Baaghi TV

Author: اعجاز الحق عثمانی

  • "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    اسلام علیکم میرے قائد!

    میں خوش ہوں کہ آپ کو جنت کی نعمتوں سے روز نوازا جاتا ہوگا۔لیکن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں (آپ کے پاکستان) نے 11 ستمبر 1948کو آپ کے جانے کے بعد نا جانے کیا کیا نہ جھیلا ۔ سب اپنے اپنے مفادات میں پڑ گئے ہیں۔ نواز ! لندن بیٹھ کر پاکستان پر حق جماتا ہے۔

    اے میرے قائد! آج ہی ایک خبر پڑی کہ سندھ میں ایک بچی بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ مگر سندھ میں بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ اے میرے قائد! آپ نے تو کہا تھا۔

    "آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”۔

    لیکن جناح صاحب! ہم مندروں میں جانے والے پاکستانیوں کو برداشت تک نہیں کر سکتے۔ آزادی کیا دیں گے؟۔ مذہب کے نام پر جتنا میرے فرزندوں کو لڑوایا گیا۔ شاید ہی کسی دوسری بات پر اتنا فساد برپا ہوا ہو۔

    بے اثر ہوگئے سب حرف نوا تیرے بعد
    کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد

    تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے
    ایسی بدلی کوچے کی فضاء تیرے بعد

    اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی
    ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد

    اے میرے عظیم قائد! مجھے آپ کے بعد برسوں تک بغیر آئین کے چلایا جاتا رہا۔ جس کا جو دل کرتا وہ وہی کرتا۔ کسی نے اپنی مرضی کا آئین بنا کر صدارتی ہانڈی میرے سلگتے جسم پر رکھی تو کسی نے میری اور آپ کی بہن پر غداری کے الزامات لگائے۔

    رشوت کے نام پر آگ بگولہ ہونے والے میرے قائد اب تو میرے فرزند ، رشوت کو کسی کام کی چابی مانتے ہیں۔ جہاں کوئی کام نہ ہو رہا ہو ،رشوت کی چابی لگا دیتے ہیں۔اور پھر اس کام کو پہیے سے ہی لگ جاتے ہیں۔

    جناح صاحب! مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ، میرے فرزند بھٹک گئے ہیں ۔اپنی منزل بھلا بیھٹے ہیں۔ آپ سے گلہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ آپ نے جس طرح مجھے آزاد کروایا ،میں خود آپ کی ذہانت سے حیران ہوا تھا۔ کسی نے آپ کے بارے میں کیا ہی سچ لکھا ہے۔

    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
    ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی

    ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی
    اور نعرہ تکبیر سے دی تو نے گواہی

    اسلام کا جھنڈا لیے آیا سر میدان
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    جناح صاحب رب کے حضور یہ دعا ضرور پیش کیجیے گا کہ پاکستان کے فرزندوں کی اک اور جناح کی ضرورت ہے ۔ورنہ یہ بکھر جائیں گے ، ٹوٹ جائیں گے ، در در سے ٹھوکریں کھائیں گے۔ میں یہ سب اپنے فرزندوں کے ساتھ ہوتا ہوا برداشت نہیں کر سکوں گا ۔ اپنے اوپر کیے کے ان کے سارے ظلم بھلا کر ان کے کے دعا گو ہوں۔

    فقط۔۔۔۔ آپ کا اپنا پاکستان

  • "سکون صرف قبر میں ہے”   — اعجازالحق عثمانی

    "سکون صرف قبر میں ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ڈربہ نما گھروں پر مشتمل یہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا شہر ہے۔ گلی کے نکڑ پر لگا فلٹریشن پلانٹ یہاں کے باسیوں کو صاف پانی مہیا کرنے کےلیے لگایا گیا ہے۔ پلانٹ کے گرد مکڑی کے جالے فلٹریشن پلانٹ کو سیکورٹی مہیا کررہے ہیں۔ فلٹریشن پلانٹ کے عین سامنے ابلتا گٹر اور ایک کیچڑ زدہ نالی ہے ۔جہاں رہائش پذیر مچھر پڑوس میں قائم ایک ہاسپٹل کےلیے مریض مہیا کرنے میں رات دن مصروف ہیں۔اس شہر میں کچرے کے انبار اور ملک کے اخبار تعداد میں مساوی ہیں۔ یہاں کچرا اُٹھانے اور ہٹانے سے زیادہ تجاوزات ہٹانے کا عمل جاری رہتا ہے۔

    شہر کے وسط میں رکشوں کی پھٹ پھٹ۔۔۔۔۔۔کان کے پردے پھاڑتے ٹھیلے والوں کے سپیکرز، اور مسلسل ہارن کی آوازوں سے الجھا دماغ۔۔۔۔۔۔ دھواں چھوڑتی گاڑیاں، بغیر سائلنسر کے بائیکس سڑکوں پر نکلتے ہی آپ کا منہ سر ایک کر دیتے ہیں۔ شہروں کے گھٹن بھرے ماحول اور آلوگی سے لبریز آب و ہوا میں سکون کا حصول تو ممکن نہیں ہے۔شاید”سکون صرف قبر میں ہے”

    گھبرائیے بغیر، آئیے اسی شہر کے کسی دوسرے حصے کی طرف چلتے ہیں۔ یہاں چنگچی رکشے، پرانی کاریں ناپید ہیں۔ موٹر سائیکل بھی خال خال نظر آتے ہیں۔ سڑکیں برف کی طرح صاف ستھری ہیں۔ یہاں ہر طرف بنگلہ نما بڑے بڑے گھر ہیں۔ نئے طرز اور ماڈلز کی گاڑیاں بغیر دھول اڑائے یہاں سڑکوں پر اڑتی نظر آتی ہیں۔ بڑے مالز، چمکتے فروٹ (شاید ان دکانوں پر فروٹ خراب ہی نہیں ہوتے؟) ۔۔۔۔شیشے کے پار مکھیوں سے کوسوں دور گوشت۔۔۔۔۔۔۔ اور ان سب جگہوں پر منظم طریقے سے خریداری کرتے لوگ۔ انہی مالز کے بلکل قریب دو چار بڑے بڑے ہسپتال بھی ہیں۔ معیاری خوراک کی دستیابی کے باوجود یہاں کے ہسپتالوں میں دل، گردے اور پھیپھڑوں کے مریضوں کا بہت رش رہتا ہے۔ سکون یہاں بھی نا پید ہے۔

    آئیے اب اس شہر سے دور چلتے ہیں۔ یہاں کچے مکانوں میں لوگ بیٹھے گپ شپ میں مشغول ہیں۔ شدید گرمی ہے۔ بجلی پچھلے چھ گھنٹوں سے بند ہے۔ایک معروف فلمی گیت ہے،

    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں رے
    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے

    جی کرتا ہے مور کے پاؤں میں پائلیا پہنا دوں
    کوہو کوہو گاتی کوئلیا کو پھولوں کا گہنا دوں

    یہیں گھر اپنا بنانے کو پنچھی کرے دیکھو
    تنکے جمع رے، تنکے جمع رے

    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے
    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں

    "۔۔۔۔میں تو گیا مارا ، آکے یہاں” یہ بات اس فلمی گیت میں شاید اب کے گاؤں کے لیے کہی گئی ہے۔یہاں شہروں کے طرح ٹھیلے والوں کے سپیکرز کی آوازیں تو دماغ کو بے سکون نہیں کرتیں۔مگر کبھی کبھار سائیکل سوار آوازیں لگاتا گاؤں میں پھرتا پایا جاتا ہے۔

    یہاں ضروریات زندگی کی بیشتر اشیاء ناپید ہیں ۔مگر ایک نکڑ پر مکیھوں کی نگرانی میں سموسے تیار ہورہے ہیں۔یہاں چوہدریوں، وڈیروں اور جاگیر داروں کا راج ہوتا ہے جو ادھر کے لوگوں کو اپنی رعایا سمجھ کر ان کی جان، مال اور عزت کا خوب استحصال کیا جاتا ہے۔

    یہاں نہ تو پکی سڑکیں ہیں۔ اول تو تعلیمی ادارے ہیں ہی نہیں اور جہاں ہیں وہاں صرف ادارے ہیں تعلیم نہیں ۔ڈسپنسریز و ہیلتھ مراکز بھی عملے کے بغیر ہی ہوتے ہیں۔ مگر نیم حکیم اور عطائی ڈاکٹروں کی ادھر بھرمار ہوتی ہے ۔غرض یہ کہ مصیبتیں بال کھولے چوبیس گھنٹے یہاں تعینات رہتی ہیں۔ خستہ حال سڑکیں، بند نالیاں اور ان میں بیٹھے مچھر ہر آتے جاتے کو لازماً یوں کاٹ رہے ہیں کہ جیسے حکومت نے اس دیہات کے لوگوں کو کورونا ویکسین لگانے کی ذمہ انکو دے رکھی ہو۔ مچھروں کے باعث بیماریاں یہاں بھی پھوٹ پھوٹ پڑتی ہیں۔ادھر بھی ایسا لگتا ہے کہ "سکون صرف قبر میں ہے”.

    مگر!

    اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
    مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

  • تبدیلی کو جگتیں،تحریر: اعجاز الحق عثمانی

    تبدیلی کو جگتیں،تحریر: اعجاز الحق عثمانی

    "تبدیلی” لفظ جتنی دفعہ ہمارے وزیراعظم عمران خان کے منہ سے نکلا ہے۔ شاید اتنی دفعہ آج تک پوری دنیا میں بھی یہ لفظ نہ بولا گیا ہو۔ عمران خان تبدیلی کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آئے تو انہوں یہ وعدہ پورا کرکے بھی دیکھایا اور آج تک پورا کر بھی رہے ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔

    کبھی وزیر کی تبدیلی۔۔۔۔

    کبھی مشیر کی تبدیلی۔۔۔۔۔

    کبھی پالیسی کی تبدیلی۔۔۔

    خان صاحب نے آغاز ہی ایسی بڑی  بڑی تبدیلیوں سے کیا۔اور ابھی تک چھوٹی تبدیلیوں کی باری ہی نہیں آرہی۔ آج بھی 

    چھوٹی تبدیلیاں  بنی گالا میں قطار بنائے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔ 

    ان سب تبدیلیوں کو ایک ڈیجیٹل نام ” یو ٹرن” دیا گیا۔ اور انکی نظر میں یوٹرن کا کامیابی کے پیچھے اتنا ہی بڑا کردار ہے جتنا کسی زمانے میں ہر کامیابی کے پیچھے عورت کا ہوا کرتا تھا۔ کنٹینر پر خطابات سن سن کر عوام کو یوں لگتا تھا کہ

    اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

    جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے

    اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

    جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

    کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت

    چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

      مگر اب عوام تبدیلی کو جگتیں کرتی نظر آتی ہے۔ کل بارش کی ٹھنڈک نے پکوڑے کھانے کی دل ناداں میں آگ لگائی تو سرگودھا کی ایک  پکوڑوں والی معروف چاچے بھٹو کی دکان کا رخ کیا۔ سرگودھا والوں کے چندا اور ہمارے حفیظ (کرکٹر) بھی کسی زمانے میں چاچے بھٹو کے پکوڑے کھاتے رہے ہیں اور خوب شیدائی تھے۔  جیسے ہی پہلا پکوڑا سپردِ منہ کیا تو نظر ریٹ لسٹ پر پڑی ، جس کے آغاز ہی میں لکھا ہوا تھا۔ ” گھبرانا نہیں ہے، 30 اگست سے سموسہ 30 روپے کا ملے گا”۔ایک کریانہ سٹور پر جانا ہوا۔ مصوف نے لکھ رکھا تھا۔” نواز شریف کے دوبارہ وزیراعظم بننے تک اور عمران خان کے وزیراعظم رہنے تک ادھار بند ہے”۔زلفوں کی تراش خراش کےلیے شام کو ایک حجام کی دکان جانا ہوا۔ دکان کو لگا تالا دیکھ کر ادھر ادھر دیکھا تو دکان کے دروازے پر چپکے ایک بینر پر لکھا ہوا تھا۔” تبدیلی تو نہیں آئی ۔مگر ہم نے یہاں سے دکان تبدیل کر لی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اور اب پیش خدمت ہے ایک شاعر کی تبدیلی کو کی گئی جگتیں 

    بھنگڑے پہ اور دھمال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    واعظ کے قیل و قال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    شادی کے بارے میں کبھی نہ سوچنا چھڑو

    سنتے ہیں اس خیال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    ہے جس حسین کے گال پہ ڈمپل کوئی کہ تِل

    ہر اس حسین کے گال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کھانے کے بعد دانتوں میں تِیلا نہ پھیرنا

    دانتوں کے ہے خِلال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کرتی ہے جو ماسیاں دس دس گھروں میں کام

    ان ماسیوں کے بھی مال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    جنگل میں مور ناچا تو آئے گا اس کو بِل

    اب مورنی کی چال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کھانا کسی کو کھاتے ہوئے دیکھنا بھی مت

    کیونکہ اب تو رال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    بچے تو پہلے دو ہی تھے اچھے مگر یہ کیا

    اب ایک نونہال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    سنڈے کے سنڈے ملتے تھے ہم مفت میں مگر

    اب یار سے وصال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کہتے ہیں اس سے بات نہ کرنا بغیر فیس

    بیگم سے بول چال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

     اعلان یہ غریبوں کی بستی میں کل ہوا

    مردوں اب انتقال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کیوں اتنے ٹیکس لگ گئے پوچھا جو یہ سوال

    گیلانی اس سوال پہ بھی ٹیکس لگ گیا 

    اعجازالحق عثمانی 

    @EjazulhaqUsmani