جو صرف تعریفوں کے پل باندھنے میں ماہر ہیں۔ ان کے لیے حکومت کا مطلب عوامی خدمت نہیں بلکہ خوشامد کا ایسا کھیل ہے جس میں جیت صرف ان کی چاپلوسی کے ناپاک ہتھکنڈوں کی ہوتی ہے۔

    حال ہی میں پنجاب میں "کھیلتا پنجاب گیمز” کی تقریبات پر بھاری رقم خرچ کی گئی، جبکہ سپورٹس بورڈ کے ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ ایسے حالات میں خوشامدی ٹولے نے وزیر اعلیٰ کو ایک شاندار تقریب کے ذریعے عوامی ہیرو بنا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن ان "میراثیوں” کی منصوبہ بندی اتنی کمزور تھی کہ یہ تقریب مریم نواز کے لیے بدنامی کا سامان بن گئی۔

    انہیں لگتا ہے کہ خوشامدی شاعری اور تقریبات کے ذریعے عوام کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں ایک تعلیمی دورے میں ایک طالبہ نے نظم پڑھی، جس میں مریم نواز کو "سب دی ماں” قرار دیا گیا۔ نظم کا انداز ایسا تھا کہ سننے والے ہنسنے پر مجبور ہو گئے، اور سوشل میڈیا پر خوب میمز بنی۔ یہ صرف ایک مثال ہے کہ کس طرح سرکاری میراثی مریم نواز کی سیاست کو کھیل تماشا بنا رہے ہیں۔

    یہ میراثی وہی لوگ ہیں جو سابق حکمرانوں کے گن گاتے تھے، اور آج مریم نواز کی خوشامد میں مصروف ہیں۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ حکمران کو عوامی مسائل سے دور رکھیں اور جھوٹے خواب دکھائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری، اور ناقص گورننس سے تنگ آ چکے ہیں، مگر وزیر اعلیٰ کے گرد موجود یہ میراثی انہیں بتاتے ہیں کہ سب کچھ "ٹھیک” ہے۔

    مریم نواز کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ سرکاری میراثیوں کے گھیرے اور ٹک ٹاک کی دنیا سے باہر نکلنا ان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ خوشامدیوں کے فریب میں آ کر اگر وہ عوامی مسائل کو نظرانداز کرتی رہیں، تو ان کی حکومت کے دن گنے جا سکتے ہیں۔ پنجاب کے عوام کو لیپ ٹاپ، کارڈ سکیم یا تقریبات نہیں چاہیے؛ انہیں روزگار، انصاف اور بنیادی سہولیات چاہیے۔

    اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کو تاریخ صرف اسی وقت یاد رکھتی ہے جب وہ عوامی فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔ مریم نواز کو چاہیے کہ وہ ان سرکاری میراثیوں کو پہچانیں اور ان سے چھٹکارا حاصل کریں۔ عوام کے مسائل حقیقی اقدامات کے ذریعے حل ہوں گے، نہ کہ خوشامدی نظموں اور مصنوعی تقریبات سے۔ ورنہ ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ میراثی بھی کسی اور کی خوشامد میں مصروف ہوں گے، اور عوام مریم نواز کو تاریخ کے ایک اور ناکام کردار کے طور پر یاد کر رہی ہو گی۔

  • لائیوسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کی  تقریبِ حلف برداری

    لائیوسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کی تقریبِ حلف برداری

    لاہور (اعجازالحق عثمانی سے) لائیوسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کی تقریبِ حلف برداری لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں ملک بھر سے مرکزی اور صوبائی عہدیداران نے شرکت کی۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر منسٹر لائیوسٹاک پنجاب کے بھائی، سید رضا حیدر کرمانی نے خصوصی شرکت کی۔ ان کے ہمراہ ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن ڈاکٹر محمد زبیر، ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن محمد انور، ڈائریکٹر جنرل ایکسٹینشن ڈاکٹر محمد اشرف، ڈائریکٹر جنرل پروڈکشن ڈاکٹر محمد یوسف، ڈائریکٹر لاہور ڈویژن ڈاکٹر کنور نعیم، ڈپٹی ڈائریکٹر ایکسٹینشن ڈاکٹر راحت، ڈائریکٹر پلاننگ ڈاکٹر عطیہ بخاری، اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

    تقریب میں ایپکا پنجاب کے صدر ضیاء اللہ خان نیازی، سینئر نائب صدر مہر محمد یٰسین، ایپکا لائیوسٹاک پنجاب کے صدر عامر دلشاد بٹ، اور دیگر سابق صدور و عہدیداران نے بھی شرکت کی۔ خیبر پختونخواہ، بلوچستان، اور آزاد کشمیر کے نمائندگان نے بھی اپنی موجودگی سے تقریب کو رونق بخشی۔

    نو منتخب جنرل سیکرٹری ملک انوارالحق اعوان نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ملازمین کی فلاح و بہبود اور محکمہ کی ترقی کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے۔ صدر لائیوسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب سردار مقبول حسین ڈوگر نے تقریب کے دوران چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا اور ملازمین کے مسائل اجاگر کیے۔

    ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک ڈاکٹر محمد اشرف نے نو منتخب عہدیداران سے حلف لیا اور پیراویٹس کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب میں شرکاء نے نئی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلوص اور عزم کو سراہا.

  • مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟

    مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟

    مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    زمانۂ حال کی سیاست میں خیرات، امداد اور فلاحی سکیمیں عوامی مقبولیت کے حصول کا مجرب نسخہ سمجھی جاتی ہیں۔ انہی سکیموں میں، سوشل میڈیا تشہیر سے بھرپور ایک مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام بھی شامل ہے، جسے بظاہر غریب اور مستحق طلباء کی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس پروگرام کی تفصیلات میں جب گہرائی سے جھانکا جاتا ہے تو حقائق کے پردے ہٹتے ہیں اور اس سکیم کے مضمرات ایک عجیب تمسخر کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔

    سکالرشپ کی مد میں یونیورسٹیوں میں طلباء کے لیے قریباً 50 سے 90 لاکھ روپے تک کے وظائف فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بظاہر متاثر کن ہیں اور عوامی ذہن میں یہ گمان پیدا کرتے ہیں کہ ان وظائف کی مدد سے مستحق طلباء کے تعلیمی مسائل حل ہو جائیں گے۔ مگر جب اس رقم کو 200 سے 300 طلباء کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے تو ہر طالب علم کو محض 15,000 سے 20,000 روپے ہی میسر آتے ہیں۔یہ رقم جو سننے میں تو کسی "اعزاز” سے کم نہیں لگتی، حقیقتاً ایک مذاق کے مترادف ہے۔ موجودہ تعلیمی حالات میں، جہاں یونیورسٹیوں کی ایک سمسٹر کی فیس 50,000 سے ایک لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے، وہاں یہ رقم طالب علم کی ضرورتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی پورا نہیں کرتی۔ نتیجتاً، نہ تو یہ وظائف تعلیمی بوجھ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو پاتے ہیں اور نہ ہی مستحقین کو کسی حقیقی ریلیف کی امید دلاتے ہیں۔

    اس سکالرشپ پروگرام کے ساتھ جو ایک اور سنگین مسئلہ جڑا ہوا ہے، وہ مریم نواز کے یونیورسٹیوں کے دوروں کے دوران پیدا ہونے والی صورتِ حال ہے۔ ان کے دوروں کی وجہ سے اکثر یونیورسٹیوں میں کرفیو جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ تقریباً 95 فیصد طلباء کو چھٹی دے دی جاتی ہے، اور بعض اوقات تو یونیورسٹیاں اپنے جاری امتحانات تک کو منسوخ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔یہ صورت حال ان دوروں کا مقصد تعلیمی مسائل کو حل کرنا نہیں، بلکہ کسی اور طرف کو اشارہ کرتی ہے۔ طلباء کی پڑھائی اور ان کے تعلیمی معمولات کو تہ و بالا کر کے ایسے دورے تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔

    طلباء کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی عزت اور حوصلہ افزائی ہر معاشرے کی ترجیح ہونی چاہیے۔ مگر اس سکالرشپ پروگرام میں طلباء کو دی جانے والی معمولی رقم اور اس کے ساتھ کی جانے والی تشہیر طلباء کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف سیاسی رہنما عوامی فنڈز سے وظائف دے کر خود کو "عوام کا مسیحا” ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری طرف طلباء کو ان کی بنیادی تعلیمی ضرورتوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔بوسیدہ تعلیمی نظام، انفراسٹرکچر اور دیگر کئی مسائل میں ہماری جامعات گھری ہوئی ہیں۔ مگر یہ خان اور شریف ہمیں چند ہزار کے پیچھے لگائے رکھیں گے۔ تاکہ ہم اصل مسائل کو بھولے رہیں۔

    یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ایسے پروگراموں کے حقیقی اثرات کو سمجھیں اور ان میں اصلاحات کے ذریعے تعلیم کے میدان میں حقیقی انقلاب برپا کریں، نہ کہ محض سیاسی فوائد کے حصول کے لیے عوامی وسائل کا استحصال کریں.

  • نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    2025 کا آغاز پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے۔ وہی سیاست جو "ووٹ کو عزت دو” کے نعروں سے گونج رہی تھی، آج نعروں کی گونج سناٹوں میں بدل کر اک نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔ نواز شریف کی واپسی کے بعد ن لیگ جن خوابوں کا تانا بانا بُنتی نظر آتی تھی، اندھے کے وہ خواب بہت بڑا سوالیہ نشان بنے بیٹھے ہیں۔ نواز شریف کے جلسے، ایئرپورٹ پر عدالتی کارروائیاں، اور مینارِ پاکستان پر سرکاری جلسے کے مناظر کسی بڑی سیاسی حکمت عملی کا عندیہ تو دیتے تھے، مگر یہ حکمت عملی خود ن لیگ کی سیاست کے لیے کتنی کامیاب رہی؟ اس کا جواب کھلی کتاب کی طرح سامنے آچکا ہے۔

    پی ٹی آئی کی کہانی بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ 2023 کے انتخابات کے بعد جس طرح پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، وہ نہ صرف بانی تحریک انصاف کے بیانیے کو تقویت دے گئی بلکہ اس نے عوام کی حمایت کو بھی ایک نئی سمت دی۔ آج وہی پی ٹی آئی جو کبھی اپنی شناخت کے بحران سے گزر رہی تھی، ایک بار پھر ملک کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت بن چکی ہے۔

    نواز شریف کی وطن واپسی کی شرائط جن میں نیب قوانین میں تبدیلیاں، کیسز کا خاتمہ، اور عدلیہ پر کنٹرول شامل تھے، ایک طرف عوام کو حیران کرتی رہیں تو دوسری جانب ان کی سیاسی حکمت عملی اور سیاسی نظریات کو بھی کمزور کرتی رہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف، جو ہر طرح کے دباؤ اور مشکلات کے باوجود اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، اب حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے۔ لیکن یہ مذاکرات کیا نتیجہ خیز ہوں گے؟ یا یہ بھی سیاسی داؤ پیچ کا ایک حصہ ہیں؟

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج پاکستان کی سیاست ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا غیر متزلزل بیانیہ کہ وہ کسی قسم کی "ڈیل” نہیں کریں گے، ان کے حامیوں میں نئی امید پیدا کرتا ہے۔ لیکن پس پردہ جو کچھ چل رہا ہے، وہ عوام کے ذہنوں میں سوالات کو جنم دیتا ہے۔

    ن لیگ کے دعوے اور پی ٹی آئی کے جوابی بیانیے نے سیاست میں ایک دلچسپ کشمکش کو جنم دیا ہے۔ یہ کشمکش صرف سیاسی جماعتوں کی بقا کی جنگ نہیں بلکہ عوامی شعور اور مستقبل کی سیاست کی سمت کا تعین بھی کرے گی۔ کیا تحریک انصاف کے مطالبات حکومت مان لے گی؟ کیا ن لیگ ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی عوامی مقبولیت و حمایت واپس حاصل کر سکے گی؟۔ قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مگر بقول ماما پھلا، جلد ہم نواز شریف یہ کہتے پائے گے،”نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم”

  • بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    چاچو میں نہیں جاؤں گی! یہ چار سالہ زہرہ کی وہ آخری چیخ تھی، جو سرائے عالمگیر کے ایک گلی کوچے میں کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کی۔ یہ چیخ اس معصوم کی تھی، جو تیرہ سال کے انتظار کے بعد جنید اور اس کی بیوی کی جھولی میں خوشی بن کر آئی تھی۔ لیکن افسوس، پانچ جنوری کی وہ شام ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ لے آئی۔ زہرہ کو پہلے اغوا کیا گیا، پھر وحشیانہ انداز میں ریپ اور قتل کے بعد ایک بے جان لاشہ بنا کر چھوڑ دیا گیا۔

    زہرہ کے کیس کی تفصیلات دل دہلا دینے والی ہیں۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق، اس کے جسم پر کئی گہرے زخم تھے۔ معصوم کے وجائنل پارٹس کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا۔ یہ مناظر صرف زہرہ کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے لیے شرمناک ہیں جو خود کو مہذب کہتا ہے۔
    یہ کوئی پہلی کہانی نہیں۔ 2018 میں قصور کی زینب کا واقعہ یاد کریں، جس نے پورے ملک کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ زینب کے قاتل کو پکڑا گیا، سزا دی گئی، پھانسی پر لٹکایا گیا، لیکن کیا اس کے بعد قصور میں یا ملک میں بچیوں کے ساتھ ہونے والے ریپ کے واقعات ختم ہو گئے؟ ہرگز نہیں!

    قصور آج بھی پیڈوفائلز کا گڑھ ہے۔ الجزیرہ کی ایک ڈاکیومنٹری نے یہ تلخ حقیقت بے نقاب کی کہ زینب کے والد کی بے بسی آج بھی زندہ ہے، کیونکہ اس علاقے میں کئی اور بچیاں اب بھی جنسی استحصال کا شکار ہو رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان معصوموں کے والدین کو انصاف ملے گا؟
    ہمارا معاشرہ خواتین اور بچیوں کو محض "سیکس آبجیکٹ” کے طور پر دیکھتا ہے۔ طاقت، برتری اور جنسی تسلط جیسے تصورات کئی صدیوں سے مردوں کے ذہن میں بیٹھے ہیں۔ مذہبی بیانیے ہوں یا معاشرتی روایات، عورت کو اکثر "عزت” اور "غیرت” سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جاتا۔

    قارئین کرام!پاکستان میں ریپ کے کیسز کی رپورٹنگ بھی از خود ایک چیلنج ہے۔ بہت سے والدین خوف یا سماجی دباؤ کی وجہ سے مقدمہ درج نہیں کراتے۔ جو مقدمے درج ہو بھی جائیں، ان میں سے کتنے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں؟ عدالتوں کی سست روی، پولیس کی نااہلی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر سنجیدگی ایسے واقعات کے بڑھنے کی بڑی وجوہات ہیں۔

    یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ جب پنجاب کی حکومت ایک عورت کے ہاتھ میں ہے تو کیا وہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہیں؟ زینب الرٹ بل، جس کا بہت شور اور کریڈیٹ لیا گیا تھا۔کیا وہ صرف کاغذی قانون بن کر رہ گیا ہے؟

    زہرہ کی کہانی ہمارے معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہمیں ہماری ناکامیوں کا چہرہ دکھاتا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ان مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو نہ جانے کتنی زہرائیں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔

    قارئین محترم آئیے! ہم خود سے سوال کریں کہ کیا ہم اپنے بچوں کے لیے محفوظ معاشرہ بنا سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو کب؟ اگر نہیں، تو کیوں؟