Baaghi TV

Author: حنا

  • راز، رشتے اور احساس کی آبرو ،تحریر: حنا سرور

    راز، رشتے اور احساس کی آبرو ،تحریر: حنا سرور

    زندگی کے ہجوم میں کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمارے دل پر نرم تتلیوں کی طرح بیٹھتے ہیں۔ کبھی خونی نسبتوں کی صورت، کبھی دوستی اور کبھی خاموش چاہت کے روپ میں۔ مگر زمانہ اپنے قوانین پر چلتا ہے ہر رشتہ ہمیشہ کے لیے مقدر نہیں ہوتا۔ کوئی لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب راستے بچھڑ جاتے ہیں، ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں اور رہ جاتی ہے صرف یاد کی دھیمی خوشبو،لیکن اصل کمال وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں تعلق ختم ہوتا ہے۔اسی کیفیت کو ایک جملے میں یوں سمیٹا گیا ہے "اگر تعلق ختم ہونے کے بعد بھی راز اور عزت محفوظ رہے تو سمجھ جانا کسی خاندانی اور نسلی شخص سے واسطہ پڑا تھا۔”

    یہ جملہ تہذیب اور نجابت کی چادر میں لپٹا ہوا کردار کا آئینہ ہے۔اصل شرافت، بچھڑنے کے دنوں میں پہچانی جاتی ہے،ساتھ رہ کر محبت جتانا، وفا کے قصے کہنا اور احترام کے پل باندھنا کوئی فن نہیں۔ اصل فن وہ ہے کہ جب دو دلوں کے راستے جدا ہو جائیں،خوابوں کی گلیاں خالی ہو جائیں،رشتے کا سایا پیچھے رہ جائے،پھر بھی زبان وہی مٹھاس رکھے، نگاہ وہی حیا اور دل وہی پاکیزگی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی اصل نسل، اصل تربیت اور اصل ظرف سامنے آتا ہے۔خاندانی لوگ جو رشتوں کی قبروں پر بھی بدگمانی کے پتھر نہیں رکھتے،خاندانی ہونا نصیب کی بات نہیں، اسلوبِ زندگی کا انتخاب ہے۔ ایسے لوگ راز کو امانت سمجھ کر سینے میں دفن کر دیتے ہیں،ان کے نزدیک اعتماد ٹوٹ جانے سے اعتماد کی حرمت کم نہیں ہوتی۔ جدائی کے بعد بھی زبان کا وقار قائم رکھتے ہیں،وہ بچھڑتے ہوئے بھی بدذوق جملوں کا سہارا نہیں لیتے۔ محبت ختم ہونے پر بھی احترام کا دامن نہیں چھوڑتے،کیوں کہ ان کے نزدیک عزت دینا خود کی پرورش کی علامت ہے، دوسروں کا حق نہیں۔ دل شکستہ ہو کر بھی نیت کا دامن میلا نہیں ہونے دیتے،جو اپنے اندر کی صفائی نہ کھوئے، وہی اصل میں خاندانی ہوتا ہے۔

    جدائی انسان کی تھکن نہیں بتاتی، اس کا ظرف بتاتی ہے۔ جب کوئی شخص بچھڑ کر بھی آپ کے بارے میں کوئی تلخ لفظ نہ کہے،آپ کی کسی کمزوری کو تماشہ نہ بنائے،آپ کی خاموشیوں کو بازار میں نہ بیچے،آپ کی عزت کو اپنی شکست کا بدلہ نہ بنائے،تو سمجھ لیں کہ آپ نے ایک ایسا کردار دیکھا ہے جو اب زمانوں میں کم پیدا ہوتا ہے۔ہمیں سیکھنا چاہیے کہ رشتے ٹوٹنے سے اخلاق نہیں ٹوٹتا،محبت ختم ہونے سے تہذیب ختم نہیں ہو جانی چاہیے،بچھڑ جانا دشمنی نہیں بن جانا چاہیے،راز اگر کبھی امانت بن جائے تو قیامت تک امانت ہی رہنا چاہیے،اصل شرافت وہ ہے جو جدائی کے لمحوں میں روشن رہے۔

    اگر زندگی میں کبھی کوئی ایسا شخص ملے جو رخصت ہوتے ہوئے بھی آپ کے لیے عزت ہی چھوڑ جائے،جو خاموش ہو کر بھی آپ کی بھرم داری نبھائے،جو بچھڑ کر بھی آپ کی ساکھ کو بدنما نہ ہونے دے،تو یقین جانیے، آپ نے کسی بڑے دل، بڑے ظرف اور بڑی تربیت والے انسان کو چھوا ہے،ایسے لوگ قسمت کی بارش ہوتے ہیں،کم چھوٹتے ہیں، مگر دل پر ہمیشہ کے لیے نشان چھوڑ جاتے ہیں۔

  • پاکستان میں تمباکو نوشی کا سنجیدہ مسئلہ.تحریر:حنا سرور

    پاکستان میں تمباکو نوشی کا سنجیدہ مسئلہ.تحریر:حنا سرور

    ہر سال 31 مئی کو تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھائی جائے اور اس عادت سے چھٹکارہ پانے کی تحریک دی جائے۔ اس دن کا مقصد صرف سگریٹ نوشی کی تباہ کاریوں کی نشاندہی نہیں بلکہ تمباکو کی صنعت کے حربوں کو بے نقاب کرنا بھی ہے جو اپنی منافع بخش مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے مختلف چالاکیوں اور نفسیاتی حربوں کا سہارا لیتی ہے۔

    تمباکو صنعت نے سالوں سے اپنے نقصان دہ اثرات کو چھپانے کے لیے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ وہ صرف سگریٹ کی فروخت پر انحصار نہیں کرتے بلکہ نئے ذائقے، خوشبوئیں، اور دلکش پیکجنگ کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ "فلیورڈ” سگریٹ، ای سگریٹ، اور دیگر تمباکو مصنوعات نوجوانوں اور نئی نسل کے لیے تمباکو نوشی کو مزید پرکشش بناتی ہیں۔ یہ ایک منظم حکمت عملی ہے جو نہ صرف صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی سنگین نتائج کا باعث بنتی ہے۔پاکستان میں ہر سال تقریباً 1,60,000 سے زائد اموات تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ تعداد حیران کن اور دردناک ہے۔ سگریٹ نوشی نہ صرف جسمانی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ذہنی اور معاشرتی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بہت سے لوگ اس عادت کی وجہ سے اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات کھو دیتے ہیں اور اپنی فیملی کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کے لیے سگریٹ نوشی کی عادت کو چھوڑ دیں۔
    "تمباکو سے انکار، زندگی سے پیار” اور”سگریٹ سے جان چھڑائیں، صحت مند زندگی گزاریں” کا نعرہ ہر پاکستانی کے دل میں بسانا ہوگا۔پاکستان میں تمباکو نوشی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے، اگر ہم سب مل کر اس کے خلاف آواز بلند کریں اور اس بیماری کی لپیٹ سے نکلنے کی کوشش کریں۔ پاکستان میں موجودہ قوانین کے تحت سگریٹ کی پیکنگ پر گرافیکل ہیلتھ وارننگ لازمی ہے تاکہ صارفین کو سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ 286 غیر ملکی سگریٹ برانڈز بغیر گرافیکل ہیلتھ وارننگ کے فروخت ہو رہے ہیں، جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس کی وجہ سے حکومت کو سالانہ تقریباً 300 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی بوجھ ہے۔ جب کمپنیاں قوانین کو توڑ کر اربوں روپے بچاتی ہیں اور عوام بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف بے حسی ہے بلکہ ظلم کے مترادف ہے۔تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ہر فرد، تنظیم، اور حکومت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر آگے آنا ہوگا۔ ہمیں تمباکو صنعت کے چالاک حربوں کو سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا، تاکہ ہماری اگلی نسل صحت مند، خوشحال اور تمباکو سے پاک زندگی گزار سکے۔آئیں، اس عالمی دن پر عہد کریں کہ ہم خود بھی تمباکو نوشی چھوڑیں گے اور دوسروں کو بھی اس کا شعور دیں گے تاکہ پاکستان ایک صحت مند ملک بن سکے۔

  • اسلام میں خواتین کے حقوق اور وراثت کا نظام.تحریر: حنا سرور

    اسلام میں خواتین کے حقوق اور وراثت کا نظام.تحریر: حنا سرور

    اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانیت کی فلاح اور حقوق کے تحفظ کے لیے آیا۔ اس میں خواتین کے حقوق کو بہت اہمیت دی گئی ہے، اور انہی حقوق میں سے ایک اہم حق وراثت کا ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں یہ مسئلہ ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے، لیکن اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا، جو اس سے پہلے کسی بھی مذہب میں نہیں تھا۔اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دے کر ایک نیا باب رقم کیا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”مرد اور عورت کے درمیان جو بھی تقسیم ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو کچھ بھی تم پر فرض کیا گیا ہے، وہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔” (القرآن)

    اللہ کی یہ ہدایت واضح کرتی ہے کہ عورت اور مرد دونوں کو وراثت میں حصہ ملے گا، تاہم ان کے حصوں میں فرق ہوگا، جو کہ اسلام کی عدل و انصاف پر مبنی تقسیم ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک مرد اور ایک بیٹی وراثت کے حقدار ہوں، تو مرد کو دو حصے ملیں گے اور بیٹی کو ایک حصہ، یعنی بیٹی کو مرد سے نصف حصہ ملے گا۔جب اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا فیصلہ کیا، تو اس وقت تک دنیا کے بیشتر معاشروں میں بیٹیوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا۔ بہت سے معاشروں میں بیٹیوں کو وراثت میں شریک کرنے کے بجائے انہیں جائیداد سے محروم کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے اس روایتی ظلم کو ختم کیا اور بیٹیوں کو بھی جائیداد میں حصہ دیا، تاکہ انہیں بھی مالی حق ملے۔

    مردوں کا جائیداد بیچنا اور بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا
    لیکن جب ہم آج کے معاشرتی حالات پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مرد اپنی جائیداد بیچتے وقت یا کسی اور صورت میں اس بات کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی کوئی بہن یا بیٹی نہیں ہے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک صورتحال ہے اور اس سے معاشرتی اور اخلاقی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔”ہماری کوئی بہنیں یا بیٹیاں ہیں ہی نہیں، ہم اکیلے وارث ہیں”، یہ وہ جملے ہیں جو بعض لوگ جائیداد کی تقسیم کے دوران کہہ کر بیٹیوں کے حقوق سے انکار کرتے ہیں۔ اس عمل کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اسلام میں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینا فرض ہے، اور اس طرح کے حربے اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔

    معاشرے میں ابھی بھی کچھ لوگ اسلام کے اصولوں کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں پیچھے ہیں۔ اگرچہ اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دیا، لیکن اس کے باوجود بعض مردوں کا اس حق سے انکار کرنا یا اسے چھپانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔ یہ عمل نہ صرف دین کے ساتھ ناانصافی ہے، بلکہ اس سے بیٹیوں کی حیثیت اور ان کے حقوق کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔اس مسئلے کا حل صرف اور صرف تعلیم میں ہے۔ مسلمانوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔ اگر ہر فرد یہ سمجھ لے کہ اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا ہے تو ایسے غیر اسلامی اقدامات کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ، اسلامی رہنماؤں اور علماء کو اس بارے میں لوگوں کو آگاہی فراہم کرنی چاہیے کہ وراثت میں بیٹی کا حصہ دینا نہ صرف فرض ہے، بلکہ یہ اسلام کی روحانی اور اخلاقی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے، اور یہ کسی بھی طرح سے ان کے حقوق کو نظرانداز کرنے کی کوششوں کو جائز نہیں ٹھہرا سکتا۔ معاشرتی ترقی اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس اصول کو تسلیم کریں اور اس پر عمل پیرا ہوں۔ اس طرح ہم ایک معاشرتی تبدیلی لا سکتے ہیں جہاں بیٹیوں کو ان کے حقوق ملیں اور ہر مسلمان اس عمل کو اپنی زندگی میں اپنائے۔

  • صوابی احتجاج اور پی ٹی آئی کی رسوائی. تحریر: حنا سرور

    صوابی احتجاج اور پی ٹی آئی کی رسوائی. تحریر: حنا سرور

    گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات کو لے کر پی ٹی آئی نے احتجاج کی کال تو دی اور احتجاج بھی کیا تو خیبر پختونخوا میں،جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے،تاہم پی ٹی آئی کی انتشار، نفرت، تقسیم کی سیاست کو اب خیبر پختونخوا کی عوام نے بھی مسترد کر دیا ہے.پی ٹی آئی کی جانب سے حالیہ جلسے میں عوام کی عدم دلچسپی اور خالی پنڈال نے واضح طور پر یہ ثابت کیا کہ پی ٹی آئی کی سیاست اب عوام کے درمیان کوئی اثر نہیں رکھتی۔ جلسے کی ناکامی نے پارٹی رہنماؤں میں مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے، جو پہلے ہی بحرانوں اور مشکلات کا شکار ہیں۔ پی ٹی آئی کے ساتھ عوامی تعلق کمزور ہوچکا ہے،درحقیقت پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک انتہا پسند گروپ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔نومئی، 26 نومبر کو جو کچھ ہوا وہ قوم کے سامنے ہے، خیبر پختونخوا میں حکومت ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کی قیادت نے عوامی مسائل کو نظر انداز کر دیا ،وہاں کے شہری علاج کے لئے پنجاب کا رخ کر رہے ہیں، تعلیم کی سہولیات ناکافی ہیں، پی ٹی آئی صرف اور صرف اپنی ذاتی مفادات کی سیاست کر رہی ہے جس کی وجہ سے عوام مایوس ہو چکی ہے

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال دے کر قوم کو بچوں کو استعمال کر رہی ہے تو وہیں معیار یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے بیٹے بیرون ملک میں آرام سے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ عمران خان کی سیاسی جماعت اپنے ملک کے نوجوانوں کو فسادات اور عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یہ حقیقت عوام کے لیے باعث تشویش ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اپنی ذات کی سیاست میں مگن ہیں اور دوسروں کے بچوں کو ملک میں انتشار اور فسادات کی طرف اُکسا رہے ہیں۔ن تحریک انصاف نے مرکز میں 3.5 سال اور خیبر پختونخوا میں 11 سال حکومت کی، لیکن ان برسوں میں ملک اور صوبے کی ترقی کے لیے کچھ خاص نہیں کیا گیا۔ عوام کو ترقی اور خوشحالی کی بجائے، صرف سیاسی مصلحتوں اور ذاتی مفادات کے کھیل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان برسوں میں حکومت نے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے بجائے مسائل میں اضافہ کیا۔

    پی ٹی آئی کا ایجنڈا صرف اور صرف ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا اور انارکی پھیلانا ہے۔ 9 مئی کے واقعات نے پی ٹی آئی کے منفی ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے، جب اس کے کارکنوں نے ملک کے اہم ترین اداروں پر حملہ کیا۔ یہ حملے ملک کی ترقی کے لیے نہیں، بلکہ ایک گروپ کی سیاسی مفاد کے لیے تھے، جس کا مقصد صرف اور صرف ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔9 مئی 2023 کو ہونے والے واقعات نے پی ٹی آئی کے سیاسی ایجنڈے کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے سیاسی مفادات کے لیے پاکستان کے مختلف اہم اداروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ملک کی سلامتی اور استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، جنہیں پی ٹی آئی کی طرف سے صوبے کی ترقی کی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ جلسوں، احتجاجوں ، دھرنوں میں خیبر پختونخوا کے خزانے کا پیسہ لٹا رہے ہیں،عوامی مسائل کا حل انکی ترجیح نہیں ہے. خیبر پختونخوا کی عوام کو سڑکوں کی بہتر حالت، صحت کے بہتر نظام اور تعلیم کے شعبے میں ترقی کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے بجائے، علی امین گنڈا پور عمران خان کی رہائی کا نعرہ لگا کر اور دھمکیاں دے کر اپنی سیاست کر رہے ہیں، وفاق کو دھمکیاں دینا علی امین گنڈا پور کی مستقل پالیسی بن چکی ہے جو خطرناک ہے، یہی وجہ ہے کہ عوام پی ٹی آئی کو اب مسترد کر چکی، جلسے کی ناکامی، پارٹی کے اندر کی لڑائیاں، اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ناکامیوں نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس جماعت کا ایجنڈا صرف اور صرف ذاتی مفادات پر مبنی ہے، نہ کہ ملک کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے لیے۔خیبر پختونخوا کے عوام ترقی اور استحکام چاہتے ہیں، نہ کہ انتشار اور سیاسی لڑائیاں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے مسائل حل کرے، نہ کہ سیاسی نعروں میں وقت ضائع کیا جائے۔ پی ٹی آئی کا ایجنڈا اب عوام کے مفاد میں نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عوام نے اس جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔

  • سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سخت محنت کرتے ہیں، لیکن پھر بھی اکثر انہیں مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم میں ایک حیرت انگیز تضاد پایا جاتا ہے: ایک طرف مہنگائی کا رونا رویا جاتا ہے اور دوسری طرف عوام اپنی جیب سے پیسہ نکال کر ایسی چیزوں پر خرچ کر رہے ہیں جو نہ صرف صحت کے لئے مضر ہیں بلکہ ان کی مالی حالت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی چیز سگریٹ نوشی ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی عادت ہے جو نہ صرف فرد کی صحت کو تباہ کرتی ہے بلکہ اس سے معاشرے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سگریٹ میں موجود کیمیکلز اور زہریلے مادے انسان کے پھیپھڑوں، دل اور دیگر اعضاء پر حملہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم بڑی تعداد میں سگریٹ پینے کی عادت میں مبتلا ہے۔پاکستانی عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لئے کتنی خطرناک ہے، لیکن پھر بھی وہ اسے ترک کرنے میں ناکام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سگریٹ نوشی ایک نشے کی عادت بن چکی ہے، جس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنی مالی حالت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    پاکستان میں جہاں لاکھوں خاندان بنیادی ضروریات جیسے کھانا، تعلیم، اور علاج معالجے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، وہیں ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے کہ کچھ لوگ اپنے بچوں کو کھانا نہیں دے پاتے لیکن سگریٹ خریدنے کے لئے پیسہ نکال لیتے ہیں۔ کچھ والدین اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے بچوں کی فیس جمع کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں، لیکن وہ سگریٹ کے لئے رقم نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی صحت، دولت اور بچوں کے مستقبل کو برباد کر رہے ہیں۔

    یہاں پر حکومت کا کردار بہت اہم ہے۔ اگرچہ حکومت نے کئی بار سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ اقدام ابھی تک اس حد تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکا جتنا متوقع تھا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سگریٹ کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے تاکہ یہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے۔ اگر عوام کو یہ سمجھ آ جائے کہ سگریٹ نوشی کی عادت ترک کرنا صرف صحت کے لئے نہیں بلکہ مالی فائدے کے لئے بھی ضروری ہے، تو شاید وہ اس عادت کو ترک کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرے۔ اس کے لئے میڈیا اور اسکولوں میں تعلیمی پروگرامز منعقد کیے جا سکتے ہیں۔سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ غریب لوگ اس کی خریداری سے گریز کریں۔ مذہبی اداروں اور سماجی تنظیموں کو اس بات کا شعور دینا چاہئے کہ سگریٹ نوشی نہ صرف صحت کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ یہ معاشرتی طور پر بھی غلط ہے۔

    پاکستانی قوم کو اپنے معاشرتی اور صحت کے مسائل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے سگریٹ نوشی جیسے مضر صحت عادات کو ترک نہ کیا تو یہ نہ صرف ہماری صحت بلکہ ہمارے ملک کی معیشت کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو گا۔ ہمیں اپنی عادات کو بہتر بنانا ہوگا اور ایسی چیزوں پر خرچ کرنے کی بجائے جو ہماری زندگیوں کو تباہ کر دیں، ہمیں اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

  • چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    190 ملین پاؤنڈ کے کیس کے فیصلے نے عمران خان کی ایمانداری،ریاست مدینہ کی دعویداری کو نہ صرف بے نقاب کیا ہے بلکہ اس فیصلے کے ذریعے عمران خان کو "سرٹیفائیڈ چور” قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک اہم سبق دیتا ہے اور ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اصولوں کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس فیصلے نے عمران خان کو بے نقاب کیا ہے جو دوسروں پر الزام لگانے اور جھوٹے دعوے کرنے میں ماہر تھا، مگر خود اس کے اندر اتنی اخلاقی گراوٹ تھی کہ وہ عدالت میں اپنی بے گناہی کے ثبوت بھی پیش نہ کر سکا۔

    اس کیس کے مرکزی کردار عمران خان نے ہمیشہ اپنی تقاریر اور دعووں میں "ریاست مدینہ” کے خیالات اور اصولوں کی بات کی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو ایمانداری، سچائی اور انصاف کا علمبردار ظاہر کیا۔ لیکن 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کے دوران عدالت میں جو کچھ سامنے آیا، وہ اس کے دعووں کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ عمران خان نے ریاست مدینہ کے اصولوں کا دعویٰ کیا، مگر اپنی حقیقت میں اس کے عمل اس دعوے سے کہیں زیادہ متضاد تھے۔سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ تھی کہ عمران خان نے اکثر دوسروں پر چور، ڈاکو اور بدعنوان ہونے کے الزامات لگائے۔ یہ الزامات وہ ایسے موقعوں پر لگاتا تھا جب اس کے اپنے مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا تھا۔ اس نے خواتین کو اسپتال سے گرفتار کرانے جیسے ناپاک عمل کو بھی روا رکھا، تاکہ وہ اپنی چوری چھپانے اور دوسرے لوگوں کو بدنام کر سکے۔آج عمران خان کے پاس عدالت میں اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت نہ تھا۔ بشریٰ بھی اس کی معاون تھی،یہ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ اس نے اپنی چوری چھپانے کے لیے جھوٹ بولنے اور دوسروں پر الزام لگانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ جب اسے اپنے اعمال کا جواب دینا پڑا، تو وہ سب کچھ سامنے آ گیا جو اس نے چپکے سے چھپایا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ دراصل مکافات عمل کی ایک شاندار مثال ہے۔ جب انسان دوسروں کو دھوکہ دینے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے تو ایک نہ ایک دن سچائی سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اس کیس نے ثابت کیا کہ جھوٹ اور منافقت کا انجام ہمیشہ رسوائی اور ذلت ہوتا ہے۔ آج عمران خان اسی مقام پر پہنچا ہے جہاں اس کے جھوٹ اور منافقت کا پردہ چاک ہو چکا ہے، اور اسے "سرٹیفائیڈ چور” قرار دیا گیا ہے۔190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انصاف اور سچائی کی راہ ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، مگر بالآخر سچ کا سامنا جھوٹ سے ہوتا ہے۔ وہ شخص جو دوسروں پر الزام لگا کر اپنی چوری چھپاتا تھا، آج وہ خود اپنے جرائم کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ ایک سبق ہے کہ انسان کو اپنے عمل کی بنیاد پر جینا چاہیے، نہ کہ جھوٹ بول کر دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہ فیصلہ سب کے لیے ایک انتباہ ہے، بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ایک پیغام ہے کہ جھوٹ اور بدعنوانی کا آخرکار حساب لیا جاتا ہے اور سچائی ہمیشہ غالب آتی ہے۔

    1980 کی دہائی میں ساحل پرلی گئی تصویر،40 برس بعد3 بہنوں نے دوبارہ بنا لی

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

  • کب تک گھر بیٹھی رہو گی؟ یہ حل نہیں، تحریر: حناسرور

    کب تک گھر بیٹھی رہو گی؟ یہ حل نہیں، تحریر: حناسرور

    آج کے دور میں لڑکیوں کو مختلف معاشی، سماجی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے، لیکن ان مسائل کا تقابل لڑکوں کے مسائل سے کرنا بے جا نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ لڑکیوں کو اس معاشرتی دائرے میں لڑکوں کی نسبت مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر جب بات کام، تعلیم اور خودمختاری کی آتی ہے۔لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے مسائل ہمیشہ زیادہ پیچیدہ اور سوشیل ہیں۔ ایک لڑکی جو کہ بیروزگار ہے، اس کے لیے یہ طعنے سننا کہ "کب تک گھر بیٹھی رہو گی؟” ایک عام بات ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہی سوال ایک لڑکے سے کیا جائے تو شاید وہ اتنی تنقید کا شکار نہ ہو۔ لڑکیوں کے لیے معاشرتی دباؤ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ ایک لڑکی پر گھر والوں کی طرف سے یہ توقعات رکھی جاتی ہیں کہ وہ اپنے کام اور زندگی کو ایک مخصوص طریقے سے گزارے، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے "ایفشل” یا "بیکار” سمجھا جاتا ہے۔

    یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک لڑکی پر خاندان، دوستوں اور معاشرتی ماحول کی طرف سے بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنے قدموں پر کھڑی ہو اور ایک مستحکم زندگی گزارے۔ اگر کوئی لڑکی گھر بیٹھے رہ جائے تو اسے معاشرتی طور پر ناپسندیدہ سمجھا جا سکتا ہے، حالانکہ اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ فوراً نوکری یا کاروبار میں مشغول ہو۔ ہر فرد کا سفر مختلف ہوتا ہے، اور ہر کسی کو اپنی زندگی کی رفتار کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے۔اگر ہم لڑکیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو سب سے اہم چیز جو انہیں دی جا سکتی ہے وہ ہے تعلیم اور ہنر۔ ایک لڑکی کو ایسا ہنر سکھانا، جو اسے خودمختار اور مضبوط بنائے، اس کے لئے زندگی کے مختلف پہلوؤں میں کامیاب ہونے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اگر ایک لڑکی تعلیم حاصل کرے اور کسی ہنر میں ماہر ہو، تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کی بہتر منصوبہ بندی کر سکتی ہے، بلکہ اگر کل کو اس کی زندگی میں کوئی بھی ناخوشگوار تبدیلی آئے، جیسے طلاق یا بیوہ ہونا، تو وہ خود کو مالی طور پر سنبھالنے کے قابل ہو گی۔

    خودمختاری اور معاشرتی آزادی،یہ بات نہ صرف لڑکیوں کے حق میں ہے بلکہ پورے معاشرے کے فائدے میں ہے کہ لڑکیاں اپنے قدموں پر کھڑی ہوں۔ ان کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ وہ معاشرتی اور اقتصادی لحاظ سے اپنے فیصلے خود لے سکتی ہیں اور انہیں ہر معاملے میں مردوں کے شانہ بشانہ قدم بڑھانے کا موقع دیا جائے۔ ان کا ہنر اور تعلیم کبھی ضائع نہیں جائے گا۔ ان کے پاس اگر سکلز ہوں گے تو وہ معاشرتی، مالی اور نفسیاتی طور پر مضبوط رہیں گی۔اس دور میں جب دنیا بھر میں لڑکیاں مردوں کے ساتھ برابر قدموں پر چل رہی ہیں، تو ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرتی دائرے میں بھی ان کو وہ مواقع فراہم کریں جو وہ حق دار ہیں۔ ان کی تعلیم، ہنر اور خودمختاری کا تحفظ کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ لڑکیاں جب اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ ہوں گی اور ان کے پاس وسائل اور ہنر ہوں گے، تو وہ نہ صرف خود کو بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کو بھی بہتر بنا سکیں گی۔لہذا، لڑکیوں کو تعلیم دیں، ہنر سکھائیں، اور ان کی کامیابی کے راستے کو ہموار کریں تاکہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔

  • باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    پاکستانی میڈیا کی دنیا میں باغی ٹی وی ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی غیرجانبدارانہ صحافت اور سچائی پر مبنی رپورٹنگ سے اپنا مقام بنایا ہے۔ اس کی بنیاد سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے رکھی تھی، جنہوں نے اپنے طویل تجربے اور صحافتی مہارت کو اس چینل کی بنیاد فراہم کی۔ باغی ٹی وی کا مقصد صرف خبریں فراہم کرنا نہیں بلکہ عوام کو ان مسائل کی حقیقت تک پہنچانا ہے جو ان کی زندگیوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔باغی ٹی وی کا مقصد پاکستانی عوام کو درست اور بے باک خبریں فراہم کرنا تھا۔ چینل نے اپنے آغاز سے ہی اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ عوام تک سچ پہنچانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کرے گا۔ مبشر لقمان، جو خود ایک معروف صحافی اور اینکر ہیں، نے باغی ٹی وی کو متعارف کراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صحافت کا مقصد عوام کو غیرجانبدار اور حقیقت پر مبنی خبریں فراہم کرنا ہے۔باغی ٹی وی نے نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے دیکھنے والوں کو ایک منفرد اور معتبر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ چینل کی پالیسی کے مطابق، صحافتی آزادی اور سچائی کو اہمیت دی جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کا ایک اور اہم پہلو اس کی ملک بھر میں موجود نمائندگی ہے۔ چینل نے مختلف صوبوں اور شہروں میں اپنے نمائندے تعینات کیے ہیں تاکہ وہ مقامی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں، سیاسی تبدیلیوں اور عوامی مسائل کی رپورٹنگ کر سکیں۔ اس کی مقامی سطح پر موجودگی نے اسے ایک مضبوط نیٹ ورک فراہم کیا ہے، جس کی مدد سے وہ اپنے ناظرین تک فوراً اور بر وقت خبریں پہنچا سکتا ہے۔چینل کی یہ نمائندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ باغی ٹی وی کی پہنچ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کے دور دراز علاقوں تک بھی اپنی آواز پہنچا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باغی ٹی وی نہ صرف شہروں میں بلکہ دیہاتوں میں بھی اپنے ناظرین کی ایک بڑی تعداد رکھتا ہے۔باغی ٹی وی نے پاکستانی صحافیوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کر سکتے ہیں۔ چینل نے ہمیشہ نئے صحافیوں کو موقع دیا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر تحقیق کریں، خبریں جمع کریں اور اپنی رپورٹنگ کی مہارت کو بروئے کار لائیں۔ اس پلیٹ فارم نے نہ صرف تجربہ کار صحافیوں کو جگہ دی ہے بلکہ نئے آنے والے صحافیوں کے لیے بھی ایک بہترین موقع فراہم کیا ہے تاکہ وہ اس چینل کے ذریعے اپنی صحافتی صلاحیتوں کو بہتر کر سکیں۔باغی ٹی وی نے صحافیوں کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کیا ہے جہاں وہ بغیر کسی خوف یا دباؤ کے اپنے خیالات اور خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہاں صحافیوں کو اپنے کام کے لیے مکمل آزادی دی جاتی ہے اور ان کی محنت کو سراہا جاتا ہے، جس سے چینل کا معیار مزید بلند ہوتا ہے۔

    چینل کی رپورٹنگ صرف خبروں تک محدود نہیں ہے بلکہ باغی ٹی وی نے عوامی معاملات، سیاست، معیشت اور معاشرتی مسائل پر بھی گہری نظر رکھی ہے۔ اس چینل پر تجزیاتی پروگرامز اور رپورٹس عوامی مسائل کی گہری سمجھ فراہم کرتے ہیں اور انہیں موجودہ حالات میں بہتر فیصلے کرنے کے لیے مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے تجزیے اور رپورٹنگ کا انداز بے باک اور حقیقت پر مبنی ہوتا ہے، جو ناظرین کو مکمل طور پر مطمئن کرتا ہے۔باغی ٹی وی کی مقبولیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا مواد اور رپورٹس عوام میں ایک منفرد شناخت بنا چکے ہیں۔ اس کی رپورٹنگ نے اسے عوام کے درمیان ایک معتبر پلیٹ فارم بنایا ہے، جہاں لوگ بغیر کسی دباؤ کے حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ چینل کی مقبولیت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ اس کی شفافیت اور سچائی کی پختہ پالیسی ہے۔

    باغی ٹی وی نے پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔ سینئر صحافی مبشر لقمان کی قیادت میں اس نے صحافت کے معیار کو بلند کیا ہے اور پاکستانی عوام کو سچ اور حقیقت پر مبنی خبریں فراہم کی ہیں۔ چینل کی ملک بھر میں نمائندگی اور صحافیوں کے لیے بہترین پلیٹ فارم کا ہونا اس کی کامیابی کے اہم ستون ہیں۔ باغی ٹی وی نہ صرف ایک چینل ہے بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں صحافت کی آزادی اور سچائی کو فوقیت دی جاتی ہے

    باغی ٹی وی پر میرے بھی بلاگز باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں، میں باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ پر ان کو مبارک باد پیش کرتی ہوں،یہ نہ صرف ایک میڈیا ادارے کی کامیابی کا دن ہے بلکہ صحافت کے میدان میں اس کے اہم کردار اور بے مثال خدمات کا اعتراف بھی ہے۔باغی ٹی وی نے اپنی جراتمندانہ صحافت حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور بے لاگ تجزیوں کے زریعے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔اس نے ہمیشہ سچائی اور انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کی۔اور اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے ہر موقع پر ظلم، ناانصافی کے خلاف بغاوت کے جذبے کو زندہ رکھا۔

    میں دعاگو ہوں باغی ٹی وی کا یہ سفر مزید کامیابیوں ترقیوں اور خوشحالی سے بھرپور رہے۔آپ اسی طرح حق و سچ کی نمائندگی کرتے رہیں اور صحافت کی دنیا میں نئی مثالیں قائم کرتے رہیں۔سالگرہ کے اس خوشگوار موقع پر باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو ڈھیروں مبارکباد اور نیک تمنائیں

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    آج پاکستان کے معروف سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ مبشر لقمان نہ صرف ایک کامیاب اینکر ہیں بلکہ ان کا شمار پاکستان کے ان چند صحافیوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنی باتوں میں سچائی اور ایمانداری کو مقدم رکھتے ہیں۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا عکاس ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر کھری اور بے لاگ بات کرنے سے نہیں ڈرتے، چاہے وہ موضوع کتنا ہی تنازعہ کیوں نہ ہو۔

    مبشر لقمان کی صحافت کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف حکومتوں کے خلاف بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اُن طاقتور لوگوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جو عوام کے حقوق کو پامال کرتے ہیں۔ وہ اپنے پروگراموں میں ہمیشہ سچ اور حق کا علم بلند کرتے ہیں اور اپنے تجزیے اور رپورٹنگ میں کسی قسم کی ترمیم یا مصلحت سے بچتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف سچ کا احاطہ کرنا ہے تاکہ عوام کو حقیقی صورتحال کا پتا چل سکے۔تحقیقاتی صحافت مبشر لقمان کا شیوہ ہے،بنا کسی خوف،لالچ کے انہوں نے سب کی کرپشن کو بے نقاب کیا،

    مبشر لقمان نے اپنے پروگراموں میں پاکستان دشمن قوتوں اور انتہا پسند جماعتوں کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جنہوں نے ملک کے مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کی جرات مندی اور بے خوفی کی بدولت کئی سنجیدہ مسائل عوام کے سامنے آ گئے ہیں۔عمران خان کے قریب تر رہنے والے مبشر لقمان نے جب عمران خان اور بشریٰ کی کرپشن دیکھی تو سب سے پہلے آواز بلند کی اور نہ صرف عمران خان،بشریٰ بی بی بلکہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی کرپشن کے حوالے سے مبشر لقمان نے سب سے پہلے پردہ اٹھایا اور قوم کے سامنے انکی حقیقت لے کر آئے،

    مبشر لقمان کی صحافتی خدمات نہ صرف ان کے پروگرامات کی مقبولیت میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ وہ اپنی بے باک رپورٹس کے ذریعے پاکستانی عوام کی نظر میں ایک محنتی اور سچا صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی صحافت میں کبھی بھی ذاتی مفاد یا سیاسی تعلقات کا دخل نہیں رہا، اور یہ ہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔آج ان کی سالگرہ کے موقع پر، ہم سب مبشر لقمان کی طویل زندگی اور کامیاب صحافتی سفر کے لیے دعا گو ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح اپنی جرات مندانہ صحافت کے ذریعے پاکستانی عوام کے سامنے سچ لاتے رہیں گے، تاکہ ہم سب حقیقت سے آگاہ رہیں اور ملک کی ترقی کی راہوں پر قدم رکھ سکیں۔

    مبشر لقمان کا "کھرا سچ”، ان کی محنت اور لگن کا عکاس ہے، اور ان کا یہ عہد کہ وہ ہمیشہ سچائی کو منظر عام پر لائیں گے، ان کے پروگرام کھرا سچ کو عوام میں اتنی مقبولیت ہے کہ لوگ ان کی باتوں کو بے دھڑک سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مبشر لقمان کو ان کی سالگرہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور دعا دیتے ہیں کہ اللہ انہیں ہمیشہ صحت مند رکھے اور ان کے مشن میں کامیاب کرے۔آمین

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    لنڈی کوتل: فلاحی کارکن پر پولیس تشدد، ایس ایچ او عدنان آفریدی معطل

  • نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    9 مئی 2023 کو پاکستان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات نے نہ صرف ملک کی سیاسی فضا کو ملبے میں ڈبو دیا بلکہ قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ اس دن کے بعد، ایک نیا باب شروع ہوا جس میں انصاف اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ریاست نے مضبوط قدم اٹھائے۔ اب 9 مئی کے واقعات میں ملوث 25 افراد کو مختلف سزائیں سنائی گئی ہیں، جو اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ قانون کا گزرنا ہر سطح پر ضروری ہے اور ریاست کسی بھی صورت میں غیر آئینی یا غیر قانونی اقدامات کو برداشت نہیں کرے گی۔

    9 مئی 2023 کو پاکستان میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔پی ٹی آئی کے شرپسندوں کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد مختلف شہر وںاور علاقوں میں جناح ہاؤس، جی ایچ کیو، پی اے ایف بیس میانوالی، اور دیگر حساس ریاستی اداروں پر حملے ہوئے۔ ان حملوں کا مقصد ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا، افراتفری پیدا کرنا اور حکومت کے خلاف عوام میں غم و غصہ بڑھانا تھا۔ ان واقعات نے نہ صرف ملکی سیاست کو نقصان پہنچایا بلکہ ملک کی سالمیت اور امن و امان کے نظام کو بھی شدید طور پر متاثر کیا۔آج فوجی عدالتوں نے فیصلہ سنایا،اب تک کی پیش رفت کے مطابق، 9 مئی کے دن کی دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث 25 افراد کو مختلف سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان افراد کو جناح ہاؤس، جی ایچ کیو، پی اے ایف بیس میانوالی اور دیگر حساس مقامات پر حملوں کے سلسلے میں سزا دی گئی۔ سزائیں 2 سے 10 سال تک کی قید بامشقت پر مشتمل ہیں، جن کا مقصد نہ صرف ان مجرمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانا تھا، بلکہ ایسے اقدامات کرنے والوں کے لیے ایک واضح پیغام بھی تھا۔یہ سزائیں اُن لوگوں کے لیے ایک مضبوط تنبیہ ہیں جو ریاستی اداروں اور آئین کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو یاد رکھنا چاہیے کہ قانون سے بالاتر کچھ نہیں۔ ریاست کا عزم ہے کہ آئین اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    ان سزاؤں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ سیاسی پروپیگنڈے اور جھوٹ کا شکار ہونے والوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہیں۔ جو لوگ جذباتی یا غلط معلومات کی بنیاد پر ریاستی اداروں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہوئے، ان کے لیے یہ ایک سبق ہے کہ آئندہ ایسی کسی بھی غیر قانونی کارروائی کا حصہ بننے سے گریز کریں۔یہ فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست ہر سطح پر قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی، چاہے معاملہ کسی بھی سطح پر ہو۔ جو لوگ آئین کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں، انہیں قانون کے دائرے میں لایا جائے گا، اور اس کے ساتھ ساتھ ریاست کی عملداری کو بھی مستحکم کیا جائے گا۔

    ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ان سزاؤں کا سلسلہ صرف ان 25 افراد تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ریاست کا عزم یہ ہے کہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈز، یعنی ان واقعات کے پیچھے موجود اصل سازشی عناصر کو بھی آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ یہ ریاست کا عزم ہے کہ وہ نفرت اور تقسیم پر مبنی سیاست کو ہمیشہ کے لیے ختم کرے گی۔اگرچہ سیاسی اختلافات ہر جمہوری معاشرت میں معمول کی بات ہیں، لیکن ان اختلافات کو ریاستی اداروں کے خلاف تشدد یا تخریب کاری کے ذریعے حل کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ آئین اور قانون کا احترام کیا جائے، اور جو لوگ اس کی خلاف ورزی کریں گے، انہیں سزا ملے گی۔یہ فیصلے صرف ایک عدالت کی کارروائی نہیں ہیں بلکہ ان میں ایک پیغام چھپا ہے: "قانون کا سامنا ہر کسی کو کرنا پڑے گا، خواہ وہ سیاسی طاقتور ہوں یا کمزور، عوامی رائے رکھنے والے ہوں یا حکومتی اہلکار۔” یہ ریاستی اداروں کی طاقت اور قانون کی عملداری کی علامت ہیں۔اس فیصلے سے پاکستان کے عوام کو یہ یقین دہانی ملتی ہے کہ ملک میں انصاف کا عمل جاری ہے اور ریاست آئین و قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھے گی۔ اس سے عوام میں یہ اعتماد بڑھے گا کہ وہ بھی قانون کی نظر میں برابر ہیں، اور ان کے حقوق کا تحفظ ہر صورت میں کیا جائے گا۔

    9 مئی کے مجرمان کے خلاف سزائیں ایک اہم سنگ میل ہیں جو اس بات کا اعلان کرتی ہیں کہ قانون کی فتح ہوئی ہے۔ یہ فیصلے نہ صرف ان افراد کے لیے جو ریاستی اداروں کے خلاف سازشوں میں ملوث تھے، بلکہ اُن تمام افراد کے لیے ایک پیغام ہیں جو آئین اور قانون کے خلاف اقدامات کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ ریاست کی یہ کارروائیاں نہ صرف انصاف کی فراہمی کی علامت ہیں، بلکہ ایک مضبوط اور متحد پاکستان کے قیام کے لیے ایک اہم قدم ہیں۔یقیناً، 9 مئی کے واقعات کے بعد پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو مزید مستحکم کیا جائے گا، اور آئندہ کسی بھی سیاسی سرگرمی کو آئین اور قانون کے دائرے میں رکھا جائے گا۔