Baaghi TV

Author: اعجاز الحق عثمانی

  • ہمارا پیٹ بھرنے والے کسان،اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر،کیوں؟؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہمارا پیٹ بھرنے والے کسان،اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر،کیوں؟؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    گزشتہ برس بھارت میں کسانوں کی ایک تحریک نے زور پکڑا تو ہمارے میڈیا سمیت ملک پاکستان کے مالکان سب نے ان کے لیے ہمدردی اور حمایتی بول بولے۔ مگر آج پاکستان کا کسان سڑکوں پر ہے۔تو ہمارے اندر اس قدر ہمدردی کیوں نہیں نظر آرہی ہے ۔جو 2021 میں بھارتی کسانوں کے لیے نظر آئی تھی۔اسلام آباد میں ہزاروں کسان کھاد اور بیج کی وافر مقدار میں فراہمی، گندم کی خریداری کی امدادی قیمت میں اضافے اور ڈیزل و بجلی کی قیمتوں میں کمی جیسے مطالبات کے لیے سڑکوں پر ہیں۔

    پاکستان کا کسان ایک لمبے عرصے سے صرف ظلم ہی سہتا آرہا ہے۔بلند و بانگ دعوے ہر سیاسی جماعت نے کیے۔مگر کسان کے ہاں خوشحالی اتنی ہی آئی ہے۔ جتنی اس ملک میں جمہوریت۔۔۔۔۔نہ زرداری، نہ نواز وشہباز اور نہ عمران نے کسانوں کے لیے کوئی ایسا میکانزم اور لائحہ عمل تیار کیا۔ جس سے وہ خوشحال ہو سکیں۔ کھاد کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ، لاکھوں روپے میں بجلی کے بل، آسمان کو چھوتی ڈیزل کی قیمتیں، کسانوں کی خود کشی کے مترادف ہیں۔

    ہر آنے والے انتخابات سے پہلے ایسے ایسے دعوے کیے جاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب تو اچھے دن آنے والے ہیں۔ ایسے ایسے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ لگتا ہے۔ کہ سبز کھیتوں میں کام کرنے والا کسان اب تو ضرور خوشحال ہوگا۔ اس کی مشکلات کم اور آسانیوں میں اضافہ ہوگا۔ مگر آسانیوں میں اضافے کی بجائے ، مشکلات اس قدر بڑھا دی گئی ہیں کہ وہ اب سڑکوں پر نکلنے کو مجبور ہوگیا ہے ۔اپنے کھیتوں کو چھوڑ کر وہ آج سڑکوں پہ ہیں۔ تہذیب انسان کا وارث ، ملک کے شہریوں کا پیٹ بھرنے والا، آج اگر اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر ہے۔ تو یہ پوری قوم کےلیے افسوس کی بات ہے ۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے تو کسان کو حق نہ ملنے پر ، کھیت و کھلیان جلا دینے جیسے الفاظ اپنے اشعار میں لکھے ہیں۔

    جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
    اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

    شاید علامہ اقبال جانتے تھے کہ کسان پر ظلم ہوگا۔ پوری دنیا کا پیٹ بھرے گا مگر اپنا پیٹ بھرنے کےلیے اس کو ٹھوکریں کھانی پڑیں گی۔
    کسی دور میں کسان ہی معاشرے کا سب سے خوشحال فرد ہوتا تھا ۔مگر آج کسان کے حالات اس قدر پسماندہ ہوچکے ہیں کہ گزر بسر مشکل ہوگیا ہے۔

    گندم کی بالیاں ہی وہ بیٹی کو دے سکے
    مالک میرے کسان کے کھیتوں کی خیر ہو

    ہم کیسے بھول گئے ہیں کہ یہی کسان ہمارا پیٹ بھرتا ہے۔ ہماری بھوک مٹانے کے لیے دن بھر کھیتوں میں محنت کرتا ہے۔ زمین کا سینہ چیر ہمارے لیے غذا اگاتا ہے۔ یہ خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا۔ یہ خوشحال ہوگا تو ہمارے پیٹ بھریں گے۔

    یہ ہری کھیتی، ہرے پودے، ہرا رنگ چمن
    تم سے ہیں آباد یہ کہسار یہ کوہ ودمن

    خوں پسینے سے بہت سینچا ہے یہ صحن چمن
    تم اگر آباد ہو، آباد ہیں گنگ و جمن

  • ایٹمی ملک چلانے والوں کی آڈیوز برائے فروخت — اعجازالحق عثمانی

    ایٹمی ملک چلانے والوں کی آڈیوز برائے فروخت — اعجازالحق عثمانی

    اگر آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہیں تو پھر یقیناً حال ہی میں آپ نے پانامہ لیکس کا نام سنا ہوگا ۔اور آج کل آڈیو لیکس کے بارے میں بھی اور لیک ہونے والی آڈیوز کو سن بھی رہے ہونگے۔ملکی تاریخ میں آڈیوز لیکس پہلی بار نہیں ہورہی ہیں،اس سے پہلے بھی آڈیوش اور ویڈیوز لیکس ہوتی رہی ہیں۔ مگر ہم نے کبھی اپنی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کی طرف غور ہی نہیں کیا۔

    گزشتہ ہفتے آڈیوز لیکس کا شروع ہونے والا سلسلہ تا حال جارہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، سابق وزیرِاعظم عمران خان سمیت کئی اہم وزرا کی حساس نوعیت کی گفتگو لیک ہو چکی ہے۔ "انڈی شیل” کے نام سے ایک اکاؤنٹ ہیکرز کے ایک فورم پر بنایا گیا۔ اکاؤنٹ بنانے والے ہیکر نے پاکستانی وزیر اعظم ہاؤس کی آڈیوز کی اپنے پاس موجودگی کے متعلق ہیکرز فورم پر پوسٹ کی۔ جس کی قیمت 180 بٹ کوائن رکھی گئی ۔ یعنی پاکستانی وزیر اعظم ہاؤس کے لیک شدہ گفتگو کی عالمی مارکیٹ میں بولی لگائی گئی ۔ جی ہاں، جناب ! ایٹمی ملک پاکستان ہے یہ ، یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی گفتگو ریکارڈ ہو جاتی ہے۔ اور پھر ہیکر اسے عالمی مارکیٹ میں فروخت کے لیے بولی لگاتا ہے۔ مگر ایٹمی ملک بے خبر ہے کہ یہ سب کیسے ہوا ہے۔

    100 گھنٹوں سے زائد کی گفتگو کی ریکارڈنگ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی وزیراعظم ہاؤس جیسی حساس جگہ کی۔۔۔۔۔۔ ایٹمی ملک کو اپنا سر پیٹ لینا چاہیے۔ دنیا ٹیکنالوجی میں کتنی آگے بڑھ گئی ہے۔ کوئی دشمن ملک کتنی آسانی سے ہمارے رازوں سے پردہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ سب سوچنے اور اسکا سب کا حل نکالنے کی بجائے آج بھی ہم فقط سیاست میں مصروف ہیں۔

    وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنی اور پرنسپل سیکریٹری کی مبینہ آڈیو لیک ہونے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ” یہ معاملہ صرف اُن کی ذات کا نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی عزت کا ہے”۔جناب ریاست پاکستان کی عزت وتکریم کو جتنا آپ لوگوں نے پامال کیا ہے۔ اب آپ یہ بات کرتے ہوئے اچھے نہیں لگ رہے۔

    وزیراعظم ہاؤس جیسی حساس جگہ کی ایسی آڈیوز کا ریکارڈ ہونا اور پھر منظر عام پر آنا۔ ایجنسیوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔

    اگر یہ کام کسی دوسرے ملک کا ہے۔ تو ہم بے خبر کیسے رہے؟۔سیکیورٹی معاملات اور خارجہ پالیسی جیسے حساس امور پر گفتگو جہاں ہوتی ہے ۔اگر وہاں کی سیکورٹی اتنی کمزور ہے۔ باقی ملک کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔

  • مغل شہزادیوں کا پسندیدہ عرق گلاب اور کلرکہار  — اعجازالحق عثمانی

    مغل شہزادیوں کا پسندیدہ عرق گلاب اور کلرکہار — اعجازالحق عثمانی

    کلرکہار یوں تو اپنے قدرتی حسن اور منفرد تاریخ کی وجہ سے پاکستان بھر میں جانا جاتا ہے ۔ مگر بیشتر لوگ اس بات سے لاعلم ہیں کہ یہاں بڑے اعلیٰ معیار کا عرق گلاب بھی دیسی طریقے سے کشید کیا جاتا ہے۔ تاریخی کتب کے مطابق مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر کی بیوی نور جہاں کو کلرکہار کا عرق گلاب اس قدر پسند تھا کہ وہ خصوصی طور پر یہاں سے عرق گلاب منگوایا کرتی۔چند دہائیاں قبل بازاری کاسمیٹکس تو تھا ہی نہیں۔ خواتین اپنے چہرے کو تر و تازہ رکھنے کی غرض سے گلاب کا عرق استعمال کرتیں۔ ملکہ بھی شاید اسی مقصد کے لیے کلرکہار سے عرق گلاب منگواتی ہونگی۔

    گلاب کی پنکھڑیوں سے نکالا گیا عرق ہاتھوں کی تازگی، آنکھوں کی چمک اور جلد کو نرم وملائم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں اینٹی آکسیڈینٹس بھی ہوتے ہیں۔ سو یہ جلد کو مضبوط کرتا ہے۔عرق گلاب مختلف اشیا مثلاً آئس کریم، کیک، بسکٹ اور دیگر مٹھائیوں میں ذائقے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ طبعی طور پر اس کے بہت سارے فوائد ہیں ۔

    گلاب کے فوائد کے ساتھ ساتھ اسکی رنگت میں اس قدر کشش ہے کہ سبھی شعرا نے اس کو تختہ مشق بنایا ۔ کسی کو محبوب کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی لگے تو کسی کو اس کی رنگت سے رخسار محبوب کی یاد نے گھیرا ۔ چند اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔

    ؎ وہ پاس بیٹھے تو آتی ہے دلربا خوشبو
    وہ اپنے ہونٹوں پہ کھلتے گلاب رکھتے ہیں

    ؎ عرق نہیں ترے رو سے گلاب ٹپکے ہے
    عجب یہ بات ہے شعلے سے آب ٹپکے ہے

    ؎ آ نکھوں سے ہٹے نہ خواب جیسا
    وُہ شخص کہ ہے گلاب جیسا

    ؎ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
    پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

    کلرکہار میں بنائے جانے والے عرق گلاب کی تیاری میں صرف پیتل کے برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ مٹی سے بنی بھٹی کے اوپر بڑے سے برتن میں پانی اور گلاب کی پنکھڑیاں ڈال کر برتن کا ڈھکن بند کر دیا جاتا ہے ۔ اسی برتن سے ایک پائپ بھی منسلک ہوتا ہے ۔جس سے بھاپ گزر کر ٹھنڈے پانی میں پڑے ایک برتن میں جا گرتی ہے۔ جو بعد میں عرق کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔انھی بھٹیوں میں عرق چوعرقہ، عرق سونف ، عرق پودینہ ، عرق لوٹاٹ وغیرہ بھی کشید کیا جاتا ہے ۔ اگر آپ واقعی خالص عرق گلاب کے متلاشی ہیں تو کلرکہار جائیے بے فکر ہو کر خالص عرق گلاب خریدیئے ۔

  • 23 ستمبر اشاراتی زبانوں کا عالمی دن جو خاموشی سے گزر گیا!!! — اعجازالحق عثمانی

    23 ستمبر اشاراتی زبانوں کا عالمی دن جو خاموشی سے گزر گیا!!! — اعجازالحق عثمانی

    تین دن قبل یہ دن اتنی ہی خاموشی سے گزر گیا جتنی خاموش یہ زبان ہے، خیر اشاراتی زبان سے مراد ، جسم کے مختلف حصوں مثلاً ہاتھوں ، انگلیوں اور کندھوں وغیرہ کی مدد سے گفتگو کرنا ہے۔ گونگے افراد بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں تو وہ اشاروں کی مدد سے اپنی بات دوسروں کو سمجھاتے ہیں ۔دسمبر 2017 کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ،2018 میں اقوام متحدہ نے پہلی دفعہ 23 ستمبر کو اشاروں کی زبان کا عالمی دن قرار دیا۔یوں تو 17 ویں صدی سے ہی مغربی دنیا میں اشاراتی زبان کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔1620 میں ایک ہسپانوی پادری نے بہرے لوگوں کو اشاروں کی مدد سےتقریر سیکھانے کے موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ لیکن آج کے اس سائنسی دور میں ہم آج بھی بہت پیچھے کھڑے ہیں ۔

    ڈبلیو ایف ڈی کی جانب سے جاری کئے گئے ڈیٹا کے مطابق تقریبا 7.2 کڑور افراد دنیا بھر میں بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔

    سماعت سے محروم 80 فیصد افراد کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔ یہ لوگ مجموعی طور پر تقریباً 300 سے زائد زبانوں کی مدد سے اپنی روزمرہ کی زندگی میں گفتگو کرتے ہیں۔

    ڈیٹا کے مطابق” پاکستان میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ جو کہ ملک میں موجود معذور افراد کا7.4 فیصد بنتے ہیں”۔

    انٹرنیشنل ڈے آف سائن لینگویجز یا اشاروں کی زبان کا عالمی دن گویائی اور سماعت سے محروم افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے۔ مگر صرف اظہار یک جہتی سے کیا ہوگا؟۔۔۔۔۔۔انڈونیشیا کے شہر یوگیاکارتا میں ایک مدرسہ ہے۔ جہان کبھی بھی تلاوتِ قرآن کی آواز نہیں سنی گئی۔یہ اشاراتی زبان سمجھنے والے بچوں کے لیے بنایا گیا ایک مدرسہ ہے جہاں اشاروں کی مدد سے قرآن کی تلاوت سیکھائی جاتی ہے ۔ لیکن سوچیے پاکستان میں اشاراتی زبان سمجھنے والوں کے لیے اس اندھی قوم نے کیا گیا ہے۔ یہاں صرف انکا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ ان کو اپنے سے کم تر سمجھا جاتا ہے ۔اس اندھی قوم سے اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس اشاراتی زبان کی خوبصورتی تو دیکھیے۔ خاموشی اور سکوت میں سب کچھ ہی کہہ جاتی ہے۔

    کہاں سے سیکھا ہے تو نے ہنر محبت کا
    کلام کرتی ہے دنیا سے تیری خاموشی

    اشاروں کی زبان سمجھنے والوں کے اشاروں سے یاد آیا کہ فطرت بھی تو انسان سے اشاروں میں گفت و شنید کرتی ہے۔ فطرت کے اشارے چاروں جانب پھیلے ہوئے ہیں ۔ اشاراتی زبان فطرت کے بہت قریب تر ہے ۔ جب اس ننھے سیارے پر زندگی کا آغاز ہوا ہوگا تو زبان نام کی تو کوئی شے نہیں ہو گی۔ تب بھی تو حضرت انسان نے اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرنے کےلیے اشاروں کا ہی سہارا لیا ہو گا۔

    ہمیں سماعت سے محروم لوگوں کو معاشرے میں عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ اشاروں کی زبان سمجھنے والے لوگ آنکھوں پر پٹی بندھی اس قوم سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں ۔

    پاکستان کو قوت سماعت اور گویائی سے محروم افراد کےلیے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

  • ٹرانس جینڈر ایکٹ، خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا؟ — اعجازالحق عثمانی

    ٹرانس جینڈر ایکٹ، خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہمارے معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کا تو نام و نشان تک نہیں پایا جاتا،اور جو رویہ بطور معاشرہ ہمارا خواجہ سراؤں کے ساتھ ہے وہ تو پوچھیے ہی مت۔ خواجہ سرا انتہائی قابل رحم جنس اس لیے بھی ہیں۔ کہ ہم نے انھیں ایک الگ جنس تسلیم کرنے پر آج تک تسلیم ہی نہیں کیا ۔ پیدا ہوتے ہی یہ طبقہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

    ہمارے ہاں خواجہ سراؤں کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیاں ہیں ، شاید انہی غلط فہمیوں کو وجہ سے معاشرہ اس تیسری جنس کو قبول نہیں کرتا۔خواجہ سرا ہوتا کیا ہے ؟ اس بات کا جواب سائنسی بنیادوں پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔شناخت کا سب سے زیادہ موثر طریقہ ڈی این اے ہے۔

    ڈی این اے میں موجود "ایکس” اور "وائے” کروموسومز جنسی شناخت کرتے ہیں۔فرٹیلائزیشن سے پہلے صرف "ایکس” کروموسوم ہی پایا جاتا ہے ۔جبکہ سپرم میں یا تو "ایکس” کروموسوم ہوتا ہے، یا پھر "وائے”۔ "ایکس” کروموسوم سے جنم لینے والی جنس لڑکی جبکہ "وائے” کروموسومز کی فرٹیلائزیشن ہو تو پیدا ہونے والی جنس لڑکا ہوگا۔

    لیکن بعض دفعہ کسی لڑکے میں لڑکیوں کی خصوصیات جبکہ لڑکیوں میں لڑکوں کی خصوصیات آجاتی ہیں ۔ظاہری جسمامت لڑکیوں والی ،اور بعض افراد میں خصوصیات لڑکوں والی آجاتی ہیں ۔ ایسی جنس کو خواجہ سرا کہتے ہیں ۔

    2018ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ٹرانس جینڈر ایکٹ پیش ہوتا ہے۔ جس کے تحت ٹرانس جینڈر کو ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ جنسی ہراسانی سے تحفظ کی فراہمی اور ان سے بھیک منگوانے پر پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا متعین ہوتی ہے۔یہاں تک تو بات ٹرانس جینڈر طبقے کے حق میں تھی اور ان سارے حقوق کا یہ طبقہ حقدار بھی ہے۔ مگر اس ایکٹ کی چند ایک کلاز ایسی ہیں، جن کے بعد میں تو کم از کم اس کو ایکٹ کو خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا کہوں گا۔

    کیونکہ معاشرے سے اٹھ کر کوئی بھی مرد یا عورت کہے کہ وہ خواجہ سرا ہے تو بغیر کسی طبعی روپوٹس اور تحقیق کے مان لیا جائے تو یہ دراصل خواجہ سرا طبقے کے حق پر ڈاکا ہے۔اس ایکٹ کے تحت کوئی بھی شخص خود اپنی جنس کا تعین کر سکتا ہے ۔اور بغیر کسی میڈیکل رپورٹ کے، یعنی کوئی بھی شخص نادرا کو درخواست دے کر اپنی جنس مرد سے تبدیل کروا کے عورت یا عورت سے مرد کروا سکتا ہے۔ خواجہ سراؤں کو حق ہے کہ وہ خود اپنی جنس کا تعین کریں ۔

    کیونکہ بعض خواجہ سرا بچوں کے جنسی اعضا بچپن سے نہیں پہچانے جاسکتے ۔ بلوغت سے پہلے جنسی غدود فعال نہیں ہوتے اور جنسی ہارمونز کی مقدار بھی کم ہوتی ہے ۔اس لیے جسمانی ساخت سے پہچان خاصا پیچیدہ عمل ہوتا ہے ۔ ایسے میں وہ بچے اپنی جنس کا تعین خود ہی بہتر طور پر کر سکتے ہیں ۔

    مگر۔۔۔۔۔۔ایسے کھلا کھلم آزادی کہ جس کا جی چاہے اپنی جنس کا تعین خود کرنے بیٹھ جائے ، کسی طور پر بھی بڑی تباہی اور بربادی سے کم نہیں،معاشرے کی ان کالی بھیڑوں کو لگا کیسے اور کون ڈالے گا جو اس ایکٹ کی آڑ میں، اسے ہم جنس پرستوں کے تحفظ کا قانون بنا لیں گے۔

  • "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    اسلام علیکم میرے قائد!

    میں خوش ہوں کہ آپ کو جنت کی نعمتوں سے روز نوازا جاتا ہوگا۔لیکن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں (آپ کے پاکستان) نے 11 ستمبر 1948کو آپ کے جانے کے بعد نا جانے کیا کیا نہ جھیلا ۔ سب اپنے اپنے مفادات میں پڑ گئے ہیں۔ نواز ! لندن بیٹھ کر پاکستان پر حق جماتا ہے۔

    اے میرے قائد! آج ہی ایک خبر پڑی کہ سندھ میں ایک بچی بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ مگر سندھ میں بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ اے میرے قائد! آپ نے تو کہا تھا۔

    "آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”۔

    لیکن جناح صاحب! ہم مندروں میں جانے والے پاکستانیوں کو برداشت تک نہیں کر سکتے۔ آزادی کیا دیں گے؟۔ مذہب کے نام پر جتنا میرے فرزندوں کو لڑوایا گیا۔ شاید ہی کسی دوسری بات پر اتنا فساد برپا ہوا ہو۔

    بے اثر ہوگئے سب حرف نوا تیرے بعد
    کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد

    تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے
    ایسی بدلی کوچے کی فضاء تیرے بعد

    اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی
    ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد

    اے میرے عظیم قائد! مجھے آپ کے بعد برسوں تک بغیر آئین کے چلایا جاتا رہا۔ جس کا جو دل کرتا وہ وہی کرتا۔ کسی نے اپنی مرضی کا آئین بنا کر صدارتی ہانڈی میرے سلگتے جسم پر رکھی تو کسی نے میری اور آپ کی بہن پر غداری کے الزامات لگائے۔

    رشوت کے نام پر آگ بگولہ ہونے والے میرے قائد اب تو میرے فرزند ، رشوت کو کسی کام کی چابی مانتے ہیں۔ جہاں کوئی کام نہ ہو رہا ہو ،رشوت کی چابی لگا دیتے ہیں۔اور پھر اس کام کو پہیے سے ہی لگ جاتے ہیں۔

    جناح صاحب! مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ، میرے فرزند بھٹک گئے ہیں ۔اپنی منزل بھلا بیھٹے ہیں۔ آپ سے گلہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ آپ نے جس طرح مجھے آزاد کروایا ،میں خود آپ کی ذہانت سے حیران ہوا تھا۔ کسی نے آپ کے بارے میں کیا ہی سچ لکھا ہے۔

    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
    ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی

    ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی
    اور نعرہ تکبیر سے دی تو نے گواہی

    اسلام کا جھنڈا لیے آیا سر میدان
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    جناح صاحب رب کے حضور یہ دعا ضرور پیش کیجیے گا کہ پاکستان کے فرزندوں کی اک اور جناح کی ضرورت ہے ۔ورنہ یہ بکھر جائیں گے ، ٹوٹ جائیں گے ، در در سے ٹھوکریں کھائیں گے۔ میں یہ سب اپنے فرزندوں کے ساتھ ہوتا ہوا برداشت نہیں کر سکوں گا ۔ اپنے اوپر کیے کے ان کے سارے ظلم بھلا کر ان کے کے دعا گو ہوں۔

    فقط۔۔۔۔ آپ کا اپنا پاکستان

  • "سکون صرف قبر میں ہے”   — اعجازالحق عثمانی

    "سکون صرف قبر میں ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ڈربہ نما گھروں پر مشتمل یہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا شہر ہے۔ گلی کے نکڑ پر لگا فلٹریشن پلانٹ یہاں کے باسیوں کو صاف پانی مہیا کرنے کےلیے لگایا گیا ہے۔ پلانٹ کے گرد مکڑی کے جالے فلٹریشن پلانٹ کو سیکورٹی مہیا کررہے ہیں۔ فلٹریشن پلانٹ کے عین سامنے ابلتا گٹر اور ایک کیچڑ زدہ نالی ہے ۔جہاں رہائش پذیر مچھر پڑوس میں قائم ایک ہاسپٹل کےلیے مریض مہیا کرنے میں رات دن مصروف ہیں۔اس شہر میں کچرے کے انبار اور ملک کے اخبار تعداد میں مساوی ہیں۔ یہاں کچرا اُٹھانے اور ہٹانے سے زیادہ تجاوزات ہٹانے کا عمل جاری رہتا ہے۔

    شہر کے وسط میں رکشوں کی پھٹ پھٹ۔۔۔۔۔۔کان کے پردے پھاڑتے ٹھیلے والوں کے سپیکرز، اور مسلسل ہارن کی آوازوں سے الجھا دماغ۔۔۔۔۔۔ دھواں چھوڑتی گاڑیاں، بغیر سائلنسر کے بائیکس سڑکوں پر نکلتے ہی آپ کا منہ سر ایک کر دیتے ہیں۔ شہروں کے گھٹن بھرے ماحول اور آلوگی سے لبریز آب و ہوا میں سکون کا حصول تو ممکن نہیں ہے۔شاید”سکون صرف قبر میں ہے”

    گھبرائیے بغیر، آئیے اسی شہر کے کسی دوسرے حصے کی طرف چلتے ہیں۔ یہاں چنگچی رکشے، پرانی کاریں ناپید ہیں۔ موٹر سائیکل بھی خال خال نظر آتے ہیں۔ سڑکیں برف کی طرح صاف ستھری ہیں۔ یہاں ہر طرف بنگلہ نما بڑے بڑے گھر ہیں۔ نئے طرز اور ماڈلز کی گاڑیاں بغیر دھول اڑائے یہاں سڑکوں پر اڑتی نظر آتی ہیں۔ بڑے مالز، چمکتے فروٹ (شاید ان دکانوں پر فروٹ خراب ہی نہیں ہوتے؟) ۔۔۔۔شیشے کے پار مکھیوں سے کوسوں دور گوشت۔۔۔۔۔۔۔ اور ان سب جگہوں پر منظم طریقے سے خریداری کرتے لوگ۔ انہی مالز کے بلکل قریب دو چار بڑے بڑے ہسپتال بھی ہیں۔ معیاری خوراک کی دستیابی کے باوجود یہاں کے ہسپتالوں میں دل، گردے اور پھیپھڑوں کے مریضوں کا بہت رش رہتا ہے۔ سکون یہاں بھی نا پید ہے۔

    آئیے اب اس شہر سے دور چلتے ہیں۔ یہاں کچے مکانوں میں لوگ بیٹھے گپ شپ میں مشغول ہیں۔ شدید گرمی ہے۔ بجلی پچھلے چھ گھنٹوں سے بند ہے۔ایک معروف فلمی گیت ہے،

    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں رے
    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے

    جی کرتا ہے مور کے پاؤں میں پائلیا پہنا دوں
    کوہو کوہو گاتی کوئلیا کو پھولوں کا گہنا دوں

    یہیں گھر اپنا بنانے کو پنچھی کرے دیکھو
    تنکے جمع رے، تنکے جمع رے

    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے
    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں

    "۔۔۔۔میں تو گیا مارا ، آکے یہاں” یہ بات اس فلمی گیت میں شاید اب کے گاؤں کے لیے کہی گئی ہے۔یہاں شہروں کے طرح ٹھیلے والوں کے سپیکرز کی آوازیں تو دماغ کو بے سکون نہیں کرتیں۔مگر کبھی کبھار سائیکل سوار آوازیں لگاتا گاؤں میں پھرتا پایا جاتا ہے۔

    یہاں ضروریات زندگی کی بیشتر اشیاء ناپید ہیں ۔مگر ایک نکڑ پر مکیھوں کی نگرانی میں سموسے تیار ہورہے ہیں۔یہاں چوہدریوں، وڈیروں اور جاگیر داروں کا راج ہوتا ہے جو ادھر کے لوگوں کو اپنی رعایا سمجھ کر ان کی جان، مال اور عزت کا خوب استحصال کیا جاتا ہے۔

    یہاں نہ تو پکی سڑکیں ہیں۔ اول تو تعلیمی ادارے ہیں ہی نہیں اور جہاں ہیں وہاں صرف ادارے ہیں تعلیم نہیں ۔ڈسپنسریز و ہیلتھ مراکز بھی عملے کے بغیر ہی ہوتے ہیں۔ مگر نیم حکیم اور عطائی ڈاکٹروں کی ادھر بھرمار ہوتی ہے ۔غرض یہ کہ مصیبتیں بال کھولے چوبیس گھنٹے یہاں تعینات رہتی ہیں۔ خستہ حال سڑکیں، بند نالیاں اور ان میں بیٹھے مچھر ہر آتے جاتے کو لازماً یوں کاٹ رہے ہیں کہ جیسے حکومت نے اس دیہات کے لوگوں کو کورونا ویکسین لگانے کی ذمہ انکو دے رکھی ہو۔ مچھروں کے باعث بیماریاں یہاں بھی پھوٹ پھوٹ پڑتی ہیں۔ادھر بھی ایسا لگتا ہے کہ "سکون صرف قبر میں ہے”.

    مگر!

    اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
    مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

  • تبدیلی کو جگتیں،تحریر: اعجاز الحق عثمانی

    تبدیلی کو جگتیں،تحریر: اعجاز الحق عثمانی

    "تبدیلی” لفظ جتنی دفعہ ہمارے وزیراعظم عمران خان کے منہ سے نکلا ہے۔ شاید اتنی دفعہ آج تک پوری دنیا میں بھی یہ لفظ نہ بولا گیا ہو۔ عمران خان تبدیلی کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آئے تو انہوں یہ وعدہ پورا کرکے بھی دیکھایا اور آج تک پورا کر بھی رہے ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔

    کبھی وزیر کی تبدیلی۔۔۔۔

    کبھی مشیر کی تبدیلی۔۔۔۔۔

    کبھی پالیسی کی تبدیلی۔۔۔

    خان صاحب نے آغاز ہی ایسی بڑی  بڑی تبدیلیوں سے کیا۔اور ابھی تک چھوٹی تبدیلیوں کی باری ہی نہیں آرہی۔ آج بھی 

    چھوٹی تبدیلیاں  بنی گالا میں قطار بنائے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔ 

    ان سب تبدیلیوں کو ایک ڈیجیٹل نام ” یو ٹرن” دیا گیا۔ اور انکی نظر میں یوٹرن کا کامیابی کے پیچھے اتنا ہی بڑا کردار ہے جتنا کسی زمانے میں ہر کامیابی کے پیچھے عورت کا ہوا کرتا تھا۔ کنٹینر پر خطابات سن سن کر عوام کو یوں لگتا تھا کہ

    اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

    جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے

    اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

    جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

    کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت

    چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

      مگر اب عوام تبدیلی کو جگتیں کرتی نظر آتی ہے۔ کل بارش کی ٹھنڈک نے پکوڑے کھانے کی دل ناداں میں آگ لگائی تو سرگودھا کی ایک  پکوڑوں والی معروف چاچے بھٹو کی دکان کا رخ کیا۔ سرگودھا والوں کے چندا اور ہمارے حفیظ (کرکٹر) بھی کسی زمانے میں چاچے بھٹو کے پکوڑے کھاتے رہے ہیں اور خوب شیدائی تھے۔  جیسے ہی پہلا پکوڑا سپردِ منہ کیا تو نظر ریٹ لسٹ پر پڑی ، جس کے آغاز ہی میں لکھا ہوا تھا۔ ” گھبرانا نہیں ہے، 30 اگست سے سموسہ 30 روپے کا ملے گا”۔ایک کریانہ سٹور پر جانا ہوا۔ مصوف نے لکھ رکھا تھا۔” نواز شریف کے دوبارہ وزیراعظم بننے تک اور عمران خان کے وزیراعظم رہنے تک ادھار بند ہے”۔زلفوں کی تراش خراش کےلیے شام کو ایک حجام کی دکان جانا ہوا۔ دکان کو لگا تالا دیکھ کر ادھر ادھر دیکھا تو دکان کے دروازے پر چپکے ایک بینر پر لکھا ہوا تھا۔” تبدیلی تو نہیں آئی ۔مگر ہم نے یہاں سے دکان تبدیل کر لی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اور اب پیش خدمت ہے ایک شاعر کی تبدیلی کو کی گئی جگتیں 

    بھنگڑے پہ اور دھمال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    واعظ کے قیل و قال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    شادی کے بارے میں کبھی نہ سوچنا چھڑو

    سنتے ہیں اس خیال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    ہے جس حسین کے گال پہ ڈمپل کوئی کہ تِل

    ہر اس حسین کے گال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کھانے کے بعد دانتوں میں تِیلا نہ پھیرنا

    دانتوں کے ہے خِلال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کرتی ہے جو ماسیاں دس دس گھروں میں کام

    ان ماسیوں کے بھی مال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    جنگل میں مور ناچا تو آئے گا اس کو بِل

    اب مورنی کی چال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کھانا کسی کو کھاتے ہوئے دیکھنا بھی مت

    کیونکہ اب تو رال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    بچے تو پہلے دو ہی تھے اچھے مگر یہ کیا

    اب ایک نونہال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    سنڈے کے سنڈے ملتے تھے ہم مفت میں مگر

    اب یار سے وصال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کہتے ہیں اس سے بات نہ کرنا بغیر فیس

    بیگم سے بول چال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

     اعلان یہ غریبوں کی بستی میں کل ہوا

    مردوں اب انتقال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کیوں اتنے ٹیکس لگ گئے پوچھا جو یہ سوال

    گیلانی اس سوال پہ بھی ٹیکس لگ گیا 

    اعجازالحق عثمانی 

    @EjazulhaqUsmani