Baaghi TV

Author: اعجاز الحق عثمانی

  • میرا تعارف،اعجاز الحق عثمانی

    میرا تعارف،اعجاز الحق عثمانی

    اس گلابی پہاڑوں کے پکھیرو کی آنکھ آبائی گاؤں خوشحال گڑھ میں کھلی۔ پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد آبائی گاؤں سے مزید تعلیم کے لیے رخصتی ہوئی، تو جھیل کنارے آباد کلرکہار کی رنگین فضاؤں میں،مختلف علمی کنوؤں سے پیاس بجھاتے بجھاتے آخر سائنس کالج کی حویلی مسکن بنی۔عارضی پنچھی نے شاہینوں کے شہر سرگودھا کی راہ لی۔اور یہاں بالآخر طبیعت بے قرار کو چار سال قرار رہا۔اور پھر شہر ادب لاہور کی گنجان آباد بے ہنگم آبادی میں حصول علم کےلیے رہا۔دال دلیہ کمانے کے ساتھ ساتھ جب کبھی طبیعت بوجھل ہو تو قلم سے آڑی ترچھی لکیریں بھی کھینچ لیتا ہوں۔ لکھنے کا سفر کالج کے زمانے سے شروع ہوا، پہلے شاعری پھر نثر میں طالب عالمانہ کوششیں کیں۔ 17 سال کی عمر میں پہلی بار تحریریں کالج کے میگزین "طاؤس” میں شائع ہوئیں ۔ 18 برس کی عمر میں پہلی کتاب” انسائیکلوپیڈیا آف کلرکہار” شائع ہوئی تو یکے بعد دیگرے باغی ٹی وی، ہم سب اور روزنامہ اساس راولپنڈی کے صفحات مطبوعہ بھی افکار و مضامین کی پذیرائی اور اشاعت کا وسیلہ بنتے چلے گئے۔ریڈیو ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر معروف سوشل میڈیا چینل اردو پوائنٹ کو بطور اینکر جوائن کیا۔ اور گزشتہ برس دوسری کتاب "عثمانی نامہ” بھی پریس مشینوں کی مشقت کاٹ کر سامنے آگئی ہے۔

    تاحال سفر اور چلہ کشی جاری ہے۔ سیم تھور زدہ اور کلف نما معاشرہ قبول کرتا ہے، یا ساغر صدیقی کی طرح فٹ پاتھوں پر بیٹھنا پڑتا ہے، نہیں معلوم۔ مگر اندر کا خوابیدہ عثمانی چین سے نہیں بیٹھنے دیتا تو لکھنے پڑھنے لگتا ہوں۔
    میں کیوں لکھتا ہوں؟بے حس معاشرے خودرو جھاڑیوں کو بھلا کب اہمیت دیتا ہے؟ پرواہ نہیں۔ یاران تیز گام کے ساتھ کچھوے کی چال چلنا چاہتا ہوں۔تیز رفتاری سے حرکت قلب بند ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ میری علمی اور ادبی سفری روداد غم جاناں، غم دوراں ہے۔لکھنے پڑھنے سے اندرونی کیفیت پر قابو پاتا ہوں۔عمر عزیز کے آوائل میں دو کتابوں کا خالق ہوں، مگر عاشق مخلوق خدا کا ہوں۔پہاڑوں کا مرید ہوں اور وادیاں میری محبوبائیں۔ لفظوں سے تصویریں بنا بنا کر سکون حاصل کرنے کا متمنی ہوں۔ خیر اور محبت بانٹنا چاہتا ہوں۔والدین نے بولنا اور لفظوں کا استعمال سکھایا۔ اساتذہ نے لفظوں کی صحیح ادائیگی کا شعور دیا۔ بوڑھے تاش کے پتوں تک رسائی نہیں۔زندگی کے میلے میں اکیلا ہی ہوں۔فقیروں اور پنچھیوں کے مستقل گھر نہیں ہوتے۔ جامد نہیں سیارہ ہوں۔زندگی پرانا لحاف سہی۔پیوند کاری کا عمل تو جانتا ہوں،مگر پوندکاری کا نہیں۔

    طفل مکتب ہوں۔ زمانے سے جینے کا ڈھنگ سیکھ رہا ہوں۔ دریافت کا عمل درپیش ہے۔۔۔۔رام کہانی ترتیب دینی ہے۔لفظی کہانیاں بہت لکھ چکا ہوں۔کوچہ ادب کے دلداروں کا دلدادہ ہوں۔ اپنے خیالات میں غرقاب اور نیلاب کی کہانی لکھی۔ گرداب میں رہا تو شاداب خوشاب کی کہانی لکھی۔ یہ میں ہوں جی ہاں! مامے پھلے سے باتیں کرنے والا اعجاز الحق عثمانی

  • "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی”،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی”،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    چھ ستمبر صرف ایک دن یا تاریخ نہیں، بلکہ ایک طمانچہ ہے، اس مغرور فوج کے رخسار پر جو خود کو ناقابل تسخیر گردانتی تھی۔ 1965 میں بھارتی جرنیل اپنی میزوں پر بیٹھے، نقشوں پر پنسل گھما رہے تھے، فتح کے سہانے خواب بن رہے تھے۔ ایسے بچگانہ خواب جو شاید کسی نوآموز طالب علم کو امتحان کی شب بھی نہ آتے ہوں۔

    منصوبہ نہایت سادہ اور بزدلانہ تھا کہ رات کی تاریکی میں گھسو، صبح تک لاہور فتح کر لو، اور شام ڈھلتے ہی جم خانہ کلب میں فتح کا جشن مناؤ۔ مگر یہ بھول گئے تھے کہ لاہور کوئی سنسان بیابان نہیں، بلکہ زندہ دلوں کا شہر ہے، اور زندہ دل مہمانوں کی تعظیم کرتے ہیں، نہ کہ بے ایمانوں کی۔

    نہ اعلان جنگ ہوا نہ کوئی تنبیہ دی گئی۔ بس یوں چپکے سے جیسے کوئی نقب زن رات کی تاریکی میں دیوار پھلانگتا ہے۔ ایسے ہی بھارتی فوج نے بین الاقوامی سرحد عبور کر لی۔ چھ سو کے قریب ٹینک، ایک لاکھ سے زائد فوجی اور دل میں صرف ایک ہی ادھوری خواہش پروان چڑھ رہی تھی کہ صبح تک قبضہ مکمل ہمارا ہو۔مگر تقدیر کے کچھ اور ہی فیصلے تھے۔ جس سرزمین پر یہ لشکر اترا وہ سرزمین بانجھ نہ تھی اور نہ ہے۔ اس کی مٹی میں غیرت اور حب الوطنی کے بیج پہلے سے بوئے جا چکے تھے اور غیرت ایسی فصل بن کر اسی رات اُگ آئی کہ جن بھارتیوں نے حساب لگا رکھا تھا کہ 72 گھنٹوں کے اندر قابض ہوجائیں گے، ان کیلئے 72 منٹ مشکل بنا دیے گئے۔

    نقب زن ڈیڑھ لاکھ رات کو باڈر پار کرکے آئے تھے اور ادھر صرف ڈیڑھ سو جوان تھے۔ حضرت اقبال شاید اسی رات کےلیے کہہ گئے تھے کہ

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں
    مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیرِ الٰہی

    سیالکوٹ کے مضافات میں ایک نہایت گمنام سا گاؤں ہے۔ جس کا نام چونڈہ ہے۔ اسی گاؤں نے وہ منظر دیکھا جو دوسری جنگ عظیم کے بعد شاید کسی اور خطے نے نہ دیکھ رکھا ہو۔ سینکڑوں ٹینک ایک ہی میدان میں، ایک ہی وقت میں، ایک دوسرے سے نبردآزما تھے۔ بھارتی منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ یہاں سے راستہ بالکل ہموار ہو جائے گا۔مگر پاکستانی جوانوں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اس سے آگے اور نہیں۔۔۔۔۔۔۔کچھ جوانوں نے اپنے جسموں پر بارود باندھا، دشمن کے ٹینکوں کے عین نیچے لیٹ گئے۔ اور اپنی جان کی قربانی سے ان لوہے کے دیووں کو خاک میں ملا دیا۔بحری میدان میں بھی پاکستان کے پاس وسائل محدود تھے،مگر ایک آبدوز جس کا نام غازی تھا۔ اس نے پوری بھارتیا بحریہ کو خوف میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اس ایک آبدوز کی موجودگی نے بھارتی بیڑے کو بندرگاہ کے اندر ہی محصور رکھا۔اور دشمن کا بحری بیڑا باہر نکلنے کی جسارت نہ کر سکا۔

    اور اسی طرح پاک فضائیہ کے پاس طیاروں کی تعداد تو کم تھی۔مگر مہارت اور جرات میں کوئی کمی نہ تھی۔ ایک نوجوان اسکواڈرن لیڈر نے چند سیکنڈوں کے اندر دشمن کے متعدد طیارے فضا میں ہی خاکستر کر دیے۔ ایم ایم عالم کی کامیابیاں تاریخ بن گئیں۔۔یہ ایک ایسا کارنامہ تھا جو آج تک دنیا کی فضائی جنگی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔دیگر پائلٹ بھی دشمن کے فضائی اڈوں پر ایسے ایسے وار کر رہے تھے کہ زمین پر کھڑے جہاز اڑان بھرنے سے پہلے ہی جل کر راکھ ہوتے جارہے تھے۔ افسوس کہ کچھ پائلٹ اس معرکے میں واپس نہ آ سکے۔مگر جانے سے پہلے وہ اپنا فرض مکمل کر گئے۔

    ایک اور منظر دیکھیے،لاہور کے قریب نہر کے کنارے ایک نوجوان میجر اپنے مٹھی بھر جوانوں کے ساتھ دشمن کی پوری بریگیڈ کے سامنے شیروں کی طرح کھڑاتھا۔ زخمی ہونے کے باوجود اس نے اپنا مورچہ نہ چھوڑا اور ڈٹا رہا حتیٰ کہ ایک گولہ اسے شدید زخمی کر گیا اور وہ جام شہادت نوش کر گیا۔ مگر اس کے باوجود مورچے سے دشمن ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکا۔

    یہ جنگ محض فوج کی جنگ نہ تھی۔بلکہ ہر اک پاکستانی کی جنگ تھی۔شاعروں نے قلم اٹھایا اور ایسے اشعار تخلیق کیے جو آج بھی سنیں تو رگوں میں بجلی سی دوڑ جائے۔ گلوکاروں نے آواز بلند کی اور ملی نغمے ایسے مقبول ہوئے کہ ریڈیو پر بجتے ہی در و دیوار گونج اٹھے۔ کسانوں نے اپنی فصل کا حصہ فوج کے لیے وقف کیا۔طالب علموں نے رضاکارانہ خدمات پیش کیں۔ خواتین نے زخمیوں کی مرہم پٹی کی اور بعض بزرگ شہریوں نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے خندقیں کھودیں۔ذرا تصور کریں 80 برس کا بزرگ کدال اٹھائے خندق کھود رہا ہے، خدائے لم یزل کا عرش بھی داد دیے بنا نہ رہا ہوگا۔

    سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فتح کی داستان عام طور پر فاتح ہی بیان کرتا ہے، مگر یہاں خود شکست خوردہ فریق نے اپنی زبان سے اعتراف کیا۔ بھارتی جرنیلوں نے برسوں بعد اپنی کتابوں میں لکھا کہ پاکستانی فوج کی کارکردگی بے مثال تھی، اور یہ کہ وہ مہینوں پہلے کی تیاری کے باوجود ناکام رہے۔جو فوج مہینوں کی منصوبہ بندی کر کے آئی، وہ چند ہی گھنٹوں میں بدحواس ہو گئی، جبکہ جسے اچانک للکارا گیا، اس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔بین الاقوامی جریدوں نے بھی اس دور میں یہ رپورٹ کیا کہ بھارتی جنگی طیارے آسمان میں دکھائی نہیں دیتے، صرف پاکستانی شاہین اڑان بھرتے پھرتے ہیں، مگر انہیں شکار میسر نہیں آتا۔

    یہ جنگ سترہ دن تک جاری رہی، ہر دن نئے امتحان اور ہر رات نئی آزمائش لے کر آتا۔ بائیس ستمبر کو عالمی برادری کو ہوش آیا تو سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس بلایا اور جنگ بندی کی قرارداد پیش کی۔ تئیس ستمبر کو جنگ بندی عمل میں آئی۔ اور چوبیس ستمبر کو پورے ملک میں یوم تشکر منایا گیا۔ یوم تشکر محض ایک رسمی تقریب نہ تھی، بلکہ اس بات کا کھلا اعلان تھا کہ ایک چھوٹی مگر پرعزم اور ایمانی قوت سے مالا مال قوم نے ایک بڑے دشمن کو اسی کے اپنے شروع کیے گیے کھیل میں شکست فاش دے دی۔

    بھارت کو یہ امید تھی کہ عالمی برادری اسے مظلوم قرار دے گی۔مگر پاکستانی سفارت کاروں نے دنیا بھر کے فورمز پر حقیقت حال بیان کی، حملہ آور کون تھا، اور دفاع کس نے کیا۔ آزاد ذرائع ابلاغ نے بھی حقیقت کو چھپنے نہ دیا اور نتیجتاً بھارت کو وہ سفارتی حمایت بھی میسر نہ آئی جس کا وہ خواب دیکھ رہا تھا۔ اسی دوران نام نہاد دوست ممالک نے اپنی عسکری امداد روک دی۔ یہ ایک تلخ مگر مفید سبق تھا کہ بیرونی سہارے پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے، اپنی طاقت اپنے ہاتھوں سے تعمیر کرنی چاہیے۔ خدا کرے کہ میری ارض پاک کے بیٹے یوں ہی ہمیشہ اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کرتے رہیں۔ یہ وطن تا قیامت سلامت رہے۔

  • کیا آپ مرتے ہوئے "آخری آدمی ” کو دیکھنا چاہتے ہیں؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    کیا آپ مرتے ہوئے "آخری آدمی ” کو دیکھنا چاہتے ہیں؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    کیا آپ نے کبھی کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو مر تو چکا ہے،مگر نہ کوئی زخم، نہ کوئی عارضہ، نہ کوئی سانحہ۔ آنکھیں وا ہیں، قدم رواں ہیں، لب جنبش میں ہیں۔مگر باطن کہیں خاموش ہو چکا ہے۔ ایک ایسی موت جس کا نہ کوئی کفن سلتا ہے، نہ ہی جنازہ اٹھتا ہے، اور نہ ہی کوئی لحد کھودی جاتی ہے۔ ایسی موت کوچوں میں بھٹکتی پھرتی ہے۔ دفتروں کی گرد آلود فائلوں میں سانس لیتی ہے، محفلوں میں قہقہے بکھیرتی ہے۔ اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی کہ اس کے پہلو میں ایک زندہ نعش بیٹھی ہے۔

    نطشے نے صدیوں پہلے اس زندہ لاش کو "آخری آدمی” کہا تھا۔ وہ کردار جو "اوبرمینش” کی عین ضد ہے۔ ایک ایسا نہیلسٹ جس نے زندگی سے برسرپیکار رہنا کو خیرباد کہہ دیا، جو خطرہ مول نہیں لیتا، جو محض آسائش و ستائش کا طالب ہے، اور جسے یہ ادراک تک نہیں کہ وہ سانس تو لے رہا مگر کب اور کیسے اپنی روح سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

    میں اکثر سوچتا ہوتا ہوں کہ انسان کی اصل متاع ،اس کی فکر کا معیار ہے۔ مگر جس معاشرے میں ہم سانس لے رہے ہیں، وہ دانستہ طور پر ایسا بنایا جارہا ہے کہ جس سے انسانی ذہن کی زرخیزی کو بنجر کر دیا جائے، تاکہ اسی افتادہ زمین سے زیادہ سے زیادہ معاشی خرمن سمیٹا جا سکے۔ یہ کوئی افسانہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو رفتہ رفتہ، دیمک کی مانند، ہماری بنیادوں کو چاٹ رہی ہے۔

    نطشے نے "آخری آدمی” کی جو تمثیل کھینچی، وہ ایک ایسا کردار ہے جس نے آفات و مخاطرات سے روگردانی کر لی۔ وہ نہیلسٹ ہے، مگر ایک عجیب گونہ نہیلسٹ،غیرفعال، ماندہ، بے کیف۔ اس کی سرشت میں نہ باغیانہ حرارت باقی رہی، نہ سوال اٹھانے کی جسارت۔ اس کے نزدیک مقصد کوئی معنی نہیں رکھتا، کیونکہ معنی کی جستجو مشقت طلب ہے، اور مشقت اس کی لغت سے خارج ہو چکی ہے۔

    اور جب انسان کے باطن میں یہ نہیلزم پختہ ہو جاتا ہے، تو وہ اپنی کمزور ارادی طاقت کے باعث کسی سیل رواں کا حصہ بن جاتا ہے۔ کسی جماعت کا، کسی مسلک کا، کسی ایسی ریاست یا رہنما کا جو اسے یقین دلائے کہ اب اسے فکرمندی کی حاجت نہیں رہی، محض اعتماد و اطاعت درکار ہےاب۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں غلامی، آزادی کا لبادہ اوڑھ کر در آتی ہے۔

    مگر ہر نہیلزم رضاکارانہ نہیں ہوتا۔ یہی سب سے مہلک پہلو ہے اس بد بخت کا۔ جب انسان بلا ارادہ، بلا کسی شعوری فیصلے کے، اس گرداب میں دھنستا چلا جائے، تو یہ نہ صرف غیرارادی موت ہے بلکہ قتل بھی۔ ایسی موت جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، کیونکہ مقتول خود بھی بے خبر ہے کہ وہ کب کا فنا ہو چکا۔

    میں اپنی ذات کو بھی اس آئینے کے سامنے کھڑا کر کے دیکھتا ہوں۔ کیا میں بھی کہیں اسی سیم تھور زدہ سرزمین کا باسی تو نہیں بن گیا؟ جہاں فکر کی کوئی فصل نہیں اگتی؟ جب کبھی لگتا ہے کہ "آخری آدمی” بن گیا ہوں تو ڈر کر قلم اٹھتا ہوں۔اور مرتا ہوا "آخری آدمی” دیکھتا ہوں۔لکھنا میرے لیے کوئی تفنن طبع نہیں، بلکہ اس خاموش موت کے خلاف ایک مسلسل مزاحمت ہے۔ ہر سطر جو میں رقم کرتا ہوں، دراصل خود کو یہ باور کرانے کی سعی ہے کہ ابھی میں "آخری آدمی” نہیں بنا۔

    مگر اس گرد آلودہ فضاؤں میں کب تک اس” آخری آدمی ” کو مارے رکھوں؟ جہاں خود احتسابی سب سے دشوار عمل بن چکی ہے۔ تیس منٹ کسی موضوع پر سنجیدگی سے غور کرنا، ورزش سے بھی زیادہ کٹھن معلوم ہوتا ہے۔ کوئی ثقیل کتاب پڑھنا، وقت کا زیاں گردانا جاتا ہے، جبکہ اسی وقت کے سیکڑوں لمحے سطحی باتوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ دوستوں کی محفل میں بھی سنجیدہ و فکری نکتہ چھیڑنا جرم سمجھا جاتا ہے، بھلا اتنی مشقت کے بعد کون اپنی خفتہ فکر کو بیدار کرنا چاہے گا؟

    اکثریت اپنی عمریں یونہی صرف کر دیتی ہے، خود کو یہ باور کراتے ہوئے کہ وہ عمیق فکر میں مصروف ہے، حالانکہ سوچ سطح آب سے نیچے کبھی نہیں اتری۔ ممکن ہے کوئی نادر شخص بغیر رقم کیے، بغیر کتابوں کے صفحے الٹے بھی گہرا مفکر ہو، مگر عام انسان کے لیے قلم و قرطاس ہی وہ کسوٹی ہیں جن پر خیال کو پرکھا جاتا ہے، تراشا جاتا ہے، اور از سر نو گھڑا جاسکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ تاریخ کے فحول ذہنوں نے اپنی روداد، اپنے مکتوبات، اپنے منشور، اور اپنی تصانیف کے توسط سے اپنی فکر کو زندہ و جاوید رکھا۔ ہم قلم والوں کےلیے تو ادنی درجے کی سعی ہے یہ اس "آخری آدمی” کو مارنے کی۔ آپ بھی پڑھیے، سوچیے، لکھیے کہ میں اور آپ "آخری آدمی” کو مرتا دیکھتے رہیں۔

  • نظام! فرد کے ضمیر کا عکس ہے،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    نظام! فرد کے ضمیر کا عکس ہے،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    کسی قوم کی عظمت کا فیصلہ اس کے نقشے یا رقبے سے نہیں ہوتا، نہ ہی اس کے خزانوں کی گنتی سے۔ عظمت کا فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ قوم کتنی ذمہ دار ہے۔ اس کےلیے کوئی نگہبان یا کیمرہ نہیں ہوتا، پولیس چوکی نہیں ہوتی، بلکہ ضمیر ہوتا ہے۔ جس دن کسی معاشرے میں ضمیر کی آواز کی جگہ خوف (گرفتاری یا رسوائی) لے لے، اس دن سمجھ لینا چاہیے کہ نظام کی سمت درست نہیں۔کیونکہ نظام بنانے سے نہیں چلتا بلکہ احساس زمہ داری سے چلتا ہے۔

    ہم اکثر یہ سوال سنتے ہیں کہ ریاستیں کیوں زوال پذیر ہوتی ہیں۔ جواب تاریخ کی کتابوں میں الجھا ہوا نہیں، بلکہ ہمارے اپنے روزمرہ رویوں میں بکھرا پڑا ہے۔ جب استاد کلاس میں پڑھانے کے بجائے ٹیوشن سنٹر کو ترجیح دیتا ہے، جب ڈاکٹر سرکاری ہسپتال میں مریض کو دو منٹ اور نجی کلینک میں آدھا گھنٹہ دیتا ہے، جب افسر فائل پر دستخط کرنے سے پہلے میز کے نیچے ہاتھ بڑھاتا ہے، جب صحافی سچ کے بجائے اشتہار کی زبان بولتا ہے۔ تو یہ سب واقعات الگ الگ نظر آتے ہیں مگر دراصل ایک ہی بیماری کی مختلف علامتیں ہیں۔ وہ بیماری ہے، غیر ذمہ داری اور شعوری کمی۔

    ہمارے ہاں ایک عجیب رجحان پروان چڑھا ہے کہ ہم اصلاح کا آغاز ہمیشہ اوپر سے چاہتے ہیں۔ حکمران بدلیں، پھر ہم بدلیں گے۔ نظام ٹھیک ہو، پھر ہم ایمانداری دکھائیں گے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ نظام بنتا کس چیز سے ہے؟ نظام کوئی الگ مخلوق نہیں جو آسمان سے اترتی ہے، نظام دراصل لاکھوں افراد کے فیصلوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جب ایک شہری قطار توڑتا ہے، جب ایک تاجر ملاوٹ کرتا ہے، جب ایک ووٹر برادری یا رشوت کی بنیاد پر ووٹ دیتا ہے، تو دراصل وہ خود اسی نظام کی اینٹ رکھ رہا ہوتا ہے جس پر بعد میں وہ خود تنقید کرتا ہے۔ ہم بیک وقت مریض بھی ہیں اور بیماری کا سبب بھی۔

    مشرق کی روایت میں کردار کو ہمیشہ ادارے پر فوقیت دی گئی ہے۔ خلافت راشدہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، وہاں کوئی جدید آئین نہیں تھا، پیچیدہ ادارہ جاتی ڈھانچہ نہیں تھا، مگر عدل کا معیار اتنا بلند تھا کہ خلیفہ خود اپنا احتساب سر عام کرواتا تھا۔ اس کے برعکس، آج ہمارے پاس آئین بھی ہے، عدالتیں بھی، احتساب کے ادارے بھی، مگر انصاف پھر بھی کمزور کے لیے دور اور طاقتور کے لیے قریب ہے۔ فرق ڈھانچے کا نہیں، نیت اور کردار کا ہے۔

    اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ فرد کیا کر سکتا ہے، مسئلہ تو اجتماعی ہے۔ یہ دلیل سننے میں معقول لگتی ہے مگر دراصل ذمہ داری سے بچنے کا ایک نفیس بہانہ ہے۔ سمندر قطروں سے بنتا ہے۔ جس دن ہر قطرہ یہ سوچنے لگے کہ میرا کیا کردار، اس دن سمندر خشک ہونے لگتا ہے۔ تاریخ میں بڑی تبدیلیاں کبھی ہجوم نے شروع نہیں کیں، ہمیشہ ایک فرد کے فیصلے سے آغاز ہوا، پھر وہ فیصلہ دوسروں کو متاثر کرتا گیا۔ ایک ایماندار افسر پورا محکمہ نہیں بدل سکتا، مگر وہ اپنے دائرے میں اتنی روشنی ضرور پھیلا سکتا ہے کہ آنے والوں کو درست راستہ نظر آنے لگے۔

    ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کردار کی تربیت کوئی نعرہ نہیں، ایک مسلسل عمل ہے، اس عمل کی تکمیل میں گھر، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو کردار ادا کرنا ہوتا ھے۔ جس معاشرے میں بچے کو یہ سکھایا جائے کہ چالاکی کامیابی کی علامت ہے، وہاں دیانتدار نسل کیسے جنم لے گی؟ جس نصاب میں اخلاقیات کو ایک اختیاری مضمون کی حیثیت دی جائے، وہاں کردار سازی محض رسمی خانہ پری بن کر رہ جاتی ہے۔ اصلاح کا اصل میدان کلاس روم اور گھر کا دسترخوان ہے، پارلیمنٹ کا ایوان نہیں۔

    اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ریاست اور اس کے اداروں کو ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دے دیا جائے۔حکمرانی کی ناکامیوں پر سوال اٹھانا شہری کا حق ہے اور ہونا بھی چاہیے مگر سوال کرنے کا حق اسی وقت مضبوط دلیل بنتا ہے جب سوال کرنے والا خود اپنے دائرے میں دیانت دار ہو۔ ورنہ تنقید فقط ایک کھوکھلا شور بن کر رہ جاتی ہے۔

  • یوم عاشورہ ؛ وہ دن جو انقلاب اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔تحریر: اعجازالحق عثمانی

    یوم عاشورہ ؛ وہ دن جو انقلاب اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔تحریر: اعجازالحق عثمانی

    دس محرم الحرام، یعنی یوم عاشورہ، اسلامی تاریخ کا وہ دن ہے جو محض ایک تاریخ یا دن نہیں، یہ وہ دن ہے کہ جس کی اسلامی دنیا اور معرکہ حق و صداقت میں نظیر تک نہیں ملتی۔عاشورہ کا لفظ عربی زبان کے لفظ ’عشرہ‘ سے نکلا ہے، یعنی دس۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دن کی اہمیت سانحہ کربلا سے بھی پہلے کی ہے۔ احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد کوہ جودی پر محفوظ اتری، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آتش نمرود سے نجات ملی، اور دریائے نیل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے رہائی نصیب ہوئی جبکہ فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت اسی دریا میں غرق ہو گیا۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے خود اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس کی تلقین فرمائی۔ یہی نہیں، عربوں کے دور جاہلیت میں بھی قریش اس دن کو محترم سمجھتے اور روزہ رکھا کرتے تھے، اور یہود اسے اپنی عید کی طرح مناتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ محرم کے روزے رکھ کر یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے نو یا گیارہ محرم کا روزہ بھی ساتھ ملا لیا جائے۔ یوں عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بھی قرار پایا، اور احادیث میں اسے ایک عظیم اور بابرکت دن کہا گیا۔

    اسی طرح شریعت اسلامیہ نے اس دن کے لیے ایک اور خوب صورت تعلیم بھی دی ہے، یعنی اپنے اہل و عیال کے ساتھ کھانے پینے میں فراخی اور وسعت کرنا۔ روایت میں آتا ہے کہ جو شخص یوم عاشورہ کے دن اپنے گھر والوں پر رزق میں کشادگی کرے، اللہ تعالی پورا سال اس کے رزق میں برکت ڈال دیتا ہے۔ یوں عاشورہ صرف غم اور سوگ کا دن نہیں رہتا، بلکہ اس میں عبادت، شکرگزاری، اور باہمی محبت کا رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وہ دوہرا پہلو ہے جو اس دن کو منفرد بناتا ہے، ایک طرف کربلا کا غم، دوسری طرف اللہ کی نعمتوں پر سجد شکر۔

    مگر تاریخ نے اس دن کو ایک ایسے سانحے سے جوڑ دیا جس نے اس کی معنویت کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ یہ سنہ اکسٹھ ہجری کی بات ہے۔ امیر شام حضرت امیر معاویہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید نے اقتدار سنبھالا اور چاہا کہ سلطنت کے ہر گوشے سے اس کی بیعت لی جائے۔ مدینہ میں نواسۂ رسول،حضرت امام حسینؓ موجود تھے، جن کے بارے میں خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ "حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں”- یزید کی حکمرانی، اس کے طرز عمل اور اس کی سیرت کو دیکھتے ہوئے امام عالی مقام حضرت امام حسین کے لیے اس کی بیعت کرنا ممکن نہ تھا۔ آپ نے انتہائی وضاحت سے فرمایا کہ مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔یہ کوئی ذاتی اختلاف نہیں تھا، یہ اصول کی جنگ تھی، خلافت اور ملوکیت کے درمیان فرق کو واضح کرنے کا معاملہ تھا۔

    کوفہ کے لوگوں نے حضرت امام حسین کو ہزاروں خطوط لکھے کہ وہ تشریف لائیں اور ان کی قیادت سنبھالیں۔ آپؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کو حالات جانچنے کے لیے کوفہ بھیجا۔ ابتدا میں حالات سازگار نظر آئے، مگر جیسے ہی یزیدی گورنر ابن زیاد نے کوفہ پر گرفت مضبوط کی، وہی لوگ جو وفا کے دعوے دار تھے اب خوف کے سائے میں بکھر گئے تھے۔اور حضرت مسلم کو شہید کر دیا گیا۔ یہ خبر حضرات امام حسین کو راستے ہی میں مل گئی، مگر آپؓ نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اب پیچھے ہٹنا، حق کی راہ سے پیچھے ہٹنے کے مترادف تھا۔ دو محرم کو حضرت امام حسین کا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا اور قیام کےلیے خیمے لگائے گئے۔ یہیں سے بہادری قربانی اور غم کی ایک ایسی داستان شروع ہوئی جو رہتی دنیا تک انسانیت کے سینے پر کندہ رہے گی۔

    سات محرم کو دریائے فرات پر یزیدی لشکر نے پہرہ بٹھا دیا اور امام اور انکے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا گیا۔ تین دن تک، چھوٹے بچوں سمیت، پورا قافلہ پیاسا رہا۔ چھ ماہ کے حضرت علی اصغر کے لبوں کی پیاس، ننھی سکینہ کی بلکتی آنکھیں، اور بزرگوں کے خشک حلق، یہ سب اس امتحان اور داستان کا حصہ تھے جس میں اللہ تعالی نے صبر و استقامت کی ایسی مثال قائم کروائی جو تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی۔ دس محرم کا سورج طلوع ہوا تو میدان کربلا حق و باطل کے معرکے کا گواہ بنا۔ یزیدی لشکر کی کثیر تعداد کے سامنے امام حسین کے ساتھ 72 کے قریب جانثار تھے۔ بقول شاعر

    ؎کیا فوج تھی حسینؓ کی اس فوج کے نثار
    ایک ایک آبروئے عرب فخرِ روزگار
    جرار و دیں پناہ نمودار نامدار
    لڑکوں میں سبزہ رنگ کوئی، کوئی گل عذار
    فوجیں کوئی سماتی تھیں ان کی نگاہ میں
    وہ سب پلے تھے بیشہءِ شیر الہٰ میں
    جن میں آپ کے بھائی، بھتیجے، بھانجے اور جواں سال بیٹے حضرت علی اکبر بھی شامل تھے۔ ایک ایک کر کے سب نے جام شہادت نوش کیا۔اور سب سے آخر میں، عصر کی نماز کی حالت میں، سجدے میں امام عالی مقام، جگر گوشہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ کو بھی شہید کر دیا گیا۔اس کے بعد جو ہوا، وہ شاید لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اہل بیت کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر کوفہ اور پھر دمشق لے جایا گیا۔ یزید شاید اسے اپنی فتح سمجھ رہا تھا، مگر وہ دراصل اس کی شکست کا آغاز کا دن تھا ۔ حضرت زینبؓ، امام حسینؓ کی بہن، نے یزید کے دربار میں جو خطبہ دیا، اس نے ظلم کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
    ؎پہلے ہم مرد، خواتین کو کم جانتے تھے
    رفعت قوم نسا، خطبہ زینب سے کھلی
    کربلا کا خون رائیگاں نہیں گیا، بلکہ اس نے ایک ایسی روایت قائم کی جو آج چودہ سو سال بعد بھی زندہ ہے۔ شہادت حضرت امام حسین رضی اللہ دراصل یزیدیت کی شکست تھی، اور اسلام ہر کربلا کے بعد نئے سرے سے زندہ ہوتا ہے۔ بقول شاعر
    ؎قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    کربلا کسی ایک مسلک، کسی ایک فرقے یا کسی ایک خطے کی میراث نہیں۔ یہ ظلم کے خلاف ہر اس انسان کی آواز ہے جو حق کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے۔اور یزید کسی شخص کا نام نہیں، ایک ایسی ذہنیت کا استعارہ ہے جو طاقت کے زور پر سچ کو دبانا چاہتا ہے، اور حسینؓ اس ضمیر کا نام ہے جو موت کو گلے لگا لیتا ہے مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مفکرین بھی کربلا کے فلسفے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے، اور دنیا بھر کے ادب میں امام حسین رضی اللہ کی قربانی کو انسانی تاریخ کے عظیم ترین اسباق میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔نور احمد میرٹھی صاحب کی مرتب کردہ کتاب ’’بوستانِ عقیدت‘‘ میں ناتھ اعظمؔ جلال آبادی کے اشعار ملاحظہ کیجیے
    ؎اے کربلا ہے تیری زمین رشکِ کیمیا
    تانبے کو خاک سے ہم زر بنائیں گے
    اعظمؔ تُو اپنے شوق کو بے فائدہ نہ جان
    فردوس میں یہ شعر تیرا گھر بنائیں گے

    گرسرن لال ادیبؔ لکھنوی کے لکھے اشعار مندرجہ ذیل ہیں

    ؎لوحِ جہاں پہ نقش ہے عظمت حسین کی
    حق کو شرف ملا ہے بدولت حسین کی
    ہوئی ہے تازہ دل میں رسولِ خدا کی یاد
    کہتے تھے لوگ دیکھ کے صورت حسین کی
    تھا اعتقاد میرے بزرگوں کو بھی ادیبؔ
    میراث میں ملی ہے محبت حسینؓ کی
    حضرت امام حسین رضی اللہ اور کربلا کی داستان سے پتہ چلتا ہے کہ باطل کی فتح، چاہے وہ بظاہر کتنی ہی شاندار کیوں نہ دکھائی دے، تاریخ کے آئینے میں بالآخر شکست ہی ثابت ہوتی ہے، اور حق کی شکست، چاہے وہ کتنی ہی المناک کیوں نہ ہو، آخرکار فتح میں بدل جاتی ہے۔ یہی کربلا کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ وقت اسے مٹا نہیں سکا، بلکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اس کا پیغام مزید روشن ہوتا چلا گیا۔

  • زندہ لوگ: ایاز مورس کی قلمی کاوش، جو زندہ رہنے کا سلیقہ سکھاتی ہے،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    زندہ لوگ: ایاز مورس کی قلمی کاوش، جو زندہ رہنے کا سلیقہ سکھاتی ہے،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    کتابوں سے میرا رشتہ کئی برسوں پر محیط ہے، مگر کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو محض پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے اردگرد بکھرے ہوئے گمنام ہیروز کو پہچاننے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ایاز مورس صاحب کی کتاب "زندہ لوگ” بھی ایسی ہی ایک کاوش ہے۔

    ایاز مورس صاحب سے پہلی دفعہ 2020 میں سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا، اور یہ رابطہ محض رسمی تعارف تک محدود نہ رہا۔ ان دنوں میں نوجوان لکھاریوں اور طالب علموں کے لیے ایک تنظیم "میں شاہین ہوں اقبال کا” کے پلیٹ فارم سے کام کر رہا تھا۔ میری درخواست پر ایاز مورس صاحب نے ہمارے لیے کئی موٹیویشنل سیشنز دیے، جن سے نوجوانوں نے بھرپور استفادہ کیا۔ ان کی گفتگو میں ایک خاص بات تھی، سادگی، اپنائیت اور تجربے کی گہرائی، جو اب ان کی تحریر میں بھی نظر آتی ہے۔

    کچھ عرصہ رابطہ نہ رہا، مگر یہ رشتہ ٹوٹا نہیں۔ چند دن قبل ایاز مورس صاحب نے دوبارہ رابطہ کیا اور اپنی تازہ تصنیف "زندہ لوگ” مجھے بھیجی۔ کتاب ہاتھ میں آتے ہی نام نے توجہ کھینچ لی، "زندہ لوگ”، یعنی وہ لوگ جو اپنے کردار، خدمت اور ایمانداری کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، چاہے وہ اس دنیا میں موجود ہوں یا نہ ہوں۔

    پہلے ایاز مورس صاحب کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ وہ ضلع لیہ کے ایک گاؤں، چک نمبر 270، میں پیدا ہوئے۔ یہاں سے سفر کا آغاز کر کے وہ آج ملک کے نامور کارپوریٹ ٹرینر، ایجوکیشنل کنسلٹنٹ اور سپیکر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ ماسٹر ٹی وی کے سی ای او کے طور پر بھی، اس کے علاوہ روزنامہ ایکسپریس میں ان کے کئی مضامین میری نظر سے گزر چکے ہیں۔ جن میں ہمیشہ ایک مثبت اور تعمیری سوچ کی جھلک نظر آتی ہے۔۔

    "زندہ لوگ” دراصل 32 ایسے افراد کی سچی کہانیوں اور انٹرویوز کا مجموعہ ہے، جنہوں نے اپنے میدان میں ایمان، کردار اور خدمت کے جذبے سے نام کمایا۔ یہ کتاب رواں پبلشرز کراچی نے شائع کی ہے، اور اس کا انتساب ایاز مورس صاحب نے اپنے دادا، رحمت مسیح، کے نام کیا ہے۔کتاب میں شامل شخصیات کا تنوع اپنی جگہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ ڈاکٹر ایچ ایم اے ڈریگو، احفاظ الرحمن، انیل دتا، موہنی حمید، ڈاکٹر جیمز شیرا، ڈاکٹر اکبر ایس احمد، محمد نفیس زکریا، فلپ ایس لال، جسٹس اے آر کارنیلیس، ڈاکٹر ڈینس آئزک، پروفیسر گلزار فاروق چوہدری، ایف ای چوہدری، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، ڈاکٹر خالد سہیل، بابا نجمی، ڈاکٹر جاوید اقبال، اعظم معراج، انتھنی نوید، سسٹر زیف، پروفیسر سلامت اختر، اقبال مسیح، ڈاکٹر میرا فلیوس، کامران ذیشان رضوی، پروفیسر وسن ولیم، پروفیسر عمانوایل ممتاز، انجم ہیرالڈ گل، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ، کارڈینل جوزف کوٹس، پوپ فرانسس، اور اعجاز ہدایت، یہ سب نام ایک ہی صفحے پر اس لیے جمع ہوئے ہیں کیونکہ ان سب نے اپنے اپنے دائرہ کار میں انسانیت، علم، صحافت، فن، تعلیم اور خدمت کی شمعیں روشن کی ہیں۔
    کتاب پر تاثرات لکھنے والوں میں بھی معروف نام شامل ہیں، عرفان جاوید، عثمان جامعی، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، وارث رضا اور ڈاکٹر شاہد ایم شاہد۔ ان شخصیات کی رائے کتاب کے وقار میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

    کتاب میں موجود احفاظ الرحمن، ڈاکٹر خالد سہیل، بابا نجمی، ڈاکٹر جاوید اقبال، اقبال مسیح اور کامران ذیشان رضوی، یہ نام میرے لیے اجنبی نہیں تھے، کسی نہ کسی حد تک ان کے کام اور شہرت سے واقفیت تھی۔ مگر "زندہ لوگ” نے ان شخصیات کے بارے میں معلومات کے کئی نئے در کھولے۔ ایسی تفصیلات، ایسے واقعات اور ایسی جزئیات سامنے آئیں جو شاید میری نظر سے تو اوجھل رہتی۔
    ان کے علاوہ مجھے جس کہانی نے متاثر کیا،وہ گلوبل ٹیچر پرائز 2023 جیتنے والی پاکستانی استاد رفعت عارف، المعروف سسٹر زیف کی داستان ہے۔ ان کی کہانی پڑھ کر دل عقیدت سے بھر گیا۔ سسٹر زیف نے اپنے ہی گھر سے ایک عملی اور خاموش تحریک کا آغاز کیا۔ گھر کی دیوار پر سکول کا نام لکھوایا اور خود گھر گھر جا کر بچوں کو جمع کرنا شروع کیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ انہوں نے اس نیک کام کو کسی ایک مذہبی یا طبقاتی دائرے میں محدود نہیں رکھا، بلکہ تعلیم کی روشنی ہر بچے تک پہنچانے کو اپنا مقصد بنایا۔ ایسی شخصیات ہی دراصل معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہوتی ہیں۔

    اسی طرح پروفیسر سلامت اختر کی کہانی بھی دلچسپی سے بھرپور ہے۔ ایک عظیم استاد ایک قلم کار اور تحریک پاکستان کے ایک فعال کارکن کی حیثیت سے ان کی خدمات کو پڑھنا گویا تاریخ کے ایک گمشدہ ورق کو دوبارہ زندہ کرنا تھا۔

    مجموعی طور پر "زندہ لوگ” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا حوالہ ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ بتاتا ہے کہ کردار، خدمت اور دیانت سے جینے والے لوگ کبھی مرتے نہیں، وہ اپنے کاموں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ایاز مورس صاحب نے ان شخصیات کو ایک جگہ جمع کر کے اور ان کی کہانیاں عام قاری تک پہنچا کر یقینا ایک خدمت کی ہے۔

    اس کاوش پر ایاز مورس صاحب شکریہ کے مستحق ہیں، اور دل کی گہرائیوں سے اس بہترین کتاب کی اشاعت پر انہیں نیک تمنائیں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ "زندہ لوگ” جیسی کاوشیں آگے بھی جاری رہیں گی، تاکہ معاشرے کے اصل ہیروز کو وہ پہچان مل سکے جس کے وہ حق دار ہیں۔

  • تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جب کبھی کسی چائے خانے پر بیٹھتا ہوں، گلیوں سے گزرتا ہوں، یا کسی بازار میں قدم رکھتا ہوں،تو ایک منظر جو سب سے پہلے آنکھوں سے ٹکراتا ہے، وہ ہے سگریٹ کا دھواں۔ نوجوان لڑکے، ادھیڑ عمر مرد، حتی کہ کئی مقامات پر خواتین کے ہاتھوں میں جلتا ہوا سگریٹ نظر آتا ہے۔ ہم سب کےلیے یہ تمام عام مناظر ہوتے ہیں۔لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کتنی زندگیاں، کتنے خاندان، کتنے خواب اس دھوئیں میں گم ہو رہے ہیں؟
    اعداد و شمار کے مطابق اس دھوئیں میں گھرے پاکستان کی تصویر انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ریسرچ کونسل کی معلومات اور PMC میں شائع شدہ مختلف تحقیقات کے مطابق، پاکستان میں تمباکو نوشی کی اوسط قومی شرح 21.6 فیصد ہے۔جس میں مردوں کی شرح 36 فیصد اور خواتین کی قریبا 9 فیصد ہے۔ یہ تحقیق 9441 افراد پر شہری و دیہی دونوں علاقوں میں کی گئی۔

    گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (GATS) 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 27 لاکھ بالغ افراد ابھی بھی تمباکو مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تعداد پاکستان کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ بنتی ہے، جو کسی بھی ذی شعور شخص کو چونکا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو چونکا دینے کےلیے یہ شرح بھی ناکافی ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی محض سگریٹ تک محدود نہیں۔ یہاں تمباکو کی مختلف اشکال و اقسام موجود ہیں، جیسا کہ سگریٹ، حقہ، شیشہ، نسوار، گٹکا، بیڑی اور ویپ وعیرہ۔شیشہ کا رواج تو خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق اس کی شرح 33 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ یہ ایک سنگین صورتحال ہے، کیونکہ شیشہ کو عام طور پر کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ سائنسی شواہد اس کے برعکس ہیں۔

    لوگ تمباکو نوشی کیوں شروع کرتے ہیں؟اس کا جواب آسانی سے اور درست دینا تو مشکل ہے، تاہم پاکستان میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیق ‘Causes of Smoking in Pakistan: An Analysis of Social Factors’ کے مطابق تمباکو نوشی کے آغاز میں کئی سماجی، نفسیاتی اور ماحولیاتی عوامل کار فرما ہوسکتے ہیں۔
    ہم جماعتوں کا دباؤ ، Peer Pressure:

    ایک اور تحقیق کے مطابق 50 فیصد نوجوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ سگریٹ شیئر کرنے کے بعد تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

    گھریلو ماحول اور خاندانی اثر:
    پاکستان میں گھر کا ماحول بھی تمباکو نوشی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر میں باپ، چچا یا بڑا بھائی تمباکو نوشی کرتا ہو، تو بچہ اسے ایک معمول کا عمل سمجھنے لگتا ہے۔ جرنل آف اسموکنگ سیسیشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کم تعلیم یافتہ اور غریب طبقوں میں تمباکو نوشی کی شرح زیادہ ہے۔

    تناؤ، غربت اور مایوسی:
    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں تعلیم کی کمی،معاشی بحران، بے روزگاری اور سماجی مسائل کی بھرمار ہے۔ وہاں بہت سے لوگ کم علمی کی وجہ سے تمباکو نوشی کو ذہنی سکون کا ذریعہ سمجنے لگتےہیں۔ اور کئی لوگوں جب کسی مسئلے کا شکار ہوں، یا گھریلو لرائی جھگڑے میں سگریٹ پی کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ یہ عادت لت بن جاتی ہے۔

    تمباکو نوشی کے صحت پر اثرات:
    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تمباکو دنیا بھر میں قابل گریز اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
    ۔The Friday Times میں جون 2026 میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو ہر سال 1 لاکھ 92 ہزار سے زائد انسانی جانوں کا قتل کرتا ہے۔یعنی روزانہ 526 سے زیادہ اموات، ہر گھنٹے میں 22 قتل۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ ہم میں سے کسی کا بھائی، باپ، شوہر اور بیٹے ہوتے ہیں۔ اگر آپ تمباکو نوشی نہیں کر رہے تو یہ مت سمجھتے رہیے گا کہ ہم محفوظ ہیں کیونکہ تمباکو نوشی کا خمیازہ صرف وہ نہیں بھگتتے جو خود پیتے ہیں۔ بلکہ ان کے اردگرد بیٹھے بے قصور لوگ بھی اس دھوئیں کا شکار بنتے ہیں۔ گلوبل برڈن آف ڈیزیز رپورٹ (2019) کے مطابق پاکستان میں ہر سال 31000 اموات صرف پسیو اسموکنگ (سیکنڈ ہینڈ اسموک) کی وجہ سے ہوتی ہیں۔دنیا بھر میں پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کرنا جرم ہے۔ لیکن پاکستان میں صرف کاغذوں کے حد تک، گاڑیوں، ہوٹلوں، دفاتر حتی کہ صحت کے مراکز میں بھی آپ بطور پسیو سموکر متاثر ہوتے ہیں، مگر پوچھنے والا کیوئی نہیں۔

    پاکستان میں مردوں کی کینسر سے ہونے والی اموات میں سے 23 فیصد منہ کے کینسر اور پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ان دونوں کا براہ راست تعلق تمباکو نوشی سے ہے۔ تمباکو مجموعی طور پر پاکستان میں غیر متعدی امراض (NCDs) سے ہونے والی 17.53 فیصد اموات کا ذمہ دار ہے۔ایک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں روزانہ 1200 بچے جن کی عمر قریبا 15 سال سے 17 کے درمیان ہوتی ہے جو تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ یہ بچے نیکوٹین کی لت کا شکار ہو کر نہ صرف اپنی صحت برباد کرتے ہیں بلکہ تعلیمی کارکردگی، ذہنی نشوونما اور مستقبل برباد کر بیٹھتے ہیں۔

    معاشی تباہی اور تمباکو نوشی:
    یون کہنے کو تو تمباکو کی صنعت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور حکومت کو ٹیکس ملتا ہے۔ لیکن یہ دلیل اس وقت بالکل کھوکھلی ثابت ہو جاتی ہے جب ہم اس کا معاشی حساب کریں۔
    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) 2021 کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کا کل سالانہ معاشی بوجھ 615.07 ارب روپے (یعنی 3.85 ارب امریکی ڈالر) ہے۔ جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ یہ تمباکو صنعت کی حکومتی آمدنی سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
    ۔PubMed میں شائع 2022 ایک آرٹیکل کے مطابق کیسنر، دل کی بیماریوں اور سانس کی تکالیف جیسی تین بڑی بیماریوں کا علاج معالجہ اکیلے 437.8 ارب روپے (2.7 ارب ڈالر) سالانہ کھا جاتا ہے۔ اگر یہ پیسہ صحت، تعلیم یا دیگر ملکی بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیا جائے تو کتنے ہسپتال بن سکتے ہیں، کتنے اسکول کھل سکتے ہیں، کتنے غریب گھرانوں کی زندگی بدل سکتی ہئے۔ تمباکو نوشی صرف انسانی صحت کا دشمن نہیں، بلکہ معاشی قاتل بھی ہے۔

    پاکستان نے 2004 میں عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول (FCTC) پر دستخط کیے۔ اس کے بعد سے ملک میں تمباکو کنٹرول کے قوانین موجود ہیں۔ تعلیمی اداروں کے قریب فروخت پر پابندی، تشہیر پر پابندی وغیرہ ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل نہیں ہوتا۔ تمباکو پروڈکٹس پر ٹیکس کے حوالے سے بھی صورتحال مایوس کن ہے۔ جبکہ بھاری ٹیکس لگانا، تمباکو نوشی میں کمی کا بہت موثر طریقہ ہوسکتا ہے۔
    ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ GATS 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 10 سالوں میں تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی آئی ہے۔ لیکن یہ کمی ناکافی ہے اور اس رفتار کو بہت تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ نسل تباہ ہوجائے گی۔ تمباکو کا دھواں صرف سگریٹ کی نوک سے نہیں اٹھاتا بلکہ یہ معاشی وسائل اور قومی مستقبل کو بھی جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔

    (نوٹ: یہ آرٹیکل مختلف سائنسی و تحقیقاتی رپورٹس سے ماخوذ ہے)

  • پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ اور ایک نسل کا مستقبل داؤ پر،تحریر:اعجاز الحق عثمانی

    پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ اور ایک نسل کا مستقبل داؤ پر،تحریر:اعجاز الحق عثمانی

    مئی 2026 کے آغازمیں حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارے UNICEF نے مشترکہ طور پر ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی جس نے طبی ماہرین، ماحولیاتی ماہرین اور (بظاہر)پالیسی سازوں کے(بھی) ہوش اڑا دیے۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی، کوئٹہ اور ہری پور سمیت سات بڑے شہروں میں ایک سے تین سال کی عمر کے دو ہزار سے زائد بچوں کے خون کے نمونے لیے گئے،تقریبا چالیس فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار خطرناک حد سے زیادہ تھی۔

    یعنی پاکستان کے صنعتی شہروں میں ہر دس میں سے چار بچوں کے خون میں ایک ایسی زہریلی دھات جو بغیرکسی علامت کے ان کے دماغ، اعصاب،خون اور ہڈیوں میں جمع ہورہی ہے۔سب سے خطرناک اعداد و شمار ہری پور کے صنعتی علاقے حطار سے سامنے آئے جہاں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسہ پایا گیا۔یہ ایسی شرح ہے جو صرف پاکستان نہیں بلکہ جو عالمی سطح پر بھی بدترین شرح ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں یہ شرح محض ایک فیصد رہی، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صنعتی آلودگی بچوں کی صحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

    لیڈ یعنی سیسہ ایک بھاری دھات ہے جو زمین میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ صدیوں سے یہ پائپوں، رنگوں، برتنوں، ہتھیاروں اور صنعتی مصنوعات میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک جب اس کے انسانی صحت پر تباہ کن اثرات سامنے آئے تو مغربی ممالک نے اس پر سخت پابندیاں عائد کر دیں تھیں پٹرول، رنگ اور پانی کے پائپوں سے اسے ہٹا دیا گیا۔

    مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ دھات آج بھی مختلف شکلوں میں ماحول کا حصہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے واضح کہا ہے کہ ‘خون میں سیسے کی کوئی بھی محفوظ مقدار نہیں ہوتی’۔ یعنی اس کی ذرہ برابر موجودگی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچوں کے لیے۔پاکستان کے صنعتی علاقوں میں گاڑیوں، جنریٹرز اور یو پی ایس کی پرانی بیٹریاں چھوٹے غیر رجسٹرڈ یونٹوں میں توڑی اور پگھلائی جاتی ہیں۔ اس عمل کے دوران سیسے کے باریک ذرات پانی اور ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں،ایک اور بڑی وجہ جسے ہم لوگ کم علمی کی وجہ سے مفید سمجھتے آرہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں صدیوں پرانی روایت کے تحت نومولود بچوں اور بڑوں کو آنکھوں میں سرمہ لگایا جاتا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ بعض روایتی سرمے میں سیسے کی خاطر خواہ مقدار پائی جاتی ہے۔ آنکھ کی اندرونی جھلی سے یہ براہ راست خون میں جذب ہو جاتا ہے، اور آنکھ سے ناک کی نالی کے ذریعے نگل بھی لیا جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے یہ ایک انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

    سیسے کی سب سے بڑی سفاکی یہ ہے کہ یہ خاموشی سے نقصان پہنچاتا ہے۔ کوئی بخار نہیں، کوئی درد نہیں، کوئی فوری علامت نہیں۔ والدین دیکھتے ہیں کہ بچہ معمول کے مطابق ہنستا کھیلتا ہے، مگر اندر ہی اندر اس کا دماغ، اس کا اعصابی نظام آہستہ آہستہ متاثر ہوتا رہتا ہے۔ مگر سیسہ ایک نیوروٹاکسن ہے جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو گہرا نقصان پہنچاتا ہے۔ IQ میں کمی، یادداشت کا کمزور ہونا، سیکھنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا اور توجہ کی کمی جیسے اثرات بعد میں تعلیمی کارکردگی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔WHO کے مطابق سیسہ طویل مدت میں گردوں، دل اور دماغ کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے، اور یہ ایسا نقصان ہے جو اکثر ناقابل علاج ہوتا ہے۔

    دنیا بھر میں تقریبا 80 کروڑ بچے سیسے کی آلودگی سے متاثر ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد جنوبی ایشیا میں رہتی ہے۔ مگر پاکستان کا معاملہ خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ یہاں اس مسئلے کے متعدد ذرائع بیک وقت موجود ہیں، تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کاری، غیر رسمی ری سائیکلنگ، پرانے بنیادی ڈھانچے، کمزور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اس سے بھی بڑھ کر شعور کا فقدان یہاں سب سے بڑا دشمن ہے۔

  • لباسوں پر نظر رکھے ہوئے گدھ،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    لباسوں پر نظر رکھے ہوئے گدھ،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    سن اسی کی دہائی میں پاکستان عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز تھا،دنیا بھر کے صحافی اسلام آباد میں موجود رہتے تھے۔ آج برسوں بعد ایک مرتبہ پھر اسلام آباد عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ اسی کی دہائی میں پاکستان کا منفی چہرہ سامنے آرہا تھا، مگر بطور پاکستانی خوش آئند بات یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں ہمیں مثبت اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا پاکستان کی سفارتی کوششوں کا سراہا رہا ہے۔اور پاکستان پورے خطے میں ایک مضبوط سفارت کار کے طور پر سامنے آرہا ہے۔

    بلاشبہ حالیہ آباد ٹاکس نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سفارتی نقشے پر نمایاں مقام دلا دیا۔گزشتہ ہفتے دنیا بھر کے صحافی، تجزیہ نگار اور سفارت کار پاکستان کی طرف متوجہ تھے۔ بین الاقوامی میڈیا پاکستان کی سفارتی پختگی اور خطے میں اس کے کردار کو سراہ رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بطور قوم ہمیں اپنے ملک پر فخر کرنا چاہیے تھا۔ مگر ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے ایک بڑے طبقے نے اس تاریخی موقع پر جو کام اپنے ذمے لیا، وہ یہ تھا کہ ایک سینئر صحافی غریدہ فاروقی کے لباس کی تصویریں شیئر کی جائیں، ان کا مذاق اڑایا جائے اور انہیں ذلیل کیا جائے۔ اس موقع پر بھی امن کےلیے کوشاں پاکستان کے ایک طبقے نے ثابت کر دیا کہ چاہے یہاں امن کےلیے مذاکرات ہوں یا دنیا کے لیے فیصلے مگر ان کا ذہن ابھی بھی کسی عورت کی قمیض کی لمبائی سے آگے نہیں بڑھا۔

    یہ کوئی نئی بیماری نہیں ہے، نہ ہی یہ کسی ایک واقعے تک محدود ہے۔ پاکستان میں عورت کو کمزور کرنے کا سب سے آسان اور آزمودہ ہتھیار ہمیشہ اس کا کردار، اس کا جسم اور اس کا لباس رہا ہے۔ یہ ہتھیار سیاست میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے، میڈیا میں بھی اور سوشل میڈیا کے میدان میں بھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اس ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے ایک مردانہ دنیا میں اپنا راستہ خود بنایا، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی اور اسلامی دنیا میں پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بنیں۔ مگر ان کی کردار کشی کرنے کے لیے ہیلی کاپٹروں سے پمفلٹ گرائے گئے ۔

    ثمینہ پاشا کے معاملے میں جب طلعت حسین جیسے سینئر صحافی اور شیر افضل مروت جیسے سیاست دان بیٹھ کر ان کے جسم پر تبصرے کرتے ہیں تو یہ محض بدتمیزی نہیں ہوتی، یہ ایک منظم رویے کا حصہ ہوتا ہے۔ اسے نفسیات کی زبان میں Dehumanization کہا جاتا ہے، یعنی کسی انسان کو اس کی صلاحیتوں اور کردار سے ہٹا کر محض ایک جسم تک محدود کر دینا۔ جب آپ کسی پیشہ ور عورت کی گفتگو، اس کے دلائل اور اس کی محنت کو نظرانداز کر کے اس کے وزن، رنگ یا لباس پر آ جاتے ہیں تو آپ یہ بتاتے دیتے ہیں کہ ہم ذہنی مریضوں کے لیے اصل اہمیت اس کی ذہانت نہیں، بلکہ ظاہری ہیئت ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو خاموشی سے معاشرے کی رگوں میں اترا گیا ہے۔

    بشری بی بی کے حوالے سے جو کردار کشی کی گئی، اس کی نوعیت اور بھی زیادہ گھناؤنی تھی کیونکہ اس میں نہ صرف ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا گیا بلکہ مذہبی حوالوں کو بھی استعمال کیا گیا۔ ایک عورت خود کو اس وقت سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہے۔جب اس پر مذہبی یا اسکے کردار پرالزام لگایا جائے۔ خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں ہم رہتے ہیں۔ وہاں عزت کا تصور فقط عورت سے جوڑا گیا ہے۔ مریم نواز کے بارے میں بھی یہی ہتھیار آزمایا گیا۔ ان کی سیاست سے اختلاف کرنا بالکل جائز ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید ایک ہر پاکستانی ہے جمہوری حق ہے۔مگر کردار کشی اور تنقید میں فرق ہوتا ہے۔ جب تنقید کسی عورت کی ذاتی زندگی، اس کے لباس یا اس کے جسم پر آ جائے تو وہ تنقید نہیں رہتی، وہ ہراسانی بن جاتی ہے۔

    نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ عورتوں کو ان کی ظاہری ہیئت کی بنیاد پر جج کرنا ایک مخصوص ایک بیمار ذہنی کیفیت کی علامت ہے جسے Objectification Theory کہا جاتا ہے۔جب کوئی معاشرہ عورت کو انسان کے بجائے ایک شے سمجھنے لگتا ہے تو وہ اس کی صلاحیتوں کو نظرانداز کر کے اس کے جسم کو جانچنے لگتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اس عورت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے ذہنی ارتقاء کو روک دیتا ہے۔ وہ معاشرے جہاں عورتوں کو ان کی اہلیت سے زیادہ ان کی ظاہری ہیئت سے پہچانا جاتا ہے، وہ معاشرے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ اپنی نصف آبادی کی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔

    غریدہ فاروقی ہوں، ثمینہ پاشا ہوں، بشری بی بی ہوں، مریم نواز ہوں یا بے نظیر بھٹو یا کوئی اور عورت جسے صرف لباس اور جسمانی ہیت پر جج کیا جائے، ہمیشہ قابل مذمت ہے۔پاکستان آج عالمی سطح پر اپنا مقام بنا رہا ہے۔ اسلام آباد ٹاکس نے دنیا کو دکھایا کہ اس ملک کے پاس سفارتی بصیرت ہے، ذمہ داری کا احساس ہے اور خطے میں امن کی خواہش ہے۔ مگر جب تک ہمارے اندر بیٹھا وہ گدھ موجود ہے جو کامیاب عورت کو دیکھ کر اس کے لباس پر ٹوٹ پڑتا ہے، ہماری یہ عالمی و اخلاقی ساکھ ادھوری رہے گی۔

  • 14 برس کا باغی .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    14 برس کا باغی .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    مری آہ و فُغاں سن کر خفا دربار ہیں مُجھ پر
    یہ لکھتے اُن کی جانب سے کئی اخبار ہیں مُجھ پر
    میں باغی ہوں مگر پہلے بغاوت کا سبب جانو
    وگرنہ ہتھکنڈے اوچھے سبھی بے کار ہیں مجھ پر (ڈاکٹرالیاس عاجز)
    وقت بتاتا ہے کہ کونسا ادارہ محض حالات کی پیداوار تھا یا مخصوص لوگوں کا فرمائشی اور کون اپنے حصے کی شمع جلانےآیا تھا۔یہاں وقت اور حالات کے ساتھ رخ بدلنے کا رواج عام ہے۔ اپنے لفظوں کو ایوانوں کی دہلیز پہ گروی رکھ لیا جاتا ہے۔ مگر کچھ سر پھرے، اپنے کام اور ملک سے محبت کرنے والے، حالات سے بغاوت کرکے، "کھرے سچ” کا دیا جلائے رکھتے ہیں۔ میرے قلم نے 2021 میں پہلی دفعہ "باغی ٹی وی” نامی ایک ڈیجٹیل پلیٹ فارم کےلیے لکھنا شروع کیا۔ میرا خیال تھا کہ یہ بھی ایک ویب سائٹس کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ مگر بعد میں یہ عقدہ وا ہوا کہ میاں یہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ ایک مکمل اور پروفیشنل ادارہ ہے۔ باغی ٹی وی نے آج سے 14 برس قبل جب سئینر اینکر و کالم نگار مبشر لقمان کی سربراہی میں ڈیجیٹل افق پر قدم رکھا تو تب سے باغی ظلم کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ یہ سماج کیونکہ سچ سننے کا عادی نہیں ہے، سچ بولنے والوں کا جو حال اس پاک سرزمین پر سبھی کا ہوتا ہے، "باغی” کو بھی انہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج کی کوریج ہو یا لانگ مارچ یا جلسے، باغی ٹی وی نے مین سٹریم میڈیا کی طرح ہر ایونٹ کو کوریج دی۔ بلکہ اپنا کیمرہ موڑنے کی بجائے وہاں رکھا، جس کو دکھانا ممنوع تھا۔ دباؤ، دھمکیاں، حتی کہ باغی ٹی وی کی آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کا بلیو ٹک تک ختم کروا دیا گیا۔ یہاں تک کہ پاکستان دشمن مودی سرکار بھی باغی کی بغاوت سے خائف نظر آئی۔ اور کئی مرتبہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بند اور ویب سائٹس کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر باغی نے اجمل صدیقی صاحب کے اس شعر پر عمل کرتے ہوئے کام جارہی رکھا۔
    ؎یہ ہی ہیں دن، باغی اگر بننا ہے بن
    تجھ پر ستم کس کو پتا پھر ہو نہ ہو

    باغی ٹی وی اس وقت پانچ مختلف زبانوں میں اپنے قارئین کو باخبر رکھے ہوئے ہے۔ اردو، انگریزی، پشتو اور چینی وغیرہ جیسی زبانوں میں صرف باغی ٹی وی کی ہی ویب سائٹس ہیں۔ زبانیں پانچ ہیں،مگر موقف ایک ہی ہے۔ یہی وجہ کا آج باغی ٹی وی دنیا بھر میں دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ گزشتہ 10 برس سے باغی ٹی وی یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔ جہاں 2200 سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔ویڈیوز کی موجودگی محض تعداد نہیں، سنسرشب کے دور میں سچ کی داستان ہے۔ یہ صرف ویڈیوز نہیں، بلکہ خبروں ، انفارمیشن اور حقائق کا منبع ہیں۔ پروگرام "باغی بریسیٹر” ہو ،یا ” باغی کا پاکستان” اور معروف انوسٹیگئٹو جرنلسٹ محسن بھٹی کا حقائق کا پردہ چاک کرنے والا پروگرام "موت کا دھندا” ہو، جس کی صرف ایک ایپی سوڈ کو 1.8 ملین سے زائد افراد نے دیکھا، یہ سب باغی کے سچ کی جنگ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پروگرام ” باغی ستارے” ہو یا ” خوابوں کی تعبیر ” باغی نے عوام کو باخبر رکھنے کےلیے کسی ڈومین کو نہ چھوڑا۔ حتی کہ جن چھوٹے علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، ان کےلیے "علاقائی” اور "ریجنل ہیڈ لائنز” بھی نشر کی جاتی رہی ہیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں باغی ٹی وی نے لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح کی لائیو کوریج کرنے کا اعزاز بھی حاصل کر رکھا ہے۔

    باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ” ممتاز اعوان” صاحب ہمارے مہربان ہیں۔ گزشتہ برس انھوں نے باغی ٹی وی کی سالگرہ پر مدعو کیا۔ تو ہم بھی باغی ٹی وی کی 13 وی سالگرہ کا کیک کھانے 365 نیوز کی بلڈنگ میں مبشر لقمان صاحب کے دفتر پہنچے۔ مبشر لقمان صاحب کسی مصروفیت کی وجہ سے اسلام آباد چلے گئے تو 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز و کرنٹ افیئرز سینئر صحافی محمد عثمان صاحب کے ہمراہ کیک کاٹا گیا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس تقریب میں 2 چکوالی اور بھی آئیں گے۔ فیصل رمضان صاحب کا تعارف ہوئے چند ہفتے ہی گزرے تھے،مگر وہ بھی تشریف نہ لا سکے۔جبکہ دوسرے چکوالی ایم ایم علی صاحب کو گزشتہ 5،6 برسوں سے سوشل میڈیا پر دیکھ اور پڑھ رکھا تھا۔ ایم ایم علی صاحب معروف ادبی تنظیم ” آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن” کے بانی ہیں۔ لیکن ان سے بھی کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اسی دن ان سے بھی ملاقات ہوئی، اور یہ بھی حیران کن انکشاف ہوا کہ مبشر لقمان صاحب بھی چکوالی ہیں۔ اس تقریب میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ اور خاکسار نے انھیں اپنی کتاب "عثمانی نامہ ” پیش کی۔تقریب میں دیگر شرکاء کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اعزازی سرٹیفکیٹ 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز کے ہاتھوں ملا۔

    میں نے پہلی دفعہ 2021 میں باغی میں لکھنا شروع کیا۔ اب تک باغی کےلیے 60 سے زائد آرٹیکلز لکھ چکا ہوں۔ شاید اس لیے کہ یہاں کبھی قلم پابند نہیں کیا گیا۔ جو چاہا لکھا اور چھپ گیا۔ ماضی قریب کے زلزلے اور سیلاب میں باغی ٹی وی کی رپورٹنگ کو بہت قریب سے دیکھا۔ کئی ایک بڑے مین سٹریم سے بہتر رپورٹنگ اور معلومات دیکھنے کو ملی۔ باغی ٹی وی نے روایتی میڈیا پلیٹ فارم پر چند مگرمچھوں کے قبضے کے برعکس ہمیشہ نئے لکھاریوں کو نہ صرف موقع دیا بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی۔ یہ ادارہ نہ صرف ملک بھر کے مظلوموں کی آواز بنتا ہے۔ بلکہ چند برس قبل جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر ڈاکا ڈالا تو مجھے اس وقت صرف باغی ٹی وی ہی واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم نظر آیا جو کہ بڑھ چڑھ کر بھارتی مظالم کو دھمکیوں کے باوجود بے نقاب کرتا رہا۔
    ؎کہتے ہیں باغی مجھ کو زمانے والے
    کہ یہ طور نہیں زندگی نبھانے والے
    ٹوٹا بھی تو بکھرنے نہیں دیا خود کو
    پچھتائے ہر بار مجھے آزمانے والے

    یقینا 14 برس مکمل ہونے پر سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان صاحب اور ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب سمیت دیگر ٹیم بھی مبارکباد کی مستحق ہے۔ خدا نے چاہا تو یہ سفر جاری رہے گا۔ اور پندرہ برس مکمل ہونے تک ہم بھی اپنے آرٹیکلز کی سینچری مکمل کر لیں گے۔