Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن اور اقوام متحدہ کا کردار

    فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن اور اقوام متحدہ کا کردار

    ہر سال نومبر کی انتیس تاریخ کو فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتیَ کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور کفن چوروں کی انجمن یعنی اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں بھی اس دن کو منانے کا بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے لیکن اس دن کی اصل حقیقت اور تاریخ کے مطابق نہ تو اقوام متحدہ کوئی موثر کردار ادا کر رہی ہے اور نہ ہی عالمی برادری اور پھر مسلمان ممالک کے حکمرانوں کے پاس تو پہلے ہی شام ، یمن، لبنان، اور دیگر علاقوں میں جنگیں اور محاذ کھولنے کا بہت بڑا ٹاسک موجود ہے تو ان کو کیا پڑی ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطین کی فکر کریں یا مقبوضہ کشمیر کی فکر کریں ۔

    اب حد تو یہ ہے کہ انہی مسلمان عرب ممالک کے چند حکمرانوں نے فلسطینی قوم اور اپنے ملک کی عوام کی خواہشات کے بر عکس صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنا اور اسرائیل کوتسلیم کرنا بھی شروع کر دیا ہے ۔ مزید ساتھ ساتھ دیگر مسلمان ممالک پر بھی دباءو ڈال رہے ہیں کہ وہ بھی اسرائیل کے تسلیم کر لیں ۔ مثال کے طور پر حا ل ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب نے ایک ٹی وی انٹر ویو میں ممالک کا نام نہ لیتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا ۔

    بہر حال جہاں تک اب بات فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کی ہے تو اس سال بھی یقینا اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں اس عنوان سے پروگرام منعقد کیا جائے گا یا شاید کورونا کا بہانہ بنا کر اب یہ بھی کہہ دیا جائے کہ اس سال ضرورت ہی نہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہی اقوام متحدہ ہی ہے کہ جس کی قرار داد 181کے تحت فلسطین کی تقسیم کا فیصلہ سنہ1947ء میں کیا گیا تھا ۔ سوال تو یہاں پر اٹھتا ہے کہ آخر کیوں اقوام متحدہ نے عالمی استعماری قوتوں کی ایماء پر ایک ایسا غیر منصفانہ فیصلہ کیا کہ جس کو آج ستر سال سے نہ صرف فلسطینی قوم بھگت رہی ہے بلکہ اسرائیل کے ناجائز وجود کے باعث پورے خطے میں نا امنی اور دہشت گردی سمیت قتل وغارت اور عدم استحکام موجود ہے ۔

    آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکی سربراہی میں فلسطینی قوم کا محاصرہ کیا جا رہاہے ۔ غزہ کا فزیکل محاصرہ تو پہلے ہی تیرہ برس سے جاری ہے کہ جہاں کے بیس لاکھ عوام کی زندگیوں کو داءو پر لگا دیا گیا ہے ۔ اب اسی قسم کا انسان شکن محاصرہ یمن کے عوام کو بھی سامنا ہے ۔ آج فلسطین کا مسئلہ دفن کرنے کی امریکی کوشش سر توڑ کر بول رہی ہے ۔ اس کوشش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے امت مسلمہ کے میر جعفر اور میر صادق آج بھی عرب حکمرانوں کی صورت میں سرگرم عمل ہیں ۔ امریکی قیادت میں جاری فلسطینی قوم کے محاصرہ میں فلسطینی مظلوم قوم کی مشکلات میں اضافہ ہو رہاہے ۔ ایک طرف فلسطینیوں سے ان کا وطن چھین لیا گیا ہے ۔ ان کو گھروں سے بے گھر کیا گیا ہے ۔ ان کے مال و متا ع پر قبضہ کیا گیا ہے ۔ یہاں ان کی مذہبی آزادیوں کو سلب کر لیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کے قبلہ اول کی آئے روز توہین اور بے حرمتی کی جا رہی ہے ۔

    ان سب حالات کے باوجود بھی فلسطین کی مظلوم مگر مضبوط ارادہ رکھنے والی قوم صہیونی دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی ہوئی ہے ۔ فلسطین میں بسنے والا ایک ایک بچہ یہ عزم کئے ہوئے ہے کہ غاصب اسرائیل کے سامنے سر نہیں جھکائے گا ۔ سیکڑوں فلسطینی صہیونی قید و بند میں ہیں ۔ لیکن فلسطینیوں کا یہ فیصلہ ہے کہ چند عرب حکمران تو کیا اگر پوری دنیا بھی اسرائیل کو تسلیم کر لے اور فلسطین میں بسنے والے عوام اسرائیل کو تسلیم نہ کریں تو اسرائیل کی حیثیت غاصب ہی رہے گی ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو امریکہ اور اسرائیل بھی بخوبی سمجھتے ہیں ۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ عرب دنیا کی جانب سے اسرائیل دوستی اور تعلقات نے جہاں مسلم دنیا میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے وہاں ساتھ ساتھ مسئلہ فلسطین کی حمایت کو بھی کمزور کر دیا ہے ۔ آج عرب لیگ جیسے ادارے کی صورتحال یہ ہے کہ اس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی صدارت قبول کرنے کے لئے کوئی ملک آمادہ ہی نہیں ہے ۔ حقیقت میں عرب لیگ کا یہ بکھراءو عرب لیگ کے ماضی قریب کے ان فیصلوں کے نتیجہ میں سامنے آیا ہے کہ جن فیصلوں میں ظالم قوتوں کی حمایت کی گئی تھی ۔ یہ مسلم دنیا میں وہ عرب ممالک ہیں کہ جن کی تاریخ میں اسرائیل کے خلاف جنگ اور فلسطین کی حمایت میں متعدد قرار دادیں ملتی ہیں لیکن آج ان ممالک کے حکمران اپنے ہی کئے ہوئے عہد و پیمان سے پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔ کئی ایک عرب ممالک کی حالت تو دیکھیں کہ داخلی انتشار کا شکار ہو چکے ہیں ۔ کیا یہ انتشار ا ن کا خود ایجاد کردہ ہے;238; ہر گز نہیں ۔ یہ انتشار بھی ان کو انہی استعماری قوتوں نے تحفہ میں دیا ہے جن کی غلامی انہوں نے قبول کی ہے ۔ یہاں پر مشرق کے عظیم مفکر اور استاد جناب حضرت علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ ، یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہو تو، مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ۔

    دوسری طرف عرب حکمرانوں کو دیکھیں تو علاقائی جنگوں میں مصروف ہیں ، یمن کے خلاف محاذ ہے ۔ قطر کے خلاف معاشی محاذ کھولا گیا ہے ۔ اسی طرح کئی ایک اور محاذ کھڑ ے کر دئیے گئے ہیں جس کا براہ راست اثر صرف اور صرف فلسطین کے مسئلہ اور اس کی عالمی حمایت پر پڑ رہاہے ۔ فلسطینی قوم کا ایک محاصرہ جو امریکی قیادت میں القدس کی شناخت تبدیل کرنے اور صہیونیوں کی آباد کاریوں کےء ذریعہ انجام پا رہا ہے تو دوسری طرف یہ محاصرہ عرب دنیا کے حکمرانوں کی غفلت مجرمانہ کے باعث انجام پذیر ہے ۔ بہر حال انتیس نومبر کو کفن چوروں کی انجمن فلسطینی قوم کے ساتھ یکجہتی کا دن منائے گی لیکن یہاں یہ جملہ ضرور صادر آتا ہے کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔ آج غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل اور اس کے ہمنواءوں نے فلسطین کے مسئلہ کو ختم کرنے اور ایک ریاستی حل کی کوشش شروع کر دی ہے جبکہ حقیقت میں فلسطین ایک ریاست ہی ہے البتہ اسرائیل کا وجود ناجائز اور جعلی ہے ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ممالک سنجیدگی کے ساتھ فلسطین کے مسئلہ کے بارے میں غور کریں ۔ عرب دنیا کے حکمران اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے اجتناب کریں کیونکہ اسرائیل ایک ایسا دیمک ہے جو نہ صرف فلسطین کو چٹ کرنا چاہتا ہے بلکہ ہر اس ریاست کو تہس نہس کرنا چاہتا ہے جو اس کے ساتھ دوستی انجام دے ۔ فلسطینی قوم کا محاصرہ توڑنے کے لئے دنیا بھر کے حریت پسند فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور آخری دم تک اپنی جد وجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں بھی جہاں حکومت کی جانب سے فلسطین کی حمایت میں آنے والے بیانات خوش آئند ہیں وہاں پاکستان کی معروف این جی او فلسطین فاءونڈیشن پاکستان بھی خراج تحسین کے قابل ہے جس نے پاکستان کی سرزمین پر فلسطینیوں اور مظلوم کشمیری عوام کے مسائل کو اجاگر کیا ہے ۔

  • سارہ خان نے بھی ٹک ٹاک کو جوائن کرلیا

    سارہ خان نے بھی ٹک ٹاک کو جوائن کرلیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ سارہ خان نے مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کو جوائن کرلیا۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ سارہ خان نے ٹک ٹاک جوائن کرنے کی خبر سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر دی انہوں نے انسٹاگرام پر ایک مختصر ویڈیو شیئر کی جس میں دو میک اپ مین ان کا میک اپ کررہے ہیں-

    ویڈیو شئیر کرتے ہوئے سارہ نے کیپشن لکھا میں بھی اب ٹک ٹاک پر ہوں۔

    سارہ کی جانب سے یہ خبر شیئر کرنے کے بعد جہاں ان کے مداح حیران ہوئے وہیں ان کی چھوٹی بہن نور ظفر خان بھی حیرت زدہ رہ گئیں اور کمنٹ میں لکھا حیران ہوتے لکھا کہ ’کیا‘ ؟-

    نومی خان نامی شخص نے سارہ خان کے ٹک ٹاک جوائن کرنے پر پوچھا سارہ جی یہ کیسے ہوگیا آپ تو ٹک ٹاک سے بہت نفرت کرتی تھیں؟

    اپنے مداح کے سوال کا دلچسپ جواب دیتے ہوئے سارہ خان نے کہا ’اچانک پیار ہوگیا۔‘

    سارہ خان کی ایک انڈین مداح نے افسوس کرتے ہوئے لکھا کہ میں آپ کی ٹک ٹاک ویڈیو دیکھ نہیں پاؤں گی کیونکہ میں انڈیا سے ہوں-

    خیال رہے کہ چین اور بھارت میں کشیدگی کی وجہ سے بھارت سرکار نے چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندئی عائد کر رکھی ہے-

    تاہم بہت سے فنکار ٹک ٹاک کے خلاف ہیں جن میں فیروز خان اور فہد مصطفیٰ پیش پیش ہیں اور بچوں اور نوجوانوں کو ٹک ٹاک سے دور رہنے کی تلقین بھی کرچکے ہیں۔

  • انڈسٹری کو 25برس کا طویل عرصہ دینے کے بعد اب تھک چکی ہوں  مہرین جبار

    انڈسٹری کو 25برس کا طویل عرصہ دینے کے بعد اب تھک چکی ہوں مہرین جبار

    اچھوتی کہانیوں اور مختلف موضوعات پر کام کرنا ہی مہرین جبار کو دوسرے ہدایت کاروں اور فلم سازوں سے منفرد بناتا ہے ہدایت کار و فلم ساز مہرین جبار کا کہنا ہے کہ انڈسٹری کو 25برس کا طویل عرصہ دینے کے بعد اب تھک چکی ہیں۔

    باغی ٹی وی : مہرین جبار نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ وہ ڈراموں میں کہانی مختلف انداز میں بیان کرنے کی قائل ہیں بلاوجہ کہانی کو بڑھانا انہیں پسند نہیں ڈرامے کو طویل کرنے سے کہانی کمزور پڑ جاتی ہے۔

    مہرین جبار نے انٹرویو میں غیر ضروری طور پر ڈراموں کو بڑھانے کے ٹی وی چینل مالکان کے ایک ناخوشگوار تجربے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ تین سال قبل 2017 میں انہوں نے ایک ڈرامے کی ہدایات دی تھیں جو 24 قسطوں پر مشتمل تھا۔

    مدیحہ امام نے خواتین پر شادی کے لیے دباؤ کو پاکستانی سماج کی حقیقت قرار دیا

    انہوں نے بتایا کہ ٹی وی چینل کی انتظامیہ نے اشتہارات کی مد میں کمائی کرنے کی غرض سے اسے بڑھا کر 30 قسطوں تک کردیا اور فضول میں ڈراموں میں فلیش بیک اور جذباتی مناظر شامل کردیئے جاتے ہیں۔

    مہرین جبار نے کہا کہ ایسے ہی عمل کی وجہ سے غیر ضروری اور جاہلانہ کہانیوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ڈرامے کا معیار بھی گرتا ہے لیکن ٹی وی انتظامیہ اپنی ریٹنگ کے چکر میں یہ سب کچھ کرتی ہے۔

    پاکستانی فنکار جن کا ماننا ہے کہ ایوارڈز قابلیت پر نہیں بلکہ پسندیدگی پر دئیے…

    مہرین جبار نےانٹر ویو میں اداکاروں کے رویوں پر بھی بات کی اور کہا کہ ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ایک اداکار ڈرامے کے سیٹ پر دوپہر ایک بجے سے پہلے نہیں پہنچتا اور پوری ٹیم اس کا انتظار کرتی رہتی ہے۔

    انہوں نے اداکاروں کے ایسے رویوں کو باقی پوری ٹیم کی بے عزتی بھی قرار دیا اور کہا کہ اوپر سے ٹی وی چینلز مالکان کا ٹیم پر دباؤ رہتا ہے کہ وہ وقت پر انہیں منصوبے پیش کریں۔

    موجودہ دور کے ڈرامے چوں چوں کا مربہ بن کر رہ گئے ہیں ساجد حسن

    مہرین نے انٹرویو کے دوران نئے باصلاحیت فنکاروں کی تعریف بھی کی انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں اس وقت بہت سے ایسے باصلاحیت لوگ بھی موجود ہیں جو وقت کے پابند اور ٹیم کے دوسرے لوگوں کا خیال بھی رکھتے ہیں۔

    مہرین نے کہا کہ ایسے رویوں کی وجہ سے ہی ویب سیریز پر کام کرنے کا آپشن بہترین ہے کیونکہ اس میں مواد نشر کرنے والوں کی سختی بھی نہیں ہوتی جب کہ ایسے منصوبوں پر کام کرنے والے ہدایت کار کے پاس یہ آپشن بھی موجود ہوتا ہے کہ وہ معروف اداکاروں کے بجائے ایسے اداکاروں کو منتخب کرے جو وقت کے پابند ہونے سمیت اچھی اداکاری کر سکیں۔

    ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ویب سیریز بے جا پابندیوں سے بھی آزاد ہوتی ہیں اور ان میں کچھ بولڈ مواد دکھانے کی اجازت بھی ہوتی ہے۔

    مواد پر پابندی لگانے سے متعلق ایک باضابطہ طریقہ کار ہوتا ہے پیمرا کو اسی طریقہ کار پر چلنا چاہیے مہرین جبار

    واضح رہے کہ اس سے قبل مہرین جبار نے اپنے ایک انٹرویو میں پیمرا کے حوالے سے کہا تھا کہ دنیا میں ہر جگہ سینسر بورڈ ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہیے لیکن ہمارے ہاں بعض جگہ پر لگائی جانے والی پابندی بلکل غلط ہوتی ہے ہمارے ہاں کسی ایک شخص کو اگر کوئی چیز غلط لگ جاتی ہے تو پابندی لگائی جاتی ہے جب کہ ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی لگانے کا ایک باضابطہ طریقہ کار ہوتا ہے اور پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو اسی طریقہ کار پر چلنا چاہیے۔

    مہرین جبار نے اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا تھا کہ حال ہی میں پیمرا نے کچھ ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی عائد کرکے پھر اس پابندی کو ہٹا لیا تھا انہوں نے کہا کہ پیمرا والے خود بھی کنفیوژڈ ہیں-

    ایک سوال کے جواب میں مہرین جبار کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں یہ عمل درست نہیں وہ بھی کسی طرح کی پابندیوں کی حامی نہیں ہیں کیوں کہ کسی بھی مواد پر پابندی لگانے کا مطلب اس مواد کو زیادہ وائرل کرنا ہوتا ہے۔

    مہرین جبار کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ایسی فلموں پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے، جن پر پابندی نہیں لگنی چاہیے انہیں لگتا ہے کہ پاکستان میں فلموں پر پابندی اور بعض مواد کا مسئلہ سینسر بورڈ نہیں ہماری فلم انڈسٹری کا مسئلہ کچھ اور ہے-

  • سلمان خان نے کورونا کے خطرے کے پیش نظر خود کو آئسولیٹ کرلیا

    سلمان خان نے کورونا کے خطرے کے پیش نظر خود کو آئسولیٹ کرلیا

    بالی وڈ سپر اسٹار سلمان خان نے کورونا کے خطرے کے پیش نظر خود کو آئسولیٹ کرلیا۔ ساتھ ہی سلمان خان کے اہلخانہ نے بھی خود کو 14 دنوں کے لئے قرنطینہ کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سلمان خان کے ڈرائیور اشوک اور گھر میں کام کرنے والے 2 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے جس کے بعد بالی وڈ کے دبنگ خان اور بگ باس 14 کے میزبان نے بھی احتیاطی تدابیر کے تحت خود کو آئسولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے کورونا کی رپورٹ کا انتظا ر ہے سلمان خان کے علاوہ ان کے اہلخانہ نے بھی خود کو آئسولیٹ کر دیا ہے

    رپورٹس کے مطابق سلمان خان کے ڈرائیور اور دیگر 2 ملازمین کو اسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔

    اداکار کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سلمان خان اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ان کے ملازمین کو بہترین علاج اور دیگر طبی سہولیات فراہم ہوں۔

    سلمان خان اور نہ ہی ان کے اہلخانہ کے افراد نے ابھی تک اس پر کوئی بیان جاری کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ، سلمان خان کے والد سلیم خان اور والدہ سلمیٰ اپنی شادی کی 56 ویں سالگرہ 18 نومبر کو منانے والی تھیں لیکن اس غیر یقینی صورتحال کے سبب یہ تقریبات منسوخ کردی گئیں۔

    ابھی تک ، بگ باس کی ٹیم کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے کہ سلمان خان کی غیر موجودگی میں ویک اینڈ کا وار اقساط کون منعقد کرے گا۔

    واضح رہے کہ سلمان خان ماضی میں کئی بار لوگوں میں کورونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کا پیغام دے چکے ہیں۔

  • قلم کارواں کی ادبی نشست    بقلم: ڈاکٹرساجد خاکوانی

    قلم کارواں کی ادبی نشست بقلم: ڈاکٹرساجد خاکوانی

    قلم کارواں کی ادبی نشست
    ڈاکٹر ساجد خاکوانی

    منگل 17نومبر بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست اسلام آبادمیں منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں معروف شاعراوردانشور جناب محمداکرم الوی کامقالہ”مصطفائی کلچرکے بنیادی تصورارت؛فکراقبال کی روشنی میں“طے تھا۔یہ نشست ماہ ربیع الاول اوریوم اقبال کے حوالے پر مبنی تھی۔نوجوان ادیب،شاعر،نقاد اور محقق جناب سیدمظہرمسعودسابق سیکریٹری حلقہ ارباب ذوق اسلام آباداورنائب صدرخواجہ فرید سنگت نے صدارت کی۔ڈاکٹرساجدخاکوانی نے تلاوت قرآن مجید،جناب حبیب الرحمن چترالی نے مطالعہ حدیث نبویﷺ،اورجناب عالی شعاربنگش نے گزشتہ نشست کی کارروائی پڑھ کرسنائی۔
    صدرمجلس کی اجازت سے جناب اکرم الوری نے اپنا پرمغزمقالہ پڑھ کر سنایا،صاحب مقالہ نے تصورعلم،تصورعبادت،حیات بعد الموت،کائنات کاحرکی تصور،وحدت نسل انسانی اور ختم نبوت پرثقافتی زاویوں سے روشنی ڈالی اور اقبال کے فکروفلسفہ کو بطورثبوت معاون کے پیش کیا،مضمون اگرچہ طویل تھالیکن بہترین مواد کے باعث شرکاء نشست کی دلچسپی اخیرتک موجود رہی۔حاضرین میں سے جناب حبیب الرحمن چترالی،جناب ساجد حسین ملک اور جناب عالی بنگش نے سوالات بھی کیے۔تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹرساجدخاکوانی نے کہاکہ اخلاقیات میں زوال کے باعث سیاسی زوال واقع ہوا۔جناب ڈاکٹرمرتضی مغل نے مقالے کی تعریف کی اورکہاکہ مصطفائی کلچردراصل نبی ﷺکے طریقے پر عمل کرتے رہنے کانام ہے،انہوں نے متعددقرآنی آیات اوران کے ہم معنی علامہ اقبال کے اشعارپڑھ کر سنائے۔جناب شاہد منصورنے اپناتحریری تبصرہ پیش کیاجس میں پہلے سیرۃ النبیﷺکاتذکرہ تھا اوربعد میں مختلف شعراکرام کے نعتیہ اشعارپیش کیے گئے تھے۔جناب ساجد حسین ملک نے پہلے قلم کاروان میں وقت کی پابندی پر اپناخوبصورت تبصرہ کیااوربعد میں کہاکہ قرآن مجیدکاکلچرہی مصطفائی کلچرہے،انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام جب ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا یہ چھوٹی ہجرت تھی اور بڑی ہجرت گناہوں کو ترک کر کرناہے۔جناب عالی بنگش نے کہا کہ مضمون میں علامہ کے اشعارسے بہت کم استفادہ کیاگیاہے۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے اپنا حاصل مطالعہ پیش کیا۔
    صدرمجلس جناب سیدمظہرمسعودنے اپنے صدارتی کلمات میں پیش کیے گئے مقالے کی تعریف کی اور کہا کہ قومی زبان میں قومی تقاضوں کے مطابق تیارکیاہوانصاب رائج ہونے سے مصطفوی کلچراور علامہ محمداقبال کی تفہیم ممکن ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ سیکولرمغربی نظام نے سیرت النبیﷺ کے مقابلے میں بہت سارے نظام فکربناڈالے ہیں جن میں سے کچھ تواپنی موت مرچکے ہیں اور باقی بھی بہت جلد مات کھاجائیں گے۔انہوں نے موجودہ نصابی کتب پر سخت تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ اگر انگریزی ہی پڑھانی ہے تو انگریزی میں علامہ اقبال کے لیکچرزبھی تو پڑھائے جاسکتے ہیں،قرآن مجیدکاانگریزی ترجمہ اور انگریزی میں لکھی ہوئی سیرت النبیﷺ پر مبنی تحریریں بھی تو پڑھائی جاسکتی ہیں،انہوں نے موجودہ نصابی مواد کے بارے میں کہاکہ یہ مواد پوری نسل کو محض گمراہ کرنے کا باعث بن رہاہے اور اسی نظام تعلیم اور زبان تعلیم کا نتیجہ ہے کہ آج کی پوری نسل قائداعظم ؒ کے افکاراور فکراقبال سے کوسوں دورجاچکی ہے۔صدرمجلس نے حکومتی ذمہ داران سے پرزورمطالبہ کیاکہ مصطفوی کلچراوراقبالیات درسی کتب کاحصہ بناکرقرآن مجیدکی تعلیمات کو نسل نوتک پہنچانے کاانتظام کیاجائے۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیر ہو گئی۔

  • پاکستان ترقی کر سکتا ہے مگر کیسے؟؟؟   بقلم: رحیق اطہر

    پاکستان ترقی کر سکتا ہے مگر کیسے؟؟؟ بقلم: رحیق اطہر

    پاکستان ترقی کر سکتا ہے مگر کیسے؟؟؟
    رحیق اطہر

    احسن اقبال صاحب کا شمار معروف پاکستانی سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ آپ مسلم لیگ نواز کے سرگرم راہنما ہیں اور اکثر و بیشتر پرمغز بیانات داغتے رہتے ہیں جس پر عوام کی طرف سے انھیں "ارسطو” کا لقب بھی دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز عوامی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انھوں نے ایک پیغام شئیر کیا جس کی مخاطب پوری قوم کے سارے طبقات تھے مگر عوام کا ذکر نہیں کیا گیا۔ موصوف کی نگارشات کو کئی ایک لوگوں نے سراہا مگر مجھے بھی ان کی نگارشات سے کچھ کہنے کا موقع مل گیا۔ اپنی نگارشات عرض کرنے سے پہلے ضروری خیال کرتا ہوں کہ احسن اقبال صاحب کا "بیانیہ” بھی آپ کو بتا دوں چنانچہ موصوف کہتے ہیں :

    ‏پاکستان ترقی کر سکتا ہے اگر جج “عدالت” تک، جرنیل “بارڈر” تک، عوامی نمائندے “پارلیمنٹ” تک، علماء “یگانگت” تک، افسران “عوامی خدمت” تک ، سرمایہ دار “کاروبار” تک “اور میڈیا “سچ” تک اپنا اپنا کام دیانت اور محنت سے کریں – اپنا کام چھوڑ کر سب کو دوسروں کی پڑی ہے- یہی ہماری بد قسمتی ہے-
    احسن اقبال

    ذیل میں ان کی اس ٹویٹ کا لنک دیا جا رہا ہے۔

    اس پر میری گزارشات بالاختصار کچھ یوں ہیں :

    جج عدالت تک رہیں تو آپ ان کے گھر تک پہنچ جاتے ہیں
    (اور مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں)

    جرنیل بارڈر تک رہیں تو آپ انھیں سیاست میں مداخلت کی دعوت دیتے ہیں
    (ملک میں کوئی اہم مہم یا کام درپیش ہو، بھاگ کر فوج کی خدمات لی جاتی ہیں)

    عوامی نمائندے سوائے پارلیمنٹ کے ہر جگہ خوشی محسوس کرتے ہیں
    (کسی بھی عوامی نمائندے کی پارلیمنٹ میں حاضری کا ریکارڈ چیک کر لیں)

    علماء کو ہر کوئی پوائنٹ سکورنگ کے لیے آگے کر دیتا ہے
    (علماء کو سب لوگوں نے اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھ رکھا ہے اور اس سے بقدر ضرورت فائدہ اٹھاتے ہیں)

    افسران کو پروٹوکول سے فرصت نہیں، آخر نوکری بھی تو بچانی ہوتی ہے۔
    (سرکاری افسران کار سرکار کی بجائے عوامی نمائندوں کی نوکری میں مشغول رہتے ہیں)

    سرمایہ دار کاروبار تو کرتا ہے مگر حلال و حرام کی تمیز نہیں، ویسے آج سے ہی اعلان کر دیں کوئی سرمایہ دار کسی سیاسی پارٹی کو جوائن نہیں کر سکتا تو امید ہے پاکستان سے سیاست دانوں کا وجود ختم نہ بھی ہوا تو آٹے میں نمک کے برابر رہ جائے گا۔

    میڈیا سچ دکھائے تو آپ برا مان جاتے ہیں
    (کسی کے بارے میں سچ پیش کیا جائے تو ذاتی زندگی میں مداخلت اور نہ جانے کون کون سے اعتراض سننے کو ملتے ہیں)

    رحیق اطہر

    احتساب کا عمل ہر ایک کو درست سمت میں گامزن رکھنے کے لیے ضروری ہے، قوانین و ضوابط اسی لیے بنائے جاتے ہیں مگر ان کا اطلاق بھی اسی صورت ممکن ہے کہ ایک دوسرے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ ہر کسی کو اس کے حال پر چھوڑ دینا سوائے تباہی کے کچھ نہیں ۔

    صاحب آسان الفاظ میں یوں کہیے کہ کوئی احتساب نہ ہو، ہر کوئی اپنے دائرہ کار تک محدود رہے، کوئی کسی کو دیکھے نہ پوچھے، تو ملک کا پھر خدا پہ حافظ ہو گا۔

    ریاستی امور میں ہر ایک کو رائے دہی کا حق ہے، یہی اصل جمہوریت ہے۔ اور دوسرے کی رائے سے اتفاق ہو یا اختلاف، احترام بہرصورت لازم ہے۔

    ان گزارشات کی تفصیل سے احباب بخوبی آگاہ ہوں گے تاہم اگر کسی دوست کو کوئی بات سمجھ نہ آئی ہو تو پوچھ سکتے ہیں

  • عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث کوکا کولا فوڈ اینڈ میوزک فیسٹیول آن لائن منعقد کرنے کا اعلان

    عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث کوکا کولا فوڈ اینڈ میوزک فیسٹیول آن لائن منعقد کرنے کا اعلان

    گزشتہ سالل دسمبر سے دنیا بھر میں عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں کاروباری اور تعلیمی نظام متا ثر ہوئے وہیں سماجی دوری کی وجہ سے ثقافتی سرگرمیاں ، ایوارڈ شوز، میوزک کنسرٹس بھی کافی زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ متعدد فلموں کی ریلیز رُک گئی اور بعض فلموں کی شوٹنگز بھی منسوخ کرنا پڑی تاہم کئی ممالک میں کچھ آن لائن تقریبات بھی منعقد ہوئیں اسی طرح پاکستان میں بھی کئی تقریبات منسوخ ہوئیں-

    باغی ٹی وی : پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر کورونا وائرس کے دوبارہ بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے رواں ماہ ملک کا پہلا ڈیجیٹل میوزک فیسٹیول منعقد کیا جارہا ہے۔

    ہر سال کوک فیسٹ یعنی کوکا کولا فوڈ اینڈ میوزک فیسٹیول ملک کے مختلف شہروں میں منعقد کیا جاتا ہے جس میں گلوکاروں کی لائیو پرفارمنس بھی ہوتی ہے۔

    کوک فیسٹ میں عموماً عوام کی بڑی تعداد کی شریک ہوتی ہے اور یہ 2 سے 3 روز تک جاری رہتا ہے۔

    اس سال بھی 3 روزہ کوک فیسٹ کا انعقاد کیا جائے گا جو 20 سے 22 نومبر تک جاری رہے گا تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے یہ فیسٹیول آن لائن منعقد ہوگا جو ملک کا پہلا ڈیجیٹل میوزک فیسٹیول بھی ہوگا۔

    کوکا کولا پاکستان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری تفصیلات کے مطابق رواں برس کوک فیسٹ کو پاکستان کے آن لائن میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم پٹاری اور آن ڈیمانڈ ویڈیو پلیٹ فارم ٹیپ میڈ کے اشتراک سے پیش کیا جائے گا۔

    کوک فیسٹ کی ویب سائٹ کے مطابق میوزک فیسٹیول میں شرکت مفت ہوگی جس کے لیے شائقین کو میوزک اسٹریمنگ ایپ پر رجسٹر کرنا لازمی ہوگا۔

    جس کے بعد موصول ہونے والے منفرد کوڈ کے ذریعے انہیں ٹیپ میڈ پر پرفارمنسز دیکھنے کی اجازت حاصل ہوگی۔

    اس سال فوڈ فیسٹیول منعقد نہیں ہوسکے گا لیکن شائقین کو فوڈ ڈسکاؤنٹس دیئے جائیں گے-

    کوک فیسٹ میں 10 آرٹسٹ اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے جن میں 9 سالہ پاکستانی ریپر وقاص بلوچ عرف تھاؤزنڈ، نتاشا بیگ، سیرین جہانگیر، شمعون اسمٰعیل، عبداللہ صدیقی، علی نور اور دیگر شامل ہوں گے۔

  • افریقی ملک سوڈان تاریخ میں پہلی مرتبہ آسکر ایوارڈ کی دوڑ میں شامل

    افریقی ملک سوڈان تاریخ میں پہلی مرتبہ آسکر ایوارڈ کی دوڑ میں شامل

    افریقی ملک سوڈان تاریخ میں پہلی مرتبہ فلمی دنیا کے سب سے متعبر فلمی ایوارڈ آسکر میں شامل ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : افریقی ملک سوڈان تاریخ میں پہلی مرتبہ فلمی دنیا کے سب سے متعبر فلمی ایوارڈ آسکر میں شامل ہوگیا اس ضمن میں سوڈان کی جانب سے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کی جانے والی پہلی فلم کا انتخاب کرلیا گیا ہے۔

    عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق آسکر کے لیے سوڈانی فلمساز امجد ابو کی ایوارڈ یافتہ فیچر فلم ‘یو ول ڈائی ایٹ 20’ کو سوڈان کی بہترین انٹرنیشنل فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے بطور سرکاری نامزدگی پیش کیا گیا۔

    اس حوالے سے فلم کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری پوسٹ میں کہا گیا کہ ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بہت فخر محسوس ہورہا ہے کہ سوڈان، امجد ابو کی ایوارڈ یافتہ فیچر فلم ‘یو ول ڈائی ایٹ 20’ کے انتخاب کے ساتھ اکیڈمی ایوارڈز کی دوڑ میں داخل ہوگیا ہے-

    مصری اداکار یوسف الشریف کا کورونا وائرس پر فلم بنانے کا اعلان

    پوسٹ میں کہا گیا کہ اس فلم کو 2021 کے اکیڈمی ایوارڈز کے لیے ملک کی پہلی بہترین انٹرنیشنل فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

    مزید کہا گہا کہ یہ سوڈانی سنیما کی تاریخ کی صرف آٹھویں فیچر فلم ہے جو ملک کے ثقافتی منظرنامے کے ایک اہم لمحہ کی نشاندہی کرتی ہے اور مقامی فلمسازوں کے لیے ایک نئی لہر کے دروازے کھول رہی ہے تاکہ وہ اندرون و بیرون ملک شائقین تک اپنی کہانیاں، آوازیں اور خیالات پہنچائیں۔

    خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات میں پیدا ہونے والے ڈائریکٹر امجد ابو نے ماضی میں عرب نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم یہ فلم بناتے وقت جانتے تھے کہ یہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے۔

    اعجاز اسلم کی ہارر فلم ریلیز

    انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت اہم پروڈیوسرز سے ملاقات کی تھی اور ہر شخص ہمیشہ آئیڈیا اور فلم سے متعلق پرجوش رہتا تھا اس لیے ہمیں کامیابی کی توقع تھی لیکن یہ کامیابی ہماری توقع سے کہیں زیادہ تھی۔

    فیچر فلم ‘یو ول ڈائی ایٹ 20’ کا پریمیئر 2019 میں وینس فلم فیسٹیول میں پیش کیا گیا تھا اور اس فلم نے لائن آف دی فیوچر ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا۔

    اس فلم کو ایلگونا فلم فیسٹیول میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا جہاں اس نے بیسٹ نیریٹو فیچر کے لیے گولڈن اسٹار حاصل کیا تھا۔

    میرے پاس تم ہو ڈرامے کے چائلڈ اسٹار شیث سجاد فلم میں جلوہ گر ہوں گے

  • نجی ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم اردو فلکس متعارف کرانے کو تیار

    نجی ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم اردو فلکس متعارف کرانے کو تیار

    وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے اسٹریمنگ ویب سائٹ کا کافی کام مکمل کرلیا ہے اور وزارت نے پاکستان الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے مواد آن ایئر کرنے سے متعلق ہدایات تیار کرنے کو کہا ہے۔

    باغی ٹی وی :حکومت کی جانب سے اسٹریمنگ ویب سائٹ شروع کیے جانے کے اعلان کے بعد شوبز شخصیات سمیت سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی حکومتی اعلان کا خیر مقدم کیا تھا۔

    اگرچہ تاحال حکومت کی جانب سے اسٹریمنگ ویب سائٹ متعارف کرائے جانے سے متعلق کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی تاہم خبریں ہیں کہ ایک نجی ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم بھی جلد اسٹریمنگ ویب سائٹ متعارف کرائے گا۔

    خبریں ہیں کہ ای میکس میڈیا نامی ڈیجیٹل پلیٹ فام جلد ہی نیٹ فلیکس کی طرح کی ویب سائٹ اردو فلکس متعارف کروائے گا۔

    پرو پاکستانی نے اپنی رپورٹ میں ایک اور ویب سائٹ کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ای میکس میڈیا گروپ کے بانی فرحان گوہر نے تصدیق کی کہ ان کا گروپ جلد ہی اسٹریمنگ ویب سائٹ متعارف کرائے گا۔

    پاکستانی رقوم کسی ٹیکس کے بغیر باہر جانے پرزی فائیو پر پابندی لگا ئی وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل میڈیا گروپ جو پہلے ہی اسٹریمنگ ویب سائٹ چلا رہا ہے وہ نیٹ فلیکس طرز کی ویب سائٹ اردو فلکس متعارف کرائے گا جس میں خالصتاً اردو ڈرامے، فلمیں، دستاویزی فلمیں، کامیڈی اور ریئلٹی شوز سمیت ترکی کے اردو زبان میں ترجمہ کیے گئے ڈرامے نشر کیے جائیں گے۔

    پاکستان میں بھارتی اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیوسمیت دیگر بھارتی مواد کی سبسکرپشن…

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اردو فلکس کو کب تک متعارف کرایا جائے گا، تاہم ابتدائی طور پر اس کی ویب سائٹ بھی متعارف کرادی گئی ہے، جس پر تاحال کوئی بھی مواد موجود نہیں ہے۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ اردو فلکس کو رواں سال کے اختتام یا سال نو کے موقع پر متعارف کرایا جائے گا اور ابتدائی طور پر ویب سائٹ پر پاکستان کے مقبول ڈرامے اور فلمیں پیش کی جائیں گی۔

    ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اردو فلکس کی ماہانہ فیس کتنی ہوگی، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کی ماہانہ 750 سے لے کر 1200 تک ہوسکتی ہے-

    ویب سیریز چڑیلز کو پاکستان میں بین کرنے پر شوبز شخصیات کا سخت رد عمل

     

    پاکستان میں چڑیلز بین کئے جانے پر ہدایتکار عاصم عباسی اور شائقین برہم

    چڑیلز کو پاکستان میں بین کر دیا گیا

  • جب ٹیلی ویژن نہیں تھا اداکارائیں ٹی وی پر نہیں آتی تھیں تو کیا ریپ نہیں ہوتے تھے؟

    جب ٹیلی ویژن نہیں تھا اداکارائیں ٹی وی پر نہیں آتی تھیں تو کیا ریپ نہیں ہوتے تھے؟

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و ماڈل آمنہ الیاس نے سانولے اور گندمی رنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کے گہرے رنگ کا احساس انہیں ان کی والدہ اور خالہ کی باتوں سے ہوا۔

    باغی ٹی وی : آمنہ الیاس کا شمار پاکستان کی ان اداکاراؤں میں ہوتا ہے جو گزشتہ کئی عرصے سے خواتین کے ساتھ رنگ کی بنیاد پر برتے جانے والے امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھارہی ہیں اور ماضی میں کئی بار خواتین کے سانولے اور گورے رنگ میں کیے جانے والے معاشرتی فرق کے بارے میں بات کرچکی ہیں۔

    حال ہی میں انہوں نے وائس آف امریکہ کو دئیے گئے انٹرویو میں ایک بار پھر اس بارے میں بات کی انہوں نے کہا کہ بچپن میں میں نے اپنی رنگت کے حوالے سے چھوٹی چھوٹی چیزوں کا تجربہ کیا ہے جیسے میری والدہ اور خالہ نے مجھے یہ کہہ کر میری گہری رنگت کا احساس دلایا کہ بچپن میں اس کا رنگ صحیح تھا لیکن بڑے ہوکر اسے پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے۔

    بچپن میں آپ کو ان باتوں کا مطلب زیادہ سمجھ نہیں آتا لیکن جب آپ باشعور ہوتے ہیں تو احساس ہوتا ہےکہ اس جملے کے پیچھے کیا نفسیات چھپی ہے اور جب مجھے یہ چیز سمجھ آئی تو میں اس کے خلاف کھڑی ہوئی۔

    آمنہ الیاس نے بتایا کہ اگر آپ ٹی وی پر دیکھیں تو کوئی اداکارہ گندمی یا سانولے رنگ کی نظر نہیں آئے گی سب کا رنگ صاف اور گورا ہوتا ہے لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری عوام بھی اسکرین پر صرف ان لڑکیوں کو دیکھنا چاہتی ہے جن کا رنگ گورا ہوتا ہے۔

    میزبان نے آمنہ الیاس سے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کے بعد اکثر ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ ان حادثوں کا ذمہ دار اداکاراؤں کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے مختصر لباس کی وجہ سے یہ سانحہ ہوا کیونکہ ملزم نے اداکاراؤں کو کم یا مختصر لباس میں دیکھا تو اس نے یہ حرکت کی۔

    میزبان کے اس سوال پر آمنہ الیاس نے کہا مجھے معاف کریں لیکن میں کہنا چاہتی ہوں کہ ہماری عوام بہت جاہل ہے انہیں بالکل بھی شعور نہیں ہے جو ریپ کرنے والا آدمی ہوتا ہے وہ ذہنی بیمار ہوتا ہے ۔ ضروری نہیں ہے کہ وہ آدمی ٹی وی پر یا اپنے فون میں کوئی چیز دیکھ کر ریپ جیسا قبیح فعل کرے دراصل اس کی سوچ میں گندگی ہوتی ہے۔

    آمنہ الیاس نے مزید کہا پاکستان میں اداکاراؤں کو گھر بٹھادیں لیکن بالی وڈ اور ہالی وڈ کو کیسے بند کرائیں گے آپ۔ انٹرنیٹ جو آج ہر کسی کے پاس ہے اسے کیسے بند کریں گے آپ ریپ تو اس ٹائم سے ہورہے ہیں جب ٹیلی ویژن نہیں تھا جب اداکارائیں ٹی وی پر نہیں آتی تھیں تو کیا ریپ نہیں ہوتے تھے میرا سوال یہ ہے کہ اس وقت کیا چیز ان مردوں کو ریپ کرنے پر مجبور کرتی تھی اور مجھے یقین ہے اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہوگا۔