Baaghi TV

Author: اعجاز الحق عثمانی

  • لباسوں پر نظر رکھے ہوئے گدھ،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    لباسوں پر نظر رکھے ہوئے گدھ،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    سن اسی کی دہائی میں پاکستان عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز تھا،دنیا بھر کے صحافی اسلام آباد میں موجود رہتے تھے۔ آج برسوں بعد ایک مرتبہ پھر اسلام آباد عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ اسی کی دہائی میں پاکستان کا منفی چہرہ سامنے آرہا تھا، مگر بطور پاکستانی خوش آئند بات یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں ہمیں مثبت اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا پاکستان کی سفارتی کوششوں کا سراہا رہا ہے۔اور پاکستان پورے خطے میں ایک مضبوط سفارت کار کے طور پر سامنے آرہا ہے۔

    بلاشبہ حالیہ آباد ٹاکس نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سفارتی نقشے پر نمایاں مقام دلا دیا۔گزشتہ ہفتے دنیا بھر کے صحافی، تجزیہ نگار اور سفارت کار پاکستان کی طرف متوجہ تھے۔ بین الاقوامی میڈیا پاکستان کی سفارتی پختگی اور خطے میں اس کے کردار کو سراہ رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بطور قوم ہمیں اپنے ملک پر فخر کرنا چاہیے تھا۔ مگر ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے ایک بڑے طبقے نے اس تاریخی موقع پر جو کام اپنے ذمے لیا، وہ یہ تھا کہ ایک سینئر صحافی غریدہ فاروقی کے لباس کی تصویریں شیئر کی جائیں، ان کا مذاق اڑایا جائے اور انہیں ذلیل کیا جائے۔ اس موقع پر بھی امن کےلیے کوشاں پاکستان کے ایک طبقے نے ثابت کر دیا کہ چاہے یہاں امن کےلیے مذاکرات ہوں یا دنیا کے لیے فیصلے مگر ان کا ذہن ابھی بھی کسی عورت کی قمیض کی لمبائی سے آگے نہیں بڑھا۔

    یہ کوئی نئی بیماری نہیں ہے، نہ ہی یہ کسی ایک واقعے تک محدود ہے۔ پاکستان میں عورت کو کمزور کرنے کا سب سے آسان اور آزمودہ ہتھیار ہمیشہ اس کا کردار، اس کا جسم اور اس کا لباس رہا ہے۔ یہ ہتھیار سیاست میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے، میڈیا میں بھی اور سوشل میڈیا کے میدان میں بھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اس ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے ایک مردانہ دنیا میں اپنا راستہ خود بنایا، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی اور اسلامی دنیا میں پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بنیں۔ مگر ان کی کردار کشی کرنے کے لیے ہیلی کاپٹروں سے پمفلٹ گرائے گئے ۔

    ثمینہ پاشا کے معاملے میں جب طلعت حسین جیسے سینئر صحافی اور شیر افضل مروت جیسے سیاست دان بیٹھ کر ان کے جسم پر تبصرے کرتے ہیں تو یہ محض بدتمیزی نہیں ہوتی، یہ ایک منظم رویے کا حصہ ہوتا ہے۔ اسے نفسیات کی زبان میں Dehumanization کہا جاتا ہے، یعنی کسی انسان کو اس کی صلاحیتوں اور کردار سے ہٹا کر محض ایک جسم تک محدود کر دینا۔ جب آپ کسی پیشہ ور عورت کی گفتگو، اس کے دلائل اور اس کی محنت کو نظرانداز کر کے اس کے وزن، رنگ یا لباس پر آ جاتے ہیں تو آپ یہ بتاتے دیتے ہیں کہ ہم ذہنی مریضوں کے لیے اصل اہمیت اس کی ذہانت نہیں، بلکہ ظاہری ہیئت ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو خاموشی سے معاشرے کی رگوں میں اترا گیا ہے۔

    بشری بی بی کے حوالے سے جو کردار کشی کی گئی، اس کی نوعیت اور بھی زیادہ گھناؤنی تھی کیونکہ اس میں نہ صرف ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا گیا بلکہ مذہبی حوالوں کو بھی استعمال کیا گیا۔ ایک عورت خود کو اس وقت سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہے۔جب اس پر مذہبی یا اسکے کردار پرالزام لگایا جائے۔ خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں ہم رہتے ہیں۔ وہاں عزت کا تصور فقط عورت سے جوڑا گیا ہے۔ مریم نواز کے بارے میں بھی یہی ہتھیار آزمایا گیا۔ ان کی سیاست سے اختلاف کرنا بالکل جائز ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید ایک ہر پاکستانی ہے جمہوری حق ہے۔مگر کردار کشی اور تنقید میں فرق ہوتا ہے۔ جب تنقید کسی عورت کی ذاتی زندگی، اس کے لباس یا اس کے جسم پر آ جائے تو وہ تنقید نہیں رہتی، وہ ہراسانی بن جاتی ہے۔

    نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ عورتوں کو ان کی ظاہری ہیئت کی بنیاد پر جج کرنا ایک مخصوص ایک بیمار ذہنی کیفیت کی علامت ہے جسے Objectification Theory کہا جاتا ہے۔جب کوئی معاشرہ عورت کو انسان کے بجائے ایک شے سمجھنے لگتا ہے تو وہ اس کی صلاحیتوں کو نظرانداز کر کے اس کے جسم کو جانچنے لگتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اس عورت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے ذہنی ارتقاء کو روک دیتا ہے۔ وہ معاشرے جہاں عورتوں کو ان کی اہلیت سے زیادہ ان کی ظاہری ہیئت سے پہچانا جاتا ہے، وہ معاشرے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ اپنی نصف آبادی کی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔

    غریدہ فاروقی ہوں، ثمینہ پاشا ہوں، بشری بی بی ہوں، مریم نواز ہوں یا بے نظیر بھٹو یا کوئی اور عورت جسے صرف لباس اور جسمانی ہیت پر جج کیا جائے، ہمیشہ قابل مذمت ہے۔پاکستان آج عالمی سطح پر اپنا مقام بنا رہا ہے۔ اسلام آباد ٹاکس نے دنیا کو دکھایا کہ اس ملک کے پاس سفارتی بصیرت ہے، ذمہ داری کا احساس ہے اور خطے میں امن کی خواہش ہے۔ مگر جب تک ہمارے اندر بیٹھا وہ گدھ موجود ہے جو کامیاب عورت کو دیکھ کر اس کے لباس پر ٹوٹ پڑتا ہے، ہماری یہ عالمی و اخلاقی ساکھ ادھوری رہے گی۔

  • 14 برس کا باغی .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    14 برس کا باغی .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    مری آہ و فُغاں سن کر خفا دربار ہیں مُجھ پر
    یہ لکھتے اُن کی جانب سے کئی اخبار ہیں مُجھ پر
    میں باغی ہوں مگر پہلے بغاوت کا سبب جانو
    وگرنہ ہتھکنڈے اوچھے سبھی بے کار ہیں مجھ پر (ڈاکٹرالیاس عاجز)
    وقت بتاتا ہے کہ کونسا ادارہ محض حالات کی پیداوار تھا یا مخصوص لوگوں کا فرمائشی اور کون اپنے حصے کی شمع جلانےآیا تھا۔یہاں وقت اور حالات کے ساتھ رخ بدلنے کا رواج عام ہے۔ اپنے لفظوں کو ایوانوں کی دہلیز پہ گروی رکھ لیا جاتا ہے۔ مگر کچھ سر پھرے، اپنے کام اور ملک سے محبت کرنے والے، حالات سے بغاوت کرکے، "کھرے سچ” کا دیا جلائے رکھتے ہیں۔ میرے قلم نے 2021 میں پہلی دفعہ "باغی ٹی وی” نامی ایک ڈیجٹیل پلیٹ فارم کےلیے لکھنا شروع کیا۔ میرا خیال تھا کہ یہ بھی ایک ویب سائٹس کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ مگر بعد میں یہ عقدہ وا ہوا کہ میاں یہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ ایک مکمل اور پروفیشنل ادارہ ہے۔ باغی ٹی وی نے آج سے 14 برس قبل جب سئینر اینکر و کالم نگار مبشر لقمان کی سربراہی میں ڈیجیٹل افق پر قدم رکھا تو تب سے باغی ظلم کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ یہ سماج کیونکہ سچ سننے کا عادی نہیں ہے، سچ بولنے والوں کا جو حال اس پاک سرزمین پر سبھی کا ہوتا ہے، "باغی” کو بھی انہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج کی کوریج ہو یا لانگ مارچ یا جلسے، باغی ٹی وی نے مین سٹریم میڈیا کی طرح ہر ایونٹ کو کوریج دی۔ بلکہ اپنا کیمرہ موڑنے کی بجائے وہاں رکھا، جس کو دکھانا ممنوع تھا۔ دباؤ، دھمکیاں، حتی کہ باغی ٹی وی کی آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کا بلیو ٹک تک ختم کروا دیا گیا۔ یہاں تک کہ پاکستان دشمن مودی سرکار بھی باغی کی بغاوت سے خائف نظر آئی۔ اور کئی مرتبہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بند اور ویب سائٹس کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر باغی نے اجمل صدیقی صاحب کے اس شعر پر عمل کرتے ہوئے کام جارہی رکھا۔
    ؎یہ ہی ہیں دن، باغی اگر بننا ہے بن
    تجھ پر ستم کس کو پتا پھر ہو نہ ہو

    باغی ٹی وی اس وقت پانچ مختلف زبانوں میں اپنے قارئین کو باخبر رکھے ہوئے ہے۔ اردو، انگریزی، پشتو اور چینی وغیرہ جیسی زبانوں میں صرف باغی ٹی وی کی ہی ویب سائٹس ہیں۔ زبانیں پانچ ہیں،مگر موقف ایک ہی ہے۔ یہی وجہ کا آج باغی ٹی وی دنیا بھر میں دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ گزشتہ 10 برس سے باغی ٹی وی یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔ جہاں 2200 سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔ویڈیوز کی موجودگی محض تعداد نہیں، سنسرشب کے دور میں سچ کی داستان ہے۔ یہ صرف ویڈیوز نہیں، بلکہ خبروں ، انفارمیشن اور حقائق کا منبع ہیں۔ پروگرام "باغی بریسیٹر” ہو ،یا ” باغی کا پاکستان” اور معروف انوسٹیگئٹو جرنلسٹ محسن بھٹی کا حقائق کا پردہ چاک کرنے والا پروگرام "موت کا دھندا” ہو، جس کی صرف ایک ایپی سوڈ کو 1.8 ملین سے زائد افراد نے دیکھا، یہ سب باغی کے سچ کی جنگ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پروگرام ” باغی ستارے” ہو یا ” خوابوں کی تعبیر ” باغی نے عوام کو باخبر رکھنے کےلیے کسی ڈومین کو نہ چھوڑا۔ حتی کہ جن چھوٹے علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، ان کےلیے "علاقائی” اور "ریجنل ہیڈ لائنز” بھی نشر کی جاتی رہی ہیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں باغی ٹی وی نے لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح کی لائیو کوریج کرنے کا اعزاز بھی حاصل کر رکھا ہے۔

    باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ” ممتاز اعوان” صاحب ہمارے مہربان ہیں۔ گزشتہ برس انھوں نے باغی ٹی وی کی سالگرہ پر مدعو کیا۔ تو ہم بھی باغی ٹی وی کی 13 وی سالگرہ کا کیک کھانے 365 نیوز کی بلڈنگ میں مبشر لقمان صاحب کے دفتر پہنچے۔ مبشر لقمان صاحب کسی مصروفیت کی وجہ سے اسلام آباد چلے گئے تو 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز و کرنٹ افیئرز سینئر صحافی محمد عثمان صاحب کے ہمراہ کیک کاٹا گیا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس تقریب میں 2 چکوالی اور بھی آئیں گے۔ فیصل رمضان صاحب کا تعارف ہوئے چند ہفتے ہی گزرے تھے،مگر وہ بھی تشریف نہ لا سکے۔جبکہ دوسرے چکوالی ایم ایم علی صاحب کو گزشتہ 5،6 برسوں سے سوشل میڈیا پر دیکھ اور پڑھ رکھا تھا۔ ایم ایم علی صاحب معروف ادبی تنظیم ” آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن” کے بانی ہیں۔ لیکن ان سے بھی کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اسی دن ان سے بھی ملاقات ہوئی، اور یہ بھی حیران کن انکشاف ہوا کہ مبشر لقمان صاحب بھی چکوالی ہیں۔ اس تقریب میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ اور خاکسار نے انھیں اپنی کتاب "عثمانی نامہ ” پیش کی۔تقریب میں دیگر شرکاء کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اعزازی سرٹیفکیٹ 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز کے ہاتھوں ملا۔

    میں نے پہلی دفعہ 2021 میں باغی میں لکھنا شروع کیا۔ اب تک باغی کےلیے 60 سے زائد آرٹیکلز لکھ چکا ہوں۔ شاید اس لیے کہ یہاں کبھی قلم پابند نہیں کیا گیا۔ جو چاہا لکھا اور چھپ گیا۔ ماضی قریب کے زلزلے اور سیلاب میں باغی ٹی وی کی رپورٹنگ کو بہت قریب سے دیکھا۔ کئی ایک بڑے مین سٹریم سے بہتر رپورٹنگ اور معلومات دیکھنے کو ملی۔ باغی ٹی وی نے روایتی میڈیا پلیٹ فارم پر چند مگرمچھوں کے قبضے کے برعکس ہمیشہ نئے لکھاریوں کو نہ صرف موقع دیا بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی۔ یہ ادارہ نہ صرف ملک بھر کے مظلوموں کی آواز بنتا ہے۔ بلکہ چند برس قبل جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر ڈاکا ڈالا تو مجھے اس وقت صرف باغی ٹی وی ہی واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم نظر آیا جو کہ بڑھ چڑھ کر بھارتی مظالم کو دھمکیوں کے باوجود بے نقاب کرتا رہا۔
    ؎کہتے ہیں باغی مجھ کو زمانے والے
    کہ یہ طور نہیں زندگی نبھانے والے
    ٹوٹا بھی تو بکھرنے نہیں دیا خود کو
    پچھتائے ہر بار مجھے آزمانے والے

    یقینا 14 برس مکمل ہونے پر سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان صاحب اور ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب سمیت دیگر ٹیم بھی مبارکباد کی مستحق ہے۔ خدا نے چاہا تو یہ سفر جاری رہے گا۔ اور پندرہ برس مکمل ہونے تک ہم بھی اپنے آرٹیکلز کی سینچری مکمل کر لیں گے۔

  • یونیورسٹیاں یا ٹارچر سیل؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    یونیورسٹیاں یا ٹارچر سیل؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    دنیا بھر میں تعلیمی ادارے علم و تربیت کے مراکز ہوتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کئی ادارے تعلیمی یا علمی مرکز نہیں بلکہ ٹارچر سیل ہیں جہاں تعلیم و تربیت کے نام پر جسمانی اور ذہنی تشدد جائز سمجھا جاتا ہے۔ سکولوں میں بچوں کو زمانہ جاہلیت کی طرز پر جانوروں کی طرح مارا پیٹا جاتا ہے۔ اور جہاں ڈنڈے اور ہاتھ نہیں اٹھائے جاسکتے، وہاں ذہن کو نشانہ بنا لیا جاتا ہے۔ یہاں تمام اختیارات پروفیسر صاحبان کا حق، جبکہ سوال، طالب علموں کا جرم ہوتا ہے۔

    یونیورسٹی آف لاہور میں آج سے قریبا 15 روز پہلے اویس نامی طالب علم کی خود کشی اور آج ایک اور پھر اسی یونیورسٹی کی چھت سے کود کر ایک طالبہ کی خود کشی کی کوشش افسوسناک تو ہے ہی۔مگر اس سے کہیں زیادہ اس نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ آئے روز نوجوان نسل کے ایسے واقعات میں صرف ایک فرد ہی اپنا قاتل نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ معاشرے کا اجتماعی قتل ہوتا ہے۔ قاتل کبھی استاد ہوتا ہے تو کبھی ادارہ،اور کبھی یہ کام والدین کرتے ہیں اور کبھی ہم سب یعنی یہ سماج۔

    یونیورسٹی پروفیسرز کے پاس آپ کی ڈگری کی تکمیل تک تمام اختیارات ہوتے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں پر نام کا احتساب تو ہوتا ہے۔مگر پروفیسرز کے اختیارات کے ناجائز استعمال پر سوال تک نہیں کیا جاسکتا۔ فیل کر دیا جائے،اسائنمنٹ میں گریڈز برباد کر دیے جائیں مگر آپ بول نہیں سکتے۔ بولیں گے تو سمجھو کہ ڈگری اب آسانی سے اور وقت پر تو مکمل نہیں ہونے والی۔ نفسیات میں اسے پاور ابیوز کہا جاتا ہے۔یونیورسٹی آف لاہور کا طالبعلم اویس بھی نفسیاتی دباؤ کا شکار رہا۔ اور پھر حالات اسے اس نہج پر لے گئے کہ جہاں اسے زندگی سے زیادہ موت کا رستہ آسان لگا۔ اور آج کے دن یونیورسٹی آف لاہور ہی کی فاطمہ نامی طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں۔ خودکشی کا خیال یونہی ایک دن میں ہی پیدا نہیں ہوجاتا۔ کبھی مہینوں تو کبھی سالوں کی ذہنی اذیت ہوتی ہے جو ایسے اقدامات پر انسان کو مجبور کر دیتی ہے۔ یہ اب پرانی نسل نہیں رہی صاحب!جسے آپ جیسے مرضی جس لاٹھی سے ہانپتے رہیں۔ یہ نئی نسل ہے، نئے ذہن ہیں، منفرد سوچتے ہیں۔ اور سمجھنے، سمجھانے کا طریقہ بھی الگ ہے انکا۔ اب وہ دور جاہلیت نہیں کہ باپ اور استاد کے ہر غلط صحیح کو یہ اخلاقی جواز حاصل ہو کہ چپ رہنا ہے، سہنا ہے۔

    کہنے والے تو یہ اس لیے بھی کہیں گے کیونکہ یہ آسان مگر جھوٹا بیانہ ہے کہ یہ دونوں کمزور اور بزدل تھے کہ مشکلات سب پر آتی ہیں۔اصل کمزور تو یہ نظام ہے، جو اختیار اور طاقت تو دیتا ہے مگر ساتھ ضمیر نہیں دیتا۔اگر آج بھی آپ اور میں نے اسے صرف دو طالب علموں یا ایک یونیورسٹی کا معاملہ سمجھ کر چھوڑ دیا تو کل اویس اور فاطمہ کی جگہ کوئی اور نام ہوگا، اور تب بھی ہم صرف یہ پوچھ رہے ہوں گے کہ آخر یہ بزدل جنریشن خودکشیاں کیوں کر رہی ہے۔

  • پاکستان کی بڑھتی سفارتی اہمیت،ریاستی ہم آہنگی کا ثمر ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی بڑھتی سفارتی اہمیت،ریاستی ہم آہنگی کا ثمر ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو حالیہ مہینوں میں امریکہ اور یورپ میں جو سفارتی توجہ اور پذیرائی حاصل ہوئی ہے، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ریاستی سطح پر ایک نسبتاً مربوط حکمتِ عملی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ عالمی سیاست میں جہاں مفادات مستقل اور دوستیاں عارضی ہوتی ہیں، وہاں کسی ملک کی اہمیت اس کے رویّے، استحکام اور پیغام کی یکسانیت سے متعین کی جاتی ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم، نے علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور اسٹرٹیجک توازن کے حوالے سے جو واضح اور ذمہ دار مؤقف اختیار کیا ہے، اس نے مغربی دارالحکومتوں میں پاکستان کے بارے میں سنجیدگی کو تقویت دی ہے۔ مغرب کے لیے خطے میں استحکام ایک کلیدی ترجیح ہے، اور پاکستان کا اس ضمن میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آنا ایک اہم سفارتی اثاثہ ہے۔ ساتھ ہی وزارتِ خارجہ اور وزیرِ خارجہ کی ٹیم نے حالیہ عرصے میں روایتی جوشِ خطابت کے بجائے خاموش، محتاط اور نتیجہ خیز سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔ کثیرالجہتی فورمز پر متوازن بیانیہ، غیر ضروری تنازعات سے اجتناب اور عالمی طاقتوں کے ساتھ عملی مکالمہ یہ تمام عوامل پاکستان کے تشخص کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس وقت ریاستی سطح پر پیغام کا تضاد کم نظر آ رہا ہے۔

    عسکری اور سفارتی بیانیے میں ہم آہنگی وہ عنصر ہے جسے عالمی طاقتیں نہایت سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ یہی ہم آہنگی پاکستان کو دوبارہ عالمی میز پر قابلِ گفتگو فریق بنانے میں مدد دے رہی ہے۔سفارتی کامیابی اسی وقت دیرپا ثابت ہوگی جب اسے معاشی بحالی، سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی میں تبدیل کیا جائے۔آخرکار پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ وہ وقتی طور پر عالمی توجہ حاصل کر لے، بلکہ یہ ہے کہ اس توجہ کو قومی مفاد میں ڈھالتے ہوئے خود کو ایک مستحکم، قابلِ اعتماد اور باوقار ریاست کے طور پر منوائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو وقتی پذیرائی کو مستقل احترام میں بدل سکتا ہے۔

  • چند لکیریں ” یادوں کی لکیریں” پر،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    چند لکیریں ” یادوں کی لکیریں” پر،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    گزشتہ چار ماہ سے کچھ نہیں لکھ پایا کہ آج کل نشہ ریل(Reel) میں مبتلا ہوں۔ کچھ دن قبل انسٹاگرام پر سکرولنگ کرتے، حمرا شعیب کی کتابیں نظر سے گزریں۔ آج کل میرا رجحان پرانے لکھاریوں کی کتب خریدنے سے کہیں زیادہ نئے قلم کاروں کی طرف ہو چلا ہے۔ اس رجحان نے بیسیوں مرتبہ پریشان بھی کیا۔مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس سلسلے کی پرائمری وجہ اچھی تحریر پڑھنا نہیں، بلکہ بطور لکھاری ایک خاموش سا مقصد ہے۔ سو ہم نے حمرا شعیب کی دو کتب منگوا لی۔ ” یادوں کی لکیریں” مصنفہ مصوفہ کی پہلی تصنیف ہے، اور حجم میں بھی قدرے مختصر ہے،سو اسکا مطالعہ پہلے کرنے کا ارادہ بنا۔ پڑھ کر پبلیکیشن ہاؤس کو کوسا،اور مصنفہ کےقلم کے لیے بے ساختہ دعائیں نکلی۔یہ کتاب دراصل مصنفہ کی نانی کی زندگی کی یادداشتوں، وفا،دکھوں اور صبر کی خاموش جدوجہد کی کہانی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار حالات کی سختیوں کے باوجود، صبر و وفا کا دامن نہیں چھوڑتا۔ گو کہ کتاب کا اسلوب بہت ہی سادہ ہے مگر مصنفہ نے تمام واقعات کو محض واقعات کے طور پر نہیں بلکہ احساس کی شکل میں پیش کیا، جو کہ کہانی کو اثر انگیز بناتا ہے۔ اس کتاب کی ایک ہی خوبی ہے کہ یہ خلوص اور سچائی پر مشتمل ہے نا کہ بناوٹی ہے۔ بیماری، جدائی، موت، سماجی جبر اور عورت کی بے لوث قربانی جیسے کئی واقعات نہایت سادگی سے سامنے آتے ہیں، تو بعض دفعہ نانی کے مکالمے اور جملے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر بیان و مکالمہ کی غیر ضروری طوالت و جملوں کی تکرار نے کہانی اور روانی دونوں کو متاثر کیا۔ کہانی بعض مقامات پر فکری و زمانی ترتیب کھو دیتی ہے۔ اور ابواب کے درمیان کمزور ربط بھی بطور قاری کے لیے مشکلات کا باعث رہا۔ منظر نگاری میں یکسانیت اور فنی سطح پر بہتری کی گنجائش تھی۔ لفظ مصنف کے ہوتے ہیں، مگر ورق (کتاب) پبلیکیشن ہاؤس کی۔ مگر بدقسمتی سے کتاب دیکھ کر پبلیکیشن ہاؤس کی غفلت نمایاں طور پر نہیں آئی۔ املا، رموز اوقات اور زبان کی بنیادی غلطیاں چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ مسودہ کسی معیاری ادارتی عمل سے گزرا ہی نہیں۔ متن کی ترتیب، پیراگراف کی نشت۔۔۔۔ افسوس۔ مگر لفظوں کی چمک دمک سے پرے، سچائی کی سیاہی سے لکھنے پر حمرا شعیب کو مبارک باد اور دعائیں۔

  • عالمی تھانیدار اور وینزویلا.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    عالمی تھانیدار اور وینزویلا.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    پوری دنیا کے کان ایک بار پھر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ اس دنیا میں کہیں کوئی بڑی چوری یا ڈاکا پڑا ہے۔ بلکہ عالمی تھانیدار نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ اب ملکوں کے نقشے اسی کے حکم سے بنیں اور بگڑیں گے۔ ملکوں کو مرضی سے چلانے کے لیے تو طاقت ور تھانیدار پہلے ہی بہت معروف تھے۔مگر تازہ اعلان کچھ زیادہ ہی بے باک ہے کہ بھیا! ہم نے وینزویلا پر فوجی حملہ کرکے اس کے صدر کو بیوی سمیت گرفتار کر رکھا ہے۔ تھانیدار کا ایسا اعلان اس دنیا میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اب کوئی یہ بھی نہ سمجھ بیٹھے کہ وینزویلا کا صدر "مادورو” کوئی نیک آدم زاد ہے یا کوئی فرشتہ صفت حکمران۔ آمریت پسند، سیاسی حریفوں سے بدترین سلوک کئی ایک تلخ حقائق ہیں۔ مگر تھانیدار صاحب! آپ کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ آپ کسی بھی ملک گھسیں اور صدر کو گرفتار کرکے ساتھ لے آئیں۔ مادورو کے بارے جان کر اگر آپ کو بھی انصاف یہی عالمی معیار لگ رہا ہے تو برخوردار اپنے صدر کو تیار رکھیں، اگلی باری آپ کی بھی ہوسکتی ہے۔ اس معیار کے مطابق تو آدھی دنیا کو اب تک واشنگٹن کے حوالات میں ہونا چاہیے تھا۔

    واشنگٹن کے تھانیدار کا کہنا ہے کہ یہ مادورو منشیات فروش اور اسمگلر ہے۔ اور بات بھی ٹھیک ہے۔ یہ نا سمجھ بیٹھے گا کہ واشنگٹن کی نیت نیک ہے۔ زیادہ دور نہیں اپنے پڑوسی افغانستان کو دیکھ لیجیے، جس کےلیے یہاں سے ہی نعرہ لگا تھا کہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔ مگر نتائج آپ کے سامنے ہیں،راکھ، لاشیں، اور وہی پرانے سوداگر۔
    لیکن واشنگٹن کے عزائم صاف ہیں، وہ نیک نہیں، رسید بک ساتھ لاتا ہے۔ "اپنا کام بنتا، بھاڑ میں جائے (باقی) جنتا”۔

    لیکن وینزویلا کا جرم کیا ہے آخر؟؟ جب آپ کے پاس تیل کے بڑے بڑے ذخائر ہوں۔ مگر آپ واشنگٹن کے دائرہ اثر سے باہر نکلنے کی ضد کریں تو یہ جرم ہے، اور ایسا سنگین جرم ہے کہ جس کی واشنگٹن تھانے میں ذرہ برابر بھی معافی نہیں۔

    کئی برسوں سے وینزویلا نے ضد پال رکھی تھی۔ یہ وہی ضد ہے جو کسی دور میں شاویز نے پالی تھی۔2002 میں اسے فوج کے ذریعے ہٹایا گیا، مگر عوامی حمایت نے اسے 48 گھنٹوں کے دوران ہی واپس لا بیٹھایا۔
    تب سے یہ سلسلہ جاری ہے، کبھی پابندیاں، کبھی رجیم چینج، کبھی اپوزیشن کو ہیرو بنا کر پیش کرنا۔ مگر مادورو نے بھی سوشلسٹ نعرے، امریکا مخالف بیانات اور اس سے بھی بڑا جرم کیوبا اور ایران سے دوستیاں بڑھانے کی کوششیں جاری رکھی۔وہ بھی پرانے دوستوں کے نقش قدم پر چل رہا تھا ،مگر وہ آمرانہ اقتدار کے لطف میں اتنا مگن ہوگیا تھا کہ۔۔۔

    گزشتہ انتخابات میں مادورو کی شکست کے ٹھوس شواہد موجود ہیں مگر وہ قابض رہا۔ لیکن اب عالمی تھانیدار کا فرمان آیا ہے کہ "منصفانہ انتقالِ اقتدار تک امریکہ وینزویلا کو چلائے گا”۔ وہ بھی زبردستی قابض تھا اور آپ بھی، تو دونوں میں فرق کیا رہا؟ مگر آپ نے اگر ایسا ہی کرنا ہے تو یہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی قوانین اور آزادی و خودمختاری کی باتیں صرف فرضی اور کتابی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے تک تو آپ امن کے داعی بنے پھرتے تھے۔ امن کا نوبل انعام لینا چاہتے تھے۔ ہر جگہ جا جا کر جنگ بندی کا کریڈٹ لے رہے تھے۔ اب خود کیوں جنگ پر اتر آئے؟۔ ان جنگ بندی کی کوششوں کو پھر صرف ڈھونگ ہی سمجھا جائے۔

  • ستاروں کے سہارے قومیں نہیں بنتیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ستاروں کے سہارے قومیں نہیں بنتیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام نے انسان کو توہمات، جادو، نجوم اور غیب فروشی سے سختی سے روکا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی واضح اور دو ٹوک ہدایت ہے کہ نجومیوں، کاہنوں اور غیب بتانے والوں کے پاس نہ جایا کرو۔ احادیثِ مبارکہ میں یہاں تک آیا ہے کہ جو شخص کسی نجومی کے پاس جا کر اس کی بات کی تصدیق کرے، اس نے گویا اللہ کی نازل کردہ ہدایت سے انحراف کیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان، جو ایک اسلامی نظریے پر قائم ہونے والی ریاست ہے، یہاں آج یہ مناظر عام ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز میں باقاعدہ نجومی بٹھائے جاتے ہیں، اینکر حضرات سنجیدہ چہروں کے ساتھ آنے والے سال، سیاسی مستقبل، حکومتوں کی عمر اور حتیٰ کہ قومی سلامتی تک کے سوالات ان سے پوچھتے ہیں۔ یہ سب کچھ براہِ راست اس عقیدے کی نفی ہے کہ غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ قرآنِ کریم واضح اعلان کرتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں غیب کا علم کسی کے پاس نہیں سوائے اللہ کے۔ اس کے باوجود ہم خود کو مسلمان کہلوانے کے باوجود ان لوگوں کے سامنے بیٹھے نظر آتے ہیں جو ستاروں، تاریخِ پیدائش یا فرضی حساب کتاب کے ذریعے مستقبل کا سودا بیچتے ہیں۔ یہ صرف دینی گمراہی نہیں بلکہ فکری دیوالیہ پن بھی ہے۔ زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس روش کو عام آدمی نہیں بلکہ بڑے سیاستدان، نام نہاد دانشور اور میڈیا کے بااثر چہرے فروغ دے رہے ہیں۔ جب قوم کی رہنمائی کرنے والے خود اس قسم کی لغزشوں میں مبتلا ہوں تو عام آدمی سے کیا شکوہ کیا جائے؟

    یوں لگتا ہے کہ ہم نے تدبر، محنت، منصوبہ بندی اور اللہ پر توکل کی جگہ قسمت کے فال ناموں اور نجومیوں کے تجزیوں کو اپنا لیا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مستقبل کی فکر اللہ پر چھوڑ کر حال کو بہتر بنایا جائے، اعمال درست کیے جائیں، انصاف، دیانت اور محنت کو شعار بنایا جائے۔ مگر ہم ایک ایسی سمت جا رہے ہیں جہاں ناکامی کا الزام کبھی ستاروں پر ڈال دیا جاتا ہے اور کبھی کسی نجومی کے “کہے” پر قوم کی امیدیں باندھ دی جاتی ہیں۔ یہ روش نہ صرف گناہ ہے بلکہ قوموں کی تباہی کی علامت بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھے، علما حق بات کہنے میں مصلحت کا شکار نہ ہوں، اور عوام خود بھی یہ طے کریں کہ وہ غیب کے سوداگر بنیں گے یا اللہ پر کامل یقین رکھنے والی قوم۔ سوال یہ نہیں کہ نجومی کیا کہتا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کو کب سنجیدگی سے لیں گے؟

  • سال کا اختتام اچھا ہے ؟تحریر: اعجازالحق عثمانی

    سال کا اختتام اچھا ہے ؟تحریر: اعجازالحق عثمانی

    چکوال میں ہلکی پھلکی بوندا باندی جارہی ہے۔ ہاسٹل کے قدرے روشن ایک کمرے میں بیٹھا ہوں۔ باہر صحن گیلا ہے۔ کبھی کبھار مٹی کی خوشبو نتھنوں تک بھی پہنچ رہی ہے۔اور دل کسی پرانی کہانی کو لے کر بیٹھا جارہا ہے۔ بارش جیسے ہی تیز ہوتی ہے، تو کھڑکی کے شیشے پر لکیریں سی بن جاتی ہیں۔ یہ لکیریں کسی بد بخت آدم زاد کے نصیب سی لگتی ہیں، آڑی ترچھی، الجھی ہوئی۔
    آج دسمبر کی آخری تاریخ ہے۔ میرے حلقہ احباب کے ایک بزرگ ادیب اکثر کہتے پائے گئے ہیں کہ دسمبر کے آخری دن حساب مانگتے ہیں۔اور یہ حساب مجھے مشکلات میں ڈالے بیٹھا ہے ۔ نئی دیوار پر لگے پرانے کیلنڈر کا آخری ورق چند گھنٹوں بعد اپنا وجود کھو بیٹھے گا۔ 2025 کا واحد دسمبر ہے جو چکوال میں گزرا ہے۔ ابن آدم کی خود کو بے حد مصروف رکھنے کی کوشش کے باوجود بھی، خنک راتوں میں کلیجہ چیرتی یادوں کی ادھ بجھی آگ کی راکھ کریدتے ہوئے کئی بار دل بے قرار کو قرار دینے کی سر توڑ کوششیں کرتا رہا، مگر یہ ابن آدم ناکام رہا۔ مزاجا تو ہم آوارہ گرد ہیں، مگر جاڑے میں مجبورا۔۔۔۔۔ بقول شاعر

    ؎یادوں کی شال اوڑھ کے آوارہ گردیاں
    کاٹی ہیں ہم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں

    دسمبر نہ جانے کب اور کیسے اداسی کی علامت بن گیا۔ حالانکہ اسی ماہ، کئی خوش نصیب نئے سال سے پہلے نئے سفر کی شروعات کرتے ہیں۔ ڈھول بجتے ہیں،خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ مگر یہ دسمبر ہم جیسوں کے لیے ہر دور میں بھری رہا۔ ہمارے محبوب شاعر امجد اسلام امجد نے بھی،دسمبر کے آخری دنوں کے بارے میں کچھ یونہی کہا تھا۔
    وہ آخری چند دن دسمبر کے
    ہر برس ہی گِراں گزرتے ہیں
    خواہشوں کے نگار خانے سے
    کیسے کیسے گُماں گزرتے ہیں
    رفتگاں کے بکھرے سایوں کی
    ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
    فون کی ڈائری کے صفحوں سے
    کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
    جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
    اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
    کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
    رینگتی بدنُما لکیریں سی
    میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
    دوریاں دائرے بناتی ہیں
    نام جو کٹ گئے ہیں اُن کے حرف
    ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
    حادثے کے مقام پر جیسے
    خون کے سوکھے نشانوں پر
    چاک سے لائینیں لگاتے ہیں
    پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
    ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
    ڈائری ایک سوال کرتی ہے
    کیا خبر اس برس کے آخر تک
    میرے ان بے چراغ صفحوں سے
    کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
    کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
    گردِ ماضی سے اٹ گئے ہونگے
    خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
    کتنے طوفان سِمٹ گئے ہونگے
    ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
    اک دن اس طرح بھی ہونا ہے
    رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
    اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
    ڈائری دوست دیکھتے ہونگے
    اُن کی آنکھوں کے خواب دنوں میں
    ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
    اور کچھ بے نِشاں صفحوں سے
    نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا
    سائنسی بنیادوں پر بھی سردیوں اور اداسی کا گہرا تعلق ہے۔ہمارے موڈ کو کنٹرول کرنے والا کیمیائی مادہ (Neurotransmitter) سیروٹونن (Serotonin) بھی اس موسم میں کم پیدا ہوتا ہے، جو کہ اداسی کا سبب بنتا ہے۔ساتھ ہی، کم دھوپ کی وجہ سے دوسرا کیمیائی مادہ میلاٹونن (Melatonin) بھی متاثر ہوتا ہے، جو ہمارے موڈ اور نیند کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اور اس اداسی کو ماہرین "سیزنل ایفکٹو ڈس آرڈر” کہتے ہیں۔ اور یہ موسمی اداسی حساس لوگوں کو قدرے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ خیر بارش جاری ہے، چپ ہے، 31 دسمبر ہے، رات کے 10 بج چکے ہیں،بقول سیماب سحر ، "سال کا اختتام اچھا ہے”-
    ؎سال کا اختتام اچھا ہے
    سرد موسم تمام اچھا ہے

    کہر میں چھپ چکی ہے باد سموم
    موسموں کا نظام اچھا ہے

  • مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔ مگر زندگی کا محافظ یہ پانی، خیبر کے لوگوں کےلیے زندگی کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہو رہا ہے۔ خوبصورت و دلنشیں گھاٹیاں اس وقت غم اور پانی دونوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بارش کا زور ایسا تھا کہ پہاڑ جیسے لرز کر مٹی مٹی ہوگئے۔ لمحوں میں بستیاں اجڑ گئیں۔ وہ گھر جو کسی مزدور نے کئی برسوں میں چاہت و محبت اور خون پسینے کی کمائی سے بنایا تھا۔ لمحوں میں مٹی کا ڈھیر بن گیا۔کہیں مائیں جگر گوشوں کو ڈھونڈ رہی ہیں، تو کہیں دُودھ پیتا بچہ ماں سے زیادہ بھوک سے تڑپ رہا ہے۔ کوئی پیٹ بھرنے کی تگ و دو میں پانی کے پیٹ میں جا گرا ہے، تو کوئی زخمی ماں کےلیے دوا دارو لینے گیا، لاش بن کر لوٹا ہوگا۔
    یہ قدرتی آفات ہمیشہ ہمارے ظرف کا امتحان لیتی ہیں۔ حکومتیں حرکت میں آئیں، فوج نے ہیلی کاپٹروں سے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریسکیو 1122 کے جوانوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر زندگیاں بچائیں، اور پاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ اور سیکڑوں ٹن راشن عطیہ کیا، میڈیکل کیمپ لگے، مگر ایسے وقتوں می ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ درد دل والوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

    مجھے خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی،جب پاکستان مرکزی مسلم لیگ کو اس کڑی آزمائش میں سرگرداں پایا۔ اس جماعت کا نام برسوں سے سن رکھا تھا، مگر چند ماہ قبل ایک نیوز چینل کے دفتر میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم صاحب سے ایک ملاقات ہوئی، تو مرکزی مسلم لیگ کے بارے مزید جاننے کا تجسس ہوا۔ ڈیجیٹل ریسورسز سے معلومات نے اس جماعت کا ایک اور رخ میرے سامنے کھول دیا کہ یہ صرف سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک فلاحی قافلہ ہے، جو مشکل وقت میں خاموش تماشائی نہیں بنتا۔ آج جب خیبر پختونخوا کے لوگ مشکل سے دو چار ہیں،تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ اپنی اعلیٰ قیادت کے ہمراہ آن گراؤنڈ مدد کےلیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔مینگورہ کا آدھا شہر جب پانی میں ڈوبا تو کئی کئی فٹ پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا۔ لوگ کھلے آسمان تلے یا چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور تھے۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی ٹیمیں وہاں لوگوں کو کھانا اور طبی امداد فراہم کرنے جا پہنچیں۔ بونیر، سوات، شانگلہ اور باجوڑ تک امدادی کیمپ پھیل چکے ہیں۔ بطور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ محمد عبداللہ کی فیس بک وال، کئی برسوں سے سامنے آرہی ہے۔ یہ نوجوان آج کل مرکزی مسلم لیگ خیبرپختونخوا کا ترجمان ہے، ان کی وال پر مرکزی مسلم لیگ کی خواتین اور بچیوں کو فلاحی کاموں میں مصروف دیکھ کر حیرت و خوشی ہوئی۔ سینکڑوں نوجوان دن رات ملبہ صاف کرتے، راشن بانٹتے، گھروں سے کیچڑ نکالتے دکھائی دیے۔ ان کے پاس سیاسی نعرے نہیں تھے، بلکہ آنکھوں میں خدمت کا جذبہ تھا۔حیرت زدہ ہوں کہ نوجوان کس طرح رب کی رضا کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ ہاتھ جو کل شاید موبائل پر سوشل میڈیا چلا رہے تھے، آج وہی ہاتھ آج ملبے صاف کر رہےہیں۔ وہ پاؤں جو کل کسی ریلی میں شریک تھے، آج سیلابی پانی میں گھٹنوں تک دھنسے دکھائی دیتے ہیں۔ شکریہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ، مگر اب ہمیں ان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے سنجیدہ رویہ اپنانا ہوگا،ورنہ روز میرے ملک کا کوئی نہ کوئی حصہ ڈوبتا، اور مرتا رہے گا۔

  • بادل پھٹا ہے… اب دل نہیں ٹوٹنے چاہییں!تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بادل پھٹا ہے… اب دل نہیں ٹوٹنے چاہییں!تحریر:اعجازالحق عثمانی

    (چکوال میں کلاؤڈ برسٹ اور ہماری اجتماعی ذمے داری)

    شام کے اس وقت جب معمول کے مطابق روز شہر کی رونق آہستہ آہستہ ماند پڑتی تھی، کل اس وقت آسمان کا ضبط ٹوٹا اور ایسا ٹوٹا کہ سب حدیں پار کر بیٹھا ہو۔
    بارش نہیں ہوئی… آسمان پھٹ پھٹ کر رو پڑا، اور پھر لوگ بھی سہم گئے۔ اور مسلسل 15 گھنٹوں سے یہی صورتحال ہے۔ اور ضلع بھر میں سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    چکوال، جو کل تک سرسبز پہاڑیوں، دھیمے موسموں اور دھوپ چھاؤں کے قصے سناتا تھا، آج ایک نئے تجربے سے گزر رہا ہے۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ بارش، 423 ملی لیٹر، یہاں ابھی تک ریکارڈ ہوئی ہے۔ یہ محض بارش نہیں، قدرت کا ایک شدید مظہر ہے جسے سائنسی زبان میں "کلاؤڈ برسٹ” کہا جاتا ہے۔ یعنی بادلوں کا پھٹ پڑنا۔

    تصور کیجیے ایک پانی سے بھرا ہوا غبارہ، جو اچانک آپ کے سر پر پھٹ جائے۔ نہ پیشگی انتباہ، نہ تیاری کا موقع، بس ایک لمحہ، اور پھر سب کچھ بھیگتا، بہتا اور بکھرتا چلا جاتا ہے۔

    یہ مظہر تب جنم لیتا ہے جب نم ہوائیں پہاڑوں سے ٹکرا کر تیزی سے بلند ہوتی ہیں اور آسمان کی ٹھنڈک سے ٹکرا کر پانی کی بھاری بوندوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ جب بادل مزید بوجھ نہیں اٹھا پاتے، تو وہ غم کے مارے پھٹ پڑتے ہیں۔ اور پانی ایک قہر کی صورت نیچے اتر آتا ہے۔

    ایسی ہنگامی صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

    1۔ اپنی جان بچانا اولین ترجیح:
    کسی بھی نشیبی علاقے سے فوراً بلند مقام پر منتقل ہو جائیں۔ بجلی کے کھمبوں، درختوں اور پانی سے بھرے گڑھوں سے دور رہیں۔

    2۔ معلومات سے باخبر رہیں:
    ریڈیو، ٹی وی یا سوشل میڈیا پر ضلعی انتظامیہ کی ہدایات سنتے رہیں۔ افواہوں پر کان نہ دھریں، صرف مصدقہ ذرائع پر اعتماد کریں۔

    3۔ دوسروں کا خیال رکھیں:
    یہ وقت صرف اپنے لیے جینے کا نہیں۔ اردگرد کے بزرگوں، بچوں اور پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیے۔ کسی کو تنہا نہ چھوڑیے۔ اگر کسی کا فون بند ہے، تو دروازہ کھٹکھٹا کر اس کی خیریت پوچھ لیجیے۔

    4۔غیر ضروری سفر سے گریز کریں:
    سڑکیں پانی سے لبریز ہیں۔ راستوں کی حالت غیر یقینی ہے۔ گھر میں رہیے، دعا کیجیے اور احتیاط برتیے۔

    5۔ذہنی سکون قائم رکھیے:
    یہ وقت حوصلے اور ہمت کا ہے۔ قدرت کا قہر جتنا اچانک آتا ہے، اتنی ہی تیزی سے تھم بھی جاتا ہے۔ بس ہمیں خود کو سنبھالے رکھنا ہے۔ ہم سب کو ایک دوسرے کا سائبان بننا ہے

    بادل تو پھٹ گیا، لیکن ہمیں اپنے دل اور رشتے محفوظ رکھنے ہیں۔ قدرت کا یہ پیغام صرف خوف کا نہیں، فکر اور اصلاح کا بھی ہے۔ ہمیں اپنے ساتھ ساتھ اردگرد کے لوگوں کا بھی خیال رکھنا ہے۔
    ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ درخت لگانا ہوں گے، پانی کا صحیح استعمال سیکھنا ہوگا، اور قدرت کے ساتھ دوبارہ دوستی کرنی ہوگی۔

    یاد رکھیے، آزمائشوں کے وقت قومیں یا تو بکھر جاتی ہیں… یا ایک نیا جنم لیتی ہیں۔
    آیئے، ہم چکوال کو صرف اپنے نقشے کا ایک ضلع نہ سمجھیں، بلکہ دلوں کا ایک روشن چراغ بنائیں۔جو بارش میں بھیگے، مگر بجھے نہیں۔