Baaghi TV

Author: حنا

  • مجبور اور لاچار عورتیں تحریر:حنا سرور

    مجبور اور لاچار عورتیں تحریر:حنا سرور

    آپ نے جگہ جگہ دیکھا ہو گا اپنے آس پاس گلی محلے میں ہی ہے ۔بہت سی عورتوں ایسی ہوں گی ۔جو بیوہ یا طلاق یافتہ ہوں گی جو اپنے باپ بھائ کی بھابیوں کی ڈانٹ ڈپٹ سنتی ہوں گی ان کے کام کرتی ہو گی ۔اس سب کے باوجود وہ خوش نہی ہوں گی ۔۔ان کو اپنے بھائیوں سے بھابھی سے والدین سے ہزار شکوے ہوں گے ۔وہ اپنے بچوں کو اچھی زندگی نہیں دے سکتی ۔بھائ کے بچوں سے مقابلہ یا لڑائ جھگڑے عجیب سی سوچ ہو جاتی ان عورتوں کی ۔۔اس سب کی ذمہ دار کون؟ والدین ۔۔والدین کو لڑکی کو یہ تو سکھاتے ہیں کہ شادی کے بعد شوہر کی خدمت کرنی ہے ساس سسر کی خدمت کرنی ہے وہ مر لڑائ جھگڑا کرے مگر تم نے وہ ہی رہنا ہے ۔۔لیکن اگر والدین کو لڑکی کو اس قابل بنائیں ۔کہ کل اللہ نہ کرے لڑکی کو طلاق ہو جاتی ہے آگے شادی نہیں کر سکتے ۔یا لڑکی بیوہ ہو جاتی ہے ۔تو کم از کم اسے اس قابل بنائیں کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے اسے بھیک مانگ کر زندگی نہ گزارنی پڑے ۔آپ لڑکی کو نہیں پڑھا سکتے نہیں پڑھانا چاہتے مت پڑھائیں ۔آپ اسے سلائ سکھائیں ۔آج کے دور میں سلائ سب سے بہترین ہے وہ اپنی زندگی آسانی سے گزار سکتی ۔آپ اسے پڑھانا چاہتے اسے ضرور پڑھائیں ۔اسے کسی قابل بنائیں ۔شادی کا کیا ۔وہ تو ہو ہی جاتی لیکن کامیاب شادی یہ نصیب کی بات ہے ۔نصیب تو کوی بھی نہی دیکھ سکتا کہ آگے اس کے نصیب میں کیا ہے ۔اگر آپ اسے کسی قابل بنا دیں گے تو یہی آپکی اصل تربیت ہو گی ۔کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنی دکھی داستان سنا کر تماشہ بننے یا مجبوری میں بھیک مانگ کر گزارنا کرنے سے بہتر ہے اسے خودار بنائیں ۔۔لازمی نہیں کہ آپ کو میری یہ بات اچھی لگی ہو ۔۔مگر ممکن ہے کہ تیرے دل میں اتر جاے میری بات

     Article Author Name

    Hina Sarwar

     

  • صبر کی انتہا  تحریر: حنا

    صبر کی انتہا تحریر: حنا

    پوچھا گیا۔۔۔۔
    صبر جمیل کیا ھے؟
    جواب آیا۔۔۔۔۔
    جب تم آزمائے جا رھے ھو اور تمھارے لب پر ھو۔
    “شکر الحمد للہ”
    اس لیے تنقید نہیں۔۔۔ بس
    “شکر الحمد للہ”

    صبر ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ صبر کرنا اور صبر آنا دو مختلف باتیں ہیں۔ اسی لئے تو اللہ بھی قرآن میں فرماتا ہے۔
    اِنَّ اللّـٰهَ مَعَ الصَّابِـرِيْنَ °
    بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

    اللّـٰهُ يَجْتَبِىٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَآءُ°
    اللہ جسے چاہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہےـ

    سورۃ الشوریٰ (13)

    “فَسُبحٰن الَذِِّی بِیٰدِہِ مَلَکُوتُ کُلِِّ شَئّیِِ وَّ اِلَیْہِ تُرجَعُون.”
    “پاک ھے وہ ذات جس کے قبضے میں ہر شے کی قدرت ھے اور اُسی کی طرف ہم نے لوٹ کر جانا ھے
    ‎‏

    اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْـمَعَ عِظَامَهٝ° بَلٰى قَادِرِيْنَ عَلٰٓى اَنْ نُّسَوِّىَ بَنَانَهٝ°
    کیا انسان سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے۔ ہاں ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کر دیں۔
    (سورۃ القیامہ )

    وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا °
    اور تیرا رب بھولنے والا نہیں۔

    سورۃ مریم (64

    کسی بھی معاشرے میں کامیابی کے ذرائع ویسے توبے شمار ہیں لیکن موجودہ دور اور حالا ت کو دیکھتے ہوئے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ’’ صبر ‘‘ ہے، جس کے لغوی معنیٰ ہیں روکنا ، برداشت کرنا ، ثابت قدم رہنا یا باندھ دینا، صبرکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیاکہ ’’ اور (رنج و تکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو، اور بیشک نماز گراں ہے مگر ان لوگوں پر (گراں) نہیں جو عجز کرنے والے ہیں‘‘ سورۃ البقرہ، آیت45،بلاشبہ صبر اور نماز ہر اللہ والے کے لئے دو بڑے ہتھیار ہیں۔ نماز کے ذریعے سے ایک مومن کا رابطہ و تعلق اللہ تعالیٰ سے استوار ہوتا ہے۔ جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔ صبر کے ذریعے سے کردار کی پختگی اور دین میں استقامت حاصل ہوتی ہے، مصیبت اور پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ ا للہ تعالیٰ کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔

    صبر کا پھل میٹھا کیسے ہوتا ہے سنیے تاریخ کے اوراق سے ایک خوبصورت واقعہ

    مولانا رومی رحمتہ الله تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں کہ طالقان کے علاقے کا رہنے والا ایک شخص جس کو شیخ ابوالحسن خرقانی رحمتہ الله تعالیٰ علیہ کی زیارت کا بےحد شوق تها،لیکن راستے کی دوری اور سفر کی مشکلات کا خیال آتا تو خرقان جانے کی ہمت نہ پڑتی،
    خیر آخر ایک دن شوق زیارت نے اس کو بےتاب کردیا ،رخ زیبا کی زیارت کے لئے سامان سفر باندھ لیا ،راستہ کٹهن و دشوار گزار تها،لیکن وہ ہمت کا پکا تها کئی دن تک پہاڑی اور جنگلی راستے سے ہوتا ہوا ایک طویل اور پر صعوبت سفر کے بعد آخر کار منزل مقصود تک پہنچ گیا،
    شہر خرقان میں آکر اسنے شیخ ابوالحسن خرقانی رحمتہ الله تعالیٰ علیہ کے گهر کا پتا دریافت کیا ،وہاں جاکر نہایت ادب سے دروازے کی زنجیر ہلائی…تهوڑی دیر بعد ایک عورت نے گهر کی کهڑکی سے جانک کر پوچها کون ہے ؟؟
    اس نے جواب دیا میں …..حضرت شیخ ابوالحسن رحمتہ الله علیہ کی قدم بوسی کے لئے شہر طالقان سے حاضر خدمت ہوا ہوں،
    اس عورت نے کہا واہ میاں درویش بهلا یہ بهی کوئی مقصد تها کہ جس کے لئے تو نے اتنا طویل و کٹهن سفر طے کیا ہے ،معلوم ہوتا ہے تونے دهوپ میں اپنی داڑھی سفید کی ہے،تمہاری عقل و دانش پر رونے کو جی چاہتا ہے ،کیا تجهے اپنے وطن میں کام دهندہ نہ تها؟؟

    عقیدت مند یہ ماجرا دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا اور اسکی آنکهوں سے آنسو بہنے لگ گئے،تاہم اس نے ہمت کرکے پوچها حقیقت حال کچھ بهی ہو ،یہ بتائیے کہ شیخ صاحب ہیں کہاں ؟
    چونکہ وہ عقیدت کا ہاتھ تهام کر آیا تها اسلیے اس عورت کی باتوں پر خاموش رہا،
    عورت نے جواب دیا :ارے وہ کہاں کا شیخ و شاہ بن گیا اس نے تو دهوکے کا جال بچها رکها ہے،تجھ جیسے احمقوں کو اپنی ولایت کے جال میں پهنساتا ہے، اب بهی وقت ہے جہاں سے آیا ہے الٹے پاوں واپس چلا جا،ورنہ اس دغاباز کے چکر میں پهنس کر تباہ و برباد ہوجائے گا ،نہ دین کا رہے گا نہ دنیا کا،وہ بڑا حضرت ہے اس کی زبان و آنکهوں میں ایسا جادو ہے کہ اچها خاصا عقل مند بهی اس کے فریب میں آجاتا ہے

    اب تو شیخ کے معتقد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور کہنے لگا “چراغ تلے اندهیرا بی بی شیخ کے انوار فیوض سے ایک دنیا جگمگا رہی ہے اور ان کی عظمت نے افلاک کی رفعتوں کو چهولیا ہے”،
    “چاند پر تهوکنے والا اپنے منہ پر ہی تهوکتا ہے”کتا دریا میں گر جائے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا ،آفتا ب عالم تاب لاکھ پهونکیں ماریں وہ کبهی نہیں بجھ سکتا،چمگادڑ رات کے اندهیرے میں اڑنے والی سورج کو نکلنے سے کیسے روک سکتی ہے،غرض درویش نے شیخ کی اہلیہ کو ایسی کهری کهری سنائیں کہ وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی،
    وہ آدمی وہاں سے نکل کر شہر کے لوگوں سے شیخ کا پوچهنے لگا کسی نے بتایا کہ وہ جنگل کی طرف گئے ہوئے ہیں یہ سنتے ہی وہ راہ حق کا مسافر دیوانہ وار شیخ کی تلاش میں جنگل کی طرف روانہ ہوگیا ،راستے میں ……..شیطان نے اس کے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کردئیے،سمجھ میں نہیں آتا تها کہ آخر شیخ نے ایسی بےہودہ بدتمیز و زبان دراز عورت کو اپنے گهر میں کیوں رکها ہے ،
    عجیب معاملہ ہے! یہ میاں بیوی آپس میں کس طرح زندگی گزارتے ہونگئے
    “ایک آگ ہے اور دوسرا پانی” ان مجوعہ اضراد میں محبت کیسے ہوسکتی ہے،ایسے وسوسے آتے بےچارہ گهبرا کر لاحول پڑهتا اور کانوں کو ہاته لگاتا ،
    شیخ کے بارے میں ایسے خیالات کو دل میں جاگزیں کرنا نادانی ہے انہی سوچوں کا تانا بانا بنتا چلا جارہا تها کہ آخر دل نے کہا کہ اس میں کوئی بهید ہوگا وہ انہیں خیالات کی دنیا میں گم تها کہ اس کی نظر ایک شخص پر پڑی جو شیر کی پیٹھ پر اس شان سے سوار تها کہ پیچهے لکڑیوں کا گٹها لدا ہوا ہے اور ہاتھ میں سیاہ سانپ کا کوڑا ہے،
    عقیدت مند سمجھ گیا کہ یہی شیخ ابو الحسن خرقانی رحمتہ الله علیہ ہیں اس سے پہلے کہ یہ کچھ عرض کرتا ،شیخ صاحب نے دور سے ہی مسکراتے ہوئے فرمایا :
    عزیزم ! اپنے فریبی نفس کی باتوں میں نہ آ،اور ان پر دهیان نہ دے،ہمارا اکیلا پن اور جوڑا ہونا نفس کی خواہش کے لئے نہیں ہے، الله عزوجل کے حکم کی تعمیل کے لئے ہے،ہم اس جیسے سینکڑوں بےوقوفوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں،
    یہ گفتگو میں نے تمہاری خاطر کی ہے تاکہ تو بهی بدخو ساتهی سے بنائے رکهے،تنگی کا بار ہنسی خوشی برداشت کر ،کیونکہ صبر کشادگی کی کنجی ہے،
    الله تعالی نے مجهے یہ بلند مقام اپنی بیوی کی بدزبانی پر صبر کرنے کی وجہ سے عطا فرمایا ہے اگر میں اسکی ہرزہ سرائی برداشت نہ کرتا تو یہ شیر میرا مطیع کیسے ہوتا،
    گر نہ صبر میکشیدے بار زن
    کے کشیدے شیر نر بیگار من
    “اگر میرا صبر اس عورت کا بوجھ نہ اٹها سکتا تو یہ شیر میرا بوجھ کیسے اٹهاتا”!!.
    *مولانا رومی رحمتہ الله علیہ اس واقعہ سے یہ درس دے رہے ہیں کہ انسان کو ہر حال میں راضی بہ رضائے الہی رہنا چاہیئے اور صبر و شکر سے کام لینا چاہیئے ،یقینا صبر کرنے سے ہی اعلی مقامات عرفان حاصل ہوتے ہیں،

  • جہموریت اور عوام .تحریر : حنا

    جہموریت اور عوام .تحریر : حنا

    جمہوریت کا مطلب لوگوں کی حکومت ہوتی ہے۔ لوگوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور لوگوں کیلئے ہوتی ہے۔جمہوریت ذمہ دار اور جواب دہ حکومت کا نام ہےجموریت ایک نظریہ نہیں ہے ۔ جمہوریت حکومت چلانے کے ایک طریقہ کار کا نام ہے
    میں جب سے پیدا ہووی ہوں میں نے ہمارے پاکستان کی جہموریت کو ہمیشہ خطرے میں ہی پایا ہے ۔۔جب عوامی احتجاج ہو مہنگائی کے خلاف ۔جہموریت خطرے میں ۔جب سیاست دان الیکشن ہارنے لگے ۔جہموریت خطرے میں ۔۔جب کسی غریب کی بیٹی وڈیروں کے ہتھے چڑھ جائیں اور غریب سوشل میڈیا پر وڈیو بنا کر حکومت وقت سے مدد مانگے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔جب عوام گٹر اور واٹر سپلائ کا مکس پانی پی کر بیمار ہو جائے صاف پانی کا مطالبہ کرے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔۔جب سیاست دان ضمیر فروش صحافیوں کو ساتھ ملا اداروں کو گالی گلوچ دے اور ادارے ان پر گرفت مضبوط کرے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔جب عوام روٹی مہنگی پر احتجاج کرے تو جہموریت خطرے میں ۔۔جب لوگ حکمرانوں سے تنگ آکر ان کو چپیڑیں جوتے مارنے لگ جائیں تو بھی جہموریت خطرے میں ۔۔لیکن جناب حیرانگی کی بات ہے کہ جب حکمران عوامی ٹیکس پر بیرون ملک جائیدادیں بنائیں جہموریت کو کوی خطرہ نہیں ۔جب عوامی پیسے پر بیرون ملک ساری کابینہ کو لے جا کر عیاشی کی جاے جہموریت کو خطرہ نہیں ۔جب عوام کے فنڈ پر عوامی پیسے پر اپنے بچے کو یورپ کی مہنگی یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا جاے تو بھی جہموریت کو خطرہ نہیں ۔جب عوامی فنڈ پر اپنے شاندار بنگلہ بنایا جاے اور غریب کو ٹوٹی سڑک ٹھیک کر کہ ٹرخا دیا جاے ۔تب بھی جہموریت خطرہ میں نہیں ۔۔

    عوام کے ٹیکس کے پیسے سے عوام پر پیسہ لگا کر اگلے بیس سال تک جب عوام کو جتاتے ہے ہم تمھارے لیے یہ کیا اتناااااا کچھ کیا ۔ جہموریت کو تب بھی کوی خطرہ نہیں ۔ہسپتالوں میں غریب مریضوں ساتھ نہایت توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے اور سیاست دانوں کو اسی ہسپتال پروٹوکول دیا جاتا ہے جہموریت کو تب بھی کوی خطرہ نہیں ۔۔جناب ۔کسی غریب والدین کا بیٹا سفارش اور رشوت نہ ہونے کی وجہ سے بڑی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتا یہ جہموریت کو تب بھی خطرہ نہیں۔۔۔ سیاست دانوں کی سرپرستی میں سکول کا ماسٹر دو سو بچوں ساتھ بدفعلی کرتا ہے جہموریت کو تب بھی خطرہ نہیں ۔۔سیاست دانوں کی سرپرستی میں ایک وزیر کی بیٹی اداروں کو گالی گلوچ دیتی ہے اور ماں وزیر کی کردی پہ مزے سے عوامی فنڈ پر عیاشیاں کررہی ہوتی ہے ۔حکومتی ارکان کا حصہ ہوتی ہے لیکن جہموریت کو بالکل خطرہ نہیں۔۔۔اور جب یہ سیاست دان الیکشن ہارتے ہیں ۔۔سیاست ایک کھیل کی طرح آج توں تو کل میں ۔۔لیکن میرے پاکستان میں جو ایک بار اقتدار پہ قابض ہو گیا ۔۔وہ اترنا تو چاہتا ہی نہیں ۔تصور بھی نہیں کرتا کہ کل وہ ہار سکتا ہے ۔۔بس ایک ہی آواز ہوتی ہے کل ہم جیٹ کر مزید یہ کام کریں گے ۔۔ہم سے پانچ سال دس سال یہ اچھا نہیں ہوا ۔ہم اگلے دس سال یہ کریں گے ۔۔ینعی عوام کا خون تو ہر حال میں نچوڑتے رہنا ہے ۔جان نہیں چھوڑنی ۔۔ہارنے کے بعد بچوں کی طرح ایک دوسرے پہ الزامات کی برسات کہ تجھے فوج لیکر آئ تجھے فوج لیکر آئ توں آمر کی گود میں پیدا ہوا تو توں آمر کی گود میں کھیلا ۔توں سلیکٹڈ ہے توں سلیکٹڈ ہے ۔۔جناب آپ نے کبھی آج تک ان سیاست دانوں کو اپنی ناکام کارکردگی کا اعتراف کرتے دیکھا ہے ۔کبھی نہیں دیکھا ہوگا ۔۔کیونکہ اعتراف کرنا تو ان کی توہین ہے ۔۔

    یہ جہموریت نہیں ۔یہ خدا کی زمین پر کفر کا نظام ہے ۔۔یہ ایک لفافہ پر چلتے حکمرانوں کی عیاشیوں کا نام ہے ۔۔۔جی ہاں لفافے ۔۔۔اب آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ لفافہ مطلب ضمیر فروش صحافی نہیں جی یہ ضمیر فروش سیاست دانوں پہ بات ہے ۔ جو جب جاتے ہے تو آنے والوں کو بہت اہم پیغام دے کر جاتے ہیں۔۔اور وہ پیغام یہ ہوتا ہے
    کسی ملک کے وزیراعظم کے خلاف جب بہت جلوس نکلنے لگے اور نعرے لگنے لگے تو اس نے مخالف جماعت کے سربراہ کو بلوایا ۔اور کہا: مجھے معلوم ہے کہ میرے بعد تم ہی وزیراعظم بنو گے ۔یہ دو لفافے سنبھال کے رکھ لو ۔جب کوی مشکل درپیش آئے تو پہلا لفافہ کھول کر جو کچھ لکھا ہو اس کے مطابق عمل کرنا ۔پھر دوبارہ مصیبت میں مبتلا ہونے پر دوسرا لفافہ کھولنا اور وہ ہی کچھ کرنا جو اس پہ لکھا ہو۔۔
    ملک میں انتخابات ہوے مخالف پارٹی کا لیڈر وزیراعظم بن گیا ۔چند سالوں تک اس کی حکومت اچھی چلتی رہی
    پھر اس کے غلط کاموں کی وجہ سے اس کے خلاف بھی نعرے لگنے لگے ۔اس نے پہلا لفافہ کھولا اس میں لکھا تھا ۔
    تمام الزامات مجھ پر یعنی پرانے وزیراعظم پر ڈال دو
    نئے وزیراعظم نے یہی کیا ۔دو تین سال تک عوام خاموش ہو گئ ۔اس کے بعد پھر عوام میں بیداری کی لہر اٹھی اور وزیراعظم کے خلاف جلوس نکلنے
    ۔

  • بیٹیوں کی شادی اور غربت .تحریر:حنا

    بیٹیوں کی شادی اور غربت .تحریر:حنا

    آج کل ہمارے معاشرے میں یہ رواج بنتا جا رہا ہے ۔چاہے لڑکی غریب ہے یا امیر ۔۔خواب سبھی کے ایک سے ہے ۔لڑکا گاڑی والا ہو ۔بنگلے والا ہو ۔۔ہمارے بزرگ کہتے تھے جتنی چادر ہو اتنے پاوں پھلاو ۔۔ہمارا اسلام کہتا ہے ۔لالچ بری بھلا ہے ۔۔بیٹی کا پہلا رشتہ آئے اگر لڑکا اچھا ہو تو فورا شادی طے کر دو ۔لیکن آج کل رواج ہے کہ پہلے بیسوں رشتے ٹھکرای جانے ۔۔اور پھر جب شادی کی عمر گزر جانی تو خود وہی رشتے ڈھونڈنے لگ جانا ۔۔پھر کہنا ملے تو سہی کوی ۔۔بس کر ہی دینی ہے ۔۔اور پھر اچھا رشتہ ملتا نہیں ۔۔دوسری طرف ایک طبقہ جو گیارہ بارہ سال کی بچیوں کی شادی کری جاتے ہیں ۔سولہ سترہ سال کے لڑکوں ساتھ ۔۔آپ جانتے ہو ۔۔معذوری کی شرح بڑھتی جارہی ہے ۔۔۔کبھی نوٹ کیا ہے بارہ تیرہ سال کی بچی جسے بمشکل دو وقت روٹی کھانے کو ملتی ہو اس سے سالہا سال بچے پیدا کرواتے رہنا اور امید رکھنا کہ وہ زندہ بھی رہے ۔

    ۔کبھی گیلی مٹی کے سانچے بنتے دیکھے ہیں۔۔۔نہیں نہ ۔۔تو ایک کمزور بچی کیسے صحت مند بچہ پیدا کر سکتی ہے ۔۔آج بھی ہمارے ہاں کچھ جگہوں پر جہالت کا سماں عام ہے ۔۔۔جنھوں نے عورت کو صرف کام والی یا بچے پیدا کرنے والی مشین سمجھا ہوتا ہے ۔۔پتہ نہیں کیوں لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ زندگی کا مقصد صرف شادی نہیں ہوتا ۔۔۔۔میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے لڑکا لڑکی بالغ ہو تو ان کے رشتے طے کر دو تاکہ وہ گناہ سے بچ سکیں ۔۔لیکن بالغ ہونے کو صرف ان کے جسم میں بدلاو کا مطلب نہیں گیا ۔بلکہ عقل بھی ہو۔۔بچی کی عمر کم از کم سترہ اٹھارہ تو ہو اگر آپ کو زیادہ ہی جلدی ہے اپنی بیٹی کو گھر سے نکالنے کی اور لڑکا کم از کم اٹھارہ سے اوپر کا ہو ۔ایسا نہیں کہ لڑکی بارہ تیرہ سال کی اور لڑکا سولہ سال کا جو لڑتے لڑتے زندگی گزارے اور جوانی میں بیس بار طلاق کا لفظ بھی بول چکے ہیں ایسی عمر میں ان پر شادی کا بوجھ ڈالنا اور سمجھنا کہ وہ عقل مند ہو گے ۔۔بالکل نہیں پھر لڑائ جھگڑے لڑائ جھگڑے نہیں قتل و غارت تک پہنچ جاتے ہیں ۔ایسا ہی تو ہورہا آج کل طلاق اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ لفظ ہے ۔لیکن بہت سارے لوگ بے شمار سمجھدار اچھے بھلے لڑائ جھگڑے میں طلاق بول کر پھر سے ویسے کے ویسے ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں کون سا کسی کو پتہ چلا ۔۔جبکہ طلاق کے بعد بیوی کا مرد کے ساتھ رہنا گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔۔اب کوی یہ مت سوچے کہ میں شادی کے خلاف ہوں یا لبڑل کی زبان بول رہی ہوں الحمدللہ میں حافظہ ہوں اور قرآن پاک سے اتنا تو سیکھا ہے کہ اسلام بہت آسان دین ہے لوگوں نے ان کی سوچوں نے اسے مشکل بنا دیا ہے ۔۔ہر بندہ اپنے اپنے مطلب کی حدیث نکال کر لے آتا ہے لیکن عورت کو قرآن میں اللہ نے جو حقوق دیے وہ کوی نہی پڑھتے جیسے وراثت میں حصہ ہی دیکھ لیں ۔۔آپ ضرور کریں بچیوں کی شادیاں لیکن کم از کم انھیں کچھ تعلیم بھی دلوائیں تاکہ انھیں شعور تو ہو کہ بیوی کا مقصد شوہر کی خدمت ہوتا اس شوہر کی جو عقلمند ہو اور بیوی کا خیال رکھتا ہو نہ کہ خاموشی سے اس شوہر کا ظلم سہنا جو مار پیٹ کرتا ہو سالہا سال بچے تو پیدا کرواتا ہو لیکن خود نشے پہ لگا ہو اور نچوں کے اخراجات بیوی بچوں کے حقوق کا پتہ تک نہ ہو ۔۔اور پھر انھی بیوی بچوں کو قتل کر دیتا ہو ۔۔یاد رکھیے ظلم پر خاموش رہنا بھی ظلم ہوتا ہے ۔

    اب اصل بات پہ آتی ہوں لالچ ۔۔لوگ لالچ میں اپنی بیٹیوں کی شادیاں بیرون ملک سے آئے بوڑھوں سے کر دیتے ہیں ۔۔کہ بیٹا باہر چلا جاے گا یا لڑکی کے باپ کو وہ بوڑھا اچھا کاروبار کروا دے گا ۔۔لیکن اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے ۔۔آج سے چھ سال پہلے ایک دوست تھی ۔اس وقت اس کی عمر اٹھارہ سال تھی تازہ تازہ بی۔اے ۔میں ایڈمشن ۔داخلہ ۔لیا تھا ۔کالج میں کسی ساتھ افیر تھا ۔نہ جانے کیا گناہ کر بیٹھی ۔۔کہ پتہ تب چلا جب باپ کے دوست کا رشتہ آگیا جو ۔عمر میں باپ سے بھی بڑا تھا ۔۔لڑکی اٹھارہ انیس سال کی اور وہ مرد آدمی ساٹھ سال کا ہوگا جو سعودی عرب رہتا تھا دو بچے تھے ۔۔آدمی کی بیٹی شادی شدہ تھی ۔اس لڑکی سے بھی عمر میں بڑی تھی ۔اور ایک لڑکا تھا وہ بھی جوان تھا ۔بیوی بھی زندہ تھی ۔۔۔۔جس لڑکی کی شادی ہونا تھا اس کے خاندان کے دیگر رشتہ داروں نے لڑکی کے والدین کو سمجھایا ۔۔کہ اگر لڑکی سے غلطی ہو بھی گئ ہے ۔تو تو کوی مناسب رشتہ ڈھونڈیں یہ ظلم ہے. لیکن والدین کو لالچ تھا ۔کہ اور بھی چھ بیٹیاں ہے ۔ایک بیٹا ہے ۔بیٹا باہر چلا جاے گا زندگی سنور جاے گی ۔۔ایک تو غریب کے خواب بھی کچھ زیادہ بڑے ہوتے ہیں ۔۔۔۔خیر شادی ہو گئ ۔۔کچھ عرصہ وہ لڑکی وہ آدمی کی فیملی کے ساتھ سعودی عرب رہی ۔پھر وہ فیملی پکا پکا پاکستان آگئ ۔۔۔آج اس کی شادی کو پانچ چھ سال ہو گے چار بچے ہے ۔۔اور اب اس کی عمر چوبیس سال ہو گی جو دکھنے میں کوی پچاس سال کی عورت کی طرح لگتی ہے ۔۔ سارا کام بھی کرتی ہے اور حکم ہے کہ بڑی بیگم جو اس کی ماں سے بھی بڑی ہو گی اس کے سامنے افف بھی نہیں کرنی ۔۔اپنی اچھی بھلی زندگی کو خود اپنے ہاتھوں برباد کر بیٹھی ۔۔ایسے ہی آنکھوں دیکھا ایک اور واقعہ ہے

    ایک تینتیس سال کی عورت بیوہ ہو گئ ۔اس کی ساس جو اس کی پھوپھی بھی تھی اور دو بیٹے تھے عورت کے پھوپھی نے بیٹے چھین لیے بہو کو گھر سے نکال دیا ۔۔۔بھائ کے گھر آگئ ۔۔ٹینشن سے ذہنی مریض بن گئ۔علاج کروایا تھوڑا بہت وہ ٹھیک ہووی ۔تو اس کے نئے رشتے تلاش کرنے لگ گیا ۔دوسری طرف ایک بابا جی تھے جس کا بیٹا اسے اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔بابا جی کو بھی کسی سہارے کی تلاش تھی کہ سب کام خود کرتا تھا ۔۔خیر بابا کی بیٹی نے خود ہی بابا کا وہ بیوہ سے رشتہ کر دیا ۔۔۔اس عورت کا بھائ بھی لالچی تھا کہ بابا جی ہے بزرگ کل مر جاے گا ساری جائیداد ہماری ۔۔لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔۔اس بابا جی سے وہ عورت کی ہووی دو بیٹیاں ۔۔بابا تو پھس گیا ایک تو ویسے خود بیمار دوسرا اوپر سے خرچہ کے لیے الگ لائن لگ گئ ۔وہ عورت کے بھائ کی بھی امیدوں پر پانی پھر گیا ۔۔پر بابا جی ایسے پھسے کہ وہ عورت پھر سے ذہنی مریض بن گئ ۔لوگوں نے بابا جی کو ڈرایا کہ عورت ہے ٹینشن لیتی ہو گی کہ میرے بام کچھ بھی نہیں کل تمھیں کچھ ہو گیا تو جائیداد میں باقی اولاد کا حصہ بھی آجاے گا میری بچیوں کا کیا ہوگا ۔۔

    بابا جی نے اپنی ساری جمع پونجی جائیداد سب وہ عورت کے نام کر دی ۔۔۔اپنی طرف سے حقوق دے کر سرخرو ہو گیا۔۔لیکن اب کیا ہوا وہ عورت اپنے بیٹوں سے ملنے لگ گئ ۔اب بابا جی اس ٹینشن میں بیمار پڑے ہووے کہ کہیں یہ سب کچھ بیٹوں کے نام نہ لگوا دے ۔اس سارے لکھنے کا مقصد یہ ہے ۔۔کہ لالچ نے ہمیں کتنا اندھا کر دیا ہے ۔۔لالچ میں ایسے لوگ اپنی دس دس سال کی بچیاں بھی خود وڈیروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔۔غربت تو بدنام ہے ۔۔کبھی بھوک سے کوی مرا ہے ۔۔کہتے ہیں غربت کی وجہ سے فلاں نے ایسے کیا ویسا کیا ۔۔ارے رزق انسان کے پیچھے موت کی طرح بھاگتا ہے مگر شرط ہے انسان کوشش تو کرے صدق دل سے صاف نیت سے ۔۔پر نہیں انسان چاہتا ہے راتوں رات کوی خزانہ ہاتھ لگ جاے بس لگ جاے کسی بھی طرح پھر حلال حرام کی پہچان کہاں رہتی ہے ۔۔غربت کو روتے ہو تم ۔۔میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ علیی اسلام سے زیادہ غریب ڈھونڈ کر دکھا دو آج ۔میرے ملک کا فقیر بھی آج پیاز سے روٹی نہیں کھاتا ہوگا ۔۔جو ان عظیم ہستیوں نے کھائ کھجور کا آدھا ٹکرا کھا کر بھی روزے رکھے انھوں نے ۔ نااعوذباللہ نہ غربت کے ڈر سے حرام موت لی کسی نے نہ رب سے گلے شکوے کر کہ اپنا ایمان کمزور کیا ۔۔۔اب یہ نہ کہنا کہاں وہ کہاں ہم ۔۔۔یہاں بات غربت اور انسان کی ہے.اس وقت کیا یہ سب سہولتیں تھی ۔۔۔بالکل نہیں ۔۔انھوں نے تو جنگیں بھی بھوکے پیاسے لڑی ۔۔۔۔مجھے دکھا دو کسی نبی کسی صحابہ نے کسی ایک نے تاریخ میں یا تاریخ کی کسی کتاب میں کسی نے غربت کا رونا رویا ہو ۔۔

    آخر میں اتنا ہی کہوں گی ۔جناب ۔۔غربت بری نہیں نہ غریب برا ہے ۔۔بری تو وہ خواہشات کی لگام ہے جو کھلی چھوڑی ہووی ہے ۔۔۔خدارہ اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ۔۔۔صبر اور برداشت سے جینا سیکھیے۔۔۔ویسے تو ہم کہتے ہیں کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم مسلمان ہے صرف مسلمان تو نہ بنیے ۔۔محمد کی امت بھی تو بنے ۔۔وہ امت جسے لوگ دیکھ کر سوچنے پرجبور ہو جائیں ۔۔کہ یہ یہ امت ایسی ہے تو ان کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیسے ہوں گے ۔۔شاید کہ اتر جاے تیرے دل میں میری بات ۔۔جزاک اللہ ۔

    ۔

    <

  • برانڈڈ چیزوں کی خواہش .تحریر: حنا

    برانڈڈ چیزوں کی خواہش .تحریر: حنا

    ایک ڈیڑھ سال پہلے ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ ایک بہت بڑے اور نامی گرامی ہوٹل میں 11 مردوں نے اجتماعی زیادتی کر ڈالی تھی ۔۔اس وقت مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔۔ان گیارہ درندوں کو عبرت ناک موت دینے کو دل چاہ رہا تھا ۔۔۔۔لیکن اب بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ ایک بہت بڑے ہوٹل میں وہ لوگ لڑکی کو بنا اسکی مرضی کے لے کر پہنچ کیسے گئے؟؟؟
    فرض کر لیتے ہیں کہ اسے ایک ہوٹل میں بلایا گیا تھا۔ یعنی وہ اپنی مرضی سے گئی تھی ۔۔۔۔

    کیا بنا مرضی کے کسی ہوٹل میں لے جائی جا سکتی ہے ؟؟اور وہ بھی ایسی صورت میں کہ ایک بندے نے روم بک کیا ہو ۔۔۔۔ایک بہت بڑے ہوٹل میں ایک لڑکی کے ساتھ 11 بندے زیادتی کر رہے ہیں اور ساتھ والے کمرے میں آواز تک نہیں جا رہی ؟ عجب نہیں لگے گا ؟ ایک لڑکی جو دو دن سے گھر سے غائب ہے۔ اور بننا بھی ماڈل چاہتی ہے تو کیا اس کے گھر والوں کو علم نہیں ہوگا کہ ہماری بیٹی اسی سلسلے میں کسی سے ملنے گئی ہے ؟۔۔اسی طرح ایک اور واقعہ کچھ عرصہ پہلے کہ لڑکی کا ایک کلاس فیلو ساتھ چکر تھا ۔۔لڑکے کے ساتھ چکر میں گھر والوں کو چکر دیتے دیتے ایسا چکرائ کہ پتہ چلا پریگنٹ ینعی حاملہ ہو گئ ۔۔حاملہ ہووی ۔۔دن بدن حالت بگڑی ۔۔وہی لڑکا جس کے ساتھ چکر تھا وہ ہسپتال میں لاوارث چھوڑ کر فرار ۔۔۔۔پھر خبر ملی لڑکی مر گئ ۔۔۔۔۔۔ایسے ہی بے شمار واقعات آئے روز ہماری نظروں سے گزرتے ہیں ۔کہیں لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگنے والی عثمان مرزا جیسے حیوانوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے تو کہیں گھر سے بھاگنے کے چکر میں اپنے ہی گاوں کے وڈیروں کی ضد پہ غیرت کے نام پہ موت کے گاٹ اتار دی جاتی ہے ۔۔سمجھ نہیں آتی ۔۔آج کی لڑکیوں نے خود ہی اپنی عزتوں کا تماشہ کیوں بنایا ہوا ہے ۔۔۔کہیں کوی ٹک ٹاک پہ چار لڑکوں کے ساتھ ناچ رہی ہے ۔۔تو کہیں کوی یوٹیوب انسٹا پر اپنی خوبصورتی کی نمائش لگا کر بیٹھی ہے ۔۔اور پھر چند لوگوں کے واحیات کمنٹس کو بھی ہنس ہنس کر جواب دے رہی ہوتی ہے ۔۔تو کہیں پیزہ برگر آئس کریم کھلانے کا وعدہ کرنے والے کے ساتھ ماں کو نیند کی گولیاں دے کر راتیں ہوٹلوں میں گزار رہی ہوتی ہے پہلے پہل سنا جاتا تھا کہ جسم فروشی کا دھندہ گرلز ہاسٹل اور یونیورسٹیوں میں بڑی خاموشی سے ہوتا ہے۔ لیکن میری معلومات کے مطابق اب یہ یونیورسٹی سے نکل کر کالج اور سیکنڈری سکولوں تک پہنچ چکا ہے۔۔۔

    اور کچھ کو لگتا ہے۔اس کے پیچھے باقاعدہ نیٹ ورک ہوتا۔ یہ شروع ہوتا ہے احساس محرومی سے اور مقابلے کے رجحان سے۔ یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے ہر دوسری لڑکی کے پاس سمارٹ فون موجود ہے اور وہ سمارٹ فون کہاں سے آتا ہے یہ کوئی نہیں سمجھنا چاہے گا۔ گھر بیٹھے بیٹھے اس سمارٹ فون میں ایزی لوڈ کہاں کہاں سے آجاتا ہے یہ کوئی سمجھنا نہیں چاہے گا۔۔روز 50 روپے خرچہ لے جانے والی لڑکی کے پاس مہنگے موبائل، کپڑے، پرفیوم کہاں سے آگئے۔ یہ بھی ایک جسم فروشی ہے

    اب ہوتا کیا ہے۔ ہر سکول ، کالج اور یونیورسٹی میں امیر لوگوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور غریب لوگوں کے بھی۔ جب لڑکی اپنی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی لڑکی کے پاس مہنگا ترین موبائل دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ یہی موبائل میرے پاس بھی ہو۔
    جب وہ ہر روز اپنی سہیلی کو نئے اور مہنگے کپڑے پہنے دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کے کپڑے پہنے۔ جب وہی لڑکی مہنگے کاسمیٹکس اور پرفیوم اپنی سہیلی کے چہرے پر تھوپے دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی ان چیزوں کو استعمال کرے۔ جب وہ اپنی سہیلی کے بوائے فرینڈ کو اپنی سہیلی کے ساتھ روز یا ہر دوسرے دن میکدونلڈ میں برگر کھانے جاتا دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی ہر روز کسی کے ساتھ برگر کھانے جائے۔

    کوئی اسکا بھی ایسے ہی نخرے اٹھانے والا دوست ہو۔ یہاں سے اپنی مرضی سے جسم فروشی کی سوچ کا بیج بونا شروع ہو جاتاہے۔ اور کمال منافقت یہ ہے کہ نہ لڑکی اسے جسم فروشی ماننے کو تیار ہوتی ہے نہ لڑکا سمجھتا ہے کہ وہ جسم خرید رہا ہے۔ بلکہ دونوں اسے پیار اور گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا نام دیتے ہیں۔ اب یہ مجھے بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ ایک ہی لڑکی یا لڑکے کے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ اکثر بدلتے بھی رہتے ہیں۔ غریب لڑکی چاہے گی کہ اسکا بوائے فرینڈ گاڑی والا ہو آئے روز اسے مہنگے گفٹ دے ۔۔۔جو وہ اپنی امیر سہیلی کے مقابلے میں استعمال کر سکے ۔۔حسد ۔۔حسد ہر برائ کی جڑ ہے ۔۔۔حسد کی آگ میں جلنے والے لوگ پھر یہ نہیں دیکھتے کہ وہ حد کی بھی حد پار کررہے ہیں ۔۔۔وہ نہیں دیکھتے کہ گھر میں بوڑھے والدین ان کی فیسیں کیسے جمع کرتے ہیں ۔۔وہ یہ نہیں دیکھتے ۔۔کہ گھر میں بیٹھی جوان بہنیں شادی کی عمر کو ہے ۔۔۔۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ کل ان کا کیا کہیں ان کی بہنوں کے آگے نہ آجائے ۔۔وہ بس چلتے جاتے ہیں اندھا دھند ۔۔۔۔۔اور ٹھوکڑ لگنے پر بھی معافی مانگنے کی بجاے حرام موت لینا پسند کرتے ہیں ۔۔۔

    طوائف اگر اپنا جسم پیچ کے اپنے بچوں کیلئے روٹی خریدے تو وہ جسم فروشی ہوئی۔ اور ایک سٹوڈنٹ اگر آئے روز اپنا پارٹنر بدلے۔ روز پیسے لے۔ ایزی لوڈ مانگے۔ موبائل گفٹ لے ۔مہنگے قیمتی سوٹ لے ، پرفیوم لے تو یہ جسم فروشی نہیں۔ ایسا کیوں ؟ یہ دوہرا معیار صرف ہمارے معاشرے میں ہی کیوں؟
    میں یہاں مرد ذات کو ڈیفینڈ نہیں کر رہی صرف یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ حضور تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے…….
    خدارا لڑکیوں اپنی عزت کو سمجھو۔۔۔۔۔یہ دنیا محض فانی ہے ۔۔۔۔۔۔مہنگی اور برانڈڈ چیزوں سے نہیں عزت سے زندگی گزارو۔۔۔۔

    ۔

  • آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ تحریر:حنا

    آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ تحریر:حنا

    آج سے لگ بھگ ہزار سال پہلے( 800 سے 1100 صدی پہلے )اسلام سائنس کے گولڈن ایج سے گزر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب بغداد سائنسی علوم کے لئے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ دور دراز سے دانشور، اساتذہ اور طلبا علم کی تلاش میں بغداد کا رخ کرتے تھے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔ مسلمانوں کی پہچان ریسرچ اور ایجاد سے ہوتی تھی۔ الجبرا، الگورتھم، ذراعت، میڈیسن، نیویگیشن، اسٹرونومی، فزکس،کوزمولوجی، سائیکولوجی وغیرہ، ان سب فیلڈز کے چیمپئن مسلمان تھے،پھر یہ سب اچانک رک گیا۔ علم، فلسفہ، ایجاد اور دانش کا یہ دور اچانک مسلمانوں کے سامنے سے غائب کیسے ہوگیا؟

    نیل ڈی گراس ٹائیسن کے مطابق انکی ایک بنیادی وجہ امام غزالی کا وہ دینی تفسیر ہے جسکا خلاصہ یہ ہے کہ numbers یعنی ہندسوں اور اعداد کے ساتھ کھیلنا ( Maths )شیطان کا کام ہے۔ ریاضی کائنات کی زبان ہے اور آپ سائنس میں سے ریاضی نکال نہیں سکتے۔ امام غزالی کے اس تفسیر کے بعد گویا کسی نے اسلامی سائنس کے گھٹنے کاٹ دیئے ۔اور اس حادثے سے اسلام آج تک recover نہیں کرسکا۔
    1900 سے 2010 کے درمیان سائنس میں نوبل انعامات حاصل کرنے والوں کو دیکھتے ہیں ۔ پوری دنیا میں یہودیوں کی آبادی زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کروڑ ہے لیکن پچھلے سو سال میں سائنس سے related نوبل انعامات میں سے 25 فیصد یہودیوں نے حاصل کئے۔

    Biochemical: 49
    Chemistry : 28
    Physics : 45
    Economics : 28
    Total : 150
    25 %
    اسکے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے اور یہ اعداد و شمار ہماری سائنسی contributions کو ری پریزنٹ کرتی ہیں:
    Biochemical : 0
    Chemistry: 1
    Physics: 1
    Economics: 1
    Total: 3
    0.5 %

    ماڈرن سائنسی دور میں ہماری کوئی ایک بھی میجر کنٹری بیوشن نہیں ہے ۔ In fact پچھلے کئی صدیوں سے ہم ہر سائنسی ایجاد کو پہلے حرام قرار دیتے ہیں، پھر کچھ سال بعد اسکے گن گانے لگ جاتے ہیں ۔ printing Press وہ واحد ایجاد کہی جا سکتی ہے جس سے یورپ میں سائنسی ایجادات کی ابتدا ہوئی، لوگ سائنسی مقالات لکھنے لگے،کتب چھپنے لگیں، میگزین، اخبارات۔۔۔ہر طرح کا علم دور دراز تک پھیلنے لگا۔ اس دوران شیخ الاسلام نے فتوہ دیا کہ پرینٹنگ پریس حرام ہے!! 230 سال تک پرینٹنگ پریس پر اسلامی سلطنت میں پابندی لگی رہی۔ مغرب سائنسی تحقیق اور ایجادات میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور اسلام صرف ایک فتوی کی وجہ سے کم از کم 250 سال پیچھے رہ گیا۔

    جب جہاز ایجاد ہوا تو برصغیر میں فتوی سامنے آیا کہ جہاز میں سفر کرنا حرام ہے کیونکہ اتنی اونچائی پر جانا قدرت کو للکارنے کے مترادف ہے!!اسی طرح ریڈیو، کیمرہ، ٹی وی، وغیرہ، سب پہ فتوے کے داغ لگائے گئے۔

    آج کوئی Blood transfusion کو حرام قرار دے رہا ہے، کوئی Hair transplant کو، تو کوئی Gene editing technology کو واہیات قرار دے رہا ہے۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
    سوال یہ ہے کہ آخر ہم چاہتے کیا ہیں….

    ۔
    <p

  • نئے رشتوں کی تلاش ۔ تحریر: حنا

    نئے رشتوں کی تلاش ۔ تحریر: حنا

    دو لوگ جب آپس میں تعلق بناتے ہیں تو شروع شروع میں بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ دونوں دل ہی دل میں سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یہ وہی ہے ویسا ہی ہے جس کا میں۔۔۔آج تک انتظار (کرتی یا)کرتا آیا ہوں۔۔۔
    ہر انسان کی زندگی میں کوئی ایسا انسان ضرور آتا ہے جس سے بات کر کے دل کو سکون ملتا ہے اپنا غم اس سے بانٹ کر دل ہلکا ہوجاتا ہے اگر دل اداس ہو اور اچانک سے اسکا مسیج آجاۓ دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے موڈ خود ہی اچھا ہوجاتا ہے
    اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ یہ جانتے ہو کہ وہ آپکی منزل کبھی نہیں ہوسکتا مگر پھر بھی دل بےبس ہوجاتا ہے
    اس کا ساتھ اتنا خوبصورت لگتا ہے کے دل چاہتا ہے جو وقت اسکے ساتھ ہو بس وہی زندگی مرتے دم تک بس یہی میرا ساتھ نبھائے دونوں کو یہ پتا ہوتا ہے جب کہ دونوں ہی ایک دسرے کا نصیب نہیں بن سکتے یہ جانتے ھوۓ بھی دونوں ہی یہ تعلق نبھاتے ہیں !!

    لمبی لمبی کالز اور مسیجیز کے بعد…..
    جب تعلق کا نیا پن‘ ختم ہوتا ہے تو ایک دوسرے سے۔۔۔بندھی امیدیں بھی مرنے لگتی ہیں دونوں یہ سوچتے ہیں کہ یہ وہ نہیں ہے جسے میں نے سمجھا تھا
    کیونکہ انسان کو جب کچھ حاصل ہوجاۓ تو وہ اسکی تمنا نہیں کرتا حاصل کو چھوڑ کر پھر سے لاحاصل کہ پیچھے بھاگتا ہے اور پھر دلچسپی کم ہوجاتی ہے
    دونوں ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں فوراََ میسج کا جواب دینے والے ایک دوسرے کو کئی کئی دن جواب نہیں دیتے دونوں کے درمیان کالز کم ہو جاتی ہیں بلیم گیم شروع ہو جاتی ہے تم یہ ہو تم وہ ہو تم ایسے ہو تم ویسے ہو یہ کیا ہے؟وہ کیا ہے؟تم یہ نہیں کرتے تم وہ نہیں کرتے لاشعور کی لڑائی شعوری طور پر ہونے لگتی ہے یہاں تک کے بات قطع تعلق پر آجاتی ہے
    جو ہاتھ میں ہو اسے چھوڑنے سے پہلے کسی نئے کی تلاش۔۔۔شروع ہو جاتی ہے کچھ ’نیا‘ ڈھونڈنے کی آرزو جنم لیتی ہے اور پھر نئے کے ساتھ جب ’نیا پن‘ ختم ہوتا ہے تو۔۔۔پتا چلتا ہے کہ کہ یہ بھی وہ نہیں جس کی مجھے تلاش تھی!
    حناء ۔

  • پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا .تحریر:حنا

    پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا .تحریر:حنا

    انسانوں میں عیب دیکھنا
    القرآن:
    قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی.
    اور طور سیناء کی.
    اور اس پر امن شہر (مکہ) کی.
    البتہ یقینا ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ۔
    کبھی دل چاہتا ہے خدا سے کلام کرنے کو، لوگوں کے رویوں پر آہ وبکاہ کرنے کو۔ ہم دل تو رکھتے ہیں درد نہیں، ضمیر تو رکھتے ہیں بیداری نہیں، الفاظ تو رکھتے ہیں انداز بیان نہیں؟ ہم ہیں کیا؟ کیا انسان ہیں؟ مسلماں ہیں؟ کیا پہچان ہے ہماری؟ ہمارا وجود؟ ہمارا مذہب؟ ہمارا نام؟ ہمارا کام؟ ا ٓخر کیا ہے ہم میں خاص جو ہمیں لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی اجازت دیتا ہے؟ انسان کتنا ہی خود پر ناز کرے، غرور کرے لیکن کہیں نہ کہیں وہ اپنے نا مکمل وجود کی ترجمانی کر ہی دیتا ہے، خدا کی تخلیق میں نقص نکالنا، انسان ہو کر غیرانسانی سلوک کرنا، خود کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان سمجھنا لیکن جب اس کیاپنی ذات کی بات آجاتی ہے تو خود کو انتہائی مہذب، نیک گفتار، عاجز اور خوش طبع شخصیت تسلیم کروانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتا، یہ درست ہے کہ شکل صورت خدا کی دین ہے، اور کسی کو بھی اس میں کسی قسم کا نقص نکالنے کا کوئی حق حاصل نہیں، اس بات کا صرف اور صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپکو خدا کی تخلیق پر عتراض ہے لیکن آپ کی خود کی شکل و صورت، مزاج، کردار کی بات آئےتو، میں تو ایسا؟ میں تو ویسا؟ میں اتنا محنت کش؟ میں اتنا صابر؟ میں اتنا دانش؟ میں اتنا خوش شکل؟ میں سب کچھ مگر تم کچھ بھی نہیں کا نعرہ! توبہ استغفار، اللہ بچائے ایسے مرد اور خواتین سے، پیٹ بھرنے کے لئے کھانا نہیں بس عیب نکانے کی مہم ہی کافی ہوتی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے۔

    دوسروں سے تو پیدائشی دشمنی لے کر پیدا ہوتے ہیں کچھ لوگ یا یہ کہہ لیجیے خود پسندی کا شکار ہوتے ہیں، یہ الفاظ اٰپ نے اکثر سنے ہوں گے:

    ارے یہ بھی کوئی طریقہ ہوا کرتا ہے، یہ بھی کوئی انداز ہے،
    فلاں لڑکی ایسی فلاں ایسی
    اچھا ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﻗﺪ والی لڑکی ؟
    اچھا وہ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻭﺍﻟﯽ؟
    ﺟﻮ ﯾﻮﮞ ﭼﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ؟ ( ﻧﻘﻞ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ )
    ﮐﻮﻧﺴﺎ لڑکا ؟
    ﻭﮦ ﮔﻨﺠﺎ؟
    وہ ﻣﻮﭨﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﻭﺍﻻ؟
    ﻭﮦ ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﺗﻨﺎ ” ﮐﻮﺟﺎ ” ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ؟
    ﮨﻢ “ﺳﻮﺭﮦ ﺗﯿﻦ” ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﺎﺭ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ۔
    ﮐﺘﻨﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﻨﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ، ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺎﻻ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﻮﭨﯽ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﺍﻧﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮫ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺒﺼﺮﮮ، ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ۔۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺣﺴﯿﻦ ﭼﮩﺮﺍ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺣﺴﻦ ﺑﮭﯽ ﺭﺏ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ، ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﮩﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺁﭖ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺲ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺭﺏ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ، ﺗﺴﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺣﺴﻦ ﺗﻘﻮﯾﻢ ( ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﺎﺧﺖ ) ﭘﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺬﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﯾﺎﺩ ﮨﯽ ﮐﺐ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ؟ !

    ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻢ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﻮﭼﮯ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭼﺎﺋﻨﯿﺰ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺪ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮎ ﮐﺎ، ﺍﻧﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﭘﮭﯿﻨﯽ / ﭼﭙﭩﯽ ﻧﺎﮎ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ refer ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻓﺮﯾﻘﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﻨﮕﺮﯾﺎﻟﮯ ﺑﺎﻝ، ﭼﻮﮌﯼ ﺟﺴﺎﻣﺖ، ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﻣﺼﻮﺭ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔
    ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺃَﻧْﺖَ ﺣَﺴَّﻨْﺖَ ﺧَﻠْﻘِﻲ ﻓَﺤَﺴِّﻦْ ﺧُﻠُﻘِﻲ
    ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ( ﺑﺎﮨﺮ ) ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ( ﺍﻧﺪﺭ ) ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ۔

    ﺭﻭﺯﻭﯾﻠﭧ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻗﻮﻝ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ :
    ”Great minds discuss ideas; average minds discuss events; small minds discuss people.” ﺍﺳﮑﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﯼ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺲ کیٹاگری میں ہوتا ہے

  • تعلیمی اداروں میں کیمرے کیوں ضروری ۔۔۔تحریر:حنا

    تعلیمی اداروں میں کیمرے کیوں ضروری ۔۔۔تحریر:حنا

    جیسا کہ آپ جانتے ہیں ۔ہمارے ملک میں بدفعلی زنا اور فحاشی دن بدن بڑتی جارہی ہے ۔حکمران ریاست حتی کہ سبھی لوگ بے بس نظر آتے ہیں ۔۔کہ اس بدفعلی کو کیسے روکا جاے ۔آئے روز ِنت نئے کیس دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ دنیا بھر کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی اداروں میں کیمرے نصب کیے جاتے ہے اساتذہ سمیت بچوں کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے ۔بطور مسلمان ہم سب جانتے ہیں فحاشی اور بدفعلی گناہ ہے جرم ہے اور اسلام میں اس کی کیا سزا ہے ۔
    زنا کی سزا بتاتے وقت ۔
    اللہ تعالی نے فرمایا ۔
    اور تمھیں اللہ کے دین کے نفاد کے متعلق ان دونوں کے بارے میں کوئ ترس نہ آئے ۔
    اگر تم اللہ تعالی اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہو ۔
    (النور 2:24)
    وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲)ترجمہ: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔
    زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ ایسی سزا کو حدود اللہ کہا جاتا ہے جس کا جاری کرنا حاکم اسلام کا کام اور ذمہ داری ہے، 

    پاکستان میں اس وقت تین بڑے مکتبہ فکر ہیں جنکے مدارس کثیر تعداد میں پورے پاکستان میں پھیلے ہوۓ ہیں دیوبندی مکتبہ فکر کا الحاق وفاق المدارس سے ہے جس سے تقریبا 18600 مدارس منسلک ہیں جنمیں 20 لاکھ کے قریب طلباء طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ بریلوی مکتبہ فکر کا الحاق تنظیم المدارس سے ہے اور اس سے تقریبا 9000 بریلوی مدارس منسلک ہیں جنمیں 13 لاکھ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں
    اس طرح اہل حدیث مکتبہ فکر کا الحاق وفاق المدارس اسلافیہ سے ہے اس کے تحت تقریبا 1400 مدارس ملک بھر میں فعال ہیں جنمیں کل ملا کے 39000 طلباءوطالبات زیر تعلیم ہیں
    خلاصہ یہ نکلا کے پاکستان میں 29000 رجسٹرڈ مدارس ہیں جنمیں 3339000 طلباءوطالبات زیر تعلیم ہیں
    اسی طرح دنیاوی تعلیم کے اداروں پر بات ہو تو سرکاری غیر سرکاری ابتدائی مڈل سیکنڈری کالج یونیورسٹی سمیت 2234255 ادارے دنیاوی تعلیم کے لیۓ پاکستان میں فعال ہیں جنمیں قریب 8 کروڑ قوم کے بچے بچیاں زیر تعلیم ہیں

    پاکستان بھر میں مدرسہ ہو یا کالج یونیورسٹی ہو یا جامعہ الا قلیل ہر ایک ادارے میں ہفتے مہینے میں ایک دو کیس ایسے ضرور سامنے آتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے طلباء نے آپس میں یا طالب علم نے طالبہ سے یا ٹیچر نے طالبہ کیساتھ قاری نے بچے کیساتھ ٹیچر نے شاگرد کے ساتھ پروفیسر نے طلبہ کے ساتھ زیادتی کی ہے اور سینکڑوں ایسی زیادتیاں ہوتی ہیں جو سامنے ہی نہیں آتیں بچے مسلسل زیادتی کا شکار ہو ہو کر مفلوج ہو جاتے ہیں کچھ عرصہ پہلے گجرانوالہ کی دینی درسگاہ کی ویڈیو سامنے آئی تھی اس طرح اک کالج میں کلاس روم کے سیکنڈل کی بھی لاہور یونیورسٹی میں ایک طلبہ کا گینگ ریپ بھی مانسہرہ کے قاری شمس الدین کی زیادتی ہو یا آئے روز جو دین کے ٹھیکدار ہوتے ۔جو خود کو دین کا وارث کہتے ہیں آئے روز ان کی بدفعلی کی وڈیو آرہی ہے ۔

    اگر ہم سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھیں ۔تو ہمارے آس پاس ان گنت بچے اس وقت زیادتی کے بعد قتل کیے جا چکے ہیں. انصاف نہیں ملتا ۔۔کیوں؟ اس کی ایک بڑی وجہ ہے ۔۔میرے حکمرانوں کی خاموشی ۔۔۔موجودہ حکمران ہوں یا ماضی کے ۔۔سبھی ہمیشہ تب بولتے ہیں جب قتل یا درندگی سے متاثرہ ہونے والے بچے کا تعلق مخالف پارٹی کے صوبے یا علاقے سے ہو ۔۔ہمیشہ اس وقت انصاف کا رونا رویا جاتا ہے جب مخالف کو ذلیل اور لعن طعن کرنا ہو ۔حکمران انبیاء اور صحابہ کی مثالیں عوام کو تو دیتے ہیں لیکن خود عمل کیوں نہی کرتے درندگی فحاشی کتنا ہی بڑھ گئ ہو ۔اسے روکنا حکمرانوں پر فرض ہے ۔۔لیکن میرے حکمران تو جیسے ستو پی کر سووے ہووے ہیں ۔۔جناب عالی صرف گرفتار کرنے کو سزا دینا نہیں کہتے ۔۔کہ کسی نے جرم کیا تو آپ نے اسے سزا دے دی ۔۔جیلوں میں عیاشی کی زندگی دے دی ۔۔اور پھر وہی مجرم پولیس کو رشوت دے کر ضمانت کروا لیتا ہے ۔۔۔خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چوبیس لاکھ مربع میل کر حکومت کی……..راتوں کو اٹھ اٹھ کر پیرا دیتے تھے اور لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے…..کہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس بارے میں پوچھ ہو گی……

    ۔۔جب مدرسہ کا مولوی بچے کے ساتھ زنا کرتا ہے ۔ قتل کرتا ہے تو تمام علماء خاموش ہوتے ہیں ۔مگر ڈگری والے ماسٹر رونا ڈال رہے ہوتے ہیں ۔انصاف کا ۔۔ اصل میں انصاف کا نہیں ۔بلکہ مدرسے کو بدنام کرنے کا اور اس وقت میری تمام حقوق کی تنظیمیں بھی بڑھ چڑھ کہ بولتی ہے میرے اداکار میرے گلوکار چینلوں پہ کالے رنگ کے لباس پہن کہ آجاتے ہیں۔مگر انصاف نہیں مانگتے ۔انصاف مانگتے تو جس مولوی کی غلطی ہو وہ اس کی سزا کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں لیکن وہ تمام مولوی طبقے کو گالی گلوچ مدرسوں کو غلط جگہ قرار دے کر اپنا الگ ہی بغض نکالنے لگ جاتے ہیں ۔ مدرسے کو بدنام وہ تمام مولوی طبقہ بھی کرتا ہے جو ایک مولوی کی غلطی پہ گناہ پہ خاموش ہوتا ہے ۔وہ تمام حافظ قرآن وہ تمام عالم بھی اس گناہ میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ وہ خاموش رہے ۔اب آپ لوگ مجھے کہیں گے ۔تم علماء کو برا کیوں بول رہی ۔۔ باقی جگہوں پر بھی تو ایسا ہوتا ہے ۔۔ارے باقی جگہیں خدا کا گھر نہیں کہلائ جاتی مساجد مدارس کو خدا کا گھر کہا گیا ہے ۔۔اور علماء کا رتبہ بہت بلند رکھا گیا ہے ۔۔قرآن جیسی عظیم کتاب پڑھانے والا بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے والا ایسا فحش عمل کرے گا تو سوال تو ہوں گے ۔۔ انگلی تو اٹھے گی ۔۔صرف اس پر نہیں ہر مولوی ہر داڑھی والے پر کہ کہیں یہ بھی ایسا تو نہیں ۔۔ایک مچھلی گندی ہو تو پورا تالاب گندہ کرتی ہے۔۔۔دوسری بات ۔جب سکول کالجز یونیورسٹیوں میں کسی لڑکی لڑکے کے ساتھ غلط ہوتا ہے یا قتل ہوتا ہے تو میڈیا خاموش ہوتا ہے ۔میرے حکمران خاموش ہوتے ہیں ۔میرے اداکاروں میری گلوکاروں کے سیاہ رنگ کے لباس گم ہو جاتے ہیں ۔کیوں؟ کیوں کہ وہ جگہیں ڈگری والوں کی ملکیت ہوتی ہے ۔۔وہاں منہ بند رکھنے کے پیسے ملتے ہیں میڈیا مالکان کو ۔حقوق کے علمبرداروں کو ۔موم بتی مافیا کو ۔وہاں ہر تیسرا بندہ یہ کہ کر جھٹلا دیتا ہے کہ لڑکی ہی غلط ہو گی ۔لڑکا ہی غلط ہو گا ۔۔۔والدین ہی برے ہوں گے ۔۔۔ آج زنا کی اس وباء سے چھوٹے چھوٹے بچے بھی محفوظ نہیں۔وہ لڑکا ہو یا لڑکی ۔۔آج یہ کہنا کہ لڑکی نے ہی ورغلایا ہوگا ۔۔یا یہ کہنا بچی کا لباس پورا نہ تھا تو مرد بہک گیا ۔۔ایک ماں کا لاڈلہ بہک گیا ۔۔دین کا خودساختہ ٹھیکدار بہک گیا ۔۔یا سکول ماسٹر پروفیسر بچے کی خوبصورتی اور میک اپ کو دیکھ کر بہک گیا یہ بالکل غلط بات ہے۔ سال دو سال کے بچے جو ماں تک بولنا نہی جانتے ہوتے ۔ وہ بھی محفوظ نہیں ۔۔کیوں؟ اس کے ذمہ دار آپ سب بھی ہے ۔آپ نے کیوں نہیں مانگا انصاف ۔۔اسماء کے لیے ۔عاصمہ کے لیے ۔مدیحہ کے لیے ۔آمنہ کے لیے ۔ ۔نور کے لیے ۔ہادیہ کے لیے ۔رضوان کے لیے ۔عامر کے لیے ۔اور ان جیسے بے شمار بچوں کے لیے ۔۔آپ کیوں صرف اک دوسرے کی مخالفت پہ ہی بولتے ہو۔سرے عام پھانسی پر کیوں نہیں بولتے ؟کیوں نہیں سرے عام سنگسار کی بات کرتے۔۔کوی بھی بندہ کسی دوسرے کے ایسے جرم پر اسے سنگسار نہیں کر سکتا ۔۔یہ قانون حکمران بناتا ہے حکمران مجرم کو سنگساری کی سزا دے سکتا ہے ۔

    کچھ ماہ قبل جب بشریٰ انصاری نے مدارس میں کیمرے لگانے کا مطالبہ کیا تو ایک مشہور سلفی دانشور نے غلاظت اگلتے ہوئے اس مطالبے پہ بشریٰ کو طوائف قرار دیا تھا۔وہ اداکارہ ہے تو وہ طوائف ٹھہری اور مذہب کے نام پر بدفعلی کرنے والے کیا کہلاے؟
    ہاں یہ کہا جاسکتا تھا کہ سکولوں کالجوں میں بھی کیمرے لگاے جائیں ۔آپ مدرسوں میں کیمرے لگاو کوی مولوی مخالفت کرے اسے الٹا لٹکاو ۔۔علماء مولوی کو بھی ہم نے خدا سمجھ لیا ہے ۔۔کہ وہ گناہ کر ہی نہیں سکتا اور اگر کرتا ہے تو چپ کر جاو خاموش ہو جاو ۔۔نہ جانے کیوں یہ سوچ لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کی ہووی ہے ۔کہ عالم حافظ کو سزا کی بات کی تو دین خطرے میں پڑھ جاے گا ۔۔۔ارے دین کو سب سے زیادہ بدنام خود یہ علماء کررہے ہیں علماء کے بارے ایک فرمان ہے
    عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)۔۔۔تو علماء کو علماء ہی سمجھیے ۔۔خدا یا رسول نہیں کہ یہ مجرم ہے تو خاموش ہو جاو

    ہم ملکر حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں ۔پورے پاکستان میں خفیہ کیمرے نصب کیے جائیں
    مدارس میں کیمرے لگائے جائیں ۔ بشرطیکہ وہ کیمرے کالج، یونیورسٹی،ایم این اے، ایم پی ایز کے ریسٹ ہاؤسز، افسران کے دفاتر، پولیس، وکلاء اور بڑے بڑے دفاتر جو حکومت کے ماتحت ہے ہر جگہ خفیے کیمرے نصب کیے جائیں ۔۔ہاں یہ مفت کا کام نہیں ہے اس پہ بہت پیسہ لگے گا ہم عوام دیں گے پیسہ ۔۔ویسے بھی ہم بہت ٹیکس دیتے ہیں ۔۔چند پیسے اگر ہماری نسل کے تحفظ پہ لگ جائیں تو ہمیں قابل قبول ہے ۔۔آپ کیمرے لگائیں ۔پھر دیکھیں گے ۔۔برائی کس جگہ سے جنم لے رہی ہے ۔۔۔اور کون اس برائ سے پاک صاف ہے

    ۔

    Article Writer Name

    Hina 

     

  • انتشاری گروہ اور بلوچ طلبا، تحریر: حنا

    انتشاری گروہ اور بلوچ طلبا، تحریر: حنا

    بلوچستان میں سب سے بڑی دہشتگرد تنظمیں دو ہیں۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف۔ دونوں کے کمانڈروں سے لے کر نیچے لڑنے والوں تک سب کو افرادی قوت بی ایس او فراہم کرتی ہے جو بلوچ طلباء کی تنظیم ہے اور تمام سرخے ہیں۔ یعنی مارکسسٹ۔۔ آپ نے دیکھا ہوگا ۔۔ BLA گروہ کا کوئی مرتا ہے یا سیکورٹی فورسز پر حملہ کرتے ہوئے یا ایف سی جوانوں کے ہاتھوں جہنم واصل ہونے والا دہشتگرد جب مارا جاتا ہے تو پچھلے کچھ عرصے سے بعد تحقیقات کے پتہ چلا کہ ان دہشتگردوں کا تعلق ہماری ہی کچھ یونیورسٹیوں سے ہوتا ہے جن میں خاص کر ایک اہم یونیورسٹی کے ذہین طلباء شامل ہوتے ہیں ۔وہ یونیورسٹی اس وقت مارکسزم کی نمبر ون پرچارک بلکہ آماجگاہ بن چکی ہے۔ یوں کہ لیں۔ کسی دن یہ یونیورسٹی دوسری لال مسجد بن جائے گی.اسی یونیورسٹی کے پچاس اساتذہ کو پکڑا جائے تحقیقات کی جاے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یونیورسٹی میں طلبہ کے دماغوں میں جو زہر بھرا جارہا ہے وہ کیسے اور کون بھرتا ہے ۔۔

    PTM TTP یہ سب نام کے conservative ہیں اصل میں یہ بھی اسی ایجنڈا کو پروموٹ کرتے ہیں جس کو لبریز پروموٹ کرتے ہیں وہ واحد ایجنڈا پاکستان مخالف اسلام مخالف ایجنڈا ہے۔پاکستانی وراثت روایت مخالف ایجنڈا ہے ۔ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ بھی اسی تنظیم سے نکلا تھا ۔پاکستان میں بڑی یونیورسٹیوں اور طلباء تنظمیوں پر انہی سرخوں کا کنٹرول ہے جو طلباٰء کی بڑی تعداد کو اسلام اور پاکستان سے متنفر کر چکے ہیں۔۔جب تک ان یونیورسٹیوں کی اصلاح نہیں کی جاتی یہ جنگ ختم نہیں ہوسکتی

    بی ایل اے اور بی ایس او اب تک بلوچستان سے میں چار ہزار سے زائد دہشتگردانہ حملے کر چکی ہے۔۔۔کریمہ بلوچ اسی بی ایس او کی چئیرمین تھیں اور بی ایس او کو پاکستان کلعدم قرار دے چکا ہے۔۔۔کل بھوشن نے بھی یہی کہا تھا کہ وہ طلباء تنظیموں کی مدد سے اپنی دہشتگردی کے نیٹورکس چلاتا رہا۔۔بلوچستان میں 1972/1973 میں جن کے خلاف آپریشن ہوا تھا وہ لوگ یعنی مری اور مینگل یہ سب مارکسزم اور کیمونزم کے حامی تھے۔ یہ لوگ خود پڑھے لکھے ہوتے لیکن اپنے نیچے کسی کو پڑھنے نہیں دیتے اور انکو پھر ریاست کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔۔۔محرومی کے مارے طلباء کو پیسوں کا بہت پیسوں کا لالچ دے کر ۔اور کچھ کرنے کا جذبہ رکھنے والے ذہین طلباء کو ہی یہ اکساتے ہیں ۔اساتذہ کے زریعے ایسے بچوں کا برین واش کرتے ہیں ۔

    سننے میں آیا ہے کہ یونیورسٹی میں اساتذہ جان بوجھ کر ایسے موضوعات پر بحث کرتے ہیں جو شدت پسندی انتشار پسندی کی طرف جاے ۔۔ہر انتشار پسندی ہر لبرزم کا کیڑہ اسی یونیورسٹی سے کیوں نکلتا ہے ۔۔وہ طلباء یکجہتی ہو یا نقیب اللہ کے قتل پر طلباء کو ملا کر ساتھ احتجاج کر کہ بننے والی جماعت پی ٹی ایم ہی ہو یا لال لال لہراے گا نعرے والے سرخے ہوں ۔۔سب کا تعلق اسی گروہ سے نکلتا ہے ۔۔۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ریاست ان کی چال بازوں سے واقف نہیں ۔لیکن یہ ان کی بھول ہے ۔۔ریاست اگر ان کو کھلا چھوڑتی ہے تو اس لیے نہیں کہ ریاست ان کی سازشوں سے انجان ہو ۔۔بلکہ اس لیے کہ یہ اپنی موت اپنے مرتے ہیں ۔

    ۔دنیا کے سامنے یہ ملک دشمنوں سے فنڈ لیکر ریاست کو بدنام کرتے کرتے خود بے نقاب بھی ہوتے ہیں۔اور ننگا بھی کہ دنیا ان کی اصلیت جان جانتی ہے کہ یہ پیسے پہ بکنے والا گروہ جو اپنے ملک کا وفادار نہیں ۔وہ ہمارا کیسے ہو سکتا ۔۔تبھی ان کا حال کریمہ بلوچ کی طرح ہوتا ہے دنیا کے کسی کونے چلے جائیں یہ لوگ ۔۔ان کو استعمال کرنے والے خود ہی ان کا سر کچل دیتے ہیں
    حناء سرور
    ۔

    Article Writer Name

    Hina