Baaghi TV

Author: حنا

  • پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے جو خطے میں استحکام اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک قابل اعتماد کم سے کم رکاوٹ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس بات کا اظہار چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے متعدد مواقع پر کیا ہے، جہاں انہوں نے پاکستان کی جوہری صلاحیت کی اہمیت اور اس کی پائیداری کو اجاگر کیا۔

    پاکستان کا جوہری پروگرام دفاعی مقاصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ مکمل طور پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر ہے۔ اس پروگرام کا مقصد کسی بھی بیرونی جارحیت یا خطرے کے خلاف ایک مؤثر اور متوازن دفاع فراہم کرنا ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا میں دیگر جوہری طاقتیں بھی موجود ہیں۔

    پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی پالیسی کا بنیادی مقصد دفاعی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کی حکمت عملی میں جوہری ہتھیاروں کو محض ایک “رکاوٹ” کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ کہ جارحانہ استعمال کے لیے۔
    پاکستان میں جب بات قومی سالمیت، اسٹریٹجک اثاثوں اور میزائل پروگرام کی ہوتی ہے، تو تمام سیاسی جماعتیں یکجا ہوتی ہیں۔ اس بات کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی اپنی تقاریر میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثے ملک کی قومی سلامتی کے محافظ ہیں اور اس پر تمام سیاسی قوتوں کا اتفاق ہے۔پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قومی سلامتی اور استحکام کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہے۔ ہر پاکستانی کے لیے ملک کی حفاظت اور سالمیت مقدس ہے، اور اس میں کسی بھی نوعیت کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

    پاکستان کی جوہری پالیسی عالمی سطح پر ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر تسلیم کی گئی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو صرف دفاعی مقاصد کے لیے رکھنے کی بات کی ہے اور اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ جوہری تنازعات میں ملوث نہیں ہوگا جب تک کہ کسی جارحیت کا سامنا نہ ہو۔ پاکستان کا یہ موقف عالمی برادری میں اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں مثبت ردعمل کو جنم دیتا ہے اور اس کے دفاعی مقاصد کو تسلیم کیا جاتا ہے۔پاکستان کی عوام اپنی فوج اور دفاعی اداروں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں، اور یہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے واضح ہے۔ ملک کے دفاعی ادارے قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اور عوام کی حمایت اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک مشترکہ قومی عزم موجود ہے۔پاکستان کی جوہری صلاحیت نہ صرف ملک کی سلامتی کی ضامن ہے، بلکہ یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی عالمی سطح پر اس کے نیک نیتی کے عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے دفاعی اثاثوں کو مکمل احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے گا۔

    پاکستان کی جوہری طاقت ایک طاقتور دفاعی رکاوٹ کے طور پر خطے میں امن کی ضمانت ہے، اور اس کی قومی یکجہتی اور سلامتی ہر پاکستانی کے لیے سب سے اہم ہے۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی صف میں ہیں، اور اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ پاکستان کا دفاع اور استحکام کسی بھی قیمت پر محفوظ رکھا جائے گا۔

    baaghi blogs

  • میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    امریکہ نے حال ہی میں پاکستان کی بیلسٹک میزائل بنانے والی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جس پر پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستانی حکام اور عوام نے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے، اور اسے پاکستان کی خودمختاری پر حملہ اور اس کے دفاعی مفادات کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے۔

    پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاعی ضروریات کو پورا کرے۔ بیلسٹک میزائل پروگرام جو پاکستان نے تیار کیا ہے، مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانا اور کسی بھی بیرونی خطرے سے نپٹنے کے لیے موثر دفاعی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے قومی مفاد میں ہے اور اس کا کوئی غیر قانونی پہلو نہیں ہے۔امریکہ کا یہ اقدام پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ امریکہ نے جب اپنے دفاعی مفادات کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقسام کے ہتھیار تیار کیے ہیں اور دنیا بھر میں ان کا استعمال کیا ہے، تو پاکستان کو اپنے دفاعی حقوق سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے؟ امریکہ کے دوہرے معیار اس وقت واضح ہیں جب وہ ایک طرف اپنی فوجی طاقت بڑھاتا ہے اور دوسری طرف دوسرے خودمختار ممالک کو اپنے دفاعی پروگرامز کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی یہ پابندیاں پاکستان کے دفاعی شعبے پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہیں۔ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں شامل کمپنیاں عالمی سطح پر اپنا کام جاری رکھتی ہیں اور ان پابندیوں سے نہ صرف ان کمپنیوں کے کاروبار پر منفی اثرات پڑیں گے بلکہ پاکستان کی دفاعی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگا، بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی خودمختاری کے بارے میں امریکہ کی طرف سے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ وہ پاکستان کے فیصلوں کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔جو پاکستانی عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے.

    پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاعی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔پیپلز پارٹی کی جانب سے رضا ربانی، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے اس موقع پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر اپنے دفاعی حقوق کا تحفظ کرے گی۔ پاکستان کی افواج اور دفاعی ادارے ملک کی خودمختاری اور دفاع کے لیے جان کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

    پاکستان نے امریکہ کے دوہرے معیار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ خود بڑے پیمانے پر جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال میں مصروف ہے، اور وہ دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی فوجی مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں وہ دوسرے خودمختار ممالک کی دفاعی ترقی پر پابندیاں عائد کرنے کا حق کیسے رکھتا ہے؟ امریکہ کا یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ دنیا بھر میں اس کے دوہرے معیار کی ایک واضح مثال بن چکا ہے۔پاکستان کے عوام اور حکومت نے اس بات پر واضح کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی حقوق کی حفاظت کے لیے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پاکستان کی حکومت اور افواج اپنے ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع کریں گے۔ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں اس وقت اپنے قومی مفادات میں متحد ہیں اور اپنے دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کی بیلسٹک میزائل کمپنیوں پر عائد کی جانے والی پابندیاں ایک غیر منصفانہ اقدام ہے جو نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان کا بیلسٹک میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔ پاکستان اپنے دفاعی حقوق کے لیے کسی بھی قسم کے دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گا اور عالمی سطح پر اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گا۔پاکستان کی میزائل پروگرام پر امریکی پابندی سےپاکستان کی عوام کو امریکہ کی پاکستان دشمنی کھل عیاں ہوگئی ہے،اسکاجواب پاکستانیوں کوہر لیول پر دینا ہے ، اور پاکستانی دیں گے، پاکستانی قوم وطن عزیز کے دفاع کے لئے پاکستان کے عسکری ،دفاعی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور رہے گی.
    baaghi blogs

  • چورچور کہنے والا خود چور نکلا،عمران نے جو بویا وہی کاٹ رہا

    چورچور کہنے والا خود چور نکلا،عمران نے جو بویا وہی کاٹ رہا

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست میں بلند و بانگ دعووں، تند و تیز زبان، اور خود کو ہر چیز سے برتر سمجھنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ان کا تکبر اور رعونیت ایک ایسا پہلو تھا جس پر نہ صرف ان کے حامی بلکہ ان کے مخالفین بھی اکثر بات کرتے رہے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ اپنی شخصیت کو اس قدر اہم اور منفرد سمجھا کہ سیاست میں دوسرے رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اور بات چیت کرنے کی ضرورت کو کم ہی محسوس کیا۔عمران خان اکثر اپنے حریفوں کو کمتر سمجھتے ہوئے ان سے بات کرنے کی بجائے ان کے خلاف تنقید کرنے میں مگن رہتے تھے۔ ان کی زبان میں وہ تکبر کی ایسی جھلکیاں نظر آتی ہیں جو کبھی کبھار حد سے تجاوز کر جاتی تھیں۔

    عمران خان نے کئی مرتبہ کہا کہ وہ کبھی بھی نواز شریف، شہباز شریف، اور ان کے حامیوں سے بات نہیں کریں گے۔ وہ ہمیشہ اپنی پوزیشن کو مستحکم اور بہتر سمجھتے تھے اور اپنے مخالفین کو ’’چور‘‘ اور ’’ڈاکو‘‘ جیسے الفاظ سے یاد کرتے تھے۔ ان کے مطابق، یہ سب لوگ صرف اپنے ذاتی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کرنا وقت کا ضیاع ہوگا۔عمران خان کا انداز اس قدر سخت تھا کہ وہ عام طور پر دوسرے سیاسی رہنماؤں کے لیے نہ صرف توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے، بلکہ ان کے کردار کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے۔ ایک موقع پر، عمران خان نے کہا تھا کہ "میں اور بات کروں گا، میں کسی سے بھی بات نہیں کروں گا، میں ان چوروں سے بات کیوں کروں؟” ان کا یہ تبصرہ نواز شریف اور ان کی جماعت کے خلاف تھا۔

    اسی طرح، انہوں نے شہباز شریف کو بھی اکثر نشانہ بنایا اور کہا کہ "شہباز شریف میرے ہوتے ہوئے کبھی وزیراعظم نہیں بن سکتا”۔ ان کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر سب سے طاقتور شخصیت ہیں، اور ان کے مقابلے میں کسی کو جگہ نہیں مل سکتی۔عمران خان کی زبان کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو ’’ڈیزل‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اس پر جنرل باجوہ نے انہیں مشورہ دیا کہ سیاست میں احترام باقی رہنا چاہیے، لیکن عمران خان نے اس مشورے کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ "اگر ڈیزل کو ڈیزل نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟” ان کی یہ بات ایک طرف تو ان کے تکبر کی نشاندہی کرتی تھی، دوسری طرف ان کے اندر اپنے مخالفین کے لیے عدم احترام اور نفرت کا اظہار بھی کرتی تھی۔

    عمران خان نے نواز شریف کو بھی اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ "نواز شریف کا کھانا بند کر دوں گا، کمرے کا اے سی بند کر دوں گا، اور ان کی جیلیں عام قیدیوں جیسی بنا دوں گا۔” ان کا یہ انداز سیاست میں ایک نئی سطح پر تکبر اور غصے کی عکاسی کرتا تھا۔ وہ نہ صرف اپنے مخالفین کو سیاسی طور پر شکست دینا چاہتے تھے، بلکہ ان کی ذاتی زندگیوں میں مداخلت کرکے ان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔

    عمران خان کے یہ تمام دعوے اور سخت بیانات آج اللہ کی قدرت کے سامنے جھک چکے ہیں۔ ایک وقت تھا جب وہ خود کو غیر متزلزل اور ناقابل شکست سمجھتے تھے، لیکن آج ان کے سامنے حقیقت کچھ اور ہے۔ آج جب وہ خود سیاست کے میدان میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تو وہ وہی باتیں اور بیانات واپس یاد کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے مخالفین کے بارے میں کہے تھے۔عمران خان آج اڈیالہ جیل میں ہیں اور اسی شہباز شریف سے جن سے بات کرنے کو تیار نہیں تھے سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے، عمران خان اب خود چور بھی ثابت ہو چکا ہے اور بات بھی کرنے کو تیار ہے، لیکن آگے سے عمران خان کی سننے کو کوئی تیار نہیں۔ عمران خان کی ساری تکبر اور رعونیت کا جواب اللہ کی طرف سے ایک قدرتی ردعمل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ان کے خلاف جو الزامات اور کرپشن کے کیسز بنے، وہ آج ان کے پیچھے ہیں۔ ان کی سیاسی طاقت جو کبھی بے پناہ تھی، اب کمزوری میں تبدیل ہو چکی ہے۔

    عمران خان کا تکبر اور رعونیت ایک ایسا باب ہے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی سیاسی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور ان کے رویے نے نہ صرف ان کے حامیوں بلکہ مخالفین کو بھی حیران کن طور پر متاثر کیا ہے۔ آج ان کے سامنے ایک نئی حقیقت ہے جس کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی شخص اپنی تکبر اور غرور کے ساتھ ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا، اور اللہ کی قدرت ہر شخص کو اس کی حقیقت دکھا دیتی ہے۔

  • ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    پاکستان کی سیاست میں اکثر نئے بیانیے اور تبدیلی کی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن جب حقیقت کی گہرائی میں جایا جاتا ہے تو سامنے ایک تلخ اور بدبودار سچائی آتی ہے۔ "امریکی غلامی نا منظور” کا نعرہ لگانے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج کس قدر بدلے ہوئے حالات میں ہے، یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ پی ٹی آئی، جو کبھی خودمختاری اور غیرت کی باتیں کرتی تھی، آج اس حد تک گر چکی ہے کہ وہ اپنے ہی نعروں کا مذاق اُڑا کر انہیں دھوکہ دینے والے عناصر کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

    آج سے چند سال قبل، جب پی ٹی آئی نے "امریکی غلامی نہیں منظور” کے نعرے بلند کیے تھے، تو اُس وقت جماعت نے خود کو قوم کی آواز اور آزادی کا علمبردار تصور کیا تھا۔ لیکن اب یہ جماعت اپنے سابقہ دعووں اور نعروں سے مخلص نہیں رہی۔ اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آج پی ٹی آئی کی قیادت ایسی شخصیات کے دربار میں جا کر مدد کی بھیک مانگ رہی ہے، جو کبھی خود اس کے مذموم بیانیے کا حصہ تھے۔رچرڈ گرینل ایک ایسا نام ہے جو سیاست، سفارتکاری، اور متنازعہ بیانات کے لحاظ سے خاصا معروف ہے۔ وہ ایک امریکی سفارتکار ہیں، جن کا ماضی کئی سیاسی و اخلاقی معاملات میں الجھا ہوا ہے۔ گرینل کا تعلق ایک ایسے شخص سے ہے جو اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی متنازعہ رہا ہے، اور اس کے جنسی رجحانات بھی اس کی سیاست میں ایک اہم عنصر بن چکے ہیں۔یہ وہی رچرڈ گرینل ہیں جنہوں نے ہم جنس پرستی کے عالمی پرچار میں نمایاں کردار ادا کیا اور خود کو سرٹیفائیڈ ہم جنس پرست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ گرینل نے جرمنی میں اپنی تعیناتی کے دوران نہ صرف سفارتی اصولوں کی پامالی کی بلکہ اپنی غیر اخلاقی حرکات سے بھی کئی بار شہرت پائی۔ ایسے شخص کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم کرنا پی ٹی آئی کے لیے نہ صرف ایک اخلاقی دھچکا ہے، بلکہ اس سے اس جماعت کی خودمختاری اور آزادی کے دعووں کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔

    جو جماعت کبھی خودمختاری اور غیرت کی دعویدار تھی، وہ آج اس قدر گر چکی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے سامنے جھک رہی ہے جو نہ صرف ان کے نعروں کا مذاق اُڑاتا ہے، بلکہ ان کے سیاسی و اخلاقی نظریات کے بھی مخالف ہے۔ یہ حقیقت ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی، جو کبھی "امریکی غلامی نہیں منظور” کے نعرے بلند کرتی تھی، آج اپنے ہی نعرے کو نظرانداز کر کے امریکہ کے ایک متنازعہ سفارتکار سے مدد کی درخواست کر رہی ہے۔اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں تبدیلی نہیں آئی بلکہ اس نے اپنے نظریات، بیانیے، اور عوامی حمایت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ آج پی ٹی آئی کا دعویٰ "نیا پاکستان” بنانا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک "سیاسی منافقت کا شاہکار” بن چکا ہے۔پاکستان کی سیاست میں ایک نیا بیانیہ اور تبدیلی کی بات کی جاتی ہے، لیکن جب ہم پی ٹی آئی کی موجودہ پوزیشن کو دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جماعت نے اپنے اصولوں اور مفادات کی خاطر اپنے عوامی نعرے کو قربان کر دیا ہے۔ اب پی ٹی آئی کا نیا پاکستان "سیاسی منافقت” کا نمونہ بن چکا ہے، جہاں پر کسی بھی اصول یا نظریے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

    اگر پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے پچھلے بیانیے کو نظرانداز کر کے رچرڈ گرینل جیسے متنازعہ شخص کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کی فکر کر رہی ہے۔ یہ سیاسی منافقت ہی ہے جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد ٹوٹ رہا ہے اور وہ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ آخرکار پی ٹی آئی کے نظریات کہاں گئے؟آج پی ٹی آئی نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ صرف اس کے سیاسی مفادات کو بڑھا رہا ہے لیکن اس سے اس جماعت کی اخلاقی اور نظریاتی بنیادیں متزلزل ہو چکی ہیں۔ "امریکی غلامی نہیں منظور” کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی آج امریکہ کے ایک متنازعہ سفارتکار کے سامنے جھک کر اپنی بے عزتی کروا رہی ہے۔اس صورتحال نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ سیاست میں اصول اور نظریات کی حقیقت محض ایک دکھاوا ہوتی ہے، جب تک کہ وہ شخص اپنے مفاد میں نہ ہوں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو جماعت عوامی حمایت اور آزادی کے نعرے لگاتی ہے، وہ بھی وقت کے ساتھ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کر لیتی ہے، جب وہ اقتدار کے حصول کے قریب پہنچتی ہے۔

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

    پی ٹی آئی کا ناروے کی ہم جنس پرستی کی حامی پارٹی سے رابطہ

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

  • انتشارروکنے کیلئے فیک نیوز کا سدباب ضروری.تحریر: حنا سرور

    انتشارروکنے کیلئے فیک نیوز کا سدباب ضروری.تحریر: حنا سرور

    دنیا بھر میں جہاں ہر روز نت نئے چیلنجز جنم لیتے ہیں، وہیں ایک ایسا مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے جو ہماری سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی کو جڑوں سے ہلا رہا ہے، اور وہ ہے "فیک نیوز” یا جھوٹی خبریں۔ اس دور میں جب معلومات کا تبادلہ تیز ترین ہو گیا ہے، فیک نیوز نے ہر سطح پر فتنہ و فساد کو بڑھاوا دیا ہے، جس کا اثر نہ صرف افراد کی ذاتی زندگیوں پر پڑ رہا ہے بلکہ پوری قوم کی اجتماعی ذہن سازی اور امن و امان پر بھی سنگین نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔

    فیک نیوز وہ جھوٹ یا غلط معلومات ہیں جو مخصوص مقاصد کے تحت پھیلائی جاتی ہیں، چاہے وہ سیاسی، سماجی، یا معاشی فوائد کے لیے ہو۔ یہ خبریں عام طور پر جذباتی، اشتعال انگیز، یا تضحیک آمیز ہوتی ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ حاصل کی جا سکے یا کسی گروہ یا فرد کے خلاف نفرت یا تعصب پیدا کیا جا سکے۔ جب فیک نیوز پھیلتی ہے تو اس سے لوگوں میں غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک جھوٹی خبر کسی خاص قوم، مذہب یا علاقے کے بارے میں شائع کی جاتی ہے جس سے نہ صرف ان افراد کا تشخص مجروح ہوتا ہے بلکہ ایک قوم کے اندر نفرت کا بیج بھی بو دیا جاتا ہے۔ اس سے سماج میں تقسیم اور انتشار بڑھتا ہے۔ فیک نیوز کا سب سے بڑا فائدہ سیاسی جماعتوں یا مفاد پرست افراد کو ہوتا ہے، جو ان جھوٹی خبروں کو مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہ خبریں کسی سیاسی رہنما کو بدنام کرنے یا عوام میں حکومتی اقدامات کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ فیک نیوز نہ صرف معاشرتی اور سیاسی مسائل پیدا کرتی ہے، بلکہ اقتصادی سطح پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جھوٹی اقتصادی خبریں کمپنیوں یا کاروباروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، یا سرمایہ کاروں کو جھوٹی افواہوں کی بنیاد پر غلط فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

    فیک نیوز کا سب سے برا اثر امن و امان پر پڑتا ہے۔ یہ افواہیں اور جھوٹی خبریں فساد اور تشدد کو جنم دیتی ہیں، اور لوگوں کے درمیان نفرت کو بڑھا دیتی ہیں۔ اگر اس کا فوری طور پر خاتمہ نہ کیا جائے تو معاشرتی ہم آہنگی اور امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس لیے فیک نیوز کا خاتمہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ افراد آپس میں محبت، احترام اور امن کے ساتھ رہیں۔ جب جھوٹی خبریں پھیلتی ہیں تو اصل حقائق اور معلومات چھپ جاتی ہیں، جس سے لوگوں کو فیصلے کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ فیک نیوز کا خاتمہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ لوگ صحیح، معتبر اور اصل معلومات تک رسائی حاصل کریں، جس سے ان کے فیصلے بہتر اور جاندار ہوتے ہیں۔ ہر فرد اور ادارہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکے اور سچائی کا پرچار کرے۔ اگر ہم سچائی کی ترویج کرتے ہیں اور جھوٹی خبروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو ہم سماج میں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قانون کا سختی سے اطلاق ضروری ہے۔ جہاں فیک نیوز کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ضرورت ہے، وہاں عوامی سطح پر شعور بھی بیدار کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ خود فیک نیوز کا شکار نہ ہوں اور ان کو پھیلانے سے گریز کریں۔

    فیک نیوز سے بچنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟
    کسی بھی خبر کو شئیر کرنے سے پہلے اس کی اصل ذرائع کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ آج کل بہت سی ویب سائٹس، سوشل میڈیا اور موبائل ایپلیکیشنز پر خبریں باآسانی پھیلائی جاتی ہیں، لیکن ان کا ہر وقت صداقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ خبر کو صرف اس کے سرخی یا عنوان پر نہ پڑھیں، بلکہ اس کی حقیقت کو جانچیں۔ معتبر اور معروف ذرائع سے ہی خبریں حاصل کریں۔ سوشل میڈیا پر خبروں کو بغیر تحقیق کے شیئر کرنا فیک نیوز کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ اگر کسی خبر میں کوئی سنسنی خیز بات ہو یا وہ جذبات کو اُبھارے، تو اس کا ممکنہ طور پر جھوٹ ہونا زیادہ ہوتا ہے۔تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے طلباء کو میڈیا کی سواد پر تعلیم دیں تاکہ وہ فیک نیوز کی حقیقت کو سمجھ سکیں اور اس سے بچ سکیں۔

    فیک نیوز کے پھیلاؤ کا فوری خاتمہ نہ صرف ہمارے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ہماری نسلوں کے لیے ایک بہتر اور پرامن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ ہمیں فیک نیوز کے خلاف مشترکہ طور پر جنگ لڑنی ہوگی، تاکہ ہم اپنے معاشرے کو ہر قسم کی فتنہ و فساد سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس کے لیے حکومت، میڈیا، اور عوام کو یکجا ہو کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

  • متحدہ عرب امارات کا قومی دن اور پاکستان یو اے ای تعلقات

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن اور پاکستان یو اے ای تعلقات

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن ہر سال 2 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف امارات کی آزادی اور ترقی کی داستان سناتا ہے بلکہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گہرے تاریخی، اقتصادی، اور ثقافتی تعلقات کی علامت بھی ہے۔ متحدہ عرب امارات کا قومی دن 2 دسمبر 1971 ، جب چھ مختلف امارات — ابوظہبی، دبئی، شارجہ، عجمان، اُم القوین اور الفجیرہ — نے ایک وفاقی یونٹ کے طور پر متحد ہو کر یو اے ای کی بنیاد رکھی۔ ان امارات میں ساتواں امارات "راس الخیمہ” بعد میں 10 فروری 1972 میں شامل ہوا۔

    یو اے ای کا قومی دن ایک یادگار موقع ہے جس پر امارات کی کامیابیوں اور ترقی کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ اس دن کو عوامی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے، جس میں مختلف تقریبات، جشن، اور رنگا رنگ پروگرامز شامل ہوتے ہیں۔ اس دن کو نہ صرف مقامی طور پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انتہائی اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ یو اے ای نے اپنے مختصر عرصے میں عالمی سطح پر اقتصادی، تجارتی، اور ثقافتی لحاظ سے غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات: ایک تاریخی پس منظر
    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات تاریخی طور پر مضبوط اور دوستانہ رہے ہیں۔ یہ تعلقات مختلف پہلوؤں پر محیط ہیں جن میں اقتصادی تعاون، ثقافتی روابط، اور انسانی سطح پر تعاون شامل ہیں۔پاکستان اور یو اے ای کے درمیان اقتصادی تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ یو اے ای پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی ہے۔ لاکھوں پاکستانی شہری یو اے ای میں کام کرتے ہیں اور وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں، پاکستان کو مختلف شعبوں میں اہم مالی مدد اور امداد حاصل ہوتی ہے۔یو اے ای پاکستان کو تیل کی فراہمی، تجارت، اور دیگر مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم سالانہ اربوں ڈالرز تک پہنچتا ہے، اور یہ تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔پاکستانی مزدوروں کی بڑی تعداد یو اے ای میں کام کر رہی ہے۔ یہ افراد تعمیراتی صنعت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ یو اے ای میں پاکستانیوں کی موجودگی نے دونوں ممالک کے درمیان انسانی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن کی محنت و لگن نے یو اے ای کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یو اے ای میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد مختلف علاقوں میں آباد ہے، اور ان کے ثقافتی، سماجی اور اقتصادی روابط دونوں ممالک کی دوستی کی ایک اور نشانی ہیں۔

    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات بھی انتہائی مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور عالمی سطح پر مختلف فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ یو اے ای نے پاکستان کے ساتھ مل کر مختلف فوجی مشقیں بھی کی ہیں اور دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔
    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان ثقافتی تعلقات بھی کافی گہرے ہیں۔ یو اے ای میں پاکستانی ثقافت کی ایک واضح موجودگی ہے، خاص طور پر پاکستانی کھانے، موسیقی، اور تہوار۔ ہر سال مختلف پاکستانی تہوار، جیسے عید الفطر، عید الاضحیٰ، اور یوم پاکستان یو اے ای میں بڑی دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں۔پاکستانی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار اور گلوکار بھی یو اے ای میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، پاکستان کی مشہور آرٹس، دستکاری اور تہذیب بھی یو اے ای میں مقبول ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن نہ صرف اس ملک کی آزادی اور ترقی کا جشن ہے بلکہ یہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گہرے روابط کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، ثقافتی، اور دفاعی تعلقات مستحکم ہیں اور مستقبل میں ان تعلقات میں مزید بہتری کی امید کی جاتی ہے۔پاکستانی عوام یو اے ای کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو گی۔ یو اے ای کا قومی دن پاکستانیوں کے لیے ایک ایسا موقع ہے جب وہ اپنے دوست ملک کی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں اور ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

  • انتشار،فساد،پی ٹی آئی کا وطیرہ

    انتشار،فساد،پی ٹی آئی کا وطیرہ

    پاکستان کی سیاست میں ایک طرف جہاں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے عوامی حمایت کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے کچھ ارکان اور رہنما اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اداروں اور عوام کے ساتھ دشمنی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مختلف مواقع پر احتجاج اور شور شرابے کا سلسلہ جاری رہا ہے، جس میں ملک میں عدم استحکام اور تشویش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان احتجاجات کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا یا سیاسی مخالفین کو کمزور کرنا ہوتا ہے، لیکن ان مظاہروں میں پُرتشدد واقعات اور غیر قانونی سرگرمیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

    حال ہی میں پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے جدید ترین اسلحہ سے لیس شرپسندوں کو اسلام آباد بھیجا، جہاں ان لوگوں کا مقصد صرف دھرنا دینا نہیں تھا بلکہ 2014ء کی طرح پارلیمنٹ ہاؤس پر قبضہ کرنا تھا۔ 2014ء میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پارلیمنٹ اور سرکاری ٹی وی پر حملہ کیا تھا، جو ایک سنگین قدم تھا اور جس نے ملکی جمہوریت کو نقصان پہنچایا تھا۔پی ٹی آئی کی سیاست میں پرتشدد احتجاج ایک معمول بن چکا ہے۔ پارٹی کے کارکنوں نے نہ صرف سڑکوں پر تشدد کی راہ اپنائی، بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر بھی حملہ کیا۔ 9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات پر حملے کیے، جس سے ملک میں افراتفری پھیل گئی۔ یہ حملے پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کی تضحیک کرنے اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش تھے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا یہ رویہ نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ ایک ایسی سیاست کی عکاسی کرتا ہے جس میں طاقت اور تشدد کو جواز بنا کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے اور سرکاری ٹی وی پر قبضے کی کوششیں اس بات کا غماز ہیں کہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی میں پُرتشدد طریقے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔2014ء میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا، جس میں پارٹی کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس اور دیگر حکومت کی عمارتوں کو گھیر لیا تھا۔ یہ دھرنا طویل عرصے تک جاری رہا، جس کی وجہ سے حکومتی اداروں کے کاموں میں خلل آیا اور ملک کے آئینی نظام کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ اس دھرنے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اپنے مطالبات کی حمایت میں عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ان کے اقدامات نے پاکستان کی جمہوری روایات اور آئین کی بالادستی کو چیلنج کیا تھا۔

    اب، 2024ء میں، پی ٹی آئی نے دوبارہ اسلام آباد میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مرتبہ ان کے احتجاج کا مقصد وفاقی حکومت کو کمزور کرنا اور اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنا تھا۔ تاہم، ایسے احتجاجوں سے نہ صرف ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا بلکہ عوام کی زندگی بھی متاثر ہوئی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی معیشتی مشکلات اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے غیر قانونی اقدامات ملکی استحکام کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔ایک اور تشویش کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ کی حکومت کے سرکاری وسائل کا استعمال کر کے احتجاج کو مزید منظم اور طاقتور بنانے کی کوشش کی۔ خیبر پختونخواہ میں حکومت کا اقتدار رکھنے والی پی ٹی آئی نے ریاستی وسائل کا استعمال کر کے عوامی احتجاج کی شدت بڑھانے کی کوشش کی۔ اس سے نہ صرف حکومت کی انتظامیہ پر بوجھ بڑھا، بلکہ اس کے ذریعے ملک کی سیاسی فضا میں مزید تلخی پیدا ہوئی۔

    اس احتجاج کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی، عمران خان، کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے رہنما کی رہائی کے لیے پرتشدد احتجاج کیا۔ عمران خان پر بدعنوانی اور کرپشن کے سنگین الزامات ہیں، اور ان کے خلاف کئی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ ان پر کرپشن کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، اور ان کی رہائی کے لئے کیے گئے احتجاجات دراصل ان مقدمات سے بچنے کی ایک کوشش ہیں۔بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نے ان کے خلاف چلنے والی سماعتوں میں تاخیر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ عمران خان کے مقدمات کو طول دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، ان پر لندن میں ضبط شدہ رقم کو وائٹ منی میں تبدیل کرنے کا الزام بھی ہے۔ ان الزامات سے متعلق ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اس نوعیت کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔

    کسی بھی جمہوری ملک میں ایسے پرتشدد احتجاج اور سیاسی عدم استحکام کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے۔ پی ٹی آئی کا پرتشدد احتجاج اور سیاسی مقاصد کے لئے غیر قانونی حربوں کا استعمال ایک تشویش کا باعث ہے۔ اس کے باوجود، پاکستان کے عوام اور ادارے ہمیشہ ان قوتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے ہیں جو ملک کے آئینی اور جمہوری اصولوں کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتی ہیں

  • پی ٹی آئی احتجاج،کیا  حکومت صرف بڑھکیں مارنے  کیلیے ہے؟

    پی ٹی آئی احتجاج،کیا حکومت صرف بڑھکیں مارنے کیلیے ہے؟

    پاکستان میں گزشتہ چند دنوں سے احتجاجی تحریک نے سیاسی اور سماجی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے لئے اسلام آباد کی جانب احتجاج کا اعلان کیا، جس کے بعد اسلام آباد اور پنجاب میں جاری ان احتجاجات نے حکومت کی حکمت عملی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں ڈی چوک تک پہنچ چکے ہیں،پرتشدد احتجاج کے دوران تین رینجرز اہلکار ،دو پولیس اہلکار شہید ہوئے،حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کیں، راستے بند کئے، کینیٹینر لگائے،اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کیا، اس کے باوجود پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، احتجاجی شرپسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور ان کی جانب سے اہم مقامات تک پہنچنا اس بات کا غماز ہے کہ حکومت اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اور فوج کے جوانوں کی شہادتیں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

    اسلام آباد میں جاری احتجاجی تحریک نے شہر کے متعدد علاقوں کو بند کر رکھا تھا، اور کنٹینرز کی مدد سے سڑکوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ اس کے باوجود، احتجاجی گروہ ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس پر حکومت کی حکمت عملی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ احتجاجی تحریک کے شرپسند ایک ایک انچ آگے بڑھتے رہے، اور حکومت کی جانب سے صرف بیانات اور بڑھکیں دینے کے سوا کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔

    مختلف سیاسی رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے حکومتی رٹ کو ایک بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ حکومت نے اس تماشے کے لیے کنٹینرز کیوں لگائے؟ اگر سڑکیں بند کی گئی تھیں اور راستے روکے گئے تھے، تو ان اقدامات کا کیا مقصد تھا؟ اور یہ تمام انتظامات کس لیے کیے گئے جب احتجاجی شرپسند ایک کے بعد ایک قدم آگے بڑھتے رہے؟اسلام آباد سے داخلی و خارجی راستوں کو بندش، میٹرو بند، ریلوے سٹیشن بند، ہوٹلز،گیسٹ ہاؤس بند،اس سب اقدامات کے باوجود سوال اٹھتا ہے کہ حکومت نے کیا حکمت عملی اختیار کی؟ اسی دوران، پولیس اور رینجرز کے جوانوں کی شہادت اور زخمی ہونے کے واقعات نے عوام کے ذہنوں میں مزید شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ ان تمام واقعات نے حکومت کی بے بسیت اور بے تدبیری کو اجاگر کیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ احتجاجی تحریک کے پیچھے "خفیہ ہاتھ” کارفرما ہیں، لیکن اب یہ بیانات بے کار ثابت ہو رہے ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوالات ابھرنے لگے ہیں کہ اگر حکومت اس قدر کمزور ہے کہ وہ چند کلومیٹر کے علاقے کو بھی کنٹرول نہیں کر سکتی، ایک طرف احتجاجی تحریک کی شدت بڑھتی جا رہی ہے، دوسری طرف حکومت کی طرف سے نہ کوئی موثر حکمت عملی سامنے آ رہی ہے اور نہ ہی کوئی حقیقی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چند دنوں سے حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محض بیانات دے رہے ہیں، جب کہ عوام کی حفاظت کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ولیس کے جوانوں کی قربانیاں ہو رہی ہیں، دوسری طرف حکومت محض خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اگر حکومت یاست کی رٹ کو قائم نہیں رکھ سکتی،عوام کا تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا، تو ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکومت کا کام کیا ہے؟ کیا یہ حکومت صرف بڑھکیں مارنے اور بیانات دینے کے لیے ہے، یا پھر اسے عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے؟ ریاست کی طاقت کو محض شوپیس کی طرح نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ اسے حقیقی چیلنجز کے سامنے ثابت کرنا ہوگا۔

    موجودہ حالات واقعی حکومت کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت عملی اقدامات کرے، نہ کہ صرف بیانات دے کر حالات کو نظر انداز کرے۔9مئی کے واقعے سے بڑا واقعہ رونما ہو چکا، حکومت اب تک کیا کرتی رہی، بلوائیوں نے پاکستان کو پہلے بھی نقصان پہنچایا اب بھی پہنچا رہے ہین، بشریٰ بی بی کی قیادت میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا رہا ہے، ایسے میں حکومت کو سخت ردعمل ،فوری ایکشن کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے………

    پی ٹی آئی مظاہرین کا ڈی چوک پر خاتون صحافی قراۃ العین شیرازی پر تشدد

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

  • پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی میں دھرنوں، جلسوں، اور مظاہروں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں نہ صرف پی ٹی آئی احتجاجی سرگرمیاں کمزور پڑتی نظر آ رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا وہ اثر نظر نہیں آ رہا جو ماضی میں ہوتا تھا۔

    پی ٹی آئی نے ماضی میں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بیانیے کی ترویج اور مخالفین پر تنقید کے لیے یہ پلیٹ فارم مرکزی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا۔ یہ ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جو روایتی میڈیا کی بجائے ڈیجیٹل میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں مہارت رکھتی تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں نہ صرف زمینی احتجاج میں کمی دیکھی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا رنگ پھیکا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ جماعت جو ٹویٹر پر ٹرینڈز بناتی تھی، فیس بک پر لاکھوں کی ریچ حاصل کرتی تھی، اور یوٹیوب پر لاکھوں ویوز جمع کرتی تھی، آج کل کمزور دکھائی دے رہی ہے۔پی ٹی آئی اب سوشل میڈیا پر وہ بیانیہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی جو پہلے بناتی تھی،پی ٹی آئی کی پارٹی کی اندرونی تقسیم اور اہم رہنماؤں کی گرفتاری یا خاموشی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں،حکومتی سطح پر سوشل میڈیا پر عائد کردہ ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے بھی پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم مشکلات کا شکار ہے،انتشار اور نفرت کی سیاست کی وجہ سے عوام، خاص طور پر نوجوان، ماضی کی طرح سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر بہت پیچھے جا چکی ہے

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا محاذ پر اثر کم ہونے کی وجوہات میں تنظیمی مسائل، حکومتی دباؤ، اور عوامی دلچسپی میں کمی شامل ہو سکتی ہے وہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کے آپسی اختلافات، علیمہ، بشریٰ کی لڑائی، گنڈا پور ،بشری کی لڑائیاں اور پارٹی رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی وجہ سے بھی سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنان مایوس ہو چکے ہیں،کارکنان کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس کے بیانئے کو لے کر چلیں،عمران خان تو جیل میں ہیں اور ان سے ملاقاتیں کرنے والے پارٹی رہنماؤں کا مؤقف الگ الگ ہوتا ہے، جس سے پی ٹی آئی کو بیانیہ بنانے میں مشکل پیش آتی ہے.

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    برطانیہ،عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کا تاریخی احتجاج

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں کے علاقے میں پیش آنے والے المناک حملے نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ اس دلخراش واقعے میں 12 بہادر جوان شہید ہو گئے، جو ملک و ملت کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔فتنہ الخوارج کی دہشت گردانہ کاروائیاں بیرونی دشمنوں کی آشیرباد سے ہو رہی ہیں، فتنہ الخوارج کے بڑھتے حملوں کو روکنے اور انکی سازشوں کو ناکام کرنے کے لئے پھر سے آپریشن ضرب عضب ،رد الفساد کی ضرورت ہے،کسی قسم کی نرمی ان دہشت گردوں اور انکے حامیوں کے خلاف نہیں ہونی چاہئے جو ملکی سلامتی کے دشمن ہیں اور آئے روز خیبر پختونخوا و بلوچستان میں حملے کر رہے ہیں.

    بنوں میں شہید ہونے والے جوان ہمارے اصل ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں مادر وطن کی حفاظت کے لیے وقف کر دی تھیں۔ ان کا عزم اور قربانی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے بہادر سپاہیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔بنوں حملے میں شہید ہونے والے جوان صرف ایک ادارے کے سپاہی نہیں بلکہ پوری قوم کے سپوت ہیں۔ ان کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ملک کی حفاظت صرف افواج کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا فرض ہے۔ ہمیں متحد ہو کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو امن و امان کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ہم سب پر یہ اخلاقی فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کے غم کو بانٹیں اور انہیں یقین دلائیں کہ ان کے پیاروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ شہداء کے خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کریں تاکہ ان کے لیے زندگی کے مسائل آسان ہو سکیں۔

    بنوں میں دہشت گردوں کا بزدلانہ حملہ ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں مذہبی، سیاسی اور معاشرتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک قوم بننا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے خاندانوں کو صبر و حوصلہ دے۔ ساتھ ہی یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ قوم ان قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے گی۔شہیدوں کی قربانیوں کا یہ پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا کہ "ہم زندہ قوم ہیں۔”