Baaghi TV

Author: حنا

  • اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    تم اقتدار کی ہوس اور انا کی جنگ لڑ لو۔
    عوام کی خیر ہے,گزر ہی جائے گی۔
    کہتے ہیں یہ حکمران عوام کی جنگ لڑتے ہیں بھٹو نے اقتدار کے لیے پھانسی دے دی اقتدار نہ چھوڑا. نواز شریف نے اقتدار نہ چھوڑا نااہل ہو گیا ماں مر گئی جنازے پہ نہ آیا بیوی مر گئی اس کی میت دیکھنے نہ آیا تابوت بھیج دیا ۔عمران خان دعائیں کرتا رہا کہ میرے حریف میرے خلاف عدم اعتماد لیکر آئیں اور جب عدم اعتماد آگئی تو ملکی سلامتی کو اداروں کو داو پر لگا دیا۔عمران خان نے جھوٹ بول کر امریکی خط کا شوشہ چھوڑ کر اپنا سیاسی بیانیہ تو بنا لیا مگر دنیا بھر میں اپنے ملک کو بدنام کر گیا ۔اپنے اداروں کو بدنام کر گیا ۔فرض کریں اگر یہ سچ بھی تھا تو پہلے آپ اپنی خارجہ پالیسی تو مضبوط بناتے اپنے ملک کو مضبوط بناتے ۔اتنا مضبوط کہ آپ جس ملک سے قرضہ لیکر اپنا ملک چلا رہے ہو ۔اس سے پنگا لینے کے بعد آپ کو اس سے قرضہ نہ لینا پڑے آپ نے پوری دنیا میں امریکہ امریکہ کر کہ خود کو ہی بدنام کیا آج عمران خان بھی حاکم ہوتا تو کوئی ملک آپکو قرضہ نہ دیتا۔کیونکہ اقتدار کی ہوس میں آپکی دس گز لمبی زبانیں آپ کی سیاسی ساکھ تو خراب کرتی ہے ساتھ ساتھ دنیا کو آپکا معیار بھی دکھاتی ہے کہ پلے نہی دھیلا تے کردی میلا میلا

    کچھ لوگ کہتے ہیں بھٹو برا ہو سکتا نواز شریف برا ہو سکتا لیکن عمران خان بہت اچھا ہے کیونکہ عمران خان نے اپنی عوام کا بہت خیال رکھا شاید وہ عوام حریم شاہ اور فرح گوگی تھی ۔کیونکہ عمران خان ہی تھا جس نے مہنگائ کی شروعات کی۔پانچ سال جو پہلے جو بجلی کا یونٹ پانچ روپے تھا وہ سترہ روپے کیا عمران خان نے ۔پٹرول جو پچپن روپے تھا ستر روپے کیا عمران خان نے ۔یہ عمران خان ہی تھا جس نے بجلی اور پٹرول کے معاہدے کیے آئ ایم ایف سے۔

    یہ عمران خان ہی تھا جس کا کہنا ہے کرسی مل جاے ورنہ ملک تین ٹکرے ۔کرسی مل جاے ورنہ فوج تباہ ہو جاے گی کرسی مل جاے ورنہ عوام لٹ جاے گی ۔کرسی مل جاے ورنہ اس ملک میں کوی بھی میری طرح مخلص لیڈر نہیں آے گا ۔بس ایک بار کرسی مل جاے لانگ مارچ دھرنوں سے ملکی ساکھ کو نقصان ہونا شروع ہو جاے گا ۔بس کرسی مل جاے پھر میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔کرسی مل جاے پھر جنرل باجوہ جیسا نیک ایماندار دنیا میں کوی نہیں اور پاک فوج جیسی عظیم فوج کسی ملک پاس نہیں۔

    یہ عمران خان ہی تو تھا کہ جب کراچی پی آئی اے حادثہ کا شکار ہوا پائلٹ سواریاں اور عملہ جاں بحق ہو گیا تو جناب نے سارا ملبہ پی آئی اے کے افسران پہ ڈال کر بہادری کی رقم قائم کر دی کہ پی آئی اے میں تمام افسران پائلٹ کی جعلی ڈگریاں ہے۔اور ان کو پی آئی اے سے نکال دیا گیا ۔لیکن پھر کیا ہوا کہ تمام ممالک نے پی آئی اے پر پابندی لگا جو اب تک لگی ہوئی ہے اور جب تحقیقات کی تو دو کے سوا کسی کی ڈگری جعلی نہ تھی ۔

    یہ عمران خان ہی تھا جو گراونڈ میں کہتا تھا کہ فوج کے خلاف خلاف نہ بولو فوج ہے تو ملک ہے پھر اپنی سوشل میڈیا ٹیم سے فوج کے خلاف گالی گلوچ کرواتا تھا ۔بعد میں اسی سوشل میڈیا ٹیم کو ملنے کے لیے پشاور بھی بلوا کر شاباش دیتا تھا ۔یہ عمران خان ہی تو تھا جو اپنے لانگ مارچ کو جہاد اور صحابہ انبیاء کرام کی جنگوں سے ملوا کر اپنے انصافین کو گھروں سے نکلنے کا جوش و جزبہ دلواتا رہا اور پھر جب وقت آیا تو مزاکرات کر کے راتوں رات پتلی گلی سے نکل گیا۔

    ۔کیونکہ عمران خان اور اس کے حمایتی سمجھتے ہیں کہ عمران خان سے بڑا گیمر بندہ پاکستان میں کوئی نہیں لیکن یہ سوچ ہے ان کی۔ ملک کرکٹ کی پچ نہیں ہے نہ ہی ملک دس چوکوں چھکوں سے چلتے ہیں کیونکہ یہ ملک ہے کرکٹ نہیں ۔کہ جہاں بلا میرے ہاتھ میں ہے تو بس میرے ہاتھ میں رہے بس میں ہی کھیلوں گا۔ کیونکہ میں کرکٹ کا چیمپئن ہوں دنیا مجھے چاہتی ہے۔۔لیکن یہ بھول جانا اس سے پہلے بھی یہاں تخت نشین کوی اور تھا اس کی بھی یہی سوچ تھی۔۔

    کاش عمران خان وہ لیڈر ثابت ہوتا جو پانچ سال پہلے اوپزیشن میں تھا ۔سچا کھرا سنہرے خواب دکھانے والا۔۔۔چوروں اور ڈاکووں سے پیسہ واپس لانے کے دعوے کرنے والا۔۔
    پر کیا ہے کہ خان بھی تو سیاست دان ہی نکلا ۔۔اور سیاست دان عوام سے کیے اپنے وعدے پورے ایسا بھلا کیسے ممکن تھا۔
    حنا سرور

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • عورتوں کا عالمی دن یا عورت مارچ ،تحریر: حنا سرور

    عورتوں کا عالمی دن یا عورت مارچ ،تحریر: حنا سرور

    8 مارچ عورتوں کا عالمی دن جو پوری دنیا میں عورتوں کے عالمی دن کے طور پہ منایا جاتا ہے
    اس دن کا مقصد مظلوم عورتوں کے حقوق پر آواز اٹھانا ہوتا ہے
    لیکن میرے پاکستان میں 8 مارچ کو عورت مارچ کا نام دیا جاتا ہے
    جہاں ایک طرف مدارس کی باپردہ عورتیں حجاب کے لیے سڑکوں پہ نکلتی ہے تو دوسری طرف کچھ کالجز اور یونیورسٹیز کی عورتیں اپنے مردوں سے آزادی لینے کے لیے سڑکوں پہ نکلتی ہے
    ان کے نعرے بھی مختلف ہوتے ہیں
    ایک طرف یہ
    مجھے وراثت میں حق دو
    میری پیدائش پر دکھی مت ہو
    میں اللہ کی رحمت ہوں مجھے بوجھ مت سمجھو
    مجھے تعلیم دو
    میری عزت کرو
    تو دوسری طرف نعرے ہوتے ہیں
    لو بیٹھ گئ ایسے ۔۔۔
    کھانا خود گرم کرو
    نہی پہنوں گی پورے کپڑے
    میں اپنی مرضی سے بچہ پیدا کروں گی
    مجھے اپنے مردوں سے آزادی چاہیے
    علی وزیر کو رہا کرو
    منظور پشتین کو ریاست مخالف جلسوں کی آزادی دو
    فوج بری ہے فوج یہ ہے فوج وہ ہے ۔بلوچستان دہشتگرد تنظمیں معصوم ہے ان کو کچھ نہ کہو
    اس کے علاوہ اسلام کے خلاف توہین آمیز بینر ہوتے ہیں۔۔پچاس مرد تو بیس عورتیں ہوتی ہے مردوں کے گلے میں پٹا ڈال کر بظاہر مرد کو کتا کہتی ہے۔۔اور وہ مرد خود خوشی خوشی اپنی تذلیل برداشت کررہے ہوتے ہیں ۔پتہ ہے کیوں؟

    کیونکہ یہ عورتیں ان کے ہی اشاروں پہ ناچ رہی ہوتی ہے
    پاکستان کو عورتوں کے لیے دنیا بھر کی نظروں میں برا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے
    2020 عورت مارچ پہ پابندی لگانے کے لیے عدالت میں درخواست بھی دی گئ تھی کہ عورت مارچ کے روپ میں یہ بیکار گروہ ہماری نوجوان نسل کا برین واش کررہا ہے
    ‏میرا جسم میری مرضی کے نعرے اور عورت مارچ کے پیچھے لادینیت اور الحاد کا ایجنڈا کارفرما ہے ورنہ اسلام نے تو عورت کو بہت ذیادہ حقوق دے رکھے ہیں.عورت ماں، بہن، بیٹی کے طور پر پاکستان میں بہت اچھا رول پلے کر رہی ہیں ہمیں کسی نئے حقوق، نعرے یا عورت مارچ کی ضرورت نہیں ہے
    اس پر 6 مارچ 2020 جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا ‏عورت مارچ کے نعرے درست ہیں خواتین اسلام میں دیےگئےاپنے حقوق مانگ رہی ہیں اور جج صاحب نے عورت مارچ پہ پابندی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔۔

    حیرانی کی بات نہیں ہے کیونکہ ہمارے ملک میں بیٹھے اعلی عہدوں کے لوگ خود اس ایجنڈے کو پرموٹ کررہے ہیں خواہ وہ شیریں مزاری ہو یا فواد چوہدری جیسا لبرل ۔جس نے ہمیشہ خود کو ایک خودساختہ مولانا بنایا ہوا ہے ۔کہ ہمیشہ جب اسلام پہ بات آتی ہے فواد صاحب جن کو شاید چھ کلمے بھی نہ آتے ہوں لیکن لبرل کہ روپ میں علماء والے کام بھی خود ہی کرنے لگ جاتے ہیں کہ جیسے ان صاحب کا ایک ہی کام ہے اور وہ علماوں اور لوگوں کے درمیان انتشار پھیلانے کا
    ورنہ اکثر ایسے موضوع پر جن پر بولنا ہو موصوف ہمیشہ خاموش ہی رہتے ہیں اور خاموشی سے ایسے ایجنڈوں کو پرموٹ کرتے ہیں

    اور سب سے اہم بات ۔جب ہمارے ٹی وی چینلز پر اخلاق سے گرئے ہوئے ڈرامے دیکھائے جائیں گے جب اک اسلامی ریاست کے نام پر بننے والے ملک میں عورت مارچ کے نام پر میرا جسم میری مرضی جیسے گھٹیا نعرے کے ساتھ ملکی شاہراوں پر سرعام بےحیائی پھیلای جاے گی تو پھر اس کا رزلٹ ایسے ہی یونیورسٹیز اور کالجوں نکلے گا۔
    کبھی سوچا ہے آپ نے یہ کیسی عورتیں ہیں ، ان کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے ، یہ نعرے یہ سلوگنز کہاں پے ترتیب دیے جا رہے ہیں ، حکومتی مشینری کو فعال ہونے کی اشد ضرورت ہے ، ورنہ ! بڑی خوفناک صورتحال پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے ، ہر سال انکے ڈرامے بڑھتے جارہے ہیں ، پہلے یہ صرف (کھانا) گرم کرنے کی بات کرتی تھیں اب بات بہت آگے بڑھ چکی ہے

    جب بھی عورت مارچ پہ پابندی کی بات ہوتی ہے عورت مارچ کے منتظمین ہمیشہ یہ ضمانت دیتے ہیں کہ غیر اخلاقی سلوگنز اور پلے کارڈز نہیں ہوں گے اور پھر تحریر شدہ بیہودہ اور انتہائی غلیظ نعروں والے بینر پکڑے ہوتے ہیں جو انہوں نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ سے ٹویٹ بھی کیے ہوتے ہیں سعودیہ میں ڈانس کلب کھلے ہوں تو آپ میں یہاں بیٹھے غیرت جاگنے لگتی ہے اور آپ سعودیہ کے خلاف ہیش ٹیگ چلاتے ہیں گستاخ سعودیہ ۔ترکی میں کچھ ایسا ہو تو آپ دین اسلام کہ ٹھیکدار بن کر ترکی خلاف ٹرینڈ چلاتے ہیں گستاخ ترکی اور خود نیک اچھے مسلمام بن جاتے ہو ۔

    لیکن آپ کے اپنے ملک میں پچھلے چند سالوں میں ہر سال یہ ہوتا ہے ۔اور دنیا بھر کا میڈیا اسے کوریج کرتا ہے اور آپ خاموش تماشائی بنے ہوتے ہو ۔

    کیا ہماری عدالت ان پر ایکشن لے گی۔یا یوں ہی فحاشی کی ذمہ دار بنتی رہیں گی.
    ایک بار پھر دینی حلقوں علماء و اکابرین سے درخواست ہے کہ آپسی رنجشیں اور فرقہ پرستی سے نکلیں اور یک جان ہو کر خدارہ ایسے فتنوں کی سر کوبی کریں۔
    حنا سرور

  • نشہ ایک لعنت ہے . تحریر:حنا سرور

    نشہ ایک لعنت ہے . تحریر:حنا سرور

    نشہ ایک بیماری ہے جس کا علاج انتہائ ضروری ہے ۔نشہ موت ہے زندگی انمول ہے ہر گلی محلے میں چرس آئس وغیرہ کی فروخت سرے عام ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل بربادی کی طرف گامزن ہے

    منشیات اور ہماری نوجوان نسل خاص کر طالبعلم طبقہ منشیات چرس،ایس،افیوم وغیره وغیره اگر ہم تھوڑا سوچ لے تو منشیات یا نشے کے جو عادی زیادہ تر ہمارے سٹوڈنٹس ہے وہ اس بیہودہ عمل میں مبتلا ہے.یہ زہر اج کل ہمارے طالب علموں میں اگ کی طرح پھیل رہا ہے.زیادہ تر لوگ اس سوچ میں پڑے ہیں کہ اس وبا کو اس اگ کو ختم کرنے والے کچھ سپیشل فورسیز ہے.پر میں ان لوگوں سے یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ اگر اس کی روک تھام کےلے کچھ کچھ سپیشل departments ہے تو اس وقت کہا رہتی ہے جب ہمارے طالب علموں کے ہاسٹلوں تک یہ زہر پہنچایا جاتا ہے ؟اس وقت وہ افیسرز کہا رہتے ہے جب ھمارے جوان بھای ریل کی پٹریوں پر بیٹھ کر افیوم پیتے ہے.؟وہ ادارہ کہا ہے جو کہتے ھیں کہ ھم اس کو روکینگے. اپ کے آفسز کے کے قریب اس کی جو فکٹریاں ہے جہاں یہ زہر تیار ھوتا ہے اس وقت اپ کے فورس کہا رہتی ہے؟کیا اپ لوگ ساری عمر خرام کی کماٸ کھاے گے .کیا ساری عمر اپ کو لوگ خبر دیتے رہیں گے؟خود بھی کچھ انویسٹیگیشن کرے گے یا نہیں؟اس باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس اگ اس زھر کو پھیلانے میں اور جوان نسل کو برباد کرنے میں اس ڈیپارٹمنٹس کے خود اپنے لوگ ہے

    اہم بات کی طرف آتے ہیں ۔جو لوگ نشہ بیچتے ہیں ان کو یہ احساس نہیں کہ اس سے لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے ۔نوجوان نسل میں بڑھتے ہووے منشیات کے استعمال کی وجہ سے ملک بھر میں ایسے سینٹر ہسپتال بن چکے ہیں جہاں نشہ کے عادی لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔ان کو واپس زندگی کی طرف لایا جاتا ہے۔۔آپ نے ہزاروں ایسے لوگوں سے رابطہ کیا ہوگا ۔جو نشے کے عادی ہوتے ہیں اور اگر ان سے یہ سوال کیا جاے ۔کہ تم نشہ کیوں کرتے ہو ۔تمھاری فیملی خاندان بچے لاوارثوں کی سی زندگی جی رہے ہیں کیا تمھیں ان پر ترس نہیں آتا ۔۔تو وہ ایک ہی جواب دے گا ۔۔کہ جی دوست نے نشہ پر لگا دیا تھا ۔۔یا کسی رشتہ دار نے ۔۔لیکن جب آپ پوچھو گے کہ تم نے اس سے کبھی چھٹکارہ پانا چاہا ۔۔تو اس کے پاس کوی جواب نہیں ہوگا ۔۔یاد رکھیے نشہ کے عادی انسان کا علاج تب تک ممکن نہیں جب تک وہ خود نشہ کو نہیں چھوڑنا چاہتا ۔ورنہ جو اس کی زندگی بچانے کی خطیر رقم اور کوشش کرتے ہیں ان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جب وہ صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ نشہ کرنا شروع کر دیتا ہے آپ نے اکثر نشئ لوگوں کو گند کہ ڈھیڑ پر کچڑے پر ہی بیٹھے دیکھا ہوگا ۔۔ایسی جگہوں پر ایک عام انسان کا کچھ لمحے رکنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن نشہ کہ عادی لوگ ہمیشہ ایسی ہی جگہوں پر بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ گند پیتے گند کھاتے ان کی رگوں میں بھی وہی گند سراہیت کر جاتا ہے کہ ان کو گٹر پاس بیٹھ کر بھی بدبو محسوس نہیں ہوتی ۔۔ بدبو میں رہنے والے ایک انسان کی سوچ نارمل کیسے ہو سکتی ہے نشہ انسان کو انسان سے حیوان بنا دیتا ہے ۔وہ بچوں کو بیچتے مارتے بیوی کو پیٹتے بھی درد محسوس نہیں کرے گا اکثر ایسے لوگ اپنی ماوں تک بھی کو نہیں چھوڑتے ۔لیکن ایک بات سمجھنے والی ہے ۔کہ نشہ ڈھونڈنے والا سترہ سال کا لڑکا زمین کی تہ سے بھی نشہ ڈھونڈ لیتا ہے جبکہ پولیس نشہ سپلائ کرنے والوں کو نہیں ڈھونڈ پاتی ۔۔کیسے نشہ سپلائ والا جیلوں تک ہسپتالوں تک بھی پہنچ جاتا ہے ۔۔کیسے صحت مند ہووے نشے کے عادی لوگ پھر سے نشے پر لگ جاتے ہیں ۔۔بظاہر دیکھنے سننے میں یہ عام سا لفظ ہے ڈائیلاگ مکالمہ ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ کیسے ۔آپکو شاید یاد ہو کہ منشیات کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے کتنے ایسے انسان قتل ہو چکے اس مافیا کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کئ ایسے لوگ لاپتہ ہو گے ۔۔آخر کیوں کیا یہ مافیا ہماری حکومت کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک میں کم از کم 67 لاکھ لوگ نشے کے عادی ہیں۔۔کہتے ہیں ہمارے ملک میں منشیات پر قانون بہت سخت ہے ۔۔حیرت ہے اتنے سخت قانون کے باوجود لاکھوں لوگ نشہ کررہے ہیں اور قانون دیکھ کر ان دیکھی کررہا ہے ۔۔

    ایک بات ماہرین کا خیال ہے کہ انسان پہلے پہل نشے کو بطور تفریح یا موج مستی استعمال کرتا ہے، جو رفتہ رفتہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ کینیڈا کی مک گیل یونیورسٹی کے ماہرین نے اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے رضاکاروں کی مدد سے انسانی دماغ کا تجزیہ کیا۔‏رسرچ جرنل میں شائع رپورٹ کےمطابق ماہرین نےرضاکاروں کو اپنےان دوستوں کےساتھ کوکین استعمال کرنے کے لیے کہا جو پہلےسےہی کوکین استعمال کرتےتھے۔ماہرین نے اس عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی،جس کے بعد ان رضاکاروں کے دماغ کا پی ای ٹی اسکین کیا گیا،جنہیں کوکین استعمال کرنےکے لیے کہا گیا۔ ‏اسکین کے وقت ان رضاکاروں کو دوستوں کی وہ ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں وہ دوستوں کے ساتھ کوکین استعمال کر رہے تھے۔ ماہرین نے اس دوران رضاکاروں کے دماغ کی حرکت کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ انکے دماغ کے وہ حصے جو کسی بھی چیز کی خواہش کرنےکے لیے استعمال ہوتے ہیں، وہ متحرک ہو گئے۔‏ماہرین نے بتایا کہ ہر انسان کے دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹر ہوتا ہے، جو انسان کی خواہش اور اس کی تکمیل سے متعلق نظام کا کام کرتا ہے، یہ سسٹم اس وقت متحرک ہو جاتا ہے، جب کسی بھی کام کو پہلے پہل تفریح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ‏ماہرین کے مطابق کئی لوگ کوکین کو پہلے بطور تفریح یا موج مستی کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر وہ اپنے دوستوں یا ارد گرد کے ماحول میں اس کا بار بار استعمال دیکھتے ہیں تو ان کے دماغ کا نیوروٹرانسمیٹر متحرک ہو جاتا ہے، جس کے بعد یہ عمل ان کی عادت بن جاتا ہے۔۔۔اس کے علاوہ بہت سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایڈز پھیلنے کی سب سے بڑی بیماری نشہ کرنے والے افراد کا سرنجوں کا غلط استعمال ہے ۔خیال رہے ایڈز کا مرض ایک وائرس کے زریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ایسی حالت میں کوی بھی بیماری جسم میں داخل ہوتی ہے تو مہلک صورت اختیار کر لیتی ہے

    آج کل ہمارے ڈراموں میں فلموں میں چینلوں میں شراب اور سگریٹ کو واضع دکھایا جاتا ہے اور اوپر لکھا ہوتا ہے شراب حرام ہے ۔سگریٹ نوشی حرام ہے ۔سمجھ سے باہر ہے نہ ۔کہ جب شراب سگریٹ حرام ہے تو آپ چینلوں پر لوگوں کو پلاتے دکھا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو آپ خود لوگوں کو اس پر لگا رہے ہو ۔کم عمر بچے بچیاں وہ جو دیکھیں گی وہی سیکھیں گے ۔۔پھر جب کہا جاتا ہے کہ نوجوان ڈراموں فلموں سے غلط چیزیں سیکھ رہی ہیں تو ہمارے کچھ مہان لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ نہیں جی ۔ تربیت تو والدین دیتے اب چینلوں کا کیا قصور ۔۔شاید آپ بھول گے ہیں کہ ایک تربیت معاشرہ بھی دیتا ہے ۔انسان اپنے آس پاس رہنے والوں سے جو دیکھتا ہے وہی سیکھتا ہے وہی کرتا ہے ۔۔۔آپ اپنی ریٹنگ کے لیے اس حد تک گر گے ہو کہ آپ اداکاروں کو ڈراموں میں شراب تک پلاتے ہو ۔۔کہنے کو یہ میرا اسلامی جہموریہ پاکستان ہے اور کرنے کو ہم نے ہر وہ کام کرنا ہے جو اسلام کے خلاف ہو جس سے اسلام نے منع کیا ہو ۔۔۔یا حرام اور ناجائز کہا ہو ۔۔

    نشہ کے عادی لوگ اپنی جان کے دشمن اور اپنے رب کے ایسے ناشکرگزار بندے ہیں جو اس کی عطا کردہ زندگی کی قدر کرنے کی بجائے اسے برباد کرنے پر تلے ہوتے ہیں اور منشیات فروش ملک و ملت کے وہ دشمن ہیں جو نوجوان نسل کو تباہ کرکے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں خداراہ اپنے بچوں پہ نظر رکھیں ان کی ہر ایکٹویٹی پر نظر رکھیں ۔۔۔وہ کہاں جارہے ہیں کیا کررہے ہیں ان کے دوست کون سے ہیں کہاں رہتے ہیں ۔یہ باتیں آجکل بہت چھوٹی لگتی ہے کیونکہ آج کہ دور کو جنریشن ماڈرن کہتی ہے اور والدین کا یوں پوچھنا ناگوار گزرتا ہے ان کو ۔۔دور کتنا ہی ماڈرن ہو جاے ایک وقت آتا ہے جب آپ کو پچھتاوا ہوتا ہے کہ والدین ٹھیک کہتے تھے ۔کاش ہم ان کی سن لیتے ۔۔لیکن پھر نہ والدین ہوتے ہیں اور نہ وہ لمحہ ۔۔سواے پچھتاوے کے۔۔

  • انسانیت شرما گئی کلیاں مرجھا گئیں تحریر حنا

    انسانیت شرما گئی کلیاں مرجھا گئیں تحریر حنا

    انسانیت شرما گئی
    کلیاں مرجھا گئیں
    میری ماں سے پوچھ کتنا لاڈلا تھا میں!
    16 دسمبر 2014
    سانحہ آرمی پبلک اسکول، پشاور
    اے پی ایس کا دلخراش واقعہ 16 دسمبر 2014 کو پیش آیا تھا جب صبح علم کے حصول میں مصروف طلبہ 10 بجے کے وقت سات دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے۔ یہ وہ دن تھا جس کا سورج حسین تمناؤں اور دلفریب ارمانوں کے سنگ طلوع ہوا مگر غروب 144 معصوم و بےقصور بچوں کے لہو کے ساتھ ہوا۔
    مائیں دروازے تکتی رہ گئ ۔۔بچے سکول سے سیدھے جنت چلے گے ۔۔16 دسمبر کا دن ملک کی تاریخ کے اہم ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے ۔۔۔یہ تاریخ کے لحاظ سے پاکستان کا سیاہ ترین دن ہے ۔۔آج کا دن اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔۔کہ آج کے دن 16 دسمبر 2014 آرمی پبلک سکول میں ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 افراد زخمی ہووے تھے ۔۔آج چھ سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ المناک سانحہ لوگوں کے دلوں میں روز اول کی طرح تازہ ہے ۔۔۔اس سانحہ میں شہید ہونے والے کچھ ایسے بچے قوم کا سنہرا مستقبل تھے ۔۔یوں کہ لیجیے کہ دشمنوں نے ہمارے مستقبل کو شہید کیا تھا ۔۔۔144 خاندان اجڑ گے تھے ۔۔144 والدین کی گود خالی ہو گئ تھی ۔۔144 والدین کے سہارے ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گے تھے ۔۔144 ماوں کی آنکھوں کا نور ان سے جدا کر دیا گیا تھا ۔۔144 بچوں کو خون میں نہلایا گیا تھا ۔۔۔۔کافر اسلام کو دہشت گرد کہتے ہیں. سنو حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا. اِس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سختی سے) عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرما دی.‘‘مطلب کہ جنگ میں بھی عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو ۔۔۔یہ کیسے کافر تھے کیسے درندے پتھر دل لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے بچوں کو معصوم کلیوں کو شہید کیا ۔۔۔آج میں سلام پیش کرتی ہوں ان بچوں کو ان شہیدوں کو جن معصوموں نے اپنا لہو دے کر اس وطن کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کیا.میں سلام پیش کرتی ہوں ۔۔
    شہید سیف اللہ ❤ شہید نورواللہ
    دونوں سگے بھائ تھے… شہید سیف اللہ نویں جماعت اور شہید نورواللہ آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔۔۔دونوں بھائ اس سانحے میں شہید ہو گے تھے ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں ۔۔ شہید مبین آفریدی کو ۔۔جو دو بہنوں کا اکلوتا بھائ تھا ۔۔مبین دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور ساتھ قرآن پاک بھی حفظ کررہا تھا ۔۔مبین بھی اس سانحے میں شہید ہوا تھا ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں حارث نواز کو جو ساتویں کلاس کا طالب تھا ۔۔میں سلام پیش کرتی ہوں احمد نواز کو جس کے سامنے 144 بچوں کا خون بہا ۔۔اس کے بھائ کو شہید کیا گیا ۔۔وہ خود اس سانحے میں زخمی ہوا ۔۔لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری ۔اپنی منزل پانے کے لیے اپنے شہید بھائ کے خواب پورے کرنے کے لیے وہ آج بھی محنت کررہا ہے ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں
    اس استاد کو
    سعدیہ گل خٹک آرمی پبلک سکول میں انگلش پڑھاتی تھیں , وہ ایک خوش طبعیت اور ملنسار خاتون تھیں . جو 7 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پہ تھیں , انھیں دوستوں کے ساتھ باہر جانا پسند تھا . ہر شام وہ دوستوں کے ساتھ واک کے لیے نکلتیں .
    16 دسمبر 2014 کو جب سکول پہ حملہ ہوا تو انھیں وہاں پڑھاتے ہوئے ابھی 5 مہینے ہوئے تھے , حملے کے وقت وہ سٹاف روم میں موجود تھیں , انھوں نے ایک حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی جس پر انھیں گولی لگی اور وہ شہید ہو گئیں ……
    میں سلام پیش کرتی ہوں نویں کلاس کے اسامہ اور عاطف رحمان کو جن معصوموں نے اس وطن کے لیے اپنا لہو بہایا ۔۔۔144 بچوں کو میں سلام پیش کرتی ہوں ۔جن بچوں کے سامنے بے دردی سے کسی نے چھپکلی بھی نہ ماری تھی ان بچوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے ساتھیوں کو بہن بھائیوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا ۔۔۔۔ان بچوں کو زخمی کیا گیا ۔۔۔یہ ایسا غم ہے جو کبھی بھی کوی بھی نہیں بھولے گا ۔۔۔خدا کرے میری ارض پاک پر اترے ۔۔وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو ۔۔۔
    ہم تمہیں بھولے نہ ہی بھولیں گے۔۔۔!!!
    اے پی ایس پشاور کے شہداء تمھیں سلام ۔۔۔۔!!!
    اللہ پاک ان تمام شہداء کے درجات بلند فرماے آمین اور ان کے والدین کو صبر دے ۔آمین ۔۔الفاظ بہت کم ہے ۔۔۔اور سانحہ بہت بڑا تھا۔۔۔۔آج بھی لکھتے ہووے آنکھوں سے آنسو ایسے جاری ہے جیسے یہ سانحہ آج ہوا ہو ۔۔۔۔سانحے کتنے بھی پرانے ہو جائیں ۔۔لیکن ان کا غم ان کا دکھ ہمیشہ ہوا کے جھونکے کی طرح تازہ رہتا ہے ۔۔۔جب دہشت گردوں نے حملہ کیا اس وقت دہشت گردوں سے لڑنے والے
    شہزادے ہیرو کو سب جانتے ہی ہوں گے۔ اے پی ایس کے سانحہ کے وقت ایس ایس جی کے جس دستہ نے آڈیٹوریم میں گھس کر دہشتگردوں کو مارا اس دستہ کو ضرار کمپنی کے کیپٹن عابد صاحب لیڈ کر رہے تھے۔ یعنی اندر آڈیٹوریم میں جب دہشتگرد معصوم بچوں پر بہادری دکھا رہے تھے تب اللہ ہو اکبر کی صدا بلند کرکے داخل ہونے والے پہلے ولنٹیئیر کا نام کیپٹن عابد زمان خان تھا۔۔
    یہ پہلا بندا تھا جو اپنی ٹیم کو لے کر داخل ہوا اور ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے خود داخل ہوا اور پھر باقی ٹیم… اور اس طرح بزدل جہنمی کتے لڑکھڑا گئے۔۔ اس وقت کیپٹن عابد کو گولی بھی لگی جس سے وہ کافی زخمی ہوئے لیکن کمال مہارت اور بہادری سے خوارجیوں کو مار دیا اور کچھ دہشتگردوں نے ضرار ٹیم کی للکار کے ڈر کی وجہ سے خود کو اڑا دیا۔۔۔ اس طرح الحمدللہ پاک فوج کے جوانوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کئی بچوں کو بچا لیا۔۔ ورنہ اس حال میں تو شاید 400 سے اوپر بچے تھے۔۔
    کیپٹن عابد کافی دن ہسپتال رہے لیکن الحمدللہ وہ مکمل صحت یاب ہو کر دوبارہ ڈو آر ڈائی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔۔۔
    مجھے ان کا یہ جملہ کبھی نہیں بھولے گا جب انہوں نے کہا کہ ہماری پوری ٹیم یعنی ایس ایس جی ضرار کمپنی کے پاس 2 آپشن ہوتے ہیں کہ مار دو یا مر جاو۔۔ہماری ٹیم میں سب volunteer ہوتے ہیں۔۔ اور ہم آخری آپشن ہوتے ہیں ہمارے بعد کسی فورس نے نہیں آنا ہوتا۔۔۔ اور پھر بڑے فخر سے کہا الحمدللہ آج تک کوئی دہشتگرد ہمارے سامنے ٹک نہیں پایا۔
    مطلب ان کے پاس پیچھے ہٹنے یا ڈرنے دوڑنے والا کوئی آپشن ان کی ڈائری میں نہیں۔۔۔
    سنا ہے ہال میں 7 درندے تھے جن میں سے 3 کو اکیلے کیپٹن عابد نے جہنم واصل کیا تھا میں سلام پیش کرتی ہوں پاک فوج کے اس بہادر جوان کو ان کی پوری ٹیم کو ۔ ۔۔سانحے واقعات دکھ غم اس زندگی کا حصہ ہے ۔۔سانحے تو ہوتے ہیں ۔لیکن اس سانحات سے سیکھنے والی قومیں بہت کم ہوتی ہے ۔۔۔مجھے فخر ہے میری قوم نے اس سے سیکھا ۔۔۔مجھے فخر ہے کہ میری مائیں ڈری نہیں ۔۔۔مجھے فخر ہے اس باپ پر جس کے دونوں جوان بچے شہید ہووے اس کے باوجود وہ ہمت سے کہ رہا تھا کہ میرا کوی تیسرا بیٹا ہوتا تو میں اسے پڑھاتا ۔۔۔مجھے فخر ہے ان تمام والدین پر جن کے بچے آج بھی آرمی پبلک سکول میں پڑھ رہے ہیں ۔۔۔۔مجھے فخر ہے ان بچوں پر جنھوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے شہید بہن بھائیوں کے خواب پورے کرنے کے لیے محنت سے دل لگا کر پڑھ رہے ہیں ۔۔۔اللہ پاک میرے وطن کو ایسے سانحات سے محفوظ رکھے آمین ۔۔۔
    برسی پر پھول دیکھے تھے ۔آج پھولوں کی برسی ہے
    حنا سرور

  • یکساں تعلیمی نصاب اور روشن پاکستان تحریر؛حنا

    یکساں تعلیمی نصاب اور روشن پاکستان تحریر؛حنا

    آپ جانتے ہوں گے ۔کچھ دن پہلے پورے پاکستان میں یکساں تعلیمی نصاب کا قانون بنا دیا گیا ہے ۔۔اور پرائمری لیول تک پورے ملک میں یکساں نصاب پڑھایا جاے گا ۔اس پر ایک مخصوص گروہ کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے ۔ہمارا مسئلہ يہ ہے کہ ہم ہر چيز کو مخصوص عينک لگا کر ديکهتے ہيں اور اپنے مطلب کے معنی اخذ کرتے ہيں۔يہی وجہ ہے کہ ہميں صرف قابلِ اعتراض چيزيں ہی نظر آتی ہيں جو بعض اوقات قابلِ اعتراض ہوتی بهی نہيں ہيں۔۔‏جیسے دین بیزار feminists،liberals پاگلوں کی طرح نئے یکساں تعلیمی نصاب کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ تڑپ رہے ہیں۔ لڑکی کو نماز پڑھتی کیوں لکھا، عورتوں کو دوپٹے میں کیوں دکھایا، لڑکے فٹبال کھیلتے کیوں لکھا لڑکی کیوں نہیں، لڑکی گھر کی صفائی کرتی کیوں دکھائی، عورتوں کو ٹیچر اور نرس ہی کیوں دکھایا۔ لڑکی زمین پر بیٹھی لڑکا کرسی پر کیوں ۔لڑکا زمین پر بیٹھا تو لڑکی کرسی پر کیوں ۔ان کے اعتراضات یا تنقید سے لگتا ہے کیا کہ کہیں سے بھی یہ پڑھے لکھے شعور والے لوگ ہے انھوں نے دنیا گھوم لی جہازوں میں سفر کر لیے ۔ہر ملک جا کر گوروں ساتھ سیلفیاں بھی بنوا لی لیکن ان کی سوچ سے آج بھی جھونپڑی میں رہنے والے اس محنت کش مزدور کی سوچ اچھی ہے جو ٹوٹی سائیکل پر بھی پرچم لگاتا ہے اور وطن سے محبت کا اظہار کرتا ہے. یہ کیسے لوگ ہے جو دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ پر گھومتے ہیں اور پھر گوروں کے سامنے اپنے ملک کو بدنام کرنے واسطے کچھ بھی بولتے رہتے ہیں ۔
    ہم ایک پاکستانی ہے ایک قوم ہے مانتے ہیں نہ تو ہم ایک نصاب کیوں نہیں بنا سکتے ہیںایک نصاب کیوں نہیں پڑھ سکتے ۔ ۔۔‏یکساں تعلیمی نصاب کی تجدید صرف کپتان نے اکیلے نے نہیں کی ۔ ۔اعلی تعلیم یافتہ افراد اور اسکالرز نے کی ہے. موجودہ معاشرے کے تمام اہم پہلو اور اخلاقیات کو بہتر کرنے کے حوالے سے مضامین شامل کئے گئے ہیں. تمام بڑے پبلشرز، سرکاری تعلیمی بورڈ اور پرائیوٹ اسکولوں منیجمنٹ ٹاسک فورس بھی اس میں شامل تھی.تنقید کرنے والے اس سے لاعلم ہیں۔۔۔تنقید کرنے والے کیا نہیں چاہتے کہ اس ملک کا غریب بھی پڑھ لکھ سکے ۔۔کیا نہیں چاہتے کہ جو کتابیں ان کے بچے پڑھ رہے ہیں ۔وہی کتابیں غریب کا بچہ بھی پڑھ سلے اپنا اچھا مستقبل بنا سکے ۔۔۔اگر ایسا نہیں تو تنقید اور حکومت کے اس فیصلے کو برا بھلا کیوں بول رہے ہیں
    یکساں نصاب کے اس فیصلے کو ہر باشعور پاکستانی کیطرف سے قابل تحسین قرار دیا گیا۔
    لیکن بیکن ھاؤس کے پرنسپل مائیکل تھامس نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔اس انکار کی وجہ شاید آپ جانتے ہی ہوں دو تین سال باقاعدہ سوشل میڈیا پر بیکن ہاوس کے خلاف کمپین چلائ گئ تھی ۔اس کمپین میں پڑھائے جانے والی نصابی کتب کے سکرین شاٹس شئیر ہوئے جن میں پاکستان کے ایسے نقشے تھے جہاں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور ان کتابوں میں ان کو ” انڈین سٹیٹس” لکھا ہوا تھا ۔
    بیکن ھاؤس پاکستان کا سب سے مہنگا سکول ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق بیکن ھاؤس ماہانہ 5 تا 6 ارب اور سالانہ 60 تا 70 ارب روپیہ پاکستانیوں سے نچوڑتا ہے۔۔مطلب اتنا پیسہ کماتا ہے پاکستان سے ۔وہ بھی کس لیے؟ پاکستانی بچوں کے دماغوں میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کے واسطے ۔
    اس کے علاوہ لبرل ازم کا علمبرادار ” بیکن ھاؤس ہر سال پاکستانی سوسائٹی میں اپنے تربیت یافتہ کم از کم 4 لاکھ طلبہ گھسیڑ رہا ہے۔ یہ طلبہ پاکستان کے اعلی ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سرکاری اداروں کے بڑے بڑے بیوروکریٹ، صحافی، سیاستدان، بزنس مین اور وڈیرے شامل ہیں۔
    مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون آیاز نظامی کے الفاظ شائد آپ کو یاد ہوں جس کا کہنا تھا
    ہم نے تمھارے کالجز اور یونیوسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمھاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرات اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمھاری پوری تاریخ رد کردینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمھارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریہ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوی نعرہ لگے گا اور وہ تمھارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمھارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائینگے حتی کہ تمھارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے
    صرف بیکن ہاوس ہی نہیں بہت سے ایسے پرائیویٹ اسکولز کالجز ہوں گے جن کا اکثر نصاب سرکاری سکولوں میں پڑھائ جانے والی کتابوں سے بہت حد تک مختلف ہوتا ہے
    پرائیویٹ سکول میں پڑھنے والے اکثریت بچوں کی اسلام بارے الف ب نہیں جانتی ہوتی ان کو یہ تک نہیں پتہ ہوتا کہ آل رسول کون ہے ان کے نام کیا ہے اصحابیات کون تھے ۔۔
    ایسی بہت ساری چیزیں جو اہم ہے جاننا ہمارے دین کا حصہ ہے وہ پرائیویٹ سکولوں میں نہیں پڑھائ جاتی ۔۔۔ان سکولوں کا مقصد صرف انگلش پہ فوکس ہوتا ہے پھر انگلش میں چاہے یہ پاکستان کے خلاف پڑھاتے رہیں ۔یا دین اسلام کے ۔۔لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سکول پوری ریاست کی مخالفت کررہا ہے ۔ایک ملک کی مخالفت کررہا ہے ۔۔میرا رائے ہے ۔۔فقط تعلیم.میں نہیں تمام ڈیپارٹمنٹ یکساں ہونے چاہیے تاکہ غریب اور امیر کا امتیاز مٹ جائے۔۔۔اور کسی کے دماغ میں بھرا امیر بھرتر والا خناس بھی مٹ جاے ۔۔۔یکساں تعلیمی نصاب سے نوجوانوں کا مستقبل روشن ہوگا ۔۔میرٹ بھی عام ہوگا ۔۔یہ فرق بھی مٹ جاے گا کہ جی میں تو فلاں کالج سکول سے مہنگی فیسوں پر پڑھا ۔پڑھی ہوں ۔تو میری اہمیت سرکاری سکول میں پڑھنے والے بچے سے زیادہ ہو ۔۔۔یکساں تعلیمی نصاب حکومت پاکستان کا بہترین فیصلہ ہے ۔خدارا حکومت کے بغض میں غریب سے حسد تو نہ کریں ۔۔۔حکومت کے اس فیصلے کو سراہیں تاکہ جلد از جلد تمام سکول کالجز میں یکساں تعلیمی نصاب کا سلسلہ جاری ہو سکے ۔۔سڑک میں پڑھا پتھر ثابت نہ ہوں۔۔۔بلکہ دوسروں کے لیے امید کی کرن بنیں
    ۔

  • منشیات سے چھٹکارا تحریر حنا

    منشیات سے چھٹکارا تحریر حنا

    منشیات نشہ حرام ہے جو بعض اوقات موت کا سبب بنتی ہے ۔ اس کے ساتھ اسلام میں بھی ہمیں بتایا گیا ہے کہ نشہ حرام ہے ۔لیکن آج کل بچے لڑکیاں بزرگ سب اس نشے میں لگے ہووے ہیں کوی سگریٹ منہ میں رکھے وڈیو بنا رہا ہے تو کوی شراب کی بوتل پکڑے ٹک ٹاک پہ ناچ رہا ہے۔ آج کل جنریشن سگریٹ میں زہریلی سے زہریلی نشہ آور ادویات ملا کر پیتی ہے جو شراب کی ہی ایک قسم کہلاتی ہے اور جو انسانی جسم کے لیے نہایت نقصان دہ بھی ہوتی ہے ۔۔بچپن میں دادی سے سنتی تھی کہ نشہ لگانے والا پہلے آپکو خود اپنی جیب سے پیسے لگا کر نشہ کرواے گا ۔خود سے پیسے خرچ کر کہ آپ کو نشہ خرید کر دے گا ۔پھر دھیرے دھیرے جیسے نشے کی لت لگتی جاے گی ۔وہ آپ سے پیچھا چھڑاے گا..موت کے کنواں میں ہر کوی دھکیلتا ہے لیکن نکالتا کوی کوی ہے ۔۔نشہ آور چیزیں ہمارے سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں تک پہنچ گئ ہے ۔کہیں کوی سموسوں میں نشہ ڈال کر بیچتے پکڑا جاتا ہے تو کہیں کوی سکول میں کم عمر بچوں کو چیزوں میں نشہ کی ملاوٹ کر کہ ان کو وہ چیزیں کھلا رہا ہوتا ہے ۔درباروں مزاروں سڑکوں پہ بیٹھے نشئ لوگوں کی کبھی کہانیاں سنی ہے ان میں سے بیشتر اچھے خاندان سے ہوتے ہیں اور بیشتر کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ جی وہ دوست نے لگا دیا تھا نشہ پر یا ٹیچر نے یا انکل نے ۔۔لیکن نشہ کے عادی ان مجرموں کو مریضوں کو بطور پاکستانی شہری اور انسان ہونے کے ناطے نشہ کے اس کنویں سے ان کو ہم نے نکالنا ہے ۔۔افسوس اس بات ہے کہ آج کل والدین اولاد کی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دیتے ۔کہ ان کی اولاد کیا کررہی ہے ۔بیٹا بیٹی دروازہ بند کیے کس سے بات کررہے کیا کررہے ہیں کہیں کچھ غلط تو نہیں سکول بیگ شاپنگ بیگ چیک کرنا کہیں کسی غلط چیز میں تو نہیں پڑ گے ۔کہیں کچھ غلط تو نہیں کھا رہے کسی نشہ آور چیز میں تو نہیں پڑ گے۔نشہ کا عادی مجرم اس حد تک بے حس ہو جاتا ہے کہ وہ اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے ۔اپنی بیوی بچے بھی بیچ دیتا ہے گھر کا سامان پیسے زیور چوری کر کہ نشہ پورا کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے ۔اس کے لیے دین و دنیا سے کوی غرض نہیں ہوتی ۔اسے بس ایک ہی غرض ہوتی ہے اور وہ اپنا نشہ پورا کرنے کی پھر چاہے وہ کچھ بھی کرے کسی کا قتل یا کسی سے زناء یا کسی کو اغواء ۔غرض یہ کہ نشہ کا عادی اللہ کا تو نافرمان ہوتا ہی ہے ۔لیکن اپنے تمام حقوق العباد سے بھی لاپروہ ہو جاتا ہے بیوی بچوں کے اخراجات سے بچوں کی تعلیم سے والدین کی خدمت سے بچوں کے اچھے پہناوے سے ۔نشہ کا عادی انسان خود تو تڑپ تڑپ کر مرتا ہے لیکن بیوی بچوں کو بھی حالات کے رحم و کرم پر سسکتا چھوڑ جاتا ہے
    ۔۔منشیات کے عادی مجرموں کو مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کروایا دیا جاتا ہے ۔لیکن اکثریت کو مکمل علاج کے بعد پھر بھی آرام نہیں آتا وہ نشہ سے پھر بھی چھٹکارا نہیں پا سکتے ۔کیوں ۔کیونکہ وہاں بھی ان کو نشے کی سہولت مکمل دی جاتی ہے جس میں وہاں کا عملہ بھی شامل ہوتا ہے ۔ہسپتال ہوٹلوں پارکوں جیلوں ایسی جگہوں پر جہاں منشیات کے مریض ہوں وہاں منشیات فروخت کرنے والا بھی ضرور ہوتا ہے ۔سانپ کو مارنے کے لیے سانپ کے سر کو کچلا جاتا ہے اگر ہم نے منشیات کے خلاف اعلان جنگ کر ہی دیا ہے تو ہمیں اس سانپ کو ڈھونڈ کر کچلنا ہو گا جو وہاں تک پہنچ جاتا ہے جہاں قانون بھی اندھا ہوتا ہے ۔۔
    منشيات کی مثال پڑوس میں لگی ہوئی آگ کی طرح ہے۔ آپ زیادہ دیر تک تماشا نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کا گھر جلد ہی اس آگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
    اس آگ (منشیات) کو قابو کرنے کیلئے جلد از جلد آپ کو کچھ کرنا پڑے گا، ورنہ دیر ہو جائے گی۔۔
    رسول اللہﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔
    ”لا تشرب الخمر فإنھا مفتاح کل شر”
    ”شراب مت پیو یقیناً یہ ہر برائی کی چابی ہے”۔
    (سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ باب الخمر رقم ۳۳۷۱)
    دوسری حدیث میں ہے۔
    ”کل مسکر حرام وما اسکر کیثرہ فقلیلہ حرام”
    ”ہر نشہ لانے والی شے حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ لائے اسکی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے”۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ رقم ۳۳۹۲)
    دونوں احادیث کے مطابق واضح طور پر شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے قرآن حکیم میں بھی شراب نوشی سے روکا گیا ہے۔ نبی کریمﷺ تمام انسانیت کےلیے نبی بنائے گئے اور آپکی نبوت تا قیامت تک کےلئے ہے آپﷺ نے ہر ان خطرات سے امت کو آگاہ فرما دیا جس کے کرنے سے امت گمراہ اور راہ حق سے بہک جائے، شراب ایک ایسی لعنت ہے کہ جو اسکا عادی ہوتا ہے اسکے سامنے اسکی محرمات کی حرمت بھی برقرار نہیں رہتی۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں ایک واقعہ بھی بیان فرمایا کہ ایک خوبصورت عورت نے اپنے پاس شراب رکھی اور ایک بچہ کو رکھا اور ایک شخص کو مجبور کیا کہ وہ تین میں سے ایک برائی کم سے کم ضرور کرے ، یا تو وہ اس عورت کے ساتھ بدکاری کرے ، یا اس بچہ کو قتل کر دے ، یاشراب پئے ، اس شخص نے سوچا کہ شراب پینا ان تینوں میں کمتر ہے ؛ چنانچہ اس نے شراب پی لی ؛ لیکن اس شراب نے بالآخر یہ دونوں گناہ بھی اس سے کرالئے ۔ ( نسائی : ۵۶۶۶)
    حکومت پاکستان ملک بھر میں منشیات ڈیلر اور مافیا کے خلاف سرچ آپریشن کرے تاکہ آنے والی نوجوان نسل کو اس عذاب سے نجات اور چھٹکارا مل سکے۔
    اور اس کے ساتھ ساتھ جو بھی منشیات کے کاروبار سے منسلک ہو یا خرید و فروخت میں ملوث ہو اس کو بھی عمر بھر قید یا پھانسی کی سزا کیلئےقانون سازی کی جائے۔
    کیونکہ یہ نواجوان اور ان کے والدین کو جیتے جی مار دیتے ہیں۔
    ۔

  • پبلسٹی کا جنون  تحریر حنا

    پبلسٹی کا جنون تحریر حنا

    بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی بات کی جاے ۔تو کئی سال قبل کی بات ہے کہ پہلے گھروں کا ماحول کم تعلیم یافتہ رہ کر بھی کیا خوب تھا.جب بچے جوتے پہن کر پاؤں کو گھسیٹ کر چلتے دکھائی دیتے تو ماں اُسے اِس حرکت پر سرزنش کرتی اور کہتی کہ اچھے بچے اس طرح نہیں چلا کرتے،اسی طرح زور زور سے ہنسنے،چیخنے چلانے سے منع کرتی،آہستہ بولنے کی ترغیب دیتی.اور دیگر آداب گھروں میں بچوں اور بچیوں کی تربیت کے لیے مائیں سکھاتی ہوئی نظر آتی تھیں،وہ اس مقولے پر عمل کرتی تھیں کہ کھلاو سونے کا نوالہ لیکن دیکھو شیر کی نگاہ سے ، یہی وجہ ہے کہ ان کی تربیت میں پروان چڑھنے والی اولاد اپنی اسی بہترین تربیت کی وجہ سے مثالی اولاد قرار پاتی تھی،ماں سے اولاد قرآن سیکھنے.دعائیں یاد کرنے.قصے کہانیاں وغیرہ سننے کی عادی تھی.اس طرح بچے طفلی مکتب کے زمانے سے ہی بچوں کے عالم شمار ہوتے.یومیہ تلاوتِ قرآن کا ماحول پابندی سے ہوتا.ان میں پھر دادا دادی اگر تلاوت کر رہے ہوتے تو بچے ان کی گود میں جا کر بیٹھتے اور قرآن سنتے.اِسی حسن تربیت اور ماحول سے بچے تربیت یافتہ ہو کر نکھرتے تھے.اسی طرح بچوں کے کھیل بھی نرالے ہوتے تھے۔اور اس کے برعکس آج دیکھا جاے تو آج کل
    پبلسٹی ۔مشہوری ہمارے معاشرے کا بڑھتا ہوا ناسور ہے ۔۔بچے سے لیکر بزرگ تک جس کے پاس ٹچ موبائل ہے ہر کسی کی یہ کوشش ہے کہ راتوں رات انٹرنیٹ کی دنیا میں مشہور ہوا جاے ۔اس مشہوری کے چکر میں اکثریت والدین اپنے کم عمر بچوں کا استعمال بھی کررہے ہیں ۔اگر ان کو کہا جاے کہ خدا کا واسطہ یار بچوں کے ننھے دماغوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرو ۔تو ان کے چمچے کہیں گے ۔۔کہ جناب یہ تو جلتا ہے بچے سے جلتے ہے ۔مطلب کہ آئنہ نہیں دیکھنا ۔الٹا طنزیہ کلام شروع ۔۔بچوں کے کچے ذہنوں کو استعمال کرنے والے جانتے نہیں کہ کل یہی بچے ان کے سامنے صرف تقاریر لمبے بھاشن ہی جھاڑیں گے ۔۔اخلاق خدمت کی ہرگز توقع نہ رکھیے گا ۔کیونکہ آپ نے بچوں کو صرف سکرین کے آگے بول کر لوگوں کو متاثر کرنا سکھایا ۔آپ نے ہجوم میں بچےکو سلام کرنا تو سکھایا لیکن گھر بزرگ نانا نانی دادا دادی سے ملنے کی بھی پابندی لگا دی ۔کہ نہیں وقت نہیں ہے ۔۔بہت مصروفیات ہے وڈیو بنانے میں ۔۔ہمارے ہاں بچوں کو فون لیپ ٹاپ آئ پیڈ دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم بہت ماڈرن ہے ۔۔ہمارے بچے بہت ماڈرن ہے ۔مطلب اپنی طرف سے یورپی گوروں کے بچوں کی نقل ۔لیکن آپ جانتے ہیں یورپی ملکوں میں بچوں کو فون نہیں دیتے ۔اگر دیتے ہیں تو والدین پر زمہ داری ہے کہ بچے پہ پوری نگرانی کی جاے ۔بچہ فون میں کچھ غلط تو نہیں سیکھ رہا ۔بچے کی ہر ایکٹویٹی پر نظر رکھنا والدین کی زمہ داری میں ہوتا ہے اور یہ زمہ داری حکومت یا بچے کے سکول کی طرف سے بھی ہوتی ہے ۔۔لیکن ہم تو بچوں کو فون دے کر بچوں کی تربیت کرنا ہی بھول گے ۔ہمیں نہیں پتہ بچے فون میں کیا دیکھ رہے ۔کیا سیکھ رہے ہیں ۔یا پھر کم عمر بچے کسی غلط ایکٹویٹی کا حصہ تو نہیں بن گے ۔۔ہم خوش ہوتے ہیں بس اس بات پر دیکھو بچہ گیم کھیل کھیل کر انگریزی سیکھ گیا ۔دیکھ میرا بچہ کتنا لائق ہے مشکل سے مشکل اون لائن گیم کھیل لیتا ہے جیتتا بھی ہے لیکن کبھی غور کیا ۔وہی بچہ نماز پڑھتا ہے۔کیا اس بچے کو نماز پڑھنا آتی ہے ۔کیا اس بچے کو چھ کلمہ آتے ہیں ۔کیا اس بچے کے بولنے کے انداز میں بدتمیزی تو نہیں جھلک رہی ۔۔۔کیا بچہ چوبیس گھنٹے موبائل فون استعمال کر کر کہ نفسیاتی اور چڑا چڑا تو نہیں ہورہا ۔کیا بچہ اپنے فون کے بنا دو گھنٹے بھی رہ سکتا ہے ۔۔یہ تو ہم بھول ہی گے ۔۔ہم نے بچوں کو سکھایا کیا ۔صرف مشہور ہونا ۔۔کہ جتنا بولو گے اتنے لائک اتنا زیادہ پیسہ اتنا زیادہ تالی مارنے والا ہجوم ۔بچوں کی اچھی تربیت صرف والدین کے لیے اہم نہیں ۔بلکہ معاشرے کا ایک بہترین انسان بننانے کے لیے بھی اہم ہے ۔ایسا انسان جس پر ہر کوی ناز کرے ۔۔جو سڑک میں گرا پتھر ثابت نہ ہو بلکہ تپتے صحرا میں وہ دھوپ کی مانند درخت ہو جو اپنے اخلاق سے دوسروں کو چھاوں دے سکیں ۔حضور اکرم صلى الله عليه وسلم حضرت عبداللہ ابن عباس رضى الله تعالى عنه کو بچپن میں تعلیم فرماتے ہیں ”اے بچے! خدا کو یاد رکھ تو اس کو اپنے سامنے پائے گا، اور جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر اور جب تو مدد چاہے تو اللہ ہی سے مدد مانگ اور جان لے اس بات کو کہ اگر تمام لوگ اس بات پر اتفاق کرلیں کہ تجھ کو کچھ نفع پہنچانا چاہیں تو ہرگز اس کے سوا کچھ نفع نہیں پہنچاسکتے جو کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے اور اگر سب لوگ اس پر متفق ہوجائیں کہ تجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہیں تو ہرگز اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے جو اللہ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے۔(مشکوٰة شریف،ص:۴۵۳)
    پبلسٹی مشہوری کی بجاے بچپن سے ہی توحید کی بنیاد پر بچہ کی ذہن سازی کی جائے اور اس کا یقین اللہ کی ذات پر پختہ کرادیا جائے تو اس کے اثرات نمایاں محسوس ہوتے ہیں، توہمات سے اس کا دل ودماغ پاک رہتا ہے اس کے اندر غیرت اور خودداری آجاتی ہے اور بچپن میں بناہوا یقین دل میں پختگی کے ساتھ جم جاتا ہے۔
    ۔

  • کام والیاں  تحریر: حنا

    کام والیاں تحریر: حنا

    ہمارے معاشرے میں گھروں میں کام کرنے والی عورتوں بچیوں لڑکیوں کو نام دیا جاتا ہے ۔کام والیاں ۔۔۔۔کہ یہ تو کام والی ہے ۔۔وہ سارا دن ہمارا کام کریں گی ۔ہمارے جوٹھے برتن دھوئیں گی ۔۔خون پسینہ ایک کر دیں گی صبح سے شام کام کر کر کہ۔چاہے گھر میں سو لوگ کی دعوت ہو یا دس لوگ کی ۔برتن دھونا ان پر فرض ہو جیسے ۔۔بعد معاوضے میں انھیں ہزار پانچ سو دے کر ان کی سات نسلوں تک احسان جتانا مالکان پر فرض ہو جیسے ۔۔ایک بیوہ عورت کسی گھر کام کرتی ہے وہ بیمار ہے یا شوہر بیمار ہے وہ نہیں آتی ۔تو کہا جاتا ہے بیٹی کو بھیج دے ۔۔اپنی بچی کو کسی غیر گھر بھیجنا وہ بھی اس گھر جہاں دو عورتیں تو سات مرد ہو ۔۔بہت ہی ہمت کا کام ہوتا ہے ۔۔۔وجہ صرف دو وقت کی روٹی اور ماہانہ چند ہزار پیسے ۔اس کے علاوہ اتارے ہووے کپڑے یا بچا ہوا سالن بس ۔۔یہ بھی کوی دیتے ہیں مطلب یہ بھی گر کوی دے تو غنیمت ہے ۔ورنہ تو ان لوگوں کو ایسے دھتکارتے ہیں لوگ جیسے ان میں اور دوسروں میں مریخ اور زمین جیسا فرق ہو ۔۔ان کے ہاتھ سے بنا سپائسی کھانا کھا لینا ہے ۔۔لیکن اسی کھانے کو اگر وہ کھاے تو برابری یاد آجانی ہے ۔۔ان کے ہاتھوں کے بنے مشروب پی لینے ہے ۔لیکن وہی مشروب اگر وہ پئیں تو مشروب خراب کہلاتا ہے ۔۔ان کے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو نہلانا ان کے کپڑے پہنانا تو منظور ہے لیکن ان ہی لوگوں کے بچوں ساتھ اپنے رئیس بچے کو کھیلنے نہی دینا کہ وہ کام والی کا بچہ ہے ۔۔گھروں میں کام کرنے والی عورتوں بچیوں ساتھ کچھ لوگوں کا سلوک انتہائ بھیانک ہوتا ہے ۔۔بحثیت قوم تو ہمیں غریبی امیری کے فرق کا سبق گھروں سے والدین کے زریعے ملتا ہے ۔۔اگر بچہ خوش ہو کر کام والی کے بچے ساتھ کھیل لے گا تو ماں ڈانٹے گی سر پہ مت چڑھاو اسے ۔۔یہ لوگ سر چڑھانے کے قابل نہی ہوتے ۔۔اگر بچی خوشی میں کام والی کی بچی کو دوست یا سہیلی سمجھ کر اس کے ساتھ ایک برتن میں کھا لے گی تو گویا قیامت ہی آجاے گی پھر تو والدین خود ایسا لیکچر دیتے ہیں اولاد کو کہ کل وہی بچے ان والدین کا جوٹھا کھانا کھاتے بھی کراہت محسوس کرتے ہیں ۔۔5 سے 14 سال کے ہزاروں بچے ہیں جو ملک کے کسی نہ کسی کونے میں محنت مزدوری کررہے ہیں ۔ گھروں میں کام کرنے والے لڑکا یا لڑکی بھی جسمانی ذہنی تشدد کا سامنا کرتے ہیں ۔لاہور میں واقع عسکری نائن کے ایک گھر میں کام کرنے و الی 10 سالہ ارم کو چوری کے الزام میں ہاتھ پاؤں سے باندھ کر پلاسٹک کے پائپ سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جو بعدازاں ہسپتال میں پہنچ کر دم توڑ جاتی ہے۔ ارم کی بیوہ ماں کا دکھ کون سمجھے گا۔ بیٹی مزدوری کے لئے آئی تھی زندگی سے بھی گئی۔ نواب ٹاؤن میں ننکانہ کا 15 سالہ محمد قاسم عمر خان کے گھر میں تشدد سے جان دے دیتا ہے۔ غریب باپ کی دہائی کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ لاہور ہی کے ویلنشیاء ٹاؤن میں حکم عدولی پر مالکن سعدیہ کے ہاتھوں 14 سالہ عثمان کی زندگی کا چراغ گل ہو جاتا ہے اس کے جسم پر نظر آنے والے تشدد کے نشانات سے مالکن بے خبری کا اظہار کر دیتی ہے۔ غریب کا تو مقدمہ لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ بڑی بڑی کوٹھیاں‘ محلات کتنی ننھی‘ معصوم جانیں نگل گئیں غربت نے پردہ نہ اٹھنے دیا۔ لاہور میں ایک پروفیسر سلمان کے گھر میں سیالکوٹ کی 16 سالہ لڑکی پر تشدد کیا جاتا ہے۔ جنسی زیادتی ثابت ہو جاتی ہے۔ پولیس اور ڈاکٹروں کی تصدیق کے باوجود انصاف نہیں ملتا۔یہ تو میرے ملک میں ہوتے واقعات ہے ۔۔اور آپ کو لگتا ہے کہ یہ صرف پاکستان میں ہی ایسا ہے تو ہرگز نہیں
    عرب ممالک میں یہ عام ہے ۔۔وہاں آج بھی رواج ہے لڑکیوں کو تین چار پانچ سال کے ایگرمنٹ پر خرید کر لایا جاتا ہے گھروں میں کام کروانے کے لیے ۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہاں تشدد کے واقعات کم ہوتے ہیں لیکن یہ شہنشاہی سوچ ہمارے سے کئ زیادہ ان لوگوں میں بھی ہے ۔ان کے بچوں کا ہر کام ہر کام وہ کام والیاں کرتی ہے چوبیس گھنٹے ان کی تہوار سب ان بچوں کے کام کرتے ہی گرز جاتے ہیں ۔۔کسی کی غربت کا یوں فائدہ اٹھاتے ہیں ہم ۔۔کہنے کو ہم سب مسلمان ہے
    آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کائنات میں بلند ترین مقام عطا فرمایا تھا۔ اور آپؐ کو ایسے خدام بھی بخشے تھے جو آپ کی خدمت پر ہمیشہ کمربستہ تھے اور آپ کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کو تیار تھے مگر اس کے باوجود آپ اپنے لئے عام دنیاوی معاملات میں کوئی امتیازی حیثیت اختیار کرنا پسند نہ فرماتے اور اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتے تھے۔ اور اس میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔
    اپنے خادموں کا بوجھ ہلکا کرتے اور انہیں آرام پہنچانے کی اتنی کوشش فرماتے کہ وہ آپ پر جان فدا کرنے کے لئے مستعد رہتے تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ نے عمل کو وقار بخشا اور ہاتھ سے کام کرنے میں عزت کی نوید سنائی۔
    اس نبی کی امت ہے ہم ۔۔ گھر کے کام کاج میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ہاتھ بھی بٹاتے اور اپنی جوتی خود مرمت کرلیتے تھے اور اپنا کپڑا سی لیا کرتے تھے۔ پھر ہم میں کہاں سے آگئ یہ شہنشاہی والی سوچ ۔۔۔ملازموں سے کام کروانے والی ۔۔آپ جانتے ہو یورپ کی ترقی کا کہیں نہ کہیں یہ بھی راز ہے کہ وہ لوگ وقت کے پابند ہے وہ لوگ اپنا کام خود کرتے ہیں ان کو وزیراعظم بھی سڑک پر تھوک دے تو اپنا تھوک خود صاف کرتا ہے ۔۔ان کے آگے پیچھے لمبی گاڑیوں کے پروٹوکول نہیں ہوتے ۔۔۔وہاں ہر بندہ بندی خودمختار ہے اپنے کام کرنے میں وہاں کوی کسی کا ملازم نہیں ہوتا ۔۔یہاں تو جس کے پاس چار پیسے آجاتے وہی مالک ہے اس سے نیچے والا ملازم ۔۔۔افسوس ہوتا ہے کبھی کبھی کہ ہم نے اپنے کلچر کے ساتھ ساتھ اپنی مسلمانی والی پہچان بھی ختم کر لی

  • قدرتی آفات اور پاکستان  تحریر : حنا

    قدرتی آفات اور پاکستان تحریر : حنا

    آپ سب جانتے ہیں ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا سلسلہ کئ روز سے جاری ہے ۔۔جس سے بلوچستان کراچی اسلام آباد کے کچھ علاقے شدید متاثر ہورہے ہیں.قدرتی آفات خاص کر بارشوں سے تباہی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں جب بارشوں کا موسم ہوتا ہے تو شدید بارشوں کی وجہ سے نقصانات بھی ہوتے ہیں ۔پھر وہ ملک امریکہ جیسی سپرپاور ہو یا دنیا کا سب سے ترقی یافتہ جاپان.طوفانی بارشوں کی وجہ سے جتنا نقصان تقریبا ہر سال جاپان میں ہوتا شاید ہی کسی اور ملک ہو ۔۔اور پاکستان سمیت دنیا بھر کی نظر میں جاپان دنیا کا ترقی یافتہ ملک ہے ۔۔کہنے کا مقصد ہے کہ قدرتی آفات سے اتنا ترقی یافتہ ملک بھی نہی بچ پاتا ۔۔وہ بھی اپنے مرتے لوگوں کو بہتے پانی سے زندہ نکال نہیں سکتا ۔۔کیونکہ موت کے آگے اس کی ترقی اس کی ٹیکنالوجی بھی نہیں چلتی ۔۔لیکن ہمارے پاکستان میں یہ معمول بن چکا ہے۔۔حکومت آج کی ہو یا پچھلی ۔۔ہم قدرتی آفات پر بھی انسانوں کو زمہ دار ٹھہرانے لگ جاتے ہیں ۔کہ فلاں کی وجہ سے عذاب ہے فلاں برا تھا اس وجہ سے عذاب آگیا ۔ ہمیں اپنے سماجی رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ ہم قدرتی آفات کے متاثرین کو ان کے گناہوں کے نتیجے میں عذاب قرار دینے کی بجائے عملی امداد کی فراہمی یقینی بنائیں، میری نظر میں یہ درحقیقت قدرت کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی کاہم خود کیسے سامنا کرتے ہیں اور انسانی ہمدردیوں کی بنیاد پردوسرے متاثرین کی کیسے مدد کرتے ہیں، انسان زمانہ قدیم سے قدرتی آفات کا سامنا کرتا آرہا ہے انسان تمام تر ترقی کے باوجود قدرتی آفات کے آگے بے بس ہے ۔۔پاکستان عوام قیام ِ پاکستان کے بعد سے ہی آفات کا حادثات کا شکار ہوتا آرہا ہے 2010ء کا سیلاب اپنی نوعیت کا خطرناک ترین تھا جس کے نقصانات کا تخمینہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 43ارب ڈالرز کا لگایا گیا تھا ایسے ہی قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان سمیت بھارت، بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا، جاپان، فلپائن، میکسیکو، سوڈان، افغانستان اور امریکہ وغیرہ شامل ہیں،لیکن ہم بطور پاکستانی یا ہماری حکومت ان آفات سے بچنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں نہ ۔ہمیں اس حوالے سے حقیقت پسندانہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ انسان قدرت کے کاموں میں مداخلت کے قابل تو نہیں لیکن قدرتی آفات کے نتیجے میں نقصانات کی شدت کم ضرور کرسکتا ہے۔قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہ کاری کے بعد چندے اور امداد کی اپیل کی بجائے ہمیں پانی کے عظیم ذخیرے کو محفوظ کرکے قومی ترقی کیلئے استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ ہمیں ان قدرتی آفات میں پوشیدہ قدرت کے اس پیغام کو سمجھنا چاہئے کہ زلزلے اور سیلاب سے مکمل چھٹکارہ حاصل کرنا کسی ملک کے بس کی بات نہیں لیکن انسانی تاریخ میں سرخرو وہی ممالک قرار پاتے ہیں
    دوسری اہم بات ایک دوسرے کو پارسا ثابت کرنے کے لیے قدرتی آفات پر ایک دوسرے کو گنہگار کے طعنے دینے سے بہتر ہے کہ ہم قرآن پاک کھول کر پڑھیں کہ قدرتی آفات آزمائش ہے۔آزمائش اور سزا میں فرق ہوتا ہے اللہ اپنے بندوں کو آزمائش میں اس لیے ڈالتا ہے تاکہ وہ بندوں کی برداشت کی انتہا دیکھیں اور بندوں کی اپنے رب سے محبت کو دیکھیں ۔سورہ بقرہ کی آیت 155، 156 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ”اور البتہ یقینا ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف ، کچھ بھوک ، کچھ مالی وجانی اور پھلوں کے نقصان کے ذریعے اور بشارت دو صبر کرنے والوں کو ، کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
    تو ثابت ہوا ۔آزمائش میں صبر کرنے والے ہی جیت جاتے ہیں ۔صبر کرنے والے ہی صبر کا صلہ پاتے ہیں اور صبر کرنے والے بڑی سے بڑی مشکل کو بھی ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں ۔۔برداشت کرنا سیکھیے ۔۔کیونکہ رب اپنے بندوں کو اس کی طاقت سے زیادہ دکھ نہیں دیتا..

  • اللہ ہماری سنتا کیوں نہیں  تحریر: حنا

    اللہ ہماری سنتا کیوں نہیں تحریر: حنا

    ایک عورت آئی یا رسول اللہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے اور طلاق تھی زمانہ جاہلیت کی "تو میرے لئے میری ماں کی طرح ہے” اور اس پر جو طلاق پڑتی تھی وہ ایسی طلاق پڑتی تھی کہ کسی بھی صورت رجوع ممکن نہیں ہوتا تھا۔ جب ان کے شوہر نے ان کو طلاق دے دی تو وہ پریشان ہو کر اللہ کے نبی کے پاس حاضر ہوئی۔ اللہ کے نبی گھر پر تھے اور حضرت عائشہ ان کو کنگھی کر رہی تھیں۔ یارسول اللہ میرے خاوند اوس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور کہ دیا ہے تو میرے لئے میری ماں کی طرح ہے۔ اللہ کے رسول اب کیا حکم ہے؟ تو اللہ کے نبی نے کہا خولہ اب تو اس کے لئے حرام ہو گئی۔ تو کہنے لگی کہ یا رسول اللہ آپ نظر ثانی کریں وہ میرے بچوں کا باپ ہے اور میرے ماں باپ مر چکے ہیں میں کس کے سارے جیوں اور میرے بچے ابھی چھوٹے ہیں بچوں کو کہاں سے پالوں؟ تو اللہ کے نبی نے پھر کہا خولہ کام ختم ہو چکا ہے تو اس کے لئے حرام ہو چکی ہے اب۔ اس نے پھر کہا یا رسول اللہ آپ نظر ثانی کریں میرے بچے بھی چھوٹے ہیں، میرے ماں باپ بھی مر چکے ہیں میں اور میرے بچے کس کے سہارے جئیں گے۔ جب خولہ نے تیسری مرتبہ بھی فریاد کی تو اللہ کے نبی چپ کر کے بیٹھ گئے کہ اب مانتی تو ہے نہیں۔ جب اس نے دیکھا کہ اللہ کے نبی بھی نہیں سن رہے تو اس نے کہا اچھا آپ نہیں سنتے ہیں تو میں آپ کے رب کو سناتی ہوں اور خولہ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور کہا اے میرے رب میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، میں اپنے پاس رکھوں تو روٹی کہاں سے کھلاؤں اور اگر اپنے شوہر کے پاس رکھو تو ان کی تربیت کون کرے گا تربیت تو ماں کرتی ہے اے میرے رب تو اپنے نبی کی زبان پر میرے حق میں فیصلہ اتار۔ یہ نہیں کہا کہ جو تیرے ہاں ہے وہ فیصلہ اتار، اللہ کو پابند کیا کہ یا اللہ فیصلہ میرے حق میں آنا چاہیے میرے خلاف نہیں آنا چاہیے۔ ابھی اس کے ہاتھ نیچے نہیں آئے تھے کہ اللہ کے نبی پر وحی طاری ہوئی تو وہ اور جب وحی ختم ہوئی تو آپ نے آنکھیں کھولیں اور مسکرا پڑے اور کہا خولہ مبارک ہو اللہ نے تیرے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور اللہ نے اسے حدیث کا حصہ نہیں بنایا بلکہ قرآن کا حصہ بنایا تاکہ قیامت تک ہر لڑکی پڑھے اور دیکھے کہ اللہ سے تعلق رکھنے والی عورت کے لیے یوں اللہ فیصلے اتارتا ہے یہاں تک کہ اپنے قانون بھی بدل دیتا ہے۔

    پارہ نمبر 28، سورہ المجادلہ آیت نمبر 1

    قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ ﳓ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ(۱)

    بے شک اللہ نے عورت کی بات سنی جو تم سے اپنے شوہر کے معاملے پر بحث کرتی ہے اور اللہ سے شکایت کرتی ہے اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے۔

    اللہ نے خولہ کو بڑی عزت دے قرآن میں اور صرف ایک آیت نہیں بلکہ پورے دو رکوع اتارے۔ اور اللہ نے کہا، ہاں ہاں میرے محبوب جب آپ اور خولہ آپس میں تکرار کر رہے تھے آپ انکار کر رہے تھے وہ ہاں کروا رہی تھی میں خود تم دونوں کی عدالت میں موجود تھا آپ نے تو سنی نا پھر اس نے مجھے اپنا دکھ سنایا میں تم دونوں کے دلائل سن رہا تھا آپ انکار پہ تھے وہ اقرار پہ تھی میں تم دونوں کی عدالت میں موجود تھا اور میں نے خولہ کے حق میں فیصلہ دے دیا اور اس طلاق کو باطل قرار دے دیا۔ اور اس کا جرما نہ رکھ دیا غلام آزاد کرو یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو تو بیوی حلال ہوگی۔

    تو جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ہماری سنتا نہیں ہے ان کو پہلے خود کو بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کا اللہ کے ساتھ تعلق کیسا ہے کیونکہ جنکا کا تعلق اللہ کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے پھر اللہ ان کے لئے ایسے قرآن اتارتا ہے، ایسے اپنے قانون توڑتا ہے اور ایسے مدد کرتا ہے۔

    ۔